Taleemi DuniyaTaleemi Duniya
Jami at-Tirmidhi

Chapter 4 of 49

The Book on the Day of Friday

جمعہ کے دن کے ابواب

42 hadiths in this chapter

Hadith #488
SahihSahihHasan SahihSahih - Bukhari And Muslim

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا وَلاَ تَقُومُ السَّاعَةُ إِلاَّ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي لُبَابَةَ وَسَلْمَانَ وَأَبِي ذَرٍّ وَسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ وَأَوْسِ بْنِ أَوْسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہتر دن جس میں سورج نکلا، جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم کو پیدا کیا گیا، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا، اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا، اور قیامت بھی اسی دن قائم ہو گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابولبابہ، سلمان، ابوذر، سعد بن عبادہ اور اوس بن اوس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Abu Hurairah narrated that:the Prophet said: "The best day that the sun has risen upon is Friday. On it Adam was created, on it he entered Paradise, and on it, he was expelled from it. And the Hour will not be established except on Friday

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:1

Hadith #489
HasanHasanSahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْهَاشِمِيُّ الْبَصْرِيُّ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ الْتَمِسُوا السَّاعَةَ الَّتِي تُرْجَى فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ يُضَعَّفُ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَيُقَالُ لَهُ حَمَّادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَيُقَالُ هُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الأَنْصَارِيُّ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ‏.‏ وَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ أَنَّ السَّاعَةَ الَّتِي تُرْجَى فِيهَا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏ وَقَالَ أَحْمَدُ أَكْثَرُ الأَحَادِيثِ فِي السَّاعَةِ الَّتِي تُرْجَى فِيهَا إِجَابَةُ الدَّعْوَةِ أَنَّهَا بَعْدَ صَلاَةِ الْعَصْرِ وَتُرْجَى بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے روز اس گھڑی کو جس میں دعا کی قبولیت کی امید کی جاتی ہے عصر سے لے کر سورج ڈوبنے تک کے درمیان تلاش کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- یہ حدیث انس رضی الله عنہ سے بھی کئی سندوں سے مروی ہے، ۳- محمد بن ابی حمید ضعیف گردانے جاتے ہیں، بعض اہل علم نے ان کے حفظ کے تعلق سے ان کی تضعیف کی ہے، انہیں حماد بن ابی حمید بھی کہا جاتا ہے، نیز کہا جاتا ہے کہ یہی ابوابراہیم انصاری ہیں اور یہ منکرالحدیث ہیں، ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ یہ گھڑی جس میں قبولیت دعا کی امید کی جاتی ہے عصر کے بعد سے سورج ڈوبنے کے درمیان ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔ احمد کہتے ہیں: اس گھڑی کے سلسلے میں جس میں دعا کی قبولیت کی امید کی جاتی ہے زیادہ تر حدیثیں یہی آئی ہیں کہ یہ عصر کے بعد سے سورج ڈوبنے کے درمیان ہے، نیز سورج ڈھلنے کے بعد بھی اس کے ہونے کی امید کی جاتی ہے ۱؎۔

English Translation

Anas bin Malik narrated that :the Prophet said: "Seek out the hour that is hoped for on Friday after Asr until the sun has set

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:2

Hadith #490
Very DaifVery DaifDaif

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لاَ يَسْأَلُ اللَّهَ الْعَبْدُ فِيهَا شَيْئًا إِلاَّ آتَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَّةُ سَاعَةٍ هِيَ قَالَ ‏"‏ حِينَ تُقَامُ الصَّلاَةُ إِلَى الاِنْصِرَافِ مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي مُوسَى وَأَبِي ذَرٍّ وَسَلْمَانَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ وَأَبِي لُبَابَةَ وَسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ وَأَبِي أُمَامَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

عمرو بن عوف مزنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ بندہ جو کچھ بھی اس میں مانگتا ہے اللہ اسے عطا کرتا ہے“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کون سی گھڑی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نماز ( جمعہ ) کھڑی ہونے کے وقت سے لے کر اس سے پلٹنے یعنی نماز ختم ہونے تک ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمرو بن عوف کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوموسیٰ، ابوذر، سلمان، عبداللہ بن سلام، ابولبابہ، سعد بن عبادہ اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Kathir bin Abdullah bin Amr bin Awf Al-Muzani narrated from his father, from his grandfather, that :the Prophet said: "On Friday there is an hour in which the worshipper does not ask Allah for anything except that Allah grants it to him." They said: "O Messenger of Allah! Which hour is it?" He said: "When the prayer is begun until it is finished

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:3

Hadith #491
SahihSahihSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ وَفِيهِ أُهْبِطَ مِنْهَا وَفِيهِ سَاعَةٌ لاَ يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يُصَلِّي فَيَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا شَيْئًا إِلاَّ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلاَمٍ فَذَكَرْتُ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ أَنَا أَعْلَمُ بِتِلْكَ السَّاعَةِ ‏.‏ فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي بِهَا وَلاَ تَضْنَنْ بِهَا عَلَىَّ قَالَ هِيَ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ ‏.‏ فَقُلْتُ كَيْفَ تَكُونُ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مَسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي ‏"‏ ‏.‏ وَتِلْكَ السَّاعَةُ لاَ يُصَلَّى فِيهَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ فَهُوَ فِي صَلاَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ بَلَى ‏.‏ قَالَ فَهُوَ ذَاكَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ قَالَ وَمَعْنَى قَوْلِهِ ‏"‏ أَخْبِرْنِي بِهَا وَلاَ تَضْنَنْ بِهَا عَلَىَّ ‏"‏ ‏.‏ لاَ تَبْخَلْ بِهَا عَلَىَّ وَالضَّنُّ الْبُخْلُ وَالظَّنِينُ الْمُتَّهَمُ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہتر دن جس میں سورج نکلا جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کیے گئے، اسی دن وہ جنت میں داخل کیے گئے، اسی دن وہ جنت سے ( زمین پر اتارے گئے ) اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ جسے مسلم بندہ نماز کی حالت میں پائے اور اللہ سے اس میں کچھ طلب کرے تو اللہ اسے ضرور عطا فرمائے گا، ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن سلام سے ملا اور ان سے اس حدیث کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میں یہ گھڑی اچھی طرح جانتا ہوں، میں نے کہا: مجھے بھی اس کے بارے میں بتائیے اور اس سلسلہ میں مجھ سے بخل نہ کیجئے، انہوں نے کہا: یہ عصر کے بعد سے لے کر سورج ڈوبنے کے درمیان ہے، اس پر میں نے کہا: یہ عصر کے بعد کیسے ہو سکتی ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اسے مسلمان بندہ حالت نماز میں پائے اور یہ وقت ایسا ہے جس میں نماز نہیں پڑھی جاتی؟ تو عبداللہ بن سلام نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ جو شخص نماز کے انتظار میں کسی جگہ بیٹھا رہے تو وہ بھی نماز ہی میں ہوتا ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور فرمایا ہے تو انہوں نے کہا: تو یہی مراد ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے، ۲- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۳- اور آپ کے اس قول «أخبرني بها ولا تضنن بها علي» کے معنی ہیں اسے مجھے بتانے میں بخل نہ کیجئے، «ضنّ» کے معنی بخل کے ہیں اور «ظنين» کے معنی، متہم کے ہیں۔

English Translation

Abu Hurairah narrated:"Allah's Messenger said: The best day that the sun has risen upon is Friday. On it Adam was created, on it he entered Paradise, and on it, he was sent down from it. And in it there is an hour in which the Muslim worshipper would not stand in Salat, asking Allah for anything except that He would give it to him.'" Abu Hurairah said: "I met Abdullah bin Salam, and I mentioned this Hadith to him. He said: 'I am more knowledgeable about that hour.' So I said: 'Inform me about it, and do not keep any of it from me.' He said: 'It is after al-Asr until the sun has set.' I said: 'How can it be after Al-Asr when Allah's Messenger said: ' the Muslim worshipper would not stand in Salat.' And that is a time that prayer is not performed in?" So Abdullah bin Salam said: 'Didn't Allah's Messenger say: "Whoever sat in a gathering awaiting the Salat then he is in Salat"? I said: 'Of course.' He said: 'Then that is it

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:4

Hadith #492
SahihSahihHasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَجَابِرٍ وَالْبَرَاءِ وَعَائِشَةَ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو جمعہ کی نماز کے لیے آئے اسے چاہیئے کہ ( پہلے ) غسل کر لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس بات میں عمر، ابو سعید خدری، جابر، براء، عائشہ اور ابو الدرداء سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Salim narrated from his father, from his grandfather, that he heard :the Prophet saying: "Whoever comes on Friday, then let him perform Ghusl

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:5

Hadith #493
SahihSahih Muslim

وَرُوِيَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ ‏.‏ وَقَالَ مُحَمَّدٌ وَحَدِيثُ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ كِلاَ الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي آلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ‏.‏

Urdu Translation

نیز ابن شہاب زہری سے یہ حدیث بطریق: «الزهري عن عبد الله بن عبد الله بن عمر عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» بھی مروی ہے، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: زہری کی حدیث جسے انہوں نے بطریق: «سالم عن أبيه عبدالله بن عمر» روایت کی ہے اور جو حدیث انہوں نے بطریق: «عبدالله بن عبدالله بن عمر عن أبيه عبدالله بن عمر» روایت کی ہے دونوں حدیثیں صحیح ہیں، اور زہری کے بعض تلامذہ نے اسے بطریق: «الزهري عن آل عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عمر» روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: جمعہ کے دن کے غسل کے سلسلہ میں بطریق: «ابن عمر عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرفوعاً مروی ہے، ( جو آگے آ رہی ہے ) اور یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Salim narrated:(Another chain) from Abdullah bin Umar from the Prophet which is similar

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:6

Hadith #494
SahihSahihSahih - Agreed Upon

قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَيْضًا وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ رَوَاهُ يُونُسُ وَمَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ فَقَالَ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ سَمِعْتُ النِّدَاءَ وَمَا زِدْتُ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ ‏.‏ قَالَ وَالْوُضُوءَ أَيْضًا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِالْغُسْلِ ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ جمعہ کے روز خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران صحابہ میں سے ایک شخص ۱؎ ( مسجد میں ) داخل ہوئے، تو عمر رضی الله عنہ نے پوچھا: یہ کون سا وقت ( آنے کا ) ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے صرف اتنی دیر کی کہ اذان سنی اور بس وضو کر کے آ گیا ہوں، اس پر عمر رضی الله عنہ نے کہا: تم نے صرف ( وضو ہی پر اکتفا کیا ) حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کا حکم دیا ہے؟

English Translation

And Yunus and Ma'mar reported, from Az-Zuhri, from Salim Wudu from his father:"Umar bin Al-Khattab was giving a Khutbah on Friday when a man from the Companions of the Prophet entered. So he said: "What time is it?" So he said: 'I don't know, I heard the call and did nothing more than perform Wudu.' So he said: And Wudu again!? I know surely that the Messenger of Allah has ordered Ghusl

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:7

Hadith #495
SahihSahih Muslim

قَالَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏ وَرَوَى مَالِكٌ، هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ‏.‏ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا فَقَالَ الصَّحِيحُ حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مَالِكٍ أَيْضًا عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ نَحْوُ هَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏

Urdu Translation

اس سند سے بھی زہری سے یہی حدیث مروی ہے۔ اور مالک نے بھی یہ حدیث بطریق: «عن الزہری عن سالم» ‏‏‏‏ روایت کی ہے، وہ سالم بن عمر کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے، آگے انہوں نے پوری حدیث ذکر کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے اس سلسلے میں محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا تو انہوں نے کہا: صحیح زہری کی حدیث ہے جسے انہوں نے بطریق: «سالم عن أبیہ» روایت کی ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ مالک سے بھی اسی حدیث کی طرح مروی ہے، انہوں نے بطریق: «الزهري عن سالم عن أبيه» بھی روایت کی ہے۔

English Translation

(Another chain reaching to Az-Zuhri) with this Hadith.Malik reported this Hadith from Az-Zuhri, from Salim who said:"Umar [bin al-Khattab] was giving a Khutbah on Friday." And he mentioned this Hadith

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:8

Hadith #496
SahihSahihSahih

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَأَبُو جَنَابٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي حَيَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَغَسَّلَ وَبَكَّرَ وَابْتَكَرَ وَدَنَا وَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خَطْوَةٍ يَخْطُوهَا أَجْرُ سَنَةٍ صِيَامُهَا وَقِيَامُهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَحْمُودٌ قَالَ وَكِيعٌ اغْتَسَلَ هُوَ وَغَسَّلَ امْرَأَتَهُ ‏.‏ قَالَ وَيُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ‏"‏ مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي غَسَلَ رَأْسَهُ وَاغْتَسَلَ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَسَلْمَانَ وَأَبِي ذَرٍّ وَأَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي أَيُّوبَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَأَبُو الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيُّ اسْمُهُ شَرَاحِيلُ بْنُ آدَةَ ‏.‏ وَأَبُو جَنَابٍ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْقَصَّابُ الْكُوفِيُّ ‏.‏

Urdu Translation

اوس بن اوس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور غسل کرایا، اور سویرے پہنچا، شروع سے خطبہ میں شریک رہا، امام کے قریب بیٹھا اور غور سے خطبہ سنا اور خاموش رہا تو اسے اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزے اور رات کے قیام کا ثواب ملے گا“۔ وکیع کہتے ہیں: اس کا معنی ہے کہ اس نے خود غسل کیا اور اپنی عورت کو بھی غسل کرایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اوس بن اوس کی حدیث حسن ہے، ۲- عبداللہ بن مبارک نے اس حدیث کے سلسلہ میں کہا ہے کہ «من غسل واغتسل» کے معنی ہیں: جس نے اپنا سر دھویا اور غسل کیا، ۳- اس باب میں ابوبکر، عمران بن حصین، سلمان، ابوذر، ابوسعید، ابن عمر، اور ابوایوب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Aws bin Aws narrated:"Allah's Messenger said to me: 'Whoever performs Ghusl on Friday, and bathes completely, and goes early, arriving early, gets close and listens and is silent, there will be for him in every step he take the reward of a year of fasting and standing (in prayer)

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:9

Hadith #497
SahihSahihHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ وَأَنَسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُ أَصْحَابِ قَتَادَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمُ اخْتَارُوا الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَأَوْا أَنْ يُجْزِئَ الْوُضُوءُ مِنَ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ‏.‏ قَالَ الشَّافِعِيُّ وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ أَمْرَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَنَّهُ عَلَى الاِخْتِيَارِ لاَ عَلَى الْوُجُوبِ حَدِيثُ عُمَرَ حَيْثُ قَالَ لِعُثْمَانَ وَالْوُضُوءَ أَيْضًا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ‏.‏ فَلَوْ عَلِمَا أَنَّ أَمْرَهُ عَلَى الْوُجُوبِ لاَ عَلَى الاِخْتِيَارِ لَمْ يَتْرُكْ عُمَرُ عُثْمَانَ حَتَّى يَرُدَّهُ وَيَقُولَ لَهُ ارْجِعْ فَاغْتَسِلْ وَلَمَا خَفِيَ عَلَى عُثْمَانَ ذَلِكَ مَعَ عِلْمِهِ وَلَكِنْ دَلَّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيهِ فَضْلٌ مِنْ غَيْرِ وُجُوبٍ يَجِبُ عَلَى الْمَرْءِ فِي ذَلِكَ ‏.‏

Urdu Translation

سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن وضو کیا تو اس نے رخصت کو اختیار کیا اور خوب ہے یہ رخصت، اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- قتادہ کے بعض تلامذہ نے تو یہ حدیث قتادہ سے اور قتادہ نے حسن بصری سے اور حسن بصری نے سمرہ بن جندب سے ( مرفوعاً ) روایت کی ہے۔ اور بعض نے قتادہ سے اور قتادہ نے حسن سے اور حسن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے اہل علم کا عمل اسی پر ہے، انہوں نے جمعہ کے دن کے غسل کو پسند کیا ہے، ان کا خیال ہے کہ غسل کے بدلے وضو بھی کافی ہو جائے گا، ۵- شافعی کہتے ہیں: جمعہ کے روز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے حکم کے وجوبی ہونے کے بجائے اختیاری ہونے پر جو چیزیں دلالت کرتی ہیں ان میں سے عمر رضی الله عنہ کی حدیث بھی ہے جس میں انہوں نے عثمان رضی الله عنہ سے کہا ہے کہ تم نے صرف وضو پر اکتفا کیا ہے حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن غسل کا حکم دیا ہے، اگر انہیں یہ معلوم ہوتا کہ یہ حکم واجبی ہے، اختیاری نہیں تو عمر رضی الله عنہ عثمان رضی الله عنہ کو لوٹائے بغیر نہ چھوڑتے اور ان سے کہتے: جاؤ غسل کرو، اور نہ ہی عثمان رضی الله عنہ سے اس بات کے جاننے کے باوجود کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کو غسل کرنے کا حکم دیا ہے اس کے وجوب کی حقیقت مخفی رہتی، بلکہ اس حدیث میں صاف دلالت ہے کہ جمعہ کے دن غسل افضل ہے نہ کہ واجب۔

English Translation

Samurah bin Jundah narrated that :Allah's Messenger said: "Whoever performs Wudu on Friday, then he will receive the blessing, and whoever performs Ghusl then Ghusl is more virtuous

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:10

Hadith #498
SahihSahihHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَدَنَا وَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”جس نے وضو کیا اور اچھی طرح کیا ۱؎ پھر جمعہ کے لیے آیا ۲؎، امام کے قریب بیٹھا، غور سے خطبہ سنا اور خاموش رہا تو اس کے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے ۳؎ کے گناہ ۴؎ بخش دیئے جائیں گے۔ اور جس نے کنکریاں ہٹائیں تو اس نے لغو کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Abu Hurairh narrated that :Allah's Messenger said: "Whoever performs Wudu, performing his Wudu well, then he comes to the Friday (prayer), and he gets close, listens and is silent, then whatever (sin) was between that and (the last) Friday are forgiven for him, in addition to three days. And whoever touches the pebbles, he has committed Lagha (useless activity)

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:11

Hadith #499
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَسَمُرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے روز جنابت کے غسل کی طرح ( یعنی خوب اہتمام سے ) غسل کیا پھر نماز جمعہ کے لیے ( پہلی گھڑی میں ) گیا تو گویا اس نے ایک اونٹ اللہ کی راہ میں قربان کیا، اور جو اس کے بعد والی گھڑی میں گیا تو گویا اس نے ایک گائے قربان کی، اور جو تیسری گھڑی میں گیا تو گویا اس نے ایک سینگوں والا مینڈھا قربان کیا اور جو چوتھی گھڑی میں گیا تو گویا اس نے ایک مرغی کا صدقہ کر کے اللہ کا تقرب حاصل کیا، اور جو پانچویں گھڑی میں گیا تو گویا اس نے ایک انڈا اللہ کی راہ میں صدقہ کیا، پھر جب امام خطبہ کے لیے گھر سے نکل آیا تو فرشتے ذکر سننے کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "Whoever performs Ghusl on Friday - the Ghusl for Janabah - then he goes, he is like one who gave a camel in charity. Whoever goes in the second hour then he is like one who gave a cow in charity. Whoever goes in the third hour then he is like the one who have a ram in charity. Whoever goes in the fourth hour then he is like the one who gave a chicken in charity. Whoever goes in the fifth hour, then he is like one who gave an egg in charity. When the Imam comes out, the angels are present listening to the remembrance

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:12

Hadith #500
Hasan SahihHasan SahihHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ يَعْنِي الضَّمْرِيَّ، وَكَانَتْ، لَهُ صُحْبَةٌ فِيمَا زَعَمَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ تَهَاوُنًا بِهَا طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَسَمُرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي الْجَعْدِ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ قَالَ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنِ اسْمِ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ فَلَمْ يَعْرِفِ اسْمَهُ وَقَالَ لاَ أَعْرِفُ لَهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ هَذَا الْحَدِيثَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَلاَ نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏

Urdu Translation

ابوالجعد ضمری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو جمعہ تین بار سستی ۱؎ سے حقیر جان کر چھوڑ دے گا تو اللہ اس کے دل پر مہر لگا دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوالجعد کی حدیث حسن ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے ابوالجعد ضمری کا نام پوچھا تو وہ نہیں جان سکے، ۳- اس حدیث کے علاوہ میں ان کی کوئی اور حدیث نہیں جانتا جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو، ۴- ہم اس حدیث کو صرف محمد بن عمرو کی روایت سے جانتے ہیں۔

English Translation

Abu Al-Ja'd - meaning Ad-Damri - narrated, and he was a Companion according to the claim of Muhammad bin Amr:"Allah's Messenger said: 'Whoever neglects the Friday prayer three times (in a row) without an excuse, then Allah sets a seal upon his heart

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:13

Hadith #501
Daif IsnaadDaif IsnaadDaifDaif

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَدُّويَهْ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَهْلِ قُبَاءَ عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَشْهَدَ الْجُمُعَةَ مِنْ قُبَاءَ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا وَلاَ يَصِحُّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلاَ يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَابِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم شَيْءٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ الْجُمُعَةُ عَلَى مَنْ آوَاهُ اللَّيْلُ إِلَى أَهْلِهِ ‏"‏ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ إِنَّمَا يُرْوَى مِنْ حَدِيثِ مُعَارِكِ بْنِ عَبَّادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ‏.‏ وَضَعَّفَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ فِي الْحَدِيثِ ‏.‏ قَالَ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ عَلَى مَنْ تَجِبُ الْجُمُعَةُ فَقَالَ بَعْضُهُمْ تَجِبُ الْجُمُعَةُ عَلَى مَنْ آوَاهُ اللَّيْلُ إِلَى مَنْزِلِهِ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ تَجِبُ الْجُمُعَةُ إِلاَّ عَلَى مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏

Urdu Translation

اہل قباء میں سے ایک شخص اپنے والد سے روایت کرتا ہے – اس کے والد صحابہ میں سے ہیں – وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم قباء سے آ کر جمعہ میں شریک ہوں۔ اس سلسلے میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت کی گئی ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اور اس باب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی کوئی چیز صحیح نہیں ہے، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ اس پر فرض ہے جو رات کو اپنے گھر والوں تک پہنچ سکے“، اس حدیث کی سند ضعیف ہے، یہ حدیث معارک بن عباد سے روایت کی جاتی ہے اور معارک عبداللہ بن سعید مقبری سے روایت کرتے ہیں، یحییٰ بن سعید قطان نے عبداللہ بن سعید مقبری کی حدیث کی تضعیف کی ہے، ۳- اہل علم کا اس میں اختلاف ہے کہ جمعہ کس پر واجب ہے، بعض کہتے ہیں: جمعہ اس شخص پر واجب ہے جو رات کو اپنے گھر پہنچ سکے اور بعض کہتے ہیں: جمعہ صرف اسی پر واجب جس نے اذان سنی ہو، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔

English Translation

Thuwair narrated from a man among the people of Quba, from his father, who was one of the Companions of the Prophet, that :he said: "The Prophet ordered us to attend the Friday prayer in Quba

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:14

Hadith #502
Very DaifVery DaifDaifDaif

سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ، يَقُولُ كُنَّا عِنْدَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فَذَكَرُوا عَلَى مَنْ تَجِبُ الْجُمُعَةُ فَلَمْ يَذْكُرْ أَحْمَدُ فِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا ‏.‏ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ فَقُلْتُ لأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ أَحْمَدُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ حَدَّثَنَا مُعَارِكُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْجُمُعَةُ عَلَى مَنْ آوَاهُ اللَّيْلُ إِلَى أَهْلِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَغَضِبَ عَلَىَّ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَقَالَ لِي اسْتَغْفِرْ رَبَّكَ اسْتَغْفِرْ رَبَّكَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى إِنَّمَا فَعَلَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ هَذَا لأَنَّهُ لَمْ يَعُدَّ هَذَا الْحَدِيثَ شَيْئًا وَضَعَّفَهُ لِحَالِ إِسْنَادِهِ ‏.‏

Urdu Translation

میں نے احمد بن حسن کو کہتے سنا کہ ہم لوگ احمد بن حنبل کے پاس تھے تو لوگوں نے ذکر کیا کہ جمعہ کس پر واجب ہے؟ تو امام احمد نے اس سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز ذکر نہیں کی، احمد بن حسن کہتے ہیں: تو میں نے احمد بن حنبل سے کہا: اس سلسلہ میں ابوہریرہ رضی الله عنہ کی روایت ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، تو امام احمد نے پوچھا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے؟ میں نے کہا: ہاں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ) ، پھر احمد بن حسن نے «حجاج بن نصير حدثنا معارك بن عباد عن عبد الله بن سعيد المقبري عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جمعہ اس پر واجب ہے جو رات کو اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر آ سکے“، احمد بن حسن کہتے ہیں کہ احمد بن حنبل مجھ پر غصہ ہوئے اور مجھ سے کہا: اپنے رب سے استغفار کرو، اپنے رب سے استغفار کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: احمد بن حنبل نے ایسا اس لیے کیا کہ انہوں نے اس حدیث کو کوئی حیثیت نہیں دی اور اسے کسی شمار میں نہیں رکھا، سند کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا۔

English Translation

Narrator not mentioned:I heard Ahmad bin Husain saying: "We were with Ahmad bin Hanbal, so they mentioned the one upon whom the Friday prayer is obligatory. Ahmad did not mention anything about it from the Prophet." Ahmad bin Al-Hasan said: "I said to Ahmad bin Hanbal: 'There is something about it from Abu Hurairah, from the Prophet.' So Ahmad bin Hanbal said: 'From the Prophet?' I said: 'Yes.'" [Ahmed bin Hanbal said:] "Hajjaj bin Nusair narrated to us; Mubarik bin Abbad narrated to us from Abdullah bin Sa'eed Al-Maqburi, from his father, from Abu Hurairah that the Prophet said: "The Friday prayer is required from whomever can return to his family by the night." He said: "So Ahmad [bin Hanbal] became angry with me, and he said to me: 'Seek forgiveness from your Lord, seek forgiveness from your Lord

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:15

Hadith #503
SahihSahihSahih Bukhari

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا۔

English Translation

Anas bin Malik narrated:"The Prophet would pray the Friday prayer when the sun was declining

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:16

Hadith #504
Hasan SahihSahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ وَجَابِرٍ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ الَّذِي أَجْمَعَ عَلَيْهِ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ وَقْتَ الْجُمُعَةِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ كَوَقْتِ الظُّهْرِ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏ وَرَأَى بَعْضُهُمْ أَنَّ صَلاَةَ الْجُمُعَةِ إِذَا صُلِّيَتْ قَبْلَ الزَّوَالِ أَنَّهَا تَجُوزُ أَيْضًا ‏.‏ وَقَالَ أَحْمَدُ وَمَنْ صَلاَّهَا قَبْلَ الزَّوَالِ فَإِنَّهُ لَمْ يَرَ عَلَيْهِ إِعَادَةً ‏.‏

Urdu Translation

اس سند سے بھی انس رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سلمہ بن الاکوع، جابر اور زبیر بن عوام رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی پر اکثر اہل علم کا اجماع ہے کہ جمعہ کا وقت ظہر کے وقت کی طرح اس وقت شروع ہوتا ہے جب سورج ڈھل جائے، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۴- اور بعض کی رائے ہے کہ جمعہ کی نماز جب زوال سے پہلے پڑھ لی جائے تو جائز ہے۔ احمد کہتے ہیں: جس نے جمعہ کی نماز زوال سے پہلے پڑھ لی تو اس پر دہرانا ضروری نہیں۔

English Translation

(Another chain) from Anas, :from the Prophet, similarly

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:17

Hadith #505
SahihSahihSahih - Bukhari And Muslim

حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ، عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلاَّسُ الصَّيْرَفِيُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، وَيَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ أَبُو غَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْعَلاَءِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ فَلَمَّا اتَّخَذَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمِنْبَرَ حَنَّ الْجِذْعُ حَتَّى أَتَاهُ فَالْتَزَمَهُ فَسَكَنَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَجَابِرٍ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأُمِّ سَلَمَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَمُعَاذُ بْنُ الْعَلاَءِ هُوَ بَصْرِيٌّ وَهُوَ أَخُو أَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلاَءِ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے پر ( کھڑے ہو کر ) خطبہ دیتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر بنا لیا تو وہ تنا رو پڑا یہاں تک کہ آپ اس کے پاس آئے اور اسے چمٹا لیا تو وہ چپ ہو گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس، جابر، سہل بن سعد، ابی بن کعب، ابن عباس اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Ibn Umar narrated:"The Prophet would give the Khutbah next to the trunk of a date palm. When he [the Prophet] began using the Minbar the trunk cried out for him until he came to it and held it, so it became quiet

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:18

Hadith #506
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَالَ مِثْلَ مَا تَفْعَلُونَ الْيَوْمَ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ الَّذِي رَآهُ أَهْلُ الْعِلْمِ أَنْ يَفْصِلَ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ بِجُلُوسٍ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دیتے پھر ( بیچ میں ) بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے، راوی کہتے ہیں: جیسے آج کل تم لوگ کرتے ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، جابر بن عبداللہ اور جابر بن سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یہی اہل علم کی رائے ہے کہ دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھ کر فصل کرے۔

English Translation

Ibn Umar narrated:"The Prophet would give a Khutbah on Friday, then sit, then stand and give (another) Khutbah." He said: "Similar to what they do today

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:19

Hadith #507
SahihSahihHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَهَنَّادٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَكَانَتْ صَلاَتُهُ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَابْنِ أَبِي أَوْفَى ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتا تھا تو آپ کی نماز بھی درمیانی ہوتی تھی اور خطبہ بھی درمیانا ہوتا تھا۔ ( یعنی زیادہ لمبا نہیں ہوتا تھا ) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمار بن یاسر اور ابن ابی اوفی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Jabir bin Samurah narrated:"I would pray with the Prophet, and his prayer was moderate, and his Khutbah was moderate

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:20

Hadith #508
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ ‏(‏ونَادَوُا يَا مَالِكُ‏)‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَهُوَ حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ ‏.‏ وَقَدِ اخْتَارَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يَقْرَأَ الإِمَامُ فِي الْخُطْبَةِ آيًا مِنَ الْقُرْآنِ ‏.‏ قَالَ الشَّافِعِيُّ وَإِذَا خَطَبَ الإِمَامُ فَلَمْ يَقْرَأْ فِي خُطْبَتِهِ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ أَعَادَ الْخُطْبَةَ ‏.‏

Urdu Translation

یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر پڑھتے سنا: «ونادوا يا مالك» ۱؎ ”اور وہ پکار کر کہیں گے اے مالک!“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، اور یہی ابن عیینہ کی حدیث ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور جابر بن سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کی ایک جماعت نے امام کے خطبہ میں قرآن کی کچھ آیتیں پڑھنے کو پسند کیا ہے ۲؎، شافعی کہتے ہیں: امام جب خطبہ دے اور اس میں قرآن کچھ نہ پڑھے تو خطبہ دہرائے۔

English Translation

Safwan bin Ya'la bin Umayyah narrated from his father who said:"I heard the Prophet reciting, when on the Minbar: And they will cry: "O Malik (keeper of Hell)!"." [He said:] There are narrations on this topic from Abu Hurairah and Jabir bin Samurah

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:21

Hadith #509
SahihSahihDaif

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اسْتَوَى عَلَى الْمِنْبَرِ اسْتَقْبَلْنَاهُ بِوُجُوهِنَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَحَدِيثُ مَنْصُورٍ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ‏.‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ضَعِيفٌ ذَاهِبُ الْحَدِيثِ عِنْدَ أَصْحَابِنَا ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ يَسْتَحِبُّونَ اسْتِقْبَالَ الإِمَامِ إِذَا خَطَبَ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَلاَ يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَابِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم شَيْءٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر بیٹھتے تو ہم اپنا منہ آپ کی طرف کر لیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- منصور کی حدیث کو ہم صرف محمد بن فضل بن عطیہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- محمد بن فضل بن عطیہ ہمارے اصحاب کے نزدیک ضعیف اور ذاہب الحدیث ہیں، ۳- اس باب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی گئی کوئی چیز صحیح نہیں ہے ۱؎، ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ خطبے کے وقت امام کی طرف رخ کرنا مستحب سمجھتے ہیں اور یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ۵- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔

English Translation

Abdullah bin Mas'ud narrated:"When Allah's Messenger descending the Minbar he would face our direction

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:22

Hadith #510
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَصَلَّيْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قُمْ فَارْكَعْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک شخص آیا تو آپ نے اُسے پوچھا: کیا تم نے نماز پڑھ لی؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”اٹھو اور ( دو رکعت ) نماز پڑھ لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس باب میں سب سے زیادہ صحیح ہے۔

English Translation

Jabir bin Abdullah narrated:"The Prophet was delivering a Khutbah on Friday when a man came. The Prophet said: 'Have you prayed?' He said no. So he said: 'Then stand and pray.'" Abu Eisa said: This Hadith is Hasan Sahih [It is the most correct thing about this topic]

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:23

Hadith #511
Hasan SahihDaif IsnaadHasan SahihHasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، دَخَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَمَرْوَانُ يَخْطُبُ فَقَامَ يُصَلِّي فَجَاءَ الْحَرَسُ لِيُجْلِسُوهُ فَأَبَى حَتَّى صَلَّى فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا رَحِمَكَ اللَّهُ إِنْ كَادُوا لَيَقَعُوا بِكَ ‏.‏ فَقَالَ مَا كُنْتُ لأَتْرُكَهُمَا بَعْدَ شَيْءٍ رَأَيْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ رَجُلاً جَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي هَيْئَةٍ بَذَّةٍ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَأَمَرَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ ‏.‏ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ كَانَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ إِذَا جَاءَ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ وَكَانَ يَأْمُرُ بِهِ وَكَانَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ يَرَاهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَسَمِعْتُ ابْنَ أَبِي عُمَرَ يَقُولُ قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ ثِقَةً مَأْمُونًا فِي الْحَدِيثِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا دَخَلَ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ فَإِنَّهُ يَجْلِسُ وَلاَ يُصَلِّي ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ ‏.‏ وَالْقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ ‏.‏ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ خَالِدٍ الْقُرَشِيُّ قَالَ رَأَيْتُ الْحَسَنَ الْبَصْرِيَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ ‏.‏ إِنَّمَا فَعَلَ الْحَسَنُ اتِّبَاعًا لِلْحَدِيثِ وَهُوَ رَوَى عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَذَا الْحَدِيثَ ‏.‏

Urdu Translation

عیاض بن عبداللہ بن ابی سرح سے روایت ہے کہ ابو سعید خدری رضی الله عنہ جمعہ کے دن ( مسجد میں ) داخل ہوئے، مروان بن حکم خطبہ دے رہے تھے، وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، پہریدار آئے تاکہ انہیں بٹھا دیں لیکن وہ نہیں مانے اور نماز پڑھ ہی لی، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے ان کے پاس آ کر کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے قریب تھا کہ یہ لوگ آپ سے ہاتھا پائی کر بیٹھتے، تو انہوں نے کہا: میں تو یہ دونوں رکعتیں ہرگز چھوڑنے والا تھا نہیں، بعد اس کے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، پھر انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص جمعہ کے دن پراگندہ حالت میں آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے اسے دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا، اس نے دو رکعتیں پڑھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ ابن ابی عمر کہتے ہیں: سفیان بن عیینہ جب مسجد میں آتے اور امام خطبہ دے رہا ہوتا تو دو رکعتیں پڑھتے تھے، وہ اس کا حکم بھی دیتے تھے، اور ابوعبدالرحمٰن المقری بھی اسے درست سمجھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے ابن ابی عمر کو کہتے سنا کہ سفیان بن عیینہ کہتے تھے کہ محمد بن عجلان ثقہ ہیں اور حدیث میں مامون ہیں، ۳- اس باب میں جابر، ابوہریرہ اور سہل بن سعد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ جب کوئی مسجد میں داخل ہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ بیٹھ جائے نماز نہ پڑھے، یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے، ۵- پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ علاء بن خالد قرشی کہتے ہیں: میں نے حسن بصری کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوئے اور امام خطبہ دے رہا تھا، تو انہوں نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر بیٹھے، حسن بصری نے ایسا حدیث کی اتباع میں کیا، یہ حدیث انہوں نے جابر سے اور جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۱؎۔

English Translation

Iyad bin Abdullah bin Abi Sarh narrated:"Abu Sa'eed Al-Khudri entered (the mosque) on Friday while Marwan was giving the Khutbah, so he began praying. Two guards came to make him sit down but he refused until he had prayed. When he finished he came to us and we said: 'May Allah have mercy upon you. They nearly harmed you.' He said: 'I was not going to stop performing them (the two Rak'ah) after what I saw from Allah's Messenger.' Then he mentioned that a man who appeared untidy came on Fridy while the Prophet was delivering the Friday Khutbah, so he ordered him to pray two Rak'ah all the while the Prophet was delivering the Khutbah

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:24

Hadith #512
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَالَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ أَنْصِتْ فَقَدْ لَغَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا لِلرَّجُلِ أَنْ يَتَكَلَّمَ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ وَقَالُوا إِنْ تَكَلَّمَ غَيْرُهُ فَلاَ يُنْكِرْ عَلَيْهِ إِلاَّ بِالإِشَارَةِ ‏.‏ وَاخْتَلَفُوا فِي رَدِّ السَّلاَمِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ فَرَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي رَدِّ السَّلاَمِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏ وَكَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ ذَلِكَ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ کے دوران کسی سے کہا: چپ رہو تو اس نے لغو بات کی یا اس نے اپنا جمعہ لغو کر لیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن ابی اوفی اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اسی پر عمل ہے، علماء نے آدمی کے لیے خطبہ کے دوران گفتگو کرنا مکروہ جانا ہے اور کہا ہے کہ اگر کوئی دوسرا گفتگو کرے تو اسے بھی منع نہ کرے سوائے اشارے کے، ۴- البتہ دوران خطبہ سلام کے جواب دینے اور چھینکنے والے کے جواب میں «يرحمك الله» کہنے کے سلسلہ میں اختلاف ہے بعض اہل علم نے دوران خطبہ سلام کا جواب دینے اور چھینکنے والے کے جواب میں «يرحمك الله» کہنے کی اجازت دی ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے اور تابعین وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے اسے مکروہ قرار دیا ہے، اور یہی شافعی کا قول ہے۔

English Translation

Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "Whoever said: 'Be quiet' while the Imam is giving the Khutbah then he has committed Laghw (useless activity)

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:25

Hadith #513
DaifDaifDaifDaif

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ تَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ اتَّخَذَ جِسْرًا إِلَى جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا أَنْ يَتَخَطَّى الرَّجُلُ رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَشَدَّدُوا فِي ذَلِكَ ‏.‏ وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ وَضَعَّفَهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ‏.‏

Urdu Translation

معاذ بن انس جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن جس نے لوگوں کی گردنیں پھاندیں اس نے جہنم کی طرف لے جانے والا پل بنا لیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے۔ سہل بن معاذ بن انس جہنی کی حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف رشد بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- البتہ اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ انہوں نے اس بات کو مکروہ سمجھا ہے، کہ آدمی جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندے اور انہوں نے اس میں سختی سے کام لیا ہے۔ اور ان کے حفظ کے تعلق سے انہیں ضعیف گردانا ہے۔ بعض اہل علم نے رشدین بن سعد پر کلام کیا ہے۔

English Translation

Sahl bin Ma'adh bin Anas al Jahni narrated from his father that :Allah's Messenger said: "Whoever steps over the necks of the people on Friday, he has taken a bridge to Hell

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:26

Hadith #514
HasanHasanHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، وَعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْحَبْوَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَأَبُو مَرْحُومٍ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مَيْمُونٍ ‏.‏ وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ الْحَبْوَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ وَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ بَعْضُهُمْ مِنْهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَغَيْرُهُ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ لاَ يَرَيَانِ بِالْحَبْوَةِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ بَأْسًا ‏.‏

Urdu Translation

معاذ بن انس جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن جب کہ امام خطبہ دے رہا ہو گھٹنوں کو پیٹ کے ساتھ ملا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- عام اہل علم نے جمعہ کے دن حبوہ کو مکروہ جانا ہے، اور بعض نے اس کی رخصت دی ہے، انہیں میں سے عبداللہ بن عمر وغیرہ ہیں۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، یہ دونوں امام کے خطبہ دینے کی حالت میں حبوہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ۱؎۔

English Translation

Sahl bin Ma'adh narrated from his father:"The Prophet prohibited Al-Habwah on Friday while the Imam is delivering the Khutbah

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:27

Hadith #515
SahihSahihHasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ، رُوَيْبَةَ الثَّقَفِيَّ، وَبِشْرُ بْنُ مَرْوَانَ، يَخْطُبُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ فَقَالَ عُمَارَةُ قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيُدَيَّتَيْنِ الْقُصَيِّرَتَيْنِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَأَشَارَ هُشَيْمٌ بِالسَّبَّابَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

حصین کہتے ہیں کہ بشر بن مروان خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے دعا ۱؎ کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، تو میں نے عمارہ بن رویبہ کو کہتے سنا: اللہ ان دونوں چھوٹے ہاتھوں کو غارت کرے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صرف اس طرح کرتے تھے اس سے زیادہ کچھ نہیں، اور ہشیم نے اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Husain narrated:"I heard Umarah bin Rawaibah Ath-Thaqafi - while Bishr bin Marwan was delivering Khutbah and raising his hands in supplication - so Umarah said: 'May Allah disgrace these two insignificant hands, I have seen Allah's Messenger, and he would not do any more than this;'" and Hushaim (one of the narrators) motioned with his index finger

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:28

Hadith #516
SahihSahihHasan SahihSahih Bukhari

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ كَانَ الأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ إِذَا خَرَجَ الإِمَامُ وَإِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ رضى الله عنه زَادَ النِّدَاءَ الثَّالِثَ عَلَى الزَّوْرَاءِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے زمانے میں ( پہلی ) اذان اس وقت ہوتی جب امام نکلتا اور ( دوسری ) جب نماز کھڑی ہوتی ۱؎ پھر جب عثمان رضی الله عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے زوراء ۲؎ میں تیسری اذان کا اضافہ کیا ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

As-Sa'ib bin Yazid narrated:"The Adhan during the time of Allah's Messenger, Abu Bakr, and Umar was when the Imam came out, [and when] the Iqamah was called for the Salat. Then Uthman [may Allah be pleased with him] added a third call at Az-Zawra

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:29

Hadith #517
ShadhShadhDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُكَلَّمُ بِالْحَاجَةِ إِذَا نَزَلَ عَنِ الْمِنْبَرِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ وَهِمَ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَأَخَذَ رَجُلٌ بِيَدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَمَا زَالَ يُكَلِّمُهُ حَتَّى نَعَسَ بَعْضُ الْقَوْمِ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ وَالْحَدِيثُ هُوَ هَذَا ‏.‏ وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ رُبَّمَا يَهِمُ فِي الشَّىْءِ وَهُوَ صَدُوقٌ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ وَهِمَ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ فِي حَدِيثِ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ وَيُرْوَى عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ فَحَدَّثَ حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي ‏"‏ ‏.‏ فَوَهِمَ جَرِيرٌ فَظَنَّ أَنَّ ثَابِتًا حَدَّثَهُمْ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ضرورت کی بات اس وقت کرتے جب آپ منبر سے اترتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم اس حدیث کو صرف جریر بن حازم کی روایت سے جانتے ہیں، اور میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ جریر بن حازم کو اس حدیث میں وہم ہوا ہے، اور صحیح وہی ہے جو بطریق: «ثابت عن أنس» مروی ہے، انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نماز کھڑی ہوئی اور ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا تو آپ برابر اس سے گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ بعض لوگوں کو اونگھ آنے لگی۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: حدیث یہی ہے، اور جریر کو کبھی کبھی وہم ہو جاتا ہے حالانکہ وہ صدوق ہیں۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ جریر بن حازم کو ثابت کی حدیث میں ( بھی ) جسے ثابت نے انس سے اور انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے وہم ہوا ہے ( جو یہ ہے کہ ) آپ نے فرمایا: جب نماز کھڑی ہو جائے تو تم اس وقت تک نہ کھڑے ہو جب تک کہ مجھے نہ دیکھ لو۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: نیز حماد بن زید سے روایت کی جاتی ہے کہ ہم لوگ ثابت بنانی کے پاس تھے، اور حجاج صواف نے یحییٰ ابن ابی کثیر کے واسطہ سے حدیث بیان کی، جسے یحییٰ نے عبداللہ بن ابوقتادہ سے اور عبداللہ نے اپنے والد ابوقتادہ سے اور ابوقتادہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جب نماز کھڑی ہو جائے تو تم کھڑے نہ ہو جب تک کہ مجھے نہ دیکھ لو“ چنانچہ جریر کو وہم ہوا، انہیں گمان ہوا کہ ثابت نے ان سے بیان کیا ہے اور ثابت نے انس سے اور انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔

English Translation

Anas bin Malik narrated:"Allah's Messenger would talk as necessary after descending from the Minbar

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:30

Hadith #518
SahihSahihHasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ مَا تُقَامُ الصَّلاَةُ يُكَلِّمُهُ الرَّجُلُ يَقُومُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَمَا يَزَالُ يُكَلِّمُهُ فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَنَا يَنْعَسُ مِنْ طُولِ قِيَامِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نماز کھڑی ہو جانے کے بعد میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سے ایک آدمی باتیں کر رہا ہے، اور آپ اس کے اور قبلے کے درمیان کھڑے ہیں، آپ برابر اس سے گفتگو کرتے رہے، میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طول قیام کی وجہ سے بعض لوگ اونگھ رہے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Anas narrated:"I saw the Prophet, after the Iqamah was called for Salat, talking to a man who was standing between him and the Qiblah, he did not stop talking, and I saw some of them getting sleepy from his lengthy standing the Prophet

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:31

Hadith #519
SahihSahihHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ وَخَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّى بِنَا أَبُو هُرَيْرَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَرَأَ سُورَةَ الْجُمُعَةِ وَفِي السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ‏:‏ ‏(‏ِإذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ ‏)‏ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَأَدْرَكْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ لَهُ تَقْرَأُ بِسُورَتَيْنِ كَانَ عَلِيٌّ يَقْرَأُ بِهِمَا بِالْكُوفَةِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ بِهِمَا ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ وَأَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلاَنِيِّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلاَةِ الْجُمُعَةِ بِـ ‏(‏ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ‏)‏ وَ ‏(‏هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ‏)‏ ‏.‏ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ كَاتِبُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ‏.‏

Urdu Translation

عبیداللہ بن ابی رافع کہتے ہیں: مروان نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کو مدینے میں اپنا نائب مقرر کیا اور وہ خود مکہ کی طرف نکلے، ابوہریرہ رضی الله عنہ نے ہمیں جمعہ کے دن نماز پڑھائی تو انہوں نے ( پہلی رکعت میں ) سورۃ الجمعہ پڑھی اور دوسری رکعت میں «إذا جاءك المنافقون»،‏‏‏‏ عبیداللہ کہتے ہیں: تو میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ملا، میں نے ان سے کہا: آپ نے دو ایسی سورتیں پڑھی ہیں جنہیں علی رضی الله عنہ کوفہ میں پڑھتے ہیں، اس پر ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: میں نے ان دونوں سورتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے سنا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، نعمان بن بشیر اور ابوعنبہ خولانی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ جمعہ کی نماز میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔

English Translation

Ubaidullah bin Abi Rafi the freed slave of Allah's Messenger said:"Marwan left Abu Hurairah in charge of Al-Madinah and he went to Makkah. So Abu Hurairah led us in Salat in Friday, reciting Surah Al-Jumuah (in the first Rak'ah) and in the second prostration (Rak'ah): When the hypocrites come to you." Ubaidullah said: "So I caught up with Abu Hurairah and said to him: 'You recited two Surah that Ali recited in Al-Kufah. Abu Hurairah said: 'Indeed I heard Allah's Messenger reciting them

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:32

Hadith #520
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ * ‏(‏تَنْزِيلُ ‏)‏ السَّجْدَةَ وَ ‏(‏هَلْ أَتَى عَلَى الإِنْسَانِ ‏)‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ مُخَوَّلٍ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں «الم ‏تنزيل السجدةَ»،‏‏‏‏ «هل أتى على الإنسان» پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سعد، ابن مسعود اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- سفیان ثوری، شعبہ اور کئی لوگوں نے بھی یہ حدیث مخول بن راشد سے روایت کی ہے۔

English Translation

Ibn Abbas narrated:"For the Fajr prayer on Friday, Allah's Messenger would recite: Alif Lam Mem (which is) revealed in (Surat) As-Sajdah and, Has there not been over man

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:33

Hadith #521
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَيْضًا ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعت ( سنت ) پڑھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- یہ حدیث بطریق «نافع عن ابن عمر» ہے، ۴- اسی پر بعض اہل علم کا عمل ہے، اور یہی شافعی اور احمد بھی کہتے ہیں۔

English Translation

Salim narrated from his father:"The Prophet would pray two Rak;ah after the Friday prayer

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:34

Hadith #522
SahihSahihHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ انْصَرَفَ فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

نافع سے روایت ہے ابن عمر رضی الله عنہما جب جمعہ پڑھ لیتے تو ( گھر ) واپس آتے اور دو رکعت اپنے گھر میں پڑھتے پھر کہتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Nafi narrated about Ibn Umar:"When he prayed the Friday prayer, he left and prayed two prostrations (Rak'ah) in his house. Then he said: 'Allah's Messenger would do this

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:35

Hadith #523
SahihSahihHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ كُنَّا نَعُدُّ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ ثَبْتًا فِي الْحَدِيثِ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏ وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضى الله عنه أَنَّهُ أَمَرَ أَنْ يُصَلَّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَرْبَعًا ‏.‏ وَذَهَبَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ إِلَى قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ ‏.‏ وَقَالَ إِسْحَاقُ إِنْ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ صَلَّى أَرْبَعًا وَإِنْ صَلَّى فِي بَيْتِهِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ‏.‏ وَاحْتَجَّ بِأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ وَحَدِيثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَابْنُ عُمَرَ هُوَ الَّذِي رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ وَابْنُ عُمَرَ بَعْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّى بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ أَرْبَعًا ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ صَلَّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ أَرْبَعًا ‏.‏ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَنَصَّ لِلْحَدِيثِ مِنَ الزُّهْرِيِّ وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا الدَّنَانِيرُ وَالدَّرَاهِمُ أَهْوَنُ عَلَيْهِ مِنْهُ إِنْ كَانَتِ الدَّنَانِيرُ وَالدَّرَاهِمُ عِنْدَهُ بِمَنْزِلَةِ الْبَعْرِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى سَمِعْت ابْنَ أَبِي عُمَرَ قَال سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ يَقُولُ كَانَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَسَنَّ مِنْ الزُّهْرِيِّ

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم میں سے جمعہ کے بعد نماز پڑھے تو چاہیئے کہ چار رکعت پڑھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۳- نیز عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے بھی مروی ہے کہ وہ جمعہ سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد بھی چار رکعتیں پڑھتے تھے، ۴- اور علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے بھی مروی ہے کہ انہوں نے حکم دیا کہ جمعہ کے بعد پہلے دو پھر چار رکعتیں پڑھی جائیں، ۵- سفیان ثوری اور ابن مبارک بھی ابن مسعود کے قول کی طرف گئے ہیں، ۶- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: جمعہ کے دن اگر مسجد میں پڑھے تو چار رکعتیں اور اگر اپنے گھر میں پڑھے تو دو رکعتیں پڑھے، ان کی دلیل یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ( یہ بھی ) حدیث ہے کہ تم میں سے جو کوئی جمعہ کے بعد نماز پڑھے تو چار رکعتیں پڑھے، ۷- ابن عمر رضی الله عنہما ہی ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے۔ اور ابن عمر رضی الله عنہما نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسجد میں جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں اور دو رکعتوں کے بعد چار رکعتیں پڑھیں۔ عطا سے روایت کی ہے کہ میں نے ابن عمر رضی الله عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں۔ اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں۔

English Translation

Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "Whoever among you is to pray after the Friday prayer, then let him pray four

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:36

Hadith #524
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلاَةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلاَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ قَالُوا مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْجُمُعَةِ صَلَّى إِلَيْهَا أُخْرَى وَمَنْ أَدْرَكَهُمْ جُلُوسًا صَلَّى أَرْبَعًا ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز میں ایک رکعت پا لی اس نے نماز پا لی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جس نے جمعہ کی ایک رکعت پا لی تو وہ دوسری رکعت ( خود سے ) پڑھ لے اور جس نے لوگوں کو سجدے میں پایا تو وہ چار رکعت ( ظہر کی نماز ) پڑھے۔ اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ۲؎۔

English Translation

Abu Hurairah narrated that :the Prophet said: "Whoever catches a Rak'ah of the Salat then he has caught the Salat

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:37

Hadith #525
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، رضى الله عنه قَالَ مَا كُنَّا نَتَغَدَّى فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ نَقِيلُ إِلاَّ بَعْدَ الْجُمُعَةِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضى الله عنه ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جمعہ کے بعد ہی کھانا کھاتے اور قیلولہ کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سہل بن سعد کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس بن مالک سے بھی روایت ہے۔

English Translation

Sahl bin Sa'd narrated:"We would not have lunch during the time of Allah's Messenger, nor would we have a siesta, until after the Friday prayer

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:38

Hadith #526
SahihSahihHasan SahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَأَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن اونگھے تو اپنی جگہ بدل دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Ibn Umar narrated that :the Prophet said: "When one of you becomes sleepy during the Friday prayer, then let him move from where he is sitting

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:39

Hadith #527
Daif IsnaadDaif IsnaadDaif

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فِي سَرِيَّةٍ فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَغَدَا أَصْحَابُهُ فَقَالَ أَتَخَلَّفُ فَأُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ ‏.‏ فَلَمَّا صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَآهُ فَقَالَ ‏"‏ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَغْدُوَ مَعَ أَصْحَابِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ ثُمَّ أَلْحَقَهُمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَدْرَكْتَ فَضْلَ غَدْوَتِهِمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ شُعْبَةُ لَمْ يَسْمَعِ الْحَكَمُ مِنْ مِقْسَمٍ إِلاَّ خَمْسَةَ أَحَادِيثَ ‏.‏ وَعَدَّهَا شُعْبَةُ وَلَيْسَ هَذَا الْحَدِيثُ فِيمَا عَدَّ شُعْبَةُ فَكَأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ لَمْ يَسْمَعْهُ الْحَكَمُ مِنْ مِقْسَمٍ ‏.‏ وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي السَّفَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلَمْ يَرَ بَعْضُهُمْ بَأْسًا بِأَنْ يَخْرُجَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي السَّفَرِ مَا لَمْ تَحْضُرِ الصَّلاَةُ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا أَصْبَحَ فَلاَ يَخْرُجْ حَتَّى يُصَلِّيَ الْجُمُعَةَ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن رواحہ رضی الله عنہ کو ایک سریہ میں بھیجا، اتفاق سے وہ جمعہ کا دن تھا، ان کے ساتھی صبح سویرے روانہ ہو گئے، انہوں نے ( اپنے جی میں ) کہا: میں پیچھے رہ جاتا ہوں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ لیتا ہوں۔ پھر میں ان لوگوں سے جا ملوں گا، چنانچہ جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، تو آپ نے انہیں دیکھ کر فرمایا: ”تمہیں کس چیز نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ جانے سے روک دیا؟“، عرض کیا: میں نے چاہا کہ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ لوں پھر میں ان سے جا ملوں گا۔ آپ نے فرمایا: ”اگر تم جو کچھ زمین میں ہے سب خرچ کر ڈالو تو بھی ان کے صبح روانہ ہونے کا ثواب نہیں پاس کو گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم صرف اسی سند سے اسے جانتے ہیں، ۲- یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ شعبہ کہتے ہیں کہ حکم نے مقسم سے صرف پانچ حدیثیں سنی ہیں اور شعبہ نے انہیں گن کر بتایا تو یہ حدیث شعبہ کی گنی ہوئی حدیثوں میں نہیں تھی۔ گویا حکم نے یہ حدیث مقسم سے نہیں سنی ہے، ۳- جمعہ کے دن سفر کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض لوگوں نے جمعہ کے دن سفر پر نکلنے میں کوئی حرج نہیں جانا ہے جب کہ نماز کا وقت نہ ہوا ہو اور بعض کہتے ہیں، جب جمعہ کی صبح ہو جائے تو جمعہ پڑھے بغیر نہ نکلے ۱؎۔

English Translation

Ibn Abbas narrated:"The Prophet sent Abdullah bin Rawahah to lead a military detachment, and that corresponded to a Friday. So his companions left early in the day, and he said: 'I will remain behind to pray with Allah's Messenger then meet up with them.' When he prayed with the Prophet, he saw him and said: 'What prevented you from leaving earlier with your companions?' He said: 'I wanted to pray with you then meet up with them.' He said: 'If you have spent [all of] what is in the earth, you would not have achieved the virtue you have had you left early in the day with them

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:40

Hadith #528
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى، إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ حَقٌّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلْيَمَسَّ أَحَدُهُمْ مِنْ طِيبِ أَهْلِهِ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَالْمَاءُ لَهُ طِيبٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَشَيْخٍ مِنَ الأَنْصَارِ ‏.‏

Urdu Translation

براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ جمعہ کے دن غسل کریں اور ہر ایک اپنے گھر والوں کی خوشبو میں سے خوشبو لگائے، اگر اسے خوشبو میسر نہ ہو تو پانی ہی اس کے لیے خوشبو ہے“۔ اس باب میں ابوسعید رضی الله عنہ اور ایک انصاری شیخ سے بھی روایت ہے۔

English Translation

Al-Bara bin Azib narrated that :Allah's Messenger said: "It is a duty for the Muslims, that they perform Ghusl on Friday, and that each of them wear some of his family's perfume. If he does not find any, then water is a perfume for him

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:41

Hadith #529
DaifDaif

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ الْبَرَاءِ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَرِوَايَةُ هُشَيْمٍ أَحْسَنُ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ‏.‏ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ‏.‏ أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Urdu Translation

اس سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- براء رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- ہشیم کی روایت ( رقم ۵۲۹ ) اسماعیل بن ابراہیم تیمی کی روایت ( رقم ۵۲۸ ) سے زیادہ اچھی ہے، ۳- اسماعیل بن ابراہیم تیمی کو حدیث کے سلسلے میں ضعیف گردانا جاتا ہے ۱؎۔

English Translation

Al-Bara bin Azib narrated:(Another route for the same chain) similar in meaning

Reference: Jami at-Tirmidhi 4:42