Taleemi DuniyaTaleemi Duniya
Jami at-Tirmidhi

Chapter 49 of 49

Chapters on Virtues

مناقب کے ابواب

351 hadiths in this chapter

Hadith #3605
SahihDaifHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مِنْ وَلَدِ إِبْرَاهِيمَ إِسْمَاعِيلَ وَاصْطَفَى مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ بَنِي كِنَانَةَ وَاصْطَفَى مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قُرَيْشًا وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے اسماعیل علیہ السلام کا انتخاب فرمایا ۱؎ اور اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے بنی کنانہ کا، اور بنی کنانہ میں سے قریش کا، اور قریش میں سے بنی ہاشم کا، اور بنی ہاشم میں سے میرا انتخاب فرمایا ”۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Wathilah bin Al-Asqa':that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed Allah has chosen Isma'il from the children of Ibrahim, and He chose Banu Kinanah from the children of Isma'il, and He chose the Quraish from Banu Kinanah, and He chose Banu Hashim from Quraish, and He chose me from Banu Hashim

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:1

Hadith #3606
SahihSahihHasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي وَاثِلَةُ بْنُ الأَسْقَعِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ وَاصْطَفَى هَاشِمًا مِنْ قُرَيْشٍ وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے کنانہ کا انتخاب فرمایا اور کنانہ سے قریش کا اور قریش میں سے ہاشم کا اور بنی ہاشم میں سے میرا انتخاب فرمایا ”۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated Wathilah bin Al-Asqa':that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, Allah chose Kinanah from the children of Isma'il, and He chose Quraish from Kinanah, and He chose Hashim from Quraish, and He chose me from Banu Hashim

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:2

Hadith #3607
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ قُرَيْشًا جَلَسُوا فَتَذَاكَرُوا أَحْسَابَهُمْ بَيْنَهُمْ فَجَعَلُوا مَثَلَكَ كَمَثَلِ نَخْلَةٍ فِي كَبْوَةٍ مِنَ الأَرْضِ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِهِمْ مِنْ خَيْرِ فِرَقِهِمْ وَخَيْرِ الْفَرِيقَيْنِ ثُمَّ تَخَيَّرَ الْقَبَائِلَ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِ قَبِيلَةٍ ثُمَّ تَخَيَّرَ الْبُيُوتَ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِ بُيُوتِهِمْ فَأَنَا خَيْرُهُمْ نَفْسًا وَخَيْرُهُمْ بَيْتًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ هُوَ ابْنُ نَوْفَلٍ ‏.‏

Urdu Translation

عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قریش کے لوگ بیٹھے اور انہوں نے قریش میں اپنے حسب کا ذکر کیا تو آپ کی مثال کھجور کے ایک ایسے درخت سے دی جو کسی کوڑے خانہ پر ( اگا ) ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، اس نے اس میں سے دو گروہوں کو پسند کیا، اور مجھے ان میں سب سے اچھے گروہ ( یعنی اولاد اسماعیل ) میں پیدا کیا، پھر اس نے قبیلوں کو چنا اور مجھے بہتر قبیلے میں سے کیا، پھر گھروں کو چنا اور مجھے ان گھروں میں سب سے بہتر گھر میں کیا، تو میں ذاتی طور پر بھی ان میں سب سے بہتر ہوں اور گھرانے کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔

English Translation

Narrated Al-'Abbas bin 'Abdul-Muttalib:"I said: 'O Messenger of Allah! Indeed the Quraish have sat and spoken between themselves about the best of them, and they made your likeness as that of a palm tree in a wasteland.' So the Prophet (ﷺ) said: 'Indeed, Allah created the creation and made me [from the best of them,] from the best of their categories, and the best of the two categories (Arabs and Non-Arabs), then He chose between the tribes and made me from the best tribe, then He chose between the houses and made me from the best house. So I am the best of them in person and the best of them in house

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:3

Hadith #3608
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، قَالَ جَاءَ الْعَبَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَأَنَّهُ سَمِعَ شَيْئًا فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ أَنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْكَ السَّلاَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ ثُمَّ جَعَلَهُمْ فِرْقَتَيْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ فِرْقَةً ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ قَبِيلَةً ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا وَخَيْرِهِمْ نَفْسًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَرُوِيَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ نَحْوُ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ‏.‏

Urdu Translation

مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں کہ عباس رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، گویا انہوں نے کوئی چیز سنی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”میں کون ہوں؟“ لوگوں نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں سلامتی ہو آپ پر، آپ نے فرمایا: ”میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں، اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو مجھے ان کے سب سے بہتر مخلوق میں کیا، پھر ان کے دو گروہ کئے تو مجھے ان کے بہتر گروہ میں کیا، پھر انہیں قبیلوں میں بانٹا تو مجھے ان کے سب سے بہتر قبیلہ میں کیا، پھر ان کے کئی گھر کیے تو مجھے ان کے سب سے بہتر گھر میں کیا اور شخصی طور پر بھی مجھے ان میں سب سے بہتر بنایا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- جس طرح اسماعیل بن ابی خالد نے یزید بن ابی زیاد سے اور یزید بن ابی زیاد نے عبداللہ بن حارث کے واسطہ سے عباس بن عبدالمطلب سے روایت کی ہے اسی طرح سفیان ثوری نے بھی یزید بن ابی زیاد سے روایت کی ہے ( وہ یہی روایت ہے ) ۔

English Translation

Narrated Al-Muttalib bin Abi Wada'ah:"Al-Abbas came to the Messenger of Allah (ﷺ), and it is as if he heard something, so the Prophet (ﷺ) stood upon the Minbar and said: 'Who am I?' They said: 'You are the Messenger of Allah, upon you be peace.' He said: 'I am Muhammad bin 'Abdullah bin 'Abdul-Muttalib, indeed Allah created the creation, and He put me in the best [group] of them, then He made them into two groups, so He put me in the best group of them, then He made them into tribes, so He put me in the best of them in tribe, then He made them into houses, so He put me in the best of them in tribe and lineage

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:4

Hadith #3609
SahihSahihSahih

حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى وَجَبَتْ لَكَ النُّبُوَّةُ قَالَ ‏ "‏ وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ مَيْسَرَةَ الْفَجْرِ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! نبوت آپ کے لیے کب واجب ہوئی؟ تو آپ نے فرمایا: ”جب آدم روح اور جسم کے درمیان تھے“ ۱؎۔ ( یعنی ان کی پیدائش کی تیاری ہو رہی تھی ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں میسرہ فجر سے بھی روایت آئی ہے۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:"They said: 'O Messenger of Allah (ﷺ)! When was the Prophethood established for you?' He said: 'While Adam was between (being) soul and body

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:5

Hadith #3610
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ خُرُوجًا إِذَا بُعِثُوا وَأَنَا خَطِيبُهُمْ إِذَا وَفَدُوا وَأَنَا مُبَشِّرُهُمْ إِذَا أَيِسُوا لِوَاءُ الْحَمْدِ يَوْمَئِذٍ بِيَدِي وَأَنَا أَكْرَمُ وَلَدِ آدَمَ عَلَى رَبِّي وَلاَ فَخْرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب لوگ ( قبروں سے ) اٹھائے جائیں گے تو میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہو گی اور جب وہ دربار الٰہی میں آئیں گے تو میں ان کا خطیب ہوں گا، اور جب وہ مایوس اور ناامید ہو جائیں گے تو میں انہیں خوشخبری سنانے والا ہوں گا، حمد کا پرچم اس دن میرے ہاتھ میں ہو گا، اور میں اپنے رب کے نزدیک اولاد آدم میں سب سے بہتر ہوں اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "I am the first of the people to appear upon their being resurrected, and I am their spokesman whenever they gather, and I am the one that gives them glad tidings whenever they give up hope. And the Banner of Praise will be in my hand that day, and I am the most noble of the children of Adam with my Lord, and I am not boasting

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:6

Hadith #3611
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ فَأُكْسَى الْحُلَّةَ مِنْ حُلَلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ أَقُومُ عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْخَلاَئِقِ يَقُومُ ذَلِكَ الْمَقَامَ غَيْرِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہو گی پھر مجھے جنت کے جوڑوں میں سے ایک جوڑا پہنایا جائے گا، پھر میں عرش کے داہنی جانب کھڑا ہوں گا، میرے علاوہ وہاں مخلوق میں سے کوئی اور کھڑا نہیں ہو سکے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah [may Allah be pleased with him]:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "I am the first for whom the earth will be split, and then I will be adorned with garments from the garments of Paradise. Then I will stand at the right of the Throne. No one from the creation will in that place other than I

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:7

Hadith #3612
SahihSahihSahih

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، وَهُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمٍ حَدَّثَنِي كَعْبٌ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ سَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَسِيلَةُ قَالَ ‏"‏ أَعْلَى دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ لاَ يَنَالُهَا إِلاَّ رَجُلٌ وَاحِدٌ أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ ‏.‏ وَكَعْبٌ لَيْسَ هُوَ بِمَعْرُوفٍ وَلاَ نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى عَنْهُ غَيْرَ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے میرے لیے وسیلہ کا سوال کرو، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وسیلہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ جنت کا سب سے اونچا درجہ ہے جسے صرف ایک ہی شخص پا سکتا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے، ۲- کعب غیر معروف شخص ہیں، ہم لیث بن سلیم کے علاوہ کسی اور کو نہیں جانتے ہیں جس نے ان سے روایت کی ہو۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Ask Allah to grant me Al-Wasilah." They said: "O Messenger of Allah! And what is Al-Wasilah?" He said: "The highest level of Paradise. No one will attain it except for one man, and I hope that I am him

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:8

Hadith #3613
SahihHasan SahihDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَثَلِي فِي النَّبِيِّينَ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى دَارًا فَأَحْسَنَهَا وَأَكْمَلَهَا وَأَجْمَلَهَا وَتَرَكَ مِنْهَا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِالْبِنَاءِ وَيَعْجَبُونَ مِنْهُ وَيَقُولُونَ لَوْ تَمَّ مَوْضِعُ تِلْكَ اللَّبِنَةِ وَأَنَا فِي النَّبِيِّينَ مَوْضِعُ تِلْكَ اللَّبِنَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَبِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ كُنْتُ إِمَامَ النَّبِيِّينَ وَخَطِيبَهُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ غَيْرُ فَخْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء میں میری مثال ایک ایسے آدمی کی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور اسے بہت اچھا بنایا، مکمل اور نہایت خوبصورت بنایا، لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس میں پھرتے تھے اور اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر تعجب کرتے تھے اور کہتے تھے، کاش اس اینٹ کی جگہ بھی پوری ہو جاتی، تو میں نبیوں میں ایسے ہی ہوں جیسی خالی جگہ کی یہ اینٹ ہے“۔

English Translation

Narrated At-Tufail bin Ubayy bin Ka'b:from his father that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The parable of me and the Prophets is that of a man who built a house, and he built it well, completing it, and beautifying it, but he left a space for one brick. So the people began going around the house amazed at it, saying "If only the space for that brick was filled.' And I am, with regards to the Prophets, in the position of that brick." And with this chain, from the Prophet (ﷺ) that he said: "Upon the Day of Judgement I will be the leader of the Prophets and their spokesman, and the bearer of their intercession, without bragging

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:9

Hadith #3614
SahihSahihHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ، سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَىَّ فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَىَّ صَلاَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا ثُمَّ سَلُوا لِيَ الْوَسِيلَةَ فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لاَ تَنْبَغِي إِلاَّ لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ وَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ هَذَا قُرَشِيٌّ مِصْرِيٌّ مَدَنِيٌّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ شَامِيٌّ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم مؤذن کی آواز سنو تو وہی کہو جو مؤذن کہتا ہے ۱؎ پھر میرے اوپر صلاۃ ( درود ) بھیجو کیونکہ جس نے میرے اوپر ایک بار درود بھیجا تو اللہ اس پر دس بار اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا، پھر میرے لیے وسیلہ مانگو کیونکہ وہ جنت میں ایک ( ایسا بلند ) درجہ ہے جس کے لائق اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندہ ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ بندہ میں ہی ہوں اور جس نے میرے لیے ( اللہ سے ) وسیلہ مانگا تو اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو گئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اس سند میں مذکور عبدالرحمٰن بن جبیر قرشی، مصری اور مدنی ہیں اور نفیر کے پوتے عبدالرحمٰن بن جبیر شامی ہیں۔

English Translation

Narrated 'Abdullah bin 'Amr:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "If you hear the Muadh-dhin then say as he says. Then send Salat upon me, because whoever sends Salat upon me, Allah will send Salat upon him ten times due to it. Then ask Allah that He gives me Al-Wasilah, because it is a place in Paradise which is not for anyone except for a slave from the slaves of Allah, and I hope that I am him. And whoever asks that I have Al-Wasilah, then (my) intercession will be made lawful for him

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:10

Hadith #3615
SahihSahihDaif

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ فَخْرَ وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلاَ فَخْرَ وَمَا مِنْ نَبِيٍّ يَوْمَئِذٍ آدَمُ فَمَنْ سِوَاهُ إِلاَّ تَحْتَ لِوَائِي وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ وَلاَ فَخْرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ بِهَذَا الإِسْنَادِ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Urdu Translation

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور میرے ہاتھ میں حمد کا پرچم ہو گا اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں، اور آدم اور آدم کے علاوہ جتنے بھی نبی ہوں گے سب میرے پرچم کے نیچے ہوں گے، اور میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس کے لیے زمین شق ہو گی، اور سب سے پہلے قبر سے میں اٹھوں گا اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث میں ایک واقعہ مذکور ہے، ۲- اسے اسی سند سے ابونضرہ سے روایت ہے، وہ اسے ابن عباس رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔

English Translation

Narrated Abu Sa'eed:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "I am the master of the children of Adam on the Day of Judgement, and I am not boasting. The Banner of Praise will be in my hand, and I am not boasting. There will not be a Prophet on that day, not Adam nor anyone other than him, except that he will be under my banner. And I am the first one for whom the earth will be opened for, and I am not bragging

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:11

Hadith #3616
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَلَسَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْتَظِرُونَهُ قَالَ فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا دَنَا مِنْهُمْ سَمِعَهُمْ يَتَذَاكَرُونَ فَسَمِعَ حَدِيثَهُمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ عَجَبًا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اتَّخَذَ مِنْ خَلْقِهِ خَلِيلاً اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلاً ‏.‏ وَقَالَ آخَرُ مَاذَا بِأَعْجَبَ مِنْ كَلاَمِ مُوسَى كَلَّمَهُ تَكْلِيمًا وَقَالَ آخَرُ فَعِيسَى كَلِمَةُ اللَّهِ وَرُوحُهُ ‏.‏ وَقَالَ آخَرُ آدَمُ اصْطَفَاهُ اللَّهُ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فَسَلَّمَ وَقَالَ ‏ "‏ قَدْ سَمِعْتُ كَلاَمَكُمْ وَعَجَبَكُمْ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلُ اللَّهِ وَهُوَ كَذَلِكَ وَمُوسَى نَجِيُّ اللَّهِ وَهُوَ كَذَلِكَ وَعِيسَى رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ وَهُوَ كَذَلِكَ وَآدَمُ اصْطَفَاهُ اللَّهُ وَهُوَ كَذَلِكَ أَلاَ وَأَنَا حَبِيبُ اللَّهِ وَلاَ فَخْرَ وَأَنَا حَامِلُ لِوَاءِ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُحَرِّكُ حِلَقَ الْجَنَّةِ فَيَفْتَحُ اللَّهُ لِيَ فَيُدْخِلُنِيهَا وَمَعِي فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ وَلاَ فَخْرَ وَأَنَا أَكْرَمُ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ وَلاَ فَخْرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگ بیٹھے آپ کے حجرے سے نکلنے کا انتظار کر رہے تھے، کہتے ہیں: پھر آپ نکلے یہاں تک کہ جب آپ ان کے قریب آئے تو انہیں آپس میں بحث کرتے سنا، آپ نے ان کی باتیں سنیں، کوئی کہہ رہا تھا، تعجب ہے اللہ نے اپنی مخلوق میں سے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا دوست بنایا، دوسرے نے کہا: موسیٰ سے اس کا کلام کرنا کتنا زیادہ تعجب خیز معاملہ ہے، اور ایک نے کہا: عیسیٰ علیہ السلام اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں، اور ایک دوسرے نے کہا: آدم کو اللہ نے تو چن لیا ہے، تو آپ نکل کر ان کے سامنے آئے اور انہیں سلام کیا اور فرمایا: ”میں نے تمہاری باتیں سن لی ہیں اور ابراہیم علیہ السلام کے خلیل اللہ ہونے پر تعجب میں پڑنے کو بھی، واقعی وہ ایسے ہی ہیں اور موسیٰ علیہ السلام کے اللہ کے نجی اللہ ہونے پر، اور وہ بھی واقعی ایسے ہی ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کے کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہونے پر، اور وہ بھی واقعی ایسے ہی ہیں اور آدم کے اللہ کا برگزیدہ ہونے پر، اور وہ بھی واقعی ایسے ہی ہیں، سن لو! میں اللہ کا حبیب ہوں اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں، قیامت کے دن حمد کا پرچم میرے ہاتھ میں ہو گا اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں اور قیامت کے دن میں پہلا وہ شخص ہوں گا جو شفاعت ( سفارش ) کرے گا اور جس کی شفاعت ( سفارش ) سب سے پہلے قبول کی جائے گی اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں اور میں پہلا وہ شخص ہوں گا جو جنت کی کنڈی ہلائے گا تو اللہ میرے لیے جنت کو کھول دے گا، پھر وہ مجھے اس میں داخل کرے گا اور میرے ساتھ فقراء مومنین ہوں گے اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں اور میں اگلوں اور پچھلوں میں سب سے زیادہ معزز ہوں اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Abbas:that a group of people from the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) sat waiting for him. He said: "Then he came out, such that when he came close to them, he heard them talking, and he heard what they were saying. So some of them said: 'It's amazing that Allah, the Mighty and Sublime, has taken a Khalil (close friend) from His creation. He took Ibrahim as a Khalil.' And some of them said: 'That is not more amazing than speaking to Musa, He spoke to him with real speech.' And some said: 'And 'Eisa is the word of Allah and His Spirit.' And some said: 'Adam was chosen by Allah.' So he (ﷺ) came out upon them and said his Salam, and said: 'I have heard your words, and your amazement that Ibrahim is the Khalil of Allah, and he is such, and that Musa is the one spoken to by Allah, and he is such, and that 'Eisa is the spirit of Allah and His Word, and he is such, and that Adam was chosen by Allah, and he is such. Indeed I am the beloved of Allah and I am not boasting, and I am the carrier of the Banner of Praise on the Day of Judgement, and I am not boasting. And I am the first intercessor, and the first to have intercession accepted from him on the Day of Judgement, and I am not boasting. And I am the first to shake the rings of Paradise (meaning on the gates of Paradise) and so Allah will open it for me and admit me into it. And with me will be the poor people from the believers, and I am not boasting. And I am the most noble among the first ones and the last ones, and I am not boasting

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:12

Hadith #3617
DaifDaifHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنِي أَبُو مَوْدُودٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الضَّحَّاكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ مَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ صِفَةُ مُحَمَّدٍ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ يُدْفَنُ مَعَهُ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ أَبُو مَوْدُودٍ وَقَدْ بَقِيَ فِي الْبَيْتِ مَوْضِعُ قَبْرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ هَكَذَا قَالَ عُثْمَانُ بْنُ الضَّحَّاكِ وَالْمَعْرُوفُ الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ الْمَدَنِيُّ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ تورات میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال لکھے ہوئے ہیں اور یہ بھی کہ عیسیٰ بن مریم انہیں کے ساتھ دفن کئے جائیں گے۔ ابوقتیبہ کہتے ہیں کہ ابومودود نے کہا: حجرہ مبارک میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، سند میں راوی نے عثمان بن ضحاک کہا اور مشہور ضحاک بن عثمان مدنی ہے۔

English Translation

Narrated 'Abdullah bin Salam:"The description of Muhammad is written in the Tawrah, [and the description that] 'Eisa will be buried next to him." (One of the narrators) Abu Mawdud said: "[And] there is a place for a grave left in the house

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:13

Hadith #3618
SahihSahihSahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ الصَّوَّافُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَظْلَمَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ وَمَا نَفَضْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الأَيْدِي وَإِنَّا لَفِي دَفْنِهِ حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب وہ دن ہوا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( پہلے پہل ) مدینہ میں داخل ہوئے تو اس کی ہر چیز پرنور ہو گئی، پھر جب وہ دن آیا جس میں آپ کی وفات ہوئی تو اس کی ہر چیز تاریک ہو گئی اور ابھی ہم نے آپ کے دفن سے ہاتھ بھی نہیں جھاڑے تھے کہ ہمارے دل بدل گئے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:"On the day in which the Messenger of Allah (ﷺ) entered Al-Madinah, everything in it was illuminated. Then, on the day in which he died, everything in it was dark. And we did not remove our hands from the Messenger of Allah (ﷺ), while we were burying him because our hearts felt so estranged

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:14

Hadith #3619
Daif IsnaadDaif IsnaadSahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ وُلِدْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ، صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفِيلِ ‏.‏ وَسَأَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ قُبَاثَ بْنَ أَشْيَمَ أَخَا بَنِي يَعْمُرَ بْنِ لَيْثٍ أَأَنْتَ أَكْبَرُ أَمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَكْبَرُ مِنِّي وَأَنَا أَقْدَمُ مِنْهُ فِي الْمِيلاَدِ وُلِدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفِيلِ وَرَفَعَتْ بِي أُمِّي عَلَى الْمَوْضِعِ قَالَ وَرَأَيْتُ خَذْقَ الْفِيلِ أَخْضَرَ مُحِيلاً ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ‏.‏

Urdu Translation

قیس بن مخرمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں واقعہ فیل ۱؎ کے سال پیدا ہوئے، وہ کہتے ہیں: عثمان بن عفان نے قباث بن اشیم ( جو قبیلہ بنی یعمر بن لیث کے ایک فرد ہیں ) سے پوچھا کہ آپ بڑے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بڑے ہیں اور پیدائش میں، میں آپ سے پہلے ہوں ۲؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھی والے سال میں پیدا ہوئے، میری ماں مجھے اس جگہ پر لے گئیں ( جہاں ابرہہ کے ہاتھیوں پر پرندوں نے کنکریاں برسائی تھیں ) تو میں نے دیکھا کہ ہاتھیوں کی لید بدلی ہوئی ہے اور سبز رنگ کی ہو گئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated Al-Muttalib bin 'Abdullah bin Qais bin Makhramah:from his father, from his grandfather, that he said: "I and the Messenger of Allah (ﷺ), were born in the Year of the Elephant" - he said: "And 'Uthman bin 'Affan asked Qubath bin Ashyam, the brother of Banu Ya'mar bin Laith - 'Are you greater (in age) or the Messenger of Allah (ﷺ)?'" He said: "The Messenger of Allah (ﷺ) is greater than me, but I have an earlier birthday." He said: "And I saw the defecation of the birds turning green

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:15

Hadith #3620
MunkarMunkarDaif

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ أَبُو الْعَبَّاسِ الأَعْرَجُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَزْوَانَ أَبُو نُوحٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَرَجَ أَبُو طَالِبٍ إِلَى الشَّامِ وَخَرَجَ مَعَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي أَشْيَاخٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَلَمَّا أَشْرَفُوا عَلَى الرَّاهِبِ هَبَطُوا فَحَلُّوا رِحَالَهُمْ فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ الرَّاهِبُ وَكَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ يَمُرُّونَ بِهِ فَلاَ يَخْرُجُ إِلَيْهِمْ وَلاَ يَلْتَفِتُ ‏.‏ قَالَ فَهُمْ يَحُلُّونَ رِحَالَهُمْ فَجَعَلَ يَتَخَلَّلُهُمُ الرَّاهِبُ حَتَّى جَاءَ فَأَخَذَ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ هَذَا سَيِّدُ الْعَالَمِينَ هَذَا رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ يَبْعَثُهُ اللَّهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ أَشْيَاخٌ مِنْ قُرَيْشٍ مَا عِلْمُكَ فَقَالَ إِنَّكُمْ حِينَ أَشْرَفْتُمْ مِنَ الْعَقَبَةِ لَمْ يَبْقَ شَجَرٌ وَلاَ حَجَرٌ إِلاَّ خَرَّ سَاجِدًا وَلاَ يَسْجُدَانِ إِلاَّ لِنَبِيٍّ وَإِنِّي أَعْرِفُهُ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ أَسْفَلَ مِنْ غُضْرُوفِ كَتِفِهِ مِثْلَ التُّفَّاحَةِ ‏.‏ ثُمَّ رَجَعَ فَصَنَعَ لَهُمْ طَعَامًا فَلَمَّا أَتَاهُمْ بِهِ وَكَانَ هُوَ فِي رِعْيَةِ الإِبِلِ قَالَ أَرْسِلُوا إِلَيْهِ فَأَقْبَلَ وَعَلَيْهِ غَمَامَةٌ تُظِلُّهُ فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْقَوْمِ وَجَدَهُمْ قَدْ سَبَقُوهُ إِلَى فَىْءِ الشَّجَرَةِ فَلَمَّا جَلَسَ مَالَ فَىْءُ الشَّجَرَةِ عَلَيْهِ فَقَالَ انْظُرُوا إِلَى فَىْءِ الشَّجَرَةِ مَالَ عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَ فَبَيْنَمَا هُوَ قَائِمٌ عَلَيْهِمْ وَهُوَ يُنَاشِدُهُمْ أَنْ لاَ يَذْهَبُوا بِهِ إِلَى الرُّومِ فَإِنَّ الرُّومَ إِذَا رَأَوْهُ عَرَفُوهُ بِالصِّفَةِ فَيَقْتُلُونَهُ فَالْتَفَتَ فَإِذَا بِسَبْعَةٍ قَدْ أَقْبَلُوا مِنَ الرُّومِ فَاسْتَقْبَلَهُمْ فَقَالَ مَا جَاءَ بِكُمْ قَالُوا جِئْنَا أَنَّ هَذَا النَّبِيَّ خَارِجٌ فِي هَذَا الشَّهْرِ فَلَمْ يَبْقَ طَرِيقٌ إِلاَّ بُعِثَ إِلَيْهِ بِأُنَاسٍ وَإِنَّا قَدْ أُخْبِرْنَا خَبَرَهُ بُعِثْنَا إِلَى طَرِيقِكَ هَذَا فَقَالَ هَلْ خَلْفَكُمْ أَحَدٌ هُوَ خَيْرٌ مِنْكُمْ قَالُوا إِنَّمَا أُخْبِرْنَا خَبَرَهُ بِطَرِيقِكَ هَذَا ‏.‏ قَالَ أَفَرَأَيْتُمْ أَمْرًا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَقْضِيَهُ هَلْ يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ رَدَّهُ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ فَبَايَعُوهُ وَأَقَامُوا مَعَهُ قَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ أَيُّكُمْ وَلِيُّهُ قَالُوا أَبُو طَالِبٍ فَلَمْ يَزَلْ يُنَاشِدُهُ حَتَّى رَدَّهُ أَبُو طَالِبٍ وَبَعَثَ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ بِلاَلاً وَزَوَّدَهُ الرَّاهِبُ مِنَ الْكَعْكِ وَالزَّيْتِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوطالب شام کی طرف ( تجارت کی غرض سے ) نکلے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی قریش کے بوڑھوں میں ان کے ساتھ نکلے، جب یہ لوگ بحیرہ راہب کے پاس پہنچے تو وہیں پڑاؤ ڈال دیا اور اپنی سواریوں کے کجاوے کھول دیے، تو راہب اپنے گرجا گھر سے نکل کر ان کے پاس آیا حالانکہ اس سے پہلے یہ لوگ اس کے پاس سے گزرتے تھے، لیکن وہ کبھی ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتا تھا، اور نہ ان کے پاس آتا تھا، کہتے ہیں: تو یہ لوگ اپنی سواریاں ابھی کھول ہی رہے تھے کہ راہب نے ان کے بیچ سے گھستے ہوئے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا: یہ سارے جہان کے سردار ہیں، یہ سارے جہان کے سردار ہیں، یہ سارے جہان کے رب کے رسول ہیں، اللہ انہیں سارے جہان کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گا، تو اس سے قریش کے بوڑھوں نے پوچھا: تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ تو اس نے کہا: جب تم لوگ اس ٹیلے سے اترے تو کوئی درخت اور پتھر ایسا نہیں رہا جو سجدہ میں نہ گر پڑا ہو، اور یہ دونوں صرف نبی ہی کو سجدہ کیا کرتے ہیں، اور میں انہیں مہر نبوت سے پہچانتا ہوں جو شانہ کی ہڈی کے سرے کے نیچے سیب کے مانند ہے، پھر وہ واپس گیا اور ان کے لیے کھانا تیار کیا، جب وہ کھانا لے کر ان کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ چرانے گئے تھے تو اس نے کہا: کسی کو بھیج دو کہ ان کو بلا کر لائے، چنانچہ آپ آئے اور ایک بدلی آپ پر سایہ کئے ہوئے تھی، جب آپ لوگوں کے قریب ہوئے تو انہیں درخت کے سایہ میں پہلے ہی سے بیٹھے پایا، پھر جب آپ بیٹھ گئے تو درخت کا سایہ آپ پر جھک گیا اس پر راہب بول اٹھا: دیکھو! درخت کا سایہ آپ پر جھک گیا ہے، پھر راہب ان کے سامنے کھڑا رہا اور ان سے قسم دے کر کہہ رہا تھا کہ انہیں روم نہ لے جاؤ اس لیے کہ روم کے لوگ دیکھتے ہی انہیں ان کے اوصاف سے پہچان لیں گے اور انہیں قتل کر ڈالیں گے، پھر وہ مڑا تو دیکھا کہ سات آدمی ہیں جو روم سے آئے ہوئے ہیں تو اس نے بڑھ کر ان سب کا استقبال کیا اور پوچھا آپ لوگ کیوں آئے ہیں؟ ان لوگوں نے کہا: ہم اس نبی کے لیے آئے ہیں جو اس مہینہ میں آنے والا ہے، اور کوئی راستہ ایسا باقی نہیں بچا ہے جس کی طرف کچھ نہ کچھ لوگ نہ بھیجے گئے ہوں، اور جب ہمیں تمہارے اس راستہ پر اس کی خبر لگی تو ہم تمہاری اس راہ پر بھیجے گئے، تو اس نے پوچھا: کیا تمہارے پیچھے کوئی اور ہے جو تم سے بہتر ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہمیں تو تمہارے اس راستہ پر اس کی خبر لگی تو ہم اس پر ہو لیے اس نے کہا: اچھا یہ بتاؤ کہ اللہ جس امر کا فیصلہ فرما لے کیا لوگوں میں سے اسے کوئی ٹال سکتا ہے؟ ان لوگوں نے کہا: نہیں، اس نے کہا: پھر تم اس سے بیعت کرو، اور اس کے ساتھ رہو، پھر وہ عربوں کی طرف متوجہ ہو کر بولا: میں تم سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ تم میں سے اس کا ولی کون ہے؟ لوگوں نے کہا: ابوطالب، تو وہ انہیں برابر قسم دلاتا رہا یہاں تک کہ ابوطالب نے انہیں واپس مکہ لوٹا دیا اور ابوبکر رضی الله عنہ نے آپ کے ساتھ بلال رضی الله عنہ کو بھی بھیج دیا اور راہب نے آپ کو کیک اور زیتون کا توشہ دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated Abu Musa Al-Ash'ari:"Abu Talib departed to Ash-Sham, and the Prophet (ﷺ) left with him, along with some older men from the Quraish. When they came across the monk they stopped there and began setting up their camp, and the monk came out to them. Before that they used to pass by him and he wouldn't come out nor pay attention to them." He said: "They were setting up their camp when the monk was walking amidst them, until he came and took the hand of the Messenger of Allah (ﷺ). Then he said: 'This is the master of the men and jinn, this is the Messenger of the Lord of the worlds. Allah will raise him as a mercy to the men and jinn.' So some of the older people from the Quraish said: 'What do you know?' He said: 'When you people came along from the road, not a rock nor a tree was left, except that it prostrated, and they do not prostrate except for a Prophet. And I can recognize him by the seal of the Prophethood which is below his shoulder blade, like an apple.' Then he went back, and made them some food, and when he brought it to them, he [the Prophet (ﷺ)] was tending to the camels. So he said: 'Send for him.' So he came, and there was a cloud over him that was shading him. When he came close to the people, he found that they had beaten him to the tree's shade. So when he sat down, the shade of the tree leaned towards him. He (the monk) said: 'Look at the shade of the tree leaning towards him.'" He said: "So while he was standing over them, telling them not to take him to Rome with him - because if the Romans were to see him, they would recognize him by his description, and they would kill him - he turned, and there were seven people who had come from Rome. So he faced them and said: 'Why have you come?' They said: 'We came because this Prophet is going to appear during this month, and there isn't a road left except that people have been sent to it, and we have been informed of him, and we have been send to this road of yours.' So he said: 'Is there anyone better than you behind you?' They said: 'We only have news of him from this road of yours.' He said: 'Do you think that if there is a matter which Allah wishes to bring about, there is anyone among the people who can turn it away?' They said: 'No.'" He said: "So they gave him their pledge, and they stayed with him. And he said: 'I ask you by Allah, which of you is his guardian?' They said: 'Abu Talib.' So he kept adjuring him until Abu Talib returned him (back to Makkah) and he sent Abu Bakr and Bilal with him. And the monk gave him provisions of Ka'k (a type of bread) and olive oil

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:16

Hadith #3621
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی گئی تو آپ چالیس سال کے تھے، پھر آپ مکہ میں تیرہ سال تک رہے اور مدینہ میں دس سال تک، اور آپ کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ ( ۶۳ ) سال کے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Abbas:"The Messenger of Allah (ﷺ) received Revelation when he was forty years old. So he stayed in Makkah for thirteen years and in Al-Madinah for ten. And he died when he was sixty-three years old

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:17

Hadith #3622
ShadhShadhDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قُبِضَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ وَهَكَذَا حَدَّثَنَا هُوَ يَعْنِي ابْنَ بَشَّارٍ وَرَوَى عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ۶۵ ) سال کے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اسی طرح سے ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ہے اور ان سے محمد بن اسماعیل بخاری نے اسی کے مثل روایت کی ہے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Abbas:"The Prophet (ﷺ) died when he was sixty-five years old

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:18

Hadith #3623
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَحَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلاَ بِالْقَصِيرِ الْمُتَرَدِّدِ وَلاَ بِالأَبْيَضِ الأَمْهَقِ وَلاَ بِالآدَمِ وَلَيْسَ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلاَ بِالسَّبِطِ بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ وَتَوَفَّاهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بہت لمبے قد والے تھے نہ بہت ناٹے اور نہ نہایت سفید، نہ بالکل گندم گوں، آپ کے سر کے بال نہ گھنگرالے تھے نہ بالکل سیدھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیسویں سال کے شروع میں مبعوث فرمایا، پھر مکہ میں آپ دس برس رہے اور مدینہ میں دس برس اور ساٹھویں برس ۱؎ کے شروع میں اللہ نے آپ کو وفات دی اور آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں رہے ہوں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:"The Messenger of Allah (ﷺ) was not very tall nor was he [very] short, nor was he pale white, nor was he brown, nor was the wave of his hair completely curly nor straight. Allah sent him at the beginning of his forties and he stayed in Makkah for ten years, and in Al-Madinah for ten years. And Allah took him at the beginning of his sixties, and there were not more than twenty white hairs on his head or in his beard

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:19

Hadith #3624
SahihSahihSahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالاَ أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّبِّيُّ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ بِمَكَّةَ حَجَرًا كَانَ يُسَلِّمُ عَلَىَّ لَيَالِيَ بُعِثْتُ إِنِّي لأَعْرِفُهُ الآنَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکہ میں ایک پتھر ہے جو مجھے ان راتوں میں جن میں میں مبعوث کیا گیا تھا سلام کیا کرتا تھا، اسے میں اب بھی پہچانتا ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated Simak bin Harb:from Jabir bin Samurah, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed in Makkah there is a rock that used to give me Salam during the night of my advent, and I know it even now

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:20

Hadith #3625
SahihSahihHasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلاَءِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَتَدَاوَلُ مِنْ قَصْعَةٍ مِنْ غُدْوَةٍ حَتَّى اللَّيْلِ يَقُومُ عَشَرَةٌ وَيَقْعُدُ عَشَرَةٌ ‏.‏ قُلْنَا فَمَا كَانَتْ تُمَدُّ قَالَ مِنْ أَىِّ شَيْءٍ تَعْجَبُ مَا كَانَتْ تُمَدُّ إِلاَّ مِنْ هَا هُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى السَّمَاءِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو الْعَلاَءِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ‏.‏

Urdu Translation

سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک بڑے برتن میں صبح سے شام تک کھاتے رہے، دس آدمی اٹھتے تھے اور دس بیٹھتے تھے، ہم نے ( سمرہ سے ) کہا: تو اس پیالہ نما بڑے برتن میں کچھ بڑھایا نہیں جاتا تھا؟ انہوں نے کہا: تمہیں تعجب کس بات پر ہے؟ اس میں بڑھایا نہیں جاتا تھا مگر وہاں سے، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی جانب اشارہ کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Abu Al-'Ala:from Samurah bin Jundab that he said: "We were with the Prophet (ﷺ) and we would take turns (eating) from a bowl from the morning till the evening. Ten would stand and ten would sit." We said: "So what was filling it up?' He said: "What are you amazed at? It wasn't filled up from anywhere but here, and he pointed with his hand towards the sky

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:21

Hadith #3626
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ فَخَرَجْنَا فِي بَعْضِ نَوَاحِيهَا فَمَا اسْتَقْبَلَهُ جَبَلٌ وَلاَ شَجَرٌ إِلاَّ وَهُوَ يَقُولُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ وَقَالُوا عَنْ عَبَّادٍ أَبِي يَزِيدَ مِنْهُمْ فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ ‏.‏

Urdu Translation

علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں تھا، جب ہم اس کے بعض اطراف میں نکلے تو جو بھی پہاڑ اور درخت آپ کے سامنے آتے سبھی ”السلام علیک یا رسول اللہ“ کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- کئی لوگوں نے یہ حدیث ولید بن ابی ثور سے روایت کی ہے اور ان سب نے «عن عباد أبي يزيد» کہا ہے، اور انہیں میں سے فروہ بن ابی المغراء بھی ہیں ۱؎۔

English Translation

Narrated 'Ali bin Abi Talib:"I was with the Prophet (ﷺ) in Makkah. We departed to one of its suburbs, and no mountain or tree was before him, except that it said: 'Peace be upon you O Messenger of Allah

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:22

Hadith #3627
SahihSahihHasan SahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ إِلَى لِزْقِ جِذْعٍ وَاتَّخَذُوا لَهُ مِنْبَرًا فَخَطَبَ عَلَيْهِ فَحَنَّ الْجِذْعُ حَنِينَ النَّاقَةِ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَمَسَّهُ فَسَكَنَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أُبَىٍّ وَجَابِرٍ وَابْنِ عُمَرَ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَحَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، پھر لوگوں نے آپ کے لیے ایک منبر تیار کر دیا، آپ نے اس پر خطبہ دیا تو وہ تنا رونے لگا جیسے اونٹنی روتی ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتر کر اس پر ہاتھ پھیرا تب وہ چپ ہوا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس والی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابی، جابر، ابن عمر، سہل بن سعد، ابن عباس اور ام سلمہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to give Khutbah next to a tree, and then they made a Minbar for him, so he gave Khutbahs on it, so the tree whimpered like a camel. So the Prophet (ﷺ) rubbed it, and it quieted

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:23

Hadith #3628
SahihSahihDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ بِمَ أَعْرِفُ أَنَّكَ نَبِيٌّ قَالَ ‏"‏ إِنْ دَعَوْتُ هَذَا الْعِذْقَ مِنْ هَذِهِ النَّخْلَةِ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلَ يَنْزِلُ مِنَ النَّخْلَةِ حَتَّى سَقَطَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ارْجِعْ ‏"‏ ‏.‏ فَعَادَ فَأَسْلَمَ الأَعْرَابِيُّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: کیسے میں جانوں کہ آپ نبی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اگر میں اس کھجور کے درخت کی اس ٹہنی کو بلا لوں تو کیا تم میرے بارے میں اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دو گے؟“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا تو وہ ( ٹہنی ) کھجور کے درخت سے اتر کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گر پڑی، پھر آپ نے فرمایا: ”لوٹ جا تو وہ واپس چلی گئی یہ دیکھ کر وہ اعرابی اسلام لے آیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Abbas:"A Bedouin came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'How shall I know that you are a Prophet?' He said: 'If I were to call this date cluster from this palm tree, would you bear witness that I am the Messenger of Allah?' So the Messenger of Allah (ﷺ) called it and they started to fall from the tree, until they fell towards the Prophet (ﷺ), then he said: 'Go back,' and it went back. So the Bedouin accepted Islam

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:24

Hadith #3629
SahihSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدِ بْنُ أَخْطَبَ، قَالَ مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ عَلَى وَجْهِي وَدَعَا لِي قَالَ عَزْرَةُ إِنَّهُ عَاشَ مِائَةً وَعِشْرِينَ سَنَةً وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ إِلاَّ شَعَرَاتٌ بِيضٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَأَبُو زَيْدٍ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ أَخْطَبَ ‏.‏

Urdu Translation

ابوزید بن اخطب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے چہرے پر پھیرا اور میرے لیے دعا فرمائی، عزرہ کہتے ہیں: وہ ایک سو بیس سال تک پہنچے ہیں پھر بھی ان کے سر کے صرف چند بال سفید ہوئے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوزید کا نام عمرو بن اخطب ہے۔

English Translation

Narrated Abu Zaid bin Akhtab:"The Messenger of Allah (ﷺ) wiped his hand over my face and supplicated for me." 'Azrah (one of the narrators) said: "Indeed he lived for one-hundred and twenty years, and there weren't upon his head except for a few small grey hairs

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:25

Hadith #3630
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ عَرَضْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لأُمِّ سُلَيْمٍ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - يَعْنِي ضَعِيفًا - أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ فَقَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ فِي يَدِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَيْهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ قَالَ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بِطَعَامٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَنْ مَعَهُ ‏"‏ قُومُوا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَانْطَلَقُوا فَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ ‏.‏ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهُ حَتَّى دَخَلاَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَفُتَّ وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً لَهَا فَآدَمَتْهُ ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ‏"‏ ‏.‏ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ‏"‏ ‏.‏ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ أَوْ ثَمَانُونَ رَجُلاً ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی الله عنہ نے ام سلیم رضی الله عنہما سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی، وہ کمزور تھی، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آپ بھوکے ہیں، کیا تمہارے پاس کوئی چیز کھانے کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے جو کی کچھ روٹیاں نکالیں پھر اپنی اوڑھنی نکالی اور اس کے کچھ حصہ میں روٹیوں کو لپیٹ کر میرے ہاتھ یعنی بغل کے نیچے چھپا دیں اور اوڑھنی کا کچھ حصہ مجھے اڑھا دیا، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، جب میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے ملے اور آپ کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے، تو میں جا کر ان کے پاس کھڑا ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: ”کھانا لے کر؟“ میں نے کہا: جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام لوگوں سے جو آپ کے ساتھ تھے فرمایا: ”اٹھو چلو“، چنانچہ وہ سب چل پڑے اور میں ان کے آگے آگے چلا، یہاں تک کہ میں ابوطلحہ رضی الله عنہ کے پاس آیا اور انہیں اس کی خبر دی، ابوطلحہ رضی الله عنہ نے کہا: ام سلیم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ہیں اور ہمارے پاس کچھ نہیں جو ہم انہیں کھلائیں، ام سلیم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو خوب معلوم ہے، تو ابوطلحہ رضی الله عنہ چلے اور آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ابوطلحہ رضی الله عنہ آپ کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ دونوں اندر آ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلیم! جو تمہارے پاس ہے اسے لے آؤ“، چنانچہ وہ وہی روٹیاں لے کر آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں توڑنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ توڑی گئیں اور ام سلیم نے اپنے گھی کی کُپّی کو اس پر اوندھا کر دیا اور اسے اس میں چیپڑ دیا، پھر اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا جو اللہ نے پڑھوانا چاہا، پھر آپ نے فرمایا: ”دس آدمیوں کو اندر آنے دو“، تو انہوں نے انہیں آنے دیا اور وہ کھا کر آسودہ ہو گئے، پھر وہ نکل گئے، پھر آپ نے فرمایا: ”دس کو اندر آنے دو“، تو انہوں نے انہیں آنے دیا وہ بھی کھا کر خوب آسودہ ہو گئے اور نکل گئے، اس طرح سارے لوگوں نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا اور وہ سب کے سب ستر یا اسی آدمی تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:"Abu Talhah said to Umm Sulaim: 'I heard the voice of the Messenger of Allah (ﷺ) sounding weak and I sensed some hunger in it. Do you have anything? She said: 'Yes.' So she got some loaves of wheat bread, then she took out a Khimar of hers, and put the bread in it. Then she put it under my arm, and wrapped my upper body with part of it, and she sent me to the Messenger of Allah (ﷺ)." He said: "So I brought it to him, and I found the Messenger of Allah (ﷺ) sitting in the Masjid, and there were people with him. So I stood among them, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Has Abu Talhah sent you?' I said: 'Yes.' He said: 'With food?' I said: 'Yes.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said to those with him: 'Stand up.'" So they left, and I left in front of them, until I came to Abu Talhah, and I told him (that they were coming). Abu Talhah said: 'O Umm Sulaim! The Messenger of Allah (ﷺ) is coming with people, and we don't have anything to feed them.' Umm Sulaim said: 'Allah and His Messenger know best.'" He said: "So Abu Talhah departed until he met up with the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah came, while Abu Talhah was with him, until they entered, when the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Come O Umm Sulaim! What do you have?' So she brought him that bread, and he (ﷺ) ordered that it be broken into pieces. Umm Sulaim poured some butter from an oil-skin upon them, then the Messenger of Allah (ﷺ) recited whatever Allah willed for him to say over it. Then he said: 'Let ten come.' So ten were admitted, and they ate until they were full, and then they left. Then he said: 'Let ten come.' So ten were admitted, and they ate until they were full, and they left. Then he said: 'Let ten come.' So ten were admitted, and they ate until they were full, and there were seventy or eighty men

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:26

Hadith #3631
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَانَتْ صَلاَةُ الْعَصْرِ وَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِوَضُوءٍ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ فِي ذَلِكَ الإِنَاءِ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ ‏.‏ قَالَ فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَجَابِرٍ وَزِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ وَحَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، عصر کا وقت ہو گیا تھا، لوگوں نے وضو کا پانی ڈھونڈھا، لیکن وہ نہیں پا سکے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ وضو کا پانی لایا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا ہاتھ رکھا اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس سے وضو کریں، وہ کہتے ہیں: تو میں نے آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پانی ابلتے دیکھا، پھر لوگوں نے وضو کیا یہاں تک کہ ان میں کا جو سب سے آخری شخص تھا اس نے بھی وضو کر لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمران بن حصین، ابن مسعود، جابر اور زیاد بن حارث صدائی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:"I saw the Messenger of Allah (ﷺ) at the time when the 'Asr prayer had drawn near, and the people were searching for water for Wudu, bu they did not find any. So the Messenger of Allah (ﷺ) was brought some water for Wudu, and the Messenger of Allah (ﷺ) put his hand in the container and ordered that the people make Wudu from it." He said: "So I saw water springing out from under his fingers. The people performed Wudu until the last of them made Wudu

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:27

Hadith #3632
Hasan SahihHasan SahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا ابْتُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ النُّبُوَّةِ حِينَ أَرَادَ اللَّهُ كَرَامَتَهُ وَرَحْمَةَ الْعِبَادِ بِهِ أَنْ لاَ يَرَى شَيْئًا إِلاَّ جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ فَمَكَثَ عَلَى ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ وَحُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلْوَةُ فَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَخْلُوَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ پہلی وہ چیز جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ابتداء ہوئی اور جس وقت اللہ نے اپنے اعزاز سے آپ کو نوازنے اور آپ کے ذریعہ بندوں پر اپنی رحمت و بخشش کا ارادہ کیا وہ یہ تھی کہ آپ جو بھی خواب دیکھتے تھے اس کی تعبیر صبح کے پو پھٹنے کی طرح ظاہر ہو جاتی تھی ۱؎، پھر آپ کا حال ایسا ہی رہا جب تک اللہ نے چاہا، ان دنوں خلوت و تنہائی آپ کو ایسی مرغوب تھی کہ اتنی مرغوب کوئی اور چیز نہ تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated 'Aishah:"The first of what the Messenger of Allah (ﷺ) initiated with of Prophethood, when Allah wanted to honor him and grant His mercy upon His creatures, was that he would not see anything (in a dream) except that it would occur like the break of dawn. So he continued upon that for as long as Allah willed for him to continue, and seclusion was made beloved to him, such that there was not anything more beloved to him than being alone

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:28

Hadith #3633
SahihSahihHasan SahihSahih Bukhari

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ إِنَّكُمْ تَعُدُّونَ الآيَاتِ عَذَابًا وَإِنَّا كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَرَكَةً لَقَدْ كُنَّا نَأْكُلُ الطَّعَامَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ ‏.‏ قَالَ وَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِإِنَاءٍ فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ حَىَّ عَلَى الْوَضُوءِ الْمُبَارَكِ وَالْبَرَكَةِ مِنَ السَّمَاءِ ‏"‏ ‏.‏ حَتَّى تَوَضَّأْنَا كُلُّنَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ تم لوگ اللہ کی نشانیوں کو عذاب سمجھتے ہو اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسے برکت سمجھتے تھے، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھاتے تھے اور ہم کھانے کو تسبیح پڑھتے سنتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن لایا گیا اس میں آپ نے اپنا ہاتھ رکھا تو آپ کی انگلیوں کے بیچ سے پانی ابلنے لگا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ اس برکت پانی سے وضو کرو اور یہ بابرکت آسمان سے نازل ہو رہی ہے، یہاں تک کہ ہم سب نے وضو کر لیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated 'Abdullah:"You consider the signs to be punishment, whereas we used to think of them as a blessing during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). We used to eat food with the Prophet (ﷺ) and we would hear the food's Tasbih." He said: "And the Prophet (ﷺ) was brought a container, so he put his hand it in, and the water began to spring from between his fingers. So the Prophet (ﷺ) said: 'Hasten to the blessed Wudu and the blessing from the heavens' until all of had performed Wudu

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:29

Hadith #3634
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْىُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّ عَلَىَّ وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ رَجُلاً فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْىُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ حارث بن ہشام رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ کے پاس وحی کیسے آتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی کبھی وہ میرے پاس گھنٹی کی آواز ۱؎ کی طرح آتی ہے اور یہ میرے لیے زیادہ سخت ہوتی ہے ۲؎ اور کبھی کبھی فرشتہ میرے سامنے آدمی کی شکل میں آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے، تو وہ جو کہتا ہے اسے میں یاد کر لیتا ہوں، عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت جاڑے کے دن میں آپ پر وحی اترتے دیکھی جب وہ وحی ختم ہوتی تو آپ کی پیشانی پر پسینہ آیا ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated 'Aishah:that Al-Harith bin Hisham asked the Prophet (ﷺ): 'How does the Revelation come to you?' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Sometimes it comes to me like the ringing of a bell and that is the hardest upon me, and sometimes the angel will appear to me like a man, and he will speak to me such that I understand what he says.'" 'Aishah said: "I saw the Messenger of Allah (ﷺ) while the Revelation was descending upon him on an extremely cold day. Then it ceased and his forehead was flooded with sweat

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:30

Hadith #3635
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بَعِيدٌ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ لَمْ يَكُنْ بِالْقَصِيرِ وَلاَ بِالطَّوِيلِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو جس کے بال کان کی لو کے نیچے ہوں سرخ جوڑے ۱؎ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا، آپ کے بال آپ کے دونوں کندھوں سے لگے ہوتے تھے ۲؎، اور آپ کے دونوں کندھوں میں کافی فاصلہ ہوتا تھا ۳؎، نہ آپ پستہ قد تھے نہ بہت لمبے ۴؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Al-Bara:"I have not seen anyone with hair past his shoulders in a red Hullah more handsome than the Messenger of Allah (ﷺ). He had hair that would flow on his shoulders, having broad shoulders, not too short and not too tall

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:31

Hadith #3636
SahihSahihHasan SahihSahih Bukhari

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ الْبَرَاءَ أَكَانَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ السَّيْفِ قَالَ لاَ مِثْلَ الْقَمَرِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابواسحاق کہتے ہیں کہ ایک شخص نے براء سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ چاند کی مانند تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Abu Ishaq:"A man asked Al-Bara: 'Was the face of the Messenger of Allah (ﷺ) like a sword?' He said: 'No, like the moon

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:32

Hadith #3637
SahihSahihHasan SahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالطَّوِيلِ وَلاَ بِالْقَصِيرِ شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ ضَخْمَ الرَّأْسِ ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ طَوِيلَ الْمَسْرُبَةِ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ تَكَفُّؤًا كَأَنَّمَا انْحَطَّ مِنْ صَبَبٍ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلاَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏

Urdu Translation

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ لمبے تھے نہ پستہ قد، آپ کی ہتھیلیاں اور پاؤں گوشت سے پُر تھے، آپ بڑے سر اور موٹے جوڑوں والے تھے، ( یعنی گھٹنے اور کہنیاں گوشت سے پُر اور فربہ تھیں ) ، سینہ سے ناف تک باریک بال تھے، جب چلتے تو آگے جھکے ہوئے ہوتے گویا آپ اوپر سے نیچے اتر رہے ہیں، میں نے نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد کسی کو آپ جیسا دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated 'Ali:"The Prophet (ﷺ) was not tall nor was he short, his hands and feet were thick, his head was large, he was big-boned, he had a long Masrubah (the line of hair from the chest to the navel), and whenever he walked, he leaned forward as if he was going down a decline. I have not seen anyone before him nor after him that resembled him (ﷺ)

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:33

Hadith #3638
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي حَلِيمَةَ مِنْ قَصْرِ الأَحْنَفِ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ الْمَعْنَى وَاحِدٌ قَالُوا حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، مَوْلَى غُفْرَةَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، مِنْ وَلَدِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ كَانَ عَلِيٌّ رضى الله عنه إِذَا وَصَفَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَمْ يَكُنْ بِالطَّوِيلِ الْمُمَغَّطِ وَلاَ بِالْقَصِيرِ الْمُتَرَدِّدِ وَكَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلاَ بِالسَّبِطِ كَانَ جَعْدًا رَجِلاً وَلَمْ يَكُنْ بِالْمُطَهَّمِ وَلاَ بِالْمُكَلْثَمِ وَكَانَ فِي الْوَجْهِ تَدْوِيرٌ أَبْيَضُ مُشْرَبٌ أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ أَهْدَبُ الأَشْفَارِ جَلِيلُ الْمُشَاشِ وَالْكَتِدِ أَجْرَدُ ذُو مَسْرُبَةٍ شَثْنُ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ إِذَا مَشَى تَقَلَّعَ كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صَبَبٍ وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ مَعًا بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ وَهُوَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ أَجْوَدُ النَّاسِ كَفًّا وَأَشْرَحُهُمْ صَدْرًا وَأَصْدَقُ النَّاسِ لَهْجَةً وَأَلْيَنُهُمْ عَرِيكَةً وَأَكْرَمُهُمْ عِشْرَةً مَنْ رَآهُ بَدِيهَةً هَابَهُ وَمَنْ خَالَطَهُ مَعْرِفَةً أَحَبَّهُ يَقُولُ نَاعِتُهُ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلاَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ سَمِعْتُ الأَصْمَعِيَّ يَقُولُ فِي تَفْسِيرِهِ صِفَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْمُمَغَّطِ الذَّاهِبُ طُولاً ‏.‏ وَسَمِعْتُ أَعْرَابِيًّا يَقُولُ تَمَغَّطَ فِي نَشَّابَةٍ أَىْ مَدَّهَا مَدًّا شَدِيدًا ‏.‏ وَأَمَّا الْمُتَرَدِّدُ فَالدَّاخِلُ بَعْضُهُ فِي بَعْضٍ قِصَرًا وَأَمَّا الْقَطَطُ فَالشَّدِيدُ الْجُعُودَةِ وَالرَّجِلُ الَّذِي فِي شَعَرِهِ حُجُونَةٌ قَلِيلاً وَأَمَّا الْمُطَهَّمُ فَالْبَادِنُ الْكَثِيرُ اللَّحْمِ وَأَمَّا الْمُكَلْثَمُ فَالْمُدَوَّرُ الْوَجْهِ ‏.‏ وَأَمَّا الْمُشْرَبُ فَهُوَ الَّذِي فِي بَيَاضِهِ حُمْرَةٌ وَالأَدْعَجُ الشَّدِيدُ سَوَادِ الْعَيْنِ وَالأَهْدَبُ الطَّوِيلُ الأَشْفَارِ وَالْكَتِدُ مُجْتَمَعُ الْكَتِفَيْنِ وَهُوَ الْكَاهِلُ وَالْمَسْرُبَةُ هُوَ الشَّعْرُ الدَّقِيقُ الَّذِي هُوَ كَأَنَّهُ قَضِيبٌ مِنَ الصَّدْرِ إِلَى السُّرَّةِ ‏.‏ وَالشَّثْنُ الْغَلِيظُ الأَصَابِعِ مِنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ وَالتَّقَلُّعُ أَنْ يَمْشِيَ بِقُوَّةٍ وَالصَّبَبُ الْحُدُورُ يَقُولُ انْحَدَرْنَا فِي صَبُوبٍ وَصَبَبٍ وَقَوْلُهُ جَلِيلُ الْمُشَاشِ يُرِيدُ رُءُوسَ الْمَنَاكِبِ وَالْعَشِيرَةُ الصُّحْبَةُ وَالْعَشِيرُ الصَّاحِبُ وَالْبَدِيهَةُ الْمُفَاجَأَةُ يُقَالَ بَدَهْتُهُ بِأَمْرٍ أَىْ فَجَأْتُهُ ‏.‏

Urdu Translation

ابراہیم بن محمد جو علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کی اولاد میں سے ہیں ان سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کرتے تو کہتے: نہ آپ بہت لمبے تھے نہ بہت پستہ قد، بلکہ لوگوں میں درمیانی قد کے تھے، آپ کے بال نہ بہت گھونگھریالے تھے نہ بالکل سیدھے، بلکہ ان دونوں کے بیچ میں تھے، نہ آپ بہت موٹے تھے اور نہ چہرہ بالکل گول تھا، ہاں اس میں کچھ گولائی ضرور تھی، آپ گورے سفید سرخی مائل، سیاہ چشم، لمبی پلکوں والے، بڑے جوڑوں والے اور بڑے شانہ والے تھے، آپ کے جسم پر زیادہ بال نہیں تھے، صرف بالوں کا ایک خط سینہ سے ناف تک کھنچا ہوا تھا، دونوں ہتھیلیاں اور دونوں قدم گوشت سے پُر تھے جب چلتے زمین پر پیر جما کر چلتے، پلٹتے تو پورے بدن کے ساتھ پلٹتے، آپ کے دونوں شانوں کے بیچ میں مہر نبوت تھی، آپ خاتم النبیین تھے، لوگوں میں آپ سب سے زیادہ سخی تھے، آپ کھلے دل کے تھے، یعنی آپ کا سینہ بغض و حسد سے آئینہ کے مانند پاک و صاف ہوتا تھا، اور سب سے زیادہ سچ بولنے والے، نرم مزاج اور سب سے بہتر رہن سہن والے تھے، جو آپ کو یکایک دیکھتا ڈر جاتا اور جو آپ کو جان اور سمجھ کر آپ سے گھل مل جاتا وہ آپ سے محبت کرنے لگتا، آپ کی توصیف کرنے والا کہتا: نہ آپ سے پہلے میں نے کسی کو آپ جیسا دیکھا ہے اور نہ آپ کے بعد۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، اس کی سند متصل نہیں ہے، ۲- ( نسائی کے شیخ ) ابو جعفر کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کی تفسیر میں اصمعی کو کہتے ہوئے سنا کہ «الممغط» کے معنی لمبائی میں جانے والے کے ہیں، میں نے ایک اعرابی کو سنا وہ کہہ رہا تھا «تمغط فی نشابة» یعنی اس نے اپنا تیر بہت زیادہ کھینچا اور «متردد» ایسا شخص ہے جس کا بدن ٹھنگنے پن کی وجہ سے بعض بعض میں گھسا ہوا ہو اور «قطط» سخت گھونگھریالے بال کو کہتے ہیں، اور «رَجِل» اس آدمی کو کہتے ہیں جس کے بالوں میں تھوڑی خمید گی ہو اور «مطہم» ایسے جسم والے کو کہتے ہیں جو موٹا اور زیادہ گوشت والا ہو اور «مکلثم» جس کا چہرہ گول ہو اور «مشدب» وہ شخص ہے جس کی پیشانی میں سرخی ہو اور «ادعج» وہ شخص ہے جس کے آنکھوں کی سیاہی خوب کالی ہو اور «اہدب» وہ ہے جس کی پلکیں لمبی ہوں اور «کتد» دونوں شانوں کے ملنے کی جگہ کو کہتے ہیں اور «مسربة» وہ باریک بال ہیں جو ایک خط کی طرح سینہ سے ناف تک چلے گئے ہوں اور «شثن» وہ شخص ہے جس کے ہتھیلیوں اور پیروں کی انگلیاں موٹی ہوں، اور «تقلع» سے مراد پیر جما جما کر طاقت سے چلنا ہے اور «صبب» اترنے کے معنی میں ہے، عرب کہتے ہیں «انحدر نافی صبوب وصبب» یعنی ہم بلندی سے اترے «جلیل المشاش» سے مراد شانوں کے سرے ہیں، یعنی آپ بلند شانہ والے تھے، اور «عشرة» سے مراد رہن سہن ہے اور «عشیرہ» کے معنیٰ رہن سہن والے کے ہیں اور «بدیھة» کے معنی یکایک اور یکبارگی کے ہیں، عرب کہتے ہیں «بَدَهْتُهُ بِأَمْرٍ» میں ایک معاملہ کو لے کر اس کے پاس اچانک آیا۔

English Translation

Narrated Ibrahim bin Muhammad, one of the offspring of 'Ali bin Abi Talib:said: "When 'Ali [may Allah be pleased with him] described the Prophet (ﷺ) he would say: 'He was not extremely tall (Mummaghit), nor was he extremely short (Mutaraddid), and he was of medium height in relation to the people. The wave of his hair was not completely curly (Qatat), nor straight, but it was in between. He did not have a large head, nor a small head (Mukaltham), his face was round and a blended-white color (Mushrab), his eyes were dark black (Ad'aj), his eye-lashes were long (Ahdab). He was big-boned and broad shouldered (Al-Katad), his body hair was well-placed, and he had a Masrubah, his hands and feet were thick (Shathn). When he walked he walked briskly (Taqalla'), he leaned forward as if he was walking on a decline (Sabab). And if he turned his head, his body turned as well, between his two shoulders was the seal of Prophethood, and he was the seal of the Prophets. He was the most generous of people [in hand, and the most big-hearted of them] in breast. He was the most truthful of people in speech, the softest of them in nature, and the most noble of them in his relations ('Ishrah). Whoever saw him for the first time (Badihah) would fear him, and whoever got to know him, loved him. The one who tried to describe him would have to say: 'I have not seen before him or after him anyone who resembles him (ﷺ)

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:34

Hadith #3639
HasanHasanHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الأَسْوَدِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْرُدُ سَرْدَكُمْ هَذَا وَلَكِنَّهُ كَانَ يَتَكَلَّمُ بِكَلاَمٍ بَيْنَهُ فَصْلٌ يَحْفَظُهُ مَنْ جَلَسَ إِلَيْهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ وَقَدْ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ الزُّهْرِيِّ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرح جلدی جلدی نہیں بولتے تھے بلکہ آپ ایسی گفتگو کرتے جس میں ٹھہراؤ ہوتا تھا، جو آپ کے پاس بیٹھا ہوتا وہ اسے یاد کر لیتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف زہری کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اسے یونس بن یزید نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔

English Translation

Narrated 'Urwah:that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (ﷺ) did not speak quickly like you do now, rather he would speak so clearly, unmistakably, that those who sat with him would memorize it

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:35

Hadith #3640
Hasan SahihHasan SahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعِيدُ الْكَلِمَةَ ثَلاَثًا لِتُعْقَلَ عَنْهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( بسا اوقات ) ایک کلمہ تین بار دہراتے تھے تاکہ اسے ( اچھی طرح ) سمجھ لیا جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن مثنیٰ کی روایت سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) would repeat a statement three times so that it could be understood

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:36

Hadith #3641
SahihSahihDaif

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ، قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ تَبَسُّمًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن حارث بن جزء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر مسکرانے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated Ibn Jaz:"I have not seen anyone who smiled more than the Messenger of Allah (ﷺ)

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:37

Hadith #3642
SahihSahihSahihIsnaad Sahih

وَقَدْ رُوِيَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ، مِثْلُ هَذَا ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ، أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْخَلاَّلُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحَانِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ، قَالَ مَا كَانَ ضَحِكُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ تَبَسُّمًا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن حارث بن جزء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنسی صرف مسکراہٹ ہوتی تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے لیث بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated Ibn Jaz:"The laughter of the Messenger of Allah (ﷺ) was not but smiling

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:38

Hadith #3643
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الْجَعْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ فَمَسَحَ بِرَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ وَتَوَضَّأَ فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ فَقُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَنَظَرْتُ إِلَى الْخَاتَمِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَإِذَا هُوَ مِثْلُ زِرِّ الْحَجَلَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى الزِّرُّ يُقَالُ بَيْضٌ لَهَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ سَلْمَانَ وَقُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ الْمُزَنِيِّ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَأَبِي رِمْثَةَ وَبُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيِّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ وَعَمْرِو بْنِ أَخْطَبَ وَأَبِي سَعِيدٍ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری خالہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گئیں، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا بھانجہ بیمار ہے، تو آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی، آپ نے وضو کیا تو میں نے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی پی لیا، پھر میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا، اور میں نے آپ کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی وہ چھپر کھٹ ( کے پردے ) کی گھنڈی کی طرح تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: کبوتر کے انڈے کو «زر» کہا جاتا ہے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں سلمان، قرہ بن ایاس مزنی، جابر بن سمرہ، ابورمثہ، بریدہ اسلمی، عبداللہ بن سرجس، عمرو بن اخطب اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated As-Sa'ib bin Yazid:"My maternal aunt took me to the Prophet (ﷺ), and said: 'O Messenger of Allah! Indeed my nephew is in pain.' So he wiped over my head and supplicated for blessings for me. And he performed Wudu and I drank from the water of his Wudu. Then I stood behind his back, and I looked at the seal between his two shoulder blades, and it resembled the egg of a partridge

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:39

Hadith #3644
SahihSahihHasan SahihDaif

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ خَاتَمُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - يَعْنِي الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ غُدَّةً حَمْرَاءَ مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت یعنی جو آپ کے دونوں شانوں کے درمیان تھی کبوتر کے انڈے کے مانند سرخ رنگ کی ایک گلٹی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Jabir bin Samurah:"The seal of the Messenger of Allah (ﷺ)" - meaning the one which was between his two shoulder blades - "was fleshy and red, resembling the egg of a pigeon

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:40

Hadith #3645
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ، هُوَ ابْنُ أَرْطَاةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ فِي سَاقَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُمُوشَةٌ وَكَانَ لاَ يَضْحَكُ إِلاَّ تَبَسُّمًا وَكُنْتُ إِذَا نَظَرْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ وَلَيْسَ بِأَكْحَلَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں پنڈلیاں مناسب باریکی ۱؎ لیے ہوئے تھیں اور آپ کا ہنسنا صرف مسکرانا تھا، اور جب میں آپ کو دیکھتا تو کہتا کہ آپ آنکھوں میں سرمہ لگائے ہوئے ہیں، حالانکہ آپ سرمہ نہیں لگائے ہوتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Jabir bin Samurah:"The two shins of the Messenger of Allah (ﷺ) were thin, and he would not laugh except as a smile, and whenever I looked at him I would say: "He put kohl on his eyes,' but he (ﷺ) did not use kohl

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:41

Hadith #3646
SahihHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوسَ الْعَقِبِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ مبارک کشادہ تھا، آپ کی آنکھ کے ڈورے سرخ تھے اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Jabir bin Samurah:"The Messenger of Allah (ﷺ) had a wide mouth (Dali' Al-Fam), his eyes were Ashkal, and he had thin heals (Manhus Al-'Aqib)

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:42

Hadith #3647
SahihSahihHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوشَ الْعَقِبِ ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ قُلْتُ لِسِمَاكٍ مَا ضَلِيعُ الْفَمِ قَالَ وَاسِعُ الْفَمِ ‏.‏ قُلْتُ مَا أَشْكَلُ الْعَيْنِ قَالَ طَوِيلُ شَقِّ الْعَيْنِ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ مَا مَنْهُوشُ الْعَقِبِ قَالَ قَلِيلُ اللَّحْمِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کشادہ منہ والے تھے، آپ کی آنکھ کے ڈورے سرخ اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے سماک سے پوچھا: «ضليع الفم» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اس کے معنی کشادہ منہ کے ہیں، میں نے پوچھا «أشكل العينين» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اس کے معنی بڑی آنکھ والے کے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: «منهوش العقب» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: کم گوشت کے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Jabir bin Samurah:"The Messenger of Allah (ﷺ) had a wide mouth (Dali' Al-Fam), his eyes were Ashkal, and he had thin heels (Manhus Al-'Aqib). Shu'bah (one of the narrators) said: "I said to Simak: 'What is "Dali' Al-Fam?"' He said: 'A wide mouth.' I said: 'What is "Ashkal Al-'Ainain?"' He said: 'Having long eyes.'" [He said:] "I said: 'What is "Manhus Al-'Aqib?"' He said: 'Little flesh

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:43

Hadith #3648
DaifDaifSahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَأَنَّ الشَّمْسَ تَجْرِي فِي وَجْهِهِ وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِي مَشْيِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَأَنَّمَا الأَرْضُ تُطْوَى لَهُ إِنَّا لَنُجْهِدُ أَنْفُسَنَا وَإِنَّهُ لَغَيْرُ مُكْتَرِثٍ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا، گویا آپ کے چہرہ پر سورج پھر رہا ہے، اور نہ میں نے کسی کو آپ سے زیادہ تیز رفتار دیکھا، گویا زمین آپ کے لیے لپیٹ دی جاتی تھی، ہمیں آپ کے ساتھ چلنے میں زحمت اٹھانی پڑتی تھی اور آپ کوئی دقت محسوس کئے بغیر چلے جاتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:"I have not seen anything more beautiful than the Messenger of Allah (ﷺ). It was as if the sun flowed upon his face. And I have not seen anyone quicker in his walking than the Messenger of Allah (ﷺ). It was as if the earth was made easy for him. We would be exerting ourselves while he would not be struggling

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:44

Hadith #3649
SahihSahihHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ عُرِضَ عَلَىَّ الأَنْبِيَاءُ فَإِذَا مُوسَى ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ نَفْسَهُ وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دِحْيَةُ ‏"‏ ‏.‏ هُوَ ابْنُ خَلِيفَةَ الْكَلْبِيُّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء میرے سامنے پیش کئے گئے تو موسیٰ علیہ السلام ایک چھریرے جوان تھے، گویا وہ قبیلہ شنوءہ کے ایک فرد ہیں اور میں نے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو دیکھا تو میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے عروہ بن مسعود رضی الله عنہ ہیں اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو ان سے زیادہ مشابہت رکھنے والا تمہارا یہ ساتھی ہے ۱؎، اور اس سے مراد آپ خود اپنی ذات کو لیتے تھے، اور میں نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا تو جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے دحیہ کلبی ہیں، یہ خلیفہ کلبی کے بیٹے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated Jabir:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Prophets were presented to me, and Musa was a thin man, it was as if he was from the men of Shanu'ah. And I saw 'Eisa bin Mariam, and the closest of the people in resemblance to him. from those I have seen, is 'Urwah bin Mas'ud. And I saw Ibrahim, and the closest of the people in resemblance to him, from those I have seen, is your companion" - meaning himself - "And I saw Jibril, and the closest of the people in resemblance to him, from those I have seen, is Dihyah." [And he is Ibn Khalifah Al-Kalbi]

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:45

Hadith #3650
ShadhShadhHasan

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، حَدَّثَنِي عَمَّارٌ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ۶۵ ) سال کے تھے ۱؎۔

English Translation

Narrated Ibn 'Abbas:"The Prophet (ﷺ) died when he was sixty-five years old

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:46

Hadith #3651
ShadhShadhHasanHasan

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ،قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ،قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ،قَالَ حَدَّثَنَا عَمَّارٌ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنُ الإِسْنَادِ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ۶۵ ) سال کے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Abbas:"The Prophet (ﷺ) died when he was sixty-five years old

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:47

Hadith #3652
SahihSahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَكَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ - يَعْنِي يُوحَى إِلَيْهِ وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَدَغْفَلِ بْنِ حَنْظَلَةَ وَلاَ يَصِحُّ لِدَغْفَلٍ سَمَاعٌ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ رُؤْيَةٌ ‏.‏ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ ( ۱۳ ) سال رہے یعنی آپ پر تیرہ سال تک وحی کی جاتی رہی اور آپ کی وفات ترسٹھ ( ۶۳ ) سال کی عمر میں ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی یہ حدیث عمرو بن دینار کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، انس اور دغفل بن حنظلہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور دغفل کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ تو سماع صحیح ہے اور نہ ہی رؤیت۔

English Translation

Narrated Ibn 'Abbas:"The Prophet (ﷺ) stayed in Makkah for thirteen years - meaning while he was receiving Revelation - and he died when he was sixty-three years old

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:48

Hadith #3653
SahihSahihHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُهُ يَخْطُبُ، يَقُولُ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَنَا ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی الله عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ سال کے تھے اور ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی ترسٹھ سال کے تھے اور میں بھی ( اس وقت ) ترسٹھ سال کا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Jabir [bin 'Abdullah]:that he heard Mu'awiyah bin Abi Sufyan giving a Khutbah, saying: "The Messenger of Allah (ﷺ) died when he was sixty-three years old, and so did Abu Bakr and 'Umar, and I am sixty-three years old

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:49

Hadith #3654
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ وَالْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْبَصْرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَقَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، فِي حَدِيثِهِ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَ هَذَا ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ سال کے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسے زہری کے بھتیجے ( محمد بن عبداللہ بن مسلم ) نے بھی زہری سے اور زہری نے عروہ کے واسطہ سے عائشہ سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔

English Translation

Narrated 'Aishah [may Allah be pleased with her]:"The Prophet (ﷺ) died when he was sixty-three years old

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:50

Hadith #3655
SahihSahihHasan SahihSahih - Bukhari And Muslim

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خِلِّهِ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلاً لاَتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلاً وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ الزُّبَيْرِ وَابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ہر خلیل کی «خلت» ( دوستی ) سے بری ہوں اور اگر میں کسی کو خلیل ( دوست ) بناتا تو ابن ابی قحافہ کو، یعنی ابوبکر رضی الله عنہ کو خلیل بناتا، اور تمہارا یہ ساتھی اللہ کا خلیل ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، ابوہریرہ، ابن زبیر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated 'Abdullah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "I free myself of the friendship of every Khalil, and if I were to take a Khalil then I would have taken Ibn Abi Quhafah as a Khalil. And indeed your companion is Allah's Khalil

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:51

Hadith #3656
HasanHasanSahihSahih Bukhari

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَخَيْرُنَا وَأَحَبُّنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر ہمارے سردار ہیں اور ہم میں سب سے بہتر ہیں اور وہ ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated 'Umar bin Al-Khattab:"Abu Bakr is our chief, and the best of us, and the most beloved of us to the Messenger of Allah (ﷺ)

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:52

Hadith #3657
SahihSahihHasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَىُّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ قَالَتْ أَبُو بَكْرٍ ‏.‏ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَتْ عُمَرُ ‏.‏ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَتْ ثُمَّ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ‏.‏ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ فَسَكَتَتْ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: صحابہ میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ کون محبوب تھے؟ انہوں نے کہا: ابوبکر، میں نے پوچھا: پھر کون؟ انہوں نے کہا: عمر، میں نے پوچھا: پھر کون؟ کہا: پھر ابوعبیدہ بن جراح، میں نے پوچھا: پھر کون؟ تو وہ خاموش رہیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated 'Abdullah bin Shaqiq:"I said to 'Aishah: 'Which of the Companions of the Prophet (ﷺ) were the most beloved to the Messenger of Allah (ﷺ)?' She said: 'Abu Bakr.' I said: 'Then who?' She said: ''Umar.' I said: "Then who?' She said: 'Then Abu 'Ubaidah bin Al-Jarrah.'" He said: "I said: 'Then who?''" He said: "Then she was silent

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:53

Hadith #3658
SahihSahihHasan

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، وَالأَعْمَشِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ صُهْبَانَ، وَابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَكَثِيرٍ النَّوَّاءِ، كُلِّهِمْ عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى لَيَرَاهُمْ مَنْ تَحْتَهُمْ كَمَا تَرَوْنَ النَّجْمَ الطَّالِعَ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ‏.‏

Urdu Translation

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلند درجات والوں کو ( جنت میں ) جو ان کے نیچے ہوں گے، ایسے ہی دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے افق پر طلوع ہونے والے ستارے کو دیکھتے ہو اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہما دونوں انہیں میں سے ہوں گے اور کیا ہی خوب ہیں دونوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی عطیہ کے واسطہ سے ابو سعید خدری سے آئی ہے۔

English Translation

Narrated Abu Sa'eed:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed the people of the higher levels, will be seen by those who are beneath them like the stars which appear far off in the sky. And indeed Abu Bakr and 'Umar are among them, and they have done well

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:54

Hadith #3659
Daif IsnaadDaif IsnaadDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُعَلَّى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ يَوْمًا فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ رَجُلاً خَيَّرَهُ رَبُّهُ بَيْنَ أَنْ يَعِيشَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَعِيشَ وَيَأْكُلَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَأْكُلَ وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَلاَ تَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا الشَّيْخِ إِذْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً صَالِحًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ ‏.‏ قَالَ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَهُمْ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ بَلْ نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا وَأَمْوَالِنَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنَّ إِلَيْنَا فِي صُحْبَتِهِ وَذَاتِ يَدِهِ مِنِ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلاً لاَتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلاً وَلَكِنْ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ ‏"‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ بِإِسْنَادٍ غَيْرِ هَذَا ‏.‏ وَمَعْنَى قَوْلِهِ أَمَنَّ إِلَيْنَا يَعْنِي أَمَنَّ عَلَيْنَا ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابومعلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ دیا تو فرمایا: ”ایک شخص کو اس کے رب نے اختیار دیا کہ وہ دینا میں جتنا رہنا چاہے رہے اور جتنا کھانا چاہے کھا لے یا اپنے رب سے ملنے کو ( ترجیح دے ) تو اس نے اپنے رب سے ملنے کو پسند کیا، وہ کہتے ہیں: یہ سن کر ابوبکر رضی الله عنہ رو پڑے، تو صحابہ نے کہا: کیا تمہیں اس بوڑھے کے رونے پر تعجب نہیں ہوتا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نیک بندے کا ذکر کیا کہ اس کے رب نے دو باتوں میں سے ایک کا اسے اختیار دیا کہ وہ دنیا میں رہے یا اپنے رب سے ملے، تو اس نے اپنے رب سے ملاقات کو پسند کیا۔ ابوبکر رضی الله عنہ ان میں سب سے زیادہ ان باتوں کو جاننے والے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر ) ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: بلکہ ہم اپنے باپ دادا، اپنے مال سب کو آپ پر قربان کر دیں گے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی ایسا نہیں جو ابن ابی قحافہ سے بڑھ کر میرا حق صحبت ادا کرنے والا ہو اور میرے اوپر اپنا مال خرچ کرنے والا ہو، اگر میں کسی کو خلیل ( گہرا دوست ) بناتا تو ابن ابی قحافہ کو دوست بناتا، لیکن ( ہمارے اور ان کے درمیان ) ایمان کی دوستی موجود ہے“۔ یہ کلمہ آپ نے دو یا تین بار فرمایا، پھر فرمایا: ”تمہارا یہ ساتھی ( یعنی خود ) اللہ کا خلیل ( دوست ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت آئی ہے اور یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث ابو عوانہ کے واسطہ سے عبدالملک بن عمیر سے ایک دوسری سند سے بھی آئی ہے، اور «أمن إلينا» میں «إلى»،‏‏‏‏ «على» کے معنی میں ہے، یعنی مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والا۔

English Translation

Narrated Ibn Abi Mu'alla:from his father: "The Messenger of Allah (ﷺ) gave a Khutbah one day and said: 'Indeed there is a man whose Lord has given him the choice between living in this life as long as he wishes to live, and eating from this life as much as he wishes to eat, and between meeting his Lord.'" He said: "So Abu Bakr cried. The Companions of the Prophet (ﷺ) said: 'Are you not amazed at this old man, when the Messenger of Allah (ﷺ) mentioned a righteous man whose Lord gave him the choice between this life or meeting his Lord, and he chose meeting his Lord.'" He said: "But Abu Bakr was the most knowledgeable one of them regarding what the Messenger of Allah (ﷺ) had said. So Abu Bakr said: 'Rather we will ransom our fathers and wealth for you.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'There is no one among people more beneficial to us (Amanna Ilaina) in his companionship, or generous with his wealth than Ibn Abi Quhafah. And, if I were to take a Khalil, I would have taken Ibn Abi Quhafah as a Khalil. But rather love and the brotherhood of faith' - saying that two or three times - 'Indeed your companion is the Khalil of Allah

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:55

Hadith #3660
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فَدَيْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا ‏.‏ قَالَ فَعَجِبْنَا فَقَالَ النَّاسُ انْظُرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ يُخْبِرُ رَسُولُ اللَّهِ عَنْ عَبْدٍ خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ وَبَيْنَ مَا عِنْدَ اللَّهِ وَهُوَ يَقُولُ فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا ‏.‏ قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ هُوَ الْمُخَيَّرَ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ هُوَ أَعْلَمَنَا بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَىَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلاً لاَتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلاً وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الإِسْلاَمِ لاَ تَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلاَّ خَوْخَةُ أَبِي بَكْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا: ”ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ وہ دنیا کی رنگینی کو پسند کرے یا ان چیزوں کو جو اللہ کے پاس ہیں“، تو اس نے ان چیزوں کو اختیار کیا جو اللہ کے پاس ہیں، اسے سنا تو ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے اپنے باپ دادا اور اپنی ماؤں کو آپ پر قربان کیا ۱؎ ہمیں تعجب ہوا، لوگوں نے کہا: اس بوڑھے کو دیکھو! اللہ کے رسول ایک ایسے بندے کے بارے میں خبر دے رہے ہیں جسے اللہ نے یہ اختیار دیا کہ وہ یا تو دنیا کی رنگینی کو اپنا لے یا اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اپنا لے، اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد اور ماؤں کو آپ پر قربان کیا، جس بندے کو اللہ نے اختیار دیا وہ خود اللہ کے رسول تھے، اور ابوبکر رضی الله عنہ اسے ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے، ابوبکر رضی الله عنہ کی بات سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بڑھ کر میرا حق صحبت ادا کرنے والے اور سب سے زیادہ میرے اوپر اپنا مال خرچ کرنے والے ابوبکر ہیں، اگر میں کسی کو خلیل ( گہرا دوست ) بناتا، تو ابوبکر کو بناتا لیکن اسلام کی اخوت ہی کافی ہے اور مسجد میں ( یعنی مسجد کی طرف ) کوئی کھڑکی باقی نہ رہے سوائے ابوبکر کی کھڑکی کے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri:"The Messenger of Allah (ﷺ) sat upon the Minbar and said: 'Indeed a worshiper has been given a choice by Allah, between Him giving him from the bounty of this life as much as he wishes, and between what is with Him. So he chose what is with Him.' So Abu Bakr said: 'We will ransom our fathers and mothers for you O Messenger of Allah!'" He said: "So we were amazed. Then the people said: 'Look at this old man. The Messenger of Allah (ﷺ) informs about a worshiper whom Allah gave the choice, between Him giving him from the bounty of this life as much as he wishes, and between that which is with Allah, and he says: 'We will ransom our fathers and mothers for you?' But the Messenger of Allah (ﷺ) was the one given the choice, and Abu Bakr was the most knowledgeable of it among them. So the Prophet (ﷺ) said: 'From those who were most beneficial to me among the people in their companionship and their wealth was Abu Bakr. And if I were to take a Khalil, I would would have taken Abu Bakr as a Khalil. But rather, the brotherhood of Islam. Let there not remain a door in the Masjid except the door of Abu Bakr

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:56

Hadith #3661
SahihSahihDaif

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْكُوفِيُّ،قَالَ حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُحْرِزٍ الْقَوَارِيرِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الأَوْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا لأَحَدٍ عِنْدَنَا يَدٌ إِلاَّ وَقَدْ كَافَيْنَاهُ مَا خَلاَ أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا يَدًا يُكَافِئُهُ اللَّهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَا نَفَعَنِي مَالُ أَحَدٍ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلاً لاَتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلاً أَلاَ وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کا ہمارے اوپر کوئی ایسا احسان نہیں جسے میں نے چکا نہ دیا ہو سوائے ابوبکر کے، کیونکہ ان کا ہمارے اوپر اتنا بڑا احسان ہے کہ جس کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن انہیں اللہ ہی دے گا، کسی کے مال سے کبھی بھی مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچا جتنا مجھے ابوبکر کے مال نے پہنچایا ہے، اگر میں کسی کو خلیل ( گہرا دوست ) بنانے والا ہوتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا، سن لو تمہارا یہ ساتھی ( یعنی خود ) اللہ کا خلیل ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no favor due upon us from anyone, except that we have repaid him, with the exception of Abu Bakr. Verily upon us, there is a favor due to him, which Allah will repay him on the Day of Judgement. No one's wealth has benefited me as Abu Bakr's wealth has benefited me. And if I were to take a Khalil, then I would have taken Abu Bakr as a Khalil, and indeed your companion is Allah's Khalil

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:57

Hadith #3662
SahihHasanHasan

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، وَهُوَ ابْنُ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ نَحْوَهُ وَكَانَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ يُدَلِّسُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فَرُبَّمَا ذَكَرَهُ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ وَرُبَّمَا لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ زَائِدَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَفِيهِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ‏.‏ وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ مَوْلًى لِرِبْعِيٍّ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ أَيْضًا عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَرَوَاهُ سَالِمٌ الأَنْعُمِيُّ كُوفِيٌّ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشَ عَنْ حُذَيْفَةَ

Urdu Translation

حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اقتداء کرو ان دونوں کی جو میرے بعد ہوں گے، یعنی ابوبکر و عمر کی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود سے بھی روایت ہے، ۳- سفیان ثوری نے یہ حدیث عبدالملک بن عمیر سے اور عبدالملک بن عمیر نے ربعی کے آزاد کردہ غلام کے واسطہ سے ربعی سے اور ربعی نے حذیفہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔

English Translation

Narrated Hudhaifah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Stick to the two after me, Abu Bakr and 'Umar

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:58

Hadith #3663
SahihSahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي الْعَلاَءِ الْمُرَادِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، رضى الله عنه قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ إِنِّي لاَ أَدْرِي مَا بَقَائِي فِيكُمْ فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي ‏"‏ ‏.‏ وَأَشَارَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ‏.‏

Urdu Translation

حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا کہ میں تمہارے درمیان کب تک رہوں گا، لہٰذا تم لوگ ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے بعد ہوں گے اور آپ نے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کی جانب اشارہ کیا“۔

English Translation

Narrated Hudhaifah [may Allah be pleased with him]:"We were sitting with the Prophet (ﷺ) and he said: 'I do not know how long I will be with you, so stick to the two after me,' and he signaled towards Abu Bakr and 'Umar

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:59

Hadith #3664
SahihHasanHasan

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ‏ "‏ هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ إِلاَّ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے سلسلہ میں فرمایا: ”یہ دونوں جنت کے ادھیڑ عمر والوں کے سردار ہوں گے، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے انبیاء و مرسلین کے، ( آپ نے فرمایا: ) ”علی ان دونوں کو اس بات کی خبر مت دینا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated Anas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said about Abu Bakr and 'Umar: "These two are the masters of the elder people among the inhabitants of Paradise. From the first ones and the last ones, not including the Prophets and the Messengers. But do not inform them O 'Ali

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:60

Hadith #3665
SahihSahihDaifDaif

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ طَلَعَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ إِلاَّ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ يَا عَلِيُّ لاَ تُخْبِرْهُمَا ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَالْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ وَلَمْ يَسْمَعْ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ مِنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَلِيٍّ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏

Urdu Translation

علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اچانک ابوبکر و عمر رضی الله عنہما نمودار ہوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے انبیاء و مرسلین کے لیکن علی! تم انہیں نہ بتانا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- ولید بن محمد موقری حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں اور علی بن حسین نے علی سے نہیں سنا ہے، ۳- علی رضی الله عنہ سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے، ۴- اس باب میں انس اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated 'Ali bin Abi Talib:"I was with the Messenger of Allah (ﷺ), and Abu Bakr and 'Umar came up (in discussion), so the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'These two are the masters of the elder people among the inhabitants of Paradise. From the first ones and the last ones, not including the Prophets and the Messengers. But do not inform them O 'Ali

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:61

Hadith #3666
SahihSahihDaif

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ ذَكَرَ دَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ مَا خَلاَ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ لاَ تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر و عمر جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے نبیوں اور رسولوں کے، لیکن علی! تم انہیں نہ بتانا“۔

English Translation

Narrated 'Ali:that the Prophet (ﷺ) said: "Abu Bakr and 'Umar are the masters of the elder people among the inhabitants of Paradise, from the first ones and the last ones, not including the Prophets and the Messengers. Do not inform them O 'Ali

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:62

Hadith #3667
SahihSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَلَسْتُ أَحَقَّ النَّاسِ بِهَا أَلَسْتُ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ أَلَسْتُ صَاحِبَ كَذَا أَلَسْتُ صَاحِبَ كَذَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ قَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَهَذَا أَصَحُّ ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ، مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَهَذَا أَصَحُّ ‏.‏

Urdu Translation

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: کیا میں وہ شخص نہیں ہوں جو سب سے پہلے اسلام لایا؟ کیا میں ایسی ایسی خوبیوں کا مالک نہیں ہوں؟ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بعض نے یہ حدیث شعبہ سے، شعبہ نے جریری سے، جریری نے ابونضرہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: ابوبکر نے کہا، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri:that Abu Bakr said: "Am I not the most deserving of it among the people, am I not the first to become Muslim, am I not the person of such and such, am I not the person of such and such

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:63

Hadith #3668
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْرُجُ عَلَى أَصْحَابِهِ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَلاَ يَرْفَعُ إِلَيْهِ أَحَدٌ مِنْهُمْ بَصَرَهُ إِلاَّ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَإِنَّهُمَا كَانَا يَنْظُرَانِ إِلَيْهِ وَيَنْظُرُ إِلَيْهِمَا وَيَتَبَسَّمَانِ إِلَيْهِ وَيَتَبَسَّمُ إِلَيْهِمَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الْحَكَمِ بْنِ عَطِيَّةَ ‏.‏ وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُهُمْ فِي الْحَكَمِ بْنِ عَطِيَّةَ ‏.‏

Urdu Translation

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین و انصار میں سے اپنے صحابہ کے پاس نکل کر آتے اور وہ بیٹھے ہوتے، ان میں ابوبکر و عمر رضی الله عنہما بھی ہوتے، تو ان میں سے کوئی اپنی نگاہ آپ کی طرف نہیں اٹھاتا تھا، سوائے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے یہ دونوں آپ کو دیکھتے اور مسکراتے اور آپ ان دونوں کو دیکھتے اور مسکراتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف حکم بن عطیہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- بعض محدثین نے حکم بن عطیہ کے بارے میں کلام کیا ہے۔

English Translation

Narrated Anas:that the Messenger of Allah (ﷺ) used to go out to his Companions from The Muhajirin and the Ansar while they were sitting, and Abu Bakr and 'Umar would be with them. No one would lift their sight towards him except Abu Bakr and 'Umar, because they used to look at him, and he would look at them, and they would smile at him, and he would smile at them

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:64

Hadith #3669
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَالِدِ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ وَهُوَ آخِذٌ بِأَيْدِيهِمَا وَقَالَ ‏ "‏ هَكَذَا نُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏. قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ ‏ وَسَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِالْقَوِيِّ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے، ابوبکر و عمر رضی الله عنہما میں سے ایک آپ کے دائیں جانب تھے اور دوسرے بائیں جانب، اور آپ ان دونوں کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے آپ نے فرمایا: ”اسی طرح ہم قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- سعید بن مسلمہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں، ۳- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی نافع کے واسطہ سے ابن عمر رضی الله عنہما سے آئی ہے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) departed one day and entered the Masjid, along with Abu Bakr and 'Umar. One was on his right and the other was on his left, and he was holding their hands, and he said: "This is how we will be resurrected on the Day of Judgement

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:65

Hadith #3670
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ، قَالَ حَدَّثَنِي كَثِيرٌ أَبُو إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأَبِي بَكْرٍ ‏ "‏ أَنْتَ صَاحِبِي عَلَى الْحَوْضِ وَصَاحِبِي فِي الْغَارِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ سے فرمایا: ”تم حوض کوثر پر میرے رفیق ہو گے جیسا کہ غار میں میرے رفیق تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن، صحیح، غریب ہے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) said to Abu Bakr: "You are my companion at the Hawd, and my companion in the cave

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:66

Hadith #3671
SahihSahihDaif

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ ‏ "‏ هَذَانِ السَّمْعُ وَالْبَصَرُ ‏"‏ ‏.‏وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَهَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَنْطَبٍ لَمْ يُدْرِكِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن حنطب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کو دیکھا تو فرمایا: ”یہ دونوں ( اسلام کے ) کان اور آنکھ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث مرسل ہے عبداللہ بن حنطب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔

English Translation

Narrated 'Abdullah bin Hantab:that the Prophet (ﷺ) saw Abu Bakr and 'Umar and said: "These two are the hearing and the seeing

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:67

Hadith #3672
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَاإِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَأْمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ‏.‏ قَالَتْ فَقَالَ ‏"‏ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَأْمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّكُنَّ لأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ مَا كُنْتُ لأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي مُوسَى وَابْنِ عَبَّاسٍ وَسَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“، اس پر عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! ابوبکر جب آپ کی جگہ ( نماز پڑھانے ) کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو قرأت نہیں سنا سکیں گے ۱؎، اس لیے آپ عمر کو حکم دیجئیے کہ وہ نماز پڑھائیں، پھر آپ نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“۔ عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: تو میں نے حفصہ سے کہا: تم ان سے کہو کہ ابوبکر جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو رونے کے سبب قرأت نہیں سنا سکیں گے، اس لیے آپ عمر کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو حفصہ نے ( ایسا ہی ) کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وہی تو ہو جنہوں نے یوسف علیہ السلام کو تنگ کیا، ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو حفصہ نے عائشہ سے ( بطور شکایت ) کہا کہ مجھے تم سے کبھی کوئی بھلائی نہیں پہنچی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابوموسیٰ اشعری، ابن عباس، سالم بن عبید اور عبداللہ بن زمعہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated 'Aishah:that the Prophet (ﷺ) said: "Order Abu Bakr to lead the people in Salat." 'Aishah said: "O Messenger of Allah! If Abu Bakr takes your place, the people will not be able to hear due to his crying, so order 'Umar to lead the people in Salat." She said: "So he said: 'Order Abu Bakr to lead the people in Salat.'" 'Aishah said: "So I said to Hafsah: 'Tell him that if Abu Bakr takes your place, then the people will not be able to hear due to his crying, so order 'Umar to lead the people in Salat.'" Upon this Hafsah did it. So the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed you are but like the companions of Yusuf! Order Abu Bakr to lead the people in Salat." So Hafsah said to 'Aishah: "I never received any good from you

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:68

Hadith #3673
Very DaifVery DaifDaif

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَيْمُونٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَنْبَغِي لِقَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی قوم کے لیے مناسب نہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ کی موجودگی میں ان کے سوا کوئی اور ان کی امامت کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated 'Aishah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "It is not befitting that a group, among whom is Abu Bakr, be led by other than him

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:69

Hadith #3674
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلاَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا عَلَى مَنْ دُعِيَ مِنْ هَذِهِ الأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ كُلِّهَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑا خرچ کرے گا اسے جنت میں پکارا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے! یہ وہ خیر ہے ( جسے تیرے لیے تیار کیا گیا ہے ) تو جو اہل صلاۃ میں سے ہو گا اسے صلاۃ کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل جہاد میں سے ہو گا اسے جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل صدقہ میں سے ہو گا اسے صدقہ کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل صیام میں سے ہو گا، وہ باب ریان سے پکارا جائے گا، اس پر ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ کسی کو ان سارے دروازوں سے پکارا جائے ( اس لیے کہ ایک دروازے سے داخل ہو جانا کافی ہے ) مگر کیا کوئی ایسا بھی ہو گا جو ان سبھی دروازوں سے پکارا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں میں سے ہو گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever spends a pair of things in the path of Allah, he will be called in Paradise: 'O Worshiper of Allah, this is good.' And whoever is among the people of Salat, he will be called from the gate of Salat, and whoever was among from the people of Jihad, he will be called from the gate of Jihad. And whoever was among the people of charity, then he will be called from the gate of charity, and whoever was from the people of fasting, then he will be called from the gate of Ar-Rayyan." So Abu Bakr said: "May my father and mother be ransomed for you! The one who is called from these gates will be free of all worries. But will anyone be called from all of those gates?" He (ﷺ) said: "Yes, and I hope that you are among them

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:70

Hadith #3675
HasanHasanHasan SahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَتَصَدَّقَ فَوَافَقَ ذَلِكَ عِنْدِي مَالاً فَقُلْتُ الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا قَالَ فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا أَبْقَيْتَ لأَهْلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ مِثْلَهُ وَأَتَى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا أَبْقَيْتَ لأَهْلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قُلْتُ وَاللَّهِ لاَ أَسْبِقُهُ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اور اتفاق سے ان دنوں میرے پاس مال بھی تھا، میں نے ( دل میں ) کہا: اگر میں ابوبکر رضی الله عنہ سے کسی دن آگے بڑھ سکوں گا تو آج کے دن آگے بڑھ جاؤں گا، پھر میں اپنا آدھا مال آپ کے پاس لے آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اتنا ہی ( ان کے لیے بھی چھوڑا ہوں ) اور ابوبکر رضی الله عنہ وہ سب مال لے آئے جو ان کے پاس تھا، تو آپ نے پوچھا: ”ابوبکر! اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ تو انہوں نے عرض کیا: ان کے لیے تو اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں، میں نے ( اپنے جی میں ) کہا: اللہ کی قسم! میں ان سے کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکوں گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Zaid bin Aslam:"I heard 'Umar bin Al-Khattab saying: 'We were ordered by the Messenger of Allah (ﷺ) to give in charity, and that coincided with a time in which I had some wealth, so I said, "Today I will beat Abu Bakr, if ever I beat him."' So I came with half of my wealth, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: "What did you leave for your family?" I said: "The like of it." And Abu Bakr came with everything he had, so he said: "O Abu Bakr! What did you leave for your family?" He said: "I left Allah and His Messenger for them." I said: '[By Allah] I will never be able to beat him to something

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:71

Hadith #3676
SahihSahihSahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ وَأَمَرَهَا بِأَمْرٍ فَقَالَتْ أَرَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ أَجِدْكَ قَالَ ‏ "‏ فَإِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِ أَبَا بَكْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت نے آ کر کسی مسئلہ میں آپ سے بات کی اور آپ نے اسے کسی بات کا حکم دیا تو وہ بولی: مجھے بتائیے اللہ کے رسول! اگر میں آپ کو نہ پاؤں؟ ( تو کس کے پاس جاؤں ) آپ نے فرمایا: ”اگر تم مجھے نہ پانا تو ابوبکر کے پاس جانا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated Jubair bin Mut'im:that a woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) to speak to him about something. Then he ordered her with something, and she said: "What should I do O Messenger of Allah if I do not find you?" He said: "If you do not find me, then go to Abu Bakr

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:72

Hadith #3677
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بَيْنَا رَجُلٌ رَاكِبٌ بَقَرَةً إِذْ قَالَتْ لَمْ أُخْلَقْ لِهَذَا إِنَّمَا خُلِقْتُ لِلْحَرْثِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ آمَنْتُ بِذَلِكَ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ وَمَا هُمَا فِي الْقَوْمِ يَوْمَئِذٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دوران کہ ایک شخص ایک گائے پر سوار تھا اچانک وہ گائے بول پڑی کہ میں اس کے لیے نہیں پیدا کی گئی ہوں، میں تو کھیت جوتنے کے لیے پیدا کی گئی ہوں ( یہ کہہ کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا اس پر ایمان ہے اور ابوبکر و عمر کا بھی، ابوسلمہ کہتے ہیں: حالانکہ وہ دونوں اس دن وہاں لوگوں میں موجود نہیں تھے“، واللہ اعلم ۱؎۔

English Translation

Narrated Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman:from Abu Hurairah, who said that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "While a man was riding a cow it said: "I was not created for this, I was only created to till.'" So the Messenger of Allah (ﷺ) said: "I believe in that, myself, and Abu Bakr, 'Umar." Abu Salamah said: "And the two of them were not among the people that day [and Allah knows best]

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:73

Hadith #3678
SahihSahihHasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِسَدِّ الأَبْوَابِ إِلاَّ بَابَ أَبِي بَكْرٍ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مسجد کی طرف کھلنے والے ) سارے دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا سوائے ابوبکر رضی الله عنہ کے دروازہ کے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ۲- اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔

English Translation

Narrated 'Aishah:that the Prophet (ﷺ) ordered the closing of all the gates, except for the gate of Abu Bakr. And there is a narration on this topic from Abu Sa'eed

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:74

Hadith #3679
SahihSahihSahih

حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ إِسْحَاقَ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ أَنْتَ عَتِيقُ اللَّهِ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ فَيَوْمَئِذٍ سُمِّيَ عَتِيقًا ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَعْنٍ وَقَالَ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: ”تم جہنم سے اللہ کے آزاد کردہ ہو تو اسی دن سے ان کا نام عتیق رکھ دیا گیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بعض راویوں نے یہ حدیث معن سے روایت کی ہے اور سند میں «عن موسى بن طلحة عن عائشة» کہا ہے۔

English Translation

Narrated 'Aishah:that Abu Bakr entered upon the Messenger of Allah (ﷺ), so he said: "You are Allah's 'Atiq from the Fire." From that day on he was called 'Atiq

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:75

Hadith #3680
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، قَالَ حَدَّثَنَا تَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ لَهُ وَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ وَوَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ فَأَمَّا وَزِيرَاىَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ فَجِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ وَأَمَّا وَزِيرَاىَ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ فَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَأَبُو الْجَحَّافِ اسْمُهُ دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ ‏.‏ وَيُرْوَى عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ‏.‏ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَحَّافِ وَكَانَ مَرْضِيًّا وَتَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ يُكْنَى أَبَا إِدْرِيسَ وَهُوَ شِيعِيٌّ ‏.‏

Urdu Translation

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی نبی ایسا نہیں جس کے دو وزیر آسمان والوں میں سے نہ ہوں اور دو وزیر زمین والوں میں سے نہ ہوں، رہے میرے دو وزیر آسمان والوں میں سے تو وہ جبرائیل اور میکائیل علیہما السلام ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور ابوالجحاف کا نام داود بن ابوعوف ہے، سفیان ثوری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سے ابوالجحاف نے بیان کیا ( اور وہ ایک پسندیدہ شخص تھے ) ۳- اور تلید بن سلیمان کی کنیت ابوادریس ہے اور یہ اہل تشیع میں سے ہیں ۱؎۔

English Translation

Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no Prophet except that he has two ministers among the inhabitants of the heavens, and two ministers among the inhabitants of the earth. As for my two ministers from the inhabitants of the heavens, then they are Jibril and Mika'il, and as for my two ministers from the inhabitants of the earth, then they are Abu Bakr and 'Umar

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:76

Hadith #3681
SahihSahihHasan SahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ أَعِزَّ الإِسْلاَمَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ أَحَبَّهُمَا إِلَيْهِ عُمَرُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ان دونوں یعنی ابوجہل اور عمر بن خطاب میں سے جو تجھے محبوب ہو اس کے ذریعہ اسلام کو طاقت و قوت عطا فرما“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان دونوں میں سے عمر اللہ کے محبوب نکلے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن عمر رضی الله عنہما کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "O Allah! Honor Islam through the most dear of these two men to you: Through Abu Jahl or through 'Umar bin Al-Khattab." He said: "And the most dear of them to Him was 'Umar

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:77

Hadith #3682
SahihSahihHasan SahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ مَا نَزَلَ بِالنَّاسِ أَمْرٌ قَطُّ فَقَالُوا فِيهِ وَقَالَ فِيهِ عُمَرُ أَوْ قَالَ ابْنُ الْخَطَّابِ فِيهِ شَكَّ خَارِجَةُ إِلاَّ نَزَلَ فِيهِ الْقُرْآنُ عَلَى نَحْوِ مَا قَالَ عُمَرُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ وَأَبِي ذَرٍّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَخَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتِ وَهُوَ ثِقَةٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان و دل پر حق کو جاری فرما دیا ہے“۔ عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: کبھی کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا جس میں لوگوں نے اپنی رائیں پیش کیں ہوں اور عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے ( راوی خارجہ کو شک ہو گیا ہے ) بھی رائے دی ہو، مگر قرآن اس واقعہ سے متعلق عمر رضی الله عنہ کی اپنی رائے کے موافق نہ اترا ہو ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- خارجہ بن عبداللہ انصاری کا پورا نام خارجہ بن عبداللہ بن سلیمان بن زید بن ثابت ہے اور یہ ثقہ ہیں، ۳- اس باب میں فضل بن عباس، ابوذر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Nafi':from Ibn 'Umar, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed Allah has put the truth upon the tongue and in the heart of 'Umar." He said: "And Ibn 'Umar said: 'No affair occurred among the people, except that they said something about it, and 'Umar said something about it'" or he said - "Ibn Al-Khattab" - Kharijah (one of the narrators) had a doubt about it - "except that the Qur'an was revealed in line with what 'Umar had said

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:78

Hadith #3683
Very DaifVery DaifDaif

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ أَعِزَّ الإِسْلاَمَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ أَوْ بِعُمَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَصْبَحَ فَغَدَا عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَسْلَمَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُهُمْ فِي النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ وَهُوَ يَرْوِي مَنَاكِيرَ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اسلام کو ابوجہل بن ہشام یا عمر کے ذریعہ قوت عطا فرما“، پھر صبح ہوئی تو عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور اسلام لے آئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- بعض محدثین نے نضر ابوعمر کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے اور یہ منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں۔ ( لیکن حدیث رقم: ( ۳۶۹۰ ) سے اس کے مضمون کی تائید ہوتی ہے ) ۔

English Translation

Narrated Ibn 'Abbas:that the Prophet (ﷺ) said: "O Allah honor Islam through Abu Jahl bin Hisham or through 'Umar bin Al-Khattab." He said: "So it happened that 'Umar came the next day to the Messenger of Allah (ﷺ) and accepted Islam

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:79

Hadith #3684
MawduMawduDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْوَاسِطِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ أَخِي مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ عُمَرُ لأَبِي بَكْرٍ يَا خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَمَا إِنَّكَ إِنْ قُلْتَ ذَاكَ فَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ عَلَى رَجُلٍ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاكَ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر نے ابوبکر رضی الله عنہما سے کہا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہتر انسان! اس پر ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: سنو! اگر تم ایسا کہہ رہے ہو تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: عمر سے بہتر کسی آدمی پر سورج طلوع نہیں ہوا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اور اس کی سند قوی نہیں ہے، ۲- اس باب میں ابو الدرداء رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔

English Translation

Narrated Jabir bin 'Abdullah:that 'Umar said to Abu Bakr: "O best of people after the Messenger of Allah (ﷺ)!" So Abu Bakr said: "If you say that, then I have heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'The sun has not risen upon a man better than 'Umar

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:80

Hadith #3685
Sahih Isnaad MaqtuSahih Isnaad MaqtuDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ مَا أَظُنُّ رَجُلاً يَنْتَقِصُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يُحِبُّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں کسی کو نہیں سمجھتا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہو اور وہ ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کی تنقیص کرے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated Muhammad bin Sirin:"I don't think that a man who degrades Abu Bakr and 'Umar loves the Prophet (ﷺ)

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:81

Hadith #3686
HasanHasanHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ ‏.‏

Urdu Translation

عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف مشرح بن ہاعان کی روایت سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated 'Uqbah bin 'Amir:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "If there was to have a Prophet after me, it would have been 'Umar bin Al-Khattab

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:82

Hadith #3687
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ رَأَيْتُ كَأَنِّي أُتِيتُ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ مِنْهُ فَأَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ الْعِلْمَ ‏"‏ ‏.‏هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے خواب میں دیکھا گویا مجھے دودھ کا کوئی پیالہ دیا گیا جس میں سے میں نے کچھ پیا پھر میں نے اپنا بچا ہوا حصہ عمر بن خطاب کو دے دیا“، تو لوگ کہنے لگے اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپ نے فرمایا: ”اس کی تعبیر علم ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I saw that I was brought a cup of milk, so I drank from it, and I gave my leftover to 'Umar bin Al-Khattab.' They said: 'So what did you interpret it as O Messenger of Allah?' He said: '(It is) Knowledge

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:83

Hadith #3688
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ قَالُوا لِشَابٍّ مِنْ قُرَيْشٍ فَظَنَنْتُ أَنِّي أَنَا هُوَ فَقُلْتُ وَمَنْ هُوَ فَقَالُوا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنت کے اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میں ایک سونے کے محل میں ہوں، میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے کہا: قریش کے ایک نوجوان کا ہے، تو میں نے سوچا کہ وہ میں ہی ہوں گا، چنانچہ میں نے پوچھا کہ وہ نوجوان کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: وہ عمر بن خطاب ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Anas:that the Prophet (ﷺ) said: "I entered Paradise and it was as if I was in a palace of gold. So I said: 'Whose palace is this?' They said: 'A youth's, from the Quraish.' So I thought that I was him. I said: 'And who is he?' They said: "'Umar bin Al-Khattab

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:84

Hadith #3689
SahihSahihHasan SahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي بُرَيْدَةُ، قَالَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَعَا بِلاَلاً فَقَالَ ‏"‏ يَا بِلاَلُ بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَطُّ إِلاَّ سَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي دَخَلْتُ الْبَارِحَةَ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي فَأَتَيْتُ عَلَى قَصْرٍ مُرَبَّعٍ مُشَرَّفٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ فَقَالُوا لِرَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ فَقُلْتُ أَنَا عَرَبِيٌّ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ قَالُوا لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ قُلْتُ أَنَا قُرَشِيٌّ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ قَالُوا لِرَجُلٍ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ قُلْتُ أَنَا مُحَمَّدٌ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ قَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ بِلاَلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَذَّنْتُ قَطُّ إِلاَّ صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ وَمَا أَصَابَنِي حَدَثٌ قَطُّ إِلاَّ تَوَضَّأْتُ عِنْدَهَا وَرَأَيْتُ أَنَّ لِلَّهِ عَلَىَّ رَكْعَتَيْنِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بِهِمَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَمُعَاذٍ وَأَنَسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ رَأَيْتُ فِي الْجَنَّةِ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا فَقِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ أَنِّي دَخَلْتُ الْبَارِحَةَ الْجَنَّةَ يَعْنِي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ هَكَذَا رُوِيَ فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ ‏.‏ وَيُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ رُؤْيَا الأَنْبِيَاءِ وَحْىٌ ‏.‏

Urdu Translation

بریدہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک دن ) صبح کی تو بلال رضی الله عنہ کو بلایا اور پوچھا: ”بلال! کیا وجہ ہے کہ تم جنت میں میرے آگے آگے رہے؟ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں جنت میں داخل ہوا ہوں اور اپنے آگے تمہاری کھڑاؤں کی آواز نہ سنی ہو، آج رات میں جنت میں داخل ہوا تو ( آج بھی ) میں نے اپنے آگے تمہارے کھڑاؤں کی آواز سنی، پھر سونے کے ایک چوکور بلند محل پر سے گزرا تو میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے بیان کیا کہ یہ ایک عرب آدمی کا ہے، تو میں نے کہا: میں ( بھی ) عرب ہوں، بتاؤ یہ کس کا ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہ قریش کے ایک شخص کا ہے، میں نے کہا: میں ( بھی ) قریشی ہوں، بتاؤ یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ایک فرد کا ہے، میں نے کہا: میں محمد ہوں، یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: عمر بن خطاب کا ہے“، بلال رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں نے اذان دی ہو اور دو رکعتیں نہ پڑھی ہوں اور نہ کبھی ایسا ہوا ہے کہ مجھے حدث لاحق ہوا ہو اور میں نے اسی وقت وضو نہ کر لیا ہو اور یہ نہ سمجھا ہو کہ اللہ کے لیے میرے اوپر دو رکعتیں ( واجب ) ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں دونوں رکعتوں ( یا خصلتوں ) کی سے ( یہ مرتبہ حاصل ہوا ہے“ ۱؎ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں جابر، معاذ، انس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت میں سونے کا ایک محل دیکھا تو میں نے کہا: یہ کس کا ہے؟ کہا گیا: یہ عمر بن خطاب کا ہے“، ۳- حدیث کے الفاظ «أني دخلت البارحة الجنة» کا مفہوم یہ ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں جنت میں داخل ہوا ہوں، بعض روایتوں میں ایسا ہی ہے، ۴- ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: انبیاء کے خواب وحی ہیں۔

English Translation

Narrated Abu Buraidah:"The Messenger of Allah (ﷺ) awoke in the morning and called for Bilal, then said: 'O Bilal! By what have you preceded me to Paradise? I have not entered Paradise at all, except that I heard your footsteps before me. I entered Paradise last night, and I heard your footsteps before me, and I came upon a square palace having balconies made of gold. So I said: 'Whose palace is this?' They said: 'A man among the Arabs.' So I said: 'I am an Arab, whose palace is this?' They said: 'A man among the Quraish.' So I said: 'I am from the Quraish, whose palace is this?' They said: 'A man from the Ummah of Muhammad (ﷺ).' So I said: 'I am Muhammad, whose palace is this?' They said: ''Umar bin Al-Khattab's.' So Bilal said: 'O Allah's Messenger! I have never called the Adhan except that I prayed two Rak'ah, and I never committed Hadath except that I performed Wudu upon that, and I considered that I owed Allah two Rak'ah.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'For those two

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:85

Hadith #3690
SahihSahihHasan SahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ، يَقُولُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ جَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللَّهُ سَالِمًا أَنْ أَضْرِبَ بَيْنَ يَدَيْكَ بِالدُّفِّ وَأَتَغَنَّى ‏.‏ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنْ كُنْتِ نَذَرْتِ فَاضْرِبِي وَإِلاَّ فَلاَ ‏"‏ ‏.‏ فَجَعَلَتْ تَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَأَلْقَتِ الدُّفَّ تَحْتَ اسْتِهَا ثُمَّ قَعَدَتْ عَلَيْهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَخَافُ مِنْكَ يَا عُمَرُ إِنِّي كُنْتُ جَالِسًا وَهِيَ تَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ فَلَمَّا دَخَلْتَ أَنْتَ يَا عُمَرُ أَلْقَتِ الدُّفَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ بُرَيْدَةَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَائِشَةَ ‏.‏

Urdu Translation

بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ میں نکلے، پھر جب واپس آئے تو ایک سیاہ رنگ کی ( حبشی ) لونڈی نے آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کو بخیر و عافیت لوٹایا تو میں آپ کے سامنے دف بجاؤں گی اور گانا گاؤں گی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اگر تو نے نذر مانی تھی تو بجا لے ورنہ نہیں“ ۱؎، چنانچہ وہ بجانے لگی، اسی دوران ابوبکر رضی الله عنہ اندر داخل ہوئے اور وہ بجاتی رہی، پھر علی رضی الله عنہ داخل ہوئے اور وہ بجاتی رہی، پھر عثمان رضی الله عنہ داخل ہوئے اور وہ بجاتی رہی، پھر عمر رضی الله عنہ داخل ہوئے تو انہیں دیکھ کر اس نے دف اپنی سرین کے نیچے ڈال لی اور اسی پر بیٹھ گئی، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! تم سے شیطان بھی ڈرتا ہے ۲؎، میں بیٹھا ہوا تھا اور وہ بجا رہی تھی، اتنے میں ابوبکر اندر آئے تو بھی وہ بجاتی رہی، پھر علی اندر آئے تو بھی وہ بجاتی رہی، پھر عثمان اندر آئے تو بھی وہ بجاتی رہی، پھر جب تم داخل ہوئے اے عمر! تو اس نے دف پھینک ڈالی“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بریدہ کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں عمر، سعد بن ابی وقاص اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Buraidah:"The Messenger of Allah (ﷺ) went out for one of his expeditions, then when he came back, a black slave girl came to him and said: 'O Messenger of Allah! I took an oath that if Allah returned you safely, I would beat the Duff before you and sing.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said to her: 'If you have taken an oath, then beat it, and if you have not then do not.' So she started to beat the Duff, and Abu Bakr entered while she was beating it. Then 'Ali entered while she was beating it, then 'Uthman entered while she was beating it. Then 'Umar entered, so she put the Duff under her, and sat upon it. So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Indeed Ash-Shaitan is afraid of you O 'Umar! I was sitting while she beat it, and then Abu Bakr entered while she was beating it, then 'Ali entered while she was beating it, then 'Uthman entered while she was beating it, then when you entered O 'Umar and she put away the Duff

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:86

Hadith #3691
SahihSahihHasan SahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ الْبَزَّارُ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا فَسَمِعْنَا لَغَطًا وَصَوْتَ صِبْيَانٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا حَبَشِيَّةٌ تُزْفِنُ وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهَا فَقَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ تَعَالَىْ فَانْظُرِي ‏"‏ ‏.‏ فَجِئْتُ فَوَضَعْتُ لَحْيَىَّ عَلَى مَنْكِبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلْتُ أَنْظُرَ إِلَيْهَا مَا بَيْنَ الْمَنْكِبِ إِلَى رَأْسِهِ فَقَالَ لِي ‏"‏ أَمَا شَبِعْتِ أَمَا شَبِعْتِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَجَعَلْتُ أَقُولُ لاَ لأَنْظُرَ مَنْزِلَتِي عِنْدَهُ إِذْ طَلَعَ عُمَرُ قَالَ فَارْفَضَّ النَّاسُ عَنْهَا قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنِّي لأَنْظُرُ إِلَى شَيَاطِينِ الإِنْسِ وَالْجِنِّ قَدْ فَرُّوا مِنْ عُمَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَرَجَعْتُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے کہ اتنے میں ہم نے ایک شور سنا اور بچوں کی آواز سنی چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے تو دیکھا کہ ایک حبشی عورت ناچ رہی ہے اور بچے اسے گھیرے ہوئے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! آؤ، تم بھی دیکھ لو“، تو میں آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر اپنی ٹھوڑی رکھ کر آپ کے سر اور کندھے کے بیچ سے اسے دیکھنے لگی، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تو ابھی آسودہ نہیں ہوئی؟ کیا تو ابھی آسودہ نہیں ہوئی؟“ تو میں نے کہا کہ ابھی نہیں تاکہ میں دیکھوں کہ آپ کے دل میں میرا کتنا مقام ہے؟ اتنے میں عمر رضی الله عنہ آ گئے تو سب لوگ اس عورت کے پاس سے بھاگ کھڑے ہوئے، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنوں اور انسانوں کے شیطانوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ عمر کو دیکھ کر بھاگ گئے، پھر میں بھی لوٹ آئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated 'Aishah:that the Messenger of Allah (ﷺ) was sitting and we heard a scream and the voices of children. So the Messenger of Allah (ﷺ) arose, and it was an Ethiopian woman, prancing around while the children played around her. So he said: 'O 'Aishah, come (and) see.' So I came, and I put my chin upon the shoulder of the Messenger of Allah (ﷺ) and I began to watch her from between his shoulder and his head, and he said to me: 'Have you had enough, have you had enough?'" She said: "So I kept saying: 'No,' to see my status with him. Then 'Umar appeared." She said: "So they dispersed." She said: "So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Indeed I see the Shayatin among men and jinn have run from 'Umar.' She said: 'So I returned

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:87

Hadith #3692
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ آتِي أَهْلَ الْبَقِيعِ فَيُحْشَرُونَ مَعِي ثُمَّ أَنْتَظِرُ أَهْلَ مَكَّةَ حَتَّى أُحْشَرَ بَيْنَ الْحَرَمَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ لَيْسَ بِالْحَافِظِ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہو گی، پھر ابوبکر، پھر عمر رضی الله عنہما، ( سے زمین شق ہو گی ) پھر میں بقیع والوں کے پاس آؤں گا تو وہ میرے ساتھ اٹھائے جائیں گے، پھر میں مکہ والوں کا انتظار کروں گا یہاں تک کہ میرا حشر حرمین کے درمیان ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور عاصم بن عمر محدثین کے نزدیک حافظ نہیں ہیں۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "I am the first for whom the earth will split, then Abu Bakr, then 'Umar. Then the people of Al-Baqi; they will be gathered with me. Then I will await the people of Makkah until they are resurrected between the Two Sacred areas

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:88

Hadith #3693
Hasan SahihHasan SahihHasan SahihSahih - Bukhari And Muslim

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَدْ كَانَ يَكُونُ فِي الأُمَمِ مُحَدَّثُونَ فَإِنْ يَكُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.وَ أَخْبَرَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ مُحَدَّثُونَ يَعْنِي مُفَهَّمُونَ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگلی امتوں میں کچھ ایسے لوگ ہوتے تھے، جو «مُحدّث» ہوتے تھے ۱؎ اگر میری امت میں کوئی ایسا ہوا تو وہ عمر بن خطاب ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- مجھ سے سفیان کے کسی شاگرد نے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ نے کہا: «محدثون» وہ ہیں جنہیں دین کی فہم عطا کی گئی ہو۔

English Translation

Narrated 'Aishah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Among the nations, there used to be Muhaddathun (those who were given understanding), and if there were one in my nation, it would be 'Umar bin Al-Khattab

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:89

Hadith #3694
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ فَاطَّلَعَ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ فَاطَّلَعَ عُمَرُ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي مُوسَى وَجَابِرٍ ‏. هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس جنت والوں میں سے ایک شخص آ رہا ہے“ تو ابوبکر رضی الله عنہ آئے، پھر آپ نے فرمایا: ”تمہارے پاس جنت والوں میں سے ایک شخص آ رہا ہے“، تو عمر رضی الله عنہ آئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوموسیٰ اشعری اور جابر رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated 'Abdullah bin Mas'ud:that the Prophet (ﷺ) said: "A man among the inhabitants of Paradise will appear before you." So Abu Bakr appeared. Then he said: "A man among the inhabitants of Paradise will appear before you." So 'Umar appeared

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:90

Hadith #3695
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَرْعَى غَنَمًا لَهُ إِذْ جَاءَ ذِئْبٌ فَأَخَذَ شَاةً فَجَاءَ صَاحِبُهَا فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ فَقَالَ الذِّئْبُ كَيْفَ تَصْنَعُ بِهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ لاَ رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَآمَنْتُ بِذَلِكَ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ وَمَا هُمَا فِي الْقَوْمِ يَوْمَئِذٍ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دوران کہ ایک شخص اپنی بکریاں چرا رہا تھا، ایک بھیڑیا آیا اور ایک بکری پکڑ کر لے گیا تو اس کا مالک آیا اور اس نے اس سے بکری کو چھین لیا، تو بھیڑیا بولا: درندوں والے دن میں جس دن میرے علاوہ ان کا کوئی اور چرواہا نہیں ہو گا تو کیسے کرے گا؟“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس پر یقین کیا اور ابوبکر نے اور عمر نے بھی“، ابوسلمہ کہتے ہیں: حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:that the Prophet (ﷺ) said: "While a man was tending some of his sheep, a wolf came and took a sheep. So its owner came and retrieved it. The wolf said: 'What will you do for it on the Day of the Predator, the Day when there will be no shepherd for it other than me?'" The Messenger of Allah (ﷺ) said: "So I believe in that, I and Abu Bakr, and 'Umar." (One of the narrators) Abu Salamah said: "And the two of them were (present) not among the people that day

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:91

Hadith #3696
SahihSahihSahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ عَلَى حِرَاءَ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعَلِيٌّ وَعُثْمَانُ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ رضى الله عنهم فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اهْدَأْ إِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ ‏"‏ ‏.‏وَفِي الْبَابِ عَنْ عُثْمَانَ وَسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَبُرَيْدَةَ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر، علی، عثمان، طلحہ، اور زبیر رضی الله عنہم حرا پہاڑ ۱؎ پر تھے، تو وہ چٹان جس پر یہ لوگ تھے ہلنے لگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہری رہ، تجھ پر نبی، صدیق اور شہید ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں عثمان، سعید بن زید، ابن عباس، سہل بن سعد، انس بن مالک، اور بریرہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah [may Allah be pleased with him]:that the Messenger of Allah (ﷺ) was at Hira, him, Abu Bakr, 'Umar, 'Uthman, 'Ali, Talhah and Az-Zubair (may Allah be pleased with them all), and the boulder (mount Hira) shook. So the Prophet (ﷺ) said: "Be calm, for there is none upon you except a Prophet, or a Siddiq, or a martyr

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:92

Hadith #3697
SahihSahihHasan SahihSahih Bukhari

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَعِدَ أُحُدًا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اثْبُتْ أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے اور ابوبکر، عمر اور عثمان رضی الله عنہم بھی تو وہ ان کے ساتھ ہل اٹھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہرا رہ اے احد! تیرے اوپر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Anas:that the Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr, 'Umar, and 'Uthman climbed Uhud (mountain) and it shook them, so the Prophet of Allah (ﷺ) said: "Be firm O Uhud! For there is none upon you except a Prophet, a Siddiq, and two martyrs

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:93

Hadith #3698
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ شَيْخٍ، مِنْ بَنِي زُهْرَةَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ وَرَفِيقِي - يَعْنِي فِي الْجَنَّةِ عُثْمَانُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ ‏.‏

Urdu Translation

طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے، اور میرے رفیق یعنی جنت میں عثمان ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، اس کی سند قوی نہیں اور یہ منقطع ہے۔

English Translation

Narrated Talhah bin 'Ubaidullah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "For every Prophet there is a friend (Rafiq), and my friend" - meaning in Paradise - "is 'Uthman

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:94

Hadith #3699
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدٍ، هُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ فَوْقَ دَارِهِ ثُمَّ قَالَ أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ حِرَاءَ حِينَ انْتَفَضَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اثْبُتْ حِرَاءُ فَلَيْسَ عَلَيْكَ إِلاَّ نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏ قَالَ أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ ‏"‏ مَنْ يُنْفِقُ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً ‏"‏ ‏.‏ وَالنَّاسُ مُجْهَدُونَ مُعْسِرُونَ فَجَهَّزْتُ ذَلِكَ الْجَيْشَ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ بِئْرَ رُومَةَ لَمْ يَكُنْ يَشْرَبُ مِنْهَا أَحَدٌ إِلاَّ بِثَمَنٍ فَابْتَعْتُهَا فَجَعَلْتُهَا لِلْغَنِيِّ وَالْفَقِيرِ وَابْنِ السَّبِيلِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ وَأَشْيَاءُ عَدَّدَهَا ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عُثْمَانَ ‏.‏

Urdu Translation

ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ جب عثمان رضی الله عنہ کا محاصرہ کیا گیا تو انہوں نے اپنے مکان کے کوٹھے سے جھانک کر بلوائیوں کو دیکھا پھر کہا: میں تمہیں اللہ کا حوالہ دے کر یاد دلاتا ہوں: کیا تم جانتے ہو کہ حرا پہاڑ سے جس وقت وہ ہلا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”حرا ٹھہرے رہو! کیونکہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید کے علاوہ کوئی اور نہیں؟“، ان لوگوں نے کہا: ہاں، پھر عثمان رضی الله عنہ نے کہا: میں تمہیں اللہ کا حوالہ دے کر یاد لاتا ہوں، کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جیش عسرہ ( غزوہ تبوک ) کے سلسلے میں فرمایا تھا: ”کون ( اس غزوہ کا ) خرچ دے گا جو اللہ کے نزدیک مقبول ہو گا ( اور لوگ اس وقت پریشانی اور تنگی میں تھے ) “ تو میں نے ( خرچ دے کر ) اس لشکر کو تیار کیا؟، لوگوں نے کہا: ہاں، پھر عثمان رضی الله عنہ نے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یاد دلاتا ہوں: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بئررومہ کا پانی بغیر قیمت کے کوئی پی نہیں سکتا تھا تو میں نے اسے خرید کر غنی، محتاج اور مسافر سب کے لیے وقف کر دیا؟، لوگوں نے کہا: ہاں، ہمیں معلوم ہے اور اسی طرح اور بھی بہت سی چیزیں انہوں نے گنوائیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے یعنی ابوعبدالرحمٰن کی روایت سے جسے وہ عثمان سے روایت کرتے ہیں حسن صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated Abu 'Abdur-Rahman As-Sulami:"When 'Uthman was besieged, he looked out over them from atop his house and said: 'I remind you by Allah. Do you know that when (mount) Hira shook, the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Be firm O Hira! For there is none upon you except a Prophet, a Siddiq, and a martyr?"' They said: 'Yes.' He said: 'I remind you by Allah! Do you know that the Messenger of Allah (ﷺ) said, about the army of distress (Al-'Usrah): "Who will spend something which shall be accepted (by Allah)?" And the people were struggling during difficult times, so I prepared that army?' They said: 'Yes.' Then he said: 'I remind you by Allah. Do you know that no one drank from the well of Rumah but have to pay for it, then I bought it and made it for the rich, the poor, and the wayfarer?' They said: 'O Allah! Yes!'" And he listed other things. This Hadith is Hasan Sahih Gharib from this route; as a narration of Abu 'Abdur-Rahman As-Sulami from 'Uthman

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:95

Hadith #3700
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا السَّكَنُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، وَيُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ، مَوْلًى لآلِ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ فَرْقَدٍ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَبَّابٍ، قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَحُثُّ عَلَى جَيْشِ الْعُسْرَةِ فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَىَّ مِائَةُ بَعِيرٍ بِأَحْلاَسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏.‏ ثُمَّ حَضَّ عَلَى الْجَيْشِ فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَىَّ مِائَتَا بَعِيرٍ بِأَحْلاَسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏.‏ ثُمَّ حَضَّ عَلَى الْجَيْشِ فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِلَّهِ عَلَىَّ ثَلاَثُمِائَةِ بَعِيرٍ بِأَحْلاَسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏.‏ فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْزِلُ عَنِ الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ ‏ "‏ مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ السَّكَنِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ‏.‏

Urdu Translation

عبدالرحمن بن خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ جیش عسرہ ( غزوہ تبوک ) کے سامان کی لوگوں کو ترغیب دے رہے تھے، تو عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے: اللہ کے رسول! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے، آپ نے پھر اس کی ترغیب دلائی، تو عثمان پھر کھڑے ہوئے اور بولے: اللہ کے رسول! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں دو سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے، آپ نے پھر اسی کی ترغیب دی تو عثمان پھر کھڑے ہوئے اور بولے اللہ کے رسول! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں تین سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ منبر سے یہ کہتے ہوئے اتر رہے تھے کہ ”اب عثمان پر کوئی مواخذہ نہیں جو بھی کریں، اب عثمان پر کوئی مواخذہ نہیں جو بھی کریں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ہم اسے صرف سکن بن مغیرہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔

English Translation

Narrated 'Abdur-Rahman bin Khabbab:"I witnessed the Prophet (ﷺ) while he was exhorting support for the 'army of distress.' 'Uthman bin 'Affan stood and said: 'O Messenger of Allah! I will take the responsibility of one-hundred camels, including their saddles and water-skins, in the path of Allah.' Then he [(ﷺ) again] urged support for the army. So 'Uthman [bin 'Affan] stood and said: 'O Messenger of Allah! I will take the responsibility of two-hundred camels, including their saddles and water-skins, in the path of Allah.' Then he [(ﷺ) again] urged support for the army. So 'Uthman bin 'Affan stood and said: '[O Messenger of Allah] I will take the responsibility of three-hundred camels, including their saddles and water-skins, in the path of Allah.' So I saw the Messenger of Allah (ﷺ) descend from the Minbar while he was saying: 'It does not matter what 'Uthman does after this, it does not matter what 'Uthman does after this

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:96

Hadith #3701
HasanHasanHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ وَاقِعٍ الرَّمْلِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ كَثِيرٍ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ سَمُرَةَ، قَالَ جَاءَ عُثْمَانُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِأَلْفِ دِينَارٍ - قَالَ الْحَسَنُ بْنُ وَاقِعٍ وَكَانَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مِنْ كِتَابِي فِي كُمِّهِ حِينَ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَنَثَرَهَا فِي حِجْرِهِ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُقَلِّبُهَا فِي حِجْرِهِ وَيَقُولُ ‏ "‏ مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ ‏"‏ ‏.‏ مَرَّتَيْنِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عثمان رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہزار دینار لے کر آئے، ( حسن بن واقع جو راوی حدیث ہیں کہتے ہیں: دوسری جگہ میری کتاب میں یوں ہے کہ وہ اپنی آستین میں لے کر آئے ) ، جس وقت انہوں نے جیش عسرہ کو تیار کیا، اور اسے آپ کی گود میں ڈال دیا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے اپنی گود میں الٹتے پلٹتے دیکھا اور یہ کہتے سنا کہ آج کے بعد سے عثمان کو کوئی بھی برا عمل نقصان نہیں پہنچائے گا“، ایسا آپ نے دو بار فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated 'Abdur-Rahman bin Samurah:that 'Uthman went to the Prophet (ﷺ) with one-thousand Dinar" - Al-Hasan bin Waqi (one of the narrators) said: "And in another place in my book: 'In his garment when the 'army of distress' was being prepared. So he poured them into his lap.'" - 'Abdur-Rahman said: "So I saw the Prophet (ﷺ) turning them over in his lap, saying: 'Whatever 'Uthman does after today will not harm him,' two times

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:97

Hadith #3702
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِبَيْعَةِ الرِّضْوَانِ كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ فَبَايَعَ النَّاسَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ عُثْمَانَ فِي حَاجَةِ اللَّهِ وَحَاجَةِ رَسُولِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَضَرَبَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الأُخْرَى فَكَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعُثْمَانَ خَيْرًا مِنْ أَيْدِيهِمْ لأَنْفُسِهِمْ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیعت رضوان ۱؎ کا حکم دیا گیا تو عثمان بن عفان رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد بن کر اہل مکہ کے پاس گئے ہوئے تھے، جب آپ نے لوگوں سے بیعت لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عثمان اللہ اور اس کے رسول کے کام سے گئے ہوئے ہیں، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک کو دوسرے پر مارا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ جسے آپ نے عثمان کے لیے استعمال کیا لوگوں کے ہاتھوں سے بہتر تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:that when the Messenger of Allah (ﷺ) ordered the pledge of Ridwan, 'Uthman bin 'Affan was the messenger of the Messenger of Allah (ﷺ) to the people of Makkah. He said: "So the people gave the pledge." He said: "So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Indeed 'Uthman is busy with the affair of Allah and the affair of His Messenger' then he (ﷺ) put one of his hands on the other. The hand of the Messenger of Allah (ﷺ) on behalf of 'Uthman, was better than their own hands for themselves

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:98

Hadith #3703
HasanHasanHasanHasan

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ الْمَعْنَى، وَاحِدٌ، قَالُوا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ الْمِنْقَرِيِّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ قَالَ شَهِدْتُ الدَّارَ حِينَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ فَقَالَ ائْتُونِي بِصَاحِبَيْكُمُ اللَّذَيْنِ أَلَّبَاكُمْ عَلَىَّ ‏.‏ قَالَ فَجِيءَ بِهِمَا فَكَأَنَّهُمَا جَمَلاَنِ أَوْ كَأَنَّهُمَا حِمَارَانِ ‏.‏ قَالَ فَأَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ فَقَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالإِسْلاَمِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ يُسْتَعْذَبُ غَيْرَ بِئْرِ رُومَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ‏"‏ مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ فَيَجْعَلُ دَلْوَهُ مَعَ دِلاَءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا حَتَّى أَشْرَبَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ ‏.‏ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالإِسْلاَمِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمَسْجِدَ ضَاقَ بِأَهْلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ يَشْتَرِي بُقْعَةَ آلِ فُلاَنٍ فَيَزِيدُهَا فِي الْمَسْجِدِ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهَا رَكْعَتَيْنِ ‏.‏ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالإِسْلاَمِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّي جَهَّزْتُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ مِنْ مَالِي قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالإِسْلاَمِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ عَلَى ثَبِيرِ مَكَّةَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَنَا فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ حَتَّى تَسَاقَطَتْ حِجَارَتُهُ بِالْحَضِيضِ قَالَ فَرَكَضَهُ بِرِجْلِهِ وَقَالَ ‏"‏ اسْكُنْ ثَبِيرُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ شَهِدُوا لِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ أَنِّي شَهِيدٌ ثَلاَثًا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عُثْمَانَ ‏.‏

Urdu Translation

ثمامہ بن حزن قشیری کہتے ہیں کہ میں اس وقت گھر میں موجود تھا جب عثمان رضی الله عنہ نے کوٹھے سے جھانک کر انہیں دیکھا اور کہا تھا: تم میرے سامنے اپنے ان دونوں ساتھیوں کو لاؤ، جنہوں نے میرے خلاف تمہیں جمع کیا ہے، چنانچہ ان دونوں کو لایا گیا گویا وہ دونوں دو اونٹ تھے یا دو گدھے یعنی بڑے موٹے اور طاقتور، تو عثمان رضی الله عنہ نے انہیں جھانک کر دیکھا اور کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو یہاں بئررومہ کے علاوہ کوئی اور میٹھا پانی نہیں تھا جسے لوگ پیتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون بئررومہ کو جنت میں اپنے لیے اس سے بہتر چیز کے عوض خرید کر اپنے ڈول کو دوسرے مسلمانوں کے ڈول کے برابر کر دے گا؟“، یعنی اپنے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو بھی پینے کا برابر کا حق دے گا، تو میں نے اسے اپنے اصل مال سے خریدا اور آج تم مجھ ہی کو اس کے پینے سے روک رہے ہو، یہاں تک کہ میں سمندر کا ( کھارا ) پانی پی رہا ہوں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، یہی بات ہے، انہوں نے کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ مسجد لوگوں کے لیے تنگ ہو گئی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون آل فلاں کی زمین کے ٹکڑے کو اپنے لیے جنت میں اس سے بہتر چیز کے عوض خرید کر اسے مسجد میں شامل کر دے گا؟“، تو میں نے اسے اپنے اصل مال سے خریدا اور آج تم مجھ ہی کو اس میں دو رکعت نماز پڑھنے نہیں دے رہے ہو، لوگوں نے کہا: ہاں، بات یہی ہے، پھر انہوں نے کہا: میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر تم سے پوچھتا ہوں: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے پہاڑ ثبیر پر تھے اور آپ کے ساتھ ابوبکر، عمر رضی الله عنہما تھے اور میں تھا، تو پہاڑ لرزنے لگا، یہاں تک کہ اس کے کچھ پتھر نیچے کھائی میں گرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پیر سے مار کر فرمایا: ”ٹھہر اے ثبیر! تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہیدوں کے سوا کوئی اور نہیں“، لوگوں نے کہا: ہاں بات یہی ہے۔ تو انہوں نے کہا: اللہ اکبر! قسم ہے رب کعبہ کی! ان لوگوں نے میرے شہید ہونے کی گواہی دے دی، یہ جملہ انہوں نے تین بار کہا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور عثمان سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ سے بھی آئی ہے۔

English Translation

Narrated Thumamah bin Hazn Al-Qushairi:"I was present at the house when 'Uthman appeared above them saying: 'Bring me your two companions who have gathered you against me.'" He said: "So they were brought as if they were two camels, or as if they were two donkeys." He said: "'Uthman appeared above them and said: 'I ask you by Allah and Islam! Do you know that the Messenger of Allah (ﷺ) came to Al-Madinah and there was no water in it that was sweet except the well of Rumah, so the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Who will purchase the well of Rumah and place his bucket alongside the buckets of the Muslims, in exchange for better than that in Paradise?' So I bought it with the core of my wealth, and today you prevent me from drinking from it, so that I would have to drink from the water of the sea?' They said: 'O Allah! Yes!' He said: 'I ask you by Allah and Islam! Do you know that the Masjid, was insufficient for its people, so the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Who will purchase the land of the family of so-and-so, and add it to the Masjid in exchange for better than that in Paradise?' So I bought it with the core of my wealth, and today you prevent me from praying two Rak'ah in it?' They said: 'O Allah! Yes.' He said: 'I ask you by Allah and Islam! Do you know that I prepared the 'army of distress' from my wealth?' They said: 'O Allah! Yes!' Then he said: 'I ask you by Allah and Islam! Do you know that the Messenger of Allah (ﷺ) was on (mount) Thabir of Makkah, and with him was Abu Bakr, and 'Umar, and myself. The mountain began shaking until its rocks fell to its bottom.' He said: 'So he (ﷺ) stomped it with his foot and said: "Be still O Thabir! For there is none upon except a Prophet, a Siddiq and two martyrs?"' They said: 'O Allah! Yes!' He said: 'Allah is Great! Bear witness by the Lord of the Ka'bah that I am a martyr!' - three times

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:99

Hadith #3704
SahihSahihHasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، أَنَّ خُطَبَاءَ، قَامَتْ بِالشَّامِ وَفِيهِمْ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ آخِرُهُمْ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ فَقَالَ لَوْلاَ حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا قُمْتُ ‏.‏ وَذَكَرَ الْفِتَنَ فَقَرَّبَهَا فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ فِي ثَوْبٍ فَقَالَ هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ‏.‏ قَالَ فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ فَقُلْتُ هَذَا قَالَ نَعَمْ ‏.هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ وَكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ‏.‏

Urdu Translation

ابواشعث صنعانی سے روایت ہے کہ مقررین ملک شام میں تقریر کے لیے کھڑے ہوئے، ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بھی کچھ لوگ تھے، پھر سب سے آخر میں ایک شخص کھڑا ہوا جسے مرہ بن کعب رضی الله عنہ کہا جاتا تھا، اس نے کہا: اگر میں نے ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنی ہوتی تو میں کھڑا نہ ہوتا، پھر انہوں نے فتنوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس کا ظہور قریب ہے، پھر ایک شخص منہ پر کپڑا ڈالے ہوئے گزرا تو مرہ نے کہا: یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نقل کیا: ”یہ اس دن ہدایت پر ہو گا“، تو میں اسے دیکھنے کے لیے اس کی طرف اٹھا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ عثمان بن عفان رضی الله عنہ ہیں، پھر میں نے ان کا منہ مرہ کی طرف کر کے کہا: وہ یہی ہیں، انہوں نے کہا: ہاں وہ یہی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۲- اس باب میں ابن عمر، عبداللہ بن حوالہ اور کعب بن عجرۃ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Abu Al-Ash'ath As-Sana'ani:"Some people were delivering Khutbah in Ash-Sham, and among them were Companions of the Prophet (ﷺ). So the last of them, a man called Murrah bin Ka'b, stood, and he said: 'If it were not for a Hadith I heard from the Messenger of Allah (ﷺ), I would not have stood (to address you). He (ﷺ) mentioned the tribulations, and that they would be coming soon. Then a man who was concealed by a garment passed by. So he said: "This one will be upon guidance that day." So I went towards him, and it was 'Uthman bin 'Affan. I turned, facing him, and I said: "This one?" He said: "Yes

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:100

Hadith #3705
SahihSahihSahih

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَا عُثْمَانُ إِنَّهُ لَعَلَّ اللَّهَ يُقَمِّصُكَ قَمِيصًا فَإِنْ أَرَادُوكَ عَلَى خَلْعِهِ فَلاَ تَخْلَعْهُ لَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عثمان! شاید اللہ تمہیں کوئی کرتا ۱؎ پہنائے، اگر لوگ اسے اتارنا چاہیں تو تم اسے ان کے لیے نہ اتارنا“، اس میں حدیث ایک طویل قصہ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated 'Aishah:that the Prophet (ﷺ) said: "O 'Uthman! Indeed Allah may give you a shirt, and if they wish that you take it off, do not take it off for them

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:101

Hadith #3706
SahihSahihHasan SahihSahih Bukhari

حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَهْلِ مِصْرَ حَجَّ الْبَيْتَ فَرَأَى قَوْمًا جُلُوسًا فَقَالَ مَنْ هَؤُلاَءِ قَالُوا قُرَيْشٌ ‏.‏ قَالَ فَمَنْ هَذَا الشَّيْخُ قَالُوا ابْنُ عُمَرَ ‏.‏ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ شَيْءٍ فَحَدِّثْنِي أَنْشُدُكَ اللَّهَ بِحُرْمَةِ هَذَا الْبَيْتِ أَتَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ فَرَّ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ أَتَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَمْ يَشْهَدْهَا قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ أَتَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ يَوْمَ بَدْرٍ فَلَمْ يَشْهَدْ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ تَعَالَ أُبَيِّنْ لَكَ مَا سَأَلْتَ عَنْهُ أَمَّا فِرَارُهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ عَفَا عَنْهُ وَغَفَرَ لَهُ وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ يَوْمَ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَتْ عِنْدَهُ - أَوْ تَحْتَهُ - ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَكَ أَجْرُ رَجُلٍ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمُهُ ‏"‏ ‏.‏ وَأَمَرَهُ أَنْ يَخْلُفَ عَلَيْهَا وَكَانَتْ عَلِيلَةً وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَانَ عُثْمَانَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عُثْمَانَ إِلَى مَكَّةَ وَكَانَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ الْيُمْنَى ‏"‏ هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ ‏"‏ ‏.‏ وَضَرَبَ بِهَا عَلَى يَدِهِ فَقَالَ ‏"‏ هَذِهِ لِعُثْمَانَ ‏"رضى الله عنه‏ ‏.‏ قَالَ لَهُ اذْهَبْ بِهَذَا الآنَ مَعَكَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عثمان بن عبداللہ بن موہب سے روایت ہے کہ اہل مصر میں سے ایک شخص نے بیت اللہ کا حج کیا تو اس نے کچھ لوگوں کو بیٹھے دیکھا تو پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے بتایا یہ قبیلہ قریش کے لوگ ہیں، اس نے کہا: یہ کون شیخ ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ابن عمر رضی الله عنہما ہیں تو وہ ان کے پاس آیا اور بولا: میں آپ سے ایک چیز پوچھ رہا ہوں آپ مجھے بتائیے، میں آپ سے اس گھر کی حرمت کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ کو معلوم ہے کہ عثمان رضی الله عنہ احد کے دن بھاگے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر اس نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بیعت رضوان کے وقت موجود نہیں تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر اس نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر میں موجود نہیں تھے، تمہارے انہوں نے کہا: ہاں، اس مصری نے ازراہ تعجب اللہ اکبر کہا ۱؎، اس پر ابن عمر رضی الله عنہما نے اس سے کہا: آؤ میں تیرے سوالوں کو تم پر واضح کر دوں: رہا ان ( عثمان ) کا احد کے دن بھاگنا ۲؎ تو تو گواہ رہ کہ اللہ نے اسے معاف کر دیا اور بخش دیا ہے ۳؎ اور رہی بدر کے دن، ان کی غیر حاضری تو ان کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: ”تمہیں اس آدمی کے برابر ثواب اور اس کے برابر مال غنیمت میں سے حصہ ملے گا، جو بدر میں حاضر ہو گا“، اور رہی ان کی بیعت رضوان سے غیر حاضری تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر عثمان سے بڑھ کر وادی مکہ میں کوئی باعزت ہوتا تو عثمان رضی الله عنہ کی جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کو بھیجتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان کو مکہ بھیجا اور بیعت رضوان عثمان کے مکہ جانے کے بعد ہوئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”یہ عثمان کا ہاتھ ہے“، اور اسے اپنے دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: ”یہ عثمان کی طرف سے بیعت ہے“، تو ابن عمر رضی الله عنہما نے اس سے کہا: اب یہ جواب تو اپنے ساتھ لیتا جا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated 'Uthman bin 'Abdullah bin Mawhab:"A man among the people of Egypt performed Hajj to the House, and saw a group sitting, so he said: 'Who are these?' They said: 'The Quraish.' He said: 'So who is this old man?' They said: 'Ibn 'Umar.' So he went to him and said: 'I will ask you about something, so inform me. I ask you by Allah! By the sanctity of this House! Do you know that 'Uthman fled on the Day of (the battle of) Uhud?' He said: 'Yes.' He said: 'Do you know that he was absent from the Pledge of Ar-Ridwan, that he did not witness it?' He said: 'Yes.' He said: 'Do you know that he was absent on the Day of (the battle of) Badr and did not participate in it?' He said: 'Yes.' So he said: 'Allah is Great' So Ibn 'Umar said to him: 'Come, so I can clarify to you what you have asked about. As for his fleeing on the Day of (the battle of) Uhud, then I bear witness that Allah has pardoned him and forgiven him. As for his being absent on the Day of (the battle of) Badr, then he was married to the daughter of the Messenger of Allah (ﷺ). So the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: "You have the reward of a man who participated in (the battle of) Badr, and his share (spoils of war)." [And he ordered him to stay behind with her, as she was ill]. As for his being absent from the Pledge of Ar-Ridwan, then if there was anyone more revered in Makkah than 'Uthman, then the Messenger of Allah (ﷺ) would have sent him instead of 'Uthman. The Messenger of Allah (ﷺ) sent 'Uthman [to Makkah], and the Pledge of Ar-Ridwan was after 'Uthman had departed for Makkah." He said: "So the Messenger of Allah (ﷺ) said with his right hand: "This is the hand of 'Uthman," and he put it upon his own hand, and said: "This is for 'Uthman."' He said to him: "Go now, and take this (clarification) with you

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:102

Hadith #3707
SahihSahihHasan SahihSahih Bukhari

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَىٌّ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کہتے تھے: ”ابوبکر، عمر، اور عثمان ۱؎۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:"While the Messenger of Allah (ﷺ) was alive, we used to say: 'Abu Bakr, and (then) 'Umar, and (then) 'Uthman

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:103

Hadith #3708
Hasan IsnaadHasan IsnaadHasanDaif

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا شَاذَانُ الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ هَارُونَ الْبُرْجُمِيِّ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِتْنَةً فَقَالَ ‏ "‏ يُقْتَلُ فِيهَا هَذَا مَظْلُومًا ‏"‏ ‏.‏ لِعُثْمَانَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فتنہ کا ذکر کیا تو فرمایا: ”اس فتنہ میں یہ عثمان بھی مظلوم قتل کیا جائے گا“ ( یہ بات آپ نے عثمان رضی الله عنہ کے متعلق کہی ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن عمر رضی الله عنہما کی یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) mentioned the Fitnah and said: "This one will be wrongfully killed during it," about 'Uthman bin 'Affan [may Allah be pleased with him]

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:104

Hadith #3709
MawduMawduDaif

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الْبَغْدَادِيُّ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ زُفَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِجَنَازَةِ رَجُلٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْنَاكَ تَرَكْتَ الصَّلاَةَ عَلَى أَحَدٍ قَبْلَ هَذَا قَالَ ‏ "‏ إِنَّهُ كَانَ يَبْغَضُ عُثْمَانَ فَأَبْغَضَهُ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ صَاحِبُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ جِدًّا وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ صَاحِبُ أَبِي هُرَيْرَةَ هُوَ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ وَيُكْنَى أَبَا الْحَارِثِ وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الأَلْهَانِيُّ صَاحِبُ أَبِي أُمَامَةَ ثِقَةٌ يُكْنَى أَبَا سُفْيَانَ شَامِيٌّ ‏.‏

Urdu Translation

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس پر نماز جنازہ پڑھیں تو آپ نے اس پر نماز نہیں پڑھی، آپ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اس سے پہلے ہم نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی پر جنازہ کی نماز نہ پڑھی ہو؟ آپ نے فرمایا: ”یہ عثمان سے بغض رکھتا تھا، تو اللہ نے اسے مبغوض کر دیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- میمون بن مہران کے شاگرد محمد بن زیادہ حدیث میں بہت ضعیف گردانے جاتے ہیں ۱؎، اور محمد بن زیاد جو ابوہریرہ رضی الله عنہ کے شاگرد ہیں یہ بصریٰ ہیں اور ثقہ ہیں، ان کی کنیت ابوحارث ہے اور محمد بن زیاد الہانی جو ابوامامہ کے شاگرد ہیں، ثقہ ہیں، ان کی کنیت ابوسفیان ہے، یہ شامی ہیں۔

English Translation

Narrated Jabir:that the Prophet (ﷺ) was brought the body of a deceased man, to perform Salat for him, but he did not pray over him. It was said: "O Messenger of Allah! We have not seen you avoiding prayer over anyone before this?" He said: "He used to hate 'Uthman, so Allah hates him

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:105

Hadith #3710
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ حَائِطًا لِلأَنْصَارِ فَقَضَى حَاجَتَهُ فَقَالَ لِي ‏"‏ يَا أَبَا مُوسَى أَمْلِكْ عَلَىَّ الْبَابَ فَلاَ يَدْخُلَنَّ عَلَىَّ أَحَدٌ إِلاَّ بِإِذْنٍ ‏"‏ ‏.‏ فَجَاءَ رَجُلٌ يَضْرِبُ الْبَابَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ فَدَخَلَ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ وَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَضَرَبَ الْبَابَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ عُمَرُ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ فَفَتَحْتُ الْبَابَ وَدَخَلَ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ فَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَضَرَبَ الْبَابَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ عُثْمَانُ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَابْنِ عُمَرَ ‏.‏

Urdu Translation

ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا، آپ انصار کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور اپنی حاجت پوری کی، پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: ”ابوموسیٰ! تم دروازہ پر رہو کوئی بغیر اجازت کے اندر داخل نہ ہونے پائے“، پھر ایک شخص نے آ کر دروازہ کھٹکھٹایا، تو میں نے کہا: کون ہے؟ انہوں نے کہا: ابوبکر ہوں، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ابوبکر اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”انہیں آنے دو، اور انہیں جنت کی بشارت دے دو“، چنانچہ وہ اندر آئے اور میں نے انہیں جنت کی بشارت دی، پھر ایک دوسرے شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا، میں نے کہا: کون ہے؟ انہوں نے کہا: عمر ہوں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ عمر اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”ان کے لیے دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو“، چنانچہ میں نے دروازہ کھول دیا، وہ اندر آ گئے، اور میں نے انہیں جنت کی بشارت دے دی، پھر ایک تیسرے شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا، تو میں نے کہا: کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: عثمان ہوں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ عثمان اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”ان کے لیے بھی دروازہ کھول دو اور انہیں بھی جنت کی بشارت دے دو، ساتھ ہی ایک آزمائش کی جو انہیں پہنچ کر رہے گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی ابوعثمان نہدی سے آئی ہے، ۳- اس باب میں جابر اور ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Abu Musa Al-Ash'ari:"I went with the Prophet (ﷺ) and he entered a garden of the Ansar, and he relieved himself. He said to me: 'O Abu Musa! Watch the gate for me, and do not let anyone enter except with permission.' Then a man came and knocked at the gate, so I said: 'Who is it?' He said: 'Abu Bakr.' So I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ)! It is Abu Bakr asking permission?' He said: 'Give him permission and give him the glad tidings of Paradise.' So he entered, and I gave him the glad tidings of Paradise. Another man came and knocked at the gate. I said: 'Who is it?' He said: "'Umar.' So I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ)! It is 'Umar asking permission?' He said: 'Open it for him, and give him the glad tidings of Paradise.' I opened [the gate], he entered, and I gave him the glad tidings of Paradise. Then another man knocked at the gate. I said: 'Who is it?' So he said: ''Uthman.' I said: 'O Messenger of Allah! It is 'Uthman asking permission.' He said: 'Open it for him, and give him the glad tidings of Paradise due to a calamity that will befall him

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:106

Hadith #3711
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَهْلَةَ، قَالَ قَالَ لِي عُثْمَانُ يَوْمَ الدَّارِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ عَهِدَ إِلَىَّ عَهْدًا فَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ‏.‏

Urdu Translation

ابوسہلہ کا بیان ہے کہ عثمان رضی الله عنہ نے مجھ سے جس دن وہ گھر میں محصور تھے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد لیا تھا اور میں اس عہد پر صابر یعنی قائم ہوں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسماعیل بن ابی خالد کی روایت سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated Abu Sahlah:"The day of the house (when he was besieged), 'Uthman said: 'Indeed the Messenger of Allah (ﷺ) took a covenant from me, and I will abide by it

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:107

Hadith #3712
SahihSahihHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَيْشًا وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَمَضَى فِي السَّرِيَّةِ فَأَصَابَ جَارِيَةً فَأَنْكَرُوا عَلَيْهِ وَتَعَاقَدَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا إِذَا لَقِينَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرْنَاهُ بِمَا صَنَعَ عَلِيٌّ وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِذَا رَجَعُوا مِنَ السَّفَرِ بَدَءُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ ثُمَّ انْصَرَفُوا إِلَى رِحَالِهِمْ فَلَمَّا قَدِمَتِ السَّرِيَّةُ سَلَّمُوا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ أَحَدُ الأَرْبَعَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ صَنَعَ كَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَامَ الثَّانِي فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ الثَّالِثُ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَامَ الرَّابِعُ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالُوا فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْغَضَبُ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ ‏ "‏ مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ بَعْدِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ ‏.‏

Urdu Translation

عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ ( لشکر ) روانہ کیا اور اس لشکر کا امیر علی رضی الله عنہ کو مقرر کیا، چنانچہ وہ اس سریہ ( لشکر ) میں گئے، پھر ایک لونڈی سے انہوں نے جماع کر لیا ۱؎ لوگوں نے ان پر نکیر کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے چار آدمیوں نے طے کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب ہم ملیں گے تو علی نے جو کچھ کیا ہے اسے ہم آپ کو بتائیں گے، اور مسلمان جب سفر سے لوٹتے تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے اور آپ کو سلام کرتے تھے، پھر اپنے گھروں کو جاتے، چنانچہ جب یہ سریہ واپس لوٹ کر آیا اور لوگوں نے آپ کو سلام کیا تو ان چاروں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ علی نے ایسا ایسا کیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، پھر دوسرا کھڑا ہوا تو دوسرے نے بھی وہی بات کہی جو پہلے نے کہی تھی تو آپ نے اس سے بھی منہ پھیر لیا، پھر تیسرا شخص کھڑا ہوا اس نے بھی وہی بات کہی، تو اس سے بھی آپ نے منہ پھیر لیا، پھر چوتھا شخص کھڑا ہوا تو اس نے بھی وہی بات کہی جو ان لوگوں نے کہی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ کے چہرے سے ناراضگی ظاہر تھی۔ آپ نے فرمایا: ”تم لوگ علی کے سلسلہ میں کیا چاہتے ہو؟ تم لوگ علی کے سلسلہ میں کیا چاہتے ہو؟ علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں ۱؎ اور وہ دوست ہیں ہر اس مومن کا جو میرے بعد آئے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف جعفر بن سلیمان کی روایت سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated 'Imran bin Husain:that the Messenger of Allah (ﷺ) dispatched an army and he put 'Ali bin Abi Talib in charge of it. He left on the expedition and he entered upon a female slave. So four of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) scolded him, and they made a pact saying: "[If] we meet the Messenger of Allah (ﷺ) we will inform him of what 'Ali did." When the Muslims returned from the journey, they would begin with the Messenger of Allah (ﷺ) and give him Salam, then they would go to their homes. So when the expedition arrived, they gave Salam to the Prophet (ﷺ), and one of the four stood saying: "O Messenger of Allah! Do you see that 'Ali bin Abi Talib did such and such." The Messenger of Allah (ﷺ) turned away from him. Then the second one stood and said as he said, and he turned away from him. Then the third stood before him, and said as he said, and he turned away from him. Then the fourth stood and said as they had said. The Messenger of Allah (ﷺ) faced him, and the anger was visible on his face, he said: "What do you want from 'Ali?! What do you want from 'Ali?! What do you want from 'Ali?! Indeed 'Ali is from me, and I am from him, and he is the ally of every believer after me

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:108

Hadith #3713
SahihSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَرِيْحَةَ، أَوْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ شَكَّ شُعْبَةُ - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ كُنْتُ مَوْلاَهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَأَبُو سَرِيحَةَ هُوَ حُذَيْفَةُ بْنُ أَسِيدٍ صَاحِبُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Urdu Translation

ابوسریحہ یا زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا میں دوست ہوں علی بھی اس کے دوست ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- شعبہ نے یہ حدیث میمون ابوعبداللہ سے اور میمون نے زید بن ارقم سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور ابوسریحہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حذیفہ بن اسید غفاری ہیں۔

English Translation

Narrated Abu Sarihah, or Zaid bin Arqam - Shu'bah had doubt:from the Prophet (ﷺ): "For whomever I am his Mawla then 'Ali is his Mawla

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:109

Hadith #3714
Very DaifVery DaifDaif

حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ، زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ، سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ زَوَّجَنِي ابْنَتَهُ وَحَمَلَنِي إِلَى دَارِ الْهِجْرَةِ وَأَعْتَقَ بِلاَلاً مِنْ مَالِهِ رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ يَقُولُ الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا تَرَكَهُ الْحَقُّ وَمَالَهُ صَدِيقٌ رَحِمَ اللَّهُ عُثْمَانَ تَسْتَحْيِيهِ الْمَلاَئِكَةُ رَحِمَ اللَّهُ عَلِيًّا اللَّهُمَّ أَدِرِ الْحَقَّ مَعَهُ حَيْثُ دَارَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَالْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ كَثِيرُ الْغَرَائِبِ وَأَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ التَّيْمِيُّ كُوفِيٌّ وَهُوَ ثِقَةٌ ‏.‏

Urdu Translation

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے، انہوں نے اپنی لڑکی سے میری شادی کر دی اور مجھے دارلہجرۃ ( مدینہ ) لے کر آئے اور بلال کو اپنے مال سے ( خرید کر ) آزاد کیا، اللہ تعالیٰ عمر پر رحم فرمائے وہ حق بات کہتے ہیں، اگرچہ وہ کڑوی ہو، حق نے انہیں ایسے حال میں چھوڑا ہے کہ ( اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ ) ان کا کوئی دوست نہیں، اللہ عثمان پر رحم کرے ان سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں، اللہ علی پر رحم فرمائے، اے اللہ! حق کو ان کے ساتھ پھیر جہاں وہ پھریں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- مختار بن نافع کثیر الغرائب اور بصریٰ شیخ ہیں، ۳- ابوحیان تیمی کا نام یحییٰ بن سعید بن حیان تیمی ہے اور یہ کوفی ہیں اور ثقہ ہیں۔

English Translation

Narrated 'Ali bin Abi Talib:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "May Allah have mercy upon Abu Bakr, he married me to his daughter, and he carried me to the land of Hijrah, and he freed Bilal with his wealth. May Allah have mercy upon 'Umar, he says the truth even if it is sour. The truth caused him to be left without a friend. May Allah have mercy upon 'Uthman, the angels are shy of him. May Allah have mercy upon 'Ali. O Allah! Place the truth with him wherever he turns

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:110

Hadith #3715
Daif IsnaadDaif IsnaadHasan SahihDaif

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، بِالرَّحَبَةِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ خَرَجَ إِلَيْنَا نَاسٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو وَأُنَاسٌ مِنْ رُؤَسَاءِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجَ إِلَيْكَ نَاسٌ مِنْ أَبْنَائِنَا وَإِخْوَانِنَا وَأَرِقَّائِنَا وَلَيْسَ لَهُمْ فِقْهٌ فِي الدِّينِ وَإِنَّمَا خَرَجُوا فِرَارًا مِنْ أَمْوَالِنَا وَضِيَاعِنَا فَارْدُدْهُمْ إِلَيْنَا ‏.‏ ‏"‏ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ فِقْهٌ فِي الدِّينِ سَنُفَقِّهُهُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ لَتَنْتَهُنَّ أَوْ لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مَنْ يَضْرِبُ رِقَابَكُمْ بِالسَّيْفِ عَلَى الدِّينِ قَدِ امْتَحَنَ اللَّهُ قَلْبَهُ عَلَى الإِيمَانِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَالَ عُمَرُ مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ هُوَ خَاصِفُ النَّعْلِ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ أَعْطَى عَلِيًّا نَعْلَهُ يَخْصِفُهَا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا عَلِيٌّ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ كَذَبَ عَلَىَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ رِبْعِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ ‏.‏ وَسَمِعْتُ الْجَارُودَ يَقُولُ سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ لَمْ يَكْذِبْ رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ فِي الإِسْلاَمِ كِذْبَةً ‏.‏ وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ أَثْبَتُ أَهْلِ الْكُوفَةِ ‏.‏

Urdu Translation

ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ ہم سے علی بن ابوطالب رضی الله عنہ نے «رحبیہ» ( مخصوص بیٹھک ) میں بیان کیا، حدیبیہ کے دن مشرکین میں سے کچھ لوگ ہماری طرف نکلے، ان میں سہیل بن عمرو اور مشرکین کے کچھ اور سردار بھی تھے یہ سب آ کر کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہمارے بیٹوں، بھائیوں اور غلاموں میں سے کچھ آپ کی طرف نکل کر آ گئے ہیں، انہیں دین کی سمجھ نہیں وہ ہمارے مال اور سامانوں کے درمیان سے بھاگ آئے ہیں، آپ انہیں واپس کر دیجئیے اگر انہیں دین کی سمجھ نہیں تو ہم انہیں سمجھا دیں گے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے گروہ قریش! تم اپنی نفسیانیت سے باز آ جاؤ ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر ایسے شخص کو بھیجے گا جو تمہاری گردنیں اسی دین کی خاطر تلوار سے اڑائے گا، اللہ نے اس کے دل کو ایمان کے لیے جانچ لیا ہے، لوگوں نے عرض کیا: وہ کون شخص ہے؟ اللہ کے رسول! اور آپ سے ابوبکر رضی الله عنہ نے بھی پوچھا: وہ کون ہے اللہ کے رسول؟ اور عمر رضی الله عنہ نے بھی کہ وہ کون ہے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: ”وہ جوتی ٹانکنے والا ہے، اور آپ نے علی رضی الله عنہ کو اپنا جوتا دے رکھا تھا، وہ اسے ٹانک رہے تھے، ( راوی کہتے ہیں ) پھر علی رضی الله عنہ ہماری جانب متوجہ ہوئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو میرے اوپر جھوٹ باندھے اسے چاہیئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم کو بنا لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف ربعی ہی کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ علی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں، ۲- میں نے جارود سے سنا وہ کہہ رہے تھے: میں نے وکیع کو کہتے ہوئے سنا کہ ربعی بن حراش نے اسلام میں کبھی کوئی جھوٹ نہیں بولا، ۳- اور مجھے محمد بن اسماعیل بخاری نے خبر دی اور وہ عبداللہ بن ابی اسود سے روایت کر رہے تھے، وہ کہتے ہیں: میں نے عبدالرحمٰن بن مہدی کو کہتے سنا: منصور بن معتمر اہل کوفہ میں سب سے ثقہ آدمی ہیں۔

English Translation

Narrated Rib'i bin Hirash:"At Ar-Rahbah, 'Ali narrated to us: 'On the Day of (the Pledge of) Hudaibiyah, some people from the idolaters came out to us. Among them was Suhail bin 'Amr, and some people among the heads of the idolaters. They said: "O Messenger of Allah! People among our fathers, brothers, and slaves have come to you, and they have no knowledge of the religion, rather they came fleeing from our wealth and property, so return them to us. If they do not have knowledge of the religion, then we will teach them." So the Prophet (ﷺ) said: "O people of Quraish, you will desist, or Allah will send upon you one who will chop your necks with the sword over the religion. Allah has tested their hearts regarding faith." They said: "Who is he O Messenger of Allah?" Abu Bakr said to him: "Who is he O Messenger of Allah?" 'Umar said to him: "Who is he O Messenger of Allah?" He said: "He is the one repairing the sandals." - And he had given 'Ali his sandals to repair them. - He said: "Then 'Ali turned to us and said: 'Indeed the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever lies upon me intentionally, then let him take his seat in the Fire

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:111

Hadith #3716
Hasan SahihSahih Bukhari

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ إِسْرَائِيلَ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ‏ "‏ أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی سے فرمایا: ”تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں اور اس حدیث میں ایک واقعہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Al-Bara bin 'Azib:that the Prophet (ﷺ) said to 'Ali bin Abi Talib: "You are from me, and I am from you." And there is a story along with this Hadith

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:112

Hadith #3717
Very Daif IsnaadVery Daif IsnaadHasan

Urdu Translation

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم گروہ انصار، منافقوں کو علی رضی الله عنہ سے ان کے بغض رکھنے کی وجہ سے خوب پہچانتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابوہارون کی روایت سے جانتے ہیں اور شعبہ نے ابوہارون کے سلسلہ میں کلام کیا ہے، ۲- یہ حدیث اعمش سے بھی روایت کی گئی ہے، جسے انہوں نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے۔

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:113

Hadith #3718
DaifDaifHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ ابْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي بِحُبِّ أَرْبَعَةٍ وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِّهِمْ لَنَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ عَلِيٌّ مِنْهُمْ يَقُولُ ذَلِكَ ثَلاَثًا وَأَبُو ذَرٍّ وَالْمِقْدَادُ وَسَلْمَانُ أَمَرَنِي بِحُبِّهِمْ وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ ‏"‏ ‏.‏هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ ‏.‏

Urdu Translation

بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے مجھے چار شخصوں سے محبت کا حکم دیا ہے، اور مجھے بتایا ہے کہ وہ بھی ان سے محبت کرتا ہے“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہمیں ان کا نام بتا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”علی انہیں میں سے ہیں“، آپ اس جملہ کو تین بار دہرا رہے تھے ”اور باقی تین: ابوذر، مقداد اور سلمان ہیں، مجھے اللہ نے ان لوگوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے، اور مجھے اس نے بتایا ہے کہ وہ بھی ان لوگوں سے محبت رکھتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated Buraidah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed Allah has ordered me to love four, and He informed me that He loves them." It was said: "O Messenger of Allah! Name them for us." He said: "'Ali is among them," saying that three times, "And Abu Dharr, Al-Miqdad, and Salman. And He ordered me to love them, and He informed me that He loves them

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:115

Hadith #3719
HasanHasanHasanHasan

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْ عَلِيٍّ وَلاَ يُؤَدِّي عَنِّي إِلاَّ أَنَا أَوْ عَلِيٌّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

حبشی بن جنادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں اور میری جانب سے نقض عہد کی بات میرے یا علی کے علاوہ کوئی اور ادا نہیں کرے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated Hubshi bin Junadah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "'Ali is from me and I am from 'Ali. And none should represent me except myself or 'Ali

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:116

Hadith #3720
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحِ بْنِ حَىٍّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ آخَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ عَلِيٌّ تَدْمَعُ عَيْنَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ آخَيْتَ بَيْنَ أَصْحَابِكَ وَلَمْ تُؤَاخِ بَيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے درمیان باہمی بھائی چارا کرایا تو علی رضی الله عنہ روتے ہوئے آئے اور کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارا کرایا ہے اور میری بھائی چارگی کسی سے نہیں کرائی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم میرے بھائی ہو دنیا اور آخرت دونوں میں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں زید بن ابی اوفی سے بھی روایت ہے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) made bonds of brotherhood among his Companions. So 'Ali came crying saying: "O Messenger of Allah! You have made a bond of brotherhood among your Companions, but you have not made a bond of brotherhood with me and anyone." So the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: "I am your brother, in this life and the next

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:117

Hadith #3721
DaifDaifHasan

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عِيسَى بْنِ عُمَرَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم طَيْرٌ فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي هَذَا الطَّيْرَ ‏"‏ ‏.‏ فَجَاءَ عَلِيٌّ فَأَكَلَ مَعَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ السُّدِّيِّ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ ‏.‏ وَعِيسَى بْنُ عُمَرَ هُوَ كُوفِيٌّ وَالسُّدِّيُّ اسْمُهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ أَدْرَكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَرَأَى الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَزَائِدَةُ وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پرندہ تھا، آپ نے دعا فرمائی کہ ”اے للہ! میرے پاس ایک ایسے شخص کو لے آ جو تیری مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہوتا کہ وہ میرے ساتھ اس پرندہ کا گوشت کھائے، تو علی آئے اور انہوں نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے سدی کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ۳- عیسیٰ بن عمر کوفی ہیں ۴- اور سدی کا نام اسماعیل بن عبدالرحمٰن ہے، اور ان کا سماع انس بن مالک سے ہے، اور حسین بن علی کی رؤیت بھی انہیں حاصل ہے، شعبہ، سفیان ثوری اور زائدہ نے ان کی توثیق کی ہے، نیز یحییٰ بن سعید القطان نے بھی انہیں ثقہ کہا ہے۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:"There was a bird with the Prophet (ﷺ), so he said: 'O Allah, send to me the most beloved of Your creatures to eat this bird with me.' So 'Ali came and ate with him

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:118

Hadith #3722
DaifDaif

حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ الْجَمَلِيِّ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ كُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْطَانِي وَإِذَا سَكَتُّ ابْتَدَأَنِي ‏.هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

English Translation

Narrated 'Ali:"When I would ask the Messenger of Allah (ﷺ), he would give me, and when I would be silent, he would initiate (speech or giving) with me

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:119

Hadith #3724
SahihSahihHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَمَّرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا فَقَالَ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا تُرَابٍ قَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتُ ثَلاَثًا قَالَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَنْ أَسُبَّهُ لأَنْ تَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لِعَلِيٍّ وَخَلَفَهُ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُخَلِّفُنِي مَعَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلاَّ أَنَّهُ لاَ نُبُوَّةَ بَعْدِي ‏"‏ ‏.‏ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ ‏"‏ لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلاً يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَتَطَاوَلْنَا لَهَا فَقَالَ ‏"‏ ادْعُ لِي عَلِيًّا ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَاهُ وَبِهِ رَمَدٌ فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ فَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَيْهِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ ‏.‏ وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏:‏ ‏(‏ فَقلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ ‏)‏ الآيَةَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ هَؤُلاَءِ أَهْلِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہ نے ان کو امیر بنایا تو پوچھا کہ تم ابوتراب ( علی ) کو برا بھلا کیوں نہیں کہتے؟ انہوں نے کہا: جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد رہیں گی جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میں انہیں ہرگز برا نہیں کہہ سکتا، اور ان میں سے ایک کا بھی میرے لیے ہونا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میرے لیے سرخ اونٹ ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علی رضی الله عنہ سے فرماتے ہوئے سنا ہے ( آپ نے انہیں اپنے کسی غزوہ میں مدینہ میں اپنا جانشیں مقرر کیا تھا تو آپ سے علی رضی الله عنہ نے کہا تھا: اللہ کے رسول! آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑے جا رہے ہیں ) ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تم میرے لیے اسی طرح ہو جس طرح ہارون موسیٰ کے لیے تھے، مگر فرق صرف اتنا ہے کہ میرے بعد نبوت نہیں“ ۱؎، اور دوسری یہ کہ میں نے آپ کو خیبر کے دن فرماتے ہوئے سنا کہ آج میں پرچم ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اس سے اللہ اور اس کے رسول بھی محبت کرتے ہیں، سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں تو ہم سب نے اس کے لیے اپنی گردنیں بلند کیں، یعنی ہم سب کو اس کی خواہش ہوئی، آپ نے فرمایا: ”علی کو بلاؤ“، چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور انہیں آشوب چشم کی شکایت تھی تو آپ نے اپنا لعاب مبارک ان کی آنکھ میں لگایا اور پرچم انہیں دے دیا چنانچہ اللہ نے انہیں فتح دی، تیسری بات یہ ہے کہ جب آیت کریمہ «ندع أبناءنا وأبناءكم ونساءنا ونساءكم» اتری۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی الله عنہم کو بلایا اور فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے اہل ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated 'Amir bin Sa'd bin Abi Waqqas:from his father, saying "Mu'awiyah bin Abu Sufyan ordered Sa'd, saying 'What prevented you from reviling Abu Turab?' He said: 'Three things that I remember from the Messenger of Allah (ﷺ) prevent me from reviling him. That I should have even one those things is more beloved to me than red camels. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) speaking to 'Ali, and he had left him behind in one of his battles. So 'Ali said to him: "O Messenger of Allah! You leave me behind with women and children?" So the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: "Are you not pleased that you should be in the position with me that Harun was with Musa? Except that there is no Prophethood after me?" And on the Day of (the battle of) Khaibar, I heard him saying: "I shall give the banner to a man who loves Allah and His Messenger, and Allah and His Messenger love him." So we all waited for that, then he said: "Call 'Ali for me." He said: 'So he came to him, and he had been suffering from Ramad (an eye condition), so he (ﷺ) put spittle in his eye and gave the banner to him, then Allah granted him victory. And when this Ayah was revealed: 'Let us call our sons and your sons, our women and your women...' (3:61) the Messenger of Allah (ﷺ) called 'Ali, Fatimah, Hasan, and Husain and said: "O Allah, these are my family

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:121

Hadith #3725
Daif IsnaadDaif IsnaadDaif

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ أَبُو الْجَوَّابِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَيْشَيْنِ وَأَمَّرَ عَلَى أَحَدِهِمَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَعَلَى الآخَرِ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَقَالَ ‏"‏ إِذَا كَانَ الْقِتَالُ فَعَلِيٌّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَافْتَتَحَ عَلِيٌّ حِصْنًا فَأَخَذَ مِنْهُ جَارِيَةً فَكَتَبَ مَعِي خَالِدٌ كِتَابًا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَشِي بِهِ ‏.‏ قَالَ فَقَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَرَأَ الْكِتَابَ فَتَغَيَّرَ لَوْنُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَا تَرَى فِي رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَ مِنْ غَضَبِ رَسُولِهِ وَإِنَّمَا أَنَا رَسُولٌ فَسَكَتَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لشکر بھیجے اور ان دونوں میں سے ایک کا امیر علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کو اور دوسرے کا خالد بن ولید رضی الله عنہ کو بنایا اور فرمایا: ”جب لڑائی ہو تو علی امیر رہیں گے چنانچہ علی رضی الله عنہ نے ایک قلعہ فتح کیا اور اس سے ( مال غنیمت میں سے ) ایک لونڈی لے لی، تو میرے ساتھ خالد رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خط لکھ کر بھیجا جس میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے علی رضی الله عنہ کی شکایت کر رہے تھے، وہ کہتے ہیں: چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نے خط پڑھا تو آپ کا رنگ متغیر ہو گیا پھر آپ نے فرمایا: ”تم کیا چاہتے ہو ایک ایسے شخص کے سلسلے میں جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں“، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: میں اللہ اور اس کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، میں تو صرف ایک قاصد ہوں، پھر آپ خاموش ہو گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated Al-Bara:"The Prophet (ﷺ) dispatched two armies and put 'Ali bin Abi Talib in charge of one of them, and Khalid bin Al-Walid in charge of the other. He said: "When there is fighting, then (the leader is) 'Ali." He said: "So 'Ali conquered a fortress and took a slave girl. So Khalid sent me with a letter to the Prophet (ﷺ) complaining about him. So I came to the Prophet (ﷺ) and he read the letter and his color changed, then he said: 'What is your view concerning one who loves Allah and His Messenger, and Allah and His Messenger love him.'" He said: "I said: 'I seek refuge in Allah from the wrath of Allah and the anger of His Messenger, and I am but a Messenger.' So he became silent

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:122

Hadith #3726
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْدِرِ الْكُوفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الأَجْلَحِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِيًّا يَوْمَ الطَّائِفِ فَانْتَجَاهُ فَقَالَ النَّاسُ لَقَدْ طَالَ نَجْوَاهُ مَعَ ابْنِ عَمِّهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا انْتَجَيْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ انْتَجَاهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الأَجْلَحِ وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ ابْنِ فُضَيْلٍ أَيْضًا عَنِ الأَجْلَحِ ‏.‏ وَمَعْنَى قَوْلِهِ ‏"‏ وَلَكِنَّ اللَّهَ انْتَجَاهُ ‏"‏ ‏.‏ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَنْتَجِيَ مَعَهُ ‏.‏

Urdu Translation

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ طائف کے دن علی رضی الله عنہ کو بلایا اور ان سے سرگوشی کے انداز میں کچھ باتیں کیں، لوگ کہنے لگے: آپ نے اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ بڑی دیر تک سرگوشی کی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ان سے سرگوشی نہیں کی ہے بلکہ اللہ نے ان سے سرگوشی کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اجلح کی روایت سے جانتے ہیں، اور اسے ابن فضیل کے علاوہ دوسرے راویوں نے بھی اجلح سے روایت کیا ہے، ۲- آپ کے قول ”بلکہ اللہ نے ان سے سرگوشی کی ہے“ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے مجھے ان کے ساتھ سرگوشی کا حکم دیا ہے۔

English Translation

Narrated Jabir:"The Messenger of Allah (ﷺ) called 'Ali on the Day (of the battle) of At-Ta'if, and spoke privately with him, so the people said: 'His private conversation with his cousin has grown lengthy.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I did not speak privately with him, rather Allah spoke privately with him

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:123

Hadith #3727
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعَلِيٍّ ‏ "‏ يَا عَلِيُّ لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ أَنْ يُجْنِبَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرِي وَغَيْرَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ قُلْتُ لِضِرَارِ بْنِ صُرَدَ مَا مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ يَسْتَطْرِقُهُ جُنُبًا غَيْرِي وَغَيْرُكَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ سَمِعَ مِنِّي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ هَذَا الْحَدِيثَ وَاسْتَغْرَبَهُ ‏.‏

Urdu Translation

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ سے فرمایا: ”علی! میرے اور تمہارے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس مسجد میں جنبی رہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- علی بن منذر کہتے ہیں: میں نے ضرار بن صرد سے پوچھا: اس حدیث کا مفہوم کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے اور تمہارے علاوہ کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ حالت جنابت میں وہ اس مسجد میں سے گزرے، ۳- مجھ سے محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو سنا تو وہ اچنبھے میں پڑ گئے۔

English Translation

Narrated Abu Sa'eed:that the Messenger of Allah (ﷺ) said to 'Ali: "O 'Ali! It is not permissible for anyone to be Junub in this Masjid except for you and I

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:124

Hadith #3728
Daif IsnaadDaif IsnaadDaif

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمُلاَئِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ بُعِثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَصَلَّى عَلِيٌّ يَوْمَ الثُّلاَثَاءِ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُسْلِمٍ الأَعْوَرِ ‏.‏ وَمُسْلِمٌ الأَعْوَرُ لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ حَبَّةَ عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَ هَذَا ‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوشنبہ کو مبعوث کیا گیا اور علی نے منگل کو نماز پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اور یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف مسلم اعور کی روایت سے جانتے ہیں اور مسلم اعور محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں، ۲- اسی طرح یہ حدیث مسلم اعور سے بھی آئی ہے اور مسلم نے حبہ کے واسطہ سے اسی طرح علی سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:"The advent of the Prophet (ﷺ) was on Monday and 'Ali performed Salat on Tuesday

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:125

Hadith #3729
DaifDaif

حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ الْجَمَلِيِّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: كُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي وَإِذَا سَكَتُّ ابْتَدَأَنِي. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ

English Translation

Narrated Ali:"When I would ask the Messenger of Allah SAW he would give me, and when I would be silent, he would initiate (speech or giving) with me

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:126

Hadith #3730
Sahih LighairihiSahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِعَلِيٍّ ‏ "‏ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلاَّ أَنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ سے فرمایا: ”تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے تھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں“۔ ( اور ہارون علیہ السلام اللہ کے نبی تھے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں سعد، زید بن ارقم، ابوہریرہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Jabir bin 'Abdullah:that the Prophet (ﷺ) said to 'Ali: "You are to me in the position that Harun was to Musa, except that there is no Prophet after me

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:127

Hadith #3731
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ السَّلاَمِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِعَلِيٍّ ‏ "‏ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلاَّ أَنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي ‏"‏ ‏.‏هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَيُسْتَغْرَبُ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ‏.‏

Urdu Translation

سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ سے فرمایا: ”تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے ہارون، موسیٰ کے لیے تھے، مگر اتنی بات ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۲- اور یہ سعد بن ابی وقاص کے واسطہ سے جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کئی سندوں سے آئی ہے، ۳- اور یحییٰ بن سعید انصاری کی سند سے یہ حدیث غریب سمجھی جاتی ہے۔

English Translation

Narrated Sa'd bin Abi Waqqas:that the Prophet (ﷺ) said to 'Ali, "You are to me, in the position that Harun was to Musa, [except that there is no Prophet after me]

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:128

Hadith #3732
SahihDaifHasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِسَدِّ الأَبْوَابِ إِلاَّ بَابَ عَلِيٍّ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ کے دروازے کے علاوہ ( مسجد نبوی میں کھلنے والے تمام ) دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے شعبہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated Ibn 'Abbas:"The Prophet (ﷺ) ordered that the gates be closed, except the gate of 'Ali

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:129

Hadith #3733
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَخِي، مُوسَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ، جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ، عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَ بِيَدِ حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ فَقَالَ ‏ "‏ مَنْ أَحَبَّنِي وَأَحَبَّ هَذَيْنِ وَأَبَاهُمَا وَأُمَّهُمَا كَانَ مَعِي فِي دَرَجَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین رضی الله عنہما کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”جو مجھ سے محبت کرے، اور ان دونوں سے، اور ان دونوں کے باپ اور ان دونوں کی ماں سے محبت کرے، تو وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجہ میں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے جعفر بن محمد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated 'Ali bin Husain:from his father, from his grandfather, 'Ali bin Abi Talib: "The Prophet (ﷺ) took Hasan and Husain by the hand and said: 'Whoever loves me and loves these two, and their father and mother, he shall be with me in my level on the Day of Judgement

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:130

Hadith #3734
SahihDaifHasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَوَّلُ مَنْ صَلَّى عَلِيٌّ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي بَلْجٍ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ ‏.‏ وَأَبُو بَلْجٍ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ‏.‏ وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ عَلِيٌّ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الرِّجَالِ أَبُو بَكْرٍ وَأَسْلَمَ عَلِيٌّ وَهُوَ غُلاَمٌ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ وَأَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ النِّسَاءِ خَدِيجَةُ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ پہلے پہل جس نے نماز پڑھی وہ علی رضی الله عنہ ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، شعبہ کی یہ حدیث جسے وہ ابوبلج سے روایت کرتے ہیں ہم اسے صرف محمد بن حمید کی روایت سے جانتے ہیں اور ابوبلج کا نام یحییٰ بن سلیم ہے، ۲- اہل علم نے اس سلسلہ میں اختلاف کیا ہے، بعض راویوں نے کہا ہے کہ پہلے پہل جس نے اسلام قبول کیا ہے وہ ابوبکر صدیق رضی الله عنہ ہیں، اور بعضوں نے کہا ہے کہ پہلے پہل جو اسلام لائے ہیں وہ علی رضی الله عنہ ہیں، اور بعض اہل علم نے کہا ہے: بڑے مردوں میں جو پہلے پہل اسلام لائے ہیں وہ ابوبکر رضی الله عنہ ہیں اور علی رضی الله عنہ جب اسلام لائے تو وہ آٹھ سال کی عمر کے لڑکے تھے، اور عورتوں میں جو سب سے پہلے اسلام لائی ہیں وہ خدیجہ رضی الله عنہا ہیں ۱؎۔

English Translation

Narrated Ibn 'Abbas:"The first to perform Salat was 'Ali

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:131

Hadith #3735
Sahih IsnaadSahih IsnaadHasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، يَقُولُ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ عَلِيٌّ ‏.‏ قَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ فَأَنْكَرَهُ وَقَالَ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَأَبُو حَمْزَةَ اسْمُهُ طَلْحَةُ بْنُ يَزِيدَ ‏.‏

Urdu Translation

زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا وہ علی رضی الله عنہ ہیں۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں: میں نے اسے ابراہیم نخعی سے ذکر کیا تو انہوں نے اس کا انکار کیا اور کہا: سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا وہ ابوبکر صدیق رضی الله عنہ ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated a man from the Ansar:that Zaid bin Al-Arqam said: "The first to accept Islam was 'Ali." 'Amr bin Murrah said: "So I mentioned that to Ibrahim An-Nakha'i, so he rejected that and said: 'The first to accept Islam was Abu Bakr As-Siddiq

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:132

Hadith #3736
SahihSahihHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُثْمَانَ ابْنُ أَخِي، يَحْيَى بْنِ عِيسَى الرَّمْلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ لَقَدْ عَهِدَ إِلَىَّ النَّبِيُّ الأُمِّيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنَّهُ لاَ يُحِبُّكَ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَبْغَضُكَ إِلاَّ مُنَافِقٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ أَنَا مِنَ الْقَرْنِ الَّذِينَ دَعَا لَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم سے صرف مومن ہی محبت کرتا ہے اور منافق ہی بغض رکھتا ہے“ ۱؎۔ عدی بن ثابت کہتے ہیں: میں اس طبقے کے لوگوں میں سے ہوں، جن کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated 'Ali:"The Prophet (ﷺ) - the Unlettered Prophet - exhorted me (saying): 'None loves you except a believer and none hates you except a hypocrite.'" 'Adi bin Thabit (a narrator) said: "I am from the generation whom the Prophet (ﷺ) supplicated for

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:133

Hadith #3737
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْجَرَّاحِ، قَالَ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ صُبْحٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ شَرَاحِيلَ، قَالَتْ حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَيْشًا فِيهِمْ عَلِيٌّ ‏.‏ قَالَتْ فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ لاَ تُمِتْنِي حَتَّى تُرِيَنِي عَلِيًّا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا جس میں علی رضی الله عنہ بھی تھے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے یہ دعا فرما رہے تھے: «اللهم لا تمتني حتى تريني عليا» ”اے اللہ! تو مجھے مارنا نہیں جب تک کہ مجھے علی کو دکھا نہ دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated Umm 'Atiyyah:"The Prophet (ﷺ) sent an army in which was 'Ali." She said: "While he was raising his hands, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: 'O Allah! Do not cause me to die until You allow me to see 'Ali

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:134

Hadith #3738
HasanHasanHasan SahihHasan

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى ابْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ دِرْعَانِ فَنَهَضَ إِلَى صَخْرَةٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ فَأَقْعَدَ تَحْتَهُ طَلْحَةَ فَصَعِدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى اسْتَوَى عَلَى الصَّخْرَةِ فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ أَوْجَبَ طَلْحَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو زرہیں پہنے ہوئے تھے، آپ ایک چٹان پر چڑھنے لگے لیکن چڑھ نہ سکے تو اپنے نیچے طلحہ کو بٹھایا اور چڑھے یہاں تک کہ چٹان پر سیدھے کھڑے ہو گئے، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”طلحہ نے اپنے لیے ( جنت ) واجب کر لی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated 'Abdullah bin Az-Zubair:that Az-Zubair said: "On the Day of (the battle of) Uhud, the Messenger of Allah (ﷺ) wore two coats of mail. He tried to get up on a boulder, but was not able to, so Talhah squatted under him, lifting the Prophet (ﷺ) upon it, such that he could sit on the boulder. So he said: 'It (Paradise) is obligatory for Talhah

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:135

Hadith #3739
SahihSahihDaif

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ، مِنْ وَلَدِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ الصَّلْتِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى شَهِيدٍ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الصَّلْتِ ‏.‏ وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الصَّلْتِ بْنِ دِينَارٍ وَفِي صَالِحِ بْنِ مُوسَى مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِمَا ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس کو اس بات سے خوشی ہو کہ وہ کسی شہید کو ( دنیا ہی میں ) زمین پر چلتا ہوا دیکھے تو اسے چاہیئے کہ وہ طلحہ کو دیکھ لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف صلت کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض اہل علم نے صلت بن دینار اور صالح بن موسیٰ کے سلسلہ میں ان دونوں کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے۔

English Translation

Narrated Jabir bin 'Abdullah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever would be pleased to look at a martyr walking upon the face of the earth, then let him look at Talhah bin 'Ubaidullah

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:136

Hadith #3740
HasanHasanDaif

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ، مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ أَلاَ أُبَشِّرُكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ ‏"‏ ‏.‏هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں معاویہ رضی الله عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں یہ خوشخبری نہ سناؤں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے سلسلہ میں اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ اپنا کام پورا کر چکے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے معاویہ رضی الله عنہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated Musa bin Talhah:"I entered upon Mu'awiyah and he said: 'Shall I not give you some good news?' I said: 'Of course!' He said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: 'Talhah is among those who fulfilled their vow (referring to 33:)

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:137

Hadith #3741
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ مَنْصُورٍ الْعَنَزِيُّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ الْيَشْكُرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ سَمِعَتْ أُذُنِي، مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَقُولُ ‏ "‏ طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ جَارَاىَ فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ

Urdu Translation

عقبہ بن علقمہ یشکری کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میرے کانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زبان مبارک سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: ”طلحہ اور زبیر دونوں میرے جنت کے پڑوسی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated 'Ali bin abi Talib:"My ear heard from the mouth of the Messenger of Allah (ﷺ), while he was saying: 'Talhah and Az-Zubair are my neighbors in Paradise

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:138

Hadith #3742
Hasan SahihHasan SahihHasanHasan

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى، وَعِيسَى، ابْنَىْ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِمَا، طَلْحَةَ أَنَّ أَصْحَابَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالُوا لأَعْرَابِيٍّ جَاهِلٍ سَلْهُ عَمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ مَنْ هُوَ وَكَانُوا لاَ يَجْتَرِئُونَ عَلَى مَسْأَلَتِهِ يُوَقِّرُونَهُ وَيَهَابُونَهُ فَسَأَلَهُ الأَعْرَابِيُّ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ إِنِّي اطَّلَعْتُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ وَعَلَىَّ ثِيَابٌ خُضْرٌ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَيْنَ السَّائِلُ عَمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الأَعْرَابِيُّ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَذَا مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي كُرَيْبٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ كِبَارِ أَهْلِ الْحَدِيثِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يُحَدِّثُ بِهَذَا عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَوَضَعَهُ فِي كِتَابِ الْفَوَائِدِ ‏.‏

Urdu Translation

طلحہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نے ایک جاہل اعرابی سے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «من قضى نحبه» کے متعلق پوچھو کہ اس سے کون مراد ہے، صحابہ کا یہ حال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پر اتنی ہیبت طاری رہتی تھی کہ وہ آپ سے سوال کی جرات نہیں کر پاتے تھے، چنانچہ اس اعرابی نے آپ سے پوچھا تو آپ نے اپنا منہ پھیر لیا، اس نے پھر پوچھا: آپ نے پھر منہ پھیر لیا پھر میں مسجد کے دروازے سے نکلا، میں سبز کپڑے پہنے ہوئے تھا، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ” «من قضى نحبه» کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے؟“ اعرابی بولا: میں موجود ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”یہ «عن قضی نحبہ» میں سے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابوکریب کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ یونس بن بکیر سے روایت کرتے ہیں، ۲- کبار محدثین میں سے متعدد لوگوں نے ابوکریب سے روایت کی ہے، ۳- میں نے اسے محمد بن اسماعیل بخاری کو ابوکریب کے واسطہ سے بیان کرتے سنا ہے، اور انہوں نے اس حدیث کو اپنی کتاب ”کتاب الفوائد“ میں رکھا ہے۔

English Translation

Narrated Musa and 'Eisa, the sons of Talhah:from their father: "The Companions of the Prophet (ﷺ) said, to an unknowing Bedouin man: 'Ask him who it is that has fulfilled his vow.' They were not in the habit of asking him questions out of their respect and reverence for him. So the Bedouin asked him, but he turned away from him. Then he asked him again, but he turned away from him. Then again he asked him, but he turned away from him. Then I stood looking from the door of the Masjid, while I was wearing a green garment, and I saw the Prophet (ﷺ), he said: 'Where is the one who was asking about the one who fulfilled his vow?' The Bedouin said: 'Here I am O Messenger of Allah!' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'This is one who has fulfilled his vow

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:139

Hadith #3743
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَوَيْهِ يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَقَالَ ‏ "‏ بِأَبِي وَأُمِّي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریظہ کے دن اپنے ماں اور باپ دونوں کو میرے لیے جمع کیا اور فرمایا: ”میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated 'Abdullah bin Az-Zubair:from Az-Zubair, who said: "The Messenger of Allah (ﷺ) gathered together his parents for me the Day of Quraizah, (i.e. the battle of Ahzab) and said: 'May my mother and father be ransomed for you

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:140

Hadith #3744
Hasan SahihHasan SahihHasan SahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَلِيِّ رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَيُقَالُ الْحَوَارِيُّ هُوَ النَّاصِرُ ‏.‏ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي عُمَرَ يَقُولُ قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ الْحَوَارِيُّ هُوَ النَّاصِرُ ‏.‏

Urdu Translation

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں ۱؎ اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور حواری مددگار کو کہا جاتا ہے، میں نے ابن ابی عمر کو کہتے ہوئے سنا کہ سفیان بن عیینہ نے کہا ہے کہ حواری کے معنی مددگار کے ہیں۔

English Translation

Narrated 'Ali bin Abi Talib [may Allah be pleased with him]:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, every Prophet has a Hawari, and my Hawari is Az-Zubair bin Al-'Awwam

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:141

Hadith #3745
Hasan SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، وَأَبُو نُعَيْمٍ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، رضى الله عنه قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ‏"‏ ‏.‏ وَزَادَ أَبُو نُعَيْمٍ فِيهِ يَوْمَ الأَحْزَابِ قَالَ ‏"‏ مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الزُّبَيْرُ أَنَا ‏.‏ قَالَهَا ثَلاَثًا قَالَ الزُّبَيْرُ أَنَا ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں“ ۱؎، اور ابونعیم نے اس میں «یوم الأحزاب» ( غزوہ احزاب ) کا اضافہ کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”کون میرے پاس کافروں کی خبر لائے گا؟“ تو زبیر رضی الله عنہ بولے: میں، آپ نے تین بار اسے پوچھا اور زبیر رضی الله عنہ نے ہر بار کہا: میں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Jabir [may Allah be pleased with him]:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, every Prophet has a Hawari and, [indeed], my Hawari is Az-Zubair [bin Al-'Awwam]." And Abu Na'im added in it: "On the Day of Al-Ahzab, he (ﷺ) said: 'Who will bring us news about their party?' Az-Zubair said: 'I will.' He said it three times. Az-Zubair said (each time): 'I will

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:142

Hadith #3746
Sahih IsnaadSahih IsnaadDaif

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ صَخْرِ بْنِ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ أَوْصَى الزُّبَيْرُ إِلَى ابْنِهِ عَبْدِ اللَّهِ صَبِيحَةَ الْجَمَلِ فَقَالَ مَا مِنِّي عُضْوٌ إِلاَّ وَقَدْ جُرِحَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ حَتَّى انْتَهَى ذَاكَ إِلَى فَرْجِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ‏.‏

Urdu Translation

ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ زبیر رضی الله عنہ نے اپنے بیٹے عبداللہ ( رضی الله عنہما ) کو جنگ جمل کی صبح کو وصیت کی اور کہا: میرا کوئی عضو ایسا نہیں ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں زخمی نہ ہوا ہو یہاں تک کہ میری شرمگاہ بھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: حماد بن زید کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated Hisham bin 'Urwah:"On the Day of (the battle of) Al-Jamal, Az-Zubair exhorted his son 'Abdullah, saying: 'There is not a part of me except that it has been injured while with the Messenger of Allah (ﷺ),' until that ended with his private parts

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:143

Hadith #3747
SahihSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ وَسَعِيدٌ فِي الْجَنَّةِ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ أَخْبَرَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، قِرَاءَةً عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ‏.‏ قَالَ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الأَوَّلِ ‏.‏

Urdu Translation

عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر جنتی ہیں، عبدالرحمٰن بن عوف جنتی ہیں، سعد جنتی ہیں، سعید ( سعید بن زید ) جنتی ہیں اور ابوعبیدہ بن جراح جنتی ہیں ۱؎ ( رضی اللہ علیہم اجمعین ) “ ابومصعب نے ہمیں خبر دی کہ انہوں نے عبدالعزیز بن محمد کے آگے پڑھا اور عبدالعزیز نے عبدالرحمٰن بن حمید سے اور عبدالرحمٰن نے اپنے والد حمید کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی لیکن اس میں عبدالرحمٰن بن عوف کے واسطہ کا ذکر نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث عبدالرحمٰن بن حمید سے بطریق: «عن أبيه عن سعيد بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» بھی آئی ہے، ( اور اسی طرح آئی ہے ) ، اور یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔

English Translation

Narrated 'Abdur-Rahman bin 'Awf:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Abu Bakr is in Paradise, 'Umar is in Paradise, 'Uthman is in Paradise, 'Ali is in Paradise, Talhah is in Paradise, Az-Zubair is in Paradise, 'Abdur-Rahman bin 'Awf is in Paradise, Sa'd bin Abi Waqqas is in Paradise, Sa'eed bin Zaid is in Paradise, and Abu 'Ubaidah bin Al-Jarrah is in Paradise

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:144

Hadith #3748
SahihSahihSahih

حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مِسْمَارٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ، حَدَّثَهُ فِي، نَفَرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ عَشَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ وَطَلْحَةُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَبُو عُبَيْدَةَ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَعَدَّ هَؤُلاَءِ التِّسْعَةَ وَسَكَتَ عَنِ الْعَاشِرِ فَقَالَ الْقَوْمُ نَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَبَا الأَعْوَرِ مَنِ الْعَاشِرُ قَالَ نَشَدْتُمُونِي بِاللَّهِ أَبُو الأَعْوَرِ فِي الْجَنَّةِ ‏.‏أَبُو الأَعْوَرِ هُوَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ‏.‏ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ هُوَ أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الأَوَّلِ ‏.‏

Urdu Translation

حمید سے روایت ہے کہ سعید بن زید رضی الله عنہ نے ان سے کئی اشخاص کی موجودگی میں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس آدمی جنتی ہیں، ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں عثمان، علی، زبیر، طلحہ، عبدالرحمٰن، ابوعبیدہ اور سعد بن ابی وقاص ( جنتی ہیں ) “ وہ کہتے ہیں: تو انہوں نے ان نو ( ۹ ) کو گن کر بتایا اور دسویں آدمی کے بارے میں خاموش رہے، تو لوگوں نے کہا: اے ابوالاعور ہم اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھ رہے ہیں کہ دسواں کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: تم لوگوں نے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہے ( اس لیے میں بتا رہا ہوں ) ابوالاعور جنتی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا ہے کہ یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۲- ابوالاعور سے مراد خود سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ہیں۔

English Translation

Narrated 'Abdur-Rahman bin Humaid:from his father, that Sa'eed bin Zaid reported to him, while in a group of people, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Ten are in Paradise: Abu Bakr is in Paradise, 'Umar is in Paradise. 'Ali and 'Uthman are in Paradise. Az-Zubair and Talhah, 'Abdur-Rahman, Abu 'Ubaidah and Sa'd bin Abi Waqqas" - He said: "So he counted these nine and was silent concerning the tenth - so the people said: 'We implore you by Allah, O Abu Al-A'war, who is the tenth?' He said: 'You have implored me by Allah. Abu Al-A'war is in Paradise.'" [Abu 'Eisa] said: [Abu Al-A'war] he is Sa'eed bin Zaid bin 'Amr bin Nufail. I heard Muhammad saying: "It is more correct than the first Hadith

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:145

Hadith #3749
HasanHasanHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ صَخْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ أَمْرَكُنَّ مِمَّا يُهِمُّنِي بَعْدِي وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ إِلاَّ الصَّابِرُونَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ تَقُولُ عَائِشَةُ فَسَقَى اللَّهُ أَبَاكَ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ ‏.‏ تُرِيدُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَقَدْ كَانَ وَصَلَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَالٍ يقالُ بِيعَتْ بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنی بیویوں سے ) فرماتے تھے: تم لوگوں کا معاملہ مجھے پریشان کئے رہتا ہے کہ میرے بعد تمہارا کیا ہو گا؟ تمہارے حقوق کی ادائیگی کے معاملہ میں صرف صبر کرنے والے ہی صبر کر سکیں گے۔ پھر عائشہ رضی الله عنہا نے ( ابوسلمہ سے ) کہا: اللہ تمہارے والد یعنی عبدالرحمٰن بن عوف کو جنت کی نہر سلسبیل سے سیراب کرے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے ساتھ ایک ایسے مال کے ذریعہ جو چالیس ہزار ( دینار ) میں بکا، اچھے سلوک کا مظاہرہ کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated Abu Salamah:from 'Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say: "Indeed your affair [feminine plural: referring to the wives of the Prophet (ﷺ)] is from that which concerns me after me, and none shall be able to be patient concerning you except the patient ones." He said: "Then 'Aishah said: 'So may Allah give your father drink from the Salsabil of Paradise" intending 'Abdur-Rahman bin 'Awf (Abu Salamah is the son of 'Abdur-Rahman bin 'Awf). And he had maintained ties with the wives of the Prophet (ﷺ) with property that had been sold for forty-thousand

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:146

Hadith #3750
Hasan IsnaadHasan IsnaadHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ الْبَصْرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، أَوْصَى بِحَدِيقَةٍ لأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِيعَتْ بِأَرْبَعِ مِئَةِ أَلْفٍ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابوسلمہ سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے لیے ایک باغ کی وصیت کی جسے چار لاکھ ( درہم ) میں بیچا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated Abu Salamah:that 'Abdur-Rahman bin 'Awf left a garden for the Mothers of the Believers that was sold for four-hundred thousand

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:147

Hadith #3751
SahihSahihDaif

حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُذْرِيُّ، - بَصْرِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ إِذَا دَعَاكَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ إِذَا دَعَاكَ ‏"‏ ‏.‏ وَهَذَا أَصَحُّ ‏.‏

Urdu Translation

سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سعد جب تجھ سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول فرما“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اسماعیل بن ابی خالد سے قیس بن حازم کے واسطہ سے روایت کی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سعد جب تجھ سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول فرما“ اور یہ زیادہ صحیح ہے ( یعنی: مرسل روایت زیادہ صحیح ہے ) ۔

English Translation

Narrated Sa'd:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "O Allah, respond to Sa'd when he supplicates to You

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:148

Hadith #3752
SahihSahihDaif

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَقْبَلَ سَعْدٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَذَا خَالِي فَلْيُرِنِي امْرُؤٌ خَالَهُ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُجَالِدٍ ‏.‏ وَكَانَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ وَكَانَتْ أُمُّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ بَنِي زُهْرَةَ فَلِذَلِكَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَذَا خَالِي ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرے ماموں ہیں، تو مجھے دکھائے کوئی اپنا ماموں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے مجالد ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- سعد بن ابی وقاص قبیلہ بنی زہرہ کے ایک فرد تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ محترمہ قبیلہ بنی زہرہ ہی کی تھیں، اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”یہ میرے ماموں ہیں“۔

English Translation

Narrated Jabir bin 'Abdullah:"Sa'd came, so the Prophet (ﷺ) said: "This is my maternal uncle, so let a man show me his maternal uncle

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:149

Hadith #3753
MunkarMunkarSahih

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعَا سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ قَالَ عَلِيٌّ مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَاهُ وَأُمَّهُ لأَحَدٍ إِلاَّ لِسَعْدٍ قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ ‏ "‏ ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي وَقَالَ لَهُ ارْمِ أَيُّهَا الْغُلاَمُ الْحَزَوَّرُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ سَعْدٍ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ

Urdu Translation

علی بن زید اور یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ان دونوں نے سعید بن مسیب کو کہتے ہوئے سنا کہ علی رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کے علاوہ کسی اور کے لیے اپنے باپ اور ماں کو جمع نہیں کیا ۱؎، احد کے دن آپ نے سعد سے فرمایا: ”تم تیر مارو میرے باپ اور ماں تم پر فدا ہوں، تم تیر مارو اے جوان پٹھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث متعدد لوگوں سے روایت کی گئی ہے ان سب نے اسے یحییٰ بن سعید سے، اور یحییٰ نے سعید بن مسیب کے واسطہ سے سعد رضی الله عنہ سے روایت کی ہے۔

English Translation

Narrated 'Ali:"The Messenger of Allah (ﷺ) did not mention both (his) parents for anyone except Sa'd bin Abi Waqqas. On the Day of (the battle of) Uhud he said: 'Shoot, may my father and mother be ransomed for you.' And he said to him: 'Shoot O young man

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:150

Hadith #3754
SahihSahihSahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم

Urdu Translation

سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن اپنے ماں اور باپ دونوں کو میرے لیے جمع کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث عبداللہ بن شداد بن ہاد سے بھی روایت کی گئی ہے اور انہوں نے علی بن ابی طالب کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔

English Translation

Narrated Sa'd bin Abi Waqqas:"The Messenger of Allah (ﷺ) mentioned both of his parents for me on the Day of Uhud

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:151

Hadith #3755
SahihSahihSahihSahih - Agreed Upon

‏حَدَّثَنَا بِذَلِكَ، مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُفَدِّي أَحَدًا بِأَبَوَيْهِ إِلاَّ لِسَعْدٍ فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ ‏ "‏ ارْمِ سَعْدٌ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے باپ اور ماں کو سعد کے علاوہ کسی اور پر فدا کرتے نہیں سنا، میں نے احد کے دن آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ”سعد تم تیر مارو، میرے باپ اور ماں تم پر فدا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔

English Translation

Narrated 'Ali bin Abi Talib:"I never heard the Prophet (ﷺ) mentioning both of his parents being ransomed for anyone except for Sa'd. On the Day of Uhud, I heard him saying: 'Shoot, Sa'd, may my father and mother be ransomed for you

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:152

Hadith #3756
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَهِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ لَيْلَةً قَالَ ‏"‏ لَيْتَ رَجُلاً صَالِحًا يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعْنَا خَشْخَشَةَ السِّلاَحِ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا جَاءَ بِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ سَعْدٌ وَقَعَ فِي نَفْسِي خَوْفٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجِئْتُ أَحْرُسُهُ ‏.‏ فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ نَامَ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی غزوہ سے مدینہ واپس آنے پر ایک رات نیند نہیں آئی، تو آپ نے فرمایا: ”کاش کوئی مرد صالح ہوتا جو آج رات میری نگہبانی کرتا“، ہم اسی خیال میں تھے کہ ہم نے ہتھیاروں کے کھنکھناہٹ کی آواز سنی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ آنے والے نے کہا: میں سعد بن ابی وقاص ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم کیوں آئے ہو؟ تو سعد رضی الله عنہ نے کہا: میرے دل میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان نہ پہنچے اس لیے میں آپ کی نگہبانی کے لیے آیا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی پھر سو گئے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated 'Aishah:"The Messenger of Allah (ﷺ) did not sleep one night upon arriving in Al-Madinah. So he said: 'If only a righteous man would guard me tonight.'" She said: "So we were like that, when we heard the clanging of weapons. He said: 'Who is this?' So he said: 'Sa'd bin Abi Waqqas.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'What has brought you?' Sa'd said: 'Fear for the Messenger of Allah (ﷺ) came upon me, so I came to protect him.' So the Messenger of Allah (ﷺ) supplicated for him, then slept

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:153

Hadith #3757
SahihSahihHasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، أَنَّهُ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى التِّسْعَةِ أَنَّهُمْ فِي الْجَنَّةِ وَلَوْ شَهِدْتُ عَلَى الْعَاشِرِ لَمْ آثَمْ ‏.‏ قِيلَ وَكَيْفَ ذَلِكَ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِحِرَاءَ فَقَالَ ‏ "‏ اثْبُتْ حِرَاءُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلاَّ نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ وَمَنْ هُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَسَعْدٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ‏.‏ قِيلَ فَمَنِ الْعَاشِرُ قَالَ أَنَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏

Urdu Translation

سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نو اشخاص کے سلسلے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ لوگ جنتی ہیں اور اگر میں دسویں کے سلسلے میں گواہی دوں تو بھی گنہگار نہیں ہوں گا، آپ سے کہا گیا: یہ کیسے ہے؟ ( ذرا اس کی وضاحت کیجئے ) تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حرا پہاڑ پر تھے تو آپ نے فرمایا: ”ٹھہرا رہ اے حرا! تیرے اوپر ایک نبی، یا صدیق، یا شہید ۱؎ کے علاوہ کوئی اور نہیں“، عرض کیا گیا: وہ کون لوگ ہیں جنہیں آپ نے صدیق یا شہید فرمایا ہے؟ ( انہوں نے کہا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف ہیں رضی الله عنہم، پوچھا گیا: دسویں شخص کون ہیں؟ تو سعید نے کہا: وہ میں ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے سعید بن زید رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے۔

English Translation

Narrated 'Abdullah bin Zalim Al-Mazini:that Sa'eed bin Zaid bin 'Amr bin Nufail said: "I bear witness for nine people, that they are in Paradise, and if I were to bear witness for a tenth, I would not be sinful." It was said: "How is that?" He said: "We were with the Messenger of Allah (ﷺ) at (mount) Hira when he said, 'Be firm, Hira! There is not upon you any but a Prophet, or a Siddiq, or a martyr." It was said: "And who were they?" He said: "The Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr, 'Umar, 'Uthman, 'Ali, Talhah, Az-Zubair, Sa'd, and 'Abdur-Rahman bin 'Awf." It was said: "And who is the tenth?" He said: "Me

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:154

Hadith #3758
DaifDaif

Urdu Translation

عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب نے بیان کیا کہ عباس بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غصہ کی حالت میں آئے، میں آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ نے پوچھا: ”تم غصہ کیوں ہو؟“ وہ بولے: اللہ کے رسول! قریش کو ہم سے کیا ( دشمنی ) ہے کہ جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو خوش روئی سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اور طرح سے ملتے ہیں، ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آ گئے، یہاں تک کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تم سے محبت نہ کرے“، پھر آپ نے فرمایا: ”اے لوگو! جس نے میرے چچا کو اذیت پہنچائی تو اس نے مجھے اذیت پہنچائی کیونکہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ۱؎ ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:155

Hadith #3759
DaifDaif

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عباس مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسرائیل کی روایت سے جانتے ہیں۔

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:157

Hadith #3760
Sahih LighairihiSahihSahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ الأَعْمَشَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِعُمَرَ فِي الْعَبَّاسِ ‏ "‏ إِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ عُمَرُ كَلَّمَهُ فِي صَدَقَتِهِ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ سے عباس رضی الله عنہ کے سلسلہ میں فرمایا: ”بلاشبہہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے“ عمر رضی الله عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے صدقہ کے سلسلہ میں کوئی بات کی تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated 'Ali:that concerning Al-'Abbas, the Prophet (ﷺ) said to 'Umar: "Indeed, the uncle of a man is the Sinw of his father." And 'Umar had spoken to him concerning his charity

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:159

Hadith #3761
SahihSahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ وَإِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ أَوْ مِنْ صِنْوِ أَبِيهِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عباس اللہ کے رسول کے چچا ہیں اور آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے ابوالزناد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:that the Prophet (ﷺ) said: "Al-'Abbas is the uncle of the Messenger of Allah (ﷺ), and indeed, the uncle of a man is the Sinw of his father or from the Sinw of his father

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:160

Hadith #3762
HasanHasanHasanDaif

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلْعَبَّاسِ ‏"‏ إِذَا كَانَ غَدَاةُ الاِثْنَيْنِ فَأْتِنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ حَتَّى أَدْعُوَ لَهُمْ بِدَعْوَةٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهَا وَوَلَدَكَ ‏"‏ ‏.‏ فَغَدَا وَغَدَوْنَا مَعَهُ وَأَلْبَسَنَا كِسَاءً ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْعَبَّاسِ وَوَلَدِهِ مَغْفِرَةً ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً لاَ تُغَادِرُ ذَنْبًا اللَّهُمَّ احْفَظْهُ فِي وَلَدِهِ ‏"‏ ‏.هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی الله عنہ سے فرمایا: ”دوشنبہ کی صبح کو آپ اپنے لڑکے کے ساتھ میرے پاس آئیے تاکہ میں آپ کے حق میں ایک ایسی دعا کر دوں جس سے اللہ آپ کو اور آپ کے لڑکے کو فائدہ پہنچائے“، پھر وہ صبح کو گئے اور ہم بھی ان کے ساتھ گئے تو آپ نے ہمیں ایک چادر اڑھا دی، پھر دعا کی: ”اے اللہ! عباس کی اور ان کے لڑکے کی بخشش فرما، ایسی بخشش جو ظاہر اور باطن دونوں اعتبار سے ایسی ہو کہ کوئی گناہ نہ چھوڑے، اے اللہ! ان کی حفاظت فرما، ان کے لڑکے کے سلسلہ میں یعنی اس کے حقوق کی ادائیگی کی انہیں خوب توفیق مرحمت فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated Ibn 'Abbas:"The Messenger of Allah (ﷺ) said to Al-'Abbas: 'On the night of Monday, come to me, you and your offspring, so that I may supplicate for them with a supplication that Allah will benefit you and your children by.' So he went, and we went with at night, so he (ﷺ) covered us in a Kisah (shawl), then said: 'O Allah, forgive Al-'Abbas and his offspring, for what is open and what is secret, with a forgiveness that does not leave any sins. O Allah! Take care of him concerning the affair of his offspring

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:161

Hadith #3763
SahihSahihHasan

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ رَأَيْتُ جَعْفَرًا يَطِيرُ فِي الْجَنَّةِ مَعَ الْمَلاَئِكَةِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ‏.‏ وَقَدْ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ هُوَ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جعفر کو جنت میں فرشتوں کے ساتھ اڑتے دیکھا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن جعفر کی روایت سے جانتے ہیں، اور یحییٰ بن معین وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے، اور عبداللہ بن جعفر: علی بن مدینی کے والد ہیں، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت آئی ہے۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "I saw Ja'far flying in Paradise with the angels

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:162

Hadith #3764
Sahih Isnaad MauqufSahih Isnaad MauqufHasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ مَا احْتَذَى النِّعَالَ وَلاَ انْتَعَلَ وَلاَ رَكِبَ الْمَطَايَا وَلاَ رَكِبَ الْكُورَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَفْضَلُ مِنْ جَعْفَرِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏‏ وَالْكُورُ الرَّحْلُ

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نہ کسی نے جوتا پہنایا اور نہ پہنا اور نہ سوار ہوا سواریوں پر اور نہ چڑھا اونٹ کی کاٹھی پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جعفر بن ابی طالب سے افضل و بہتر ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- «کور» کے معنیٰ کجاوہ کے ہیں۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:"None has put on sandals - nor worn them, nor ridden a mount, nor a Kur, after the Messenger of Allah (ﷺ) - better than Ja'far [bin Abi Talib]

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:163

Hadith #3765
SahihSahihHasan SahihSahih Bukhari

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ‏ "‏ أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ إِسْرَائِيلَ نَحْوَهُ ‏.‏

Urdu Translation

براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر بن ابی طالب سے فرمایا: ”تم صورت اور سیرت دونوں میں میرے مشابہ ہو“، اور اس حدیث میں ایک قصہ ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے والد نے اسرائیل کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔

English Translation

Narrated Al-Bara bin 'Azib:that the Prophet (ﷺ) said to Ja'far bin Abi Talib: "You share similarity with me in appearance and in character

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:164

Hadith #3766
Very DaifVery DaifDaif

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو يَحْيَى التَّيْمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْحَاقَ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ إِنْ كُنْتُ لأَسْأَلُ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الآيَاتِ مِنَ الْقُرْآنِ أَنَا أَعْلَمُ بِهَا مِنْهُ مَا أَسْأَلُهُ إِلاَّ لِيُطْعِمَنِي شَيْئًا فَكُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ لَمْ يُجِبْنِي حَتَّى يَذْهَبَ بِي إِلَى مَنْزِلِهِ فَيَقُولُ لاِمْرَأَتِهِ يَا أَسْمَاءُ أَطْعِمِينَا شَيْئًا ‏.‏ فَإِذَا أَطْعَمَتْنَا أَجَابَنِي وَكَانَ جَعْفَرٌ يُحِبُّ الْمَسَاكِينَ وَيَجْلِسُ إِلَيْهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ وَيُحَدِّثُونَهُ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَكْنِيهِ بِأَبِي الْمَسَاكِينِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَأَبُو إِسْحَاقَ الْمَخْزُومِيُّ هُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ الْمَدَنِيُّ وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَلَهُ غَرَائِبُ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں قرآن کی آیتوں کے سلسلہ میں صحابہ سے پوچھا کرتا تھا، چاہے میں اس کے بارے ان سے زیادہ واقف ہوتا ایسا اس لیے کرتا تاکہ وہ مجھے کچھ کھلائیں، چنانچہ جب میں جعفر بن ابی طالب سے پوچھتا تو وہ مجھے جواب اس وقت تک نہیں دیتے جب تک مجھے اپنے گھر نہ لے جاتے اور اپنی بیوی سے یہ نہ کہتے کہ اسماء ہمیں کچھ کھلاؤ، پھر جب وہ ہمیں کھلا دیتیں تب وہ مجھے جواب دیتے، جعفر رضی الله عنہ مسکینوں سے بہت محبت کرتے تھے، ان میں جا کر بیٹھتے تھے ان سے باتیں کرتے تھے، اور ان کی باتیں سنتے تھے، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ابوالمساکین کہا کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ابواسحاق مخزومی کا نام ابراہیم بن فضل مدنی ہے اور بعض محدثین نے ان کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے اور ان سے غرائب حدیثیں مروی ہیں۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:"I used to ask a man from among the Companions of the Prophet (ﷺ) concerning Ayat of the Qur'an which I would be more knowledgeable about than him, so that he might inform me something (more about them). So when I would ask Ja'far bin Abi Talib, he would not answer me until he would go with me to his place and say to his wife: 'O Asma, give us some food.' Once she had given us some food, he would answer me. And Ja'far used to love the poor and sit with them, and speak with them, and they would speak with him, so the Messenger of Allah (ﷺ) used to call him Abu Al-Masakin (the Father of the Poor)

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:165

Hadith #3767
Daif

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَاتِمُ بْنُ سِيَاهٍ الْمَرْوَزِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كُنَّا نَدْعُو جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رضى الله عنه أَبَا الْمَسَاكِينِ فَكُنَّا إِذَا أَتَيْنَاهُ قَرَّبْنَا إِلَيْهِ مَا حَضَرَ فَأَتَيْنَاهُ يَوْمًا فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَهُ شَيْئًا فَأَخْرَجَ جَرَّةً مِنْ عَسَلٍ فَكَسَرَهَا فَجَعَلْنَا نَلْعَقُ مِنْهَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم جعفر بن ابی طالب کو ابوالمساکین کہہ کر پکارتے تھے، چنانچہ جب ہم ان کے پاس آتے تو وہ جو کچھ موجود ہوتا ہمارے سامنے لا کر رکھ دیتے، تو ایک دن ہم ان کے پاس آئے اور جب انہیں کوئی چیز نہیں ملی، ( جو ہمیں پیش کرتے ) تو انہوں نے شہد کا ایک گھڑا نکالا اور اسے توڑا تو ہم اسی کو چاٹنے لگے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابوسلمہ کی روایت سے جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے، حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:"We used to call Ja'far bin Abi Talib the Father of the Poor, so when we used to come to him, he would draw us close to him as long as he was present. One day we came to him, and he did not find anything with him, so he brought a jar of honey and broke it, so we began to lick out of it

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:166

Hadith #3768
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَابْنُ أَبِي نُعْمٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ وَيُكْنَى أَبَا الْحَكَمِ ‏.‏

Urdu Translation

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حسن اور حسین اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں“ ۱؎۔

English Translation

Narrated Abu Sa'eed:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Al-Hasan and Al-Husain are the chiefs of the youths of Paradise

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:167

Hadith #3769
HasanHasanHasanSahih

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ النَّبَّالُ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ أُسَامَةُ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ طَرَقْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَى شَيْءٍ لاَ أَدْرِي مَا هُوَ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ حَاجَتِي قُلْتُ مَا هَذَا الَّذِي أَنْتَ مُشْتَمِلٌ عَلَيْهِ قَالَ فَكَشَفَهُ فَإِذَا حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ عَلَى وَرِكَيْهِ فَقَالَ ‏ "‏ هَذَانِ ابْنَاىَ وَابْنَا ابْنَتِي اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک رات کسی ضرورت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو آپ ایک ایسی چیز لپیٹے ہوئے تھے جسے میں نہیں جان پا رہا تھا کہ کیا ہے، پھر جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوا تو میں نے عرض کیا: یہ کیا ہے جس کو آپ لپیٹے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے اسے کھولا تو وہ حسن اور حسین رضی الله عنہما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کولہے سے چپکے ہوئے تھے، پھر آپ نے فرمایا: ”یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں، اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت کر اور اس سے بھی محبت کر جو ان سے محبت کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated Usamah bin Zaid:"I came to the Prophet (ﷺ) one night concerning some need, so the Prophet (ﷺ) came out while he was covering up something, and I did not know what it was. Once I had tended to my need, I said: 'What is this that you were covering up?' So he uncovered it, and I found it was Hasan and Husain [peace be upon them] upon his hips. So he said: 'These are my two sons, and the sons of my daughter. O Allah! Indeed, I love them, so love them, and love those who love them

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:168

Hadith #3770
SahihSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَصْرِيُّ الْعَمِّيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ انْظُرُوا إِلَى هَذَا يَسْأَلُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ هُمَا رَيْحَانَتَاىَ مِنَ الدُّنْيَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ وَمَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوُ ‏.‏

Urdu Translation

عبدالرحمٰن بن ابی نعم سے روایت ہے کہ اہل عراق کے ایک شخص نے ابن عمر رضی الله عنہما سے مچھر کے خون کے بارے میں پوچھا جو کپڑے میں لگ جائے کہ اس کا کیا حکم ہے؟ ۱؎ تو ابن عمر رضی الله عنہما نے کہا: اس شخص کو دیکھو یہ مچھر کے خون کا حکم پوچھ رہا ہے! حالانکہ انہیں لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسہ کو قتل کیا ہے، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”حسن اور حسین رضی الله عنہما یہ دونوں میری دنیا کے پھول ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اسے شعبہ اور مہدی بن میمون نے بھی محمد بن ابی یعقوب سے روایت کیا ہے، ۳- ابوہریرہ کے واسطے سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت آئی ہے۔

English Translation

Narrated 'Abdur-Rahman bin Abu Nu'm:that a man from the people of Al-'Iraq asked Ibn 'Umar about the blood of a gnat that gets on the clothes. Ibn 'Umar said "Look at this one, he asks about the blood of a gnat while they killed the son of the Messenger of Allah (ﷺ)! And I heard the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Indeed Al-Hasan and Al-Husain - they are my two sweet basils in the world

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:169

Hadith #3771
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، قَالَ حَدَّثَنَا رَزِينٌ، قَالَ حَدَّثَتْنِي سَلْمَى، قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَهِيَ تَبْكِي فَقُلْتُ مَا يُبْكِيكِ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - تَعْنِي فِي الْمَنَامِ - وَعَلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ التُّرَابُ فَقُلْتُ مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ شَهِدْتُ قَتْلَ الْحُسَيْنِ آنِفًا ‏"‏ ‏. هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

سلمیٰ کہتی ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کے پاس آئی، وہ رو رہی تھیں، میں نے پوچھا: آپ کیوں رو رہی ہیں؟ وہ بولیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ( یعنی خواب میں ) آپ کے سر اور داڑھی پر مٹی تھی، تو میں نے عرض کیا: آپ کو کیا ہوا ہے؟ اللہ کے رسول! تو آپ نے فرمایا: ”میں حسین کا قتل ابھی ابھی دیکھا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔

English Translation

Narrated Salma:"I entered upon Umm Salamah while she was crying, so I said: 'What causes you to cry?' She said: 'I saw the Messenger of Allah - that is, in a dream - and there was was dirt on his head and his beard. so I said: "What is wrong with you, O Messenger of Allah?" He said: 'I just witnessed the killing of Al-Husain

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:170

Hadith #3772
DaifDaifHasanDaif

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ أَهْلِ بَيْتِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ ‏"‏ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ يَقُولُ لِفَاطِمَةَ ‏"‏ ادْعِي لِي ابْنَىَّ ‏"‏ ‏.‏ فَيَشُمُّهُمَا وَيَضُمُّهُمَا إِلَيْهِ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ

Urdu Translation

انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ کے اہل بیت میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ”حسن اور حسین“ ( رضی الله عنہما ) ، آپ فاطمہ رضی الله عنہا سے فرماتے: ”میرے دونوں بیٹوں کو بلاؤ، پھر آپ انہیں چومتے اور انہیں اپنے سینہ سے لگاتے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: انس کی روایت سے یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:That the Messenger of Allah (ﷺ) was asked: "Which of the people of your house are most beloved to you?" He said: "Al-Hasan and Al-Husain." And he used to say to Fatimah: "Call my two sons for me so that I may smell them." And he would hug them

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:171

Hadith #3773
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَشْعَثُ، هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمِنْبَرَ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ يُصْلِحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ ‏.‏

Urdu Translation

ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر چڑھ کر فرمایا: ”میرا یہ بیٹا سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور «ابني هذا» سے مراد حسن بن علی ہیں رضی الله عنہما۔

English Translation

Narrated Abu Bakrah:that the Messenger of Allah (ﷺ) ascended the Minbar and said: "Indeed, this son of mine is a chief, Allah shall bring peace between two [tremendous] parties through his hands

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:172

Hadith #3774
SahihSahihHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، ‏:‏ بُرَيْدَةَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَهُمَا وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ صَدَقَ اللَّهُ ‏:‏ ‏(‏ إنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلاَدُكُمْ فِتْنَةٌ ‏)‏ نَظَرْتُ إِلَى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي وَرَفَعْتُهُمَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ‏.‏

Urdu Translation

بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک حسن اور حسین رضی الله عنہما دونوں سرخ قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے چلے آ رہے تھے، آپ نے منبر سے اتر کر ان دونوں کو اٹھا لیا، اور ان کو لا کر اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ۱؎ ”تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں، میں نے ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے ہوئے دیکھا تو صبر نہیں کر سکا، یہاں تک کہ اپنی بات روک کر میں نے انہیں اٹھا لیا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حسین بن واقد کی روایت سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated Buraidah:"The Messenger of Allah (ﷺ) was delivering a Khutbah to us when Al-Hasan and Al-Husain [peace be upon them] came, wearing red shirts, walking and falling down. So the Messenger of Allah (ﷺ) descended from the Minbar and carried them, and placed them in front of him. Then he said: 'Allah spoke the Truth: Indeed, your wealth and your children are a trial (64:15). I looked at these two children walking and falling down, and I could not bear patiently anymore until I interrupted my talk and picked them up

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:173

Hadith #3775
HasanHasanHasanHasan

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الأَسْبَاطِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَإِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ابْنِ خُثَيْمٍ وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ‏.‏

Urdu Translation

یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ۱؎ اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے، حسین قبائل میں سے ایک قبیلہ ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں ۱- یہ حدیث حسن ہے ہم اسے صرف عبداللہ بن عثمان بن خثیم کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اسے عبداللہ بن عثمان بن خثیم سے متعدد لوگوں نے روایت کیا ہے۔

English Translation

Narrated Ya'la bin Murrah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Husain is from me, and I am from Husain. Allah loves whoever loves Husain. Husain is a Sibt among the Asbat." [Asbat, plural of Sibt: A great tribe. Meaning, Al-Husain would have many offspring, such that they would become a great tribe. And this has indeed occurred. See Tuhfat Al-Ahwadhi]

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:174

Hadith #3776
SahihSahihHasan SahihSahih Bukhari

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَشْبَهَ بِرَسُولِ اللَّهِ مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں میں حسن بن علی رضی الله عنہما سے زیادہ اللہ کے رسول کے مشابہ کوئی نہیں تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:"None of them used to resemble the Messenger of Allah (ﷺ) more than Al-Hasan bin 'Ali

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:175

Hadith #3777
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ الزُّبَيْرِ ‏.‏

Urdu Translation

ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور حسن بن علی رضی الله عنہما ان سے مشابہت رکھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر صدیق، ابن عباس اور عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Abu Juhaifah:"I saw the Messenger of Allah (ﷺ), and Al-Hasan bin 'Ali used to resemble him

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:176

Hadith #3778
SahihSahihHasan SahihSahih Bukhari

حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، قَالَتْ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ زِيَادٍ فَجِيءَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ فَجَعَلَ يَقُولُ بِقَضِيبٍ لَهُ فِي أَنْفِهِ وَيَقُولُ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا حُسْنًا لَمْ يُذْكَرْ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ أَمَا إِنَّهُ كَانَ مِنْ أَشْبَهِهِمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس تھا کہ حسین رضی الله عنہ کا سر لایا گیا تو وہ ان کی ناک میں اپنی چھڑی مار کر کہنے لگا میں نے اس جیسا خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا کیوں ان کا ذکر حسن سے کیا جاتا ہے ( جب کہ وہ حسین نہیں ہے ) ۱؎۔ تو میں نے کہا: سنو یہ اہل بیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:"I was with Ibn Ziyad and the head of Al-Husain was brought. He began to poke it in the nose with a stick that he had, saying: 'I do not see the like of this as beautiful, why is he mentioned as such?'" He said: "I said: 'Behold, he was of the closest of them in resemblance to the Messenger of Allah (ﷺ)

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:177

Hadith #3779
DaifDaifHasanDaif

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ الْحَسَنُ أَشْبَهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهُ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حسن رضی الله عنہ سینہ سے سر تک کے حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے، اور حسین رضی الله عنہ اس حصہ میں جو اس سے نیچے کا ہے سب سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated 'Ali:said: "Al-Hasan is greater in resemblance to the Messenger of Allah (ﷺ) with regards to what is between the chest and the head, and Al-Husain is greater in resemblance to the Messenger of Allah (ﷺ) with regards to what is below that

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:178

Hadith #3780
Sahih IsnaadSahih IsnaadHasan SahihDaif

حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ لَمَّا جِيءَ بِرَأْسِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ وَأَصْحَابِهِ نُضِّدَتْ فِي الْمَسْجِدِ فِي الرَّحَبَةِ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِمْ وَهُمْ يَقُولُونَ قَدْ جَاءَتْ قَدْ جَاءَتْ ‏.‏ فَإِذَا حَيَّةٌ قَدْ جَاءَتْ تَخَلَّلُ الرُّءُوسَ حَتَّى دَخَلَتْ فِي مَنْخَرَىْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ فَمَكَثَتْ هُنَيْهَةً ثُمَّ خَرَجَتْ فَذَهَبَتْ حَتَّى تَغَيَّبَتْ ثُمَّ قَالُوا قَدْ جَاءَتْ قَدْ جَاءَتْ ‏.‏ فَفَعَلَتْ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عمارہ بن عمیر کہتے ہیں کہ جب عبیداللہ بن زیاد اور اس کے ساتھیوں کے سر لائے گئے ۱؎ اور کوفہ کی ایک مسجد میں انہیں ترتیب سے رکھ دیا گیا اور میں وہاں پہنچا تو لوگ یہ کہہ رہے تھے: آیا آیا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سانپ سروں کے بیچ سے ہو کر آیا اور عبیداللہ بن زیاد کے دونوں نتھنوں میں داخل ہو گیا اور تھوڑی دیر اس میں رہا پھر نکل کر چلا گیا، یہاں تک کہ غائب ہو گیا، پھر لوگ کہنے لگے: آیا آیا، اس طرح دو یا تین بار ہوا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated 'Umarah bin 'Umair:"When the heads of 'Ubaidullah bin Ziyad and his companions were brought, they were stacked in the Masjid at Ar-Rahbah. So I came to them and they were saying: 'It has come, it has come." And behold, there was a snake going between the heads, until it entered the nostrils of 'Ubaidullah bin Ziyad, and it remained there momentarily, then left and went until it had disappeared. Then they said: 'It has come, it has come.' So it did that two or three times

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:179

Hadith #3781
SahihSahihHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ سَأَلَتْنِي أُمِّي مَتَى عَهْدُكَ - تَعْنِي - بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقُلْتُ مَا لِي بِهِ عَهْدٌ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَنَالَتْ مِنِّي فَقُلْتُ لَهَا دَعِينِي آتِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأُصَلِّيَ مَعَهُ الْمَغْرِبَ وَأَسْأَلُهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي وَلَكِ ‏.‏ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ فَصَلَّى حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ انْفَتَلَ فَتَبِعْتُهُ فَسَمِعَ صَوْتِي فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذَا حُذَيْفَةُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا حَاجَتُكَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلأُمِّكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذَا مَلَكٌ لَمْ يَنْزِلِ الأَرْضَ قَطُّ قَبْلَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَىَّ وَيُبَشِّرَنِي بِأَنَّ فَاطِمَةَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ ‏.‏

Urdu Translation

حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے میری والدہ نے پوچھا: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حال ہی میں کب گئے تھے؟ میں نے کہا: اتنے اتنے دنوں سے میں ان کے پاس نہیں جا سکا ہوں، تو وہ مجھ پر خفا ہوئیں، میں نے ان سے کہا: اب مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے دیجئیے میں آپ کے ساتھ نماز مغرب پڑھوں گا اور آپ سے میں اپنے اور آپ کے لیے دعا مغفرت کی درخواست کروں گا، چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے ساتھ مغرب پڑھی پھر آپ ( نوافل ) پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ نے عشاء پڑھی، پھر آپ لوٹے تو میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے پیچھے چلا، آپ نے میری آواز سنی تو فرمایا: ”کون ہو؟ حذیفہ؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، حذیفہ ہوں، آپ نے فرمایا: «ما حاجتك غفر الله لك ولأمك» ”کیا بات ہے؟ بخشے اللہ تمہیں اور تمہاری ماں کو“ ( پھر ) آپ نے فرمایا: ”یہ ایک فرشتہ تھا جو اس رات سے پہلے زمین پر کبھی نہیں اترا تھا، اس نے اپنے رب سے مجھے سلام کرنے اور یہ بشارت دینے کی اجازت مانگی کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن و حسین رضی الله عنہما اہل جنت کے جوانوں ( یعنی جو دنیا میں جوان تھے ان ) کے سردار ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسرائیل کی روایت سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated Hudhaifah :"My mother asked me: 'When is your planned time - meaning with the Prophet (ﷺ)?' So I said: 'I have not had a planned time to see him since such and such time.' She rebuked me, so I said to her: 'Let me go to the Prophet (ﷺ) so that I may perform Maghrib (prayer) with him, and ask him to seek forgiveness for you and I.' So I came to the Prophet (ﷺ), and I prayed Maghrib with him, then he prayed until he prayed Al-'Isha. Then he turned, and I followed him, and he heard my voice, and said: 'Who is this? Hudhaifah?' I said: 'Yes.' He said: "What is your need, may Allah forgive you and your mother?' He said: 'Indeed, this is an angel that never descended to the earth ever before tonight. He sought permission from his Lord to greet me with peace and to give me the glad tidings that Fatimah is the chief of the women of Paradise, and that Al-Hasan and Al-Husain are the chiefs of the youths of the people of Paradise

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:180

Hadith #3782
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَبْصَرَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

براء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین رضی الله عنہما کو دیکھا تو فرمایا: «اللهم إني أحبهما فأحبهما» ”اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان دونوں سے محبت فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Al-Bara:that the Prophet (ﷺ) saw Hasan and Husain, so he said: "O Allah, I love them, so love them

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:181

Hadith #3783
SahihSahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَاضِعًا الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ وَهُوَ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الْفُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ ‏.‏

Urdu Translation

براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنے کندھے پر حسن بن علی رضی الله عنہما کو بٹھائے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے: «اللهم إني أحبه فأحبه» ”اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور یہ فضیل بن مرزوق کی ( مذکورہ ) روایت سے زیادہ صحیح ہے ۱؎۔

English Translation

Narrated Al-Bara bin 'Azib:"I saw the Prophet (ﷺ) placing Al-Hasan bin 'Ali upon his shoulder while saying: 'O Allah, I love him, so love him

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:182

Hadith #3784
DaifDaifDaifDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَامِلَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ فَقَالَ رَجُلٌ نِعْمَ الْمَرْكَبُ رَكِبْتَ يَا غُلاَمُ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَنِعْمَ الرَّاكِبُ هُوَ ‏"‏ ‏. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَزَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ قَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسین بن علی رضی الله عنہما کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے تو ایک شخص نے کہا: بیٹے! کیا ہی اچھی سواری ہے جس پر تو سوار ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور سوار بھی کیا ہی اچھا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- زمعہ بن صالح کی بعض محدثین نے ان کے حفظ کے تعلق سے تضعیف کی ہے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Abbas:that the Messenger of Allah (ﷺ) was carrying Al-Hasan bin 'Ali upon his shoulder, so a man said: "What an excellent mount you are riding, O child." So the Prophet (ﷺ) said: "And what an excellent rider he is

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:183

Hadith #3785
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ كَثِيرٍ النَّوَّاءِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ نَجْبَةَ، قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ كُلَّ نَبِيٍّ أُعْطِيَ سَبْعَةَ نُجَبَاءَ أَوْ نُقَبَاءَ وَأُعْطِيتُ أَنَا أَرْبَعَةَ عَشَرَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا مَنْ هُمَ قَالَ أَنَا وَابْنَاىَ وَجَعْفَرٌ وَحَمْزَةُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَبِلاَلٌ وَسَلْمَانُ وَعَمَّارٌ وَالْمِقْدَادُ وَ حُذَيْفَةُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفًا ‏.‏

Urdu Translation

علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کو اللہ نے سات نقیب عنایت فرمائے ہیں، اور مجھے چودہ“، ہم نے عرض کیا: وہ کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”میں، میرے دونوں نواسے، جعفر، حمزہ، ابوبکر، عمر، مصعب بن عمیر، بلال، سلمان، مقداد، حذیفہ، عمار اور عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہم“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث علی رضی الله عنہ سے موقوفاً بھی آئی ہے۔

English Translation

Narrated Al-Musayyab bin Najabah:"'Ali bin Abi Talib said: 'The Prophet SAW said: "Indeed every Prophet is given seven select attendants" - or he said: "guards" - "and I was given fourteen." We said: "Who are they?" He said: 'Myself, my two sons (Al-Hasan and Al-Husain), Ja'far, Hamzah, Abu Bakr, 'Umar, Mus'ab bin 'Umair, Bilal, Salman, 'Ammar, Al-Miqdad, Hudhaifah, Abu Dharr, and 'Abdullah bin Mas'ud

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:184

Hadith #3786
SahihSahihHasanDaif

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ، هُوَ الأَنْمَاطِيُّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّتِهِ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ يَخْطُبُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏ "‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا كِتَابَ اللَّهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي ‏"‏ ‏.‏وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَأَبِي سَعِيدٍ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَزَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ قَدْ رَوَى عَنْهُ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں عرفہ کے دن دیکھا، آپ اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہو کر خطبہ دے رہے تھے، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اے لوگو! میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: ایک اللہ کی کتاب ہے دوسرے میری «عترت» یعنی اہل بیت ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- زید بن حسن سے سعید بن سلیمان اور متعدد اہل علم نے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابوذر، ابو سعید خدری، زید بن ارقم اور حذیفہ بن اسید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Jabir bin 'Abdullah:"I saw the Messenger of Allah during his Hajj, on the Day of 'Arafah. He was upon his camel Al-Qaswa, giving a Khutbah, so he said: 'O people! Indeed, I have left among you, that which if you hold fast to it, you shall not go astray: The Book of Allah and my family, the people of my house

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:185

Hadith #3787
SahihSahihSahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَصْبَهَانِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، رَبِيبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلمَّ ‏:‏ ‏(‏ إنمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ‏)‏ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ فَدَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَجَلَّلَهُمْ بِكِسَاءٍ وَعَلِيٌّ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَجَلَّلَهُ بِكِسَاءٍ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ هَؤُلاَءِ أَهْلُ بَيْتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَأَنَا مَعَهُمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ أَنْتِ عَلَى مَكَانِكِ وَأَنْتِ إِلَيَّ خَيْرٍ ‏"‏ ‏. وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ وَأَبِي الْحَمْرَاءِ وَأَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے «ربيب» (پروردہ) عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» ”اے اہل بیت النبوۃ! اللہ چاہتا ہے کہ تم سے ( کفر و شرک ) کی گندگی دور کر دے، اور تمہاری خوب تطہیر کر دے“ ( الاحزاب: ۳۳ ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں اتریں تو آپ نے فاطمہ اور حسن و حسین رضی الله عنہم کو بلایا اور آپ نے انہیں ایک چادر میں ڈھانپ لیا اور علی رضی الله عنہ آپ کی پشت مبارک کے پیچھے تھے تو آپ نے انہیں بھی چادر میں چھپا لیا، پھر فرمایا: «اللهم هؤلاء أهل بيتي فأذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا» ”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں تو ان کی ناپاکی کو دور فرما دے اور انہیں اچھی طرح پاک کر دے“، ام سلمہ نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں، آپ نے فرمایا: ”تو اپنی جگہ پر رہ اور تو بھی نیکی پر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- اس باب میں ام سلمہ، معقل بن یسار، ابوحمراء اور انس رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated 'Umar bin Abi Salamah - the step-son of the Prophet (ﷺ):"When these Ayat were revealed to the Prophet (ﷺ): 'Allah only wishes to remove the Rijs from you, O members of the family, and to purify you with a thorough purification...' (33:33) in the home of Umm Salamah, he called for Fatimah, Hasan, Husain, and wrapped them in a cloak, and 'Ali was behind him, so he wrapped him in the cloak, then he said: 'O Allah! These are the people of my house, so remove the Rijs from them, and purify them with a thorough purification.' So Umm Salamah said: 'And am I with them O Messenger of Allah?' He said: 'You are in your place, and you are more virtuous to me

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:186

Hadith #3788
SahihSahihDaif

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، - الْكُوفِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَالأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي أَحَدُهُمَا أَعْظَمُ مِنَ الآخَرِ كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي وَلَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَىَّ الْحَوْضَ فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

زید بن ارقم رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم میں ایسی چیز چھوڑنے والا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: ان میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے اور وہ اللہ کی کتاب ہے گویا وہ ایک رسی ہے جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے، اور دوسری میری «عترت» یعنی میرے اہل بیت ہیں یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گے، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے، تو تم دیکھ لو کہ ان دونوں کے سلسلہ میں تم میری کیسی جانشینی کر رہے ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated Zaid bin Arqam, may Allah be pleased with both of them:that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Indeed, I am leaving among you, that which if you hold fast to them, you shall not be misguided after me. One of them is greater than the other: The Book of Allah is a rope extended from the sky to the earth, and my family - the people of my house - and they shall not split until they meet at the Hawd, so look at how you deal with them after me

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:187

Hadith #3789
DaifDaifHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ الأَشْعَثِ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ النَّوْفَلِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَحِبُّوا اللَّهَ لِمَا يَغْذُوكُمْ مِنْ نِعَمِهِ وَأَحِبُّونِي بِحُبِّ اللَّهِ وَأَحِبُّوا أَهْلَ بَيْتِي لِحُبِّي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا ��َدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے محبت کرو کیونکہ وہ تمہیں اپنی نعمتیں کھلا رہا ہے، اور محبت کرو مجھ سے اللہ کی خاطر، اور میرے اہل بیت سے میری خاطر“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated Ibn 'Abbas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Love Allah for what He nourishes you with of His Blessings, love me due to the love of Allah, and love the people of my house due to love of me

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:188

Hadith #3790
SahihSahihSahih

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ دَاوُدَ الْعَطَّارِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلاَلِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَقْرَؤُهُمْ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو قِلاَبَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَالْمَشْهُورُ حَدِيثُ أَبِي قِلاَبَةَ ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں اور اللہ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں، اور سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان بن عفان ہیں، اور حلال و حرام کے سب سے بڑے جانکار معاذ بن جبل ہیں، اور فرائض ( میراث ) کے سب سے زیادہ جاننے والے زید بن ثابت ہیں، اور سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں، اور ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں ۲- اسے ابوقلابہ نے انس کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کیا ہے اور مشہور ابوقلابہ والی روایت ہے۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The most merciful of my nation to my nation is Abu Bakr, and the most severe of them concerning the order of Allah is 'Umar, and the most truly modest of them is 'Uthman bin 'Affan. The most knowledgeable of them concerning the lawful and unlawful is Mu'adh Bin Jabal, the most knowledgeable of them concerning (the laws of) inheritance is Zaid bin Thabit, the best reciter (of the Qur'an) among them is Ubayy bin Ka'b, and every nation has a trustworthy one, and the trustworthy one of this nation is Abu 'Ubaidah Bin Al-Jarrah

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:189

Hadith #3791
Hasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلاَلِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ أَلاَ وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا وَإِنَّ أَمِينَ هَذِهِ الأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں اور اللہ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں اور سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان ہیں اور اللہ کی کتاب کے سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں اور فرائض ( میراث ) کے سب سے بڑے جانکار زید بن ثابت ہیں اور حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل ہیں اور سنو ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The most merciful of my nation to my nation is Abu Bakr, and the most severe of them concerning the order of Allah is 'Umar, and the most truly modest of them is 'Uthman bin 'Affan. The best reciter (of the Qur'an) among them is Ubayy bin Ka'b, the most knowledgeable of them concerning (the laws of) inheritance is Zaid bin Thabit, the most knowledgeable of them concerning the lawful and the unlawful is Mu'adh bin Jabal. Truly, every nation has a trustworthy one, and the trustworthy one of this nation is Abu 'Ubaidah bin Al-Jarrah

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:190

Hadith #3792
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ ‏:‏ ‏(‏ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا ‏)‏ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَسَمَّانِي قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ فَبَكَى ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ نَحْوَهُ ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں «لم يكن الذين كفروا» ۱؎ پڑھ کر سناؤں، انہوں نے عرض کیا: کیا اس نے میرا نام لیا ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں ( یہ سن کر ) وہ رو پڑے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی“۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said to Ubayy bin Ka'b: "Indeed Allah ordered me to recite to you: Those who disbelieve were not going to... (98:1) He said: "And He named me?" He said: "Yes." So he wept

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:191

Hadith #3793
Hasan SahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَرَأَ عَلَيْهِ‏:‏ ‏(‏ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ‏)‏ فَقَرَأَ فِيهَا ‏"‏ إِنَّ ذَاتَ الدِّينِ عِنْدَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ الْمُسْلِمَةُ لاَ الْيَهُودِيَّةُ وَلاَ النَّصْرَانِيَّةُ مَنْ يَعْمَلْ خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَرَأَ عَلَيْهِ ‏"‏ وَلَوْ أَنَّ لاِبْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ لاَبْتَغَى إِلَيْهِ ثَانِيًا وَلَوْ كَانَ لَهُ ثَانِيًا لاَبْتَغَى إِلَيْهِ ثَالِثًا وَلاَ يَمْلأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلاَّ التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأُبَىٍّ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں پڑھ کر سناؤں“، پھر آپ نے انہیں «لم يكن الذين كفروا من أهل الكتاب» پڑھ کر سنایا، اور اس میں یہ بھی پڑھا ۱؎ «إن ذات الدين عند الله الحنيفية المسلمة لا اليهودية ولا النصرانية من يعمل خيرا فلن يكفره» ”بیشک دین والی ۲؎ اللہ کے نزدیک تمام ادیان و ملل سے رشتہ کاٹ کر اللہ کی جانب یکسو ہو جانے والی مسلمان عورت ہے نہ کہ یہودی اور نصرانی عورت جو کوئی نیکی کا کام کرے تو وہ ہرگز اس کی ناقدری نہ کرے“، اور آپ نے ان کے سامنے یہ بھی پڑھا: ۳؎ «ولو أن لابن آدم واديا من مال لابتغى إليه ثانيا ولو كان له ثانيا لابتغى إليه ثالثا ولا يملأ جوف ابن آدم إلا التراب ويتوب الله على من تاب» ”اگر ابن آدم کے پاس مال کی ایک وادی ہو تو وہ دوسری وادی کی خواہش کرے گا اور اگر اسے دوسری بھی مل جائے تو وہ تیسری چاہے گا، اور آدم زادہ کا پیٹ صرف خاک ہی بھر سکے گی ۴؎، اور جو توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے، ۳- اسے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابزی نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور انہوں نے ابی بن کعب سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں“، ۴- قتادہ نے انس سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے فرمایا کہ ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں“۔

English Translation

Narrated Ubayy bin Ka'b:that the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: "Indeed, Allah ordered me to recite to you, so he recited in it: "Those who disbelieve from amongst the People of the Book were not going to...'" (And he) also recited in it, "Indeed, the religion with Allah is Al-Hanafiyyah, the Muslim, not Judaism, nor Christianity, whoever does good, it shall not be rejected from him." And he recited to him: "And if the son of Adam had a valley-full of wealth, he would seek a second, and if he had a second, he would seek a third, and nothing fills the belly of the son of Adam except for dirt. And Allah pardons those who repent

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:192

Hadith #3794
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعَةٌ كُلُّهُمْ مِنَ الأَنْصَارِ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَبُو زَيْدٍ ‏.‏ قُلْتُ لأَنَسٍ مَنْ أَبُو زَيْدٍ قَالَ أَحَدُ عُمُومَتِي ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں قرآن کو چار آدمیوں نے جمع کیا اور وہ سب کے سب انصار میں سے ہیں: ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابوزید ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Qatadah:that Anas bin Malik said: "Four gathered the Qur'an during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), all of them are from the Ansar: Ubayy bin Ka'b, Mu'adh bin Jabal, Zaid bin Thabit, and Abu Zaid." I said to Anas: "Who is Abu Zaid?" He said: "One of my uncles

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:193

Hadith #3795
SahihSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو بَكْرٍ نِعْمَ الرَّجُلُ عُمَرُ نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ نِعْمَ الرَّجُلُ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ نِعْمَ الرَّجُلُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلٍ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہی اچھے لوگ ہیں ابوبکر، عمر، ابوعبیدہ بن جراح، اسید بن حضیر، ثابت بن قیس بن شماس، معاذ بن جبل اور معاذ بن عمرو بن جموح“ ( رضی الله عنہم ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے ہم اسے صرف سہیل کی روایت سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "What an excellent man is Abu Bakr, what an excellent man is 'Umar, what an excellent man is Abu 'Ubaidah bin Al-Jarrah, what an excellent man is Usaid bin Hudair, what an excellent man is Thabit bin Qais bin Shammas, what an excellent man is Mua'dh bin Jabal, and what an excellent man is Mu'adh bin 'Amr bin Al-Jamuh

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:194

Hadith #3796
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ جَاءَ الْعَاقِبُ وَالسَّيِّدُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالاَ ابْعَثْ مَعَنَا أَمِينًا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ فَإِنِّي سَأَبْعَثُ مَعَكُمْ أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ ‏"‏ ‏.‏ فَأَشْرَفَ لَهَا النَّاسُ فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ رضى الله عنه ‏.‏ قَالَ وَكَانَ أَبُو إِسْحَاقَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ صِلَةَ قَالَ سَمِعْتُهُ مُنْذُ سِتِّينَ سَنَةً ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ أَخْبَرَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ وَأَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ حُذَيْفَةُ قَلْبُ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ مِنْ ذَهَبٍ ‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ وَأَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک قوم کا نائب اور سردار دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور دونوں نے عرض کیا: ہمارے ساتھ آپ اپنا کوئی امین روانہ فرمائیں، تو آپ نے فرمایا: ”میں تمہارے ساتھ ایک ایسا امین بھیجوں گا جو حق امانت بخوبی ادا کرے گا“، تو اس کے لیے لوگوں کی نظریں اٹھ گئیں اور پھر آپ نے ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہ کو روانہ فرمایا۔ راوی حدیث ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں: جب وہ اس حدیث کو صلہ سے روایت کرتے تو کہتے ساٹھ سال ہوئے یہ حدیث میں نے ان سے سنی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابن عمر اور انس رضی الله عنہما کے واسطے سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں“۔

English Translation

Narrated Hudhaifah bin Al-Yaman:that Al-'Aqib and As-Sayyid (two of the leaders of the Christians of Najran) came to the Prophet (ﷺ) and said: "Send with us your trustworthy one." He said: "I shall send with you a trustworthy one who is truly a trustworthy one." So the people desired that, and he sent Abu 'Ubaidah, may Allah be pleased with him

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:195

Hadith #3797
DaifDaifHasanDaif

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ الإِيَادِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الْجَنَّةَ تَشْتَاقُ إِلَى ثَلاَثَةٍ عَلِيٍّ وَعَمَّارٍ وَسَلْمَانَ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت تین آدمیوں کی مشتاق ہے: علی، عمار، اور سلمان رضی الله عنہم کی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حسن بن صالح کی روایت سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Indeed, Paradise longs for three: 'Ali, 'Ammar, and Salman

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:196

Hadith #3798
SahihSahihHasan SahihHasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِىءِ بْنِ هَانِىءٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ جَاءَ عَمَّارٌ يَسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ ائْذَنُوا لَهُ مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمار نے آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: ”انہیں اجازت دے دو، مرحبا مرد پاک ذات و پاک صفات کو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated 'Ali:that 'Ammar bin Yasir came seeking permission to enter upon the Prophet (ﷺ) so he said: 'Permit him, greetings to the pure one, the purified

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:197

Hadith #3799
SahihSahih

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمار کو جب بھی دو باتوں کے درمیان اختیار دیا گیا تو انہوں نے اسی کو اختیار کیا جو ان دونوں میں سب سے بہتر اور حق سے زیادہ قریب ہوتی تھی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے عبدالعزیز بن سیاہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اور یہ ایک کوفی شیخ ہیں اور ان سے لوگوں نے روایت کی ہے، ان کا ایک لڑکا تھا جسے یزید بن عبدالعزیز کہا جاتا تھا، ان سے یحییٰ بن آدم نے روایت کی ہے۔

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:198

Hadith #3800
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَبْشِرْ عَمَّارُ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ‏"‏ ‏. وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِي الْيَسَرِ وَحُذَيْفَةَ ‏. وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمار! تمہیں ایک باغی جماعت قتل کرے گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث علاء بن عبدالرحمٰن کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ام سلمہ، عبدالرحمٰن بن عمرو، ابویسر اور حذیفہ رضی الله عنہم احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Rejoice, 'Ammar, the transgressing party shall kill you

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:200

Hadith #3801
SahihSahihHasanHasan

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ، هُوَ أَبُو الْيَقْظَانِ عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ وَلاَ أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ أَصْدَقَ مِنْ أَبِي ذَرٍّ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَأَبِي ذَرٍّ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”آسمان نے کسی پر سایہ نہیں کیا اور نہ زمین نے اپنے اوپر کسی کو پناہ دی جو ابوذر رضی الله عنہ سے زیادہ سچا ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابو الدرداء اور ابوذر سے حدیثیں آئی ہیں۔

English Translation

Narrated 'Abdullah bin 'Amr:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no one more truthful, that the sky has shaded and the earth has carried, than Abu Dharr

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:201

Hadith #3802
DaifDaifHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ، هُوَ سِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحَنَفِيُّ عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ وَلاَ أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ مِنْ ذِي لَهْجَةٍ أَصْدَقَ وَلاَ أَوْفَى مِنْ أَبِي ذَرٍّ شِبْهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ كَالْحَاسِدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَنَعْرِفُ ذَلِكَ لَهُ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ فَاعْرِفُوهُ لَهُ ‏"‏ ‏. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ ‏"‏ أَبُو ذَرٍّ يَمْشِي فِي الأَرْضِ بِزُهْدِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان نے کسی پر سایہ نہیں کیا اور نہ زمین نے کسی کو پناہ دی جو ابوذر سے – جو عیسیٰ بن مریم کے مشابہ ہیں – زیادہ زبان کا سچا اور اس کا پاس و لحاظ رکھنے والا ہو“، یہ سن کر عمر بن خطاب رضی الله عنہ رشک کے انداز میں بولے: اللہ کے رسول! کیا ہم یہ بات انہیں بتا دیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، بتا دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اور بعضوں نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ”ابوذر زمین پر عیسیٰ بن مریم کی زاہدانہ چال چلتے ہیں“۔

English Translation

Narrated Abu Dharr:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no one more truthful in speech, nor in fulfilling of promises, that sky has covered and the earth has carried, than Abu Dharr, the likeness of 'Eisa bin Mariam." So 'Umar bin Al-Khattab said, as if out of envy: "So do you acknowledge that for him, O Messenger of Allah?" He said: "Yes, so acknowledge it

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:202

Hadith #3803
Daif IsnaadDaif IsnaadDaif

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَيَّاةَ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَخِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ، قَالَ لَمَّا أُرِيدَ قَتْلُ عُثْمَانَ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ مَا جَاءَ بِكَ قَالَ جِئْتُ فِي نَصْرِكَ ‏.‏ قَالَ اخْرُجْ إِلَى النَّاسِ فَاطْرُدْهُمْ عَنِّي فَإِنَّكَ خَارِجًا خَيْرٌ لِي مِنْكَ دَاخِلاً ‏.‏ فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى النَّاسِ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ كَانَ اسْمِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فُلاَنٌ فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَبْدَ اللَّهِ وَنَزَلَتْ فِيَّ آيَاتٌ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَنَزَلَتْ فِيَّ ‏:‏ ‏(‏ وشهد شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ‏)‏ وَنَزَلَتْ فِيَّ ‏:‏ ‏(‏ قلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ ‏)‏ إِنَّ لِلَّهِ سَيْفًا مَغْمُودًا عَنْكُمْ وَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ قَدْ جَاوَرَتْكُمْ فِي بَلَدِكُمْ هَذَا الَّذِي نَزَلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاللَّهَ اللَّهَ فِي هَذَا الرَّجُلِ أَنْ تَقْتُلُوهُ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَتَلْتُمُوهُ لَتَطْرُدُنَّ جِيرَانَكُمُ الْمَلاَئِكَةَ وَلَتَسُلُّنَّ سَيْفَ اللَّهِ الْمَغْمُودَ عَنْكُمْ فَلاَ يُغْمَدُ عَنْكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‏.‏ قَالُوا اقْتُلُوا الْيَهُودِيَّ وَاقْتُلُوا عُثْمَانَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ فَقَالَ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کے بھتیجے کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے عثمان رضی الله عنہ کے قتل کا ارادہ کیا تو عبداللہ بن سلام عثمان رضی الله عنہ کے پاس آئے، عثمان رضی الله عنہ نے ان سے کہا: تم کیوں آئے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: میں آپ کی مدد کے لیے آیا ہوں تو آپ نے کہا: تم لوگوں کے پاس جاؤ اور انہیں میرے پاس آنے سے بھگاؤ کیونکہ تمہارا باہر رہنا میرے حق میں تمہارے اندر رہنے سے زیادہ بہتر ہے، چنانچہ عبداللہ بن سلام نکل کر لوگوں کے پاس آئے اور ان سے کہا: لوگو! میرا نام جاہلیت میں فلاں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام عبداللہ رکھا، اور میری شان میں اللہ کی کتاب کی کئی آیتیں نازل ہوئیں، چنانچہ «وشهد شاهد من بني إسرائيل على مثله فآمن واستكبرتم إن الله لا يهدي القوم الظالمين» ۱؎ «قل كفى بالله شهيدا بيني وبينكم ومن عنده علم الكتاب» ۲؎ میرے ہی سلسلہ میں اتری، اللہ کی تلوار میان میں ہے اور فرشتے تمہارے اس شہر مدینہ میں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے تمہارے ہمسایہ ہیں، لہٰذا تم اس شخص کے قتل میں اللہ سے ڈرو، قسم اللہ کی! اگر تم نے اسے قتل کر دیا، تم اپنے ہمسایہ فرشتوں کو اپنے پاس سے بھگا دو گے، اور اللہ کی تلوار کو جو میان میں ہے باہر کھینچ لو گے، پھر وہ قیامت تک میان میں نہیں آ سکے گی تو لوگ ان کی یہ نصیحت سن کر بولے: اس یہودی کو قتل کرو اور عثمان کو بھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالملک بن عمیر کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- شعیب بن صفوان نے بھی حدیث عبدالملک بن عمیر سے روایت کی ہے، انہوں نے سند میں «عن ابن محمد بن عبد الله بن سلام عن جده عبد الله بن سلام» کہا ہے۔

English Translation

Narrated 'Abdul-Malik bin 'Umair:from the nephew of 'Abdullah bin Salam who said: "When they were about to kill 'Uthman, 'Abdullah bin Salam came and 'Uthman said to him: 'What did you come for?' He said: 'I came to assist you.' He said: 'Go to the people to repel their advances against me. For verily your going is better to me than your entering here.' So 'Abdullah went to the people and said: 'O you people! During Jahiliyyah I was named so-and-so, then the Messenger of Allah (ﷺ) named me 'Abdullah, and some Ayat from the Book of Allah were revealed about me. (The following) was revealed about me: "A witness from among the Children of Isra'il has testified to something similar and believed while you rejected. Verily, Allah does not guide the wrongdoing people. (46:10)" [And (the following) was revealed about me:] "Sufficient as a witness between me and you is Allah, and those too who have knowledge of the Scripture. (13:43)" Allah has sheathed the sword from you and the angels are your neighbors in this city of yours, the one in which the Revelation came to the Messenger of Allah (ﷺ). But by Allah! (Fear) Allah regarding this man; if you kill him, then by Allah! If you kill him, then you will cause the angels to remove your goodness from you, and to raise Allah's sheathed sword against you, such that it will never be sheathed again until the Day of Resurrection.'" He said: "They said: 'Kill the Jew and kill 'Uthman

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:203

Hadith #3804
SahihSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمِيرَةَ، قَالَ لَمَّا حَضَرَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ الْمَوْتُ قِيلَ لَهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَوْصِنَا ‏.‏ قَالَ أَجْلِسُونِي ‏.‏ فَقَالَ إِنَّ الْعِلْمَ وَالإِيمَانَ مَكَانَهُمَا مَنِ ابْتَغَاهُمَا وَجَدَهُمَا يَقُولُ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَالْتَمِسُوا الْعِلْمَ عِنْدَ أَرْبَعَةِ رَهْطٍ عِنْدَ عُوَيْمِرٍ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَعِنْدَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ الَّذِي كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّهُ عَاشِرُ عَشَرَةٍ فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏. وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

یزید بن عمیرہ کہتے ہیں کہ جب معاذ بن جبل رضی الله عنہ کے مرنے کا وقت آیا تو ان سے کہا گیا: اے ابوعبدالرحمٰن! ہمیں کچھ وصیت کیجئے، تو انہوں نے کہا: مجھے بٹھاؤ، پھر بولے: علم اور ایمان دونوں اپنی جگہ پر قائم ہیں جو انہیں ڈھونڈے گا ضرور پائے گا، انہوں نے اسے تین بار کہا، پھر بولے: علم کو چار آدمیوں کے پاس ڈھونڈو: عویمر ابو الدرداء کے پاس، سلمان فارسی کے پاس، عبداللہ بن مسعود کے پاس اور عبداللہ بن سلام کے پاس، ( جو یہودی تھے پھر اسلام لائے ) کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ ان دس لوگوں میں سے ہیں جو جنتی ہیں ۱؎۔

English Translation

Narrated Yazid bin 'Umairah:"When death was upon Mu'adh bin Jabal, it was said to him: 'O Abu 'Abdur-Rahman, advise us.' He said: 'Sit me up.' So he said: 'Indeed, knowledge and faith are at their place, whoever desires them shall find them.' He said that three times. 'And seek knowledge from four men: 'Uwaimir Abu Ad-Darda, with Salman Al-Farisi, with 'Abdullah bin Mas'ud, and with 'Abdullah bin Salam who used to be a Jew and then accepted Islam. For indeed, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying, "Indeed he is the tenth of ten in Paradise

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:204

Hadith #3805
SahihSahihHasan

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي مِنْ أَصْحَابِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَاهْتَدُوا بِهَدْىِ عَمَّارٍ وَتَمَسَّكُوا بِعَهْدِ ابْنِ مَسْعُودٍ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ‏.‏ وَيَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ وَأَبُو الزَّعْرَاءِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئٍ وَأَبُو الزَّعْرَاءِ الَّذِي رَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَابْنُ عُيَيْنَةَ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ أَخِي أَبِي الأَحْوَصِ صَاحِبُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے اصحاب میں سے میرے بعد ہوں گے یعنی ابوبکر و عمر کی، اور عمار کی روش پر چلو، اور ابن مسعود کے عہد ( وصیت ) کو مضبوطی سے تھامے رہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف یحییٰ بن سلمہ بن کہیل کی روایت سے جانتے ہیں، اور یحییٰ بن سلمہ حدیث میں ضعیف ہیں، ۳- ابوالزعراء کا نام عبداللہ بن ہانی ٔ ہے، اور وہ ابوالزعراء جن سے شعبہ، ثوری اور ابن عیینہ نے روایت کی ہے ان کا نام عمرو بن عمرو ہے، اور وہ عبداللہ بن مسعود کے شاگرد ابوالاحوص کے بھتیجے ہیں۔

English Translation

Narrated Ibn Mas'ud:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Take as examples the two after me from my Companions, Abu Bakr and 'Umar. And act upon the guidance of 'Ammar, and hold fast to the advice of Ibn Mas'ud

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:205

Hadith #3806
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مُوسَى، يَقُولُ لَقَدْ قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي، مِنَ الْيَمَنِ وَمَا نُرَى حِينًا إِلاَّ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِمَا نَرَى مِنْ دُخُولِهِ وَدُخُولِ أُمِّهِ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ‏.‏

Urdu Translation

اسود بن یزید سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے بھائی دونوں یمن سے آئے تو ہم ایک عرصہ تک یہی سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ اہل بیت ہی کے ایک فرد ہیں، کیونکہ ہم انہیں اور ان کی والدہ کو کثرت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( ان کے گھر میں ) آتے جاتے دیکھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- سفیان ثوری نے بھی اسے ابواسحاق سے روایت کیا ہے۔

English Translation

Narrated Abu Musa:"My brother and I arrived from Yemen, and we did not see a period except that we thought 'Abdullah bin Mas'ud was a man from the people of the house of the Prophet (ﷺ), due to what we would see of him entering, and his mother's entering, upon the Prophet (ﷺ)

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:206

Hadith #3807
SahihSahihHasan SahihSahih Bukhari

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ أَتَيْنَا عَلَى حُذَيْفَةَ فَقُلْنَا حَدِّثْنَا مَنْ، بِأَقْرَبِ النَّاسِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَدْيًا وَدَلاًّ فَنَأْخُذَ عَنْهُ وَنَسْمَعَ مِنْهُ قَالَ كَانَ أَقْرَبَ النَّاسِ هَدْيًا وَدَلاًّ وَسَمْتًا بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ابْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى يَتَوَارَى مِنَّا فِي بَيْتِهِ وَلَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ هُوَ مِنْ أَقْرَبِهِمْ إِلَى اللَّهِ زُلْفَى ‏. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ ہم حذیفہ رضی الله عنہ کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا: آپ ہمیں بتائیے کہ لوگوں میں چال ڈھال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے قریب کون ہے کہ ہم اس کے طور طریقے کو اپنائیں، اور اس کی باتیں سنیں؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگوں میں چال ڈھال اور طور طریقے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے قریب ابن مسعود رضی الله عنہ ہیں، یہاں تک کہ وہ ہم سے اوجھل ہو کر آپ کے گھر کے اندر بھی جایا کرتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو جو کسی طرح کی تحریف یا نسیان سے محفوظ ہیں یہ بخوبی معلوم ہے کہ ام عبد کے بیٹے یعنی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ ان سب میں اللہ سے سب سے نزدیک ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated 'Abdur-Rahman bin Yazid:"We came to Hudhaifah and said: 'Inform us of the closest to the Messenger of Allah (ﷺ) in guidance and conduct, so that we may take from him and hear from him.' He said: 'The closest of the people in guidance, conduct, and character used to be 'Abdullah bin Mas'ud, until he would hide from us in his house. And the guarded ones (guarded by Allah from straying in word and deed) from the Companions of Muhammad (ﷺ) know that Ibn Umm 'Abd (a nickname for 'Abdullah bin Mas'ud) is from among the most intimately close to Allah of them

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:207

Hadith #3808
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ أَخْبَرَنَا صَاعِدٌ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا مِنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنْهُمْ لأَمَّرْتُ عَلَيْهِمُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ ‏.‏

Urdu Translation

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں بغیر مشورہ کے ان میں سے کسی کو امیر بناتا تو ام عبد کے بیٹے ( عبداللہ بن مسعود ) کو امیر بناتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف حارث کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ علی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں۔

English Translation

Narrated 'Ali:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "If I was going to appoint anyone of them as a leader without any consultation, I would appoint Ibn Umm 'Abd over them

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:208

Hadith #3809
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا مِنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ لأَمَّرْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں بغیر مشورہ کے کسی کو امیر بناتا تو ام عبد کے بیٹے ( عبداللہ بن مسعود ) کو امیر بناتا“۔

English Translation

Narrated 'Ali:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "If I was going to appoint anyone as a leader without any consultation, I would appoint Ibn Umm 'Abd

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:209

Hadith #3810
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ‏"‏ ‏. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن مجید چار لوگوں سے سیکھو: ابن مسعود، ابی بن کعب، معاذ بن جبل، اور سالم مولی ابی حذیفہ سے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated 'Abdullah bin 'Amr:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Take the Qur'an from four: From Ibn Mas'ud, Ubayy bin Ka'b, Mu'adh bin Jabal, and Salim the freed slave of Abu Hudhaifah

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:210

Hadith #3811
SahihSahihHasan SahihDaif

حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ الْبَصْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ، قَالَ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَيَسَّرَ لِي أَبَا هُرَيْرَةَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ إِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَوُفِّقْتَ لِي ‏.‏ فَقَالَ لِي مِنْ أَيْنَ أَنْتَ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ جِئْتُ أَلْتَمِسُ الْخَيْرَ وَأَطْلُبُهُ ‏.‏ قَالَ أَلَيْسَ فِيكُمْ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ مُجَابُ الدَّعْوَةِ وَابْنُ مَسْعُودٍ صَاحِبُ طَهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَعْلَيْهِ وَحُذَيْفَةُ صَاحِبُ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَمَّارُ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ وَسَلْمَانُ صَاحِبُ الْكِتَابَيْنِ ‏.‏ قَالَ قَتَادَةُ وَالْكِتَابَانِ الإِنْجِيلُ وَالْقُرْآنُ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَخَيْثَمَةُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ نُسِبَ إِلَى جَدِّهِ ‏.‏

Urdu Translation

خیثمہ بن ابی سبرہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو میں نے اللہ سے اپنے لیے ایک صالح ہم نشیں پانے کی دعا کی، چنانچہ اللہ نے مجھے ابوہریرہ رضی الله عنہ کی ہم نشینی کی توفیق بخشی ۱؎، میں ان کے پاس بیٹھنے لگا تو میں نے ان سے عرض کیا: میں نے اللہ سے اپنے لیے ایک صالح ہم نشیں کی توفیق مرحمت فرمانے کی دعا کی تھی، چنانچہ مجھے آپ کی ہم نشینی کی توفیق ملی ہے، انہوں نے مجھ سے پوچھا: تم کہاں کے ہو؟ میں نے عرض کیا: میرا تعلق اہل کوفہ سے ہے اور میں خیر کی تلاش و طلب میں یہاں آیا ہوں، انہوں نے کہا: کیا تمہارے یہاں سعد بن مالک جو مستجاب الدعوات ہیں ۲؎ اور ابن مسعود جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کے پانی کا انتظام کرنے والے اور آپ کے کفش بردار ہیں اور حذیفہ جو آپ کے ہمراز ہیں اور عمار جنہیں اللہ نے شیطان سے اپنے نبی کی زبانی پناہ دی ہے اور سلمان جو دونوں کتابوں والے ہیں موجود نہیں ہیں۔ راوی حدیث قتادہ کہتے ہیں: کتابان سے مراد انجیل اور قرآن ہیں ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- خیثمہ یہ عبدالرحمٰن بن ابوسبرہ کے بیٹے ہیں ان کی نسبت ان کے دادا کی طرف کر دی گئی ہے۔

English Translation

Narrated Khaithamah bin Abi Sabrah:"I came to Al-Madinah, so I asked Allah to make it easy for me to sit with one who is righteous. He made Abu Hurairah accessible to me, so I sat with him and said to him: 'Indeed, I asked Allah to make it easy for me to sit with one who is righteous, and it is to you that I was guided.' So he said to me: 'From where are you?' I said: 'From the people of Al-Kufah, I came to search out good and to seek it.' So he said: 'Is there not among you Sa'd bin Malik whose supplication is answered, Ibn Mas'ud, the one who used to carry the water for purification and the sandals of the Messenger of Allah (ﷺ), and Hudhaifah, the keeper of the secrets of the Messenger of Allah (ﷺ), and 'Ammar whom Allah has guarded from Shaitan upon the tongue of His Prophet, and Salman the companion of the Two Books?

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:211

Hadith #3812
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اسْتَخْلَفْتَ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ إِنِ اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْكُمْ فَعَصَيْتُمُوهُ عُذِّبْتُمْ وَلَكِنْ مَا حَدَّثَكُمْ حُذَيْفَةُ فَصَدِّقُوهُ وَمَا أَقْرَأَكُمْ عَبْدُ اللَّهِ فَاقْرَءُوهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَقُلْتُ لإِسْحَاقَ بْنِ عِيسَى يَقُولُونَ هَذَا عَنْ أَبِي وَائِلٍ ‏.‏ قَالَ لاَ عَنْ زَاذَانَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهُوَ حَدِيثُ شَرِيكٍ ‏.‏

Urdu Translation

حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش! آپ اپنا جانشین مقرر فرما دیتے، آپ نے فرمایا: ”اگر میں نے اپنا جانشین مقرر کر دیا اور تم نے اس کی نافرمانی کی تو تم عذاب دیئے جاؤ گے، البتہ حذیفہ جو کچھ تم سے کہیں تم ان کی تصدیق کرو“، اور جو عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود ) ۱؎ تمہیں پڑھائیں انہیں پڑھ لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور یہ شریک کی روایت سے ہے۔

English Translation

Narrated Hudhaifah:that they said: "O Messenger of Allah, if you were to appoint someone as a successor." He said: "If I were to appoint a successor over you, and you were to disobey him, you would be punished. But whatever Hudhaifah narrates to you, then believe him, and whatever 'Abdullah teaches you to recite, then recite it

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:212

Hadith #3813
DaifDaifHasanHasan

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ فَرَضَ لأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فِي ثَلاَثَةِ آلاَفٍ وَخَمْسِمِائَةٍ وَفَرَضَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي ثَلاَثَةِ آلاَفٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لأَبِيهِ لِمَ فَضَّلْتَ أُسَامَةَ عَلَىَّ فَوَاللَّهِ مَا سَبَقَنِي إِلَى مَشْهَدٍ ‏.‏ قَالَ لأَنَّ زَيْدًا كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَبِيكَ وَكَانَ أُسَامَةُ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ مِنْكَ فَآثَرْتُ حُبَّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى حُبِّي ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

اسلم عدوی مولیٰ عمر سے روایت ہے کہ عمر رضی الله عنہ نے اسامہ بن زید رضی الله عنہما کے لیے بیت المال سے ساڑھے تین ہزار کا، وظیفہ مقرر کیا، اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے لیے تین ہزار کا تو عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نے اپنے باپ سے عرض کیا: آپ نے اسامہ کو مجھ پر ترجیح دی؟ اللہ کی قسم! وہ مجھ سے کسی غزوہ میں آگے نہیں رہے، تو انہوں نے کہا: اس لیے کہ زید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے باپ سے اور اسامہ تم سے زیادہ محبوب تھے، اس لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب کو اپنے محبوب پر ترجیح دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated Zaid bin Aslam:from his father, from 'Umar, that he ('Umar) granted a stipend of three-thousand and five-hundred to Usamah bin Zaid, and he granted three-thousand to 'Abdullah bin 'Umar. So 'Abdullah bin 'Umar said to his father: "Why have you given preference to Usamah over me? For by Allah, he has not preceded me to any battle." He said: "Because Zaid used to be more beloved to the Messenger of Allah (ﷺ) than your father, and Usamah was more beloved to the Messenger of Allah (ﷺ) than you. So I gave preference to the beloved of the Messenger of Allah (ﷺ) over my beloved

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:213

Hadith #3814
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مَا كُنَّا نَدْعُو زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ إِلاَّ زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَتَّى نَزَلَتْ ‏:‏ ‏(‏ ادعُوهُمْ لِأَبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ ‏)‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم زید بن حارثہ کو زید بن محمد ہی کہہ کر پکارتے تھے یہاں تک کہ آیت کریمہ «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله» ”تم متبنی ( لے پالک ) لوگوں کو ان کے اپنے باپوں کے نام پکارا کرو، یہی بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف بات ہے“ ( الاحزاب: ۵ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:"We called Zaid bin Harithah nothing but 'Zaid bin Muhammad' until the Qur'an was revealed (ordering): Call them by their fathers, that is more just according to Allah. (33:)

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:214

Hadith #3815
HasanHasanHasanDaif

حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ الْبَصْرِيُّ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الرُّومِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَبَلَةُ بْنُ حَارِثَةَ، أَخُو زَيْدٍ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْعَثْ مَعِي أَخِي زَيْدًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هُوَ ذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنِ انْطَلَقَ مَعَكَ لَمْ أَمْنَعْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ زَيْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لاَ أَخْتَارُ عَلَيْكَ أَحَدًا ‏.‏ قَالَ فَرَأَيْتُ رَأْىَ أَخِي أَفْضَلَ مِنْ رَأْيِي ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ الرُّومِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ‏.‏

Urdu Translation

زید بن حارثہ رضی الله عنہ کے بھائی جبلہ بن حارثہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے بھائی زید کو میرے ساتھ بھیج دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”وہ موجود ہیں اگر تمہارے ساتھ جانا چاہ رہے ہیں تو میں انہیں نہیں روکوں گا“، یہ سن کر زید نے کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں آپ کے مقابلہ میں کسی اور کو اختیار نہیں کر سکتا، جبلہ کہتے ہیں: تو میں نے دیکھا کہ میرے بھائی کی رائے میری رائے سے افضل تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابن رومی کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ علی بن مسہر سے روایت کرتے ہیں۔

English Translation

Narrated Jabalah bin Harithah, the brother of Zaid:"I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah, send my brother Zaid with me.' He said: 'Here he is.' He said: "'If he goes with you, I will not prevent him.' Zaid said: 'O Messenger of Allah, by Allah, I will not choose anyone over you.'" He said: "So I considered the view of my brother to be better than my own view

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:215

Hadith #3816
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَطَعَنَ النَّاسُ فِي إِمَارَتِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمْرَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلإِمَارَةِ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ وَإِنَّ هَذَا مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ بَعْدَهُ ‏"‏ ‏. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس کا امیر اسامہ بن زید کو بنایا تو لوگ ان کی امارت پر تنقید کرنے لگے چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ان کی امارت میں طعن کرتے ہو تو اس سے پہلے ان کے باپ کی امارت پر بھی طعن کر چکے ہو ۱؎، قسم اللہ کی! وہ ( زید ) امارت کے مستحق تھے اور وہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھے، اور ان کے بعد یہ بھی ( اسامہ ) لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) sent and army and put Usamah bin Zaid in charge of them. So the people contested his leadership, so the Prophet (ﷺ) said: 'If you contest his leadership, then you did contest the leadership of his father before him. And indeed, by Allah, he was certainly fit for leadership, and he was of the most beloved of people to me, and this one is among the most beloved of people to me after him

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:216

Hadith #3817
HasanHasanHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَبَطْتُ وَهَبَطَ النَّاسُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ أُصْمِتَ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَضَعُ يَدَيْهِ عَلَىَّ وَيَرْفَعُهُمَا فَأَعْرِفُ أَنَّهُ يَدْعُو لِي ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدید ہو گئی تو میں ( «جرف» سے ) اتر کر مدینہ آیا اور ( میرے ساتھ ) کچھ اور لوگ بھی آئے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اندر گیا تو آپ کی زبان بند ہو چکی تھی، پھر اس کے بعد آپ کچھ نہیں بولے، آپ اپنے دونوں ہاتھ میرے اوپر رکھتے اور اٹھاتے تھے تو میں یہی سمجھ رہا تھا کہ آپ میرے لیے دعا فرما رہے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated Muhammad bin Usamah bin Zaid:from his father, that he said: "When the Messenger of Allah (ﷺ) became weak, I marched and the people marched upon Al-Madinah. I entered upon the Messenger of Allah (ﷺ) and he was unable to speak (because of weakness), so he did not say anything. So the Messenger of Allah (ﷺ) began to place his hands upon me and then raise them up, so I knew he was supplicating for me

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:217

Hadith #3818
HasanHasanHasan SahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ أَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُنَحِّيَ مُخَاطَ أُسَامَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ دَعْنِي دَعْنِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَفْعَلُ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ يَا عَائِشَةُ أَحِبِّيهِ فَإِنِّي أُحِبُّهُ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ کی ناک پونچھنے کا ارادہ فرمایا ۱؎ تو میں نے کہا: آپ چھوڑیں میں صاف کئے دیتی ہوں، آپ نے فرمایا: ”عائشہ! تم اس سے محبت کرو کیونکہ میں اس سے محبت کرتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated 'Aishah, the Mother of the Believers:"The Prophet (ﷺ) wanted to wipe the running nose of Usamah." 'Aishah said: "Leave it to me so that I may be the one to do it." He said: "O 'Aishah, love him, for verily I love him

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:218

Hadith #3819
DaifDaifDaifIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَ عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسُ يَسْتَأْذِنَانِ فَقَالاَ يَا أُسَامَةُ اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسُ يَسْتَأْذِنَانِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَتَدْرِي مَا جَاءَ بِهِمَا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لاَ أَدْرِيَ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَكِنِّي أَدْرِي ‏"‏ ‏.‏ فَأَذِنَ لَهُمَا فَدَخَلاَ فَقَالاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ أَىُّ أَهْلِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ ‏"‏ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالاَ مَا جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ أَهْلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَحَبُّ أَهْلِي إِلَىَّ مَنْ قَدْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتُ عَلَيْهِ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالاَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ الله جَعَلْتَ عَمَّكَ آخِرَهُمْ قَالَ ‏"‏ لأَنَّ عَلِيًّا قَدْ سَبَقَكَ بِالْهِجْرَةِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَكَانَ شُعْبَةُ يُضَعِّفُ عُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ ‏.‏

Urdu Translation

اسامہ بن زید رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں علی اور عباس رضی الله عنہما دونوں اندر آنے کی اجازت مانگنے لگے، انہوں نے کہا: اسامہ! ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگو، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! علی اور عباس دونوں اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ کیوں آئے ہیں؟“ میں نے عرض کیا: میں نہیں جانتا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تو معلوم ہے“، پھر آپ نے انہیں اجازت دے دی وہ اندر آئے اور عرض کیا کہ ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ ہم آپ سے پوچھیں کہ آپ کے اہل میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”فاطمہ بنت محمد“، تو وہ دونوں بولے: ہم آپ کی اولاد کے متعلق نہیں پوچھتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”میرے گھر والوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جس پر اللہ نے انعام کیا اور میں نے انعام کیا ہے، اور وہ اسامہ بن زید ہیں“، وہ دونوں بولے: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: ”پھر علی بن ابی طالب ہیں“، عباس بولے: اللہ کے رسول! آپ نے اپنے چچا کو پیچھے کر دیا، آپ نے فرمایا: ”علی نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ: عمر بن ابی سلمہ کو ضعیف قرار دیتے تھے۔

English Translation

Narrated Usamah bin Zaid:"I was sitting [with the Prophet (ﷺ)] when 'Ali and Al-'Abbas came seeking permission to enter. They said: 'O Usamah, seek permission for us from the Messenger of Allah (ﷺ).' So I said: 'O Messenger of Allah, 'Ali and Al-'Abbas seek permission to enter.' He said: 'Do you know what has brought them?' I said: 'No [I do not know].' So the Prophet (ﷺ) said: 'But I know, grant them permission.' So they entered and said: 'O Messenger of Allah, we have come to you, to ask you which of your family is most beloved to you.' He said: 'Fatimah bint Muhammad.' So they said: 'We did not come to ask you about (immediate) family.' He said: 'The most beloved of my family to me is the one whom Allah favored and I favored, Usamah bin Zaid.' They said: 'Then who?' He said: 'Then 'Ali bin Abi Talib.' Al-'Abbas said: 'O Messenger of Allah, you have made your uncle the last of them.' He said: 'Indeed, 'Ali has preceded you in emigration

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:219

Hadith #3820
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو الأَزْدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلاَ رَآنِي إِلاَّ ضَحِكَ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( اجازت مانگنے پر اندر داخل ہونے سے ) منع نہیں فرمایا ۱؎ اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا آپ مسکرائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Jarir bin 'Abdullah:"The Messenger of Allah (ﷺ) never screened me since I accepted Islam, nor did he look at me except that he laughed

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:220

Hadith #3821
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلاَ رَآنِي إِلاَّ تَبَسَّمَ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سے میں اسلام لایا ہوں مجھے ( اندر جانے سے ) منع نہیں کیا اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا آپ مسکرائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Jarir:"The Messenger of Allah (ﷺ) never screened me since I accepted Islam, nor did he look at me except that he smiled

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:221

Hadith #3822
Daif IsnaadDaif IsnaadDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ مَرَّتَيْنِ وَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَرَّتَيْنِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ ‏.‏ وَلاَ نَعْرِفُ لأَبِي جَهْضَمٍ سَمَاعًا مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ وَأَبُو جَهْضَمٍ اسْمُهُ مُوسَى بْنُ سَالِمٍ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے جبرائیل علیہ السلام کو دو بار دیکھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دو مرتبہ دعائیں کیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث مرسل ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ ابوجہضم کا ابن عباس سے سماع ہے یا نہیں ۲- یہ حدیث عبیداللہ بن عبداللہ بن عباس سے بھی ابن عباس کے واسطہ سے آئی ہے، ۳- اور ابوجہضم کا نام موسیٰ بن سالم ہے۔

English Translation

Narrated Abu Jahdam:from Ibn 'Abbas that he saw Jibra'il (AS), two times and the Prophet (ﷺ) supplicated for him two times

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:222

Hadith #3823
SahihSahihHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ الْمُؤَدِّبُ، قَال حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ دَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُؤْتِيَنِي اللَّهُ الْحِكْمَةَ مَرَّتَيْنِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَطَاءٍ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بار مجھے حکمت سے نوازے جانے کی دعا فرمائی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے عطا کی روایت سے غریب ہے اور اسے عکرمہ نے ابن عباس سے روایت کیا ہے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Abbas:"The Messenger of Allah (ﷺ) supplicated for me that Allah should give me Al-Hukm (knowledge, understanding, judging justly, or understanding of the Qur'an) two times

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:223

Hadith #3824
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَال حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَال أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ضَمَّنِي إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سینے سے لگا کر فرمایا: «اللهم علمه الحكمة» ”اے اللہ! اسے حکمت سکھا دے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Abbas:"The Messenger of Allah (ﷺ) pulled me close to him and said: 'O Allah, teach him Al-Hikmah (wisdom)

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:224

Hadith #3825
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّمَا بِيَدِي قِطْعَةُ إِسْتَبْرَقٍ وَلاَ أُشِيرُ بِهَا إِلَى مَوْضِعٍ مِنَ الْجَنَّةِ إِلاَّ طَارَتْ بِي إِلَيْهِ فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ أَخَاكِ رَجُلٌ صَالِحٌ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ ‏"‏ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میرے ہاتھ میں موٹے ریشم کا ایک ٹکڑا ہے اور اس سے میں جنت کی جس جگہ کی جانب اشارہ کرتا ہوں تو وہ مجھے اڑا کر وہاں پہنچا دیتا ہے، تو میں نے یہ خواب ( ام المؤمنین ) حفصہ رضی الله عنہا سے بیان کیا پھر حفصہ رضی الله عنہا نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا: ”تیرا بھائی ایک مرد صالح ہے“ یا فرمایا: ”عبداللہ مرد صالح ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:"I had a dream in which I saw as if there was a piece of silk in my hand, and I would not gesture to any place in Paradise except that it would fly with me, (taking me) to it. So I told the dream to Hafsah, so she told it to the Prophet (ﷺ), so he said: 'Indeed, your brother is a righteous man,' or 'Indeed, 'Abdullah is a righteous man

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:225

Hadith #3826
HasanHasanHasanDaif

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى فِي بَيْتِ الزُّبَيْرِ مِصْبَاحًا فَقَالَ ‏ "‏ يَا عَائِشَةُ مَا أُرَى أَسْمَاءَ إِلاَّ قَدْ نَفِسَتْ فَلاَ تُسَمُّوهُ حَتَّى أُسَمِّيَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ بِيَدِهِ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خواب میں ) زبیر کے گھر میں ایک چراغ دیکھا تو آپ نے عائشہ رضی الله عنہا سے فرمایا: ”عائشہ! میں یہی سمجھا ہوں کہ اسماء کے یہاں ولادت ہونے والی ہے، تو اس کا نام تم لوگ نہ رکھنا، میں رکھوں گا“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبداللہ رکھا، اور اپنے ہاتھ سے ایک کھجور کے ذریعہ ان کی تحنیک کی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated Ibn Abi Mulaikah:from 'Aishah, that the Prophet (ﷺ) saw a lamp in the house of Az-Zubair, so he said: "O 'Aishah, I do not think except that Asma has given birth, so do not name him until I should name him." So he named him 'Abdullah, and he (performed Tahnik) with a date that was in his hand

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:226

Hadith #3827
SahihSahihHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَمِعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ صَوْتَهُ فَقَالَتْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أُنَيْسٌ ‏.‏ قَالَ فَدَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَ دَعَوَاتٍ قَدْ رَأَيْتُ مِنْهُنَّ اثْنَيْنِ فِي الدُّنْيَا وَأَنَا أَرْجُو الثَّالِثَةَ فِي الآخِرَةِ ‏. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو میری ماں ام سلیم نے آپ کی آواز سن کر بولیں: میرے باپ اور میری ماں آپ پر فدا ہوں اللہ کے رسول! یہ انیس ۱؎ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے تین دعائیں کیں، ان میں سے دو کو تو میں نے دنیا ہی میں دیکھ لیا ۲؎ اور تیسرے کا آخرت میں امیدوار ہوں ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، اور وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:"The Messenger of Allah (ﷺ) passed by, so my mother, Umm Sulaim, heard his voice and said: 'May my father and mother be ransomed for you, O Messenger of Allah. This is Unais.' So the Messenger of Allah (ﷺ) supplicated for me with three supplications, and I have seem two of them in the world, and I hope for the third in the Hereafter

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:227

Hadith #3828
SahihSahihHasanHasan

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ رُبَّمَا قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا ذَا الأُذُنَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو أُسَامَةَ يَعْنِي يُمَازِحُهُ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہتے: ”اے دو کانوں والے“۔ ابواسامہ کہتے ہیں: یعنی آپ ان سے یہ مذاق کے طور پر فرماتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:that the Prophet (ﷺ) said to him: "O possessor of two ears!" (One of the narrators) Abu Usamah said: 'He only meant it as a joke

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:228

Hadith #3829
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَسٌ خَادِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ام سلیم رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! انس آپ کا خادم ہے، آپ اللہ سے اس کے لیے دعا فرما دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: «اللهم أكثر ماله وولده وبارك له فيما أعطيته» ”اے اللہ! اس کے مال اور اولاد میں زیادتی عطا فرما اور جو تو نے اسے عطا کیا ہے اس میں برکت دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:from Umm Sulaim, that she said: "O Messenger of Allah, Anas bin Malik is your servant, supplicate to Allah for him." He said: "O Allah, increase his wealth and his children, and bless him in what You have given him

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:229

Hadith #3830
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، رضى الله عنه قَالَ كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا ‏. هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ عَنْ أَبِي نَصْرٍ ‏.‏ وَأَبُو نَصْرٍ هُوَ خَيْثَمَةُ بْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ الْبَصْرِيُّ رَوَى عَنْ أَنَسٍ أَحَادِيثَ ‏.‏

Urdu Translation

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت ایک ساگ ( گھاس ) کے ساتھ رکھی جسے میں چن رہا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف جابر جعفی کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ ابونصر سے روایت کرتے ہیں، ۲- ابونصر کا نام خیثمہ بن ابی خیثمہ بصریٰ ہے، انہوں نے انس سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔

English Translation

Narrated Anas [may Allah be pleased with him]:"The Messenger of Allah (ﷺ) gave me my Kunyah because of a plant that I used to care for

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:230

Hadith #3831
Daif IsnaadDaif IsnaadDaif

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ قَالَ قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ يَا ثَابِتُ خُذْ عَنِّي فَإِنَّكَ لَمْ تَأْخُذْ عَنْ أَحَدٍ أَوْثَقَ مِنِّي إِنِّي أَخَذْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ جِبْرِيلَ وَأَخَذَهُ جِبْرِيلُ عَنِ اللَّهِ تَعَالَى ‏. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ ‏.‏

Urdu Translation

ثابت بنانی کا بیان ہے کہ مجھ سے انس بن مالک رضی الله عنہ نے کہا: اے ثابت مجھ سے علم دین حاصل کرو کیونکہ اس کے لیے تم مجھ سے زیادہ معتبر آدمی کسی کو نہیں پاؤ گے، میں نے اسے ( براہ راست ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے اور جبرائیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے لیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف زید بن حباب کی روایت سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated Thabit Al-Bunani:"Anas bin Malik said to me: 'O Thabit, take from me, for indeed you shall not take from one more trustworthy than me. Verily, I took it from the Messenger of Allah (ﷺ), and the Messenger of Allah (ﷺ) took it from Jibra'il, and Jibra'il took it from Allah the Mighty and Sublime

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:231

Hadith #3832
Daif

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَعْقُوبَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ وَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ جِبْرِيلَ ‏.‏

Urdu Translation

اس سند سے بھی انس رضی الله عنہ سے ابراہیم بن یعقوب والی حدیث ہی کی طرح حدیث مروی ہے، لیکن اس میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جبرائیل سے لیا ہے۔

English Translation

Narrated Thabit:from Anas, similar to the previous narration of Ibrahim bin Ya'qub, and he did not mention in it: "And the Prophet (ﷺ) took it from Jibra'il

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:232

Hadith #3833
SahihSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ أَبِي خَلْدَةَ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي الْعَالِيَةِ سَمِعَ أَنَسٌ، مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ خَدَمَهُ عَشْرَ سِنِينَ وَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ لَهُ بُسْتَانٌ يَحْمِلُ فِي السَّنَةِ الْفَاكِهَةَ مَرَّتَيْنِ وَكَانَ فِيهَا رَيْحَانٌ يَجِدُ مِنْهُ رِيحَ الْمِسْكِ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَأَبُو خَلْدَةَ اسْمُهُ خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَقَدْ أَدْرَكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَرَوَى عَنْهُ ‏.‏

Urdu Translation

ابوخلدہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالعالیہ سے پوچھا: کیا انس رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: انس رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی ہے اور آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی ہے، اور انس رضی الله عنہ کا ایک باغ تھا جو سال میں دو بار پھلتا تھا، اور اس میں ایک خوشبودار پودا تھا جس سے مشک کی بو آتی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے اور وہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں اور ابوخلدہ نے انس بن مالک رضی الله عنہ کا زمانہ پایا ہے، اور انہوں نے ان سے روایت کی ہے۔

English Translation

Narrated Abu Khaldah:"I said to Abu Al-'Aliyah: '(Did) Anas heard from the Prophet (ﷺ)?' He said: 'He served him for ten years, and the Prophet (ﷺ) supplicated for him, and he used to have a garden that would bear fruit twice in the year, and there used to be sweet basil in it, from which could be found the smell of musk

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:233

Hadith #3834
Hasan IsnaadHasan IsnaadHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَبَسَطْتُ ثَوْبِي عِنْدَهُ ثُمَّ أَخَذَهُ فَجَمَعَهُ عَلَى قَلْبِي فَمَا نَسِيتُ بَعْدَهُ حَدِيثًا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کے پاس اپنی چادر پھیلا دی، آپ نے اسے اٹھایا اور سمیٹ کر اسے میرے دل پر رکھ دیا، اس کے بعد سے میں کوئی چیز نہیں بھولا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:"I came to the Prophet (ﷺ) and spread out my garment next to him, then he took it and gathered it at my heart, so I did not forget after that [any Hadith]

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:234

Hadith #3835
SahihSahihHasan SahihSahih - Bukhari And Muslim

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْمَعُ مِنْكَ أَشْيَاءَ فَلاَ أَحْفَظُهَا ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ ابْسُطْ رِدَاءَكَ ‏"‏ ‏.‏ فَبَسَطْتُ فَحَدَّثَ حَدِيثًا كَثِيرًا فَمَا نَسِيتُ شَيْئًا حَدَّثَنِي بِهِ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بہت سی چیزیں آپ سے سنتا ہوں لیکن انہیں یاد نہیں رکھ پاتا، آپ نے فرمایا: ”اپنی چادر پھیلاؤ“، تو میں نے اسے پھیلا دیا، پھر آپ نے بہت سے حدیثیں بیان فرمائیں، تو آپ نے جتنی بھی حدیثیں مجھ سے بیان فرمائیں میں ان میں سے کوئی بھی نہیں بھولا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے کئی سندوں سے آئی ہے۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:"I said: 'O Messenger of Allah, I hear from you things that I do not remember.' He said: 'Spread your cloak.' So I spread it, then he narrated many Ahadith, and I did not forget a thing that he reported to me

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:235

Hadith #3836
Sahih IsnaadSahih IsnaadIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ لأَبِي هُرَيْرَةَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْتَ كُنْتَ أَلْزَمَنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَحْفَظَنَا لِحَدِيثِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے کہا: ابوہریرہ! آپ ہم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہنے والے اور ہم سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں یاد رکھنے والے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔

English Translation

Narrated Al-Walid bin 'Abdur-Rahman:that Ibn 'Umar said to Abu Hurairah: "You used to stick to the Messenger of Allah (ﷺ) most out of all of us, and you used to best memorize his Ahadith out of us

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:236

Hadith #3837
Daif IsnaadDaif IsnaadDaif

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ فَقَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَرَأَيْتَ هَذَا الْيَمَانِيَ يَعْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ هُوَ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْكُمْ نَسْمَعُ مِنْهُ مَا لاَ نَسْمَعُ مِنْكُمْ أَوْ يَقُولُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَمْ يَقُلْ ‏.‏ قَالَ أَمَّا أَنْ يَكُونَ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَمْ نَسْمَعْ فَلاَ أَشُكُّ إِلاَّ أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَمْ نَسْمَعْ وَذَاكَ أَنَّهُ كَانَ مِسْكِينًا لاَ شَىْءَ لَهُ ضَيْفًا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدُهُ مَعَ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكُنَّا نَحْنُ أَهْلَ بُيُوتَاتٍ وَغِنًى وَكُنَّا نَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَرَفَىِ النَّهَارِ فَلاَ نَشُكُّ إِلاَّ أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَمْ نَسْمَعْ وَلاَ نَجِدُ أَحَدًا فِيهِ خَيْرٌ يَقُولُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَمْ يَقُلْ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ وَغَيْرُهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ‏.‏

Urdu Translation

مالک بن ابوعامر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے طلحہ بن عبیداللہ کے پاس آ کر کہا: اے ابو محمد! کیا یہ یمنی شخص یعنی ابوہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں کا آپ لوگوں سے زیادہ جانکار ہے، ہم اس سے ایسی حدیثیں سنتے ہیں جو آپ سے نہیں سنتے یا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسی بات گھڑ کر کہتا ہے جو آپ نے نہیں فرمائی، تو انہوں نے کہا: نہیں ایسی بات نہیں، واقعی ابوہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیزیں سنی ہیں جو ہم نے آپ سے نہیں سنیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مسکین تھے، ان کے پاس کوئی چیز نہیں تھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان رہتے تھے، ان کا ہاتھ ( کھانے پینے میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کے ساتھ پڑتا تھا، اور ہم گھربار والے تھے اور مالدار لوگ تھے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صبح میں اور شام ہی میں آ پاتے تھے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیزیں سنی ہیں جو ہم نے نہیں سنیں، اور تم کوئی ایسا آدمی نہیں پاؤ گے جس میں کوئی خیر ہو اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اسے یونس بن بکیر نے اور ان کے علاوہ دوسرے راویوں نے بھی محمد بن اسحاق سے روایت کیا ہے۔

English Translation

Narrated Malik bin Abi 'Amir:"A man came to Talhah bin 'Ubaidullah and said: 'O Abu Muhammad, do you see this Yemeni - meaning: Abu Hurairah - is he more knowledgeable of the Ahadith of the Messenger of Allah (ﷺ) than you? We hear from him what we do not hear from you, or does he attribute to the Messenger of Allah (ﷺ) what he did not say?' He said: 'As for his having heard from the Messenger of Allah (ﷺ) what we did not hear from him, then that is because he was poor, having nothing, a guest of the Messenger of Allah (ﷺ), his hand was in the hand of the Messenger of Allah (ﷺ). And we used to be people of houses and wealth, and we used to come to the Messenger of Allah (ﷺ) at the two ends of the day. I do not doubt that he heard from the Messenger of Allah (ﷺ) what we did not hear, and you will not find anyone in whom there is good attributing to the Messenger of Allah (ﷺ) what he did not say

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:237

Hadith #3838
Sahih IsnaadSahih IsnaadHasan SahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ابْنُ بِنْتِ أَزْهَرَ السَّمَّانِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَلْدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مِمَّنْ أَنْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ مِنْ دَوْسٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ فِي دَوْسٍ أَحَدًا فِيهِ خَيْرٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَأَبُو خَلْدَةَ اسْمُهُ خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ وَأَبُو الْعَالِيَةِ اسْمُهُ رُفَيْعٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کس قبیلہ سے ہو؟“ میں نے عرض کیا: میں قبیلہ دوس کا ہوں، آپ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا تھا کہ دوس میں کوئی ایسا آدمی بھی ہو گا جس میں خیر ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے اور ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:"The Prophet (ﷺ) said to me: 'Who are you from?' I said: 'From Daws.' He said: 'I did not used think there was anyone from Daws in whom there was good

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:238

Hadith #3839
Hasan IsnaadHasan IsnaadHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُهَاجِرُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِتَمَرَاتٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ ‏.‏ فَضَمَّهُنَّ ثُمَّ دَعَا لِي فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ فَقَالَ لِي ‏ "‏ خُذْهُنَّ وَاجْعَلْهُنَّ فِي مِزْوَدِكَ هَذَا أَوْ فِي هَذَا الْمِزْوَدِ كُلَّمَا أَرَدْتَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا فَأَدْخِلْ فِيهِ يَدَكَ فَخُذْهُ وَلاَ تَنْثُرْهُ نَثْرًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَدْ حَمَلْتُ مِنْ ذَلِكَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا مِنْ وَسْقٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَكُنَّا نَأْكُلُ مِنْهُ وَنُطْعِمُ وَكَانَ لاَ يُفَارِقُ حَقْوِي حَتَّى كَانَ يَوْمُ قَتْلِ عُثْمَانَ فَإِنَّهُ انْقَطَعَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر حاضر ہوا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان میں برکت کی دعا فرما دیجئیے، تو آپ نے انہیں اکٹھا کیا پھر ان میں برکت کی دعا کی اور فرمایا: ”انہیں لے جاؤ اور اپنے توشہ دان میں رکھ لو اور جب تم اس میں سے کچھ لینے کا ارادہ کرو تو اس میں اپنا ہاتھ ڈال کر لے لو، اسے بکھیرو نہیں چنانچہ ہم نے اس میں سے اتنے اتنے وسق اللہ کی راہ میں دیئے اور ہم اس میں سے کھاتے تھے اور کھلاتے بھی تھے ۱؎ اور وہ ( تھیلی ) کبھی میری کمر سے جدا نہیں ہوتی تھی، یہاں تک کہ جس دن عثمان رضی الله عنہ قتل کئے گئے تو وہ ٹوٹ کر ( کہیں ) گر گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے دوسری سندوں سے آئی ہے۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:"I came to the Prophet (ﷺ) with some dates and said: 'O Messenger of Allah, supplicate to Allah to bless them.' So he took them and supplicated for me for blessing in them, and then said to me: 'Take them and put them in this bag of yours - or this bag - and whenever you intend to take any from it, then put your hand in it and take it, and do not scatter them all about.' So I carried such and such Wasq of those dates in the cause of Allah. We used to eat from it, and give others to eat, and it (the bag) would not part from my waist until the day 'Uthman was killed, for they had run out

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:239

Hadith #3840
Hasan IsnaadHasan IsnaadHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُرَابِطِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي هُرَيْرَةَ لِمَ كُنِّيتَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ أَمَا تَفْرَقُ مِنِّي قُلْتُ بَلَى وَاللَّهِ إِنِّي لأَهَابُكَ ‏.‏ قَالَ كُنْتُ أَرْعَى غَنَمَ أَهْلِي فَكَانَتْ لِي هُرَيْرَةٌ صَغِيرَةٌ فَكُنْتُ أَضَعُهَا بِاللَّيْلِ فِي شَجَرَةٍ فَإِذَا كَانَ النَّهَارُ ذَهَبْتُ بِهَا مَعِي فَلَعِبْتُ بِهَا فَكَنَّوْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ ‏. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے پوچھا: آپ کی کنیت ابوہریرہ کیوں پڑی؟ تو انہوں نے کہا: کیا تم مجھ سے ڈرتے نہیں ہو؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ قسم اللہ کی! میں آپ سے ڈرتا ہوں، پھر انہوں نے کہا: میں اپنے گھر والوں کی بکریاں چراتا تھا، میری ایک چھوٹی سی بلی تھی میں اس کو رات میں ایک درخت پر بٹھا دیتا اور دن میں اسے اپنے ساتھ لے جاتا، اور اس سے کھیلتا، تو لوگوں نے میری کنیت ابوہریرہ رکھ دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated 'Abdullah bin Rafi':"I said to Abu Hurairah: 'Why were you given the Kunyah Abu Hurairah?' He said: 'Do you not fear me?'" He said: "Indeed, I am in awe of you.' He said: 'I used to tend the sheep of my people, and I had a small kitten; so I used to place it in a tree at night, and during the day I would take it with me and play with it. So they named me Abu Hurairah

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:240

Hadith #3841
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَيْسَ أَحَدٌ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنِّي إِلاَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَكُنْتُ لاَ أَكْتُبُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں مجھ سے زیادہ کسی کو یاد نہیں، سوائے عبداللہ بن عمرو کے کیونکہ وہ لکھ لیتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah [may Allah be pleased with him] :"There is none with more Ahadith from the Messenger of Allah (ﷺ) than I, except for 'Abdullah bin 'Amr, for he used to write, (the Ahadith) and I did not used to write

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:241

Hadith #3842
SahihSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ، وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

صحابی رسول عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ! تو ان کو ہدایت دے اور ہدایت یافتہ بنا دے، اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated 'Abdur-Rahman bin Abu 'Umairah - and he was one of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ):from the Prophet (ﷺ), that he said to Mu'awiyah: "O Allah, make him a guiding one, and guide (others) by him

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:242

Hadith #3843
Sahih LighairihiSahihDaifDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، قَالَ لَمَّا عَزَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عُمَيْرَ بْنَ سَعِيدٍ عَنْ حِمْصَ، وَلَّى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ النَّاسُ عَزَلَ عُمَيْرًا وَوَلَّى مُعَاوِيَةَ ‏.‏ فَقَالَ عُمَيْرٌ لاَ تَذْكُرُوا مُعَاوِيَةَ إِلاَّ بِخَيْرٍ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اهْدِ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏, وَعَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ يُضَعَّفُ ‏.‏

Urdu Translation

ابوادریس خولانی کہتے ہیں کہ جب عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے عمیر بن سعد کو حمص سے معزول کیا اور ان کی جگہ معاویہ رضی الله عنہ کو والی بنایا تو لوگوں نے کہا: انہوں نے عمیر کو معزول کر دیا اور معاویہ کو والی بنایا، تو عمیر نے کہا: تم لوگ معاویہ رضی الله عنہ کا ذکر بھلے طریقہ سے کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: «اللهم اهد به» ”اے اللہ! ان کے ذریعہ ہدایت دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- عمرو بن واقد حدیث میں ضعیف ہیں۔

English Translation

Narrated Abu Idris Al-Khawlani:"When 'Umar bin Al-Khattab removed 'Umair bin Sa'd as governor of Hims, he appointed Mu'awiyah. The people said: 'He has removed 'Umair and appointed Mu'awiyah.' So 'Umair said: 'Do not mention Mu'awiyah except with good, for indeed, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: "O Allah guide (others) by him

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:243

Hadith #3844
HasanHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَسْلَمَ النَّاسُ وَآمَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِي ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ ‏.‏

Urdu Translation

عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ اسلام لائے اور عمرو بن العاص رضی الله عنہ ایمان لائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ مشرح بن ہاعان سے روایت کرتے ہیں اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔

English Translation

Narrated 'Uqbah bin 'Amir:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The people submitted while 'Amr bin Al-'As believed

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:244

Hadith #3845
Daif IsnaadDaif IsnaadDaif

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ الْجُمَحِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ قَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِي مِنْ صَالِحِي قُرَيْشٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ الْجُمَحِيِّ ‏.‏ وَنَافِعٌ ثِقَةٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ لَمْ يُدْرِكْ طَلْحَةَ ‏.‏

Urdu Translation

طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”عمرو بن العاص رضی الله عنہ قریش کے نیک لوگوں میں سے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کو ہم صرف نافع بن عمر جمحی کی روایت سے جانتے ہیں اور نافع ثقہ ہیں اور اس کی سند متصل نہیں ہے، اور ابن ابی ملیکہ نے طلحہ کو نہیں پایا ہے۔

English Translation

Narrated Talhah bin 'Ubaidullah:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: 'Indeed, 'Amr bin Al-'As is from among the righteous of the Quraish

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:245

Hadith #3846
SahihSahihHasan

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْزِلاً فَجَعَلَ النَّاسُ يَمُرُّونَ فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ هَذَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَقُولُ فُلاَنٌ ‏.‏ فَيَقُولُ ‏"‏ نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَيَقُولُ ‏"‏ مَنْ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَأَقُولُ فُلاَنٌ ‏.‏ فَيَقُولُ ‏"‏ بِئْسَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ حَتَّى مَرَّ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ هَذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلاَ نَعْرِفُ لِزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ سَمَاعًا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ عِنْدِي حَدِيثٌ مُرْسَلٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک منزل پر پڑاؤ کیا، جب لوگ آپ کے سامنے سے گزرتے تو آپ پوچھتے: ”ابوہریرہ! یہ کون ہے؟“ میں کہتا: فلاں ہے، تو آپ فرماتے: ”کیا ہی اچھا بندہ ہے یہ اللہ کا“، پھر آپ فرماتے: ”یہ کون ہے؟“ تو میں کہتا: فلاں ہے تو آپ فرماتے: ”کیا ہی برا بندہ ہے یہ اللہ کا ۱؎“، یہاں تک کہ خالد بن ولید گزرے تو آپ نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: یہ خالد بن ولید ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا ہی اچھے بندے ہیں اللہ کے خالد بن ولید، وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ زید بن اسلم کا سماع ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ہے کہ نہیں اور یہ میرے نزدیک مرسل روایت ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:"We camped with the Messenger of Allah (ﷺ) at a place, and the people began passing by. The Messenger of Allah (ﷺ) would say: 'Who is this, O Abu Hurairah?' So I would say: 'So-and-so.' So he would say: 'What an excellent slave of Allah this is.' And he would say: 'Who is this?' So I would say: 'So-and-so.' So he would say: 'What a bad slave of Allah this is.' Until Khalid bin Al-Walid passed, so he said: 'Who is this?' So I said: 'This is Khalid bin Al-Walid.' He said: 'What an excellent slave of Allah is Khalid bin Al-Walid, a sword from among the swords of Allah

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:246

Hadith #3847
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَوْبٌ حَرِيرٌ فَجَعَلُوا يَعْجَبُونَ مِنْ لِينِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا ‏"‏ ‏. وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ ریشمی کپڑے ہدیہ میں آئے، ان کی نرمی کو دیکھ کر لوگ تعجب کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے رومال اس سے بہتر ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ بھی حدیث مروی ہے۔

English Translation

Narrated Al-Bara:"A garment of silk was gifted to the Messenger of Allah (ﷺ) so they began to marvel at its softness, so the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Do you marvel at this? Indeed, the handkerchiefs of Sa'd bin Mu'adh in Paradise are better than this

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:247

Hadith #3848
SahihSahihSahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ وَجَنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ‏ "‏ اهْتَزَّ لَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ ‏"‏ ‏. وَفِي الْبَابِ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَرُمَيْثَةَ ‏.‏هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: ”اور سعد بن معاذ رضی الله عنہ کا جنازہ ( اس وقت لوگوں کے سامنے رکھا ہوا تھا ) : ”ان کے لیے رحمن کا عرش ( بھی خوشی سے ) جھوم اٹھا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں اسید بن حضیر، ابو سعید خدری اور رمیثہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Jabir bin 'Abdullah:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ), saying while the funeral of Sa'd bin Mu'adh was in front of them: 'The Throne of Ar-Rahman shook due to it

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:248

Hadith #3849
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا حُمِلَتْ جَنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ الْمُنَافِقُونَ مَا أَخَفَّ جَنَازَتَهُ ‏.‏ وَذَلِكَ لِحُكْمِهِ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ كَانَتْ تَحْمِلُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب سعد بن معاذ رضی الله عنہ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقین کہا: کتنا ہلکا ہے ان کا جنازہ؟ اور یہ طعن انہوں نے اس لیے کیا کہ سعد نے بنی قریظہ کے قتل کا فیصلہ فرمایا تھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”فرشتے اسے اٹھائے ہوئے تھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:"When the funeral of Sa'd bin Mu'adh was carried, the hypocrites said: 'How light his funeral is.' And this was due to his judgment concerning Banu Quraizah. So this reached the Prophet (ﷺ), and he said: 'Indeed, the angels were carrying him

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:249

Hadith #3850
SahihSahihSahih Bukhari

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَنْزِلَةِ صَاحِبِ الشُّرَطِ مِنَ الأَمِيرِ ‏.‏ قَالَ الأَنْصَارِيُّ يَعْنِي مِمَّا يَلِي مِنْ أُمُورِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الأَنْصَارِيِّ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ قَوْلَ الأَنْصَارِيِّ ‏.‏

Urdu Translation

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قیس بن سعد رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایسے ہی تھے جیسے امیر ( کی حفاظت ) کے لیے پولیس والا ہوتا ہے۔ راوی حدیث ( محمد بن عبداللہ ) انصاری کہتے ہیں: یعنی وہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لیے ) آپ کے بہت سے امور انجام دیا کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف انصاری کی روایت سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated Anas:"Qais bin Sa'd used to be, to the Prophet (ﷺ), in the position of the head of police for a ruler." (One of the narrators) Al-Ansari said: "That is: Due to his affairs that he takes charge of

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:250

Hadith #3851
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْسَ بِرَاكِبِ بَغْلٍ وَلاَ بِرْذَوْنَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے ۱؎، آپ نہ کسی خچر پر سوار تھے نہ ترکی گھوڑے پر۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Jabir bin 'Abdullah:"The Messenger of Allah (ﷺ) came to me, not riding a mule nor a Birdhawn (a type of Turkish horse)

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:251

Hadith #3852
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ اسْتَغْفَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْبَعِيرِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَمَعْنَى قَوْلِهِ لَيْلَةَ الْبَعِيرِ مَا رُوِيَ عَنْ جَابِرٍ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَبَاعَ بَعِيرَهُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَاشْتَرَطَ ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ يَقُولُ جَابِرٌ لَيْلَةَ بِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْبَعِيرَ اسْتَغْفَرَ لِي خَمْسًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً وَكَانَ جَابِرٌ قَدْ قُتِلَ أَبُوهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ بَنَاتٍ فَكَانَ جَابِرٌ يَعُولُهُنَّ وَيُنْفِقُ عَلَيْهِنَّ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَبَرُّ جَابِرًا وَيَرْحَمُهُ لِسَبَبِ ذَلِكَ هَكَذَا رُوِيَ فِي حَدِيثٍ عَنْ جَابِرٍ نَحْوُ هَذَا ‏.‏

Urdu Translation

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «ليلة البعير» ( اونٹ کی رات ) میں میرے لیے پچیس بار دعائے مغفرت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ان کے قول «ليلة البعير» اونٹ کی رات سے وہ رات مراد ہے جو جابر سے کئی سندوں سے مروی ہے کہ وہ ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، انہوں نے اپنا اونٹ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بیچ دیا اور مدینہ تک اس پر سوار ہو کر جانے کی شرط رکھ لی، جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں: جس رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اونٹ بیچا آپ نے پچیس بار میرے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔ اور جابر کے والد عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی الله عنہما احد کے دن شہید کر دیئے گئے تھے اور انہوں نے کچھ لڑکیاں چھوڑی تھیں، جابر ان کی پرورش کرتے تھے اور ان پر خرچ دیتے تھے، اس کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ حسن سلوک فرماتے تھے اور ان پر رحم کرتے تھے، ۳- اسی طرح ایک اور حدیث میں جابر سے ایسے ہی مروی ہے۔

English Translation

Narrated Jabir:"The Messenger of Allah (ﷺ) supplicated for forgiveness for me on the Night of the Camel, twenty-five times

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:252

Hadith #3853
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ فَمِنَّا مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدُبُهَا وَإِنَّ مُصْعَبَ بْنَ عُمَيْرٍ مَاتَ وَلَمْ يَتْرُكْ إِلاَّ ثَوْبًا كَانُوا إِذَا غَطَّوْا بِهِ رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلاَهُ وَإِذَا غُطِّيَ بِهَا رِجْلاَهُ خَرَجَ رَأْسُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ غَطُّوا رَأْسَهُ وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ الإِذْخِرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ، نَحْوَهُ ‏.‏

Urdu Translation

خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی ۱؎، ہم اللہ کی رضا کے خواہاں تھے تو ہمارا اجر اللہ پر ثابت ہو گیا ۲؎ چنانچہ ہم میں سے کچھ لوگ تو ایسے ہیں کہ انہوں نے اپنے اجر میں سے ( دنیا میں ) کچھ بھی نہیں کھایا ۳؎ اور کچھ ایسے ہیں کہ ان کے امید کا درخت بار آور ہوا اور اس کے پھل وہ چن رہے ہیں، اور مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے ایسے وقت میں انتقال کیا کہ انہوں نے کوئی چیز نہیں چھوڑی سوائے ایک ایسے کپڑے کے جس سے جب ان کا سر ڈھانپا جاتا تو دونوں پیر کھل جاتے اور جب دونوں پیر ڈھانپے جاتے تو سر کھل جاتا، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا سر ڈھانپ دو اور ان کے پیروں پر اذخر گھاس ڈال دو“ ۴؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Khabbab:"We emigrated with the Messenger of Allah (ﷺ), seeking the Face of Allah. So our reward is with Allah. Among us were those who died and did not consume any of the rewards (in this life), and among us were those who lived to see its fruits and tend to them. Verily, Musab bin 'Umair died without leaving anything behind but a garment. When they covered his head with it, his feet would become exposed, and when they covered his feet with it, his head will become exposed. So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Cover his head and place Al-Idhkir over his feet

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:253

Hadith #3854
SahihSahihHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كَمْ مِنْ أَشْعَثَ أَغْبَرَ ذِي طِمْرَيْنِ لاَ يُؤْبَهُ لَهُ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ مِنْهُمُ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنے پراگندہ بال غبار آلود اور پرانے کپڑے والے ہیں کہ جن کی کوئی پرواہ نہیں کرتا ایسے ہیں کہ اگر اللہ کے بھروسہ پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم کو سچی کر دے ۱؎، انہیں میں سے براء بن مالک ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "How many are there with dishevelled hair, covered with dust, possessing two cloths, whom no one pays any mind to - if he swears by Allah then He shall fulfill it. Among them is Al-Bara bin Malik

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:254

Hadith #3855
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَا أَبَا مُوسَى لَقَدْ أُعْطِيتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ ‏"‏ ‏.‏هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسٍ ‏.‏

Urdu Translation

ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوموسیٰ تمہیں آل داود کی خوش الحانیوں ( اچھی آوازوں ) میں سے ایک خوش الحانی دی گئی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں بریدہ، ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Abu Musa:that the Prophet (ﷺ) said: "O Abu Musa! You have been given a Mizmar among the Mazamir of the family of Dawud

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:255

Hadith #3856
SahihSahihHasan SahihSahih - Bukhari And Muslim

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَحْفِرُ الْخَنْدَقَ وَنَحْنُ نَنْقُلُ التُّرَابَ فَيَمُرُّ بِنَا فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَةِ فَاغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَأَبُو حَازِمٍ اسْمُهُ سَلَمَةُ بْنُ دِينَارٍ الأَعْرَجُ الزَّاهِدُ ‏.‏وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ‏.‏

Urdu Translation

سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ خندق کھود رہے تھے اور ہم مٹی ڈھو رہے تھے، آپ نے ہمیں دیکھا تو فرمایا: «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فاغفر للأنصار والمهاجره» ”اے اللہ زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے، تو انصار و مہاجرین کی مغفرت فرما“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں انس بن مالک سے بھی روایت ہے۔

English Translation

Narrated Sahl bin Sa'd:"We were with the Messenger of Allah (ﷺ) while he was excavating the trench, and we were transporting the soil. He passed by us and said: 'O Allah! There is no life but the life of the Hereafter! So forgive the Ansar and the Emigrants

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:256

Hadith #3857
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَةِ فَأَكْرِمِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ رضى الله عنه ‏.‏

Urdu Translation

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فأكرم الأنصار والمهاجره» ”بار الٰہا زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، تو انصار و مہاجرین کی تکریم فرما“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- انس رضی الله عنہ سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) would say: "O Allah! There is no life but the life of the Hereafter! So honor the Ansar and the Emigrants

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:257

Hadith #3858
DaifDaifHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ تَمَسُّ النَّارُ مُسْلِمًا رَآنِي أَوْ رَأَى مَنْ رَآنِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ طَلْحَةُ فَقَدْ رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ‏.‏ وَقَالَ مُوسَى وَقَدْ رَأَيْتُ طَلْحَةَ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى وَقَالَ لِي مُوسَى وَقَدْ رَأَيْتَنِي وَنَحْنُ نَرْجُو اللَّهَ ‏. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ الأَنْصَارِيِّ ‏.‏ وَرَوَى عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ عَنْ مُوسَى هَذَا الْحَدِيثَ ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جہنم کی آگ کسی ایسے مسلمان کو نہیں چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا، یا کسی ایسے شخص کو دیکھا جس نے مجھے دیکھا ہے“، طلحہ ( راوی حدیث ) نے کہا: تو میں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کو دیکھا ہے اور موسیٰ نے کہا: میں نے طلحہ کو دیکھا ہے اور یحییٰ نے کہا کہ مجھ سے موسیٰ ( راوی حدیث ) نے کہا: اور تم نے مجھے دیکھا ہے اور ہم سب اللہ سے نجات کے امیدوار ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف موسیٰ بن ابراہیم انصاری کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس حدیث کو علی بن مدینی نے اور محدثین میں سے کئی اور لوگوں نے بھی موسیٰ سے روایت کی ہے۔

English Translation

Narrated Talhah bin Khirash:"I heard Jabir bin 'Abdullah saying: 'I heard the Prophet (ﷺ) saying: "The Fire shall not touch the Muslim who saw me, or saw one who saw me

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:258

Hadith #3859
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنِي هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، هُوَ السَّلْمَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَأْتِي قَوْمٌ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ تَسْبِقُ أَيْمَانُهُمْ شَهَادَاتِهِمْ أَوْ شَهَادَاتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَبُرَيْدَةَ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ۱؎، پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد ہیں ۲؎، پھر ان کا جو ان کے بعد ہیں ۳؎، پھر ان کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو گواہیوں سے پہلے قسم کھائے گی یا قسموں سے پہلے گواہیاں دے گی“ ۴؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، عمران بن حصین اور بریدہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated 'Abdullah bin Mas'ud:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The best generation is my generation, then those who follow them, then those who follow them. Then comes a people after that whose swearing precedes their testimony, or whose testimony precedes their swearing

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:259

Hadith #3860
SahihSahihHasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جن لوگوں نے ( حدیبیہ میں ) درخت کے نیچے بیعت کی ہے ان میں سے کوئی بھی جہنم میں داخل نہیں ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Jabir:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "None of those who gave the pledge under the tree shall enter the Fire

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:260

Hadith #3861
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ سَمِعْتُ ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلاَ نَصِيفَهُ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَمَعْنَى قَوْلِهِ ‏"‏ نَصِيفَهُ ‏"‏ يَعْنِي نِصْفَ الْمُدِّ ‏.‏ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، - وَكَانَ حَافِظًا - قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏

Urdu Translation

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو ان کے ایک مد بلکہ آدھے مد کے ( اجر کے ) برابر بھی نہیں پہنچ سکے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- آپ کے قول «نصيفه» سے مراد نصف ( آدھا ) مد ہے۔

English Translation

Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not abuse my Companions, for by the One in Whose Hand is my soul! If one of you were to spend gold the like of Uhud, it would not equal a Mudd - nor half of it - of one of them

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:261

Hadith #3862
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ابْنُ أَبِي رَائِطَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي لاَ تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں، اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں، اور میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بنانا، جو ان سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرنے کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا، جس نے انہیں ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے اللہ کو ایذا دی، اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ وہ اسے اپنی گرفت میں لے لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated 'Abdullah bin Mughaffal:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "(Fear) Allah! (Fear) Allah regarding my Companions! Do not make them objects of insults after me. Whoever loves them, it is out of love of me that he loves them. And whoever hates them, it is out of hatred for me that he hates them. And whoever harms them, he has harmed me, and whoever harms me, he has offended Allah, and whoever offends Allah, [then] he shall soon be punished

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:262

Hadith #3863
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ خِدَاشٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مَنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ إِلاَّ صَاحِبَ الْجَمَلِ الأَحْمَرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی ( یعنی بیعت رضوان میں شریک رہے ) وہ ضرور جنت میں داخل ہوں گے، سوائے سرخ اونٹ والے کے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated Abu Az-Zubair:from Jabir, that the Prophet (ﷺ) said: "Those who gave the pledge under the tree shall enter Paradise, except for the owner of the red camel

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:263

Hadith #3864
SahihSahihHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ عَبْدًا، لِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَشْكُو حَاطِبًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كَذَبْتَ لاَ يَدْخُلُهَا فَإِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حاطب بن ابی بلتعہ رضی الله عنہ کا ایک غلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر حاطب کی شکایت کرنے لگا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! حاطب ضرور جہنم میں جائیں گے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے غلط کہا وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے، کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ دونوں میں موجود رہے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Abu Az-Zubair:from Jabir, that a slave of Hatib [bin Abi Balt'ah] came to the Messenger of Allah (ﷺ) complaining about Hatib. So he said: 'O Messenger of Allah (ﷺ)! Hatib is going to enter the Fire!' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'You have lied! No one who participated in (the battle of) Badr and (the treaty of) Al-Hudaybiyah shall enter it

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:264

Hadith #3865
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ نَاجِيَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَبِي طَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي يَمُوتُ بِأَرْضٍ إِلاَّ بُعِثَ قَائِدًا وَنُورًا لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏. هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَبِي طَيْبَةَ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً وَهُوَ أَصَحُّ ‏.‏

Urdu Translation

بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ میں سے جو بھی کسی سر زمین پر مرے گا تو وہ قیامت کے دن اس سر زمین والوں کا پیشوا اور ان کے لیے نور بنا کر اٹھایا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- یہ حدیث عبداللہ بن مسلم ابوطیبہ سے مروی ہے اور انہوں نے اسے بریدہ رضی الله عنہ کے بیٹے کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔

English Translation

Narrated 'Abdullah bin Buraidah:from his father, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no one among my Companions who dies in a land except that he shall be resurrected as a guide and light for them (people of that land) on the Day of Resurrection

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:265

Hadith #3866
Very DaifVery DaifDaif

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ نَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَيْفُ ابْنُ عُمَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَسُبُّونَ أَصْحَابِي فَقُولُوا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى شَرِّكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَالنَّضْرُ مَجْهُولٌ وَسَيْفٌ مَجْهُولٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے اصحاب کو برا بھلا کہتے ہوں تو کہو: اللہ کی لعنت ہو تمہارے شر پر“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، ہم اسے عبیداللہ بن عمر ( عمری ) کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور نضر اور سیف دونوں مجہول راوی ہیں۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "If you see those who abuse my Companions, then say: 'May Allah's curse be upon the worst of you

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:266

Hadith #3867
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ‏ "‏ إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي فِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَلاَ آذَنُ ثُمَّ لاَ آذَنُ ثُمَّ لاَ آذَنُ إِلاَّ أَنْ يُرِيدَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ فَإِنَّهَا بَضْعَةٌ مِنِّي يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ نَحْوَ حَدِيث اللَّيْث ‏.‏

Urdu Translation

مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اور آپ منبر پر تھے: ”ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے مجھ سے اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی سے کر دیں، تو میں اس کی اجازت نہیں دیتا، نہیں دیتا، نہیں دیتا، مگر ابن ابی طالب چاہیں تو میری بیٹی کو طلاق دے دیں، اور ان کی بیٹی سے شادی کر لیں، اس لیے کہ میری بیٹی میرے جسم کا ٹکڑا ہے، مجھے وہ چیز بری لگتی ہے جو اسے بری لگے اور مجھے ایذا دیتی ہے وہ چیز جو اسے ایذا دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے عمرو بن دینار نے اسی طرح ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے مسور بن مخرمہ سے روایت کیا ہے۔

English Translation

Narrated Al-Miswar bin Makhramah:"While he was on the Minbar, I heard the Prophet (ﷺ) saying: 'Indeed Banu Hisham bin Al-Mughirah asked me if they could marry their daughter to 'Ali bin Abi Talib. But I do not allow it, I do not allow it, I do not allow it - unless 'Ali bin Abi Talib wishes to divorce my daughter and marry their daughter, because she is a part of me. I am displeased by what displeases her, and I am harmed by what harms her

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:267

Hadith #3868
MunkarMunkarDaif

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ جَعْفَرٍ الأَحْمَرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ أَحَبَّ النِّسَاءِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاطِمَةُ وَمِنَ الرِّجَالِ عَلِيٌّ ‏.‏ قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب فاطمہ رضی الله عنہ تھیں اور مردوں میں علی رضی الله عنہ تھے، ابراہیم بن سعد کہتے ہیں: یعنی اپنے اہل بیت میں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated Buraidah:"The most beloved of women to the Messenger of Allah (ﷺ) was Fatimah and from the men was 'Ali

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:268

Hadith #3869
SahihSahihHasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا، ذَكَرَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا وَيُنْصِبُنِي مَا أَنْصَبَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ هَكَذَا قَالَ أَيُّوبُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَقَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ رَوَى عَنْهُمَا جَمِيعًا ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کا ذکر کیا تو اس کی خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی، آپ نے فرمایا: ”فاطمہ میرے جسم کا ٹکرا ہے، مجھے تکلیف دیتی ہے وہ چیز جو اسے تکلیف دیتی ہے، اور «تعب» میں ڈالتی ہے مجھے وہ چیز جو اسے «تعب» میں ڈالتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح ایوب نے ابی ملیکہ سے اور انہوں نے ابن زبیر سے روایت کی ہے جبکہ متعدد لوگوں نے ابن ابی ملیکہ کے واسطہ سے مسور بن مخرمہ سے روایت کی ہے۔ ( جیسا کہ حدیث رقم: ۳۸۸۰ ) ۳- اس بات کا احتمال ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے ایک ساتھ دونوں ہی سے روایت کیا ہو ( اور ایسا بہت ہوا ہے ) ۔

English Translation

Narrated 'Abdullah bin Az-Zubair:that 'Ali mentioned the daughter of Abu Jahl (for marriage), and that reached the Prophet (ﷺ) so he said: "Indeed Fatimah is but a part of me, I am harmed by what harms her and I am uncomfortable by what makes her uncomfortable

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:269

Hadith #3870
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ صُبَيْحٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِعَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ‏ "‏ أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبْتُمْ وَسَلْمٌ لِمَنْ سَالَمْتُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَصُبَيْحٌ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ ‏.‏

Urdu Translation

زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی الله عنہم سے فرمایا: ”میں لڑنے والا ہوں اس سے جس سے تم لڑو اور صلح جوئی کرنے والا ہوں اس سے جس سے تم صلح جوئی کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور صبیح مولیٰ ام سلمہ معروف نہیں ہیں۔

English Translation

Narrated Zaid bin Arqam:that the Messenger of Allah (ﷺ) said to 'Ali, Fatimah, Al-Hasan and Al-Husain: "I am at war with whoever makes war with you, and peace for whoever makes peace with you

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:270

Hadith #3871
SahihSahihHasan SahihHasan

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَلَّلَ عَلَى الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ وَعَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ كِسَاءً ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ هَؤُلاَءِ أَهْلُ بَيْتِي وَخَاصَّتِي أَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَأَنَا مَعَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ ‏"‏ ‏. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ أَحْسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَأَبِي الْحَمْرَاءِ وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ وَعَائِشَةَ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن، حسین، علی اور فاطمہ رضی الله عنہم کو ایک چادر سے ڈھانپ کر فرمایا: «‏‏‏‏اللهم هؤلاء أهل بيتي وخاصتي أذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا» ”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت اور میرے خاص الخاص لوگ ہیں، تو ان سے گندگی کو دور فرما دے، اور انہیں اچھی طرح سے پاک کر دے“، تو ام سلمہ رضی الله عنہا بولیں: اور میں بھی ان کے ساتھ ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”تو ( بھی ) خیر پر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس باب میں جو حدیثیں مروی ہیں ان میں سب سے اچھی ہے، ۲- اس باب میں عمر بن ابی سلمہ، انس بن مالک، ابوالحمراء، معقل بن یسار، اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Umm Salamah:"The Prophet (ﷺ) put a garment over Al-Hasan, Al-Hussain, 'Ali and Fatimah, then he said: 'O Allah, these are the people of my house and the close ones, so remove the Rijs from them and purify them thoroughly." So Umm Salamah said: 'And am I with them, O Messenger of Allah?' He said: "You are upon good

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:271

Hadith #3872
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَيْسَرَةَ ابْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ سَمْتًا وَدَلاًّ وَهَدْيًا بِرَسُولِ اللَّهِ فِي قِيَامِهَا وَقُعُودِهَا مِنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَتْ وَكَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَامَ إِلَيْهَا فَقَبَّلَهَا وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا قَامَتْ مِنْ مَجْلِسِهَا فَقَبَّلَتْهُ وَأَجْلَسَتْهُ فِي مَجْلِسِهَا فَلَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَتْ فَاطِمَةُ فَأَكَبَّتْ عَلَيْهِ فَقَبَّلَتْهُ ثُمَّ رَفَعَتْ رَأْسَهَا فَبَكَتْ ثُمَّ أَكَبَّتْ عَلَيْهِ ثُمَّ رَفَعَتْ رَأْسَهَا فَضَحِكَتْ فَقُلْتُ إِنْ كُنْتُ لأَظُنُّ أَنَّ هَذِهِ مِنْ أَعْقَلِ نِسَائِنَا فَإِذَا هِيَ مِنَ النِّسَاءِ فَلَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ لَهَا أَرَأَيْتِ حِيْنَ أَكْبَبْتِ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرَفَعْتِ رَأْسَكِ فَبَكَيْتِ ثُمَّ أَكْبَبْتِ عَلَيْهِ فَرَفَعْتِ رَأْسَكِ فَضَحِكْتِ مَا حَمَلَكِ عَلَى ذَلِكَ قَالَتْ إِنِّي إِذًا لَبَذِرَةٌ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَيِّتٌ مِنْ وَجَعِهِ هَذَا فَبَكَيْتُ ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي أَسْرَعُ أَهْلِهِ لُحُوقًا بِهِ فَذَاكَ حِينَ ضَحِكْتُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَائِشَةَ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اٹھنے بیٹھنے کے طور و طریق اور عادت و خصلت میں فاطمہ ۱؎ رضی الله عنہ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ کسی کو نہیں دیکھا، وہ کہتی ہیں: جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں تو آپ اٹھ کر انہیں بوسہ لیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے، اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آتے تو وہ اٹھ کر آپ کو بوسہ لیتیں اور آپ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں چنانچہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو فاطمہ آئیں اور آپ پر جھکیں اور آپ کو بوسہ لیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور رونے لگیں پھر آپ پر جھکیں اور اپنا سر اٹھایا تو ہنسنے لگیں، پہلے تو میں یہ خیال کرتی تھی کہ یہ ہم عورتوں میں سب سے زیادہ عقل والی ہیں مگر ان کے ہنسنے پر یہ سمجھی کہ یہ بھی آخر ( عام ) عورت ہی ہیں، یعنی یہ کون سا موقع ہنسنے کا ہے، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا بات تھی کہ میں نے تمہیں دیکھا کہ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھکیں پھر سر اٹھایا تو رونے لگیں، پھر جھکیں اور سر اٹھایا تو ہنسنے لگیں، تو انہوں نے کہا: اگر آپ کی زندگی میں یہ بات بتا دیتی تو میں ایک ایسی عورت ہوتی جو آپ کے راز کو افشاء کرنے والی ہوتی، بات یہ تھی کہ پہلے آپ نے مجھے اس بات کی خبر دی کہ اس بیماری میں میں انتقال کر جانے والا ہوں، یہ سن کر میں رو پڑی، پھر آپ نے مجھے بتایا کہ ان کے گھر والوں میں سب سے پہلے میں ان سے ملوں گی، تو یہ سن کر میں ہنسنے لگی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، اور یہ عائشہ سے متعدد سندوں سے آئی ہے۔

English Translation

Narrated 'Aishah:"I have not seen anyone closer in conduct, way, and manners to that of the Messenger of Allah in regards to standing and sitting, than Fatimah the daughter of the Messenger of Allah (ﷺ)." She said "Whenever she would enter upon the Prophet (ﷺ) he would stand to her and kiss her, and he would sit her in his sitting place. Whenever the Prophet (ﷺ) entered upon her she would stand from her seat, and kiss him and sit him in her sitting place. So when the Prophet (ﷺ) fell sick and Fatimah entered, she bent over and kissed him. Then she lifted her head and cried, then she bent over him and she lifted her head and laughed. So I said: 'I used to think that this one was from the most intelligent of our women, but she is really just one of the women.' So when the Prophet (ﷺ) died, I said to her: 'Do you remember when you bent over the Prophet (ﷺ) and you lifted your head and cried, then you bent over him, then you lifted your head and laughed. What caused you to do that?' She said: 'Then, I would be the one who spreads the secrets. He (ﷺ) told me that he was to die from his illness, so I cried. Then he told me that I would be the quickest of his family to meet up with him. So that is when I laughed

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:272

Hadith #3873
HasanIsnaad Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَعَا فَاطِمَةَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَنَاجَاهَا فَبَكَتْ ثُمَّ حَدَّثَهَا فَضَحِكَتْ ‏.‏ قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلْتُهَا عَنْ بُكَائِهَا وَضَحِكِهَا قَالَتْ أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ يَمُوتُ فَبَكَيْتُ ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلاَّ مَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ فَضَحِكْتُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فاطمہ کو بلایا، اور ان سے سرگوشی کی تو وہ رو پڑیں، پھر دوبارہ آپ نے ان سے بات کی تو وہ ہنسنے لگیں، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بتایا کہ آپ عنقریب وفات پا جائیں گے، تو میں رو پڑی، پھر آپ نے مجھے بتایا کہ میں مریم بنت عمران کو چھوڑ کر اہل جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہوں گی تو میں ہنسنے لگی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated Umm Salamah:that the Messenger of Allah (ﷺ) called Fatimah on the Day of the Conquest (of Makkah) and he spoke to her, so she cried. Then he spoke to her and she laughed. She said: "So when the Messenger of Allah (ﷺ) died, I asked her about her crying and laughing. She said: "The Messenger of Allah (ﷺ) told me that he will die, so I cried, then he told me that I was the master over all the women of the inhabitants of Paradise, except for Mariam the daughter of 'Imran, so I laughed

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:273

Hadith #3874
MunkarMunkarDaif

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، قَالَ دَخَلْتُ مَعَ عَمَّتِي عَلَى عَائِشَةَ فَسُئِلَتْ أَىُّ النَّاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ فَاطِمَةُ ‏.‏ فَقِيلَ مِنَ الرِّجَالِ قَالَتْ زَوْجُهَا إِنْ كَانَ مَا عَلِمْتُ صَوَّامًا قَوَّامًا ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَأَبُو الْجَحَّافِ اسْمُهُ دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ وَيُرْوَى عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَحَّافِ وَكَانَ مَرْضِيًّا ‏.‏

Urdu Translation

جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا کے ساتھ عائشہ رضی الله عنہا کے پاس آیا تو ان سے پوچھا گیا: لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب کون تھا؟ تو انہوں نے کہا: فاطمہ، پھر پوچھا گیا: مردوں میں کون تھا؟ انہوں نے کہا: ان کے شوہر، یعنی علی، میں خوب جانتی ہوں وہ بڑے صائم اور تہجد گزار تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوجحاف کا نام داود بن ابی عوف ہے، اور سفیان ثوری سے «عن ابی الجحاف» کے بجائے یوں مروی ہے: «حدثنا أبو الجحاف وكان مرضيا» ۔

English Translation

Narrated Jumai' bin 'Umair At-Taimi:"I entered along with my uncle upon 'Aishah and she was asked: 'Who among people was the most beloved to the Messenger of Allah (ﷺ)?' She said: 'Fatimah.' So it was said: 'From the men?' She said: 'Her husband, as I knew him to fast much and stand in prayer much

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:274

Hadith #3875
SahihSahihHasan Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ وَمَا بِي أَنْ أَكُونَ أَدْرَكْتُهَا وَمَا ذَاكَ إِلاَّ لِكَثْرَةِ ذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَهَا وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ فَيَتَتَبَّعُ بِهَا صَدَائِقَ خَدِيجَةَ فَيُهْدِيهَا لَهُنَّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجات میں سے کسی پر مجھے اتنا رشک نہیں آیا جتنا خدیجہ پر آیا، اور اگر میں ان کو پا لیتی تو میرا کیا حال ہوتا؟ اور اس کی وجہ محض یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کثرت سے یاد کرتے تھے، اگر آپ بکری بھی ذبح کرتے تو ڈھونڈ ڈھونڈ کر خدیجہ کی سہیلیوں کو ہدیہ بھیجتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated 'Aishah:"I was not jealous of any wife of the Prophet (ﷺ) as I was jealous of Khadijah, and it was not because I did not see her. It was only because the Messenger of Allah (ﷺ) mentioned her so much, and because whenever he would slaughter a sheep, he would look for Khadijah's friends to gift them some of it

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:275

Hadith #3876
SahihSahihSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا حَسَدْتُ أَحَدًا مَا حَسَدْتُ خَدِيجَةَ وَمَا تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ بَعْدَ مَا مَاتَتْ وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَشَّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لاَ صَخَبَ فِيهِ وَلاَ نَصَبَ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ مِنْ قَصَبٍ قَالَ إِنَّمَا يَعْنِي بِهِ قَصَبَ اللُّؤْلُؤِ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کسی پر اتنا رشک نہیں کیا جتنا ام المؤمنین خدیجہ رضی الله عنہا پر کیا، حالانکہ مجھ سے تو آپ نے نکاح اس وقت کیا تھا جب وہ انتقال کر چکی تھیں، اور اس رشک کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنت میں موتی کے ایک ایسے گھر کی بشارت دی تھی جس میں نہ شور و شغف ہو اور نہ تکلیف و ایذا کی کوئی بات۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- «من قصبٍ» سے مراد موتی کے بانس ہیں۔

English Translation

Narrated 'Aishah:"I did not envy any woman as I envied Khadijah - and the Messenger of Allah (ﷺ) did not marry me except after she had died - that was because the Messenger of Allah (ﷺ) gave her glad tidings of a house in Paradise made of Qasab, without clamoring nor discomforts in it

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:276

Hadith #3877
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ خَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَخَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ ‏"‏ ‏. وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”دنیا کی عورتوں میں سب سے بہتر ( اپنے زمانہ میں ) خدیجہ بنت خویلد تھیں اور دنیا کی عورتوں میں سب سے بہتر ( اپنے زمانہ میں ) مریم بنت عمران تھیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں، انس، ابن عباس اور عائشہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated 'Ali bin Abi Talib:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The best of its women is Khadijah bint Khuwailid, and the best of its women is Mariam bint 'Imran

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:277

Hadith #3878
SahihSahihSahihHasan

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ زَنْجُويَهْ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ مَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساری دنیا کی عورتوں میں سے تمہیں مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، اور فرعون کی بیوی آسیہ کافی ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Anas [may Allah be pleased with him]:that the Prophet (ﷺ) said: "Sufficient for you among the women of mankind are Mariam bint 'Imran, Khadijah bint Khuwailid, Fatimah bint Muhammad and Asiyah the wife of Fir'awn

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:278

Hadith #3879
SahihSahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، - الْمِصْرِيُّ - قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّاسُ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ قَالَتْ فَاجْتَمَعَ صَوَاحِبَاتِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقُلْنَ يَا أُمَّ سَلَمَةَ إِنَّ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ وَإِنَّا نُرِيدُ الْخَيْرَ كَمَا تُرِيدُ عَائِشَةُ فَقُولِي لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرِ النَّاسَ يُهْدُونَ إِلَيْهِ أَيْنَمَا كَانَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ أُمُّ سَلَمَةَ فَأَعْرَضَ عَنْهَا ثُمَّ عَادَ إِلَيْهَا فَأَعَادَتِ الْكَلاَمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ صَوَاحِبَاتِي قَدْ ذَكَرْنَ أَنَّ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ فَأْمُرِ النَّاسَ يُهْدُونَ أَيْنَمَا كُنْتَ ‏.‏ فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ قَالَتْ ذَلِكَ قَالَ ‏ "‏ يَا أُمَّ سَلَمَةَ لاَ تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ فَإِنَّهُ مَا أُنْزِلَ عَلَىَّ الْوَحْىُ وَأَنَا فِي لِحَافِ امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ غَيْرَهَا ‏"‏ ‏‏.‏ وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً ‏. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ رُمَيْثَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ شَيْئًا مِنْ هَذَا ‏.وَ‏هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رُوِيَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَلَى رِوَايَاتٍ مُخْتَلِفَةٍ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ لوگ اپنے ہدئیے تحفے بھیجنے کے لیے عائشہ رضی الله عنہا کے دن ( باری کے دن ) کی تلاش میں رہتے تھے، تو میری سوکنیں سب ام سلمہ رضی الله عنہا کے یہاں جمع ہوئیں، اور کہنے لگیں: ام سلمہ! لوگ اپنے ہدایا بھیجنے کے لیے عائشہ رضی الله عنہا کے دن کی تلاش میں رہتے ہیں اور ہم سب بھی خیر کی اسی طرح خواہاں ہیں جیسے عائشہ ہیں، تو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر کہو کہ آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ آپ جہاں بھی ہوں ( یعنی جس کے یہاں بھی باری ہو ) وہ لوگ وہیں آپ کو ہدایا بھیجا کریں، چنانچہ ام سلمہ نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے اعراض کیا، اور ان کی بات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی، پھر آپ ان کی طرف پلٹے تو انہوں نے اپنی بات پھر دہرائی اور بولیں: میری سوکنیں کہتی ہیں کہ لوگ اپنے ہدایا کے لیے عائشہ کی باری کی تاک میں رہتے ہیں تو آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ آپ جہاں بھی ہوں وہ ہدایا بھیجا کریں، پھر جب انہوں نے تیسری بار آپ سے یہی کہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلمہ تم عائشہ کے سلسلہ میں مجھے نہ ستاؤ کیونکہ عائشہ کے علاوہ تم سب میں سے کوئی عورت ایسی نہیں جس کے لحاف میں مجھ پر وحی اتری ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض راویوں نے اس حدیث کو حماد بن زید سے، حماد نے ہشام بن عروہ سے اور ہشام نے اپنے باپ عروہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، ۳- یہ حدیث ہشام بن عروہ کے طریق سے عوف بن حارث سے بھی آئی ہے جسے عوف بن حارث نے رمیثہ کے واسطہ سے ام سلمہ رضی الله عنہا سے اس کا کچھ حصہ روایت کیا ہے، ہشام بن عروہ سے مروی یہ حدیث مختلف طریقوں سے آئی ہے، ۴- سلیمان بن بلال نے بھی بطریق: «هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة» حماد بن زید کی حدیث کی طرح روایت کی ہے۔

English Translation

Narrated 'Aishah:"The people used to give their gifts [to the Prophet (ﷺ)] on 'Aishah's day." She said: "So my companions gathered with Umm Salamah and they said 'O Umm Salamah! The people give their gifts on 'Aishah's day, and we desire good as 'Aishah desires, so tell the Messenger of Allah (ﷺ) to order the people to give (their gifts to) him no matter where he is.' So Umm Salamah said that, and he turned away from her. Then he turned back to her and she repeated the words saying: 'O Messenger of Allah! My companions have mentioned that the people give their gifts on 'Aishah's day, so order the people to give them no matter where you are.' So upon the third time she said that, he said: 'O Umm Salamah! Do not bother me about 'Aishah! For Revelation has not been sent down upon me while I was under the blankets of a woman among you other than her

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:279

Hadith #3880
SahihSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ الْمَكِّيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ جِبْرِيلَ، جَاءَ بِصُورَتِهَا فِي خِرْقَةِ حَرِيرٍ خَضْرَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ هَذِهِ زَوْجَتُكَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ مُرْسَلاً وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ وَقَدْ رَوَى أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا مِنْ هَذَا ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام ایک سبز ریشم کے ٹکڑے پر ان کی تصویر لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہا: یہ آپ کی بیوی ہیں، دنیا اور آخرت دونوں میں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن عمرو بن علقمہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- عبدالرحمٰن بن مہدی نے اس حدیث کو عبداللہ بن عمرو بن علقمہ سے اسی سند سے مرسلاً روایت کیا ہے اور اس میں عائشہ سے روایت کا ذکر نہیں کیا ہے، ۳- ابواسامہ نے اس حدیث کے کچھ حصہ کو ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے عائشہ رضی الله عنہا سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۲؎۔

English Translation

Narrated 'Aishah:that Jibril came to the Prophet (ﷺ) with her image upon a piece of green silk cloth, and he said: "This is your wife in the world, and in the Hereafter

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:280

Hadith #3881
SahihSahihSahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلاَمَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ قُلْتُ وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ تَرَى مَا لاَ نَرَى ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! یہ جبرائیل ہیں، تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، میں نے عرض کیا: اور انہیں بھی میری طرف سے سلام اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں، آپ وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ پاتے“ ( جیسے جبرائیل کو ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated 'Aishah [may Allah be pleased with her]:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "O 'Aishah! Here is Jibril and he is giving Salam to you." She said: "I said: 'And upon him be peace and the mercy of Allah, and His blessings. You see that which we do not

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:281

Hadith #3882
SahihSahihSahihSahih

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ جِبْرِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلاَمَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں تو میں نے عرض کیا: ان پر سلام اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔

English Translation

Narrated 'Aishah:"The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'Indeed Jibril gives his Salam to you.' So I said: 'And upon him be peace and Allah's Mercy [and His blessings]

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:282

Hadith #3883
SahihSahihHasan SahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ مَا أَشْكَلَ عَلَيْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثٌ قَطُّ فَسَأَلْنَا عَائِشَةَ إِلاَّ وَجَدْنَا عِنْدَهَا مِنْهُ عِلْمًا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب بھی کوئی حدیث مشکل ہوتی اور ہم نے اس کے بارے میں عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا تو ہمیں ان کے پاس اس کے بارے میں کوئی جانکاری ضرور ملی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated Abu Musa:"Never was a Hadith unclear to us - the Companions of the Messenger of Allah - and we asked 'Aishah, except that we found some knowledge concerning it with her

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:283

Hadith #3884
SahihSahihHasan SahihDaif

حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَفْصَحَ مِنْ عَائِشَةَ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی الله عنہا سے زیادہ فصیح کسی کو نہیں دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہی: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated Musa bin Talhah:"I have not seen anyone clearer (in speech) than 'Aishah

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:284

Hadith #3885
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ، لاِبْنِ يَعْقُوبَ قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلاَسِلِ ‏.‏ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ ‏"‏ عَائِشَةُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ مِنَ الرِّجَالِ قَالَ ‏"‏ أَبُوهَا ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عمرو بن العاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لشکر ذات السلاسل کا امیر مقرر کیا، وہ کہتے ہیں: تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”عائشہ“، میں نے پوچھا: مردوں میں کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ان کے باپ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated 'Amr bin Al-'As:that the Messenger of Allah (ﷺ) appointed him as a leader of the army of Dhatis-Salasil. He said: "So I went to him and said: 'O Messenger of Allah! Who is the most beloved to you among the people?' He said: ''Aishah.' I said: 'From the men?' He said: 'Her father

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:285

Hadith #3886
SahihSahih

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ قَالَ ‏"‏ عَائِشَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مِنَ الرِّجَالِ قَالَ ‏"‏ أَبُوهَا ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ ‏.‏

Urdu Translation

عمرو بن العاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”عائشہ“، انہوں نے پوچھا: مردوں میں؟ آپ نے فرمایا: ”ان کے والد“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے یعنی اسماعیل کی روایت سے جسے وہ قیس سے روایت کرتے ہیں حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated 'Amr bin Al-'As:that he said to the Messenger of Allah (ﷺ): "Who is the most beloved of the people to you?" He said: "'Aishah." He said: "From the men?" He said: "Her farther

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:286

Hadith #3887
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ ‏"‏ ‏. وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَأَبِي مُوسَى ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ هُوَ أَبُو طُوَالَةَ الأَنْصَارِيُّ الْمَدَنِيُّ ثِقَةٌ وَقَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ‏.‏

Urdu Translation

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں پر عائشہ کی فضیلت اسی طرح ہے جیسے ثرید کی فضیلت دوسرے کھانوں پر ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ابوموسیٰ اشعری سے احادیث آئی ہیں، ۳- عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن معمر انصاری سے مراد ابوطوالہ انصاری مدنی ہیں اور وہ ثقہ ہیں، ان سے مالک بن انس نے بھی روایت کی ہے۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The virtue of 'Aishah over women is like the virtue of Tharid over all other foods

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:287

Hadith #3888
Daif IsnaadDaif IsnaadDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ، أَنَّ رَجُلاً، نَالَ مِنْ عَائِشَةَ عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فَقَالَ اغْرُبْ مَقْبُوحًا مَنْبُوحًا أَتُؤْذِي حَبِيبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عمرو بن غالب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے پاس عائشہ رضی الله عنہا کی عیب جوئی کی تو انہوں نے کہا: ہٹ مردود بدتر، کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ کو اذیت پہنچا رہا ہے؟ امام ترمذی کہتے ہی: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated 'Amr bin Ghalib:that a man spoke negatively of 'Aishah before 'Ammar bin Yasir so he said: "Be gone as one despicable and rejected! Do you insult the beloved of the Messenger of Allah (ﷺ)?

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:288

Hadith #3889
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الأَسَدِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، يَقُولُ هِيَ زَوْجَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ‏.‏ يَعْنِي عَائِشَةَ رضى الله عنها ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيِّ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن زیاد اسدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمار بن یاسر رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ یعنی عائشہ رضی الله عنہا دنیا اور آخرت دونوں میں آپ کی بیوی ہیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔

English Translation

Narrated 'Ammar bin Yasir:"She is his wife in the world and in the Hereafter." - meaning: 'Aishah [may Allah be pleased with her]

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:289

Hadith #3890
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ قَالَ ‏"‏ عَائِشَةُ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ مِنَ الرِّجَالِ قَالَ ‏"‏ أَبُوهَا ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ ‏.‏

Urdu Translation

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ آپ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”عائشہ“، عرض کیا گیا مردوں میں؟ آپ نے فرمایا: ”ان کے والد“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے یعنی انس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated Anas [May Allah be pleased with him]:"It was said: 'O Messenger of Allah! Who is the most beloved of the people to you?' He said: ''Aishah.' It was said: 'From the men?' He said: 'Her father

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:290

Hadith #3891
HasanHasanHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنَا سَلْمُ ابْنُ جَعْفَرٍ وَكَانَ ثِقَةً عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ قِيلَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ بَعْدَ صَلاَةِ الصُّبْحِ مَاتَتْ فُلاَنَةُ لِبَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَجَدَ فَقِيلَ لَهُ أَتَسْجُدُ هَذِهِ السَّاعَةَ فَقَالَ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا رَأَيْتُمْ آيَةً فَاسْجُدُوا ‏"‏ ‏.‏ فَأَىُّ آيَةٍ أَعْظَمُ مِنْ ذَهَابِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

عکرمہ کہتے ہیں کہ فجر کے بعد ابن عباس رضی الله عنہما سے کہا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے فلاں کا انتقال ہو گیا، تو وہ سجدہ میں گر گئے، ان سے پوچھا گیا: کیا یہ سجدہ کرنے کا وقت ہے؟ تو انہوں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: ”جب تم اللہ کی طرف سے کوئی خوفناک بات دیکھو تو سجدہ کرو“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج کے دنیا سے رخصت ہونے سے بڑی اور کون سی ہو سکتی ہے؟“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated 'Ikrimah:"After Salat As-Subh, it was said to Ibn 'Abbas that so-and-so - one of the wives of the Prophet (ﷺ) - has died, so he prostrated. So it was said to him: 'Do you prostrate at this hour?' So he said: 'Has not the Messenger of Allah (ﷺ) [already] said: 'If you see a sign then prostrate?' Then which sign is grater than the passing of (one of) the wives of the Prophet (ﷺ)?

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:291

Hadith #3892
Daif IsnaadDaif IsnaadDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ، هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْكُوفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا كِنَانَةُ، قَالَ حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ بَلَغَنِي عَنْ حَفْصَةَ وَعَائِشَةَ كَلاَمٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏ "‏ أَلاَ قُلْتِ فَكَيْفَ تَكُونَانِ خَيْرًا مِنِّي وَزَوْجِي مُحَمَّدٌ وَأَبِي هَارُونُ وَعَمِّي مُوسَى ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ الَّذِي بَلَغَهَا أَنَّهُمْ قَالُوا نَحْنُ أَكْرَمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا ‏.‏ وَقَالُوا نَحْنُ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَبَنَاتُ عَمِّهِ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ ‏.‏هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ صَفِيَّةَ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ هَاشِمٍ الْكُوفِيُّ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین صفیہ بنت حی رضی الله عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، مجھے حفصہ اور عائشہ رضی الله عنہما کی طرف سے ایک ( تکلیف دہ ) بات پہنچی تھی جسے میں نے آپ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: تم نے یہ کیوں نہیں کہا؟ کہ تم دونوں مجھ سے بہتر کیسے ہو سکتی ہو، میرے شوہر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور باپ ہارون ہیں، اور چچا موسیٰ ہیں اور جو بات پہنچی تھی وہ یہ تھی کہ حفصہ اور عائشہ رضی الله عنہما نے کہا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ان سے زیادہ باعزت ہیں، اس لیے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ہیں، اور آپ کے چچا کی بیٹیاں ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- صفیہ کی اس حدیث کو ہاشم کوفی کی روایت سے جانتے ہیں، اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے، ۳- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔

English Translation

Narrated Safiyyah bint Huyai:"The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me and some words had reached me from Hafsah and 'Aishah. So I mentioned it to him. So he said: 'Why did you not say: "And how are you two better than me, while my husband is Muhammad and my father is Harun, and my uncle is Musa?" That which had reached her, was that they had said: "We are more honored to the Messenger of Allah (ﷺ) than her," and that they said: "We are the wives of the Prophet (ﷺ) and his cousins

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:292

Hadith #3893
SahihSahihHasanHasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى ا��له عليه وسلم دَعَا فَاطِمَةَ عَامَ الْفَتْحِ فَنَاجَاهَا فَبَكَتْ ثُمَّ حَدَّثَهَا فَضَحِكَتْ قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلْتُهَا عَنْ بُكَائِهَا وَضَحِكِهَا ‏.‏ قَالَتْ أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ يَمُوتُ فَبَكَيْتُ ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلاَّ مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ فَضَحِكْتُ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال فاطمہ کو بلایا اور ان کے کان میں کچھ باتیں کہیں تو وہ رو پڑیں، پھر آپ نے دوبارہ ان سے کچھ کہا تو وہ ہنسنے لگیں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو میں نے ان سے ان کے رونے اور ہنسنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بتایا تھا کہ عنقریب آپ وفات پا جائیں گے، تو ( یہ سن کر ) میں رونے لگی تھی، پھر آپ نے جب مجھے یہ بتایا کہ مریم بنت عمران کو چھوڑ کر میں اہل جنت کے تمام عورتوں کی سردار ہوں گی ۱؎، تو یہ سن کر میں ہنسنے لگی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated Umm Salamah:that the Messenger of Allah (ﷺ) called for Fatimah in the Year of the Conquest to speak to her, and she cried. Then he spoke to her and she laughed. She said: "When the Messenger of Allah (ﷺ) died I asked her about her crying and her laughing. She said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) informed me that he would (soon) die, so I cried. Then, he informed me that I was the master over all of the women among the inhabitants of Paradise, except for Mariam bint 'Imran, so I laughed

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:293

Hadith #3894
SahihSahihHasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ بَلَغَ صَفِيَّةَ أَنَّ حَفْصَةَ، قَالَتْ بِنْتُ يَهُودِيٍّ ‏.‏ فَبَكَتْ فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ تَبْكِي فَقَالَ ‏"‏ مَا يُبْكِيكِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ قَالَتْ لِي حَفْصَةُ إِنِّي بِنْتُ يَهُودِيٍّ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّكِ لاَبْنَةُ نَبِيٍّ وَإِنَّ عَمَّكِ لَنَبِيٌّ وَإِنَّكِ لَتَحْتَ نَبِيٍّ فَفِيمَ تَفْخَرُ عَلَيْكِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اتَّقِي اللَّهَ يَا حَفْصَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین صفیہ رضی الله عنہا کو یہ بات پہنچی کہ ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا نے انہیں یہودی کی بیٹی ہونے کا طعنہ دیا ہے، تو وہ رونے لگیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے تو وہ رو رہی تھیں، آپ نے پوچھا: تم کیوں رو رہی ہو؟ تو انہوں نے کہا: حفصہ نے مجھے یہ طعنہ دیا ہے کہ میں یہودی کی بیٹی ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ایک نبی کی بیٹی ہے، تیرا چچا بھی نبی ہے ۱؎ اور تو ایک نبی کے عقد میں ہے، تو وہ کس بات میں تجھ پر فخر کر رہی ہے، پھر آپ نے ( حفصہ سے ) فرمایا: ”حفصہ! اللہ سے ڈر“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated Anas:said: "It reached Safiyyah that Hafsah said: 'The daughter of a Jew' so she wept. Then the Prophet (ﷺ) entered upon her while she was crying, so he said: 'What makes you cry?' She said: 'Hafsah said to me that I am the daughter of a Jew.' So the Prophet (ﷺ) said: 'And you are the daughter of a Prophet, and your uncle is a Prophet, and you are married to a Prophet, so what is she boasting to you about?' Then he said: 'Fear Allah, O Hafsah

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:294

Hadith #3895
SahihSahihHasan SahihHasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لأَهْلِي وَإِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ مَا أَقَلَّ مَنْ رَوَاهُ عَنِ الثَّوْرِيِّ ‏.‏ وَرُوِيَ هَذَا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلٌ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں اور جب تم میں سے کوئی مر جائے تو اسے خیر باد کہہ دو، یعنی اس کی برائیوں کو یاد نہ کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ثوری کی روایت سے حسن غریب صحیح ہے اور ثوری سے روایت کرنے والے اسے کتنے کم لوگ ہیں اور یہ حدیث ہشام بن عروہ سے عروہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً بھی آئی ہے۔

English Translation

Narrated 'Aishah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The best of you is the best to his wives, and I am the best of you to my wives, and when your companion dies, leave him alone

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:295

Hadith #3896
Daif IsnaadDaif IsnaadDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ الْوَلِيدِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْهِمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَالٍ فَقَسَمَهُ فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَجُلَيْنِ جَالِسَيْنِ وَهُمَا يَقُولاَنِ وَاللَّهِ مَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ بِقِسْمَتِهِ الَّتِي قَسَمَهَا وَجْهَ اللَّهِ وَلاَ الدَّارَ الآخِرَةَ ‏.‏ فَتَثَبَّتُّ حِينَ سَمِعْتُهُمَا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَخْبَرْتُهُ فَاحْمَرَّ وَجْهُهُ وَقَالَ ‏"‏ دَعْنِي عَنْكَ فَقَدْ أُوذِيَ مُوسَى بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ زِيدَ فِي هَذَا الإِسْنَادِ رَجُلٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے اصحاب میں سے کوئی کسی کی برائی مجھ تک نہ پہنچائے، کیونکہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ جب میں ان کی طرف نکلوں تو میرا سینہ صاف ہو“، عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں: ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال آیا اور آپ نے اسے تقسیم کر دیا، تو میں دو آدمیوں کے پاس پہنچا جو بیٹھے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے: قسم اللہ کی! محمد نے اپنی اس تقسیم سے جو انہوں نے کی ہے نہ رضائے الٰہی طلب کی ہے نہ دار آخرت، جب میں نے اسے سنا تو یہ بات مجھے بری لگی، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا: ”مجھے جانے دو کیونکہ موسیٰ کو تو اس سے بھی زیادہ ستایا گیا پھر بھی انہوں نے صبر کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور اس سند میں ایک آدمی کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

English Translation

Narrated 'Abdullah bin Mas'ud:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "No one should convey to me anything regarding any of my Companions, for I love that I should go out to them while my breast is at peace." 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (ﷺ) was brought some wealth, so the Prophet (ﷺ) distributed it. Then I came across two men that were sitting saying: 'By Allah! Muhammad (ﷺ) did not intend the Face of Allah in his distribution, nor the abode of the Hereafter.' So I spread this when I heard them, and I went to the Messenger of Allah (ﷺ) and I informed him. So his face became red and he said: 'Do not bother me with this, for indeed Musa was afflicted by more than this and he was patient

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:296

Hadith #3897
Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، وَالْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا مِنْ هَذَا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی کسی کی کوئی بات مجھے نہ پہنچائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کا کچھ حصہ اس سند کے علاوہ سے بھی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے مرفوعاً آیا ہے۔

English Translation

Narrated 'Abdullah bin Mas'ud:that the Prophet (ﷺ) said: "No one should convey to me anything regarding anyone

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:297

Hadith #3898
HasanHasanHasan SahihHasan

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَرَأَ عَلَيْهِ ‏:‏ ‏(‏ لمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا ‏)‏ وَفِيهَا ‏"‏ إِنَّ ذَاتَ الدِّينِ عِنْدَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ الْمُسْلِمَةُ لاَ الْيَهُودِيَّةُ وَلاَ النَّصْرَانِيَّةُ وَلاَ الْمَجُوسِيَّةُ مَنْ يَعْمَلْ خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَرَأَ عَلَيْهِ ‏"‏ لَوْ أَنَّ لاِبْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ لاَبْتَغَى إِلَيْهِ ثَانِيًا وَلَوْ كَانَ لَهُ ثَانِيًا لاَبْتَغَى إِلَيْهِ ثَالِثًا وَلاَ يَمْلأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلاَّ التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللهُ عَلَى مَنْ تَابَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں، چنانچہ آپ نے انہیں «لم يكن الذين كفروا» پڑھ کر سنایا، اس میں یہ بات بھی کہ بیشک دین والی، اللہ کے نزدیک تمام ادیان وملل سے کٹ کر اللہ کی جانب یکسو ہو جانے والی مسلمان عورت ہے، نہ یہودی، نصرانی اور مجوسی عورت، جو کوئی نیکی کرے گا تو اس کی ناقدری ہرگز نہیں کی جائے گی اور آپ نے انہیں یہ بھی بتایا کہ انسان کے پاس مال سے بھری ہوئی ایک وادی ہو تو وہ دوسری بھی چاہے گا، اور اگر اسے دوسری مل جائے تو تیسری چاہے گا، اور انسان کا پیٹ صرف مٹی ہی بھر سکے گی اور اللہ اسی کی توبہ قبول کرتا ہے جو واقعی توبہ کرے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اس کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، اسے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابزی نے اپنے والد سے انہوں نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں“، ۳- اسے قتادہ نے انس سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں“۔

English Translation

Narrated Ubayy bin Ka'b:that the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: "Indeed Allah has ordered me to recite the Qur'an to you." So he recited to him: "Those who disbelieved were not going to... (98:1) and he recited in it: "Indeed the religion with Allah is that which is Hanafiyyah, Muslim, not Judaism, nor Christianity, nor Zoroastrian, whoever does good then it shall not be rejected from him." And he recited to him: "If the son of Adam had a valley of wealth he would seek a second, and if he had a second he would seek a third, and nothing fills the belly of the son of Adam except dirt. And Allah pardons those who repent

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:298

Hadith #3899
Hasan SahihHasan SahihHasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْلاَ الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الأَنْصَارِ ‏"‏ ‏.‏ وَبِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَكُنْتُ مَعَ الأَنْصَارِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار ہی کا ایک فرد ہوتا“ ۱؎۔ اسی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ”اگر انصار کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔

English Translation

Narrated Ubayy bin Ka'b:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "If it were not for the Hijrah, I would be a man from the Ansar

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:299

Hadith #3900
SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَوْ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي الأَنْصَارِ ‏ "‏ لاَ يُحِبُّهُمْ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَبْغَضُهُمْ إِلاَّ مُنَافِقٌ مَنْ أَحَبَّهُمْ فَأَحَبَّهُ اللَّهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَأَبْغَضَهُ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ لَهُ أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنَ الْبَرَاءِ فَقَالَ إِيَّاىَ حَدَّثَ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، یا کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے بارے میں فرمایا: ”ان سے مومن ہی محبت کرتا ہے، اور ان سے منافق ہی بغض رکھتا ہے، جو ان سے محبت کرے گا اس سے اللہ محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا اس سے اللہ بغض رکھے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Shu'bah:from 'Adi bin Thabit, from Al-Bara bin 'Azib, that he heard the Prophet (ﷺ), or - he said: "The Prophet (ﷺ) said, about the Ansar: 'No one loves them except a believer, and no one hates them except a hypocrite. Whoever loves them, then Allah loves him, and whoever hates them then Allah hates him.'" So we said to him: "Did you hear this from Al-Bara?" He said: "He narrated it to me

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:300

Hadith #3901
SahihSahihSahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ،قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَاسًا مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ ‏"‏ هَلُمَّ هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ إِلاَّ ابْنَ أُخْتٍ لَنَا ‏.‏ فَقَالَ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ ابْنَ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِجَاهِلِيَّةٍ وَمُصِيبَةٍ وَإِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَجْبُرَهُمْ وَأَتَأَلَّفَهُمْ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى بُيُوتِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا بَلَى ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا وَسَلَكَتِ الأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فتح مکہ کے وقت ) انصار کے کچھ لوگوں کو اکٹھا کیا ۱؎ اور فرمایا: ”کیا تمہارے علاوہ تم میں کوئی اور ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: نہیں سوائے ہمارے بھانجے کے، تو آپ نے فرمایا: ”قوم کا بھانجا تو قوم ہی میں داخل ہوتا ہے“، پھر آپ نے فرمایا: ”قریش اپنی جاہلیت اور ( کفر کی ) مصیبت سے نکل کر ابھی نئے نئے اسلام لائے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ کچھ ان کی دلجوئی کروں اور انہیں مانوس کروں، ( اسی لیے مال غنیمت میں سے انہیں دیا ہے ) کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ لوگ دنیا لے کر اپنے گھروں کو لوٹیں اور تم اللہ کے رسول کو لے کر اپنے گھر جاؤ“، لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ہم اس پر راضی ہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار دوسری وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی و گھاٹی میں چلوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Anas:that the Messenger of Allah (ﷺ) gathered a group of people from the Ansar and said: "Come, is there anyone among you who is from other than you?" They said: "No, except the son of a sister of ours." So he said: "The son of the sister of a people is from them." Then he said: "Indeed the Quraish is not far from their time of ignorance and affliction, and I wished that I subdue them and coax them. Are you not happy that the people return with this world and you return to your homes with the Messenger of Allah (ﷺ)?" They said: "Of course we are." So the Messenger of Allah (ﷺ) said: "If the people were to pass through a valley or a path, and the Ansar passed through a valley or a path then I would pass through the valley or path of the Ansar

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:301

Hadith #3902
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يُعَزِّيهِ فِيمَنْ أُصِيبَ مِنْ أَهْلِهِ وَبَنِي عَمِّهِ يَوْمَ الْحَرَّةِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ إِنِّي أُبَشِّرُكَ بِبُشْرَى مِنَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَلِذَرَارِيِّ الأَنْصَارِ وَلِذَرَارِيِّ ذَرَارِيِّهِمْ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏‏ وَقَدْ رَوَاهُ قَتَادَةُ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ‏.‏

Urdu Translation

زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے انس بن مالک رضی الله عنہ کو خط لکھا اس خط میں وہ ان کی ان لوگوں کے سلسلہ میں تعزیت کر رہے تھے جو ان کے گھر والوں میں سے اور چچا کے بیٹوں میں سے حرّہ ۱؎ کے دن کام آ گئے تھے تو انہوں نے ( اس خط میں ) انہیں لکھا: میں آپ کو اللہ کی طرف سے ایک خوشخبری سناتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! انصار کو، ان کی اولاد کو، اور ان کی اولاد کے اولاد کو بخش دے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے قتادہ نے بھی نضر بن انس رضی الله عنہ سے اور انہوں نے زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے۔

English Translation

Zaid bin Arqam wrote to Anas bin Malik, comforting him over those of his family and children of his paternal uncle who suffered on the day of Al-Harrah. So he wrote to him:"I give you glad tidings of good news from Allah. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'O Allah forgive the Ansar and the children of the Ansar, and the children of their children

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:302

Hadith #3903
DaifDaifHasan SahihDaif

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اقْرَأْ قَوْمَكَ السَّلاَمَ فَإِنَّهُمْ مَا عَلِمْتُ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی قوم ۱؎ کو سلام کہو، کیونکہ وہ پاکباز اور صابر لوگ ہیں جیسا کہ مجھے معلوم ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Abu Talhah:"The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'Convey my Salam to your people, because I know them to be modest and patient

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:303

Hadith #3904
MunkarDaifDaif

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ زَكَرِيَّا ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَلاَ إِنَّ عَيْبَتِي الَّتِي آوِي إِلَيْهَا أَهْلُ بَيْتِي وَإِنَّ كَرِشِي الأَنْصَارُ فَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ وَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏. وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ ‏.‏

Urdu Translation

ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری جامہ دانی جس کی طرف میں پناہ لیتا ہوں یعنی میرے خاص لوگ میرے اہل بیت ہیں، اور میرے راز دار اور امین انصار ہیں تو تم ان کے خطا کاروں کو درگزر کرو اور ان کے بھلے لوگوں کی اچھائیوں کو قبول کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔

English Translation

Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri:that the Prophet (ﷺ) said: "Indeed my elite, those whom I lean towards, are the people of my house and my close ones are the Ansar, so forgive those who do wrong from them and accept from those who do good from them

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:304

Hadith #3905
SahihSahihHasanHasan

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ابْنُ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ يُرِدْ هَوَانَ قُرَيْشٍ أَهَانَهُ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏

Urdu Translation

سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قریش کی رسوائی چاہے گا اللہ اسے رسوا کر دے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: مجھے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے خبر دی، وہ کہتے ہیں: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور انہوں نے صالح بن کیسان سے اور صالح نے ابن شہاب سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔

English Translation

Narrated Sa'd:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever wishes to humiliate the Quraish then Allah will humiliate him

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:305

Hadith #3906
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، وَالْمُؤَمَّلُ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَبْغَضُ الأَنْصَارَ أَحَدٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Abbas:"The Prophet (ﷺ) said to me: 'A man who believes in Allah and the Last Day does not hate the Ansar

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:306

Hadith #3907
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَإِنَّ النَّاسَ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار میرے راز دار اور میرے خاص الخاص ہیں، لوگ عنقریب بڑھیں گے اور انصار کم ہوتے جائیں گے، تو تم ان کے بھلے لوگوں کی اچھائیوں کو قبول کرو اور ان کے خطا کاروں کی خطاؤں سے درگزر کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Ansar are my close ones and my elite. Indeed the people shall increase and they shall dwindle, so accept from those who do good among them, and overlook those who do bad among them

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:307

Hadith #3908
Hasan SahihHasan SahihHasan SahihHasan

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اللَّهُمَّ أَذَقْتَ أَوَّلَ قُرَيْشٍ نَكَالاً فَأَذِقْ آخِرَهُمْ نَوَالاً ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْوَرَّاقُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، عَنِ الأَعْمَشِ، نَحْوَهُ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! قریش کے پہلوں کو تو نے ( قتل، قید اور ذلت کا ) عذاب چکھایا ہے ۱؎، تو ان کے پچھلوں کو بخشش و عنایت سے نواز دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Abbas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "O Allah! You made the first of the Quraish taste punishment, so let the last of them taste blessings

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:308

Hadith #3909
SahihSahihDaif

حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ جَعْفَرٍ الأَحْمَرِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَلأَبْنَاءِ الأَنْصَارِ وَلأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الأَنْصَارِ وَلِنِسَاءِ الأَنْصَارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم اغفر للأنصار ولأبناء الأنصار ولأبناء أبناء الأنصار ولنساء الأنصار» ”اے اللہ! انصار کو، ان کے بیٹوں کو، ان کے بیٹوں کے بیٹوں کو اور ان کی عورتوں کو بخش دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated Anas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "O Allah forgive the Ansar and the children of the Ansar, and the children of the children of the Ansar, and the women of the Ansar

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:309

Hadith #3910
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الأَنْصَارِ أَوْ بِخَيْرِ الأَنْصَارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بَنُو النَّجَّارِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو عَبْدِ الأَشْهَلِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو سَاعِدَةَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ فَقَبَضَ أَصَابِعَهُ ثُمَّ بَسَطَهُنَّ كَالرَّامِي بِيَدَيْهِ قَالَ ‏"‏ وَفِي دُورِ الأَنْصَارِ كُلِّهَا خَيْرٌ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا أَيْضًا عَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں انصار کے بہتر گھروں کی یا انصار کے بہتر لوگوں کی خبر نہ دوں؟ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”سب سے بہتر بنی نجار ہیں، پھر بنی عبدالاشہل ہیں جو ان سے قریب ہیں، پھر بنی حارث بن خزرج ہیں جو ان سے قریب ہیں، پھر بنی ساعدہ ہیں ۱؎، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا اور اپنی انگلیوں کو بند کیا، پھر کھولا جیسے کوئی اپنے ہاتھوں سے کچھ پھینک رہا ہو“ اور فرمایا: ”انصار کے سارے گھروں میں خیر ہے ۲؎“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- انس سے بھی آئی ہے جسے وہ ابواسید ساعدی کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Shall I inform you of the best houses of the Ansar, or of the best of the Ansar?" They said: "Of course, O Messenger of Allah!" He said: "Banu An-Najjar. Then those who come after them are Banu 'Abdul-Ashhal. Then those who come after them are Banu Al-Harith bin Al-Khazraj. Then those who come after them are Banu Sa'idah." Then he motioned with his hands, clenching his fingers, then opening them, like an archer does with his hands. He said: "And in all of the houses of the Ansar there is good

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:310

Hadith #3911
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خَيْرُ دُورِ الأَنْصَارِ دُورُ بَنِي النَّجَّارِ ثُمَّ دُورُ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ ثُمَّ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ بَنِي سَاعِدَةَ وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ سَعْدٌ مَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ قَدْ فَضَّلَ عَلَيْنَا ‏.‏ فَقِيلَ قَدْ فَضَّلَكُمْ عَلَى كَثِيرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَأَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ اسْمُهُ مَالِكُ بْنُ رَبِيعَةَ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ نَحْوَ هَذَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Urdu Translation

ابواسید ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کے گھروں میں سب سے بہتر گھر بنی نجار کے گھر ۱؎ ہیں، پھر بنی عبدالاشہل کے، پھر بنی حارث بن خزرج کے پھر بنی ساعدہ کے اور انصار کے سارے گھروں میں خیر ہے“، تو سعد نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی سمجھ رہا ہوں کہ آپ نے ہم پر لوگوں کو فضیلت دی ہے ۲؎ تو ان سے کہا گیا: آپ کو بھی تو بہت سے لوگوں پر فضیلت دی ہے ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابواسید ساعدی کا نام مالک بن ربیعہ ہے، ۳- اسی جیسی روایت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی مرفوع طریقہ سے آئی ہے، ۴- اسے معمر نے زہری سے، زہری نے ابوسلمہ اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے اور ان دونوں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔

English Translation

Narrated Abu Usaid As-Sa'idi:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Best houses of the Ansar are the houses of Banu An-Najjar, then the house of Banu 'Abdul-Ashhal, then Banu Al-Harith bin Al-Khazraj, then Banu Sa'idah. And in all of the houses of the Ansar there is good." So Sa'd said: "I do not see except that the Prophet (ﷺ) has preferred everyone over us." So it was said: "He preferred you over many

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:311

Hadith #3912
Sahih LighairihiSahihSahih

حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خَيْرُ دِيَارِ الأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کے گھروں میں سب سے بہتر گھر بنی نجار کے گھر ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔

English Translation

Narrated Jabir bin 'Abdullah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The best house of the Ansar is Banu An-Najjar

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:312

Hadith #3913
Sahih LighairihiSahihSahih

حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ، سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خَيْرُ الأَنْصَارِ بَنُو عَبْدِ الأَشْهَلِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

جابر عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار میں سب سے بہتر بنی عبدالاشہل ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔

English Translation

Narrated Jabir [bin 'Abdullah]:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The best of the Ansar are Banu 'Abdul-Ashhal

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:313

Hadith #3914
SahihSahihHasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعْدٍ‏ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا كُنَّا بِحَرَّةِ السُّقْيَا الَّتِي كَانَتْ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ائْتُونِي بِوَضُوءٍ ‏"‏ ‏.‏ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ عَبْدَكَ وَخَلِيلَكَ وَدَعَا لأَهْلِ مَكَّةَ بِالْبَرَكَةِ وَأَنَا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ أَدْعُوكَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنْ تُبَارِكَ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ مِثْلَىْ مَا بَارَكْتَ لأَهْلِ مَكَّةَ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏

Urdu Translation

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب ہم حرہ سقیا ۱؎ میں پہنچے جو سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کا محلہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم إن إبراهيم كان عبدك وخليلك ودعا لأهل مكة بالبركة وأنا عبدك ورسولك أدعوك لأهل المدينة أن تبارك لهم في مدهم وصاعهم مثلي ما باركت لأهل مكة مع البركة بركتين» ”مجھے وضو کا پانی دو“، چنانچہ آپ نے وضو کیا، پھر آپ قبلہ رخ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے اللہ! ابراہیم تیرے بندے اور تیرے دوست ہیں اور انہوں نے اہل مکہ کے لیے برکت کی دعا فرمائی، اور میں تیرا بندہ اور تیرا رسول ہوں، اور تجھ سے اہل مدینہ کے لیے دعا کرتا ہوں کہ تو ان کے مد اور ان کی صاع میں اہل مکہ کو جو تو نے برکت دی ہے اس کی دوگنا برکت فرما، اور ہر برکت کے ساتھ دو برکتیں ( یعنی اہل مکہ کی دوگنی برکت عطا فرما ۲؎ ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، عبداللہ بن زید اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated 'Ali bin Abi Talib:"We departed with the Messenger of Allah (ﷺ) until he was at Harrah As-Suqya which belonged to Sa'd bin Abi Waqqas. So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Bring me water for Wudu.' So he performed Wudu, then he faced the Qiblah and said: 'O Allah! Indeed Ibrahim was Your servant and Your Khalil, and he supplicated for blessings for the people of Makkah. And I am Your servant and Messenger, and I supplicate for the people of Al-Madinah; that You bless them in their Mudd and their Sa' like You blessed the people of Makkah, for each blessing let there be two blessings

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:314

Hadith #3915
Hasan SahihHasan SahihHasan

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ،‏ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُبَاتَةَ، يُونُسُ بْنُ يَحْيَى بْنِ نُبَاتَةَ‏ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْمُعَلَّى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Urdu Translation

علی اور ابوہریرہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ( مسجد نبوی ) جو حصہ ہے وہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، اور یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی مرفوعاً آئی ہے۔

English Translation

Narrated 'Ali bin Abi Talib and Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whatever is between my house and my Minbar is a garden from the gardens of Paradise

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:315

Hadith #3916
Hasan SahihHasan SahihSahihSahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَامِلٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ الزَّاهِدُ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ وَبِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ صَلاَةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلاَةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلاَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ‏"‏ ‏.‏هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جو حصہ ہے وہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے“۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:that the Prophet (ﷺ) said: "What is between my house and my Minbar is a garden from the gardens of Paradise." And with this chain, from the Prophet (ﷺ), that he said: "One Salat in this Masjid of mine is better than one thousand prayers in any other Masjid, except for Al-Masjid Al-Haram

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:316

Hadith #3917
SahihSahihHasan SahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ بِهَا فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ يَمُوتُ بِهَا ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الأَسْلَمِيَّةِ ‏. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مدینہ میں مر سکتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہیں مرے کیونکہ جو وہاں مرے گا میں اس کے حق میں سفارش کروں گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے یعنی ایوب سختیانی کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں سبیعہ بنت حارث اسلمیہ سے بھی روایت ہے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:that the Prophet (ﷺ) said: "Whoever is able to die in Al-Madinah, then let him die there, for I will intercede for those who die there

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:317

Hadith #3918
SahihSahihHasan SahihSahih - Bukhari And Muslim

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ ابْنَ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما أَنَّ مَوْلاَةً، لَهُ أَتَتْهُ فَقَالَتِ اشْتَدَّ عَلَىَّ الزَّمَانُ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الْعِرَاقِ ‏.‏ قَالَ فَهَلاَّ إِلَى الشَّأْمِ أَرْضِ الْمَنْشَرِ اصْبِرِي لَكَاعِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ صَبَرَ عَلَى شِدَّتِهَا وَلأْوَائِهَا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَسُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ وَسُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةِ ‏.‏هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی ان کے پاس آئی اور ان سے کہنے لگی میں گردش زمانہ کی شکار ہوں اور عراق جانا چاہتی ہوں، تو انہوں نے کہا: تو شام کیوں نہیں چلی جاتی جو حشر و نشر کی سر زمین ہے، ( آپ نے کہا ) «اصبري لكاع» ! کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے اس کی ( مدینہ کی ) سختی اور تنگی معیشت پر صبر کیا تو میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ یا سفارشی ہوں گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث عبیداللہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، سفیان بن ابی زہیر اور سبیعہ اسلمیہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:that a freed a slave girl of his came to him, and said: "Times have become hard on me and I want to go to Al-'Iraq." He said: "Why not to Ash-Sham the land of the resurrection? Have patience you foolish lady; I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever endures its hardships and difficulties (Al-Madinah) then I will be a witness, or an intercessor for him on the Day of Judgement." [He said:] There are narrations on this topic from Abu Sa'eed, Sufyan bin Abi Zuhair, and Subai'ah Al-Aslamiyyah

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:318

Hadith #3919
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ، سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبِي جُنَادَةُ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ آخِرُ قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الإِسْلاَمِ خَرَابًا الْمَدِينَةُ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ جُنَادَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ‏.‏ قَالَ تَعَجَّبَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ هَذَا ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کے شہروں میں ویرانی کے اعتبار سے مدینہ سب سے آخری شہر ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف جنادہ کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ ہشام بن عروہ سے روایت کرتے ہیں، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کے ابوہریرہ رضی الله عنہ پر تعجب کا اظہار کیا ہے ( یعنی ایسی بات کیسے صحیح ہو سکتی ہے ) ۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The last of the cities of Islam to be destroyed is Al-Madinah

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:319

Hadith #3920
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الإِسْلاَمِ فَأَصَابَهُ وَعَكٌ بِالْمَدِينَةِ فَجَاءَ الأَعْرَابِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَقِلْنِي بَيْعَتِي ‏.‏ فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَ الأَعْرَابِيُّ ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ أَقِلْنِي بَيْعَتِي ‏.‏ فَأَبَى فَخَرَجَ الأَعْرَابِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَتُنَصِّعُ طَيِّبَهَا ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی، پھر اسے مدینہ میں بخار آ گیا تو وہ اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پاس آیا اور کہنے لگا، آپ مجھے میری بیعت پھیر دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا، پھر وہ دوبارہ آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: آپ میری بیعت مجھے پھیر دیں تو پھر آپ نے انکار کیا، پھر وہ اعرابی مدینہ چھوڑ کر چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ ایک بھٹی کے مثل ہے جو دور کر دیتا ہے اپنے کھوٹ کو اور خالص کر دیتا ہے پاک کو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔

English Translation

Narrated Jabir:that a Bedouin gave the pledge to the Messenger of Allah (ﷺ) for Islam, then he was afflicted by the sickness in Al-Madinah. So the Bedouin went to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: "Take back my pledge." But the Messenger of Allah (ﷺ) refused. Then the Bedouin left and came back and said: "Take back my pledge," and he refused. Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Al-Madinah is but like bellows, it expels its filth and purifies its good

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:320

Hadith #3921
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ تَرْتَعُ بِالْمَدِينَةِ مَا ذَعَرْتُهَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا حَرَامٌ ‏"‏ ‏. وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَأَنَسٍ وَأَبِي أَيُّوبَ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ وَجَابِرٍ ‏.‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے تھے کہ اگر میں مدینہ میں ہرنوں کو چرتے دیکھوں تو انہیں نہ ڈراؤں اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اس کی دونوں پتھریلی زمینوں ۱؎ کے درمیان کا حصہ حرم ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سعد، عبداللہ بن زید، انس، ابوایوب، زید بن ثابت، رافع بن خدیج، سہل بن حنیف اور جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Sa'eed bin Al-Musayyab:that Abu Hurairah used to say: "If I saw hyenas roaming in Al-Madinah, I would not advance upon them. Indeed the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whatever is between its two lava tracts is sacred

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:321

Hadith #3922
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، وَحَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ فَقَالَ ‏ "‏ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احد پہاڑ نظر آیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ ایسا پہاڑ ہے کہ یہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے، اے اللہ! ابراہیم نے مکہ کو حرام کیا اور میں اس ( مدینہ ) کی دونوں پتھریلی زمینوں کے بیچ کے حصہ کو حرام قرار دے رہا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:that (mount) Uhud appeared to the Messenger of Allah (ﷺ) so he said: "This mountain loves us and we love it. O Allah! Indeed Ibrahim made Makkah sacred, and I make sacred whatever is between its (i.e. Al-Madinah) two lava tracts

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:322

Hadith #3923
MawduMawduDaif

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عِيسَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَامِرِيِّ، عَنْ أَبِي زُرَعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَىَّ أَىَّ هَؤُلاَءِ الثَّلاَثَةِ نَزَلْتَ فَهِيَ دَارُ هِجْرَتِكَ الْمَدِينَةَ أَوِ الْبَحْرَيْنِ أَوْ قِنَّسْرِينَ ‏"‏ ‏. هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو عَامِرٍ ‏.‏

Urdu Translation

جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے میری طرف وحی کی کہ مدینہ، بحرین اور قنسرین ان تینوں میں سے جہاں بھی تم جاؤ وہی تمہارا دار الہجرت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف فضل بن موسیٰ کی روایت سے جانتے ہیں اور ان سے ابوعمار یعنی حسین بن حریث روایت کرنے میں منفرد ہیں۔

English Translation

Narrated Jarir bin 'Abdullah:that the Prophet (ﷺ) said: "Indeed Allah has revealed to me that: Whichever of these three places you go to will be the place of your emigration: Al-Madinah, Bahrain, or Qinnasrin

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:323

Hadith #3924
SahihSahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَصْبِرُ عَلَى لأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلاَّ كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَسُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ وَسُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةِ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏. وَصَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ أَخُو سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ کی تنگی معیشت اور اس کی سختیوں پر جو صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ اور سفارشی ہوں گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، سفیان بن ابی زہیر اور سبیعہ اسلمیہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صالح بن ابی صالح سہیل بن ابی صالح کے بھائی ہیں۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "No one is patient with the difficulties and hardships of Al-Madinah, except that I am an intercessor, or a witness for him on the Day of Judgement

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:324

Hadith #3925
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ حَمْرَاءَ الزُّهْرِيِّ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاقِفًا عَلَى الْحَزْوَرَةِ فَقَالَ ‏ "‏ وَاللَّهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ وَلَوْلاَ أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ نَحْوَهُ ‏.‏ وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَحَدِيثُ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ حَمْرَاءَ عِنْدِي أَصَحُّ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عدی بن حمراء زہری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «حزوراء» ( چھوٹا ٹیلہ ) پر کھڑے دیکھا، آپ نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! بلاشبہ تو اللہ کی سر زمین میں سب سے بہتر ہے اور اللہ کی زمینوں میں اللہ کے نزدیک سب سے محبوب سر زمین ہے، اگر مجھے تجھ سے نہ نکالا جاتا تو میں نہ نکلتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اسے یونس نے بھی زہری سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اسے محمد بن عمرو نے بطریق: «أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور زہری کی حدیث جو بطریق: «أبي سلمة عن عبد الله بن عدي ابن حمراء» آئی ہے وہ میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔

English Translation

Narrated 'Abdullah bin 'Adi bin Hamra [Az-Zuhri]:"I saw the Messenger of Allah (ﷺ) standing at Al-Hazwarah, and he said: "By Allah! You are the best of Allah's earth, and the most beloved of Allah's earth to Allah, and if it were not that I was expelled from you I would not have left

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:325

Hadith #3926
SahihSahihHasan SahihHasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَأَبُو الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَكَّةَ ‏ "‏ مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلَدٍ وَأَحَبَّكِ إِلَىَّ وَلَوْلاَ أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي مِنْكِ مَا سَكَنْتُ غَيْرَكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”کتنا پاکیزہ شہر ہے تو اور تو کتنا مجھے محبوب ہے، میری قوم نے مجھے تجھ سے نہ نکالا ہوتا تو میں تیرے علاوہ کہیں اور نہ رہتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Abbas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said about Makkah: "How sweet of a land you are and how dear you are to me, and if it were not that my people expelled me from you, I would not have lived in other than you

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:326

Hadith #3927
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الأَزْدِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، شُجَاعُ ابْنُ الْوَلِيدِ عَنْ قَابُوسِ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا سَلْمَانُ لاَ تُبْغِضْنِي فَتُفَارِقَ دِينَكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أُبْغِضُكَ وَبِكَ هَدَانَا اللَّهُ قَالَ ‏"‏ تُبْغِضُ الْعَرَبَ فَتُبْغِضُنِي ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَدْرٍ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ ‏.‏ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ أَبُو ظَبْيَانَ لَمْ يُدْرِكْ سَلْمَانَ مَاتَ سَلْمَانُ قَبْلَ عَلِيٍّ ‏.‏

Urdu Translation

سلمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلمان! تم مجھ سے بغض نہ رکھو کہ تمہارا دین ہاتھ سے جاتا رہے“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کیسے آپ سے بغض رکھ سکتا ہوں اور حال یہ ہے کہ اللہ نے آپ ہی کے ذریعہ ہمیں ہدایت بخشی ہے، آپ نے فرمایا: ”تم عربوں سے بغض رکھو گے تو مجھ سے بغض رکھو گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابوبدر شجاع بن ولید کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: ابوظبیان نے سلمان کا زمانہ نہیں پایا ہے اور سلمان علی سے پہلے وفات پا گئے تھے۔

English Translation

Narrated Salman:"The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'O Salman! Do not detest me and thereby leave your religion.' I said: 'O Messenger of Allah! How could I detest you while Allah guided us by you.' He said: 'You will detest the Arabs and thereby detest me

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:327

Hadith #3928
MawduMawduDaif

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عُمَرَ الأَحْمَسِيِّ، عَنْ مُخَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُثْمَانَ ابْنِ عَفَّانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ غَشَّ الْعَرَبَ لَمْ يَدْخُلْ فِي شَفَاعَتِي وَلَمْ تَنَلْهُ مَوَدَّتِي ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ حُصَيْنِ بْنِ عُمَرَ الأَحْمَسِيِّ عَنْ مُخَارِقٍ ‏.‏ وَلَيْسَ حُصَيْنٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ بِذَاكَ الْقَوِيِّ ‏.‏

Urdu Translation

عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عربوں کو دھوکہ دیا وہ میری شفاعت میں شامل نہ ہو گا اور اسے میری محبت نصیب نہ ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف حصین بن عمر احمسی کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ مخارق سے روایت کرتے ہیں، اور حصین محدثین کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں۔

English Translation

Narrated 'Uthman bin 'Affan:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever cheats the Arabs, he will not be included in my intercession, and my love shall not reach him

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:328

Hadith #3929
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ كَانَتْ أُمُّ الْحَرِيرِ إِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ اشْتَدَّ عَلَيْهَا فَقِيلَ لَهَا إِنَّا نَرَاكِ إِذَا مَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ اشْتَدَّ عَلَيْكِ ‏.‏ قَالَتْ سَمِعْتُ مَوْلاَىَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مِنَ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ هَلاَكُ الْعَرَبِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي رَزِينٍ وَمَوْلاَهَا طَلْحَةُ بْنُ مَالِكٍ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ ‏.‏

Urdu Translation

محمد بن رزین کی والدہ کہتی ہیں کہ جب کوئی عرب مرتا تو ام جریر پر اس کی موت بڑی سخت ہو جاتی یعنی انہیں زبردست صدمہ ہوتا تو ان سے کہا گیا کہ ہم آپ کو دیکھتے ہیں کہ جب کوئی عرب مرتا ہے تو آپ کو بہت صدمہ پہنچتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے اپنے مالک کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عربوں کی ہلاکت قرب قیامت کی نشانی ہے“۔ محمد بن رزین کہتے ہیں: ان کے مالک کا نام طلحہ بن مالک ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف سلیمان بن حرب کی روایت سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated Muhammad bin Abi Razin:that his mother said: "If someone died from the Arabs it would be hard upon Umm Al-Harir so it was said to her: 'We see that if a man from the Arabs dies it is hard upon you.' She said: 'I heard my Mawla say that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "From the (signs of) coming of the Hour is the destruction of the Arabs." Muhammad bin Abi Razin said: "And her Mawla was Talhah bin Malik

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:329

Hadith #3930
SahihSahihHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الأَزْدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ حَدَّثَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لَيَفِرَّنَّ النَّاسُ مِنَ الدَّجَّالِ حَتَّى يَلْحَقُوا بِالْجِبَالِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ أُمُّ شَرِيكٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَالَ ‏"‏ هُمْ قَلِيلٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

ام شریک رضی الله عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ دجال سے بھاگیں گے، یہاں تک کہ پہاڑوں پر جا رہیں گے“، ام شریک رضی الله عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت عرب کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ ( تعداد میں ) تھوڑے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated Umm Sharik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The people will flee from the Dajjal such that they will go to the mountains." Umm Sharik said: "O Messenger of Allah! Where will the Arabs be that day?" He said: "They will be few

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:330

Hadith #3931
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، - بَصْرِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ سَامٌ أَبُو الْعَرَبِ وَيَافِثُ أَبُو الرُّومِ وَحَامٌ أَبُو الْحَبَشِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَيُقَالُ يَافِثُ وَيَافِتُ وَيَفتُ ‏.‏

Urdu Translation

سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «سام» عربوں کے جد امجد ہیں اور «یافث» رومیوں کے اور «حام» حبشیوں کے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور «یافث»،‏‏‏‏ «یافِتُ» اور «یَفِتُ» تینوں لغتیں ہیں۔

English Translation

Narrated Samurah bin Jundab:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Sam was the father of Arabs, Yafith was the father of Romans, and Ham was the father of Ethiopians

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:331

Hadith #3932
DaifDaifDaif

أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، قَالَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ ذُكِرَتِ الأَعَاجِمُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لأَنَا بِهِمْ أَوْ بِبَعْضِهِمْ أَوْثَقُ مِنِّي بِكُمْ أَوْ بِبَعْضِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ‏.‏ وَصَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ هَذَا يُقَالُ لَهُ صَالِحُ بْنُ مِهْرَانَ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عجم کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”مجھے ان پر یا ان کے بعض لوگوں پر تم سے یا تمہارے بعض لوگوں سے زیادہ اعتماد ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف ابوبکر بن عیاش کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اور صالح بن ابی صالح کو صالح بن مہران مولی عمرو بن حریث بھی کہا جاتا ہے۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:"Al-'Ajam (non-Arabs) were mentioned before the Messenger of Allah (ﷺ) so the Prophet (ﷺ) said: 'I am supported more by them, or, by some of them, than I am by you, or some of you

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:332

Hadith #3933
SahihSahihSahih

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ الدِّيلِيُّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أُنْزِلَتْ سُورَةُ الْجُمُعَةِ فَتَلاَهَا فَلَمَّا بَلَغَ ‏:‏ ‏(‏ وآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ‏)‏ قَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِنَا فَلَمْ يُكَلِّمْهُ ‏.‏ قَالَ وَسَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ فِينَا ‏.‏ قَالَ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ فَقَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَ الإِيمَانُ بِالثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلاَءِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَأَبُو الْغَيْثِ اسْمُهُ سَالِمٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ مَدَنِيٌّ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس وقت سورۃ الجمعہ نازل ہوئی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ نے اس کی تلاوت فرمائی، جب «وآخرين منهم لما يلحقوا بهم» پر پہنچے تو آپ سے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں جو ابھی ہم سے ملے نہیں ہیں تو آپ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، وہ کہتے ہیں: اور سلمان فارسی ہم میں موجود تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سلمان کے اوپر رکھا اور فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ایمان ثریا پر بھی ہو گا تو بھی اس کے کچھ لوگ اسے حاصل کر لیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور یہ متعدد سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:"We were with the Messenger of Allah (ﷺ) when Surat Al-Jumu'ah was revealed, so he recited it until he reached: 'And others among them who have not yet joined them (62:3).' A man said to him: 'O Messenger of Allah! Who are these people who have not yet joined us?' But he did not say anything to him." He said: "Salman Al-Farisi was among us." He said: "So the Messenger of Allah (ﷺ) placed his hand upon Salman and said: 'By the One Whose Hand is my soul! If faith were on Pleiades then men among these people would reach it

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:333

Hadith #3934
Hasan SahihHasan SahihHasanHasan

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَظَرَ قِبَلَ الْيَمَنِ فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ ‏.‏

Urdu Translation

زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”اے اللہ! ان کے دلوں کو ہماری طرف پھیر دے اور ہمارے صاع اور مد میں ہمیں برکت دے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے یعنی زید بن ثابت کی اس حدیث کو صرف عمران قطان کی روایت سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated Zaid bin Thabit [may Allah be pleased with him]:that the Prophet (ﷺ) looked towards Yemen and said: "O Allah direct their hearts and bless us in our Sa' and our Mudd

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:334

Hadith #3935
SahihSahihHasan SahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَضْعَفُ قُلُوبًا وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس اہل یمن آئے وہ نرم دل اور رقیق القلب ہیں، ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The people of Yemen have come to you. They are weaker in heart and softer in understanding, faith is Yemeni and wisdom is Yemeni

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:335

Hadith #3936
SahihSahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مَرْيَمَ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْمُلْكُ فِي قُرَيْشٍ وَالْقَضَاءُ فِي الأَنْصَارِ وَالأَذَانُ فِي الْحَبَشَةِ وَالأَمَانَةُ فِي الأَزْدِ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي الْيَمَنَ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ‏.‏ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلطنت ( حکومت ) قریش میں رہے گی، اور قضاء انصار میں اور اذان حبشہ میں اور امانت قبیلہ ازد میں یعنی یمن میں“۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Leadership is among the Quraish, and reasoning and judgment is among the Ansar, and the Adhan is among the Ethiopians, and the trust is among the Al-Azd." meaning Yemen

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:336

Hadith #3937
DaifDaifIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي، صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الْكَبِيرِ بْنِ شُعَيْبٍ بْنِ الْحَبْحَابِ قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الأَزْدُ أُسْدُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ يُرِيدُ النَّاسُ أَنْ يَضَعُوهُمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلاَّ أَنْ يَرْفَعَهُمْ وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقُولُ الرَّجُلُ يَا لَيْتَ أَبِي كَانَ أَزْدِيًّا يَا لَيْتَ أُمِّي كَانَتْ أَزْدِيَّةً ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَنَسٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مَوْقُوفًا وَهُوَ عِنْدَنَا أَصَحُّ ‏.‏

Urdu Translation

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «ازد» ( اہل یمن ) زمین میں اللہ کے شیر ہیں، لوگ انہیں گرانا چاہتے ہیں اور اللہ انہیں اٹھانا چاہتا ہے، اور لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ آدمی کہے گا، کاش! میرا باپ ازدی ہوتا، کاش میری ماں! ازدیہ ہوتی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- یہ حدیث اس سند سے انس سے موقوف طریقہ سے آئی ہے، اور یہ ہمارے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Anas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Al-Azd is Allah's lion upon the earth, the people wish to lower them but Allah refuses except to raise them. A time will come upon the people where a man will say: "I wish my father was Azadi, I wish my mother was Azadi

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:337

Hadith #3938
Sahih Isnaad MauqufSahih Isnaad MauqufHasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنِي غَيْلاَنُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ إِنْ لَمْ نَكُنْ مِنَ الأَزْدِ فَلَسْنَا مِنَ النَّاسِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اگر ہم ازدی ( یعنی قبیلہ ازد کے ) نہ ہوں تو ہم آدمی ہیں ہی نہیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated Anas:"If we are not from Al-Azd then we are not from the people

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:338

Hadith #3939
MawduMawduDaif

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ زَنْجُويَهْ، - بَغْدَادِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ مِينَاءَ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ رَجُلٌ أَحْسِبُهُ مِنْ قَيْسٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْعَنْ حِمْيَرًا ‏.‏ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الشَّقِّ الآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ رَحِمَ اللَّهُ حِمْيَرًا أَفْوَاهُهُمْ سَلاَمٌ وَأَيْدِيهِمْ طَعَامٌ وَهُمْ أَهْلُ أَمْنٍ وَإِيمَانٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ‏.‏ وَيُرْوَى عَنْ مِينَاءَ هَذَا أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا ( میرا خیال ہے کہ وہ قبیلہ قیس کا تھا ) اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قبیلہ حمیر پر لعنت فرمائیے، تو آپ نے اس سے چہرہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آپ کے پاس آیا، آپ نے پھر اس سے اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آیا تو آپ نے پھر اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آیا تو آپ نے اپنا چہرہ پھیر لیا اور فرمایا: ”اللہ حمیر پر رحم کرے، ان کے منہ میں سلام ہے، ان کے ہاتھ میں کھانا ہے، اور وہ امن و ایمان والے لوگ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے عبدالرزاق کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اور میناء سے بہت سی منکر حدیثیں روایت کی جاتی ہیں۔

English Translation

Narrated Mina, the freed slave of 'Abdur-Rahman bin 'Awf that Abu Hurairah said:"We were with the Prophet (ﷺ) and a man came to him who I think was from Qais. So he said: 'O Messenger of Allah! Curse Himyar.' So he turned away from him, then he went to his other side, and he turned away from him. Then he went to his other side, and he turned away from him. Then he went to his other side, and he turned away from him. So the Prophet (ﷺ) said: 'May Allah have mercy upon Himyar! Their mouths are (full of) peace, their hands are (generous with) food, and they are the people of trust and faith

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:339

Hadith #3940
SahihSahihHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الأَنْصَارُ وَمُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ وَغِفَارُ وَأَشْجَعُ وَمَنْ كَانَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ مَوَالِيَّ لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلاَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار، مزینہ، جہینہ، غفار، اشجع اور جو قبیلہ عبدالدار کے ہوں وہ میرے رفیق ہیں، ان کا اللہ کے علاوہ کوئی اور رفیق نہیں، اور اللہ اور اس کے رسول ان کے رفیق ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Abu Ayyub Al-Ansari:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Ansar, Muzainah, and Juhainah, Ashja', Ghifar, and whoever is from Banu 'Abdid-Dar are Mawali. They do not have a Mawla other than Allah, and Allah and His Messenger are their Mawla

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:340

Hadith #3941
SahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Aslam, may Allah make them safe: Ghifar, may Allah forgive them, and 'Usayyah has disobeyed Allah and His Messenger

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:341

Hadith #3942
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْرَقَتْنَا نِبَالُ ثَقِيفٍ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اهْدِ ثَقِيفًا ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ثقیف کے تیروں نے ہمیں زخمی کر دیا، تو آپ اللہ سے ان کے لیے بد دعا فرمائیں، آپ نے فرمایا: «اللهم اهد ثقيفا» ”اے اللہ! ثقیف کو ہدایت دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

English Translation

Narrated Jabir:"They said: 'O Messenger of Allah! Thaqif are razing us with their arrows, so supplicate to Allah against them!' So he said: 'O Allah! Guide Thaqif

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:342

Hadith #3943
Daif IsnaadDaif IsnaadHasanDaif

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ مَاتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَكْرَهُ ثَلاَثَةَ أَحْيَاءٍ ثَقِيفًا وَبَنِي حَنِيفَةَ وَبَنِي أُمَيَّةَ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ تین قبیلوں ثقیف، بنی حنیفہ اور بنی امیہ کو ناپسند کرتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated 'Imran bin Husain:"The Prophet (ﷺ) died while he was having trouble with three tribes: Thaqif, Banu Hanifah, and Banu Umayyah

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:343

Hadith #3944
SahihSahihSahih

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ أَبُو مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصْمٍ يُكْنَى أَبَا عُلْوَانَ وَهُوَ كُوفِيٌّ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ ‏.‏ وَشَرِيكٌ يَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصْمٍ وَإِسْرَائِيلُ يَرْوِي عَنْ هَذَا الشَّيْخِ وَيَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصْمَةَ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک تباہی مچانے والا ظالم شخص ہو گا“ ۱؎۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "In Thaqif there is a liar and a destroyer

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:344

Hadith #3945
SahihSahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَكْرَةً فَعَوَّضَهُ مِنْهَا سِتَّ بَكَرَاتٍ فَتَسَخَّطَهَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ فُلاَنًا أَهْدَى إِلَىَّ نَاقَةً فَعَوَّضْتُهُ مِنْهَا سِتَّ بَكَرَاتٍ فَظَلَّ سَاخِطًا وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لاَ أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلاَّ مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْحَدِيثِ كَلاَمٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ يَرْوِي عَنْ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلاَءِ وَهُوَ أَيُّوبُ بْنُ مِسْكِينٍ وَيُقَالُ ابْنُ أَبِي مِسْكِينٍ وَلَعَلَّ هَذَا الْحَدِيثَ الَّذِي رُوِيَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ هُوَ أَيُّوبُ أَبُو الْعَلاَءِ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جوان اونٹنی ہدیہ میں دی، اور آپ نے اس کے عوض میں اسے چھ اونٹنیاں عنایت فرمائیں، پھر بھی وہ آپ سے خفا رہا یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا: ”فلاں نے مجھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تھی، میں نے اس کے عوض میں اسے چھ جوان اونٹنیاں دیں، پھر بھی وہ ناراض رہا، میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ اب سوائے قریشی، یا انصاری، یا ثقفی ۱؎ یا دوسی کے کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں“، اس حدیث میں مزید کچھ اور باتیں بھی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث متعدد سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے آئی ہے، ۲- اور یزید بن ہارون ایوب ابوالعلاء سے روایت کرتے ہیں، اور وہ ایوب بن مسکین ہیں اور انہیں ابن ابی مسکین بھی کہا جاتا ہے، اور شاید یہی وہ حدیث ہے جسے انہوں نے ایوب سے اور ایوب نے سعید مقبری سے روایت کی ہے، اور ایوب سے مراد ایوب ابوالعلاء ہیں۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:that a Bedouin gave a young female camel as a gift to the Messenger of Allah (ﷺ), so he in turn for that, gave him six young female camels. But he was not satisfied with that, so when that news reached the Prophet (ﷺ), he praised Allah, and expressed gratitude to Him, then said: 'Indeed so-and-so gave a camel to me as a gift, so I reciprocated for that with six young she-camels, yet he became upset. So I decided that I would not accept a gift except from a Quraishi, or Ansari, or Dawsi

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:345

Hadith #3946
SahihSahihHasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَهْدَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَاقَةً مِنْ إِبِلِهِ الَّتِي كَانُوا أَصَابُوا بِالْغَابَةِ فَعَوَّضَهُ مِنْهَا بَعْضَ الْعِوَضِ فَتَسَخَّطَهُ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ رِجَالاً مِنَ الْعَرَبِ يُهْدِي أَحَدُهُمُ الْهَدِيَّةَ فَأُعَوِّضُهُ مِنْهَا بِقَدْرِ مَا عِنْدِي ثُمَّ يَتَسَخَّطُهُ فَيَظَلُّ يَتَسَخَّطُ فِيهِ عَلَىَّ وَايْمُ اللَّهِ لاَ أَقْبَلُ بَعْدَ مَقَامِي هَذَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ هَدِيَّةً إِلاَّ مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ عَنْ أَيُّوبَ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فزارہ کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان اونٹوں میں سے جو اسے غابہ میں ملے تھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تو آپ نے اسے اس کا کچھ عوض دیا، لیکن وہ آپ سے خفا رہا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا کہ ”عربوں میں سے کچھ لوگ مجھے ہدیہ دیتے ہیں اور اس کے بدلہ میں انہیں جس قدر میرے پاس ہوتا ہے میں دیتا ہوں، پھر بھی وہ خفا رہتا ہے اور برابر مجھ سے اپنی خفگی جتاتا رہتا ہے، قسم اللہ کی! اس کے بعد میں عربوں میں سے کسی بھی آدمی کا ہدیہ قبول نہیں کروں گا سوائے قریشی، انصاری یا ثقفی یا دوسی کے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور یہ یزید بن ہارون کی روایت سے جسے وہ ایوب سے روایت کرتے ہیں زیادہ صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:"A man from Banu Fazarah gave a gift to the Prophet (ﷺ) of she-camel from his camels which they had taken at Al-Ghabah. So he reciprocated for it with something in return, but he was upset with it. So I heard the Messenger of Allah (ﷺ), upon [this] Minbar saying: 'Indeed one of the men from the Bedouins gave me a gift so I reciprocated for it to the extent of what I had. Then he became very upset with me. By Allah! After my experience with this Bedouin man, I shall not accept a gift from anyone except from a Quraishi, Ansari, Thaqafi, or Dawsi

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:346

Hadith #3947
DaifDaifIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَلاَذٍ، يُحَدِّثُ عَنْ نُمَيْرِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَسْرُوحٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نِعْمَ الْحَىُّ الأَسْدُ وَالأَشْعَرُونَ لاَ يَفِرُّونَ فِي الْقِتَالِ وَلاَ يَغُلُّونَ هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ لَيْسَ هَكَذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ هُمْ مِنِّي وَإِلَىَّ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ لَيْسَ هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبِي وَلَكِنَّهُ حَدَّثَنِي قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ أَبِيكَ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ ‏.‏ وَيُقَالُ الأَسْدُ هُمُ الأَزْدُ ‏.‏

Urdu Translation

ابوعامر اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہی اچھے ہیں قبیلہ اسد اور قبیلہ اشعر کے لوگ، جو لڑائی سے بھاگتے نہیں اور نہ مال غنیمت میں خیانت کرتے ہیں، وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں“، عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر میں نے اسے معاویہ رضی الله عنہ سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا، بلکہ آپ نے یہ فرمایا کہ ”وہ مجھ سے ہیں اور میری طرف ہیں“، تو میں نے عرض کیا: میرے باپ نے مجھ سے اس طرح نہیں بیان کیا، بلکہ انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں“، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: تو تم اپنے باپ کی حدیثوں کے زیادہ جانکار ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف وہب بن جریر کی روایت سے جانتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اسد قبیلہ اسد ہی کے لوگ ہیں۔

English Translation

Narrated 'Amir bin Abi 'Amir Al-Ash'ari:from his father who said: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Blessed are the tribes of Al-Asad and Al-Ash'arun, they flee not from fighting nor do they pilfer the spoils of war. They are from me and I am from them.'" He ('Amir) said: "So I narrated that to Mu'awiyah, and he said: "This is not how the Messenger of Allah (ﷺ) said it, he said: 'They are from me, and for me.' I said, this is not how my father narrated it to me, rather he narrated to me, saying: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: "They are from me and I am from them.'" So he said: 'Then you are more knowledgeable of your father's Hadith

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:347

Hadith #3948
SahihSahihHasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَأَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ وَبُرَيْدَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ قبیلہ اسلم کو سلامت رکھے اور بنی غفار کو اللہ کو بخشے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوذر، ابوبرزہ اسلمی اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے ہی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:that the Prophet (ﷺ) said: "Aslam, may Allah make them safe, and Ghifar, may Allah forgive them

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:348

Hadith #3949
SahihHasan Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَزَادَ فِيهِ ‏ "‏ وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

English Translation

Narrated 'Abdullah bin Dinar:similar to Shu'bah (#3948) and he added: "And 'Usayyah has disobeyed Allah and His Messenger

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:349

Hadith #3950
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَغِفَارُ وَأَسْلَمُ وَمُزَيْنَةُ وَمَنْ كَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ أَوْ قَالَ جُهَيْنَةُ وَمَنْ كَانَ مِنْ مُزَيْنَةَ خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ وَطَيِّءٍ وَغَطَفَانَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! غفار، اسلم، مزنیہ اور جو جہنیہ کے لوگ“ یا آپ نے فرمایا: ”جہنیہ اور جو مزنیہ کے لوگ ہیں اللہ کے نزدیک قیامت کے دن اسد، طی اور غطفان سے بہتر ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "By the One in Whose Hand is Muhammad's soul! Ghifar, Aslam, Muzainah, and whoever is from Juhainah," or he said: "Juhainah, and whoever is from Muzainah, they are better with Allah on the Day of Judgment than Asad, Tayyi' and Ghatafan

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:350

Hadith #3951
SahihSahihHasan SahihSahih Bukhari

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ جَاءَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَبْشِرُوا يَا بَنِي تَمِيمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا ‏.‏ قَالَ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَاءَ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ ‏"‏ أقْبَلُوا الْبُشْرَى فَلَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا قَدْ قَبِلْنَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی تمیم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا: ”اے بنی تمیم! خوش ہو جاؤ“، وہ لوگ کہنے لگے: آپ نے ہمیں بشارت دی ہے، تو ( کچھ ) دیجئیے، وہ کہتے ہیں: یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا، اتنے میں یمن کے کچھ لوگ آ گئے تو آپ نے فرمایا: ”تمہیں لوگ بشارت قبول کر لو“، جب بنی تمیم نے اسے قبول نہیں کیا تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے قبول کر لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated 'Imran bin Husain:that a group from Banu Tamim came to the Messenger of Allah (ﷺ) so he said: "Have glad tidings O Banu Tamim." They said: "You have given us glad tidings, so then give something to us." He said: "So the face of the Messenger of Allah (ﷺ) changed. Then a group from the people of Yemen came so he said: 'Accept the glad tidings, for Banu Tamim did not accept them.' They said: 'We accept

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:351

Hadith #3952
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ابْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ خَيْرٌ مِنْ تَمِيمٍ وَأَسَدٍ وَغَطَفَانَ وَبَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ‏"‏ ‏.‏ يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ فَقَالَ الْقَوْمُ قَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابوبکرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبائل اسلم، غفار اور مزینہ، قبائل تمیم، اسد، غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں“، اور آپ اس کے ساتھ اپنی آواز اونچی کر رہے تھے، تو لوگ کہنے لگے: نامراد ہوئے اور خسارے میں رہے، آپ نے فرمایا: ”وہ ان ( قبائل یعنی تمیم، اسد، غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ ) سے بہتر ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Abu Bakrah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Aslam, Ghifar, and Muzainah are better than Tamim, Asad, Ghatafan, and Banu 'Amir bin Sa'sa'ah," prolonging his voice when saying it. So the people said: "They have been treacherous and have lost." He said: "So these are better than them

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:352

Hadith #3953
SahihSahihHasan SahihSahih Bukhari

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ابْنُ بِنْتِ أَزْهَرَ السَّمَّانِ، قَالَ حَدَّثَنِي جَدِّي، أَزْهَرُ السَّمَّانُ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَفِي نَجْدِنَا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَفِي نَجْدِنَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هُنَالِكَ الزَّلاَزِلُ وَالْفِتَنُ وَبِهَا أَوْ قَالَ مِنْهَا يَخْرُجُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ہمارے شام میں برکت عطا فرما، اے اللہ! ہمارے یمن میں برکت عطا فرما“، لوگوں نے عرض کیا: اور ہمارے نجد میں، آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! ہمارے شام میں برکت عطا فرما، اور ہمارے یمن میں برکت عطا فرما“، لوگوں نے عرض کیا: اور ہمارے نجد میں، آپ نے فرمایا: ”یہاں زلزلے اور فتنے ہیں، اور اسی سے شیطان کی سینگ نکلے گی“، ( یعنی شیطان کا لشکر اور اس کے مددگار نکلیں گے ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے یعنی ابن عون کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث بطریق: «سالم بن عبد الله بن عمر عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» بھی آئی ہے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "O Allah bless us in our Sham! O Allah bless us in our Yemen." They said: "And in our Najd" He said: "O Allah bless us in our Sham and bless us in our Yemen." They said: "And in our Najd" He said: "Earthquakes are there, and tribulations are there." Or he said: "The horn of Shaitan comes from there

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:353

Hadith #3954
SahihSahihHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ طُوبَى لِلشَّأْمِ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْنَا لأَىٍّ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ لأَنَّ مَلاَئِكَةَ الرَّحْمَنِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهَا ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ‏.‏

Urdu Translation

زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کاغذ کے پرزوں سے قرآن کو مرتب کر رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”مبارکبادی ہو شام کے لیے“، ہم نے عرض کیا: کس چیز کی اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اس بات کی کہ رحمن کے فرشتے ان کے لیے اپنے بازو بچھاتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف یحییٰ بن ایوب کی روایت سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated Zaid bin Thabit:"We were with the Messenger of Allah (ﷺ) collecting the Qur'an on pieces of cloth, so the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Tuba is for Ash-Sham.' So we said: 'Why is that O Messenger of Allah?' He said: 'Because the angels of Ar-Rahman spread their wings over it

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:354

Hadith #3955
HasanHasanHasanHasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَفْتَخِرُونَ بِآبَائِهِمُ الَّذِينَ مَاتُوا إِنَّمَا هُمْ فَحْمُ جَهَنَّمَ أَوْ لَيَكُونَنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الْجُعَلِ الَّذِي يُدَهْدِهُ الْخِرَاءَ بِأَنْفِهِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ إِنَّمَا هُوَ مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ النَّاسُ كُلُّهُمْ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ تُرَابٍ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

English Translation

Narrated Abu Hurairah:that the Prophet (ﷺ) said: "People should stop boasting about their fathers who have died, while they are but coals of Hell, or they will be more humiliated with Allah than the dung beetle who rolls dung with his nose. Indeed Allah has removed the pride of Jahiliyyah from you, and its boasting about lineage. [Indeed a person is either] a pious believer, or a miserable sinner. And people are all the children of Adam, and Adam was [created] from dust

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:355

Hadith #3956
HasanHasanHasan Sahih

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ الْمَدَنِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ قَدْ أَذْهَبَ اللَّهُ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالآبَاءِ مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ وَالنَّاسُ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ ‏"‏ ‏. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏‏ وَهَذَا أَصَحُّ عِنْدَنَا مِنَ الْحَدِيثِ الأَوَّلِ ‏.‏ وَسَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ قَدْ سَمِعَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَيَرْوِي عَنْ أَبِيهِ أَشْيَاءَ كَثِيرَةً عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه ‏.‏ وَقَدْ رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ هِشَامِ ابْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي عَامِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ‏.‏

English Translation

Narrated Abu Hurairah [may Allah be pleased with him]:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah has removed the pride of Jahiliyyah from you and boasting about lineage. (A person is either) a pious believer or a miserable sinner, and the people are the children of Adam, and Adam is from dirt

Reference: Jami at-Tirmidhi 49:356