Taleemi DuniyaTaleemi Duniya
Jami at-Tirmidhi

Chapter 40 of 49

The Book on Faith

ایمان کا بیان

39 hadiths in this chapter

Hadith #2606
Sahih MutawatirSahih MutawatirHasan SahihSahih - Bukhari And Muslim

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَإِذَا قَالُوهَا مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ عُمَرَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ ( جہاد ) کروں یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کر لیں، پھر جب وہ اس کا اقرار کر لیں تو اب انہوں نے اپنے خون اور اپنے اموال کو مجھ سے محفوظ کر لیا، مگر کسی حق کے بدلے ۱؎، اور ان کا ( مکمل ) حساب تو اللہ تعالیٰ پر ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، ابوسعید اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "I have been ordered to fight the people until they say La Ilaha Illallah", and if they say that, then their blood and wealth will be protected from me, except what it makes obligatory upon them, and their reckoning is up to Allah

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:1

Hadith #2607
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ كَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لأَبِي بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَمَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الزَّكَاةِ وَالصَّلاَةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالاً كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهَكَذَا رَوَى شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ وَرَوَى عِمْرَانُ الْقَطَّانُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ حَدِيثٌ خَطَأٌ وَقَدْ خُولِفَ عِمْرَانُ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ مَعْمَرٍ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کے بعد ابوبکر رضی الله عنہ خلیفہ بنا دئیے گئے اور عربوں میں جنہیں کفر کرنا تھا کفر کا اظہار کیا، تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے ابوبکر رضی الله عنہ سے کہا: آپ لوگوں سے کیسے جنگ ( جہاد ) کریں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ کہیں: «لا إلہ الا اللہ»،‏‏‏‏ تو جس نے «لا إلہ الا اللہ» کہا، اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لی ۱؎، اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے“، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو ہر اس شخص کے خلاف جہاد کروں گا جو صلاۃ و زکاۃ میں فرق کرے گا، کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے، قسم اللہ کی! اگر انہوں نے ایک رسی بھی دینے سے انکار کیا جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( زکاۃ میں ) دیا کرتے تھے تو میں ان کے اس انکار پر بھی ان سے جنگ ( جہاد ) کروں گا۔ عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ میں نے دیکھا: اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی الله عنہ کے سینے کو جنگ کے لیے کھول دیا ہے اور میں نے جان لیا کہ یہی حق اور درست ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے اور عبداللہ نے ابوہریرہ رضی الله عنہم سے روایت کی ہے، ۳- عمران بن قطان نے یہ حدیث معمر سے، معمر نے زہری سے، زہری نے انس بن مالک سے، اور انس بن مالک نے ابوبکر سے روایت کی ہے، لیکن اس حدیث ( کی سند ) میں غلطی ہے۔ ( اور وہ یہ ہے کہ ) معمر کے واسطہ سے عمران کی روایت کی مخالفت کی گئی ہے۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:said: "When the Messenger of Allah (ﷺ) died and Abu Bakr became the Khalifah after him, whoever disbelieved from the Arabs disbelieved, so Umar bin Al-Khattab said to Abu Bakr: 'How will you fight the people while the Messenger of Allah has said: 'I have been ordered to fight the people until they say La Ilaha Illallah, and if they say that, then their blood and wealth will be protected from me, except what it makes obligatory upon them, and their reckoning is with Allah?' So Abu Bakr said: 'By Allah I will fight whoever differentiates between Salat and Zakat. For indeed, Zakat is the right due upon wealth. And by Allah! If they withhold even (camel) tethers which they used to give to the Messenger of Allah (ﷺ) I will fight them for withholding it.' So Umar bin Al-Khattab said: 'By Allah! I saw that Allah had opened Abu Bakr's chest to fighting, so I knew that it was correct

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:2

Hadith #2608
SahihSahihHasan SahihSahih Bukhari

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنْ يَسْتَقْبِلُوا قِبْلَتَنَا وَيَأْكُلُوا ذَبِيحَتَنَا وَأَنْ يُصَلُّوا صَلاَتَنَا فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ حُرِّمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ نَحْوَ هَذَا ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرتے رہنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک لوگ اس بات کی شہادت نہ دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور ہمارے قبلہ کی طرف رخ ( کر کے عبادت ) نہ کرنے لگیں۔ ہمارا ذبیحہ نہ کھانے لگیں اور ہمارے طریقہ کے مطابق نماز نہ پڑھنے لگیں۔ جب وہ یہ سب کچھ کرنے لگیں گے تو ان کا خون اور ان کا مال ہمارے اوپر حرام ہو جائے گا، مگر کسی حق کے بدلے ۱؎، انہیں وہ سب کچھ حاصل ہو گا ۲؎ جو عام مسلمانوں کو حاصل ہو گا اور ان پر وہی سب کچھ ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو عام مسلمانوں پر عائد ہوں گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یحییٰ بن ایوب نے حمید سے اور حمید نے انس سے اس حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۳- اس باب میں معاذ بن جبل اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "I have been ordered to fight the people until they bear witness to La Ilaha Illallah, and that Muhammad is His servant and Messenger, and they face our Qiblah, eat our slaughtered (meat), and perform our Salat. And if they do that, then their blood and wealth will be unlawful to us, except with its due right. For them shall be whatever is for the Muslims, and they shall be obliged with that which the Muslims are obliged

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:3

Hadith #2609
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ الصَّلاَةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَصَوْمُ رَمَضَانَ وَحَجُّ الْبَيْتِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوُ هَذَا ‏.‏ وَسُعَيْرُ بْنُ الْخِمْسِ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ‏.‏ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: ( ۱ ) گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، ( ۲ ) نماز قائم کرنا، ( ۳ ) زکاۃ دینا ( ۴ ) رمضان کے روزے رکھنا، ( ۵ ) بیت اللہ کا حج کرنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن عمر رضی الله عنہما کے واسطہ سے کئی سندوں سے مروی ہے، اسی طرح یہ حدیث کئی سندوں سے ابن عمر رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، ۳- اس باب میں جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Islam is based upon five: the testimony of La Ilaha Illallah, and that Muhammad is the Messenger of Allah, the establishment of the Salat, giving the Zakat, fasting (the month of) Ramadan, and performing Hajj to the House

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:4

Hadith #2610
SahihHasan SahihSahih - Bukhari And Muslim

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْخُزَاعِيُّ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ، قَالَ أَوَّلُ مَنْ تَكَلَّمَ فِي الْقَدَرِ مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ قَالَ فَخَرَجْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ فَقُلْنَا لَوْ لَقِينَا رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا أَحْدَثَ هَؤُلاَءِ الْقَوْمُ ‏.‏ قَالَ فَلَقِينَاهُ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَهُوَ خَارِجٌ مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ فَاكْتَنَفْتُهُ أَنَا وَصَاحِبِي قَالَ فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِي سَيَكِلُ الْكَلاَمَ إِلَىَّ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَقَفَّرُونَ الْعِلْمَ وَيَزْعُمُونَ أَنْ لاَ قَدَرَ وَأَنَّ الأَمْرَ أُنُفٌ قَالَ فَإِذَا لَقِيتَ أُولَئِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي مِنْهُمْ بَرِيءٌ وَأَنَّهُمْ مِنِّي بُرَآءُ وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا قُبِلَ ذَلِكَ مِنْهُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُ فَقَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعَرِ لاَ يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلاَ يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَلْزَقَ رُكْبَتَهُ بِرُكْبَتِهِ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ مَا الإِيمَانُ قَالَ ‏"‏ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَا الإِسْلاَمُ قَالَ ‏"‏ شَهَادَةُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَإِقَامُ الصَّلاَةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَحَجُّ الْبَيْتِ وَصَوْمُ رَمَضَانَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَا الإِحْسَانُ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فِي كُلِّ ذَلِكَ يَقُولُ لَهُ صَدَقْتَ ‏.‏ قَالَ فَتَعَجَّبْنَا مِنْهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ ‏.‏ قَالَ فَمَتَى السَّاعَةُ قَالَ ‏"‏ مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَا أَمَارَتُهَا قَالَ أَنْ تَلِدَ الأَمَةُ رَبَّتَهَا وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ أَصْحَابَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عُمَرُ فَلَقِيَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ذَلِكَ بِثَلاَثٍ فَقَالَ ‏"‏ يَا عُمَرُ هَلْ تَدْرِي مَنِ السَّائِلُ ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ مَعَالِمَ دِينِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ كَهْمَسٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ نَحْوُ هَذَا عَنْ عُمَرَ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالصَّحِيحُ هُوَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Urdu Translation

یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ سب سے پہلے جس شخص نے تقدیر کے انکار کی بات کی وہ معبد جہنی ہے، میں اور حمید بن عبدالرحمٰن حمیری دونوں ( سفر پر ) نکلے یہاں تک کہ مدینہ پہنچے، ہم نے ( آپس میں بات کرتے ہوئے ) کہا: کاش ہماری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی شخص سے ملاقات ہو جائے تو ہم ان سے اس نئے فتنے کے متعلق پوچھیں جو ان لوگوں نے پیدا کیا ہے، چنانچہ ( خوش قسمتی سے ) ہماری ان سے یعنی عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے کہ جب وہ مسجد سے نکل رہے تھے، ملاقات ہو گئی، پھر میں نے اور میرے ساتھی نے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا ۱؎ میں نے یہ اندازہ لگا کر کہ میرا ساتھی بات کرنے کی ذمہ داری اور حق مجھے سونپ دے گا، عرض کیا: ابوعبدالرحمٰن! کچھ لوگ ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں اور قرآن میں غور و فکر اور تلاش و جستجو ( کا دعویٰ ) بھی کرتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ یہ خیال رکھتے ہیں کہ تقدیر کوئی چیز نہیں ہے، اور امر ( معاملہ ) از سرے نو اور ابتدائی ہے ۲؎ ابن عمر رضی الله عنہما نے کہا: جب تم ان سے ملو ( اور تمہارا ان کا آمنا سامنا ہو ) تو انہیں بتا دو کہ میں ان سے بری ( و بیزار ) ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کی قسم کھاتا ہے عبداللہ! ( یعنی اللہ کی ) اگر ان میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر ڈالے تو جب تک وہ اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہیں لے آتا اس کا یہ خرچ مقبول نہ ہو گا، پھر انہوں نے حدیث بیان کرنی شروع کی اور کہا: عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اسی دوران ایک شخص آیا جس کے کپڑے بہت زیادہ سفید تھے، اس کے بال بہت زیادہ کالے تھے، وہ مسافر بھی نہیں لگتا تھا اور ہم لوگوں میں سے کوئی اسے پہچانتا بھی نہ تھا۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آیا اور اپنے گھٹنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے ملا کر بیٹھ گیا پھر کہا: اے محمد! ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لاؤ“۔ اس نے ( پھر ) پوچھا: اور اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ دینا، بیت اللہ شریف کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا“، اس نے ( پھر ) پوچھا: احسان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو تو ان تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اللہ کو دیکھنے کا تصور اپنے اندر پیدا نہ کر سکو تو یہ یقین کر کے اس کی عبادت کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے“، وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر جواب پر کہتا جاتا تھا کہ آپ نے درست فرمایا۔ اور ہم اس پر حیرت کرتے تھے کہ یہ کیسا عجیب آدمی ہے کہ وہ خود ہی آپ سے پوچھتا ہے اور خود ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کی تصدیق بھی کرتا جاتا ہے، اس نے ( پھر ) پوچھا: قیامت کب آئے گی؟ آپ نے فرمایا: ”جس سے پوچھا گیا ہے، وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا“، اس نے کہا: اس کی علامت ( نشانی ) کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس وقت حالت یہ ہو گی کہ لونڈی اپنی مالکن کو جنے گی ۳؎، اس وقت تم دیکھو گے کہ ننگے پیر چلنے والے، ننگے بدن رہنے والے، محتاج بکریوں کے چرانے والے ایک سے بڑھ کر ایک اونچی عمارتیں بنانے میں فخر کرنے والے ہوں گے“، عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس واقعہ کے تین دن بعد ملے تو آپ نے فرمایا: ”عمر! کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ پوچھنے والا کون تھا؟ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ تمہارے پاس تمہیں دین کی بنیادی باتیں سکھانے آئے تھے“۔

English Translation

Narrated Abdullah bin Buraidah from Yahya bin Ya'mur who said:"The first person to speak about Al-Qadar was Ma'bad Al-Juhani." He said: "Humaid bin Abdur-Rahman Al-Himyari and I went out until we reached Al-Madinah, and we said: 'If we could only meet someone among the companions of the Prophet (ﷺ) so we could ask him about what those people have innovated." [He said:] "So we met him - meaning Abdullah bin 'Umar - while he was leaving the Masjid." [He said:] "My companion and I were on either side of him." [He said:] I thought my companion was going to leave the speaking to me so I said: "O Abu Abdur-Rahman! There is a group of people who recite the Qur'an and seek knowledge, and they claim there is no Al-Qadar, and that the affair is left to chance.' He said: "Whenever you meet those people, then tell them that I am not of them and they are not of me. By the One Whom Abdullah swears by! If one of them were to spend gold the like of Uhud (mountain) in charity, it would not be accepted from him until he believes in Al-Qadar; the good of it and the bad of it.'" He said: "Then he began to narrate, he said: "'Umar bin Al-Khattab said: "We were with the Messenger of Allah when a man came with extremely white garments, and extremely black hair. He had no appearance of traveling visible on him, yet none of us recognized him. He came until he reached the Prophet (ﷺ). He put his knees up against his knees, and then said: "O Muhammad! What is Iman?' He said 'To believe in Allah, His Angels, His, Books, His Messengers, the Day of Judgement, and Al-Qadar, the good of it and the bad of it.' He said: 'Then what is Islam?' He said: 'Testifying to La Ilaha Illallah, and that Muhammad is His servant and Messenger, establishing the Salat, giving the Zakat, performing Hajj to the House, and fasting (the month of) Ramadan.' He said: 'Then what is Ihsan?' He said 'That (is) you worship Allah as if you see Him, and although you do not see Him, He certainly sees you.' He said: 'For all of those he replied to him: 'You have told the truth.'" He said: "So we were amazed at him, he would ask, and then tell him that he is telling the truth. He said: 'Then when is the Hour?' He (ﷺ) said: 'The one being asked knows no more than the questioner.' He said: 'Then what are its signs?' He said: 'That the slave woman gives birth to her master, and that the naked, poor, and bare-footed shepherds rival each other in the height of the buildings.'" 'Umar said: 'Then the Prophet (ﷺ) met me three days after that and said: 'O 'Umar! Do you know who the questioner was? It was Jibril. He came to teach you about the matters of your religion

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:5

Hadith #2611
SahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا إِنَّا هَذَا الْحَىَّ مِنْ رَبِيعَةَ وَلَسْنَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلاَّ فِي أَشْهُرِ الْحَرَامِ فَمُرْنَا بِشَيْءٍ نَأْخُذُهُ عَنْكَ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ الإِيمَانِ بِاللَّهِ ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ شَهَادَةَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامَ الصَّلاَةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمْسَ مَا غَنِمْتُمْ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ اسْمُهُ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ أَيْضًا وَزَادَ فِيهِ أَتَدْرُونَ مَا الإِيمَانُ شَهَادَةُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ ‏.‏ سَمِعْتُ قُتَيْبَةَ بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَؤُلاَءِ الأَشْرَافِ الأَرْبَعَةِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَاللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ وَعَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيِّ وَعَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ ‏.‏ قَالَ قُتَيْبَةُ كُنَّا نَرْضَى أَنْ نَرْجِعَ مِنْ عِنْدِ عَبَّادٍ كُلَّ يَوْمٍ بِحَدِيثَيْنِ وَعَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ هُوَ مِنْ وَلَدِ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عبدقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، انہوں نے آپ سے عرض کیا: ( اے اللہ کے رسول! ) ہمارے اور آپ کے درمیان ربیعہ کا یہ قبیلہ حائل ہے، حرمت والے مہینوں کے علاوہ مہینوں میں ہم آپ کے پاس آ نہیں سکتے ۱؎ اس لیے آپ ہمیں کسی ایسی چیز کا حکم دیں جسے ہم آپ سے لے لیں اور جو ہمارے پیچھے ہیں انہیں بھی ہم اس کی طرف بلا سکیں، آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں ( ۱ ) اللہ پر ایمان لانے کا، پھر آپ نے ان سے اس کی تفسیر و تشریح بیان کی «لا إلہ الا اللہ» اور «محمد رسول الله» “ کی شہادت دینا ( ۲ ) نماز قائم کرنا ( ۳ ) زکاۃ دینا ( ۴ ) مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ( خمس ) نکالنا۔

English Translation

Narrated Ibn 'Abbas:"A delegation of Abdul-Qais came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'We are a tribe from Rabi'ah, and we cannot come to you except during the sacred months. So order us with something that we can take from you, and then we call those who are behind us to it.' So he said: 'I order you with four things: To testify to La Ilaha Illallah, and that I am the Messenger of Allah; to establish the Salat, to give the Zakat, and to give the Khumus from the spoils of war that you gain

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:6

Hadith #2612
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ مِنْ أَكْمَلِ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَأَلْطَفُهُمْ بِأَهْلِهِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَلاَ نَعْرِفُ لأَبِي قِلاَبَةَ سَمَاعًا مِنْ عَائِشَةَ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى أَبُو قِلاَبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعٌ لِعَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ وَأَبُو قِلاَبَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الْجَرْمِيُّ ‏.‏ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ ذَكَرَ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ أَبَا قِلاَبَةَ فَقَالَ كَانَ وَاللَّهِ مِنَ الْفُقَهَاءِ ذَوِي الأَلْبَابِ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ کامل ایمان والا مومن وہ ہے جو ان میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والا ہو، اور جو اپنے بال بچوں پر سب سے زیادہ مہربان ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اور میں نہیں جانتا کہ ابوقلابہ نے عائشہ رضی الله عنہا سے سنا ہے، ۳- ابوقلابہ نے عائشہ کے رضاعی بھائی عبداللہ بن یزید کے واسطہ سے عائشہ رضی الله عنہا سے اس حدیث کے علاوہ بھی اور حدیثیں روایت کی ہیں، ۴- اس باب میں ابوہریرہ اور انس بن مالک رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated 'Aishah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed among the believers with the most complete faith is the one who is the best in conduct, and the most kind to his family

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:7

Hadith #2613
SahihSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، هُرَيْمُ بْنُ مِسْعَرٍ الأَزْدِيُّ التِّرْمِذِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ النَّاسَ فَوَعَظَهُمْ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ لِكَثْرَةِ لَعْنِكُنَّ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي وَكُفْرَكُنَّ الْعَشِيرَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَمَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَغْلَبَ لِذَوِي الأَلْبَابِ وَذَوِي الرَّأْىِ مِنْكُنَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ وَمَا نُقْصَانُ دِينِهَا وَعَقْلِهَا قَالَ ‏"‏ شَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ مِنْكُنَّ بِشَهَادَةِ رَجُلٍ وَنُقْصَانُ دِينِكُنَّ الْحَيْضَةُ تَمْكُثُ إِحْدَاكُنَّ الثَّلاَثَ وَالأَرْبَعَ لاَ تُصَلِّي ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ عُمَرَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا تو اس میں آپ نے لوگوں کو نصیحت کی پھر ( عورتوں کی طرف متوجہ ہو کر ) فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! تم صدقہ و خیرات کرتی رہو کیونکہ جہنم میں تمہاری ہی تعداد زیادہ ہو گی“ ۱؎ ان میں سے ایک عورت نے کہا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”تمہارے بہت زیادہ لعن طعن کرنے کی وجہ سے، یعنی تمہاری اپنے شوہروں کی ناشکری کرنے کے سبب“، آپ نے ( مزید ) فرمایا: ”میں نے کسی ناقص عقل و دین کو تم عورتوں سے زیادہ عقل و سمجھ رکھنے والے مردوں پر غالب نہیں دیکھا“۔ ایک عورت نے پوچھا: ان کی عقل اور ان کے دین کی کمی کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے دو عورتوں کی شہادت ( گواہی ) ایک مرد کی شہادت کے برابر ہے ۲؎، اور تمہارے دین کی کمی یہ ہے کہ تمہیں حیض کا عارضہ لاحق ہوتا ہے جس سے عورت ( ہر مہینے ) تین چار دن نماز پڑھنے سے رک جاتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) delivered a Khtubah in which he exhorted them, then he said: "O women! Give charity for you are the majority of the people of the Fire." A woman among them said: "And why is that O Messenger of Allah?" He said: "Because of your cursing so much." - meaning your ungratefulness towards your husbands. He said: "And I have not seen any among those lacking in intellect and religion who are more difficult upon people possessing reason and insight than you." A woman among them said: "And what is the deficiency of her intellect and religion?" He said: "The testimony of two women among you is like the testimony of a man, and the deficiency in your religion is menstruation, because one of you will go three or four days without performing Salat

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:8

Hadith #2614
DaifHasan SahihSahih - Bukhari And Muslim

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ بَابًا فَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ وَأَرْفَعُهَا قَوْلُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهَكَذَا رَوَى سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ وَرَوَى عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الإِيمَانُ أَرْبَعَةٌ وَسِتُّونَ بَابًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان کی تہتر شاخیں ( ستر دروازے ) ہیں۔ سب سے کم تر راستے سے تکلیف دہ چیز کا دور کر دینا ہے، اور سب سے بلند «لا إلہ الا اللہ» کا کہنا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ایسے ہی سہیل بن ابی صالح نے عبداللہ بن دینار سے، عبداللہ نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، ۳- عمارہ بن غزیہ نے یہ حدیث ابوصالح سے، ابوصالح نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے، اور ابوہریرہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا ہے ”ایمان کی چونسٹھ شاخیں ہیں“۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Faith has seventy-some odd doors, the lowest of which is removing something harmful from the road, and its highest is the statement 'La Ilaha Illallah

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:9

Hadith #2615
SahihSahihSahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، - الْمَعْنَى وَاحِدٌ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْحَيَاءُ مِنَ الإِيمَانِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ فِي حَدِيثِهِ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ رَجُلاً يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي بَكْرَةَ وَأَبِي أُمَامَةَ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے وہ اپنے بھائی کو حیاء ( شرم اور پاکدامنی ) اختیار کرنے پر نصیحت کر رہا تھا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بطور تاکید ) فرمایا: ”حیاء ایمان کا ایک حصہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- احمد بن منیع نے اپنی روایت میں کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حیاء کے بارے میں اپنے بھائی کو پھٹکارتے ہوئے سنا، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، ابوبکرہ اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) passed by a man and he was chastising his brother about modesty, so the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Al-Haya' is part of faith

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:10

Hadith #2616
SahihSahihHasan SahihHasan

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَأَصْبَحْتُ يَوْمًا قَرِيبًا مِنْهُ وَنَحْنُ نَسِيرُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ عَظِيمٍ وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ تَعْبُدُ اللَّهَ وَلاَ تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلاَةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَيْتَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَلاَ أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ الصَّوْمُ جُنَّةٌ وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ وَصَلاَةُ الرَّجُلِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ تَلاََ‏:‏ ‏(‏ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ ‏)‏ حَتَّى بَلَغَ‏:‏ ‏(‏يَعْمَلُونَ‏)‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَلاَ أُخْبِرُكَ بِرَأْسِ الأَمْرِ كُلِّهِ وَعَمُودِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ رَأْسُ الأَمْرِ الإِسْلاَمُ وَعَمُودُهُ الصَّلاَةُ وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَلاَ أُخْبِرُكَ بِمَلاَكِ ذَلِكَ كُلِّهِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ قَالَ ‏"‏ كُفَّ عَلَيْكَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ فَقَالَ ‏"‏ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَاذُ وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ أَوْ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إِلاَّ حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ایک دن صبح کے وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہوا، ہم سب چل رہے تھے، میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے، اور جہنم سے دور رکھے؟ آپ نے فرمایا: ”تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے۔ اور بیشک یہ عمل اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ آسان کر دے۔ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روزے رکھو، اور بیت اللہ کا حج کرو“۔ پھر آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازے ( راستے ) نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو ایسے بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے، اور آدھی رات کے وقت آدمی کا نماز ( تہجد ) پڑھنا“، پھر آپ نے آیت «تتجافى جنوبهم عن المضاجع» کی تلاوت «يعملون» تک فرمائی ۱؎، آپ نے پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں دین کی اصل، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتا دوں؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسول ( ضرور بتائیے ) آپ نے فرمایا: ”دین کی اصل اسلام ہے ۲؎ اور اس کا ستون ( عمود ) نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے“۔ پھر آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ان تمام باتوں کا جس چیز پر دارومدار ہے وہ نہ بتا دوں؟“ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے نبی! پھر آپ نے اپنی زبان پکڑی، اور فرمایا: ”اسے اپنے قابو میں رکھو“، میں نے کہا: اللہ کے نبی! کیا ہم جو کچھ بولتے ہیں اس پر پکڑے جائیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”تمہاری ماں تم پر روئے، معاذ! لوگ اپنی زبانوں کے بڑ بڑ ہی کی وجہ سے تو اوندھے منہ یا نتھنوں کے بل جہنم میں ڈالے جائیں گے؟“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Mu'adh bin Jabal:"I accompanied the Prophet (ﷺ) on a journey. One day I was near him while we were moving so I said: 'O Messenger of Allah! Inform me about an action by which I will be admitted into Paradise, and which will keep me far from the Fire.' He said: 'You have asked me about something great, but it is easy for whomever Allah makes it easy: Worship Allah and do not associate any partners with Him, establish the Salat, give the Zakat, fast Ramadan and perform Hajj to the HOuse.' Then he said: 'Shall I not guide you to the doors of good? Fasting is a shield, and charity extinguishes sins like water extinguishes fire - and a man's praying in depths of the night.'" He said: "Then he recited: 'Their sides forsake their beds to call upon their Lord.' Until he reached: 'What they used to do.' [32:16-17] Then he said: 'Shall I not inform you about the head of the entire matter, and its pillar, and its hump?' I said: 'Of course O Messenger of Allah! He said: 'The head of the matter is Islam, and its pillar is the Salat, and its hump is Jihad.' Then he said: 'Shall I not inform you about what governs all of that?' I said: 'Of course O Messenger of Allah!'" He (ﷺ) said: "So he grabbed his tongue. He said 'Restrain this.' I said: 'O Prophet of Allah! Will we be taken to account for what we say?' He said: 'May your mother grieve your loss O Mu'adh! Are the people tossed into the Fire upon their faces, or upon their noses, except because of what their tongues have wrought

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:11

Hadith #2617
DaifDaifHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَتَعَاهَدُ الْمَسْجِدَ فَاشْهَدُوا لَهُ بِالإِيمَانِ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ‏:‏ ‏(‏إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاَةَ وَآتَى الزَّكَاةَ ‏)‏ ‏"‏ ‏.‏ الآيَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی شخص کو مسجد میں پابندی سے آتے جاتے دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله واليوم الآخر وأقام الصلاة وآتى الزكاة» الآية ”اللہ کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، نمازوں کے پابندی کرتے ہیں، زکاۃ دیتے ہیں، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے، توقع ہے کہ یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں“ ( سورۃ التوبہ: ۱۸ ) “۔

English Translation

Narrated Abu Sa'eed:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "If you see a man who comes to the Masjid then bear witness to his faith." Because Allah, the Exalted, says: Only those who believe in Allah, and the Last Day, and establish the Salat, and give the Zakat (should) maintain the Masajid until the end of the Ayah (9:)

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:12

Hadith #2618
SahihSahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ بَيْنَ الْكُفْرِ وَالإِيمَانِ تَرْكُ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏

English Translation

Narrated Jabir:that the Prophet (ﷺ) said: "Between disbelief and faith is abandoning the Salat

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:13

Hadith #2619
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَقَالَ ‏ "‏ بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ أَوِ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو سُفْيَانَ اسْمُهُ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ‏.‏

English Translation

Narrated Al-A'mash:Similar to the previous chain and said: "Between a slave and Shirk or disbelief is abandoning the Salat

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:14

Hadith #2620
Sahih LighairihiSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو الزُّبَيْرِ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ تَدْرُسَ ‏.‏

Urdu Translation

جابر رضی الله عنہ سے اس سند بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندے اور کفر کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز کا چھوڑ دینا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Jabir:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Between a slave of Allah and disbelief is abandoning the Salat

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:15

Hadith #2621
SahihSahihHasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَيُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلاَةُ فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے اور منافقین کے درمیان نماز کا معاہدہ ہے ۱؎ تو جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں انس اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Abdullah bin Buraidah narrated from his father:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The covenant between us and them is the Salat, so whoever abandons it he has committed disbelief

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:16

Hadith #2622
SahihSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم لاَ يَرَوْنَ شَيْئًا مِنَ الأَعْمَالِ تَرْكُهُ كُفْرٌ غَيْرَ الصَّلاَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى سَمِعْتُ أَبَا مُصْعَبٍ الْمَدَنِيَّ يَقُولُ مَنْ قَالَ الإِيمَانُ قَوْلٌ يُسْتَتَابُ فَإِنْ تَابَ وَإِلاَّ ضُرِبَتْ عُنُقُهُ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن شقیق عقیلی کہتے ہیں کہ صحابہ کرام ( رضی الله عنہم ) نماز کے سوا کسی عمل کے چھوڑ دینے کو کفر نہیں سمجھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے ابومصعب مدنی کو کہتے ہوئے سنا کہ جو یہ کہے کہ ایمان صرف قول ( یعنی زبان سے اقرار کرنے ) کا نام ہے اس سے توبہ کرائی جائے گی، اگر اس نے توبہ کر لی تو ٹھیک، ورنہ اس کی گردن مار دی جائے گی۔

English Translation

Narrated Abdullah bin Shaqiq Al-'Uqayli:The Companions of Muhammad (ﷺ) didn't consider leaving anything to be disblief except for the Salat

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:17

Hadith #2623
SahihSahihHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ ذَاقَ طَعْمَ الإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اللہ کے رب ہونے اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ( اور خوش ) ہوا اس نے ایمان کا مزہ پا لیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Al-Abbas bin Abdul-Muttalib:that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Whoever is pleased with Allah as (his) Lord, and Islam as (his) religion, and Muhammad as (his) Prophet, then he has tasted the sweetness of faith

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:18

Hadith #2624
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ طَعْمَ الإِيمَانِ مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لاَ يُحِبُّهُ إِلاَّ لِلَّهِ وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس میں تین خصلتیں ہوں گی اسے ان کے ذریعہ ایمان کی حلاوت مل کر رہے گی۔ ( ۱ ) جس کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ محبوب ہوں۔ ( ۲ ) وہ جس کسی سے بھی محبت کرے تو صرف اللہ کی رضا کے لیے کرے، ( ۳ ) کفر سے اللہ کی طرف سے ملنے والی نجات کے بعد کفر کی طرف لوٹنا اس طرح ناپسند کرے جس طرح آگ میں گرنا ناپسند کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- قتادہ نے بھی یہ حدیث انس کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔

English Translation

Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There are three things for which whomever has them, then he has tasted the sweetness of faith: The one for whom Allah and His Messenger are more beloved than anything else; whoever loves someone and he does not love him except for the sake of Allah, and whoever hates to return to disbelief after Allah has saved him from it, just as he hates to be thrown into fire

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:19

Hadith #2625
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَكِنِ التَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ - وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا زَنَى الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْهُ الإِيمَانُ فَكَانَ فَوْقَ رَأْسِهِ كَالظُّلَّةِ فَإِذَا خَرَجَ مِنْ ذَلِكَ الْعَمَلِ عَادَ إِلَيْهِ الإِيمَانُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا خَرَجَ مِنَ الإِيمَانِ إِلَى الإِسْلاَمِ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ فِي الزِّنَا وَالسَّرِقَةِ ‏"‏ مَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَأُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ فَهُوَ كَفَّارَةُ ذَنْبِهِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَهُوَ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ رَوَى ذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ وَخُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو زنا کے وقت اس کا ایمان نہیں رہتا ۱؎ اور جب چوری کرنے والا چوری کرتا ہے تو چوری کے وقت اس کا ایمان نہیں رہتا، لیکن اس کے بعد بھی توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، عائشہ اور عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ایک اور حدیث مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی زنا کرتا ہے تو ایمان اس کے اندر سے نکل کر اس کے سر کے اوپر چھتری جیسا ( معلق ) ہو جاتا ہے، اور جب اس فعل ( شنیع ) سے فارغ ہو جاتا ہے تو ایمان اس کے پاس لوٹ آتا ہے“۔ ابو جعفر محمد بن علی ( اس معاملہ میں ) کہتے ہیں: جب وہ ایسی حرکت کرتا ہے تو ایمان سے نکل کر صرف مسلم رہ جاتا ہے۔ علی ابن ابی طالب، عبادہ بن صامت اور خزیمہ بن ثابت سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا اور چوری کے سلسلے میں فرمایا: ”اگر کوئی شخص اس طرح کے کسی گناہ کا مرتکب ہو جائے اور اس پر حد جاری کر دی جائے تو یہ ( حد کا اجراء ) اس کے گناہ کا کفارہ ہو جائے گا۔ اور جس شخص سے اس سلسلے میں کوئی گناہ سرزد ہو گیا پھر اللہ نے اس کی پردہ پوشی کر دی تو وہ اللہ کی مشیت پر منحصر ہے اگر وہ چاہے تو اسے قیامت کے دن عذاب دے اور چاہے تو اسے معاف کر دے“۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The adulterer is not a believer while he is committing adultery, and the thief is not a believer while he is stealing, but there is a chance for repentance; (if he repents, Allah will accept the repentance)

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:20

Hadith #2626
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، - وَاسْمُهُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَصَابَ حَدًّا فَعُجِّلَ عُقُوبَتُهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عَلَى عَبْدِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الآخِرَةِ وَمَنْ أَصَابَ حَدًّا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَفَا عَنْهُ فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهَذَا قَوْلُ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ نَعْلَمُ أَحَدًا كَفَّرَ أَحَدًا بِالزِّنَا أَوِ السَّرِقَةِ وَشُرْبِ الْخَمْرِ ‏.‏

Urdu Translation

علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی جرم کیا اور اسے اس کے جرم کی سزا دنیا میں مل گئی تو اللہ اس سے کہیں زیادہ انصاف پسند ہے کہ وہ اپنے بندے کو آخرت میں دوبارہ سزا دے اور جس نے کوئی گناہ کیا اور اللہ نے اس کی پردہ پوشی کر دی اور اس سے درگزر کر دیا تو اللہ کا کرم اس سے کہیں بڑھ کر ہے کہ وہ بندے سے اس بات پر دوبارہ مواخذہ کرے جسے وہ پہلے معاف کر چکا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہی اہل علم کا قول ہے۔ ہم کسی شخص کو نہیں جانتے جس نے زنا کر بیٹھنے، چوری کر ڈالنے اور شراب پی لینے والے کو کافر گردانا ہو۔

English Translation

Narrated Ali bin Abu Talib:that the Prophet (ﷺ) said: "Whoever is penalized (for a crime) then his punishment has been hastened for him in the world, for Allah is more just than to double the punishment upon His slave in the Hereafter. And whoever does a punishable act and then Allah covers it for him and forgives him, then Allah is more kind than to recount something which He has already forgiven

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:21

Hadith #2627
Hasan SahihHasan SahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَيُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ سُئِلَ أَىُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ قَالَ ‏"‏ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ." وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَأَبِي مُوسَى وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان ( کامل ) وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ ( کے شر ) سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، اور مومن ( کامل ) وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو محفوظ سمجھیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، ابوموسیٰ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے ( بھی ) احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ سے پوچھا گیا: سب سے بہتر مسلمان کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں“۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Muslim is the one from (the harm of) whose tongue and hand (other) Muslims are safe, and the believer is the one with whom the people trust their blood and their wealth

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:22

Hadith #2628
SahihSahihSahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ أَىُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ قَالَ ‏ "‏ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم

Urdu Translation

ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ مسلمانوں میں کون سا مسلمان سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ مسلمان جس کی زبان اور ہاتھ ( کے شر ) سے مسلمان محفوظ رہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابوموسیٰ اشعری کی روایت سے جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں صحیح غریب حسن ہے۔

English Translation

Narrated Abu Musa Al-Ash'ari:that the Prophet (ﷺ) was asked: "Which of the Muslims is most virtuous?" He said: "The one from (the harm of) whose tongue and hand (other) Muslims are safe

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:23

Hadith #2629
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الإِسْلاَمَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ وَابْنِ عُمَرَ وَجَابِرٍ وَأَنَسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنِ الأَعْمَشِ وَأَبُو الأَحْوَصِ اسْمُهُ عَوْفُ بْنُ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ الْجُشَمِيُّ تَفَرَّدَ بِهِ حَفْصٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری و مبارک بادی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں سعد، ابن عمر، جابر، اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے، ۳- میں اس حدیث کو صرف حفص بن غیاث کی روایت سے جسے وہ اعمش کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں، جانتا ہوں، ۴- ابوالاحوص کا نام عوف بن مالک بن نضلہ جشمی ہے، ۵- ابوحفص اس حدیث کی روایت میں منفرد ہیں۔

English Translation

Narrated 'Abdullah bin Mas'ud:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed Islam began as something strange and it will return to being strange as it began. So Tuba is for the strangers

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:24

Hadith #2630
Very DaifVery DaifDaif

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفِ بْنِ زَيْدِ بْنِ مِلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الدِّينَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْحِجَازِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا وَلَيَعْقِلَنَّ الدِّينُ مِنَ الْحِجَازِ مَعْقِلَ الأُرْوِيَّةِ مِنْ رَأْسِ الْجَبَلِ إِنَّ الدِّينَ بَدَأَ غَرِيبًا وَيَرْجِعُ غَرِيبًا فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ الَّذِينَ يُصْلِحُونَ مَا أَفْسَدَ النَّاسُ مِنْ بَعْدِي مِنْ سُنَّتِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عمرو بن عوف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( ایک وقت آئے گا کہ ) دین اسلام حجاز میں سمٹ کر رہ جائے گا جس طرح کہ سانپ اپنے سوراخ میں سمٹ کر بیٹھ جاتا ہے۔ اور یقیناً دین حجاز میں آ کر ایسے ہی محفوظ ہو جائے گا جس طرح پہاڑی بکری پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ کر محفوظ ہو جاتی ہے ۱؎، دین اجنبی حالت میں آیا اور وہ پھر اجنبی حالت میں جائے گا، خوشخبری اور مبارک بادی ہے ایسے گمنام مصلحین کے لیے جو میرے بعد میری سنت میں لوگوں کی پیدا کردہ خرابیوں اور برائیوں کی اصلاح کرتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Kathir bin 'Abdullah bin 'Amr bin 'Awf bin Zaid bin Milhah narrated from his father, from his grandfather:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed the religion with creep into the Hijaz just like a snake creeps into its hole, and the religion will cling to the Hijaz just like the female mountain goat cling to the peak of a mountain. Indeed the religion began as something strange and it will return to being strange. So Tuba is for the strangers who correct what the people have corrupted from my Sunnah after me

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:25

Hadith #2631
SahihSahih - Bukhari And Muslim

حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ، عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الْعَلاَءِ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأَنَسٍ وَجَابِرٍ ‏.‏ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَأَبُو سُهَيْلٍ هُوَ عَمُّ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَاسْمُهُ نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الأَصْبَحِيُّ الْخَوْلاَنِيُّ ‏.‏

Urdu Translation

اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The sign of a hypocrite is that whenever he speaks he lies, and whenever he makes a promise he does not fulfill it, and if he is entrusted he betrays

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:26

Hadith #2632
SahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا وَإِنْ كَانَتْ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ فِيهِ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا مَنْ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَإِنَّمَا مَعْنَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ نِفَاقُ الْعَمَلِ وَإِنَّمَا كَانَ نِفَاقُ التَّكْذِيبِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَكَذَا رُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ شَيْئًا مِنْ هَذَا أَنَّهُ قَالَ النِّفَاقُ نِفَاقَانِ نِفَاقُ الْعَمَلِ وَنِفَاقُ التَّكْذِيبِ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ ( مکمل ) منافق ہو گا۔ اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو گی، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: وہ جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، جب جھگڑا کرے تو گالیاں بکے اور جب معاہدہ کرے تو بے وفائی کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Narrated 'Abdullah bin 'Amr:that the Prophet (ﷺ) said: There are four things that whoever has them, then he is a hypocrite, and whoever has one attribute from among them, then he has an attribute of hypocrisy,until he leaves it: Whoever lies whenever he speaks, he does not fulfill whenever he promises, he is vulgar whenever he argues, and whenever he makes an agreement he proves treacherous

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:27

Hadith #2633
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، عَنْ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا وَعَدَ الرَّجُلُ وَيَنْوِي أَنْ يَفِيَ بِهِ فَلَمْ يَفِ بِهِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ ‏.‏ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ثِقَةٌ وَلاَ يُعْرَفُ أَبُو النُّعْمَانِ وَلاَ أَبُو وَقَّاصٍ وَهُمَا مَجْهُولاَنِ ‏.‏

Urdu Translation

زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی کسی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے گا لیکن وہ ( کسی عذر و مجبوری سے ) پورا نہ کر سکا تو اس پر کوئی گناہ نہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس کی اسناد قوی نہیں ہے، ۳- علی بن عبدالاعلی ثقہ ہیں، ابونعمان اور ابووقاص غیر معروف ہیں اور دونوں ہی مجہول راوی ہیں۔

English Translation

Narrated Zaid bin Arqam:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whenever a man makes a promise and he intends to fulfill it, but he does not fulfill it, then there is no burden upon him

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:28

Hadith #2634
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنُ مَنْصُورٍ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قِتَالُ الْمُسْلِمِ أَخَاهُ كُفْرٌ وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کا اپنے کسی مسلمان بھائی سے جنگ کرنا کفر ہے اور اس سے گالی گلوچ کرنا فسق ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث عبداللہ بن مسعود سے کئی سندوں سے آئی ہے، ۳- اس باب میں سعد اور عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Ibn Mas'ud:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "A Muslim's fighting his brother is disbelief, and verbally abusing him is disobedience

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:29

Hadith #2635
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ قِتَالُهُ كُفْرٌ لَيْسَ بِهِ كُفْرًا مِثْلَ الاِرْتِدَادِ عَنِ الإِسْلاَمِ وَالْحُجَّةُ فِي ذَلِكَ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ مَنْ قُتِلَ مُتَعَمَّدًا فَأَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءُوا قَتَلُوا وَإِنْ شَاءُوا عَفَوْا ‏"‏ ‏.‏ وَلَوْ كَانَ الْقَتْلُ كُفْرًا لَوَجَبَ الْقَتْلُ وَلَمْ يَصِحَّ الْعَفْوُ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَطَاوُسٍ وَعَطَاءٍ وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا كُفْرٌ دُونَ كُفْرٍ وَفُسُوقٌ دُونَ فُسُوقٍ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کو گالی گلوچ دینا فسق ہے، اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- حدیث کے الفاظ «قتاله كفر» کا معنی و مراد یہ ہے کہ اسود عنسی کے ارتداد کے کفر جیسا کفر نہیں ہے اور اس کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص کو جان بوجھ کر قتل کر دیا گیا ہو تو اس مقتول کے اولیا و وارثین کو اختیار حاصل ہو گا کہ وہ چاہیں تو مقتول کے قاتل کو قصاص میں قتل کر دیں اور چاہیں تو اسے معاف کر دیں اور چھوڑ دیں۔ اگر یہ قتل کفر ( حقیقی ) کے درجہ میں ہوتا تو پھر قاتل کا قتل واجب ہو جاتا، ۴- ابن عباس، طاؤس، عطاء اور دوسرے بہت سے اہل علم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: یہ کفر تو ہے لیکن کمتر درجے کا کفر ہے، یہ فسق تو ہے لیکن چھوٹے درجے کا فسق ہے۔

English Translation

Narrated Ibn Mas'ud:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Verbally abusing a Muslim is disobedience and fighting him is disbelief

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:30

Hadith #2636
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ عَلَى الْعَبْدِ نَذْرٌ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ وَلاَعِنُ الْمُؤْمِنِ كَقَاتِلِهِ وَمَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ فَهُوَ كَقَاتِلِهِ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عَذَّبَهُ اللَّهُ بِمَا قَتَلَ بِهِ نَفْسَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَابْنِ عُمَرَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ثابت بن ضحاک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جس چیز کا مالک نہ ہو اس چیز کی نذر مان لے تو اس نذر کا پورا کرنا واجب نہیں ۱؎، مومن پر لعنت بھیجنے والا گناہ میں اس کے قاتل کی مانند ہے اور جو شخص کسی مومن کو کافر ٹھہرائے تو وہ ویسا ہی برا ہے جیسے اس مومن کا قاتل، اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کر ڈالا، تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوذر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Ad-Dhahak:that the Prophet (ﷺ) said: "It is not for a slave (of Allah) to vow about something he does not possess, and cursing a believer is like killing him, and whoever accuses a believer of disbelief, then it is like he has killed him, and whoever kills himself with something, then Allah will punish him with whatever he killed himself with on the Day of Judgement

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:31

Hadith #2637
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لأَخِيهِ كَافِرٌ فَقَدْ بَاءَ بِهِ أَحَدُهُمَا ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَمَعْنَى قَوْلِهِ بَاءَ يَعْنِي أَقَرَّ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو ان دونوں میں سے ایک نے ( گویا کہ ) اپنے کافر ہونے کا اقرار کر لیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- «باء»،‏‏‏‏ «أقر» کے معنی میں ہے، یعنی اقرار کیا۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:Ibn 'Umar narrated that the Prophet (ﷺ) said: "Whoever says to his brother 'disbeliever' then it will have settled upon one of them." Sahih

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:32

Hadith #2638
HasanHasanHasan SahihSahih - Bukhari And Muslim

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَبَكَيْتُ فَقَالَ مَهْلاً لِمَ تَبْكِي فَوَاللَّهِ لَئِنِ اسْتُشْهِدْتُ لأَشْهَدَنَّ لَكَ وَلَئِنْ شُفِّعْتُ لأَشْفَعَنَّ لَكَ وَلَئِنِ اسْتَطَعْتُ لأَنْفَعَنَّكَ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ مَا مِنْ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَكُمْ فِيهِ خَيْرٌ إِلاَّ حَدَّثْتُكُمُوهُ إِلاَّ حَدِيثًا وَاحِدًا وَسَوْفَ أُحَدِّثُكُمُوهُ الْيَوْمَ وَقَدْ أُحِيطَ بِنَفْسِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَنْ شَهِدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ وَطَلْحَةَ وَجَابِرٍ وَابْنِ عُمَرَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي عُمَرَ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُيَيْنَةَ يَقُولُ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ كَانَ ثِقَةً مَأْمُونًا فِي الْحَدِيثِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَالصُّنَابِحِيُّ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَيْلَةَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ إِنَّمَا كَانَ هَذَا فِي أَوَّلِ الإِسْلاَمِ قَبْلَ نُزُولِ الْفَرَائِضِ وَالأَمْرِ وَالنَّهْىِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَوَجْهُ هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ أَهْلَ التَّوْحِيدِ سَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَإِنْ عُذِّبُوا بِالنَّارِ بِذُنُوبِهِمْ فَإِنَّهُمْ لاَ يُخَلَّدُونَ فِي النَّارِ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي ذَرٍّ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ سَيَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ وَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏ هَكَذَا رُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنَ التَّابِعِينَ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الآيَةَِ‏:‏ ‏(‏رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ‏)‏ قَالُوا إِذَا أُخْرِجَ أَهْلُ التَّوْحِيدِ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُوا الْجَنَّةَ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ ‏.‏

Urdu Translation

صنابحی سے روایت ہے کہ میں عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کے پاس اس وقت گیا جب وہ موت کی حالت میں تھے، میں ( انہیں دیکھ کر ) رو پڑا، انہوں نے کہا: ٹھہرو ٹھہرو، روتے کیوں ہو؟ قسم اللہ کی! اگر مجھ سے گواہی طلب کی گئی تو میں ( آخرت میں ) تمہارے ایمان کی گواہی دوں گا، اور اگر مجھے شفاعت کا موقع دیا گیا تو میں تمہاری سفارش ضرور کروں گا اور اگر مجھے کچھ استطاعت نصیب ہوئی تو میں تمہیں ضرور فائدہ پہنچاؤں گا۔ پھر انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! کوئی ایسی حدیث نہیں ہے جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو اور اس میں تم لوگوں کے لیے خیر ہو مگر میں نے اسے تم لوگوں سے بیان نہ کر دیا ہو، سوائے ایک حدیث کے اور آج میں اسے بھی تم لوگوں سے بیان کیے دے رہا ہوں جب کہ میری موت قریب آ چکی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو گواہی دے کہ کوئی معبود ( برحق ) نہیں سوائے اللہ کے اور گواہی دے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں تو اللہ اس پر آگ کو حرام کر دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- میں نے ابن ابی عمر کو کہتے ہوئے سنا کہ ابن عیینہ کہتے تھے کہ محمد بن عجلان ثقہ آدمی ہیں اور حدیث میں مامون ( قابل اعتماد ) ہیں، ۳- صنابحی سے مراد عبدالرحمٰن بن عسیلہ ابوعبداللہ ہیں ( ابوعبداللہ کنیت ہے ) ، ۴- اس باب میں ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، جابر، ابن عمر، اور زید بن خالد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۵- زہری سے مروی ہے کہ ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: «من قال لا إله إلا الله دخل الجنة» ”جس نے «لا إله إلا الله» کہا وہ جنت میں داخل ہو گا“ کے متعلق پوچھا گیا ( کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ ) تو انہوں نے کہا: یہ شروع اسلام کی بات ہے جب کہ فرائض اور امر و نہی کے احکام نہیں آئے تھے، ۶- بعض اہل علم کے نزدیک اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ اہل توحید ( ہر حال میں ) جنت میں جائیں گے اگرچہ انہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے آگ کی سزا سے بھی کیوں نہ دوچار ہونا پڑے، کیونکہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہیں گے ۱؎، ۷- عبداللہ بن مسعود، ابوذر، عمران بن حصین، جابر بن عبداللہ، ابن عباس، ابو سعید خدری، انس بن مالک رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب ایسا ہو گا کہ توحید کے قائلین کی ایک جماعت جہنم سے نکلے گی اور جنت میں داخل ہو گی“ ۲؎، ایسا ہی سعید بن جبیر ابراہیم نخعی اور دوسرے بہت سے تابعین سے مروی ہے، یہ لوگ آیت «ربما يود الذين كفروا لو كانوا مسلمين» ”وہ بھی وقت ہو گا کہ کافر اپنے مسلمان ہونے کی آرزو کریں گے“ ( الحجر: ۲ ) ، کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ جب اہل توحید جہنم سے نکالے اور جنت میں داخل کئے جائیں گے تو کافر لوگ آرزو کریں گے اے کاش! وہ بھی مسلمان ہوتے۔

English Translation

Narrated As-Sunabihi:from Ubadah bin As-Samit, he said: "I entered upon him while he was dying, so I cried, and he said: "There now, why are you crying? For by Allah, if I am a martyr , then I will intercede for you, and if I can I will benefit you,' then he said: 'By Allah! There is no Hadith which I heard from the Messenger of Allah (ﷺ) which is good for you but I narrate it to you today, while I am near death. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Whoever testifies to La Ilaha Illallah and that Muhammad is the Messenger of Allah, then Allah has forbidden the fire for him

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:33

Hadith #2639
SahihSahih

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيِّ، ثُمَّ الْحُبُلِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ سَيُخَلِّصُ رَجُلاً مِنْ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ الْخَلاَئِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلاًّ كُلُّ سِجِلٍّ مِثْلُ مَدِّ الْبَصَرِ ثُمَّ يَقُولُ أَتُنْكِرُ مِنْ هَذَا شَيْئًا أَظَلَمَكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ فَيَقُولُ لاَ يَا رَبِّ ‏.‏ فَيَقُولُ أَفَلَكَ عُذْرٌ فَيَقُولُ لاَ يَا رَبِّ ‏.‏ فَيَقُولُ بَلَى إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً فَإِنَّهُ لاَ ظُلْمَ عَلَيْكَ الْيَوْمَ فَتَخْرُجُ بِطَاقَةٌ فِيهَا أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَيَقُولُ احْضُرْ وَزْنَكَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلاَّتِ فَقَالَ إِنَّكَ لاَ تُظْلَمُ ‏.‏ قَالَ فَتُوضَعُ السِّجِلاَّتُ فِي كِفَّةٍ وَالْبِطَاقَةُ فِي كِفَّةٍ فَطَاشَتِ السِّجِلاَّتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ فَلاَ يَثْقُلُ مَعَ اسْمِ اللَّهِ شَيْءٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ يَحْيَى، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ ‏.‏ وَالْبِطَاقَةُ هِيَ الْقِطْعَةُ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت کے ایک شخص کو چھانٹ کر نکالے گا اور سارے لوگوں کے سامنے لائے گا اور اس کے سامنے ( اس کے گناہوں کے ) ننانوے دفتر پھیلائے جائیں گے، ہر دفتر حد نگاہ تک ہو گا، پھر اللہ عزوجل پوچھے گا: کیا تو اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتا ہے؟ کیا تم پر میرے محافظ کاتبوں نے ظلم کیا ہے؟ وہ کہے گا: نہیں اے میرے رب! پھر اللہ کہے گا: کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے؟ تو وہ کہے گا: نہیں، اے میرے رب! اللہ کہے گا ( کوئی بات نہیں ) تیری ایک نیکی میرے پاس ہے۔ آج کے دن تجھ پر کوئی ظلم ( و زیادتی ) نہ ہو گی، پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس پر «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“ لکھا ہو گا۔ اللہ فرمائے گا: جاؤ اپنے اعمال کے وزن کے موقع پر ( کانٹے پر ) موجود رہو، وہ کہے گا: اے میرے رب! ان دفتروں کے سامنے یہ پرچہ کیا حیثیت رکھتا ہے؟ اللہ فرمائے گا: تمہارے ساتھ زیادتی نہ ہو گی۔ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا: پھر وہ تمام دفتر ( رجسٹر ) ایک پلڑے میں رکھ دیئے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں، پھر وہ سارے دفتر اٹھ جائیں گے، اور پرچہ بھاری ہو گا۔ ( اور سچی بات یہ ہے کہ ) اللہ کے نام کے ساتھ ( یعنی اس کے مقابلہ میں ) جب کوئی چیز تولی جائے گی، تو وہ چیز اس سے بھاری ثابت نہیں ہو سکتی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

English Translation

Narrated 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed Allah will distinguish a man from my Ummah before all of creation on the Day of Judgement. Ninety-nine scrolls will be laid out for him, each scroll is as far as the eye can see, then He will say: 'Do you deny any of this? Have those who recorded this wronged you?' He will say: 'No, O Lord!' He will say: Do you have an excuse?' He will say: 'No, O Lord!' So He will say: 'Rather you have a good deed with us, so you shall not be wronged today." Then He will bring out a card (Bitaqah); on it will be: "I testify to La Ilaha Illallah, and I testify that Muhammad is His servant and Messenger." He will say: 'Bring your scales.' He will say: 'O Lord! What good is this card next to these scrolls?' He will say: 'You shall not be wronged.' He said: 'The scrolls will be put on a pan (of the scale), and the card on (the other) pan: the scrolls will be light, and the card will be heavy, nothing is heavier than the Name of Allah

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:34

Hadith #2640
Hasan SahihHasan SahihHasan SahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تَفَرَّقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ أَوِ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً وَالنَّصَارَى مِثْلَ ذَلِكَ وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور نصاریٰ بھی اسی طرح بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سعد، عبداللہ بن عمرو، اور عوف بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Jews split into seventy-one sects, or seventy-two sects, and the Christians similarly, and my Ummah will split into seventy-three sects

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:35

Hadith #2641
HasanHasanDaif

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ الإِفْرِيقِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلاَنِيَةً لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلاَّ مِلَّةً وَاحِدَةً قَالُوا وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ مُفَسَّرٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے ساتھ ہو بہو وہی صورت حال پیش آئے گی جو بنی اسرائیل کے ساتھ پیش آ چکی ہے، ( یعنی مماثلت میں دونوں برابر ہوں گے ) یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے اگر اپنی ماں کے ساتھ اعلانیہ زنا کیا ہو گا تو میری امت میں بھی ایسا شخص ہو گا جو اس فعل شنیع کا مرتکب ہو گا، بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، اور ایک فرقہ کو چھوڑ کر باقی سبھی جہنم میں جائیں گے، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کون سی جماعت ہو گی؟ آپ نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہوں گے جو میرے اور میرے صحابہ کے نقش قدم پر ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث جس میں ابوہریرہ رضی الله عنہ کے حدیث کے مقابلہ میں کچھ زیادہ وضاحت ہے حسن غریب ہے۔ ہم اسے اس طرح صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

English Translation

Narrated 'Abdullah bin 'Amr:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "What befell the children of Isra'il will befall my Ummah, step by step, such that if there was one who had intercourse with his mother in the open, then there would be someone from my Ummah who would do that. Indeed the children of Isra'il split into seventy-two sects, and my Ummah will split into seventy-three sects. All of them are in the Fire Except one sect." He said: "And which is it O Messenger of Allah?" He said: "What I am upon and my Companions

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:36

Hadith #2642
SahihSahihSahih

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ اهْتَدَى وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ فَلِذَلِكَ أَقُولُ جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا ( یعنی اپنے نور کا پر تو ) تو جس پر یہ نور پڑ گیا وہ ہدایت یاب ہو گیا اور جس پر نور نہ پڑا ( تجاوز کر گیا ) تو وہ گمراہ ہو گیا، اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ کے علم پر ( تقدیر کا ) قلم خشک ہو چکا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔

English Translation

Narrated 'Abdullah bin 'Amr:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed Allah, the Blessed and Exalted, created His creation in darkness, then He cast His Light upon them, so whoever is touched by that light he is guided, and whoever is not, he goes astray. It is for this reason that I say that the pens have dried with Allah's knowledge

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:37

Hadith #2643
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ حَقَّهُ عَلَيْهِمْ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلاَ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَتَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَنْ لاَ يُعَذِّبَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‏.‏

Urdu Translation

معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ بندوں پر اللہ کا حق کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”اس کا حق بندوں پر یہ ہے کہ بندے اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں“۔ ( پھر ) آپ نے کہا: ”کیا تم یہ بھی جانتے ہو کہ جب لوگ ایسا کریں تو اللہ پر ان کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث متعدد سندوں سے معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے مروی ہے۔

English Translation

Narrated Mu'adh bin Jabal:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do you know what Allah's right upon His slaves is?" I said: "Allah and His Messenger know best." He said: "His right upon them is that they worship Him alone and do not associate any partners with Him." He said: "And do you know what their right over Allah is if they do that?" I said: "Allah and His Messenger know best." He said: "That He will not punish them

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:38

Hadith #2644
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، وَالأَعْمَشِ، كُلُّهُمْ سَمِعُوا زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَبَشَّرَنِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ‏.‏

Urdu Translation

ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل ( علیہ السلام ) آئے اور مجھے بشارت دی کہ جو شخص اس حال میں مر گیا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تو وہ جنت میں جائے گا“، میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، ( اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو الدرداء سے بھی روایت ہے۔

English Translation

Narrated Abu Dharr:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Jibril came to me and gave me glad tidings, that whoever dies without associating anything with Allah, then he will enter Paradise. I said: "Even if he commits adultery and theft?" He said: "Yes

Reference: Jami at-Tirmidhi 40:39