Hadith #2688SahihSahihHasan SahihSahih - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا وَلاَ تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا أَلاَ أَدُلُّكُمْ عَلَى أَمْرٍ إِذَا أَنْتُمْ فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلاَمَ بَيْنَكُمْ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ وَشُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ أَبِيهِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَالْبَرَاءِ وَأَنَسٍ وَابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Urdu Translation
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم ( صحیح معنوں میں ) مومن نہ بن جاؤ اور تم مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے ( سچی ) محبت نہ کرنے لگو۔ کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے کرنے لگو تو تم میں باہمی محبت پیدا ہو جائے ( وہ یہ کہ ) آپس میں سلام کو عام کرو ( پھیلاؤ ) “ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن سلام، شریح بن ہانی عن ابیہ، عبداللہ بن عمرو، براء، انس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
English Translation
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "By the One in Whose Hand is my soul! You will not enter Paradise until you believe, and you will not believe until you love one another. Shall I inform you about a matter which if you do it, then you will love one another? Spread the Salam among each other
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:1
Hadith #2689SahihSahihHasanIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَرِيرِيُّ، بَلْخِيٌّ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيِّ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ . قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَشْرٌ " . ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عِشْرُونَ " . ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " ثَلاَثُونَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي سَعِيدٍ وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ .
Urdu Translation
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: «السلام عليكم»، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اس کے لیے ) دس نیکیاں ہیں“، پھر ایک دوسرا شخص آیا اور اس نے کہا: «السلام عليكم ورحمة الله»، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اس کے لیے ) بیس نیکیاں ہیں“، پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا: «السلام عليكم ورحمة الله وبركاته»، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اس کے لیے ) تیس نیکیاں ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں علی، ابوسعید اور سہل بن حنیف سے بھی روایت ہے۔
English Translation
Narrated 'Imran bin Husain:"A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'As-Salamu 'Alaykum (Peace be upon you).'" [He said:] "So the Prophet (ﷺ) said: 'Ten.' Then another came and he said: 'As-Salamu 'Alaykum Wa Rahmatullah (Peace be upon you, and the mercy of Allah).' So the Prophet (ﷺ) said: 'Twenty.' Then another came and said: 'As-Salamu 'Alaykum Wa Rahmatullahi Wa Barakatuh (Peace be upon you, and the mercy of Allah, and His Blessings).' So the Prophet (ﷺ) said: 'Thirty
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:2
Hadith #2690SahihSahihHasan SahihSahih - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ اسْتَأْذَنَ أَبُو مُوسَى عَلَى عُمَرَ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ قَالَ عُمَرُ وَاحِدَةٌ . ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ قَالَ عُمَرُ ثِنْتَانِ . ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ فَقَالَ عُمَرُ ثَلاَثٌ . ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ عُمَرُ لِلْبَوَّابِ مَا صَنَعَ قَالَ رَجَعَ . قَالَ عَلَىَّ بِهِ . فَلَمَّا جَاءَهُ قَالَ مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتَ قَالَ السُّنَّةَ . قَالَ السُّنَّةَ وَاللَّهِ لَتَأْتِيَنِّي عَلَى هَذَا بِبُرْهَانٍ أَوْ بِبَيِّنَةٍ أَوْ لأَفْعَلَنَّ بِكَ . قَالَ فَأَتَانَا وَنَحْنُ رُفْقَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَلَسْتُمْ أَعْلَمَ النَّاسِ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الاِسْتِئْذَانُ ثَلاَثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلاَّ فَارْجِعْ " . فَجَعَلَ الْقَوْمُ يُمَازِحُونَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي إِلَيْهِ فَقُلْتُ فَمَا أَصَابَكَ فِي هَذَا مِنَ الْعُقُوبَةِ فَأَنَا شَرِيكُكَ . قَالَ فَأَتَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَقَالَ عُمَرُ مَا كُنْتُ عَلِمْتُ بِهَذَا . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَأُمِّ طَارِقٍ مَوْلاَةِ سَعْدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْجُرَيْرِيُّ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ يُكْنَى أَبَا مَسْعُودٍ وَقَدْ رَوَى هَذَا غَيْرُهُ أَيْضًا عَنْ أَبِي نَضْرَةَ وَأَبُو نَضْرَةَ الْعَبْدِيُّ اسْمُهُ الْمُنْذِرُ بْنُ مَالِكِ بْنِ قُطَعَةَ .
Urdu Translation
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ نے عمر رضی الله عنہ سے ان کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے کہا: «السلام عليكم» کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ عمر رضی الله عنہ نے ( دل میں ) کہا: ابھی تو ایک بار اجازت طلب کی ہے، تھوڑی دیر خاموش رہ کر پھر انہوں نے کہا: «السلام عليكم» کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ عمر رضی الله عنہ نے ( دل میں ) کہا: ابھی تو دو ہی بار اجازت طلب کی ہے۔ تھوڑی دیر ( مزید ) خاموش رہ کر انہوں نے پھر کہا: «السلام عليكم» کیا مجھے اندر داخل ہونے کی اجازت ہے؟ عمر رضی الله عنہ نے ( دل میں کہا ) تین بار اجازت طلب کر چکے، پھر ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ واپس ہو لیے، عمر رضی الله عنہ نے دربان سے کہا: ابوموسیٰ نے کیا کیا؟ اس نے کہا: لوٹ گئے۔ عمر رضی الله عنہ نے کہا انہیں بلا کر میرے پاس لاؤ، پھر جب وہ ان کے پاس آئے تو عمر رضی الله عنہ نے کہا: یہ آپ نے کیا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے سنت پر عمل کیا ہے، عمر رضی الله عنہ نے کہا سنت پر؟ قسم اللہ کی! تمہیں اس کے سنت ہونے پر دلیل و ثبوت پیش کرنا ہو گا ورنہ میں تمہارے ساتھ سخت برتاؤ کروں گا۔ ابو سعید خدری کہتے ہیں: پھر وہ ہمارے پاس آئے، اس وقت ہم انصار کی ایک جماعت کے ساتھ تھے۔ ابوموسیٰ اشعری نے کہا: اے انصار کی جماعت! کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو دوسرے لوگوں سے زیادہ جاننے والے نہیں ہو، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: «الاستئذان ثلاث» ( اجازت طلبی ) تین بار ہے۔ اگر تمہیں اجازت دے دی جائے تو گھر میں جاؤ اور اگر اجازت نہ دی جائے تو لوٹ جاؤ؟ ( یہ سن کر ) لوگ ان سے ہنسی مذاق کرنے لگے، ابو سعید خدری کہتے ہیں: میں نے اپنا سر ابوموسیٰ اشعری کی طرف اونچا کر کے کہا: اس سلسلے میں جو بھی سزا آپ کو ملے گی میں اس میں حصہ دار ہوں گا، راوی کہتے ہیں: پھر وہ ( ابوسعید ) عمر رضی الله عنہ کے پاس آئے، اور ان کو اس حدیث کی خبر دی، عمر نے کہا: مجھے اس حدیث کا علم نہیں تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور جریری کا نام سعید بن ایاس ہے اور ان کی کنیت ابومسعود ہے۔ یہ حدیث ان کے سوا اور لوگوں نے بھی ابونضرہ سے روایت کی ہے، اور ابونضرہ عبدی کا نام منذر بن مالک بن قطعہ ہے، ۲- اس باب میں علی اور سعد کی آزاد کردہ لونڈی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
English Translation
Narrated Abu Sa'eed:"Abu Musa sought permission to enter upon 'Umar. He said: 'As-Salamu 'Alaykum (Peace be upon you). May I enter?' 'Umar said: 'Once.' Then he was silent for some time. Then he said: 'As-Salamu 'Alaykum (Peace be upon you). May I enter?' 'Umar said: Twice.' Then he was silent for some time. Then he said: 'As-salamu 'Alaykum (Peace be upon you). May I enter?' 'Umar said: 'Three times.' Then he (Abu Musa) left. 'Umar said to the gate-keeper: 'What did he do?' He replied: 'He left." He said: 'Bring him to me.' So when he came, 'Umar said to him: 'What is this that you have done?' He said: 'The Sunnah.' He said: 'The Sunnah? By Allah! You had better bring me proof or a witness to clarify this, or I will do this or that to you.'" He said "So he came to us while we were sitting with Ansar. He said: 'O People of the Ansar! Are you not the most knowledgeable people about the Ahadith of the Messenger of Allah (ﷺ)? Did the Messenger of Allah (ﷺ) not say: "Seeking permission is to be done three time. Either you are permitted, or other wise leave?" The people began joking. Abu Sa'eed said: "Then I raised my head toward him and said: "Whatever punishment you are afflicted with because of this, then I shall be your partner in it." So he went to 'Umar to inform him him about it, and 'Umar said: "I did not know about about this
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:3
Hadith #2691Daif IsnaadDaif IsnaadSahih - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثًا فَأَذِنَ لِي . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَأَبُو زُمَيْلٍ اسْمُهُ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ . وَإِنَّمَا أَنْكَرَ عُمَرُ عِنْدَنَا عَلَى أَبِي مُوسَى حَيْثُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " الاِسْتِئْذَانُ ثَلاَثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلاَّ فَارْجِعْ " . وَقَدْ كَانَ عُمَرُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثًا فَأَذِنَ لَهُ وَلَمْ يَكُنْ عَلِمَ هَذَا الَّذِي رَوَاهُ أَبُو مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلاَّ فَارْجِعْ .
Urdu Translation
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے پاس آنے کی تین بار اجازت مانگی، تو آپ نے مجھے اجازت دے دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوزمیل کا نام سماک الحنفی ہے، ۳- میرے نزدیک عمر کو ابوموسیٰ کی اس بات پر اعتراض اور انکار اس وجہ سے تھا کہ ابوموسیٰ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اجازت تین بار طلب کی جائے، اگر اجازت مل جائے تو ٹھیک ور نہ لوٹ جاؤ“۔ ( رہ گیا عمر رضی الله عنہ کا اپنا معاملہ ) تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تین بار اجازت طلب کی تھی تو انہیں اجازت مل گئی تھی، اس حدیث کی خبر انہیں نہیں تھی جسے ابوموسیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: ”پھر اگر اندر جانے کی اجازت مل جائے تو ٹھیک ورنہ واپس لوٹ جاؤ“۔
English Translation
Narrated Ibn 'Abbas:that Uman bin Al-Khattab said: "I sought permission (to enter) from the Messenger of Allah (ﷺ) three times, then he permitted me
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:4
Hadith #2692SahihSahihSahih - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَعَلَيْكَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَرَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ هَذَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ فَقَالَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَقَالَ " وَعَلَيْكَ " . قَالَ وَحَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَصَحُّ .
Urdu Translation
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں آیا ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے۔ اس نے نماز پڑھی پھر آ کر آپ کو سلام عرض کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «وعليك» ”تم پر بھی سلام ہو، جاؤ دوبارہ نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یحییٰ بن سعید قطان نے یہ حدیث عبیداللہ بن عمر سے اور عبیداللہ بن عمر نے سعید مقبری سے روایت کی ہے، اس میں انہوں نے «عن أبيه عن أبي هريرة» کہا ہے، اس میں «فسلم عليه وقال وعليك» ”اس نے آپ کو سلام کیا اور آپ نے کہا تم پر بھی سلام ہو“ کا ذکر نہیں کیا، ۳- یحییٰ بن سعید کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔
English Translation
Narrated Abu Hurairah:"A man enter the Masjid and performed Salat while the Messenger of Allah (ﷺ) was sitting at the back of the Masjid. Then he came to greet him, so the Prophet (ﷺ) said: "Wa Alaikum (and upon you); go back and pray for indeed you have not prayed.'" And he mentioned the Hadith in its entirety
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:5
Hadith #2693SahihSahihHasan SahihSahih - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهَا " إِنَّ جِبْرِيلَ يُقْرِئُكِ السَّلاَمَ " . قَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ . وَفِي الْبَابِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي نُمَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ أَيْضًا عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ .
Urdu Translation
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جبرائیل تمہیں سلام کہتے ہیں، تو انہوں نے جواب میں کہا: وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں بنی نمیر کے ایک شخص سے بھی روایت ہے وہ اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں، ۳- زہری نے بھی یہ حدیث ابوسلمہ کے واسطہ سے عائشہ سے روایت کی ہے۔
English Translation
Narrated Abu Salamah:that 'Aishah narrated to him that he Messenger of Allah (ﷺ) said to her: "Indeeed Jibril has sent Salam to you." She said: "And upon him be peace and the mercy of Allah and His Blessings
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:6
Hadith #2694SahihSahihSahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ الأَسَدِيُّ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الرَّهَاوِيِّ، يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلاَنِ يَلْتَقِيَانِ أَيُّهُمَا يَبْدَأُ بِالسَّلاَمِ فَقَالَ " أَوْلاَهُمَا بِاللَّهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . قَالَ مُحَمَّدٌ أَبُو فَرْوَةَ الرَّهَاوِيُّ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ إِلاَّ أَنَّ ابْنَهُ مُحَمَّدَ بْنَ يَزِيدَ يَرْوِي عَنْهُ مَنَاكِيرَ .
Urdu Translation
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! جب دو آدمی آپس میں ملیں تو سلام کرنے میں پہل کون کرے؟ آپ نے فرمایا: ”ان دونوں میں سے جو اللہ کے زیادہ قریب ہے“ ۱؎۔ ( وہ پہل کرے گا ) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ابوفروہ رہاوی مقارب الحدیث ہیں، مگر ان کے بیٹے محمد بن یزید ان سے منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں۔
English Translation
Narrated Abu Umamah:"They said: 'O Messenger of Allah! When two men meet, which of them initiates the Salam?' He said: 'The nearest of them to Allah
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:7
Hadith #2695HasanHasanDaifDaif
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِغَيْرِنَا لاَ تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ وَلاَ بِالنَّصَارَى فَإِنَّ تَسْلِيمَ الْيَهُودِ الإِشَارَةُ بِالأَصَابِعِ وَتَسْلِيمَ النَّصَارَى الإِشَارَةُ بِالأَكُفِّ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ . وَرَوَى ابْنُ الْمُبَارَكِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ فَلَمْ يَرْفَعْهُ .
Urdu Translation
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے غیروں سے مشابہت اختیار کرے، نہ یہود کی مشابہت کرو اور نہ نصاریٰ کی، یہودیوں کا سلام انگلیوں کا اشارہ ہے اور نصاریٰ کا سلام ہتھیلیوں کا اشارہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند ضعیف ہے، ۲- ابن مبارک نے یہ حدیث ابن لھیعہ سے روایت کی ہے، اور اسے انہوں نے مرفوع نہیں کیا ہے۔
English Translation
Narrated 'Amr bin Shu'aib:from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "He is not one of us who resembles other than us, no who resembles the Jews nor the Christians. For indeed greeting of the Jews is pointing the finger, and the greeting of the Christians is waving with the hand
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:8
Hadith #2696SahihSahihSahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ، زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ، سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارٍ، قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ فَمَرَّ عَلَى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ ثَابِتٌ كُنْتُ مَعَ أَنَسٍ فَمَرَّ عَلَى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ أَنَسٌ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَرَّ عَلَى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ ثَابِتٍ وَرُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ . حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
Urdu Translation
سیار کہتے ہیں کہ میں ثابت بنانی کے ساتھ جا رہا تھا، وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا، ثابت نے ( اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے ) کہا: میں انس رضی الله عنہ کے ساتھ ( جا رہا ) تھا وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے سلام کیا، پھر انس نے ( اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے ) کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اسے کئی لوگوں نے ثابت سے روایت کیا ہے، ۳- یہ حدیث متعدد سندوں سے انس رضی الله عنہ سے بھی روایت کی گئی ہے۔
English Translation
Narrated Sayyar:"I was walking with Thabit Al-Bunani. He passed by some boys, so he said Salam to them. Then Thabit said: 'I was with Anas when he passed by some boys and gave the Salam to them, and Anas said: I was with the Prophet (ﷺ) when he passed by some boys and he gave the Salam to them
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:9
Hadith #2697DaifHasanIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، أَنَّهُ سَمِعَ شَهْرَ بْنَ حَوْشَبٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ، تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمًا وَعُصْبَةٌ مِنَ النِّسَاءِ قُعُودٌ فَأَلْوَى بِيَدِهِ بِالتَّسْلِيمِ وَأَشَارَ عَبْدُ الْحَمِيدِ بِيَدِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ لاَ بَأْسَ بِحَدِيثِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ . وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ شَهْرٌ حَسَنُ الْحَدِيثِ وَقَوَّى أَمْرَهُ وَقَالَ إِنَّمَا تَكَلَّمَ فِيهِ ابْنُ عَوْنٍ ثُمَّ رَوَى عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ . أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ الْمَصَاحِفِيُّ بَلْخِيٌّ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ إِنَّ شَهْرًا نَزَكُوهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ النَّضْرُ تَرَكُوهُ أَىْ طَعَنُوا فِيهِ وَإِنَّمَا طَعَنُوا فِيهِ لأَنَّهُ وَلِيَ أَمْرَ السُّلْطَانِ .
Urdu Translation
اسماء بنت یزید رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مسجد میں گزرے وہاں عورتوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی، چنانچہ آپ نے انہیں اپنے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- عبدالحمید ( راوی ) نے بھی پتے ہاتھ سے اشارہ کیا ( کہ اس طرح ) ، ۳- احمد بن حنبل کہتے ہیں: شہر بن حوشب کے واسطہ سے عبدالحمید بن بہرام کی روایت میں کوئی حرج نہیں ہے، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: شہر حسن الحدیث ہیں اور ان کو روایت حدیث میں قوی بخاری کہتے ہیں: ان کے بارے میں ابن عون نے کلام کیا ہے۔ ابن عون کہتے ہیں: «إن شهرا نزكوه» کے واسطہ سے کہا: شہر کی شخصیت کو محدثین نے داغ دار بتایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ نضر کہتے ہیں «نزكوه» کا مطلب یہ ہے کہ «طعنوا فيه» یعنی ان کی شخصیت کو داغ دار بتایا ہے، اور لوگوں نے ان پر جرح اس لیے کی ہے کہ وہ سلطان ( حکومت ) کے ملازم بن گئے ہیں۔
English Translation
Narrated Asma bint Yazid:that the Messenger of Allah (ﷺ) passed through the Masjid one day, and a group of women were sitting, so he motioned his hand with the Salam - 'Abdul-Hamid (one of the narrators) gestured with his hand
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:10
Hadith #2698Daif IsnaadDaif IsnaadDaif
حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الْبَصْرِيُّ الأَنْصَارِيُّ، مُسْلِمُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا بُنَىَّ إِذَا دَخَلْتَ عَلَى أَهْلِكَ فَسَلِّمْ يَكُونُ بَرَكَةً عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
Urdu Translation
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”بیٹے! جب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ تو انہیں سلام کیا کرو، یہ سلام تمہارے لیے اور تمہارے گھر والوں کے لیے خیر و برکت کا باعث ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
English Translation
Narrated Anas:"The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'O my little son! When you enter upon your family then give the Salam, it will be a blessing for you and upon the inhabitants of your house
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:11
Hadith #2699HasanMawduDaifDaif
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الصَّبَّاحِ، - بَغْدَادِيٌّ - حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " السَّلاَمُ قَبْلَ الْكَلاَمِ " . وَبِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَدْعُوا أَحَدًا إِلَى الطَّعَامِ حَتَّى يُسَلِّمَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ ذَاهِبٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ زَاذَانَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ .
Urdu Translation
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بات چیت شروع کرنے سے پہلے سلام کیا کرو“
English Translation
Narrated Jabir bin 'Abdullah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Salam is before talking." With this chain it has been reported that the Prophet (ﷺ) said: "Do not invite anyone to the food until the Salam is given
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:12
Hadith #2700SahihSahihHasan SahihSahih Muslim
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى بِالسَّلاَمِ وَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Urdu Translation
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو، اور جب تمہاری ان کے کسی فرد سے راستے میں ملاقات ہو جائے تو اسے تنگ راستے سے ہی جانے پر مجبور کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
English Translation
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not precede the Jews and the Christians with the Salam. And if one of you meets them in the path, then force them to its narrow portion
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:13
Hadith #2701SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّ رَهْطًا مِنَ الْيَهُودِ دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَلَيْكُمْ " . فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ " . قَالَتْ عَائِشَةُ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ " قَدْ قُلْتُ عَلَيْكُمْ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ وَابْنِ عُمَرَ وَأَنَسٍ وَأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Urdu Translation
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ کچھ یہودیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: «السّام عليك» ”تم پر موت و ہلاکت آئے“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: «عليكم» ۱؎، عائشہ نے ( اس پر دو لفظ بڑھا کر ) کہا «بل عليكم السام واللعنة» ”بلکہ تم پر ہلاکت اور لعنت ہو“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں رفق، نرم روی اور ملائمیت کو پسند کرتا ہے“، عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: کیا آپ نے سنا نہیں؟ انہوں نے کیا کہا ہے؟ ۔ آپ نے فرمایا: ”تبھی تو میں نے «عليكم» کہا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو بصرہ غفاری، ابن عمر، انس اور ابوعبدالرحمٰن جہنی سے بھی احادیث آئی ہیں۔
English Translation
Narrated 'Aishah:that a group of Jews entered upon the Prophet (ﷺ) and they said: "As-Samu 'Alaik (death be upon you)." So the Prophet (ﷺ) said: "Wa 'Alaik (And upon you)." So 'Aishah said: "I said: '[Rather] upon you be death and the curse.'" So the Prophet (ﷺ) said: "O 'Aishah! Indeed Allah loves gentleness in every matter." 'Aishah said: "Did you not hear what they said?" He said: "And I replied: 'And upon you
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:14
Hadith #2702SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِمَجْلِسٍ وَفِيهِ أَخْلاَطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْيَهُودِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Urdu Translation
اسامہ بن زید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان اور یہود دونوں تھے تو آپ نے انہیں سلام کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
English Translation
Narrated Usamah bin Zaid:that the Prophet (ﷺ) passed by a gathering in which the Muslims and the Jews were mixed, so he gave the Salam to them
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:15
Hadith #2703SahihSahihSahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالاَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ " . وَزَادَ ابْنُ الْمُثَنَّى فِي حَدِيثِهِ " وَيُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ وَفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَقَالَ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ إِنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
Urdu Translation
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار پیدل چلنے والے کو اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو ( یعنی چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو سلام کرے“۔ اور ابن مثنی نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: ”چھوٹا اپنے بڑے کو سلام کرے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے متعدد سندوں سے مروی ہے، ۲- ایوب سختیانی، یونس بن عبید اور علی بن یزید کہتے ہیں کہ حسن بصری نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے، ۳- اس باب میں عبدالرحمٰن بن شبل، فضالہ بن عبید اور جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔)
English Translation
Narrated Al-Hasan:from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said: "The rider gives the Salam to the walking person, and the walking person to the sitting person and the few to the many." Ibn Al-Muthanna added in his narration: "And the young one gives the Salam to the elder
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:16
Hadith #2704SahihSahihSahihSahih Bukhari
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ وَالْمَارُّ عَلَى الْقَاعِدِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ " . قَالَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Urdu Translation
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوٹا بڑے کو، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
English Translation
Narrated Hammam bin Munabbih:from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said: "The young one gives the Salam to the elder, the one passing the by to the one sitting and the few to the many
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:17
Hadith #2705SahihSahihHasan SahihIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ، اسْمُهُ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ الْخَوْلاَنِيُّ عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْجَنْبِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُسَلِّمُ الْفَارِسُ عَلَى الْمَاشِي وَالْمَاشِي عَلَى الْقَائِمِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو عَلِيٍّ الْجَنْبِيُّ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ .
Urdu Translation
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار پیدل چلنے والے کو اور چلنے والا کھڑے ہوئے شخص کو اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
English Translation
Narrated Fadalah bin 'Ubaid:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The horseman gives Salam to the walking person, the walking person to the one standing and the few to the many
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:18
Hadith #2706Hasan SahihHasan SahihHasanIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ ثُمَّ إِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الآخِرَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Urdu Translation
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، پھر اگر اس کا دل بیٹھنے کو چاہے تو بیٹھ جائے۔ پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو سلام کرے۔ پہلا ( سلام ) دوسرے ( سلام ) سے زیادہ ضروری نہیں ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث ابن عجلان سے بھی آئی ہے، ابن عجلان نے بسند «سعيد المقبري عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔
English Translation
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When one of you arrives at the gathering, then give the Salam, and if he is given a place to sit, then let him sit. Then when he stands, let him give the Salam, the first is more worthy than the last
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:19
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ كَشَفَ سِتْرًا فَأَدْخَلَ بَصَرَهُ فِي الْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ فَرَأَى عَوْرَةَ أَهْلِهِ فَقَدْ أَتَى حَدًّا لاَ يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ لَوْ أَنَّهُ حِينَ أَدْخَلَ بَصَرَهُ اسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ فَفَقَأَ عَيْنَيْهِ مَا غَيَّرْتُ عَلَيْهِ وَإِنْ مَرَّ رَجُلٌ عَلَى بَابٍ لاَ سِتْرَ لَهُ غَيْرِ مُغْلَقٍ فَنَظَرَ فَلاَ خَطِيئَةَ عَلَيْهِ إِنَّمَا الْخَطِيئَةُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي أُمَامَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ .
Urdu Translation
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( گھر میں داخل ہونے کی ) اجازت ملنے سے پہلے ہی جس نے ( دروازے کا ) پردہ کھسکا کر کسی کے گھر کے اندر جھانکا، اور گھر والے کی بیوی کی پردہ دری کی تو اس نے ایک ایسا کام کیا جس کا کرنا اس کے لیے حلال نہ تھا، جس وقت اس نے اپنی نگاہ اندر ڈالی تھی کاش اس وقت اس کا سامنا کسی ایسے شخص سے ہو جاتا جو اس کی دونوں آنکھیں پھوڑ دیتا تو میں اس پر اسے خوں بہا نہ دیتا۔ اور اگر کوئی شخص ایسے دروازے کے سامنے سے گزرا جس پر کوئی پردہ پڑا ہوا نہیں ہے اور دروازہ بند بھی نہیں ہے پھر اس کی نظر اٹھ گئی تو اس کی کچھ خطا نہیں۔ غلطی و کوتاہی تو گھر والے کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اس طرح کی حدیث صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں ابوہریرہ اور ابوامامہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
English Translation
Narrated Abu Dharr:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever lifts the curtain so that his sight enters the house before he was given permission, and he seeks the nakedness of its inhabitants, then he has done something punishable which was not lawful for him to do. If it were that when he gazed into it, he was facing a man who lanced his eyes, there would be nothing wrong with him doing so. But if a man passes by a door that has no cover over it, and it is not closed and he looks, then there is no sin on him, the sin is only on the inhabitants of the house
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:20
Hadith #2708SahihSahihHasan SahihSahih Bukhari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي بَيْتِهِ فَاطَّلَعَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَأَهْوَى إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ فَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Urdu Translation
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں تھے ( اسی دوران ) ایک شخص نے آپ کے گھر میں جھانکا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیر کا پھل لے کر لپکے ( کہ اس کی آنکھیں پھوڑ دیں ) لیکن وہ فوراً پیچھے ہٹ گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
English Translation
Narrated Anas:that the Prophet (ﷺ) was in his house when a man looked in at him, so he lunged towards him with an arrow head, so the man backed up
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:21
Hadith #2709SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، اطَّلَعَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ جُحْرٍ فِي حُجْرَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِدْرَاةٌ يَحُكُّ بِهَا رَأْسَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَنْظُرُ لَطَعَنْتُ بِهَا فِي عَيْنِكَ إِنَّمَا جُعِلَ الاِسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Urdu Translation
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں ایک سوراخ سے جھانکا ( اس وقت ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ اپنا سر کھجا رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے ( پہلے سے ) معلوم ہوتا کہ تو جھانک رہا ہے تو میں اسے تیری آنکھ میں کونچ دیتا ( تجھے پتا نہیں ) اجازت مانگنے کا حکم تو دیکھنے کے سبب ہی سے ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
English Translation
Narrated Sahl bin Sa'd As-Sa'idi:that a man peeked in on the Messenger of Allah (ﷺ), in one of the apartments of the Prophet (ﷺ), while the Prophet (ﷺ) had a Midrah (an iron comb) with which he was scratching his head. So the Prophet (ﷺ) said: "If I knew that you were looking then I would have poked your eyes with it. Seeking permission has only been enjoined because of the sight
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:22
Hadith #2710SahihSahihHasanIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ كَلَدَةَ بْنَ حَنْبَلٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ بَعَثَهُ بِلَبَنٍ وَلِبَإٍ وَضَغَابِيسَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِأَعْلَى الْوَادِي قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَلَمْ أُسَلِّمْ وَلَمْ أَسْتَأْذِنْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " ارْجِعْ فَقُلِ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ " . وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ صَفْوَانُ . قَالَ عَمْرٌو وَأَخْبَرَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ أُمَيَّةُ بْنُ صَفْوَانَ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُهُ مِنْ كَلَدَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَرَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ أَيْضًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ مِثْلَ هَذَا . وَضَغَابِيسُ هُوَ حَشِيشٌ يُؤْكَلُ .
Urdu Translation
کلدہ بن حنبل رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ صفوان بن امیہ نے انہیں دودھ، پیوسی اور ککڑی کے ٹکڑے دے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور آپ اس وقت مکہ کے اونچائی والے حصہ میں تھے، میں آپ کے پاس اجازت لیے اور سلام کئے بغیر چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس باہر جاؤ، پھر کہو «السلام علیکم»، کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟“ یہ اس وقت کی بات ہے جب صفوان اسلام لا چکے تھے۔ عمرو بن عبداللہ کہتے ہیں: یہ حدیث امیہ بن صفوان نے مجھ سے بیان کی ہے لیکن انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ حدیث میں نے کلدہ سے سنی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اسے ہم صرف ابن جریج کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۳- ابوعاصم نے بھی ابن جریج سے اسی طرح روایت کی ہے۔
English Translation
Narrated 'Amr bin Abi Sufyan:that 'Amr bin 'Abdullah bin Safwan informed him, that Kaladah bin Hanbal had informed him, that Safwan bin Umayyah sent him to bring some milk, colostrum, and Daghabis (a type of herb) to the Prophet (ﷺ) while he was in the upper valley. (He said): "I entered upon him without seeking permission nor giving Salam. The Prophet (ﷺ) said: 'Go back and say: As-Salamu Alaykum, may I enter?'" And that was after Safwan had accepted Islam
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:23
Hadith #2711SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي فَقَالَ " مَنْ هَذَا " . فَقُلْتُ أَنَا . فَقَالَ " أَنَا أَنَا " . كَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Urdu Translation
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک قرض کے سلسلے میں جو میرے والد کے ذمہ تھا کچھ بات کرنے کے لیے آپ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی تو آپ نے کہا: ”کون ہے؟“۔ میں نے کہا: میں ہوں، آپ نے فرمایا: ”میں میں ( کیا ہے؟ ) “ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
English Translation
Narrated Jabir:"I sought permission to enter upon the Prophet (ﷺ) regarding a debt my father owed, so he said: 'Who is this?' I said: 'Me.' He said: 'Me, me.'As if he disliked that
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:24
Hadith #2712SahihSahihHasan SahihSahih
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَاهُمْ أَنْ يَطْرُقُوا النِّسَاءَ لَيْلاً . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . - وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَاهُمْ أَنْ يَطْرُقُوا النِّسَاءَ لَيْلاً قَالَ فَطَرَقَ رَجُلاَنِ بَعْدَ نَهْىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً .
Urdu Translation
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو سفر سے رات میں بیویوں کے پاس لوٹ کر آنے سے روکا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے جابر رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، ۳- اس باب میں انس، ابن عمر، اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو رات میں بیویوں کے پاس سفر سے واپس لوٹ کر آنے سے روکا ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس روکنے کے باوجود دو شخص رات میں لوٹ کر اپنی بیویوں کے پاس آئے ( نتیجہ انہیں اس نافرمانی کا یہ ملا ) کہ ان دونوں میں سے ہر ایک نے اپنی بیوی کے پاس ایک دوسرے مرد کو پایا۔
English Translation
Narrated Jabir:that the Prophet (ﷺ) prohibited them from returning to the women from a journey during the night
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:25
Hadith #2713DaifDaifDaifDaif
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا كَتَبَ أَحَدُكُمْ كِتَابًا فَلْيُتَرِّبْهُ فَإِنَّهُ أَنْجَحُ لِلْحَاجَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لاَ نَعْرِفُهُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . قَالَ وَحَمْزَةُ هُوَ عِنْدِي ابْنُ عَمْرٍو النَّصِيبِيُّ هُوَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ .
Urdu Translation
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی تحریر لکھے تو لکھنے کے بعد اس پر مٹی ڈالنا چاہیئے، کیونکہ اس سے حاجت برآری کی زیادہ توقع ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث منکر ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے ابوزبیر کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- حمزہ ہمارے نزدیک عمرو نصیبی کے بیٹے ہیں، اور وہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف مانے جاتے ہیں۔
English Translation
Narrated Jabir:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When one of you writes something, then let him Yutarrib (smeared with dust to dry the ink) it, for that is more conducive to the need
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:26
Hadith #2714MawduMawduDaifDaif
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَنْبَسَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ أُمِّ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبَيْنَ يَدَيْهِ كَاتِبٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " ضَعِ الْقَلَمَ عَلَى أُذُنِكَ فَإِنَّهُ أَذْكَرُ لِلْمُمْلِي " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَهُوَ إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ . وَعَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدُ بْنُ زَاذَانَ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ .
Urdu Translation
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا۔ آپ کے سامنے ایک کاتب بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے سنا آپ اس سے فرما رہے تھے: ”تم اپنا قلم اپنے کان پر رکھے رہا کرو کیونکہ اس سے لکھوانے والوں کو آگاہی و یاد دہانی ہو جایا کرے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور یہ سند ضعیف ہے، ۳- عنبسہ بن عبدالرحمٰن اور محم بن زاذان، دونوں حدیث بیان کرنے میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں۔
English Translation
Narrated Zaid bin Thabit:"I entered upon the Messenger of Allah (ﷺ) while there was a scribe in front of him, and I heard him saying: 'Put the pen on your ear, for that is more conducive to the scribe remembering
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:27
Hadith #2715Hasan SahihHasan SahihHasan SahihIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَتَعَلَّمَ لَهُ كَلِمَاتِ كِتَابِ يَهُودَ . قَالَ " إِنِّي وَاللَّهِ مَا آمَنُ يَهُودَ عَلَى كِتَابٍ " . قَالَ فَمَا مَرَّ بِي نِصْفُ شَهْرٍ حَتَّى تَعَلَّمْتُهُ لَهُ قَالَ فَلَمَّا تَعَلَّمْتُهُ كَانَ إِذَا كَتَبَ إِلَى يَهُودَ كَتَبْتُ إِلَيْهِمْ وَإِذَا كَتَبُوا إِلَيْهِ قَرَأْتُ لَهُ كِتَابَهُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَوَاهُ الأَعْمَشُ عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَتَعَلَّمَ السُّرْيَانِيَّةَ .
Urdu Translation
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے لیے یہود کی کچھ تحریر سیکھ لوں، آپ نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! میں یہود کی تحریر پر اعتماد و اطمینان نہیں کرتا“، چنانچہ ابھی آدھا مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ میں نے آپ کے لیے اسے سیکھ لیا۔ کہتے ہیں: پھر جب میں نے سیکھ لیا اور آپ کو یہودیوں کے پاس کچھ لکھ کر بھیجنا ہوا تو میں نے لکھ کر ان کے پاس بھیج دیا، اور جب یہودیوں نے کوئی چیز لکھ کر آپ کے پاس بھیجی تو میں نے ان کی کتاب ( تحریر ) پڑھ کر آپ کو سنا دی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ بھی دوسری سند سے زید بن ثابت رضی الله عنہ سے مروی ہے، اسے اعمش نے ثابت بن عبید انصاری کے واسطہ سے زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ میں سریانی زبان سیکھ لوں۔
English Translation
Narrated Zaid bin Thabit:"The Messenger of Allah (ﷺ) ordered me to learn some statements from writings of the Jews for him, and he said: 'For indeed by Allah! I do no trust the Jews with my letters.'" He said: "Half a month did not pass before I learned it, when he (ﷺ) wanted to write to the Jews I would write it to them, and when they wrote to him I would read their letters to him
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:28
Hadith #2716SahihSahihHasan SahihSahih Muslim
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَتَبَ قَبْلَ مَوْتِهِ إِلَى كِسْرَى وَإِلَى قَيْصَرَ وَإِلَى النَّجَاشِيِّ وَإِلَى كُلِّ جَبَّارٍ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
Urdu Translation
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے پہلے کسریٰ و قیصر، نجاشی اور سارے سرکش و متکبر بادشاہوں کو اللہ کی طرف دعوت دیتے ہوئے خطوط لکھ کر بھیجے۔ اس نجاشی سے وہ نجاشی ( بادشاہ حبش اصحمہ ) مراد نہیں ہے کہ جن کے انتقال پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
English Translation
Narrated Anas bin Malik:"Before he died, the Messenger of Allah (ﷺ) had written to Kisra, Ceasar, An-Najashi, and to every tyrant calling them to Allah. This An-Najashi is not the one that the Prophet (ﷺ) performed to the funeral Salat for
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:29
Hadith #2717SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ وَكَانُوا تُجَّارًا بِالشَّامِ فَأَتَوْهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُرِئَ فَإِذَا فِيهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ السَّلاَمُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى أَمَّا بَعْدُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو سُفْيَانَ اسْمُهُ صَخْرُ بْنُ حَرْبٍ .
Urdu Translation
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ابوسفیان بن حرب رضی الله عنہ نے ان سے بیان کیا کہ وہ قریش کے کچھ تاجروں کے ساتھ شام میں تھے کہ ہرقل ( شہنشاہ شام ) نے انہیں بلا بھیجا، تو وہ سب اس کے پاس آئے، پھر سفیان نے آگے بات بڑھائی۔ کہا: پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا۔ پھر خط پڑھا گیا، اس میں لکھا تھا «بسم الله الرحمن الرحيم من محمد عبدالله ورسوله إلى هرقل عظيم الروم السلام على من اتبع الهدى أمابعد» ”میں شروع کرتا ہوں اس اللہ کے نام سے جو رحمان ( بڑا مہربان ) اور رحیم ( نہایت رحم کرنے والا ) ہے۔ یہ خط محمد کی جانب سے ہے جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور ہرقل کے پاس بھیجا جا رہا ہے جو روم کے شہنشاہ ہیں۔ سلامتی ہے اس شخص کے لیے جو ہدایت کی پیروی کرے۔ امابعد: حمد و نعت کے بعد … الخ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوسفیان کا نام صخر بن حرب رضی الله عنہ تھا۔
English Translation
Narrated Ibn 'Abbas:that Abu Sufyan bin Harb informed him that Hiraql had sent for him while he was with a party of the Quraish, and they were trading in Ash-Sham, so they went to him." And he mentioned the Hadith and said: "Then he called for the letter of the Messenger of Allah (ﷺ) to be read, and it said in it: 'In the Name of Allah, the Merciful, the Beneficent. From Muhammad, Allah's Slave and His Messenger, to Hiraql the leader of Rome. Peace be upon whoever follows the guidance. To proceed:
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:30
Hadith #2718SahihSahihHasan SahihSahih - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا أَرَادَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الْعَجَمِ قِيلَ لَهُ إِنَّ الْعَجَمَ لاَ يَقْبَلُونَ إِلاَّ كِتَابًا عَلَيْهِ خَاتَمٌ فَاصْطَنَعَ خَاتَمًا . قَالَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي كَفِّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Urdu Translation
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عجمی ( بادشاہوں ) کو خطوط بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو آپ کو بتایا گیا کہ عجمی بغیر مہر لگا ہوا خط قبول نہیں کرتے چنانچہ آپ نے ( مہر کے لیے ) ایک انگوٹھی بنوائی، تو ان میں آپ کی ہتھیلی میں اس کی چمک کو اس وقت دیکھ رہا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
English Translation
Narrated Anas bin Malik:"When the Prophet of Allah (ﷺ) wanted to write to the foreigners, it was said to him: 'The foreigners do not accept a letter unless it has a seal.' So he had a ring made." He said: "It is as if I am now looking at its whiteness in his hand
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:31
Hadith #2719SahihSahihHasan SahihSahih Muslim
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ، قَالَ أَقْبَلْتُ أَنَا وَصَاحِبَانِ، لِي قَدْ ذَهَبَتْ أَسْمَاعُنَا وَأَبْصَارُنَا مِنَ الْجَهْدِ فَجَعَلْنَا نَعْرِضُ أَنْفُسَنَا عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَيْسَ أَحَدٌ يَقْبَلُنَا فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَى بِنَا أَهْلَهُ فَإِذَا ثَلاَثَةُ أَعْنُزٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " احْتَلِبُوا هَذَا اللَّبَنَ بَيْنَنَا " . فَكُنَّا نَحْتَلِبُهُ فَيَشْرَبُ كُلُّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ وَنَرْفَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَصِيبَهُ فَيَجِيءُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ فَيُسَلِّمُ عَلَيْنَا تَسْلِيمًا لاَ يُوقِظُ النَّائِمَ وَيُسْمِعُ الْيَقْظَانَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي ثُمَّ يَأْتِي شَرَابَهُ فَيَشْرَبُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Urdu Translation
مقداد بن اسود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے دو دوست ( مدینہ ) آئے، فقر و فاقہ اور جہد و مشقت کی بنا پر ہماری سماعت متاثر ہو گئی تھی ۱؎ اور ہماری آنکھیں دھنس گئی تھیں، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرنے لگے لیکن ہمیں کسی نے قبول نہ کیا ۲؎، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تو آپ ہمیں اپنے گھر لے آئے، اس وقت آپ کے پاس تین بکریاں تھیں۔ آپ نے فرمایا: ”ان کا دودھ ہم سب کے لیے دوہو“، تو ہم دوہتے اور ہر شخص اپنا حصہ پیتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ اٹھا کر رکھ دیتے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تشریف لاتے اور اس انداز سے سلام کرتے تھے کہ سونے والا جاگ نہ اٹھے اور جاگنے والا سن بھی لے ۳؎، پھر آپ مسجد آتے نماز تہجد پڑھتے پھر جا کر اپنے حصے کا دودھ پیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
English Translation
Narrated Al-Miqdad bin Al-Aswad:"Two of my companions and I went and presented ourselves to the Companions of the Prophet (ﷺ), for our hearing and sight had gone from suffering (hunger and thirst). But there was no one who would accept us. So we went to the Prophet (ﷺ) and he brought us to his family where there were three goats. The Prophet (ﷺ) said: 'Milk these.' We milked them, and each person drank his share, and we put aside a share for the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) came during the night and gave the Salam such that it would not wake the sleeping person, and the one who was awake could hear it. Then he went to the Masjid to per form Salat. Then he went for his drink and drank it
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:32
Hadith #2720Hasan SahihHasan SahihHasan SahihSahih Muslim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَبُولُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ يَعْنِي السَّلاَمَ . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ الْفَغْوَاءِ، وَجَابِرٍ، وَالْبَرَاءِ، وَالْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Urdu Translation
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت سلام کیا جب آپ پیشاب کر رہے تھے، تو آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔
English Translation
Narrated Ibn 'Umar:that a man gave the Salam to the Prophet (ﷺ) while he was urinating, but the Prophet (ﷺ) did not return the Salam to him
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:33
Hadith #2721SahihSahihIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ قَوْمِهِ قَالَ طَلَبْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَيْهِ فَجَلَسْتُ فَإِذَا نَفَرٌ هُوَ فِيهِمْ وَلاَ أَعْرِفُهُ وَهُوَ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ مَعَهُ بَعْضُهُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ قُلْتُ عَلَيْكَ السَّلاَمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَيْكَ السَّلاَمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَيْكَ السَّلاَمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " إِنَّ عَلَيْكَ السَّلاَمُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ إِنَّ عَلَيْكَ السَّلاَمُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ " . ثَلاَثًا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَىَّ فَقَالَ " إِذَا لَقِيَ الرَّجُلُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فَلْيَقُلِ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " . ثُمَّ رَدَّ عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَبُو غِفَارٍ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي جُرَىٍّ، جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ الْهُجَيْمِيِّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . وَأَبُو تَمِيمَةَ اسْمُهُ طَرِيفُ بْنُ مُجَالِدٍ
Urdu Translation
جابر بن سلیم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنا چاہتا تھا، مگر آپ تک پہنچ نہ سکا، میں بیٹھا رہا پھر کچھ لوگ سامنے آئے جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے۔ میں آپ سے واقف نہ تھا، آپ ان لوگوں میں صلح صفائی کرا رہے تھے، جب آپ ( اس کام سے ) فارغ ہوئے تو آپ کے ساتھ کچھ دوسرے لوگ بھی اٹھ کھڑے ہوئے، ان لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! جب میں نے ( لوگوں کو ) ایسا کہتے دیکھا تو میں نے کہا: ” «علیک السلام یا رسول اللہ» !“ ( آپ پر سلامتی ہو اے اللہ کے رسول ) اور ایسا میں نے تین بار کہا، آپ نے فرمایا: ” «علیک السلام» میت کا سلام ہے“ ۱؎، آپ نے بھی ایسا تین بار کہا، پھر آپ میری طرف پوری طرح متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”جب آدمی اپنے مسلمان بھائی سے ملے تو اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ کہے «السلام علیکم ورحمة اللہ» پھر آپ نے میرے سلام کا جواب اس طرح لوٹایا، فرمایا: «وعلیک ورحمة اللہ وعلیک ورحمة اللہ وعلیک ورحمة اللہ» ( تین بار ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابوغفار نے یہ حدیث بسند «ابو تمیمہ الہجیمی عن ابی جری جابر بن سلیم الہجیمی» سے روایت کی ہے، ہجیمی کہتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا پھر آگے پوری حدیث بیان کر دی۔ ابو تمیمہ کا نام طریف بن مجالد ہے۔
English Translation
Narrated Abu Tamimah Al-Hujaimi:from a man among his people, who said: "I went looking for the Prophet (ﷺ) but I was not able to find him. So I sat down, and then I saw a group of people, and he was among them, but I did not recognize him. He was settling some matter between them so when he was finished, some of them stood up with him and they were saying: 'O Messenger of Allah.' When I saw that, I said: "'Alaikas-Salam (upon you be peace) O Messenger of Allah! 'Alaikas-Salam (upon you be peace) O Messenger of Allah! 'Alaikas-Salam (upon you be peace) O Messenger of Allah!' He replied: 'Indeed "'Alaikas-Salam (upon you be peace)" is the greeting for the dead.' Then he came toward me and said: 'When a man meets his Muslim brother then he should say: "As-Salamu 'Alaikum Wa Rahmatullahi Wa Barakatuh (peace be upon you, and the mercy and blessings of Allah)." Then the Prophet (ﷺ) responded to my greeting, he said: 'And may Allah's mercy be upon you, and may Allah's mercy be upon you, and may Allah's mercy be upon you
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:34
Hadith #2722SahihSahihHasan SahihIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ أَبِي غِفَارٍ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ الطَّائِيِّ عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ عَلَيْكَ السَّلاَمُ . فَقَالَ " لاَ تَقُلْ عَلَيْكَ السَّلاَمُ وَلَكِنْ قُلِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ " . وَذَكَرَ قِصَّةً طَوِيلَةً وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Urdu Translation
جابر بن سلیم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، پھر آپ سے عرض کیا: «علیک السلام» آپ پر سلامتی ہو تو آپ نے فرمایا: «علیک السلام» مت کہو بلکہ «السلام علیک» کہو اور آگے پورا لمبا قصہ بیان کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
English Translation
Narrated Abu Ghifar Al-Muthanna bin Sa'eed At-Ta'i:from Abu Tamimah al-Hujaimi from Jabir bin Sulaim who said: "I went to the Prophet (ﷺ) and I said: ''Alaikas-Salam (upon you be peace)' so he replied: 'Do not say "'Alaikas-Salam" rather say As-Salamu Alaik.'" And he mentioned the story in its entirety
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:35
Hadith #2723Hasan SahihHasan SahihHasan SahihSahih Bukhari
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا سَلَّمَ سَلَّمَ ثَلاَثًا وَإِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلاَثًا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
Urdu Translation
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام کرتے تو تین بار سلام کرتے اور جب کوئی بات کہتے تو اسے تین بار دھراتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ فائدہ ۱؎: تاکہ بات اچھی طرح سمجھ میں آ جائے۔
English Translation
Narrated Anas bin Malik:"When the Messenger of Allah (ﷺ) would give the Salam he would do so three times, and when he would say a statement, he would say it three times
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:36
Hadith #2724SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ مَعَهُ إِذْ أَقْبَلَ ثَلاَثَةُ نَفَرٍ فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَهَبَ وَاحِدٌ فَلَمَّا وَقَفَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَلَّمَا فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا وَأَمَّا الآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ وَأَمَّا الآخَرُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلاَ أُخْبِرُكُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلاَثَةِ أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَى إِلَى اللَّهِ فَآوَاهُ اللَّهُ وَأَمَّا الآخَرُ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ وَأَمَّا الآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأَبُو وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ اسْمُهُ الْحَارِثُ بْنُ عَوْفٍ وَأَبُو مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ وَاسْمُهُ يَزِيدُ وَيُقَالُ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ .
Urdu Translation
ابوواقد حارث بن عوف لیثی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے، آپ کے ساتھ لوگ بھی بیٹھے تھے، اسی دوران اچانک تین آدمی آئے، ان میں سے دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھ آئے، اور ایک واپس چلا گیا، جب وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر رکے تو انہوں نے سلام کیا، پھر ان دونوں میں سے ایک نے مجلس میں کچھ جگہ ( گنجائش ) دیکھی تو وہ اسی میں ( گھس کر ) بیٹھ گیا۔ اور دوسرا شخص ان لوگوں کے ( یعنی صحابہ ) کے پیچھے جا کر بیٹھ گیا۔ اور تیسرا تو پیٹھ موڑے چلا ہی گیا تھا، پھر جب فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا: ”کیا میں تمہیں تینوں اشخاص کے متعلق نہ بتاؤں؟ ( سنو ) ان میں سے ایک نے اللہ کی پناہ حاصل کی تو اللہ نے اسے پناہ دی اور دوسرے نے شرم کی تو اللہ نے بھی اس سے شرم کی اور رہا تیسرا شخص تو اس نے اعراض کیا، چنانچہ اللہ نے بھی اس سے اعراض کیا، منہ پھیر لیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابو مرہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی الله عنہا کے آزاد کردہ غلام ہیں اور ان کا نام یزید ہے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ عقیل ابن ابی طالب کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
English Translation
Narrated Abu Waqid Al-Laithi:"The Messenger of Allah (ﷺ) was sitting in the Masjid and the people were with him when three people came. Two of them came near the Messenger of Allah (ﷺ) and one went away. When the two stopped at the Messenger of Allah (ﷺ) the said the Salam. One of them saw an opening in the circle so he sat there. As for the other one, he sat behind them, and the other one went way in the rear. When the Messenger of Allah (ﷺ) had finished, he said: 'Shall I inform you about the three people? As for one of them, he took himself to Allah so Allah took him. The other, he was shy so Allah (had mercy) on him. As for the other one, he turned away, so Allah turned away from him
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:37
Hadith #2725SahihSahihDaif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ رَوَاهُ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ سِمَاكٍ أَيْضًا .
Urdu Translation
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو جس کو جہاں جگہ ملتی وہیں بیٹھ جاتا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث زہیر بن معاویہ نے سماک سے بھی روایت کی ہے۔
English Translation
Narrated Jabir bin Samurah:"When we went to the Prophet (ﷺ), each of us would sit wherever he wound up at
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:38
Hadith #2726Sahih MatnSahih MatnSahih
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِنَاسٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ " إِنْ كُنْتُمْ لاَ بُدَّ فَاعِلِينَ فَرُدُّوا السَّلاَمَ وَأَعِينُوا الْمَظْلُومَ وَاهْدُوا السَّبِيلَ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
Urdu Translation
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ( سند میں اس بات کی صراحت ہے کہ ابواسحاق نے براء سے سنا نہیں ہے اس لیے سند میں انقطاع ہے، لیکن شواہد کی بناء پر صحیح ہے، بالخصوص شعبہ کی روایت ہونے کی وجہ سے قوی ہے ) انصار کے کچھ لوگ راستے میں بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے ان سے فرمایا: ” ( یوں تو راستے میں بیٹھنا اچھا نہیں ہے ) لیکن اگر تم بیٹھنا ضروری سمجھتے ہو تو سلام کا جواب دیا کرو، مظلوم کی مدد کیا کرو، اور ( بھولے بھٹکے ہوئے کو ) راستہ بتا دیا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور ابوشریح خزاعی رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
English Translation
Narrated Shu'bah:"From Abu Ishaq, from Al-Bara - and he did not hear it from him - the Messenger of Allah (ﷺ) passed by some people from the Ansar while they were sitting in the road. He said: 'If you people must do this, then return the Salam, assist the wronged, and give directions to the one who is on the route
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:39
Hadith #2727SahihSahihDaif
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الأَجْلَحِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ إِلاَّ غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الْبَرَاءِ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ وَالأَجْلَحُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيُّ .
Urdu Translation
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے ملتے اور ( سلام ) و مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں کے ایک دوسرے سے علیحدہ اور جدا ہونے سے پہلے انہیں بخش دیا جاتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث براء سے متعدد سندوں سے بھی مروی ہے۔
English Translation
Narrated Al-Bara bin 'Azib:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "No two Muslims meet each other and shake hands, except that Allah forgives them before they part
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:40
Hadith #2728HasanHasanHasanDaif
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ مِنَّا يَلْقَى أَخَاهُ أَوْ صَدِيقَهُ أَيَنْحَنِي لَهُ قَالَ " لاَ " . قَالَ أَفَيَلْتَزِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ قَالَ " لاَ " . قَالَ أَفَيَأْخُذُ بِيَدِهِ وَيُصَافِحُهُ قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
Urdu Translation
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہمارا آدمی اپنے بھائی سے یا اپنے دوست سے ملتا ہے تو کیا وہ اس کے سامنے جھکے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، اس نے پوچھا: کیا وہ اس سے چمٹ جائے اور اس کا بوسہ لے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، اس نے کہا: پھر تو وہ اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے، آپ نے فرمایا: ”ہاں“ ( بس اتنا ہی کافی ہے ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
English Translation
Narrated Anas bin Malik:that a man said: "O Messenger of Allah! When a man among us meets his brother or his friend should he bow to him?" He said: "No." The man continued: "Should he embrace him and kiss him?" He said: "No." He said: "Should he take his hand and shake it?" He said: "Yes
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:41
Hadith #2729SahihSahihHasan SahihSahih Bukhari
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ قُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ هَلْ كَانَتِ الْمُصَافَحَةُ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Urdu Translation
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں مصافحہ کا رواج تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
English Translation
Narrated Qatadah:that he asked Anas bin Malik: "Did the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) use to shake each other's hand?" He said, "Yes
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:42
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مِنْ تَمَامِ التَّحِيَّةِ الأَخْذُ بِالْيَدِ " . وَفِي الْبَابِ عَنِ الْبَرَاءِ وَابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ سُفْيَانَ . قَالَ سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعُدَّهُ مَحْفُوظًا وَقَالَ إِنَّمَا أَرَادَ عِنْدِي حَدِيثَ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ خَيْثَمَةَ عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ سَمَرَ إِلاَّ لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ " . قَالَ مُحَمَّدٌ وَإِنَّمَا يُرْوَى عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ أَوْ غَيْرِهِ قَالَ مِنْ تَمَامِ التَّحِيَّةِ الأَخْذُ بِالْيَدِ .
Urdu Translation
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکمل سلام ( «السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ» کہنے کے ساتھ ساتھ ) ہاتھ کو ہاتھ میں لینا یعنی ( مصافحہ کرنا ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف یحییٰ بن سلیم کی روایت سے جسے وہ سفیان سے روایت کرتے ہیں جانتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسے محفوظ شمار نہیں کیا، اور کہا کہ میرے نزدیک یحییٰ بن سلیم نے سفیان کی وہ روایت مراد لی ہے جسے انہوں نے منصور سے روایت کی ہے، اور منصور نے خیثمہ سے اور خیثمہ نے اس سے جس نے ابن مسعود رضی الله عنہ سے سنا ہے اور ابن مسعود نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا: ” ( بعد نماز عشاء ) بات چیت اور قصہ گوئی نہیں کرنی چاہیئے، سوائے اس شخص کے جس کو ( ابھی کچھ دیر بعد اٹھ کر تہجد کی ) نماز پڑھنی ہے یا سفر کرنا ہے، محمد کہتے ہیں: اور منصور سے مروی ہے انہوں نے ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے عبدالرحمٰن بن یزید سے یا ان کے سوا کسی اور سے روایت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں: سلام کی تکمیل سے مراد ہاتھ پکڑنا ( مصافحہ کرنا ) ہے، ۳- اس باب میں براء اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
English Translation
Narrated Ibn Mas'ud:that the Prophet (ﷺ) said: "taking hold of the hand is from the completeness of the greeting
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:43
Hadith #2731DaifDaifDaifDaif
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تَمَامُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ أَنْ يَضَعَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ أَوْ قَالَ عَلَى يَدِهِ فَيَسْأَلَهُ كَيْفَ هُوَ وَتَمَامُ تَحِيَّاتِكُمْ بَيْنَكُمُ الْمُصَافَحَةُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا إِسْنَادٌ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ . قَالَ مُحَمَّدٌ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ ثِقَةٌ وَعَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ضَعِيفٌ وَالْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُكْنَى أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَالْقَاسِمُ شَامِيٌّ .
Urdu Translation
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مریض کی مکمل عیادت یہ ہے کہ تم میں سے عیادت کرنے والا اپنا ہاتھ اس کی پیشانی پر رکھے“، یا آپ نے یہ فرمایا: ” ( راوی کو شبہ ہو گیا ہے ) اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھے، پھر اس سے پوچھے کہ وہ کیسا ہے؟ اور تمہارے سلام کی تکمیل یہ ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے مصافحہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: عبیداللہ بن زحر ثقہ ہیں اور علی بن یزید ضعیف ہیں، ۳ – قاسم بن عبدالرحمٰن کی کنیت ابوعبدالرحمٰن ہے اور یہ عبدالرحمٰن بن خالد بن یزید بن معاویہ کے آزاد کردہ غلام ہیں اور ثقہ ہیں اور قاسم شامی ہیں۔
English Translation
Narrated Abu Umamah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "From the complete of visiting the ill is that one of you place his hand on his forehead" - or he said - "on his hand, and ask him how he is. And shaking hands completes your greetings among each other
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:44
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَدِمَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِي فَأَتَاهُ فَقَرَعَ الْبَابَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عُرْيَانًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ عُرْيَانًا قَبْلَهُ وَلاَ بَعْدَهُ فَاعْتَنَقَهُ وَقَبَّلَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
Urdu Translation
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ زید بن حارثہ مدینہ آئے ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے، وہ آپ کے پاس آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا، تو آپ ان کی طرف ننگے بدن اپنے کپڑے سمیٹتے ہوئے لپکے اور قسم اللہ کی میں نے آپ کو ننگے بدن نہ اس سے پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ اس کے بعد دیکھا ۱؎، آپ نے ( بڑھ کر ) انہیں گلے لگا لیا اور ان کا بوسہ لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف زہری کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
English Translation
Narrated 'Aishah:"Zaid bin Harithah arrived in Al-Madinah while the Messenger of Allah (ﷺ) was in his house. So he went and knocked at the door, so the Messenger of Allah (ﷺ) stood naked (1), dragging his garment - and by Allah! I did not see him naked before nor afterwards - and he hugged him and kissed him." (1) They say that the meaning of naked here is that he was not wearing his Rida or upper wrap and it was that which was dragging, so the area between the navel and knees were covered. See Tuhfat Al-Ahwadhi
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:45
Hadith #2733DaifDaifHasan SahihIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ قَالَ يَهُودِيٌّ لِصَاحِبِهِ اذْهَبْ بِنَا إِلَى هَذَا النَّبِيِّ . فَقَالَ صَاحِبُهُ لاَ تَقُلْ نَبِيٌّ إِنَّهُ لَوْ سَمِعَكَ كَانَ لَهُ أَرْبَعَةُ أَعْيُنٍ . فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلاَهُ عَنْ تِسْعِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ . فَقَالَ لَهُمْ " لاَ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلاَ تَسْرِقُوا وَلاَ تَزْنُوا وَلاَ تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ تَمْشُوا بِبَرِيءٍ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ لِيَقْتُلَهُ وَلاَ تَسْحَرُوا وَلاَ تَأْكُلُوا الرِّبَا وَلاَ تَقْذِفُوا مُحْصَنَةً وَلاَ تُوَلُّوا الْفِرَارَ يَوْمَ الزَّحْفِ وَعَلَيْكُمْ خَاصَّةً الْيَهُودَ أَنْ لاَ تَعْتَدُوا فِي السَّبْتِ " . قَالَ فَقَبَّلُوا يَدَهُ وَرِجْلَهُ فَقَالاَ نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ . قَالَ " فَمَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَتَّبِعُونِي " . قَالُوا إِنَّ دَاوُدَ دَعَا رَبَّهُ أَنْ لاَ يَزَالَ فِي ذُرِّيَّتِهِ نَبِيٌّ وَإِنَّا نَخَافُ إِنْ تَبِعْنَاكَ أَنْ تَقْتُلَنَا الْيَهُودُ . وَفِي الْبَابِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ وَابْنِ عُمَرَ وَكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Urdu Translation
صفوان بن عسال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا: چلو اس نبی کے پاس لے چلتے ہیں۔ اس کے ساتھی نے کہا ”نبی“ نہ کہو۔ ورنہ اگر انہوں نے سن لیا تو ان کی چار آنکھیں ہو جائیں گی، پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے ( موسیٰ علیہ السلام کو دی گئیں ) نو کھلی ہوئی نشانیوں کے متعلق پوچھا۔ آپ نے ان سے کہا ( ۱ ) کسی کو اللہ کا شریک نہ بناؤ ( ۲ ) چوری نہ کرو ( ۳ ) زنا نہ کرو ( ۴ ) ناحق کسی کو قتل نہ کرو ( ۵ ) کسی بےگناہ کو حاکم کے سامنے نہ لے جاؤ کہ وہ اسے قتل کر دے ( ۶ ) جادو نہ کرو ( ۷ ) سود مت کھاؤ ( ۸ ) پارسا عورت پر زنا کی تہمت مت لگاؤ ( ۹ ) اور دشمن سے مقابلے کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنے کی کوشش نہ کرو۔ اور خاص تم یہودیوں کے لیے یہ بات ہے کہ «سبت» ( سنیچر ) کے سلسلے میں حد سے آگے نہ بڑھو، ( آپ کا جواب سن کر ) انہوں نے آپ کے ہاتھ پیر چومے اور کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تمہیں میری پیروی کرنے سے کیا چیز روکتی ہے؟“ انہوں نے کہا: داود علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ ان کی اولاد میں ہمیشہ کوئی نبی رہے۔ اس لیے ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے آپ کی اتباع ( پیروی ) کی تو یہودی ہمیں مار ڈالیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں یزید بن اسود، ابن عمر اور کعب بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
English Translation
Narrated Safwan bin Assal:"A Jew said to his companion: 'Accompany us to this Prophet.' So his companion said: 'Do not say: "Prophet". For if he hears you (say that) then he will be very happy.' So they went to the Messenger of Allah (ﷺ) to question him about nine clear signs. So he said to them: 'Do not associate anything with Allah, nor steal, nor commit unlawful intercourse, nor take a life which Allah has made prohibited prohibited, except for what is required (in the law), nor hasten to damage the reputation of one of power so that he will be killed, nor practice magic, nor consume Riba, nor falsely accuse the chaste woman, nor turn to flee on the day of the march, and for you Jews particularly, to not violate the Sabbath.'" He said: "So they kissed his hands and his feet, and they said: 'We bear witness that you are a Prophet.' So he (ﷺ) said: 'Then what prevents you from following me?' They said: 'Because Dawud supplicated to his Lord that his offspring never be devoid of Prophets and we feared that if we follow you then the Jews will kill us
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:46
Hadith #2734SahihSahihSahihSahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ، تَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ قَالَتْ فَسَلَّمْتُ فَقَالَ " مَنْ هَذِهِ " . قُلْتُ أَنَا أُمُّ هَانِئٍ فَقَالَ " مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ " . قَالَ فَذَكَرَ فِي الْحَدِيثِ قِصَّةً طَوِيلَةً هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Urdu Translation
ام ہانی رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ فتح مکہ والے سال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی۔ آپ اس وقت غسل فرما رہے تھے، اور فاطمہ رضی الله عنہا ایک کپڑے سے آپ کو آڑ کیے ہوئے تھیں۔ میں نے سلام کیا تو آپ نے پوچھا: ”کون ہیں یہ؟“ میں نے کہا: میں ام ہانی ہوں، آپ نے فرمایا: ”ام ہانی کا آنا مبارک ہو“۔ راوی کہتے ہیں پھر ابو مرہ نے حدیث کا پورا واقعہ بیان کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
English Translation
Narrated Umm Hani:"I went to the Messenger of Allah (ﷺ) during the Year of the Conquest, and I found him performing Ghusl, while Fatimah was screening him with a garment. She said: "So I gave Salam and he said: 'Who is this?' I said: 'I am Umm Hani.' He said: 'Welcome Umm Hani
Reference: Jami at-Tirmidhi 42:47