Taleemi DuniyaTaleemi Duniya
Jami at-Tirmidhi

Chapter 1 of 49

The Book on Purification

طہارت کے ابواب

148 hadiths in this chapter

Hadith #1
SahihSahihSahih - Bukhari And Muslim

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ تُقْبَلُ صَلاَةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلاَ صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَنَّادٌ فِي حَدِيثِهِ ‏"‏ إِلاَّ بِطُهُورٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا الْحَدِيثُ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسٍ ‏.‏ وَأَبُو الْمَلِيحِ بْنُ أُسَامَةَ اسْمُهُ عَامِرٌ وَيُقَالُ زَيْدُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ عُمَيْرٍ الْهُذَلِيُّ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز بغیر وضو کے قبول نہیں کی جاتی ۲؎ اور نہ صدقہ حرام مال سے قبول کیا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں یہ حدیث سب سے صحیح اور حسن ہے ۳؎۔ ۲- اس باب میں ابوالملیح کے والد اسامہ، ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Ibn `Umar narrated that:the Prophet said: "Salat will not be accepted without purification, nor Charity from Ghulul." Hannad said in his narration, "except with purification" [Abu `Eisa said: This Hadith is the most correct thing on this topic, and the best. There are also narrations on this topic from Abu Al-Malih, from his father; and Abu Hurairah and Anas. And Abu Al-Malih bin Usamah's name is `Amir, and they also say it was Zaid bin Usamah bin `Umair Al-Hudhali]

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:1

Hadith #2
SahihSahihHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ أَوْ نَحْوِ هَذَا وَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ حَدِيثُ مَالِكٍ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ وَأَبُو صَالِحٍ وَالِدُ سُهَيْلٍ هُوَ أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ وَاسْمُهُ ذَكْوَانُ ‏.‏ وَأَبُو هُرَيْرَةَ اخْتُلِفَ فِي اسْمِهِ فَقَالُوا عَبْدُ شَمْسٍ وَقَالُوا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَهَكَذَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ الأَصَحُّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَثَوْبَانَ وَالصُّنَابِحِيِّ وَعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ وَسَلْمَانَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏ وَالصُّنَابِحِيُّ الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ لَيْسَ لَهُ سَمَاعٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَيْلَةَ وَيُكْنَى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ رَحَلَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُبِضَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي الطَّرِيقِ وَقَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَحَادِيثَ ‏.‏ وَالصُّنَابِحُ بْنُ الأَعْسَرِ الأَحْمَسِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُقَالُ لَهُ الصُّنَابِحِيُّ أَيْضًا وَإِنَّمَا حَدِيثُهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الأُمَمَ فَلاَ تَقْتَتِلُنَّ بَعْدِي ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے چہرے سے وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں ۱؎، جو اس کی آنکھوں نے کیے تھے یا اسی طرح کی کوئی اور بات فرمائی، پھر جب وہ اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں جو اس کے ہاتھوں سے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک و صاف ہو کر نکلتا ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۳؎، ۲- اس باب میں عثمان بن عفان، ثوبان، صنابحی، عمرو بن عبسہ، سلمان اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صنابحی جنہوں نے ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، ان کا سماع رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے نہیں ہے، ان کا نام عبدالرحمٰن بن عسیلہ، اور کنیت ابوعبداللہ ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس سفر کیا، راستے ہی میں تھے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا، انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے متعدد احادیث روایت کی ہیں۔ اور صنابح بن اعسرا حمسی صحابی رسول ہیں، ان کو صنابحی بھی کہا جاتا ہے، انہی کی حدیث ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میں تمہارے ذریعہ سے دوسری امتوں میں اپنی اکثریت پر فخر کروں گا تو میرے بعد تم ہرگز ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا“۔

English Translation

Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "When a Muslim, or believer, performs Wudu', washing his face, every evil that he looked at with his eyes leaves with the water - or with the last drop of water, or an expression similar to that - and when he washes his hands, every evil he did with his hands leaves with the water - or with the last drop of water - until he becomes free of sin

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:2

Hadith #3
Hasan SahihHasan SahihHasanHasan

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَهَنَّادٌ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مِفْتَاحُ الصَّلاَةِ الطُّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا الْحَدِيثُ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ ‏.‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ هُوَ صَدُوقٌ وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ كَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَالْحُمَيْدِيُّ يَحْتَجُّونَ بِحَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَأَبِي سَعِيدٍ ‏.‏

Urdu Translation

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی کنجی وضو ہے، اور اس کا تحریمہ صرف «اللہ اکبر» کہنا ہے ۱؎ اور نماز میں جو چیزیں حرام تھیں وہ «السلام علیکم ورحمة اللہ» کہنے ہی سے حلال ہوتی ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں یہ حدیث سب سے صحیح اور حسن ہے، ۲- عبداللہ بن محمد بن عقیل صدوق ہیں ۳؎، بعض اہل علم نے ان کے حافظہ کے تعلق سے ان پر کلام کیا ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ احمد بن حنبل، اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ اور حمیدی: عبداللہ بن محمد بن عقیل کی روایت سے حجت پکڑتے تھے، اور وہ مقارب الحدیث ۴؎ ہیں، ۳- اس باب میں جابر اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Ali narrated that :the Prophet, said: "The key to Salat is the purification, its Tahrlm is the Takblr, and its Tahlil is the Taslim

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:3

Hadith #4
Sahih LighairihiSahihDaif

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجَوَيْهِ الْبَغْدَادِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْقَتَّاتِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رضى الله عنهما قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مِفْتَاحُ الْجَنَّةِ الصَّلاَةُ وَمِفْتَاحُ الصَّلاَةِ الْوُضُوءُ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز جنت کی کنجی ہے، اور نماز کی کنجی وضو ہے“۔

English Translation

Jabir bin 'Abdullah, may Allah be pleased with them, narrated that :Allah's Messenger said: "The key to Paradise is Salat, and the key to Salat is Wudu

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:4

Hadith #5
SahihSahihIsnaad Sahih Bukhari And Muslim

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَهَنَّادٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ قَالَ شُعْبَةُ وَقَدْ قَالَ مَرَّةً أُخْرَى أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبِيثِ أَوِ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ وَجَابِرٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ ‏.‏ وَحَدِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ رَوَى هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ فَقَالَ سَعِيدٌ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ‏.‏ وَقَالَ هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ‏.‏ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ وَمَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ فَقَالَ شُعْبَةُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ‏.‏ وَقَالَ مَعْمَرٌ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا فَقَالَ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ قَتَادَةُ رَوَى عَنْهُمَا جَمِيعًا ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے پاخانہ میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبيث أو الخبث والخبائث» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ناپاکی سے اور ناپاک شخص سے، یا ناپاک جنوں سے اور ناپاک جنیوں سے“ ۱؎۔ شعبہ کہتے ہیں: عبدالعزیز نے دوسری بار «اللهم إني أعوذ بك» کے بجائے «أعوذ بالله» کہا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی، زید بن ارقم، جابر اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- انس رضی الله عنہ کی حدیث اس باب میں سب سے صحیح اور عمدہ ہے، ۳- زید بن ارقم کی سند میں اضطراب ہے، امام بخاری کہتے ہیں: کہ ہو سکتا ہے قتادہ نے اسے ( زید بن ارقم سے اور نضر بن انس عن أبیہ ) دونوں سے ایک ساتھ روایت کیا ہو۔

English Translation

Anas bin Malik said:"When the Prophet entered the toilet he would say: 'O Allah Indeed I seek refuge in You.'" Shu'bah (one of the narrators) said: "Another time he said: 'I seek refuge in You from AI-Khubthi and al-Khablth.' Or: 'Al-Khubthi and Al-Khaba'ith

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:5

Hadith #6
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو پڑھتے: «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» ”اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ناپاک جنوں اور ناپاک جنیوں سے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Anas bin Malik said:"When the Prophet would enter the toilet 'He said: "O Allah! Indeed I seek refuge in You from Al-Khubith and Al- Khaba'ith

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:6

Hadith #7
SahihSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلاَءِ قَالَ ‏ "‏ غُفْرَانَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ‏.‏ وَأَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى اسْمُهُ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الأَشْعَرِيُّ ‏.‏ وَلاَ نَعْرِفُ فِي هَذَا الْبَابِ إِلاَّ حَدِيثَ عَائِشَةَ رضى الله عنها عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم قضائے حاجت کے بعد جب پاخانہ سے نکلتے تو فرماتے: «غفرانك‏» یعنی ”اے اللہ: میں تیری بخشش کا طلب گار ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ۲؎، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا ہی کی حدیث معروف ہے ۳؎۔

English Translation

Aishah, [may Allah be pleased with her] said:"When the Prophet would exit the toilet he would say: 'Ghufranak

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:7

Hadith #8
SahihSahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلاَ تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلاَ بَوْلٍ وَلاَ تَسْتَدْبِرُوهَا وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ فَقَدِمْنَا الشَّأْمَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ مُسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ عَنْهَا وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ وَمَعْقِلِ بْنِ أَبِي الْهَيْثَمِ وَيُقَالُ مَعْقِلُ بْنُ أَبِي مَعْقِلٍ وَأَبِي أُمَامَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ ‏.‏ وَأَبُو أَيُّوبَ اسْمُهُ خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ ‏.‏ وَالزُّهْرِيُّ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ وَكُنْيَتُهُ أَبُو بَكْرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ الْمَكِّيُّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ إِنَّمَا مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلاَ بِبَوْلٍ وَلاَ تَسْتَدْبِرُوهَا ‏"‏ ‏.‏ إِنَّمَا هَذَا فِي الْفَيَافِي وَأَمَّا فِي الْكُنُفِ الْمَبْنِيَّةِ لَهُ رُخْصَةٌ فِي أَنْ يَسْتَقْبِلَهَا ‏.‏ وَهَكَذَا قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ‏.‏ وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ إِنَّمَا الرُّخْصَةُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي اسْتِدْبَارِ الْقِبْلَةِ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ وَأَمَّا اسْتِقْبَالُ الْقِبْلَةِ فَلاَ يَسْتَقْبِلُهَا ‏.‏ كَأَنَّهُ لَمْ يَرَ فِي الصَّحْرَاءِ وَلاَ فِي الْكُنُفِ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ ‏.‏

Urdu Translation

ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ تو پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کرو اور نہ پیٹھ، بلکہ منہ کو پورب یا پچھم کی طرف کرو“ ۱؎۔ ابوایوب انصاری کہتے ہیں: ہم شام آئے تو ہم نے دیکھا کہ پاخانے قبلہ رخ بنائے گئے ہیں تو قبلہ کی سمت سے ترچھے مڑ جاتے اور ہم اللہ سے مغفرت طلب کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی، معقل بن ابی ہیشم ( معقل بن ابی معقل ) ابوامامہ، ابوہریرہ اور سہل بن حنیف رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابوایوب کی حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور سب سے صحیح ہے، ۳- ابوالولید مکی کہتے ہیں: ابوعبداللہ محمد بن ادریس شافعی کا کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا ہے کہ پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کرو اور نہ پیٹھ، اس سے مراد صرف صحراء ( میدان ) میں نہ کرنا ہے، رہے بنے بنائے پاخانہ گھر تو ان میں قبلہ کی طرف منہ کرنا جائز ہے، اسی طرح اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بھی کہا ہے، احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف صرف پیٹھ کرنے کی رخصت ہے، رہا قبلہ کی طرف منہ کرنا تو یہ کسی بھی طرح جائز نہیں، گویا کہ ( امام احمد ) قبلہ کی طرف منہ کرنے کو نہ صحراء میں جائز قرار دیتے ہیں اور نہ ہی بنے بنائے پاخانہ گھر میں ( البتہ پیٹھ کرنے کو بیت الخلاء میں جائز سمجھتے ہیں ) ۔

English Translation

Abu Ayyub Al-Ansari narrated that :Allah's Messenger said: "When one of you arrives to defecate, then let none of you face the Qiblah while defecating, nor while urinating. And do not have your back towards it, but have it east of you or west of you

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:8

Hadith #9
SahihSahihHasanHasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِبَوْلٍ فَرَأَيْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ بِعَامٍ يَسْتَقْبِلُهَا ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ وَعَائِشَةَ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ ہم پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ کریں، پھر میں نے وفات سے ایک سال پہلے آپ کو قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں جابر رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوقتادہ، عائشہ، اور عمار بن یاسر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Jabir bin Abdullah said:"The Prophet prohibited us from facing the Qiblah while urinating. Then i saw him facing it a year before he died

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:9

Hadith #10
Daif IsnaadDaif IsnaadDaifDaif

وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَبُولُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ‏.‏ وَحَدِيثُ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ ‏.‏ وَابْنُ لَهِيعَةَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن لہیعہ نے یہ حدیث ابوالزبیر سے اور ابوالزبیر نے جابر رضی الله عنہ سے کہ ابوقتادہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ جابر رضی الله عنہ کی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے یہ حدیث ابن لہیعہ کی حدیث ( جس میں جابر کے بعد ابوقتادہ رضی الله عنہ کا واسطہ ہے ) سے زیادہ صحیح ہے، ابن لہیعہ محدّثین کے نزدیک ضعیف ہیں، یحییٰ بن سعیدالقطان وغیرہ نے ان کی حفظ کے اعتبار سے تضعیف کی ہے۔

English Translation

Abu Qatadah narrated that :he saw the Prophet urinating while facing the Qiblah. Qutaibah narrated that to us, he said: "Ibn Lahi'ah informed us." Jabir's Hadlth about the Prophet is more correct than the Hadith of Ibn Lahi'ah. Ibn Lahi'ah is weak according to the scholars of Hadith. He was graded weak by Yahya bin Sa'eed Al-Qattan, and others, [due to his memorization]

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:10

Hadith #11
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ رَقِيتُ يَوْمًا عَلَى بَيْتِ حَفْصَةَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَلَى حَاجَتِهِ مُسْتَقْبِلَ الشَّأْمِ مُسْتَدْبِرَ الْكَعْبَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک روز میں ( اپنی بہن ) حفصہ رضی الله عنہا کے گھر کی چھت پر چڑھا تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ شام کی طرف منہ اور کعبہ کی طرف پیٹھ کر کے قضائے حاجت فرما رہے ہیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Ibn 'Umar said:"One day I climbed on Hafsah's house, and I saw the Prophet relieving himself while facing Ash-Sham, with his back toward the Ka'bah

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:11

Hadith #12
SahihDaifDaifDaif

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَنْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَبُولُ قَائِمًا فَلاَ تُصَدِّقُوهُ مَا كَانَ يَبُولُ إِلاَّ قَاعِدًا ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَبُرَيْدَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ ‏.‏ وَحَدِيثُ عُمَرَ إِنَّمَا رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ قَالَ رَآنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبُولُ قَائِمًا فَقَالَ ‏ "‏ يَا عُمَرُ لاَ تَبُلْ قَائِمًا ‏"‏ ‏.‏ فَمَا بُلْتُ قَائِمًا بَعْدُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَإِنَّمَا رَفَعَ هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ وَتَكَلَّمَ فِيهِ ‏.‏ وَرَوَى عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ عُمَرُ رضى الله عنه مَا بُلْتُ قَائِمًا مُنْذُ أَسْلَمْتُ ‏.‏ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْكَرِيمِ وَحَدِيثُ بُرَيْدَةَ فِي هَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ ‏.‏ وَمَعْنَى النَّهْىِ عَنِ الْبَوْلِ قَائِمًا عَلَى التَّأْدِيبِ لاَ عَلَى التَّحْرِيمِ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِنَّ مِنَ الْجَفَاءِ أَنْ تَبُولَ وَأَنْتَ قَائِمٌ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جو تم سے یہ کہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کھڑے ہو کر پیشاب کرتے تھے تو تم اس کی تصدیق نہ کرنا، آپ بیٹھ کر ہی پیشاب کرتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عمر، بریدہ، عبدالرحمٰن بن حسنہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا کی یہ حدیث سب سے زیادہ عمدہ اور صحیح ہے، ۳- عمر رضی الله عنہ کی حدیث میں ہے کہ مجھے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”عمر! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو“، چنانچہ اس کے بعد سے میں نے کبھی بھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔ عمر رضی الله عنہ کی اس حدیث کو عبدالکریم ابن ابی المخارق نے مرفوعاً روایت کیا ہے اور وہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ایوب سختیانی نے ان کی تضعیف کی ہے اور ان پر کلام کیا ہے، نیز یہ حدیث عبیداللہ نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر سے کہ عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے جب سے اسلام قبول کیا کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔ یہ حدیث عبدالکریم بن ابی المخارق کی حدیث سے ( روایت کے اعتبار سے ) زیادہ صحیح ہے ۲؎، ۴- اس باب میں بریدۃ رضی الله عنہ کی حدیث محفوظ نہیں ہے، ۵- کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی ممانعت ادب کے اعتبار سے ہے حرام نہیں ہے ۳؎، ۶- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے منقول ہے کہ تم کھڑے ہو کر پیشاب کرو یہ پھوہڑ پن ہے ۴؎۔

English Translation

Aishah said:"Whoever narrated to you that the Prophet would urinate while standing; then do not believe him. He would not urinate except while squatting." [He said:] There are narrations on this topic from Umar, Buraidah, [and Abdur-Rahman bin Hasanah]

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:12

Hadith #13
SahihSahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ عَلَيْهَا قَائِمًا فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوءٍ فَذَهَبْتُ لأَتَأَخَّرَ عَنْهُ فَدَعَانِي حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ عَقِبَيْهِ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَسَمِعْتُ الْجَارُودَ يَقُولُ سَمِعْتُ وَكِيعًا يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنِ الأَعْمَشِ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ وَكِيعٌ هَذَا أَصَحُّ حَدِيثٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْحِ ‏.‏ وَسَمِعْتُ أَبَا عَمَّارٍ الْحُسَيْنَ بْنَ حُرَيْثٍ يَقُولُ سَمِعْتُ وَكِيعًا فَذَكَرَ نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَكَذَا رَوَى مَنْصُورٌ وَعُبَيْدَةُ الضَّبِّيُّ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ مِثْلَ رِوَايَةِ الأَعْمَشِ ‏.‏ وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَعَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَحَدِيثُ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَصَحُّ ‏.‏ وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْبَوْلِ قَائِمًا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَعَبِيدَةُ بْنُ عَمْرٍو السَّلْمَانِيُّ رَوَى عَنْهُ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ ‏.‏ وَعَبِيدَةُ مِنْ كِبَارِ التَّابِعِينَ يُرْوَى عَنْ عَبِيدَةَ أَنَّهُ قَالَ أَسْلَمْتُ قَبْلَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِسَنَتَيْنِ ‏.‏ وَعُبَيْدَةُ الضَّبِّيُّ صَاحِبُ إِبْرَاهِيمَ هُوَ عُبَيْدَةُ بْنُ مُعَتِّبٍ الضَّبِّيُّ وَيُكْنَى أَبَا عَبْدِ الْكَرِيمِ ‏.‏

Urdu Translation

حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا گزر ایک قوم کے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر سے ہوا تو آپ نے اس پر کھڑے ہو کر پیشاب کیا، میں آپ کے لیے وضو کا پانی لایا، اسے رکھ کر میں پیچھے ہٹنے لگا، تو آپ نے مجھے اشارے سے بلایا، میں ( آ کر ) آپ کی ایڑیوں کے پاس کھڑا ہو گیا، آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- وکیع کہتے ہیں: یہ حدیث مسح کے سلسلہ میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی حدیثوں میں سب سے زیادہ صحیح ہے۔ ۲- یہ حدیث بروایت مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ بھی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے ۱؎ ابووائل کی حدیث جسے انہوں نے حذیفہ سے روایت کیا ( مغیرہ کی روایت سے ) زیادہ صحیح ہے ۲؎، ۳- محدثین میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی اجازت دی ہے۔

English Translation

Hudhaifah narrated:"Allah's Messenger came to a waste area used by people, so he urinated on it while standing. I brought him the (water for) Wudu. Then I left to be away from him, but he called me until I was behind him. So he performed Wudu and wiped (Masaba) over his Khuff

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:13

Hadith #14
SahihSahihDaif

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلاَئِيُّ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ لَمْ يَرْفَعْ ثَوْبَهُ حَتَّى يَدْنُوَ مِنَ الأَرْضِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَكَذَا رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ ‏.‏ وَرَوَى وَكِيعٌ وَأَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ عَنِ الأَعْمَشِ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ لَمْ يَرْفَعْ ثَوْبَهُ حَتَّى يَدْنُوَ مِنَ الأَرْضِ ‏.‏ وَكِلاَ الْحَدِيثَيْنِ مُرْسَلٌ ‏.‏ وَيُقَالُ لَمْ يَسْمَعِ الأَعْمَشُ مِنْ أَنَسٍ وَلاَ مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ نَظَرَ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي ‏.‏ فَذَكَرَ عَنْهُ حِكَايَةً فِي الصَّلاَةِ ‏.‏ وَالأَعْمَشُ اسْمُهُ سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْكَاهِلِيُّ وَهُوَ مَوْلًى لَهُمْ ‏.‏ قَالَ الأَعْمَشُ كَانَ أَبِي حَمِيلاً فَوَرَّثَهُ مَسْرُوقٌ ‏.‏

Urdu Translation

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو جب تک زمین سے بالکل قریب نہ ہو جاتے اپنے کپڑے نہیں اٹھاتے تھے۔ دوسری سند میں اعمش سے روایت ہے، ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے کپڑے جب تک زمین سے قریب نہیں ہو جاتے نہیں اٹھاتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ دونوں احادیث مرسل ہیں، اس لیے کہ کہا جاتا ہے: دونوں احادیث کے راوی سلیمان بن مہران الأعمش نے نہ ہی تو انس بن مالک رضی الله عنہ سے سماعت کی ہے اور نہ ہی کسی اور صحابی سے، صرف اتنا ہے کہ انس کو صرف انہوں نے دیکھا ہے، اعمش کہتے ہیں کہ میں نے انہیں نماز پڑھتے دیکھا ہے پھر ان کی نماز کی کیفیت بیان کی۔

English Translation

Anas, may Allah Most High be pleased with him, said:"When the Prophet wanted to relieve himself, he would not raise his garment until he was close to the ground

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:14

Hadith #15
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَمَسَّ الرَّجُلُ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ ‏.‏ وَفِي هَذَا الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَسَلْمَانَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَأَبُو قَتَادَةَ الأَنْصَارِيُّ اسْمُهُ الْحَارِثُ بْنُ رِبْعِيٍّ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا الاِسْتِنْجَاءَ بِالْيَمِينِ ‏.‏

Urdu Translation

ابوقتادہ حارث بن ربعی انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے داہنے ہاتھ سے اپنا ذکر ( عضو تناسل ) چھوئے ۱؎۔ اس باب میں عائشہ، سلمان، ابوہریرہ اور سھل بن حنیف رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان لوگوں نے داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے کو مکروہ جانا ہے۔

English Translation

Abdullah bin Abu Qatadah narrated from his father:"The Prophet prohibited that a man should touch his penis with his right hand

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:15

Hadith #16
SahihSahihHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ قِيلَ لِسَلْمَانَ قَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ صلى الله عليه وسلم كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةَ فَقَالَ سَلْمَانُ أَجَلْ نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ وَأَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ أَوْ أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِأَقَلَّ مِنْ ثَلاَثَةِ أَحْجَارٍ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ وَجَابِرٍ وَخَلاَّدِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ سَلْمَانَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ رَأَوْا أَنَّ الاِسْتِنْجَاءَ بِالْحِجَارَةِ يُجْزِئُ وَإِنْ لَمْ يَسْتَنْجِ بِالْمَاءِ إِذَا أَنْقَى أَثَرَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏

Urdu Translation

عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ سلمان فارسی رضی الله عنہ سے بطور طنز یہ بات کہی گئی کہ تمہارے نبی نے تمہیں ساری چیزیں سکھائی ہیں حتیٰ کہ پیشاب پاخانہ کرنا بھی، تو سلمان فارسی رضی الله عنہ نے بطور فخر کہا: ہاں، ایسا ہی ہے ہمارے نبی نے ہمیں پیشاب پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے، داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے، اور تین پتھر سے کم سے استنجاء کرنے، اور گوبر اور ہڈی سے استنجاء کرنے سے ہمیں منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عائشہ، خزیمہ بن ثابت جابر اور خلاد بن السائب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- سلمان رضی الله عنہ کی حدیث اس باب میں حسن صحیح ہے، ۳- صحابہ و تابعین میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے کہ پتھر سے استنجاء کر لینا کافی ہے جب وہ پاخانہ اور پیشاب کے اثر کو زائل و پاک کر دے اگرچہ پانی سے استنجاء نہ کیا گیا ہو، یہی قول ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی ہے۔

English Translation

Abdur-Rahman bin Yazld said, :"They said to Salman, 'Your Prophet taught you about everything, even defecating?' So Salman said, 'Yes. He prohibited us from facing the Qiblah when defecating and urinating, performing Istinja with the right hand, using less than three stones for Istinja, and using dung or bones for Istinja

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:16

Hadith #17
SahihSahihSahih

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَقُتَيْبَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِحَاجَتِهِ فَقَالَ ‏"‏ الْتَمِسْ لِي ثَلاَثَةَ أَحْجَارٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ وَقَالَ ‏"‏ إِنَّهَا رِكْسٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَكَذَا رَوَى قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ ‏.‏ وَرَوَى مَعْمَرٌ وَعَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ‏.‏ وَرَوَى زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ‏.‏ وَرَوَى زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ فِيهِ اضْطِرَابٌ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ هَلْ تَذْكُرُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ شَيْئًا قَالَ لاَ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے تو آپ نے فرمایا: ”میرے لیے تین پتھر ڈھونڈ لاؤ“، میں دو پتھر اور ایک گوبر کا ٹکڑا لے کر آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے دونوں پتھروں کو لے لیا اور گوبر کے ٹکڑے کو پھینک دیا اور فرمایا: ”یہ ناپاک ہے“ ۱؎۔ ( ابواسحاق سبیعی ثقہ اور مدلس راوی ہیں، بڑھاپے میں حافظہ میں اختلاط ہو گیا تھا اس لیے جن رواۃ نے ان سے اختلاط سے پہلے سنا ان کی روایت مقبول ہے، اور جن لوگوں نے اختلاط کے بعد سنا ان کی روایت ضعیف، یہ حدیث ابواسحاق سے ان کے تلامذہ نے مختلف انداز سے روایت کی ہے ) ۔ امام ترمذی نے یہاں: ابن مسعود کی اس حدیث کو بسند «اسرائیل عن ابی اسحاق عن ابی عبیدہ عن ابن مسعود» روایت کرنے کے بعد اسرائیل کی متابعت ۲؎ میں قیس بن الربیع کی روایت کا ذکر کیا ہے، پھر بسند «معمر و عمار بن رزیق عن ابی اسحاق عن علقمہ عن ابن مسعود» کی روایت ذکر کی ہے، پھر بسند «زکریا بن ابی زائدہ و زہیر عن ابی اسحاق عن عبدالرحمٰن بن یزید عن اسود بن یزید عن عبداللہ بن مسعود» روایت ذکر کی اور فرمایا کہ اس حدیث میں اضطراب ہے، نیز اسرائیل کی روایت کو صحیح ترین قرار دیا، یہ بھی واضح کیا کہ ابو عبیدۃ کا سماع اپنے والد ابن مسعود سے نہیں ہے پھر واضح کیا کہ زہیر نے اس حدیث کو بسند «ابواسحاق عن عبدالرحمٰن بن الاسود عن أبیہ عن عبداللہ بن مسعود» روایت کیا ہے، تو ان محمد بن اسماعیل بخاری نے اپنی صحیح میں اس کو جگہ دے کر اپنی ترجیح کا ذکر کر دیا ہے، جب کہ ترمذی کا استدلال یہ ہے کہ «اسرائیل و قیس عن أبی اسحاق» زیادہ صحیح روایت اس لیے ہے کہ اسرائیل ابواسحاق کی حدیث کے زیادہ حافظ و متقن ہیں، قیس نے بھی اسرائیل کی متابعت کی ہے، اور واضح رہے کہ زہیر نے ابواسحاق سے آخر میں اختلاط کے بعد سنا ہے، اس لیے ان کی روایت اسرائیل کی روایت کے مقابلے میں قوی نہیں ہے ۳؎۔

English Translation

Abdullah said:"Allah's Messenger went out to relieve himself. So he said: 'Bring me tree stones.'" He said, "So I came with two stones and a piece of dung. So he took the two stones, and left the dung. He said: 'It is Riks (a degenerative or filthy thing)

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:17

Hadith #18
SahihDaifSahih - Bukhari And Muslim

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَسْتَنْجُوا بِالرَّوْثِ وَلاَ بِالْعِظَامِ فَإِنَّهُ زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَسَلْمَانَ وَجَابِرٍ وَابْنِ عُمَرَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرُهُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْجِنِّ - الْحَدِيثَ بِطُولِهِ - فَقَالَ الشَّعْبِيُّ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ تَسْتَنْجُوا بِالرَّوْثِ وَلاَ بِالْعِظَامِ فَإِنَّهُ زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ ‏"‏ ‏.‏ وَكَأَنَّ رِوَايَةَ إِسْمَاعِيلَ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَابْنِ عُمَرَ رضى الله عنهما ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”گوبر اور ہڈی سے استنجاء نہ کرو کیونکہ وہ تمہارے بھائیوں جنوں کی خوراک ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوہریرہ، سلمان، جابر، ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث مروی ہیں۔ ۲- اسماعیل بن ابراہیم وغیرہ نے بسند «داود ابن ابی ہند عن شعبی عن علقمہ» روایت کی ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ «لیلة الجن» میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۲؎ آگے انہوں نے پوری حدیث ذکر کی جو لمبی ہے، شعبی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا گوبر اور ہڈی سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے بھائیوں ( جنوں ) کی خوراک ہے، ۳- گویا اسماعیل بن ابراہیم کی روایت حفص بن غیاث کی روایت سے زیادہ صحیح ہے ۳؎، ۴- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، ۵- اور اس باب میں جابر اور ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Abdullah bin Mas'ud narrated that :Allah's Messenger said: "Do not perform Istinja, with dung, nor with bones. For indeed it is provisions for your brothers among the Jinn

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:18

Hadith #19
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ الْبَصْرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَسْتَطِيبُوا، بِالْمَاءِ فَإِنِّي أَسْتَحْيِيهِمْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَفْعَلُهُ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ وَأَنَسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ الاِسْتِنْجَاءَ بِالْمَاءِ وَإِنْ كَانَ الاِسْتِنْجَاءُ بِالْحِجَارَةِ يُجْزِئُ عِنْدَهُمْ فَإِنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الاِسْتِنْجَاءَ بِالْمَاءِ وَرَأَوْهُ أَفْضَلَ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ تم عورتیں اپنے شوہروں سے کہو کہ وہ پانی سے استنجاء کیا کریں، میں ان سے ( یہ بات کہتے ) شرما رہی ہوں، کیونکہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جریر بن عبداللہ بجلی، انس، اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اسی پر اہل علم کا عمل ہے ۱؎، وہ پانی سے استنجاء کرنے کو پسند کرتے ہیں اگرچہ پتھر سے استنجاء ان کے نزدیک کافی ہے پھر بھی پانی سے استنجاء کو انہوں نے مستحب اور افضل قرار دیا ہے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد، اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔

English Translation

Aishah said:"Encourage your Husbands to clean themselves with water, for I am too shy of them, and Allah's Messenger would do that

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:19

Hadith #20
SahihSahihHasan SahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَأَتَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَاجَتَهُ فَأَبْعَدَ فِي الْمَذْهَبِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ وَأَبِي قَتَادَةَ وَجَابِرٍ وَيَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ وَأَبِي مُوسَى وَابْنِ عَبَّاسٍ وَبِلاَلِ بْنِ الْحَارِثِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَيُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَرْتَادُ لِبَوْلِهِ مَكَانًا كَمَا يَرْتَادُ مَنْزِلاً ‏.‏ وَأَبُو سَلَمَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ الزُّهْرِيُّ ‏.‏

Urdu Translation

مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ قضائے حاجت کے لیے نکلے تو بہت دور نکل گئے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن ابی قراد، ابوقتادہ، جابر، یحییٰ بن عبید عن أبیہ، ابو موسیٰ، ابن عباس اور بلال بن حارث رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- روایت کی جاتی ہے کہ نیز نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پیشاب کے لیے اس طرح جگہ ڈھونڈتے تھے جس طرح مسافر اترنے کے لیے جگہ ڈھونڈتا ہے۔ ۴- ابوسلمہ کا نام عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری ہے۔

English Translation

Al-Mughirah bin Shu'bah said:I was with the Prophet on a journey. The Prophet had to relieve himself, so he went far away

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:20

Hadith #21
SahihSahihHasanDaif

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، مَرْدَوَيْهِ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَبُولَ الرَّجُلُ فِي مُسْتَحَمِّهِ ‏.‏ وَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَيُقَالُ لَهُ أَشْعَثُ الأَعْمَى ‏.‏ وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ الْبَوْلَ فِي الْمُغْتَسَلِ وَقَالُوا عَامَّةُ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ ‏.‏ وَرَخَّصَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمُ ابْنُ سِيرِينَ وَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ يُقَالُ إِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ فَقَالَ رَبُّنَا اللَّهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ قَدْ وُسِّعَ فِي الْبَوْلِ فِي الْمُغْتَسَلِ إِذَا جَرَى فِيهِ الْمَاءُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الآمُلِيُّ عَنْ حِبَّانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے غسل خانہ میں پیشاب کرے اور فرمایا : ” زیادہ تر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس باب میں ایک اور صحابی سے بھی روایت ہے ، ۲- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اشعث بن عبداللہ کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں ، انہیں اشعث اعمی بھی کہا جاتا ہے ، ۳- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے غسل خانے میں پیشاب کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے ، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر وسوسے اسی سے جنم لیتے ہیں ، ۴- بعض اہل علم نے اس کی رخصت دی ہے جن میں سے ابن سیرین بھی ہیں ، ابن سیرین سے کہا گیا : کہا جاتا ہے کہ اکثر وسوسے اسی سے جنم لیتے ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا رب اللہ ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ غسل خانے میں پیشاب کرنے کو جائز قرار دیا گیا ہے ، بشرطیکہ اس میں سے پانی بہ جاتا ہو

English Translation

Abdullah bin Mughaffal narrated that :the Prophet prohibited that a man should urinate in his bathing area. And he said: "It will only cause misgivings." [He said:] There are narrations on This topic from "a man from among the Companions of the Prophet

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:21

Hadith #22
SahihSahihSahihSahih

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَحَدِيثُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كِلاَهُمَا عِنْدِي صَحِيحٌ لأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَذَا الْحَدِيثُ ‏.‏ وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّمَا صَحَّ لأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ‏.‏ وَأَمَّا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ فَزَعَمَ أَنَّ حَدِيثَ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَصَحُّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَعَلِيٍّ وَعَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَحُذَيْفَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَأَنَسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَابْنِ عُمَرَ وَأُمِّ حَبِيبَةَ وَأَبِي أُمَامَةَ وَأَبِي أَيُّوبَ وَتَمَّامِ بْنِ عَبَّاسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَوَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ وَأَبِي مُوسَى ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت کو حرج اور مشقت میں مبتلا کرنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بروایت ابوسلمہ، ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی الله عنہما کی مروی دونوں حدیثیں میرے نزدیک صحیح ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کا خیال ہے کہ ابوسلمہ کی زید بن خالد رضی الله عنہ سے مروی حدیث زیادہ صحیح ہے ۲؎، ۲- اس باب میں ابوبکر صدیق، علی، عائشہ، ابن عباس، حذیفہ، زید بن خالد، انس، عبداللہ بن عمرو، ابن عمر، ام حبیبہ، ابوامامہ، ابوایوب، تمام بن عباس، عبداللہ بن حنظلہ، ام سلمہ، واثلہ بن الاسقع اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "If it were not that it would be difficult on my nation, then I would have ordered them to use the Siwak for each prayer

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:22

Hadith #23
SahihSahihHasan SahihDaif

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ وَلأَخَّرْتُ صَلاَةَ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَكَانَ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ يَشْهَدُ الصَّلَوَاتِ فِي الْمَسْجِدِ وَسِوَاكُهُ عَلَى أُذُنِهِ مَوْضِعَ الْقَلَمِ مِنْ أُذُنِ الْكَاتِبِ لاَ يَقُومُ إِلَى الصَّلاَةِ إِلاَّ اسْتَنَّ ثُمَّ رَدَّهُ إِلَى مَوْضِعِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اگر مجھے اپنی امت کو حرج و مشقت میں مبتلا کرنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر صلاۃ کے وقت ( وجوباً ) مسواک کرنے کا حکم دیتا، نیز میں عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کرتا ( راوی حدیث ) ابوسلمہ کہتے ہیں: اس لیے زید بن خالد رضی الله عنہ نماز کے لیے مسجد آتے تو مسواک ان کے کان پر بالکل اسی طرح ہوتی جیسے کاتب کے کان پر قلم ہوتا ہے، وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو مسواک کرتے پھر اسے اس کی جگہ پر واپس رکھ لیتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Zaid bin Khalid Al-Juhani said :'I heard Allah's Messenger saying: 'If it were not that it would be difficult on my nation then, I would have ordered them to use the Siwak for each prayer and to delay the Isha prayer until the third of the night.'"He [Abu Salamah, one of the narrators] said: Zaid bin Khalid wouId attend the prayer in the Masjid and his Siwak would be on his ear in the location of the pen on the ear of a writer. He would not get up to pray without cleaning his teeth, then returning it to its location

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:23

Hadith #24
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ - يُقَالُ هُوَ مِنْ وَلَدِ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ صَاحِبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلاَ يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ حَتَّى يُفْرِغَ عَلَيْهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَإِنَّهُ لاَ يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَجَابِرٍ وَعَائِشَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ قَالَ الشَّافِعِيُّ وَأُحِبُّ لِكُلِّ مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنَ النَّوْمِ قَائِلَةً كَانَتْ أَوْ غَيْرَهَا أَنْ لاَ يُدْخِلَ يَدَهُ فِي وَضُوئِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا فَإِنْ أَدْخَلَ يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا كَرِهْتُ ذَلِكَ لَهُ وَلَمْ يُفْسِدْ ذَلِكَ الْمَاءَ إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَى يَدِهِ نَجَاسَةٌ ‏.‏ وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ إِذَا اسْتَيْقَظَ مِنَ النَّوْمِ مِنَ اللَّيْلِ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي وَضُوئِهِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا فَأَعْجَبُ إِلَىَّ أَنْ يُهَرِيقَ الْمَاءَ ‏.‏ وَقَالَ إِسْحَاقُ إِذَا اسْتَيْقَظَ مِنَ النَّوْمِ بِاللَّيْلِ أَوْ بِالنَّهَارِ فَلاَ يُدْخِلْ يَدَهُ فِي وَضُوئِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی رات کو نیند سے اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن ۱؎ میں نہ ڈالے جب تک کہ اس پر دو یا تین بار پانی نہ ڈال لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں رہا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابن عمر، جابر اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۳- شافعی کہتے ہیں: میں ہر سو کر اٹھنے والے کے لیے – چاہے وہ دوپہر میں قیلولہ کر کے اٹھا ہو یا کسی اور وقت میں – پسند کرتا ہوں کہ وہ جب تک اپنا ہاتھ نہ دھوئے اسے وضو کے پانی میں نہ ڈالے اور اگر اس نے دھونے سے پہلے ہاتھ ڈال دیا تو میں اس کے اس فعل کو مکروہ سمجھتا ہوں لیکن اس سے پانی فاسد نہیں ہو گا بشرطیکہ اس کے ہاتھ میں کوئی نجاست نہ لگی ہو ۲؎، احمد بن حنبل کہتے ہیں: جب کوئی رات کو جاگے اور دھونے سے پہلے پانی میں ہاتھ ڈال دے تو اس پانی کو میرے نزدیک بہا دینا بہتر ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: جب وہ رات یا دن کسی بھی وقت نیند سے جاگے تو اپنا ہاتھ وضو کے پانی میں نہ ڈالے جب تک کہ اسے دھو نہ لے۔

English Translation

Abu Hurairah reported that the :Prophet said: "When on of you awakens in the night, then let him not put his hand into the vessel until he has poured water on two times, or three times, for indeed he does not know where his hand has spent the night

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:24

Hadith #25
HasanHasanHasanHasan

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ أَبِي ثِفَالٍ الْمُرِّيِّ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حُوَيْطِبٍ، عَنْ جَدَّتِهِ، عَنْ أَبِيهَا، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَأَنَسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ لاَ أَعْلَمُ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثًا لَهُ إِسْنَادٌ جَيِّدٌ ‏.‏ وَقَالَ إِسْحَاقُ إِنْ تَرَكَ التَّسْمِيَةَ عَامِدًا أَعَادَ الْوُضُوءَ وَإِنْ كَانَ نَاسِيًا أَوْ مُتَأَوِّلاً أَجْزَأَهُ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَبَاحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَدَّتِهِ عَنْ أَبِيهَا ‏.‏ وَأَبُوهَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ‏.‏ وَأَبُو ثِفَالٍ الْمُرِّيُّ اسْمُهُ ثُمَامَةُ بْنُ حُصَيْنٍ ‏.‏ وَرَبَاحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ أَبُو بَكْرِ بْنُ حُوَيْطِبٍ ‏.‏ مِنْهُمْ مَنْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حُوَيْطِبٍ فَنَسَبَهُ إِلَى جَدِّهِ ‏.‏

Urdu Translation

سعید بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو «بسم اللہ» کر کے وضو شروع نہ کرے اس کا وضو نہیں ہوتا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عائشہ، ابوہریرہ، ابو سعید خدری، سہل بن سعد اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- احمد بن حنبل کہتے ہیں: مجھے اس باب میں کوئی ایسی حدیث نہیں معلوم جس کی سند عمدہ ہو، ۳- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: اگر کوئی قصداً «بسم اللہ» کہنا چھوڑ دے تو وہ دوبارہ وضو کرے اور اگر بھول کر چھوڑے یا وہ اس حدیث کی تاویل کر رہا ہو تو یہ اسے کافی ہو جائے گا، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اس باب میں سب سے اچھی یہی مذکورہ بالا حدیث رباح بن عبدالرحمٰن کی ہے، یعنی سعید بن زید بن عمرو بن نفیل کی حدیث۔

English Translation

Rabah bin Abdur-Rahman bin Abi Sufyan bin Huwaitib narrated from his grandmother, from her father; she said (that he said):"I heard Allah's Messenger saying: there is no Wudu for one who does not mention Allah's Name over it

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:25

Hadith #26
HasanHasan

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي ثِفَالٍ الْمُرِّيِّ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حُوَيْطِبٍ، عَنْ جَدَّتِهِ بِنْتِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهَا، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ ‏.‏

Urdu Translation

اس سند سے بھی سعید بن زید رضی الله عنہ سے اوپر والی حدیث کے مثل مروی ہے۔

English Translation

Rabah Bin Abdur-Rahman bin Abu Sufyan bin Huwaitib narrated :the same from his grandmother the daughter of Sa'eed bin Zaid, from her father, from the Prophet

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:26

Hadith #27
SahihSahihHasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَجَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَانْتَثِرْ وَإِذَا اسْتَجْمَرْتَ فَأَوْتِرْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُثْمَانَ وَلَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَالْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِيمَنْ تَرَكَ الْمَضْمَضَةَ وَالاِسْتِنْشَاقَ فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ إِذَا تَرَكَهُمَا فِي الْوُضُوءِ حَتَّى صَلَّى أَعَادَ الصَّلاَةَ وَرَأَوْا ذَلِكَ فِي الْوُضُوءِ وَالْجَنَابَةِ سَوَاءً ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏ وَقَالَ أَحْمَدُ الاِسْتِنْشَاقُ أَوْكَدُ مِنَ الْمَضْمَضَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يُعِيدُ فِي الْجَنَابَةِ وَلاَ يُعِيدُ فِي الْوُضُوءِ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَبَعْضِ أَهْلِ الْكُوفَةِ ‏.‏ وَقَالَتْ طَائِفَةٌ لاَ يُعِيدُ فِي الْوُضُوءِ وَلاَ فِي الْجَنَابَةِ لأَنَّهُمَا سُنَّةٌ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلاَ تَجِبُ الإِعَادَةُ عَلَى مَنْ تَرَكَهُمَا فِي الْوُضُوءِ وَلاَ فِي الْجَنَابَةِ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ فِي آخِرَةٍ ‏.‏

Urdu Translation

سلمہ بن قیس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم وضو کرو تو ناک جھاڑو اور جب ڈھیلے سے استنجاء کرو تو طاق ڈھیلے لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عثمان، لقیط بن صبرہ، ابن عباس، مقدام بن معدیکرب، وائل بن حجر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- سلمہ بن قیس والی حدیث حسن صحیح ہے، ۳- جو کلی نہ کرے اور ناک میں پانی نہ چڑھائے اس کے بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے: ایک گروہ کا کہنا ہے کہ جب کوئی ان دونوں چیزوں کو وضو میں چھوڑ دے اور نماز پڑھ لے تو وہ نماز کو لوٹائے ۱؎ ان لوگوں کی رائے ہے کہ وضو اور جنابت دونوں میں یہ حکم یکساں ہے، ابن ابی لیلیٰ، عبداللہ بن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ یہی کہتے ہیں، امام احمد ( مزید ) کہتے ہیں کہ ناک میں پانی چڑھانا کلی کرنے سے زیادہ تاکیدی حکم ہے، اور اہل علم کی ایک جماعت کہتی ہے کہ جنابت میں کلی نہ کرنے اور ناک نہ جھاڑنے کی صورت میں نماز لوٹائے اور وضو میں نہ لوٹائے ۲؎ یہ سفیان ثوری اور بعض اہل کوفہ کا قول ہے، ایک گروہ کا کہنا ہے کہ نہ وضو میں لوٹائے اور نہ جنابت میں کیونکہ یہ دونوں چیزیں مسنون ہیں، تو جو انہیں وضو اور جنابت میں چھوڑ دے اس پر نماز لوٹانا واجب نہیں، یہ مالک اور شافعی کا آخری قول ہے ۳؎۔

English Translation

Salamah bin Qais narrated that :Allah's Messenger said: "When you perform Wudu then sniff water in the nose and blow it out, and when you use small stones (to remove filth) then make it odd (numbered)

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:27

Hadith #28
SahihSahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلاَثًا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى مَالِكٌ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى وَلَمْ يَذْكُرُوا هَذَا الْحَرْفَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ ‏.‏ وَإِنَّمَا ذَكَرَهُ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ‏.‏ وَخَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ثِقَةٌ حَافِظٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْمَضْمَضَةُ وَالاِسْتِنْشَاقُ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ يُجْزِئُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ تَفْرِيقُهُمَا أَحَبُّ إِلَيْنَا ‏.‏ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ إِنْ جَمَعَهُمَا فِي كَفٍّ وَاحِدٍ فَهُوَ جَائِزٌ وَإِنْ فَرَّقَهُمَا فَهُوَ أَحَبُّ إِلَيْنَا ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، تین بار آپ نے ایسا کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۲- عبداللہ بن زید رضی الله عنہما کی یہ حدیث حسن غریب ہے، ۳- مالک، سفیان، ابن عیینہ اور دیگر کئی لوگوں نے یہ حدیث عمرو بن یحییٰ سے روایت کی ہے۔ لیکن ان لوگوں نے یہ بات ذکر نہیں کی کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، اسے صرف خالد ہی نے ذکر کیا ہے اور خالد محدثین کے نزدیک ثقہ اور حافظ ہیں۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ ایک ہی چلو سے کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا کافی ہو گا، اور بعض نے کہا ہے کہ دونوں کے لیے الگ الگ پانی لینا ہمیں زیادہ پسند ہے، شافعی کہتے ہیں کہ اگر ان دونوں کو ایک ہی چلو میں جمع کرے تو جائز ہے لیکن اگر الگ الگ چلّو سے کرے تو یہ ہمیں زیادہ پسند ہے ۲؎۔

English Translation

Abdullah bin Zaid said:"1 saw the Prophet rinse his mouth and sniff water in his nose using one hand, he did that thrice

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:28

Hadith #29
SahihSahihDaif

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ بِلاَلٍ، قَالَ رَأَيْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ تَوَضَّأَ فَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ فَقِيلَ لَهُ أَوْ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ أَتُخَلِّلُ لِحْيَتَكَ قَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُخَلِّلُ لِحْيَتَهُ ‏.‏

Urdu Translation

حسان بن بلال کہتے ہیں کہ میں نے عمار بن یاسر رضی الله عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنی داڑھی میں خلال کیا ۱؎ ان سے کہا گیا یا راوی حدیث حسان نے کہا کہ میں نے ان سے کہا: کیا آپ اپنی داڑھی کا خلال کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں داڑھی کا خلال کیوں نہ کروں جب کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو داڑھی کا خلال کرتے دیکھا ہے۔

English Translation

Hassan bin Bilal said:"1 saw Ammar bin Yasir performing Wudu, so he went through his beard (with his hand). It was said to him" - or he said - "1 said: 'You go through your beard?' He said: 'And what is there to prevent me? Indeed I saw Allah's Messenger going through his beard

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:29

Hadith #30
Daif

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ عَمَّارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عُثْمَانَ وَعَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَأَنَسٍ وَابْنِ أَبِي أَوْفَى وَأَبِي أَيُّوبَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَسَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ مَنْصُورٍ يَقُولُ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ لَمْ يَسْمَعْ عَبْدُ الْكَرِيمِ مِنْ حَسَّانَ بْنِ بِلاَلٍ حَدِيثَ التَّخْلِيلِ ‏.‏ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عُثْمَانَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَالَ بِهَذَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ رَأَوْا تَخْلِيلَ اللِّحْيَةِ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ ‏.‏ وَقَالَ أَحْمَدُ إِنْ سَهَا عَنْ تَخْلِيلِ اللِّحْيَةِ فَهُوَ جَائِزٌ ‏.‏ وَقَالَ إِسْحَاقُ إِنْ تَرَكَهُ نَاسِيًا أَوْ مُتَأَوِّلاً أَجْزَأَهُ وَإِنْ تَرَكَهُ عَامِدًا أَعَادَ ‏.‏

Urdu Translation

اس سند سے بھی عمار بن یاسر سے اوپر ہی کی حدیث کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عثمان، عائشہ، ام سلمہ، انس، ابن ابی اوفی اور ابوایوب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اس باب میں سب سے زیادہ صحیح حدیث عامر بن شقیق کی ہے، جسے انہوں نے ابووائل سے اور ابووائل نے عثمان رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ، ۳- صحابہ اور تابعین میں سے اکثر اہل علم اسی کے قائل ہیں، ان لوگوں کی رائے ہے کہ داڑھی کا خلال ( مسنون ) ہے اور اسی کے قائل شافعی بھی ہیں، احمد کہتے ہیں کہ اگر کوئی داڑھی کا خلال کرنا بھول جائے تو وضو جائز ہو گا، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی بھول کر چھوڑ دے یا خلال والی حدیث کی تاویل کر رہا ہو تو اسے کافی ہو جائے گا اور اگر قصداً جان بوجھ کر چھوڑے تو وہ اسے ( وضو کو ) لوٹائے۔

English Translation

(In another narration) Ammar narrated :the same from the Prophet

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:30

Hadith #31
SahihSahihHasan SahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُخَلِّلُ لِحْيَتَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اپنی داڑھی میں خلال کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Uthman bin Affan narrated that :the Prophet would go through his beard

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:31

Hadith #32
SahihSahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ مُعَاوِيَةَ وَالْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ وَعَائِشَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے سر کا مسح کیا تو انہیں آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لائے، یعنی اپنے سر کے اگلے حصہ سے شروع کیا پھر انہیں گدی تک لے گئے پھر انہیں واپس لوٹایا یہاں تک کہ اسی جگہ واپس لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر آپ نے دونوں پیر دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں معاویہ، مقدام بن معدیکرب اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- اس باب میں عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کی حدیث سب سے صحیح اور عمدہ ہے اور اسی کے قائل شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ ہیں۔

English Translation

Abdullah bin Zaid narrated that:"Allah's Messenger wiped over his head with his hands, going over the front with them and the rear. He began with the front of his head until they went to the nape of his neck. Then he brought them back again to the place where he began. Then he washed his feet

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:32

Hadith #33
HasanHasanHasanDaif

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ بَدَأَ بِمُؤَخَّرِ رَأْسِهِ ثُمَّ بِمُقَدَّمِهِ وَبِأُذُنَيْهِ كِلْتَيْهِمَا ظُهُورِهِمَا وَبُطُونِهِمَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَصَحُّ مِنْ هَذَا وَأَجْوَدُ إِسْنَادًا ‏.‏ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْكُوفَةِ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ مِنْهُمْ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ‏.‏

Urdu Translation

ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے سر کا دو مرتبہ ۱؎ مسح کیا، آپ نے ( پہلے ) اپنے سر کے پچھلے حصہ سے شروع کیا ۲؎، پھر ( دوسری بار ) اس کے اگلے حصہ سے اور اپنے کانوں کے اندرونی اور بیرونی دونوں حصوں کا مسح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے اور عبداللہ بن زید کی حدیث سند کے اعتبار سے اس سے زیادہ صحیح اور زیادہ عمدہ ہے، ۲- اہل کوفہ میں سے بعض لوگ اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، انہیں میں سے وکیع بن جراح بھی ہیں ۳؎۔

English Translation

Ar-Rubay' bint Mu'awwidh bin Afra' narrated:"The Prophet wiped his head two times: He began with the rear of his head, then with the front of his head and with both of his ears, outside and Inside of them

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:33

Hadith #34
Hasan IsnaadHasan IsnaadHasan SahihDaif

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ، أَنَّهَا رَأَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ قَالَتْ مَسَحَ رَأْسَهُ وَمَسَحَ مَا أَقْبَلَ مِنْهُ وَمَا أَدْبَرَ وَصُدْغَيْهِ وَأُذُنَيْهِ مَرَّةً وَاحِدَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَجَدِّ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ الرُّبَيِّعِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ رَأَوْا مَسْحَ الرَّأْسِ مَرَّةً وَاحِدَةً ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ يَقُولُ سَأَلْتُ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ مَسْحِ الرَّأْسِ أَيُجْزِئُ مَرَّةً فَقَالَ إِي وَاللَّهِ ‏.‏

Urdu Translation

ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ نے اپنے سر کا ایک بار مسح کیا، اگلے حصہ کا بھی اور پچھلے حصہ کا بھی اور اپنی دونوں کنپٹیوں اور کانوں کا بھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ربیع رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی اور طلحہ بن مصرف بن عمرو کے دادا ( عمرو بن کعب یامی ) رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور بھی سندوں سے یہ بات مروی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح ایک بار کیا، ۴- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور جعفر بن محمد، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی ۲؎ احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، ۵- سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ میں نے جعفر بن محمد سے سر کے مسح کے بارے میں پوچھا: کیا ایک مرتبہ سر کا مسح کر لینا کافی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں قسم ہے اللہ کی۔

English Translation

Ar-Rubayy bint Mu'awidh bin Afra narrated that :she saw the Prophet performing Wudu. She said: "He wiped his head, and what is in the front of it and what is in its rear, and his temples and his ears one time

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:34

Hadith #35
SahihSahihHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ وَأَنَّهُ مَسَحَ رَأْسَهُ بِمَاءٍ غَيْرِ فَضْلِ يَدَيْهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَرَوَى ابْنُ لَهِيعَةَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ وَأَنَّهُ مَسَحَ رَأْسَهُ بِمَاءٍ غَبَرَ مِنْ فَضْلِ يَدَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ وَرِوَايَةُ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَبَّانَ أَصَحُّ لأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَغَيْرِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَخَذَ لِرَأْسِهِ مَاءً جَدِيدًا ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ رَأَوْا أَنْ يَأْخُذَ لِرَأْسِهِ مَاءً جَدِيدًا ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا اور اپنے دونوں ہاتھوں کے بچے ہوئے پانی کے علاوہ نئے پانی سے اپنے سر کا مسح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن لھیعہ نے یہ حدیث بسند «حبان بن واسع عن أبیہ» روایت کی ہے کہ عبداللہ بن زید رضی الله عنہ نے کہا: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے سر کا مسح اپنے دونوں ہاتھوں کے بچے ہوئے پانی سے کیا، ۳- عمرو بن حارث کی روایت جسے انہوں نے حبان سے روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے ۱؎ کیونکہ اور بھی کئی سندوں سے عبداللہ بن زید وغیرہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے سر کے مسح کے لیے نیا پانی لیا، ۴- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، ان کی رائے ہے کہ سر کے مسح کے لیے نیا پانی لیا جائے۔

English Translation

Abdullah bin Zaid narrated that :he saw the Prophet performing Wudu, and that he wiped his head with water that was not left over from his hands

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:35

Hadith #36
Hasan SahihHasan SahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهِمَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنِ الرُّبَيِّعِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَرَوْنَ مَسْحَ الأُذُنَيْنِ ظُهُورِهِمَا وَبُطُونِهِمَا ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے سر کا اور اپنے دونوں کانوں کے بالائی اور اندرونی حصوں کا مسح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ربیع رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان لوگوں کی رائے ہے کہ دونوں کانوں کے بالائی اور اندرونی دونوں حصوں کا مسح کیا جائے۔

English Translation

Ibn 'Abbas narrated:"The Prophet wiped his head and his ears: the outside and the inside of them." ($ahih)

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:36

Hadith #37
SahihSahihHasan

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا وَيَدَيْهِ ثَلاَثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَقَالَ ‏ "‏ الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى قَالَ قُتَيْبَةُ قَالَ حَمَّادٌ لاَ أَدْرِي هَذَا مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَوْ مِنْ قَوْلِ أَبِي أُمَامَةَ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاكَ الْقَائِمِ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ أَنَّ الأُذُنَيْنِ مِنَ الرَّأْسِ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مَا أَقْبَلَ مِنَ الأُذُنَيْنِ فَمِنَ الْوَجْهِ وَمَا أَدْبَرَ فَمِنَ الرَّأْسِ ‏.‏ قَالَ إِسْحَاقُ وَأَخْتَارُ أَنْ يَمْسَحَ مُقَدَّمَهُمَا مَعَ الْوَجْهِ وَمُؤَخَّرَهُمَا مَعَ رَأْسِهِ ‏.‏ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ هُمَا سُنَّةٌ عَلَى حِيَالِهِمَا يَمْسَحُهُمَا بِمَاءٍ جَدِيدٍ ‏.‏

Urdu Translation

ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا تو اپنا چہرہ تین بار دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوئے اور اپنے سر کا مسح کیا اور فرمایا: ”دونوں کان سر میں داخل ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- قتیبہ کا کہنا ہے کہ حماد کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ یہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا قول ہے یا ابوامامہ کا، ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے، ۴- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور اسی کے قائل سفیان ثوری، ابن مبارک اور اسحاق بن راہویہ ہیں ۱؎ اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ کان کے سامنے کا حصہ چہرہ میں سے ہے ( اس لیے اسے دھویا جائے ) اور پیچھے کا حصہ سر میں سے ہے ۲؎۔ ( اس لیے مسح کیا جائے ) اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ کان کے سامنے کے حصہ کا مسح چہرہ کے ساتھ کرے ( یعنی چہرہ کے ساتھ دھوئے ) اور پچھلے حصہ کا سر کے ساتھ ۳؎، شافعی کہتے ہیں کہ دونوں الگ الگ سنت ہیں ( اس لیے ) دونوں کا مسح نئے پانی سے کرے۔

English Translation

Abu Umamah narrated:"The Prophet performed Wudu; so he washed his face three times, and his hands three times, and wiped his head, and he said: "The ears are part of the head

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:37

Hadith #38
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَهَنَّادٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَخَلِّلِ الأَصَابِعَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَالْمُسْتَوْرِدِ وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ الْفِهْرِيُّ وَأَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ يُخَلِّلُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ فِي الْوُضُوءِ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏ وَقَالَ إِسْحَاقُ يُخَلِّلُ أَصَابِعَ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فِي الْوُضُوءِ ‏.‏ وَأَبُو هَاشِمٍ اسْمُهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ الْمَكِّيُّ ‏.‏

Urdu Translation

لقیط بن صبرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم وضو کرو تو انگلیوں کا خلال کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابن عباس، مستورد بن شداد فہری اور ابوایوب انصاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ وضو میں اپنے پیروں کی انگلیوں کا خلال کرے اسی کے قائل احمد اور اسحاق بن راہویہ ہیں۔ اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ وضو میں اپنے دونوں ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کا خلال کرے۔

English Translation

Asim bin Laqit bin Sabirah narrated from his father that :the Prophet Muhammad said: "When performing Wudu go between the fingers

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:38

Hadith #39
Hasan SahihHasan SahihHasanHasan

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، هُوَ الْجَوْهَرِيُّ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ صَالِحٍ، مَوْلَى التَّوْأَمَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَخَلِّلْ بَيْنَ أَصَابِعِ يَدَيْكَ وَرِجْلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم وضو کرو تو اپنے ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کے بیچ خلال کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

English Translation

Ibn Abbas narrated that :Allah's Messenger said: "When performing Wudu go between the fingers of your hands and (toes of) your feet

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:39

Hadith #40
SahihSahihHasanHasan

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ الْفِهْرِيِّ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم إِذَا تَوَضَّأَ دَلَكَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ بِخِنْصَرِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ ‏.‏

Urdu Translation

مستورد بن شداد فہری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ وضو کرتے تو اپنے دونوں پیروں کی انگلیوں کو اپنے «خنصر» ( ہاتھ کی چھوٹی انگلی ) سے ملتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف ابن لھیعہ کے طریق ہی سے جانتے ہیں۔

English Translation

Al-Mustawrid bin Shaddad Al-Fihri said :"I saw the Prophet when he was performing Wudu doing that to the toes on his feet with his pinky

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:40

Hadith #41
SahihSahihHasan SahihSahih - Bukhari And Muslim

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَائِشَةَ وَجَابِرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ هُوَ ابْنُ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيُّ وَمُعَيْقِيبٍ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَشُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ وَبُطُونِ الأَقْدَامِ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِقْهُ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ لاَ يَجُوزُ الْمَسْحُ عَلَى الْقَدَمَيْنِ إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِمَا خُفَّانِ أَوْ جَوْرَبَانِ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایڑیوں کے دھونے میں کوتاہی برتنے والوں کے لیے خرابی ہے یعنی جہنم کی آگ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمر، عائشہ، جابر، عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی معیقیب، خالد بن ولید، شرحبیل بن حسنہ، عمرو بن العاص اور یزید بن ابی سفیان سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ ”ان ایڑیوں اور قدم کے تلوؤں کے لیے جو وضو میں سوکھی رہ جائیں خرابی ہے یعنی جہنم کی آگ ہے“ اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ پیروں کا مسح جائز نہیں اگر ان پر موزے یا جراب نہ ہوں۔

English Translation

Abu Hurairah narrated that :the Prophet said: "Protect the heels from the Fire

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:41

Hadith #42
SahihSahihSahih Bukhari

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَهَنَّادٌ، وَقُتَيْبَةُ، قَالُوا حَدَّثَنَا وِكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَجَابِرٍ وَبُرَيْدَةَ وَأَبِي رَافِعٍ وَابْنِ الْفَاكِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ ‏.‏ وَرَوَى رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَغَيْرُهُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً ‏.‏ قَالَ وَلَيْسَ هَذَا بِشَيْءٍ وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى ابْنُ عَجْلاَنَ وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو ایک ایک بار دھوئے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عمر، جابر، بریدۃ، ابورافع، اور ابن الفاکہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابن عباس کی یہ حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور صحیح ہے، ۳- رشدین بن سعد وغیرہ بسند «ضحاک بن شرحبیل عن زید بن اسلم عن أبیہ» سے روایت کی ہے کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ فرماتے ہیں: ”نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھویا“، یہ ( روایت ) کچھ بھی نہیں ہے صحیح وہی روایت ہے جسے ابن عجلان، ہشام بن سعد، سفیان ثوری اور عبدالعزیز بن محمد نے بسند «زید بن اسلم عن عطاء بن یسار عن ابن عباس عن النبی کریم صلی الله علیہ وسلم» روایت کیا ہے۔

English Translation

Ibn Abbas narrated:"The Prophet performed Wudu one time (for each limb)

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:42

Hadith #43
Hasan SahihHasan SahihHasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، هُوَ الأَعْرَجُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ ثَوْبَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ وَهُوَ إِسْنَادٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَوَى هَمَّامٌ عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ ثَلاَثًا ثَلاَثًا ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو دو دو بار دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- ہم یہ جانتے ہیں کہ اسے صرف ابن ثوبان نے عبداللہ بن فضل سے روایت کیا ہے اور یہ سند حسن صحیح ہے، ۴- ھمام نے بسند «عامر الا ٔ حول عن عطاء عن ابی ہریرہ» روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو تین تین بار دھوئے ۱؎۔

English Translation

Abu Hurairah narrated:"The Prophet performed Wudu two time (for each limb)

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:43

Hadith #44
SahihSahihSahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ ثَلاَثًا ثَلاَثًا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عُثْمَانَ وَعَائِشَةَ وَالرُّبَيِّعِ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي أُمَامَةَ وَأَبِي رَافِعٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَمُعَاوِيَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَلِيٍّ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ لأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَلِيٍّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْوُضُوءَ يُجْزِئُ مَرَّةً مَرَّةً وَمَرَّتَيْنِ أَفْضَلُ وَأَفْضَلُهُ ثَلاَثٌ وَلَيْسَ بَعْدَهُ شَيْءٌ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ لاَ آمَنُ إِذَا زَادَ فِي الْوُضُوءِ عَلَى الثَّلاَثِ أَنْ يَأْثَمَ ‏.‏ وَقَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ لاَ يَزِيدُ عَلَى الثَّلاَثِ إِلاَّ رَجُلٌ مُبْتَلًى ‏.‏

Urdu Translation

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو تین تین بار دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عثمان، عائشہ، ربیع، ابن عمر، ابوامامہ، ابورافع، عبداللہ بن عمرو، معاویہ، ابوہریرہ، جابر، عبداللہ بن زید اور ابی بن کعب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- علی رضی الله عنہ کی حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور صحیح ہے کیونکہ یہ علی رضی الله عنہ سے اور بھی سندوں سے مروی ہے، ۳- اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھونا کافی ہے، دو دو بار افضل ہے اور اس سے بھی زیادہ افضل تین تین بار دھونا ہے، اس سے آگے کی گنجائش نہیں، ابن مبارک کہتے ہیں: جب کوئی اعضائے وضو کو تین بار سے زیادہ دھوئے تو مجھے اس کے گناہ میں پڑنے کا خطرہ ہے، امام احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: تین سے زائد بار اعضائے وضو کو وہی دھوئے گا جو ( دیوانگی اور وسوسہ ) میں مبتلا ہو گا ۱؎۔

English Translation

Ali narrated that:"The Prophet performed Wudu three times (for each limb)

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:44

Hadith #45
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي جَعْفَرٍ حَدَّثَكَ جَابِرٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً وَمَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ وَثَلاَثًا ثَلاَثًا قَالَ نَعَمْ ‏.‏

Urdu Translation

ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ ثمالی کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے پوچھا: کیا جابر رضی الله عنہما نے آپ سے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو ایک ایک بار، دو دو بار، اور تین تین بار دھوئے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں ( بیان کیا ہے ) ۔

English Translation

Thabit bin Abi Safiyyah said, :"I asked Abu Ja'far: 'Did Jabir narrate to you that: "The Prophet performed Wudu one time each, and two times, and three times?" He said: "Yes

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:45

Hadith #46
SahihDaif

قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى وَكِيعٌ، هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي جَعْفَرٍ حَدَّثَكَ جَابِرٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً قَالَ نَعَمْ ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ هَنَّادٌ وَقُتَيْبَةُ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ لأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ هَذَا عَنْ ثَابِتٍ نَحْوَ رِوَايَةِ وَكِيعٍ ‏.‏ وَشَرِيكٌ كَثِيرُ الْغَلَطِ وَثَابِتُ بْنُ أَبِي صَفِيَّةَ هُوَ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ ‏.‏

Urdu Translation

یہ حدیث وکیع نے ثابت بن ابی صفیہ سے روایت کی ہے، میں نے ابو جعفر (محمد بن علی بن حسین الباقر) سے پوچھا کہ آپ سے جابر رضی الله عنہما نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو کو ایک بار دھو دیا، انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اور یہ شریک کی روایت سے زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ ثابت سے وکیع کی روایت کی طرح اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے، ۲- اور شریک کثیر الغلط راوی ہیں۔

English Translation

Thabit bin Abi Safiyyah said, :"1 asked Abu Ja'far: 'Did Jabir narrate to you that: "The Prophet performed Wudu one time each?" He said: "Yes

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:46

Hadith #47
Sahih IsnaadSahih IsnaadHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا وَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرَّتَيْنِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ ذُكِرَ فِي غَيْرِ حَدِيثٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ بَعْضَ وُضُوئِهِ مَرَّةً وَبَعْضَهُ ثَلاَثًا ‏.‏ وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي ذَلِكَ لَمْ يَرَوْا بَأْسًا أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجْلُ بَعْضَ وُضُوئِهِ ثَلاَثًا وَبَعْضَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ مَرَّةً ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا تو آپ نے اپنا چہرہ تین بار دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے پھر اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے دونوں پیر دو دو بار دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس کے علاوہ اور بھی حدیثوں میں یہ بات مذکور ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے بعض اعضائے وضو کو ایک ایک بار اور بعض کو تین تین بار دھویا، ۳- بعض اہل علم نے اس بات کی اجازت دی ہے، ان کی رائے میں وضو میں بعض اعضاء کو تین بار، بعض کو دو بار اور بعض کو ایک بار دھونے میں کوئی حرج نہیں۔

English Translation

Abdullah bin Zaid narrated that:"The Prophet performed Wudu. So he washed his face three times, and washed his hands two times each, and wiped his head, and washed his feet [two times]

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:47

Hadith #48
SahihSahihSahih

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَقُتَيْبَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلاَثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلاَثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلاَثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ فَضْلَ طَهُورِهِ فَشَرِبَهُ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ طُهُورُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عُثْمَانَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَالرُّبَيِّعِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ وَعَائِشَةَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ ‏.‏

Urdu Translation

ابوحیہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پہنچے دھوئے یہاں تک کہ انہیں خوب صاف کیا، پھر تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی چڑھایا، تین بار اپنا چہرہ دھویا پھر ‌تین ‌دفعہ ‌بازو ‌دھوئے اور ایک بار اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، پھر کھڑے ہوئے اور وضو سے بچے ہوئے پانی کو کھڑے کھڑے پی لیا ۱؎، پھر کہا: میں نے تمہیں دکھانا چاہا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا وضو کیسے ہوتا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عثمان، عبداللہ بن زید، ابن عباس، عبداللہ بن عمرو، ربیع، عبداللہ بن انیس اور عائشہ رضوان اللہ علیہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Abu Hayyah narrated:"I saw Ali performing Wudu. He washed his hands until he cleaned them, then he rinsed out his mouth three times, sniffed water into his nose and blew it out three times, washed his face three times, and his forearms three times. He wiped his head once, then he washed his feet up to the ankles. Then he stood up, taking what was left over from his purification (water) and drank it while he was standing. Then he said, 'I wanted to show you how Allah's Messenger purified himself

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:48

Hadith #49
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَهَنَّادٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، ذَكَرَ عَنْ عَلِيٍّ، مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي حَيَّةَ إِلاَّ أَنَّ عَبْدَ خَيْرٍ، قَالَ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طُهُورِهِ أَخَذَ مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ بِكَفِّهِ فَشَرِبَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَلِيٍّ رَوَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ أَبِي حَيَّةَ وَعَبْدِ خَيْرٍ وَالْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ وَقَدْ رَوَى زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رضى الله عنه حَدِيثَ الْوُضُوءِ بِطُولِهِ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ قَالَ وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ فَأَخْطَأَ فِي اسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيهِ فَقَالَ مَالِكُ بْنُ عُرْفُطَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ ‏.‏ قَالَ وَرُوِيَ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ ‏.‏ قَالَ وَرُوِيَ عَنْهُ عَنْ مَالِكِ بْنِ عُرْفُطَةَ مِثْلَ رِوَايَةِ شُعْبَةَ وَالصَّحِيحُ خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ ‏.‏

Urdu Translation

عبد خیر نے بھی علی رضی الله عنہ سے، ابوحیہ کی حدیث ہی کی طرح روایت کی ہے، مگر عبد خیر کی روایت میں ہے کہ جب وہ اپنے وضو سے فارغ ہوئے تو بچے ہوئے پانی کو انہوں نے اپنے چلو میں لیا اور اسے پیا۔ امام ترمذی نے اس حدیث کے مختلف طرق ذکر کرنے کے بعد فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Abd Khair related a narration similar to that of Abu Hayyah, :from Ali (no. 48). Except that Abd Khair's version includes the following additions: "When he was finished from his purification, he would take what was left over from his purification with his hand to drink it

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:49

Hadith #50
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ السَّلِيمِيُّ الْبَصْرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ جَاءَنِي جِبْرِيلُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَانْتَضِحْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ سُفْيَانُ بْنُ الْحَكَمِ أَوِ الْحَكَمُ بْنُ سُفْيَانَ وَاضْطَرَبُوا فِي هَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل نے آ کر کہا: اے محمد! جب آپ وضو کریں تو ( شرمگاہ پر ) پانی چھڑک لیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے سنا ہے کہ حسن بن علی الھاشمی منکر الحدیث راوی ہیں ۲؎، ۳- اس حدیث کی سند میں لوگ اضطراب کا شکار ہیں، ۴- اس باب میں ابوالحکم بن سفیان، ابن عباس، زید بن حارثہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Abu Hurairah narrated that :the Prophet said: "Jibril came to me and he said: 'O Muhammad! When you perform wudu then perform Nadh

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:50

Hadith #51
SahihSahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَلاَ أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیزیں نہ بتاؤں جن سے اللہ گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند کرتا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں، آپ ضرور بتائیں، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”ناگواری کے باوجود مکمل وضو کرنا ۱؎ اور مسجدوں کی طرف زیادہ چل کر جانا ۲؎ اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا، یہی سرحد کی حقیقی پاسبانی ہے“ ۳؎۔

English Translation

Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "Shall I tell you that for which Allah will wipe out your sins, and raise your ranks?" They said, "Of course Allah's Messenger!" He said: "Performing Wudu well in difficulty, and taking many steps to the Masajid, and waiting for Salat after Salat, That is the Ribat

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:51

Hadith #52
SahihSahihHasan SahihSahih Muslim

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلاَءِ، نَحْوَهُ ‏.‏ وَقَالَ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ ‏ "‏ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثًا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَبِيدَةَ وَيُقَالُ عُبَيْدَةُ بْنِ عَمْرٍو وَعَائِشَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ الْحَضْرَمِيِّ وَأَنَسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ يَعْقُوبَ الْجُهَنِيُّ الْحُرَقِيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ‏.‏

Urdu Translation

اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اس طرح روایت ہے، لیکن قتیبہ نے اپنی روایت میں «فذلكم الرباط فذلكم الرباط فذلكم الرباط» تین بار کہا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اس باب میں حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، عبداللہ بن عمرو، ابن عباس، عبیدہ – یا۔ ۔ ۔ عبیدہ بن عمرو – عائشہ، عبدالرحمٰن بن عائش الحضرمی اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Qutaibah said in his narration:"For that is the Ribat, that is the Ribat, that is the Ribat" three times

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:52

Hadith #53
DaifDaif IsnaadDaifDaif

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خِرْقَةٌ يُنَشِّفُ بِهَا بَعْدَ الْوُضُوءِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ لَيْسَ بِالْقَائِمِ وَلاَ يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْبَابِ شَيْءٌ ‏.‏ وَأَبُو مُعَاذٍ يَقُولُونَ هُوَ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس ایک کپڑا تھا جس سے آپ وضو کے بعد اپنا بدن پونچھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی روایت درست نہیں ہے، نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے اس باب میں کوئی بھی روایت صحیح نہیں ہے، ابومعاذ سلیمان بن ارقم محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ۲- اس باب میں معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔

English Translation

Aishah narrated:"Allah's Messenger had a cloth that he would use to dry off with after Wudu

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:53

Hadith #54
Daif IsnaadDaif IsnaadDaifDaif

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَىٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم إِذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ وَجْهَهُ بِطَرَفِ ثَوْبِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ ‏.‏ وَرِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ الإِفْرِيقِيُّ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ ‏.‏ وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ فِي التَّمَنْدُلِ بَعْدَ الْوُضُوءِ وَمَنْ كَرِهَهُ إِنَّمَا كَرِهَهُ مِنْ قِبَلِ أَنَّهُ قِيلَ إِنَّ الْوَضُوءَ يُوزَنُ ‏.‏ وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَالزُّهْرِيِّ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ قَالَ حَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ مُجَاهِدٍ عَنِّي وَهُوَ عِنْدِي ثِقَةٌ عَنْ ثَعْلَبَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ إِنَّمَا كُرِهَ الْمِنْدِيلُ بَعْدَ الْوُضُوءِ لأَنَّ الْوَضُوءَ يُوزَنُ ‏.‏

Urdu Translation

معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ وضو کرتے تو چہرے کو اپنے کپڑے کے کنارے سے پونچھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند ضعیف ہے، رشدین بن سعد اور عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم الافریقی دونوں حدیث میں ضعیف قرار دیئے جاتے ہیں، ۲- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کے ایک گروہ نے وضو کے بعد رومال سے پونچھنے کی اجازت دی ہے، اور جن لوگوں نے اسے مکروہ کہا ہے تو محض اس وجہ سے کہا ہے کہ کہا جاتا ہے: وضو کو ( قیامت کے دن ) تولا جائے گا، یہ بات سعید بن مسیب اور زہری سے روایت کی گئی ہے، ۳- زہری کہتے ہیں کہ وضو کے بعد تولیہ کا استعمال اس لیے مکروہ ہے کہ وضو کا پانی ( قیامت کے روز ) تولا جائے گا ۱؎۔

English Translation

Muadh bin Jabal narrated:"I saw the Prophet when he performed Wudu, he wiped his face with the edge of his garment." Abu Eisa said: This Hadith is gharib, and its chain is weak. Rishdin bin Sa'd and Abdur- Rahman bin Ziyad bin An'um Al Ifriqi [narrators in the chain of this Hadith] are weak in Hadith. Some people of knowledge among the Companions of the Prophet and those after them, permitted using a towel after Wudu. Those who disliked it, only disliked it from the view of the saying: "Wudu is weighed." That as reported from Sa'eed bin Al- Musayyab and Az-Zuhri. Muhammad bin Humaid [Ar-Razi] narrated to us, Jarir narrated to us, he said: Ali bin Mujahid narrated to me, and he is trustworthy to me, from me, from: Tha'labah from Az-Zuhri, he said: "The towel is only disliked after Wudu because Wudu is weighed

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:54

Hadith #55
SahihSahihDaif

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الثَّعْلَبِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، وَأَبِي، عُثْمَانَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عُمَرَ قَدْ خُولِفَ زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏ قَالَ وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَغَيْرُهُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ عُمَرَ ‏.‏ وَعَنْ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ عُمَرَ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ وَلاَ يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْبَابِ كَبِيرُ شَيْءٍ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَبُو إِدْرِيسَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ شَيْئًا ‏.‏

Urdu Translation

عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وضو کرے اور اچھی طرح کرے پھر یوں کہے: «أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اے اللہ! مجھے توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں میں سے بنا دے“ تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے وہ جس سے بھی چاہے جنت میں داخل ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں انس اور عقبہ بن عامر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- امام ترمذی نے عمر رضی الله عنہ کی حدیث کے طرق ۱؎ ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے، ۳- اس باب میں زیادہ تر چیزیں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے صحیح ثابت نہیں ہیں ۲؎۔

English Translation

Umar bin Al-Khattab narrated that :Allah's Messenger said: 'Whoever performs Wudu, making Wudu well, then says: (Ashhadu an la ilaha illallah, wahdahu la sharika lahu, wa ashhadu anna Muhammadan-abduhu wa rasuluhu, Allahummajalni minat tawwabin, waj'alni minal mutatahhirin) 'I testify that none has the right to be worshipped but Allah Alone, there are no partners for Him. And I testify that Muhammad is His servant and Messenger. O Allah! Make me among the repentant, and make me among those who purify themselves.' Then eight gates of Paradise are opened for him, that may enter by whichever of them wishes

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:55

Hadith #56
SahihSahihHasan SahihSahih - Bukhari And Muslim

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، عَنْ سَفِينَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَجَابِرٍ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سَفِينَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَأَبُو رَيْحَانَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَطَرٍ ‏.‏ وَهَكَذَا رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْوُضُوءَ بِالْمُدِّ وَالْغُسْلَ بِالصَّاعِ ‏.‏ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ لَيْسَ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عَلَى التَّوْقِيتِ أَنَّهُ لاَ يَجُوزُ أَكْثَرُ مِنْهُ وَلاَ أَقَلُّ مِنْهُ وَهُوَ قَدْرُ مَا يَكْفِي ‏.‏

Urdu Translation

سفینہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ایک مد پانی سے وضو اور ایک صاع پانی سے غسل فرماتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سفینہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، جابر اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کی رائے یہی ہے کہ ایک مد پانی سے وضو کیا جائے اور ایک صاع پانی سے غسل، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کا مقصود تحدید نہیں ہے کہ اس سے زیادہ یا کم جائز نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ مقدار ایسی ہے جو کافی ہوتی ہے ۲؎۔

English Translation

Safinah narrated:"The Prophet would perform Wudu with a Mudd, and he would perform Ghusl with a Sa

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:56

Hadith #57
Very DaifVery DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُتَىِّ بْنِ ضَمْرَةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ لِلْوُضُوءِ شَيْطَانًا يُقَالُ لَهُ الْوَلْهَانُ فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَالصَّحِيحِ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ لأَنَّا لاَ نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ غَيْرَ خَارِجَةَ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ الْحَسَنِ قَوْلَهُ وَلاَ يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَابِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم شَيْءٌ ‏.‏ وَخَارِجَةُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَصْحَابِنَا وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ ‏.‏

Urdu Translation

ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کے لیے ایک شیطان ہے، اسے ولہان کہا جاتا ہے، تم اس کے وسوسوں کے سبب پانی زیادہ خرچ کرنے سے بچو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابی بن کعب کی حدیث غریب ہے، ۳- اس کی سند محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے اس لیے کہ ہم نہیں جانتے کہ خارجہ کے علاوہ کسی اور نے اسے مسنداً روایت کیا ہو، یہ حدیث دوسری اور سندوں سے حسن ( بصریٰ ) سے موقوفاً مروی ہے ( یعنی اسے حسن ہی کا قول قرار دیا گیا ہے ) اور اس باب میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے کوئی چیز صحیح نہیں اور خارجہ ہمارے اصحاب ۱؎ کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں، ابن مبارک نے ان کی تضعیف کی ہے۔

English Translation

Ubayy bin Ka'b narrated that :the Prophet said: "Indeed there is a Shaitan for Wudu' who is called "AI-Walahan." So beware of having misgivings about water

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:57

Hadith #58
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاَةٍ طَاهِرًا أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لأَنَسٍ فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ أَنْتُمْ قَالَ كُنَّا نَتَوَضَّأُ وُضُوءًا وَاحِدًا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَالْمَشْهُورُ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الأَنْصَارِيِّ عَنْ أَنَسٍ ‏.‏ وَقَدْ كَانَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَرَى الْوُضُوءَ لِكُلِّ صَلاَةٍ اسْتِحْبَابًا لاَ عَلَى الْوُجُوبِ ‏.‏

Urdu Translation

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے باوضو ہوتے یا بے وضو۔ حمید کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی الله عنہ سے پوچھا: آپ لوگ کیسے کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم ایک ہی وضو کرتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حمید کی حدیث بواسطہ انس اس سند سے غریب ہے، اور محدثین کے نزدیک مشہور عمرو بن عامر والی حدیث ہے جو بواسطہ انس مروی ہے، اور بعض اہل علم ۲؎ کی رائے ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو مستحب ہے نہ کہ واجب۔

English Translation

Anas narrated that :"The Prophet would perform wudu for every Salat, whether he was in state of purity or not in a state of purity

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:58

Hadith #59
DaifDaifDaifDaif

وَقَدْ رُوِيَ فِي، حَدِيثٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى طُهْرٍ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الإِفْرِيقِيُّ عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ عَنِ الإِفْرِيقِيِّ ‏.‏ وَهُوَ إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ ‏.‏ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ذُكِرَ لِهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ هَذَا الْحَدِيثُ فَقَالَ هَذَا إِسْنَادٌ مَشْرِقِيٌّ ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ مَا رَأَيْتُ بِعَيْنِي مِثْلَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وضو پر وضو کرے گا اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث افریقی نے ابوغطیف سے اور ابوغطیف نے ابن عمر سے اور ابن عمر نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ہم سے اسے حسین بن حریث مروزی نے محمد بن یزید واسطی کے واسطے سے بیان کیا ہے اور محمد بن یزید نے افریقی سے روایت کی ہے اور یہ سند ضعیف ہے، ۲- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید القطان کہتے ہیں: انہوں نے اس حدیث کا ذکر ہشام بن عروہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ سند مشرقی ہے ۱؎، ۳- میں نے احمد بن حسن کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا ہے: میں نے اپنی آنکھ سے یحییٰ بن سعید القطان کے مثل کسی کو نہیں دیکھا۔

English Translation

It has been related in a narration from Ibn Umar that :the Prophet said: "Whoever performs Wudu while in a state of purity, Allah writes for him on account of it ten good merits

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:59

Hadith #60
SahihSahihHasan SahihSahih Bukhari

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، هُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ ‏.‏ قُلْتُ فَأَنْتُمْ مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ مَا لَمْ نُحْدِثْ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

عمرو بن عامر انصاری کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، میں نے ( انس سے ) پوچھا: پھر آپ لوگ کیسے کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ جب تک ہم «حدث» نہ کرتے ساری نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور حمید کی حدیث جو انس سے مروی ہے جید غریب حسن ہے۔

English Translation

Amr bin Amir Al-Ansari narrated that he heard Anas bin Malik saying:"The Prophet would perform Wudu for every Salat." I said, "So what about you, what would you do?" He said I wouId pray all of the prayers with one Wudu, as long as we had not committed Hadath (anything that invalidates Wudu)

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:60

Hadith #61
SahihSahihHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاَةٍ فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ صَلَّى الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّكَ فَعَلْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ فَعَلْتَهُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ عَمْدًا فَعَلْتُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَزَادَ فِيهِ ‏"‏ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاَةٍ ‏.‏ وَرَوَاهُ وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ ‏.‏ قَالَ وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَغَيْرُهُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ مَا لَمْ يُحْدِثْ وَكَانَ بَعْضُهُمْ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاَةٍ اسْتِحْبَابًا وَإِرَادَةَ الْفَضْلِ ‏.‏ وَيُرْوَى عَنِ الإِفْرِيقِيِّ عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى طُهْرٍ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ ‏"‏ ‏.‏ وَهَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ ‏.‏

Urdu Translation

بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور جب فتح مکہ کا سال ہوا تو آپ نے کئی نمازیں ایک وضو سے ادا کیں اور اپنے موزوں پر مسح کیا، عمر رضی الله عنہ نے عرض کیا کہ آپ نے ایک ایسی چیز کی ہے جسے کبھی نہیں کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے اسے جان بوجھ کر کیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اس حدیث کو علی بن قادم نے بھی سفیان ثوری سے روایت کیا ہے اور انہوں نے اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ ”آپ نے اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھویا“، ۳- سفیان ثوری نے بسند «محارب بن دثار عن سلیمان بن بریدہ» ( مرسلاً روایت کیا ہے ) کہ ”نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے“، ۴- اور اسے وکیع نے بسند «سفیان عن محارب عن سلیمان بن بریدہ عن بریدہ» سے روایت کیا ہے، ۵- نیز اسے عبدالرحمٰن بن مھدی وغیرہ نے بسند «سفیان عن محارب بن دثار عن سلیمان بن بریدہ» مرسلاً روایت کیا ہے، اور یہ روایت وکیع کی روایت سے زیادہ صحیح ہے ۱؎، ۶- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں، جب تک «حدث» نہ ہو، ۷- بعض اہل علم استحباب اور فضیلت کے ارادہ سے ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، ۸- نیز عبدالرحمٰن افریقی نے بسند «ابی غطیفعن ابن عمر» روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وضو پر وضو کرے گا تو اس کی وجہ سے اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا“ اس حدیث کی سند ضعیف ہے، ۹- اس باب میں جابر بن عبداللہ سے بھی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ایک وضو سے ظہر اور عصر دونوں پڑھیں۔

English Translation

Sulaiman bin Buraidah narrated that his father said:"The Prophet would perform Wudu for every Salat. So during the year of the Conquest, he performed all of the prayers with one Wudu, and he wiped over his Khuff. So Umar said, 'You did something that you have not done before?' He replied: "I did it on purpose

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:61

Hadith #62
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ، قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ، صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ الْفُقَهَاءِ أَنْ لاَ بَأْسَ أَنْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ وَأَنَسٍ وَأُمِّ هَانِئٍ وَأُمِّ صُبَيَّةَ الْجُهَنِيَّةِ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَابْنِ عُمَرَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَأَبُو الشَّعْثَاءِ اسْمُهُ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے میمونہ رضی الله عنہا نے بیان کیا کہ میں اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے غسل جنابت کرتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر فقہاء کا یہی قول ہے کہ مرد اور عورت کے ایک ہی برتن سے غسل کرنے میں کوئی حرج نہیں، ۳- اس باب میں علی، عائشہ، انس، ام ہانی، ام حبیبہ، ام سلمہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Maimunah said:"I and Allah's Messenger would perform Ghusl for Janabah from one vessel

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:62

Hadith #63
SahihSahihHasan

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي غِفَارٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ فَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَكَرِهَ بَعْضُ الْفُقَهَاءِ الْوُضُوءَ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ كَرِهَا فَضْلَ طَهُورِهَا وَلَمْ يَرَيَا بِفَضْلِ سُؤْرِهَا بَأْسًا ‏.‏

Urdu Translation

قبیلہ بنی غفار کے ایک آدمی (حکم بن عمرو) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے ( وضو کرنے سے ) منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن سرجس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- بعض فقہاء نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ان دونوں نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کو مکروہ کہا ہے لیکن اس کے جھوٹے کے استعمال میں ان دونوں نے کوئی حرج نہیں جانا۔

English Translation

Abu Hajib narrated from a man from Banu Ghifar who said:"The Prophet prohibited using the leftover (water) of a woman's Purification

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:63

Hadith #64
SahihSahihHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَاجِبٍ، يُحَدِّثُ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏ "‏ بِسُؤْرِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَأَبُو حَاجِبٍ اسْمُهُ سَوَادَةُ بْنُ عَاصِمٍ ‏.‏ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ ‏.‏ وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ‏.‏

Urdu Translation

حکم بن عمرو غفاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کو منع فرمایا ہے، یا فرمایا: عورت کے جھوٹے سے وضو کرے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور محمد بن بشار اپنی حدیث میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ مرد عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے ۱؎، اور محمد بن بشار نے اس روایت میں – «أو بسؤرها» والا شک بیان نہیں کیا ۲؎۔

English Translation

A1-Hakim bin Amr AI-Ghifari narrated that:"The Prophet forbade that a man should perform Wudu with the leftover (water) from a woman's purifcation." Or, he said: "from her drinking

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:64

Hadith #65
SahihSahihHasan SahihDaif

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي جَفْنَةٍ فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَتَوَضَّأَ مِنْهُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْمَاءَ لاَ يُجْنِبُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَمَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی ایک بیوی نے ایک لگن ( ٹب ) سے ( پانی لے کر ) غسل کیا، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اس ( بچے ہوئے پانی ) سے وضو کرنا چاہا، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ناپاک تھی، آپ نے فرمایا: پانی جنبی نہیں ہوتا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہی سفیان ثوری، مالک اور شافعی کا قول ہے۔

English Translation

[Ibn Abbas narrated:"One of the wives of the Prophet performed Ghusl with a bowl. Allah's Messenger wanted to perform Wudu with it, so she said: 'O Messenger of Allah! Indeed I am ]unub.' So he said: 'Indeed, water does not become Junub

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:65

Hadith #66
SahihSahihHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ بِئْرٌ يُلْقَى فِيهَا الْحِيَضُ وَلُحُومُ الْكِلاَبِ وَالنَّتْنُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ لاَ يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَقَدْ جَوَّدَ أَبُو أُسَامَةَ هَذَا الْحَدِيثَ فَلَمْ يَرْوِ أَحَدٌ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ فِي بِئْرِ بُضَاعَةَ أَحْسَنَ مِمَّا رَوَى أَبُو أُسَامَةَ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ ‏.‏

Urdu Translation

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم بضاعہ نامی کنویں ۱؎ سے وضو کریں اور حال یہ ہے وہ ایک ایسا کنواں ہے جس میں حیض کے کپڑے، کتوں کے گوشت اور بدبودار چیزیں آ کر گرتی ہیں؟ ۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بئر بضاعہ والی ابو سعید خدری کی یہ حدیث جس عمدگی کے ساتھ ابواسامہ نے روایت کی ہے کسی اور نے روایت نہیں کی ہے ۳؎، ۳- یہ حدیث کئی اور طریق سے ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے مروی ہے، ۴- اس باب میں ابن عباس اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Abu Sa'eed AI-Khudri narrated:"It was said, 'O Allah's Messenger! Shall we use the water of Buda'ah well to perform ablution while it is a well in which menstruation rags, flesh of dogs and the putrid are dumped?" Allah's Messenger said: 'Indeed water is pure, nothing makes it impure

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:66

Hadith #67
SahihSahihSahih

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُسْأَلُ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ فِي الْفَلاَةِ مِنَ الأَرْضِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ السِّبَاعِ وَالدَّوَابِّ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَبْدَةُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقُلَّةُ هِيَ الْجِرَارُ وَالْقُلَّةُ الَّتِي يُسْتَقَى فِيهَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ قَالُوا إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ مَا لَمْ يَتَغَيَّرْ رِيحُهُ أَوْ طَعْمُهُ وَقَالُوا يَكُونُ نَحْوًا مِنْ خَمْسِ قِرَبٍ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے سنا، آپ سے اس پانی کے بارے میں پوچھا جا رہا تھا جو میدان میں ہوتا ہے اور جس پر درندے اور چوپائے آتے جاتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”جب پانی دو قلہ ۱؎ ہو تو وہ گندگی کو اثر انداز ہونے نہیں دے گا، اسے دفع کر دے گا“ ۲؎۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں: قلہ سے مراد گھڑے ہیں اور قلہ وہ ( ڈول ) بھی ہے جس سے کھیتوں اور باغات کی سینچائی کی جاتی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہی قول شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جب پانی دو قلہ ہو تو اسے کوئی چیز نجس نہیں کر سکتی جب تک کہ اس کی بویا مزہ بدل نہ جائے، اور ان لوگوں کا کہنا ہے کہ دو قلہ پانچ مشک کے قریب ہوتا ہے۔

English Translation

Ibn Umar narrated:"I heard AlIah's Messenger while he was being asked about water in open areas of the land, and predators and beasts come to it." He said: 'So Allah's Messenger said: 'When the water is two Qullah it does not carry filth

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:67

Hadith #68
SahihSahihHasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی ٹھہرے ہوئے پانی ۱؎ میں پیشاب نہ کرے پھر اس سے وضو کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔

English Translation

Abu Hurairah narrated that :the Prophet said: "Let none of you urinate [in still water, then perform Wudu with it]

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:68

Hadith #69
SahihSahihHasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، مِنْ آلِ ابْنِ الأَزْرَقِ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ، وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَالْفِرَاسِيِّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ يَرَوْا بَأْسًا بِمَاءِ الْبَحْرِ ‏.‏ وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْوُضُوءَ بِمَاءِ الْبَحْرِ مِنْهُمُ ابْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو هُوَ نَارٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سمندر کا سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کر لیں تو پیاسے رہ جائیں گے، تو کیا ایسی صورت میں ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”سمندر کا پانی پاک ۱؎ ہے، اور اس کا مردار حلال ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر بن عبداللہ اور فراسی رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے، ۳- اور یہی صحابہ کرام رضی الله عنہم میں سے اکثر فقہاء کا قول ہے جن میں ابوبکر، عمر اور ابن عباس بھی ہیں کہ سمندر کے پانی سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں، بعض صحابہ کرام نے سمندر کے پانی سے وضو کو مکروہ جانا ہے، انہیں میں ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو ہیں عبداللہ بن عمرو کا کہنا ہے کہ سمندر کا پانی آگ ہے۔

English Translation

Abu Hurairah narrated:"A man asked Allah's Messenger 'O Messenger of Allah! We sail the seas, and we only carry a little water with us. If we use it for Wudu then we will go thirsty. So shall we perform Wudu from the (water of the) sea?' Allah's Messenger said: 'Its water is pure, and its dead are lawful

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:69

Hadith #70
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَقُتَيْبَةُ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يُحَدِّثُ عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَى قَبْرَيْنِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّهُمَا يُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا هَذَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ وَأَمَّا هَذَا فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي مُوسَى وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأَبِي بَكْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَرَوَى مَنْصُورٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ طَاوُسٍ ‏.‏ وَرِوَايَةُ الأَعْمَشِ أَصَحُّ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبَانَ الْبَلْخِيَّ مُسْتَمْلِي وَكِيعٍ يَقُولُ سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ الأَعْمَشُ أَحْفَظُ لإِسْنَادِ إِبْرَاهِيمَ مِنْ مَنْصُورٍ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا تو آپ نے فرمایا: ”یہ دونوں قبر والے عذاب دیئے جا رہے ہیں، اور کسی بڑی چیز میں عذاب نہیں دیئے جا رہے ( کہ جس سے بچنا مشکل ہوتا ) رہا یہ تو یہ اپنے پیشاب سے بچتا نہیں تھا ۱؎ اور رہا یہ تو یہ چغلی کیا کرتا تھا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابوموسیٰ، عبدالرحمٰن بن حسنہ، زید بن ثابت، اور ابوبکرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Ibn Abbas narrated:"The Prophet passed by two graves. He said: 'These two are being punished. And they are not being punished for something major. As for this one, he would not protect himself from his urine. As for this one, he used to spread Namimah (slander)

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:70

Hadith #71
SahihSahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ وَزَيْنَبَ وَلُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهِيَ أُمُّ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبِي السَّمْحِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِي لَيْلَى وَابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِثْلِ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ قَالُوا يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلاَمِ وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ وَهَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا فَإِذَا طَعِمَا غُسِلاَ جَمِيعًا ‏.‏

Urdu Translation

ام قیس بنت محصن رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئی، وہ ابھی تک کھانا نہیں کھاتا تھا ۱؎، اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگوایا اور اسے اس پر چھڑک لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی، عائشہ، زینب، فضل بن عباس کی والدہ لبابہ بنت حارث، ابوالسمح، عبداللہ بن عمرو، ابولیلیٰ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- صحابہ کرام، تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں کا یہی قول ہے کہ بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے اور بچی کا پیشاب دھویا جائے، اور یہ حکم اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ دونوں کھانا نہ کھانے لگ جائیں، اور جب وہ کھانا کھانے لگ جائیں تو بالاتفاق دونوں کا پیشاب دھویا جائے گا۔

English Translation

Umm Qais bin Mihsan narrated:"I entered upon the Prophet with a son of mine who was not yet eating food. He urinated on him, so he called for water which he sprinkled over it

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:71

Hadith #72
SahihSahihHasan SahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، وَقَتَادَةُ، وَثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَاسًا، مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا فَبَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ وَقَالَ ‏ "‏ اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاسْتَاقُوا الإِبِلَ وَارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلاَمِ فَأُتِيَ بِهِمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلاَفٍ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَأَلْقَاهُمْ بِالْحَرَّةِ ‏.‏ قَالَ أَنَسٌ فَكُنْتُ أَرَى أَحَدَهُمْ يَكُدُّ الأَرْضَ بِفِيهِ حَتَّى مَاتُوا ‏.‏ وَرُبَّمَا قَالَ حَمَّادٌ يَكْدُمُ الأَرْضَ بِفِيهِ حَتَّى مَاتُوا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا لاَ بَأْسَ بِبَوْلِ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ ‏.‏

Urdu Translation

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی، چنانچہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے انہیں زکاۃ کے اونٹوں میں بھیج دیا اور فرمایا: ”تم ان کے دودھ اور پیشاب پیو“ ( وہ وہاں گئے اور کھا پی کر موٹے ہو گئے ) تو ان لوگوں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے چرواہے کو مار ڈالا، اونٹوں کو ہانک لے گئے، اور اسلام سے مرتد ہو گئے، انہیں ( پکڑ کر ) نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ نے ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دیں اور گرم تپتی ہوئی زمین میں انہیں پھینک دیا۔ انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا تھا کہ ( وہ پیاس بجھانے کے لیے ) اپنے منہ سے زمین چاٹ رہا تھا یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مر گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور کئی سندوں سے انس سے مروی ہے، ۲- اکثر اہل علم کا یہی قول ہے کہ جس جانور کا گوشت کھایا جاتا ہو اس کے پیشاب میں کوئی حرج نہیں ۱؎۔

English Translation

Anas narrated:"Some people from Urainah arrived in Al-Madinah, and they were uncomfortable (and ill from the climate). So Allah's Messenger sent them some camels from charity. He told them: "Drink from their milk and urine." So they killed the camel driver that Allah's Messenger sent, and they violently drove off the camels, and apostatized from Islam. So the Prophet came to them, he cut off their hands and feet on opposite side, and branded their eyes, and threw them in Al-Harrah." Anas said, "So I saw one of them working over the ground with his mouth, until they died

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:72

Hadith #73
SahihSahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الأَعْرَجُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ إِنَّمَا سَمَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَعْيُنَهُمْ لأَنَّهُمْ سَمَلُوا أَعْيُنَ الرُّعَاةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَهُ غَيْرَ هَذَا الشَّيْخِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ ‏.‏ وَهُوَ مَعْنَى قَوْلِهِ ‏:‏ ‏(‏ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ ‏)‏ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ إِنَّمَا فَعَلَ بِهِمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم هَذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں اس لیے پھیریں کہ ان لوگوں نے بھی چرواہوں کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اور اللہ تعالیٰ کے فرمان «والجروح قصاص» کا یہی مفہوم ہے، محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ان کے ساتھ یہ معاملہ حدود ( سزاؤں ) کے نازل ہونے سے پہلے کیا تھا۔

English Translation

Anas bin Malik narrated:"Allah's Messenger only poked out their eyes because they had poked out the eyes of the camel driver." Abu 'Eisa said: This Hadfth is Gharib. We do not know anyone who mentioned it other than this shaikh, from Yazid bin Zurai. And it is in accordance with the meaning of Allah's saying: "And wounds equal for equal" It has been reported that Muhammad bin Sirin said: "The Prophet only did this to them before the legislated punishments were revealed

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:73

Hadith #74
SahihSahihHasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَهَنَّادٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ وُضُوءَ إِلاَّ مِنْ صَوْتٍ أَوْ رِيحٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو واجب نہیں جب تک آواز نہ ہو یا بو نہ آئے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "There no Wudu except for a sound or a smell

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:74

Hadith #75
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ رِيحًا بَيْنَ أَلْيَتَيْهِ فَلاَ يَخْرُجْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَعَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ وَعَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي سَعِيدٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ الْعُلَمَاءِ أَنْ لاَ يَجِبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ إِلاَّ مِنْ حَدَثٍ يَسْمَعُ صَوْتًا أَوْ يَجِدُ رِيحًا ‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ إِذَا شَكَّ فِي الْحَدَثِ فَإِنَّهُ لاَ يَجِبُ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ حَتَّى يَسْتَيْقِنَ اسْتِيقَانًا يَقْدِرُ أَنْ يَحْلِفَ عَلَيْهِ ‏.‏ وَقَالَ إِذَا خَرَجَ مِنْ قُبُلِ الْمَرْأَةِ الرِّيحُ وَجَبَ عَلَيْهَا الْوُضُوءُ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَإِسْحَاقَ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہو اور وہ اپنی سرین سے ہوا نکلنے کا شبہ پائے تو وہ ( مسجد سے ) نہ نکلے جب تک کہ وہ ہوا کے خارج ہونے کی آواز نہ سن لے، یا بغیر آواز کے پیٹ سے خارج ہونے والی ہوا کی بو نہ محسوس کر لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن زید، علی بن طلق، عائشہ، ابن عباس، ابن مسعود اور ابو سعید خدری سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور یہی علماء کا قول ہے کہ وضو «حدث» ہی سے واجب ہوتا ہے کہ وہ «حدث» کی آواز سن لے یا بو محسوس کر لے، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ جب «حدث» میں شک ہو تو وضو واجب نہیں ہوتا، جب تک کہ ایسا یقین نہ ہو جائے کہ اس پر قسم کھا سکے، نیز کہتے ہیں کہ جب عورت کی اگلی شرمگاہ سے ہوا خارج ہو تو اس پر وضو واجب ہو جاتا ہے، یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔

English Translation

Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "When one of you is in the Masjid, and he senses wind between his buttocks then he should not exit until he hears a sound or smells an odor

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:75

Hadith #76
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَقْبَلُ صَلاَةَ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں کسی کو «حدث» ہو جائے ( یعنی اس کا وضو ٹوٹ جائے ) ۱؎ تو اللہ اس کی نماز قبول نہیں کرتا جب تک کہ وہ وضو نہ کر لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

English Translation

Abu Hurairah narrated that :the Prophet said: "Indeed Allah does not accept the prayer of one of you when he commits Hadath, until he performs Wudu

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:76

Hadith #77
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، - كُوفِيٌّ - وَهَنَّادٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ الْمَعْنَى وَاحِدٌ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلاَئِيُّ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالاَنِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَامَ وَهُوَ سَاجِدٌ حَتَّى غَطَّ أَوْ نَفَخَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قَدْ نِمْتَ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْوُضُوءَ لاَ يَجِبُ إِلاَّ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَأَبُو خَالِدٍ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سجدے کی حالت میں سو گئے یہاں تک کہ آپ خرانٹے لینے لگے، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ تو سو گئے تھے؟ آپ نے فرمایا: ”وضو صرف اس پر واجب ہوتا ہے جو چت لیٹ کر سوئے اس لیے کہ جب آدمی لیٹ جاتا ہے تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہو جاتے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عائشہ، ابن مسعود، اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Ibn Abbas narrated that :he saw the Prophet sleeping, while in the prostration position, until he snored or snorted. Then he stoodup to pray. So I said: "O Messenger of Allah! You were sleeping?" He said: "Wudu is not required except for sleeping while reclining. For when one reclines, joints relax

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:77

Hadith #78
SahihSahihHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنَامُونَ ثُمَّ يَقُومُونَ فَيُصَلُّونَ وَلاَ يَتَوَضَّئُونَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ صَالِحَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ عَمَّنْ نَامَ قَاعِدًا مُعْتَمِدًا فَقَالَ لاَ وُضُوءَ عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَوَى حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَبَا الْعَالِيَةِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ‏.‏ وَاخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِي الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ فَرَأَى أَكْثَرُهُمْ أَنْ لاَ يَجِبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ إِذَا نَامَ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا حَتَّى يَنَامَ مُضْطَجِعًا ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدُ ‏.‏ قَالَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا نَامَ حَتَّى غُلِبَ عَلَى عَقْلِهِ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ وَبِهِ يَقُولُ إِسْحَاقُ ‏.‏ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ مَنْ نَامَ قَاعِدًا فَرَأَى رُؤْيَا أَوْ زَالَتْ مَقْعَدَتُهُ لِوَسَنِ النَّوْمِ فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ ‏.‏

Urdu Translation

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی الله عنہم ( بیٹھے بیٹھے ) سو جاتے، پھر اٹھ کر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے صالح بن عبداللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عبداللہ ابن مبارک سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو بیٹھے بیٹھے سو جائے تو انہوں نے کہا کہ اس پر وضو نہیں، ۳- ابن عباس والی حدیث کو سعید بن ابی عروبہ نے بسند «قتادہ عن ابن عباس» ( موقوفاً ) روایت کیا ہے اور اس میں ابولعالیہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ۴- نیند سے وضو کے سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے، اکثر اہل علم کی رائے یہی ہے کہ کوئی کھڑے کھڑے سو جائے تو اس پر وضو نہیں جب تک کہ وہ لیٹ کر نہ سوئے، یہی سفیان ثوری، ابن مبارک اور احمد کہتے ہیں، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جب نیند اس قدر گہری ہو کہ عقل پر غالب آ جائے تو اس پر وضو واجب ہے اور یہی اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، شافعی کا کہنا ہے کہ جو شخص بیٹھے بیٹھے سوئے اور خواب دیکھنے لگ جائے، یا نیند کے غلبہ سے اس کی سرین اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو اس پر وضو واجب ہے ۱؎۔

English Translation

Anas bin Malik narrated:"The companions of Allah's Messenger would sleep, then stand to pray, They would not perform Wudu

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:78

Hadith #79
HasanHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ وَلَوْ مِنْ ثَوْرِ أَقِطٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنَتَوَضَّأُ مِنَ الدُّهْنِ أَنَتَوَضَّأُ مِنَ الْحَمِيمِ قَالَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَا ابْنَ أَخِي إِذَا سَمِعْتَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلاَ تَضْرِبْ لَهُ مَثَلاً ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأَبِي طَلْحَةَ وَأَبِي أَيُّوبَ وَأَبِي مُوسَى ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْوُضُوءَ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ وَأَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ عَلَى تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ”آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو ہے اگرچہ وہ پنیر کا کوئی ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو“، اس پر ابن عباس نے ان سے کہا: ابوہریرہ رضی الله عنہ ( بتائیے ) کیا ہم گھی اور گرم پانی ( کے استعمال ) سے بھی وضو کریں؟ تو ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: بھتیجے! تم جب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنو تو اس پر ( عمل کرو ) باتیں نہ بناؤ۔ ( اور مثالیں بیان کر کے قیاس نہ کرو ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ام حبیبہ، ام سلمہ، زید بن ثابت، ابوطلحہ، ابوایوب انصاری اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- بعض اہل علم کی رائے ہے کہ آگ سے پکی ہوئی چیز سے وضو ہے، لیکن صحابہ، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا مذہب ہے کہ اس سے وضو نہیں، ( دلیل اگلی حدیث ہے ) ۔

English Translation

Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "Wudu is (required) from what fire has touched, even if it be a piece of cheese

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:79

Hadith #80
Hasan SahihHasan SahihSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، سَمِعَ جَابِرًا، ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَذَبَحَتْ لَهُ شَاةً فَأَكَلَ وَأَتَتْهُ بِقِنَاعٍ مِنْ رُطَبٍ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ تَوَضَّأَ لِلظُّهْرِ وَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَتْهُ بِعُلاَلَةٍ مِنْ عُلاَلَةِ الشَّاةِ فَأَكَلَ ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي رَافِعٍ وَأُمِّ الْحَكَمِ وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ وَأُمِّ عَامِرٍ وَسُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ وَأُمِّ سَلَمَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَلاَ يَصِحُّ حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ فِي هَذَا الْبَابِ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ إِنَّمَا رَوَاهُ حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَالصَّحِيحُ إِنَّمَا هُوَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ هَكَذَا رَوَى الْحُفَّاظُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِثْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ رَأَوْا تَرْكَ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ‏.‏ وَهَذَا آخِرُ الأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَكَأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ نَاسِخٌ لِلْحَدِيثِ الأَوَّلِ حَدِيثِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ‏.‏

Urdu Translation

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ( مدینہ میں ) نکلے، میں آپ کے ساتھ تھا، آپ ایک انصاری عورت کے پاس آئے، اس نے آپ کے لیے ایک بکری ذبح کی آپ نے ( اسے ) تناول فرمایا، وہ تر کھجوروں کا ایک طبق بھی لے کر آئی تو آپ نے اس میں سے بھی کھایا، پھر ظہر کے لیے وضو کیا اور ظہر کی نماز پڑھی، آپ نے واپس پلٹنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ وہ بکری کے بچے ہوئے گوشت میں سے کچھ گوشت لے کر آئی تو آپ نے ( اسے بھی ) کھایا، پھر آپ نے عصر کی نماز پڑھی اور ( دوبارہ ) وضو نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوبکر صدیق، ابن عباس، ابوہریرہ، ابن مسعود، ابورافع، ام الحکم، عمرو بن امیہ، ام عامر، سوید بن نعمان اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ابوبکر کی وہ حدیث جسے ابن عباس نے ان سے روایت کیا ہے سنداً ضعیف ہے ابن عباس کی مرفوعاً حدیث زیادہ صحیح ہے اور حفاظ نے ایسے ہی روایت کیا ہے۔ ۲- صحابہ کرام تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم مثلاً سفیان ثوری ابن مبارک شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا اسی پر عمل ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو واجب نہیں، اور یہی رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا آخری فعل ہے، گویا یہ حدیث پہلی حدیث کی ناسخ ہے جس میں ہے کہ آگ کی پکی ہوئی چیز سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ۱؎۔

English Translation

Jabir narrated:"Allah's Messenger went out and I went with him. He entered upon a woman from the Ansar. She slaughtered a sheep and he ate from it; and she brought a basket with ripe dates and he ate from it. Then he performed Wudu for Zuhr and prayed. Then he finished, so she brought him something from the remainder of the sheep. So he ate it, then prayed Asr and did not perform Wudu

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:80

Hadith #81
SahihSahihSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ فَقَالَ ‏"‏ تَوَضَّئُوا مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ وَسُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ فَقَالَ ‏"‏ لاَ تَتَوَضَّئُوا مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَأُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَوَى الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ ‏.‏ وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ أَنَّهُمْ لَمْ يَرَوُا الْوُضُوءَ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ ‏.‏

Urdu Translation

براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے اونٹ کے گوشت کے بارے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اس سے وضو کرو اور بکری کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اس سے وضو نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں جابر بن سمرہ اور اسید بن حضیر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- یہی قول احمد، عبداللہ اور اسحاق بن راہویہ کا ہے، ۳- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس باب میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے دو حدیثیں صحیح ہیں: ایک براء بن عازب کی ( جسے مولف نے ذکر کیا اور اس کے طرق پر بحث کی ہے ) اور دوسری جابر بن سمرہ کی، ۴- یہی قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے۔ اور تابعین وغیرہم میں سے بعض اہل علم سے مروی ہے کہ ان لوگوں کی رائے ہے کہ اونٹ کے گوشت سے وضو نہیں ہے اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے ۱؎۔

English Translation

Al-Bara bin Azib narrated:Allah's Messenger was asked about performing Wudu for camel meat. He said: "Perform Wudu for it." He Was asked about Wudu after eating goat meat. So he said: "Do not perform Wudu for it

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:81

Hadith #82
SahihSahihHasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلاَ يُصَلِّ حَتَّى يَتَوَضَّأَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ وَأَبِي أَيُّوبَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَرْوَى ابْنَةِ أُنَيْسٍ وَعَائِشَةَ وَجَابِرٍ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ قَالَ هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِثْلَ هَذَا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بُسْرَةَ ‏.‏

Urdu Translation

بسرہ بنت صفوان رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنی شرمگاہ ( عضو تناسل ) چھوئے تو جب تک وضو نہ کر لے نماز نہ پڑھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بسرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام حبیبہ، ابوایوب، ابوہریرہ، ارویٰ بنت انیس، عائشہ، جابر، زید بن خالد اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- کئی لوگوں نے اسے اسی طرح ہشام بن عروہ سے اور ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے اور عروہ نے بسرہ سے روایت کیا ہے ۱؎۔

English Translation

Busrah bint Safwan narrated that :the Prophet said: "Whoever touches his penis, then he is not to pray until he performs Wudu

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:82

Hadith #83
SahihSahihSahih

وَرَوَى أَبُو أُسَامَةَ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَرْوَانَ، عَنْ بُسْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ، إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، بِهَذَا ‏.‏

Urdu Translation

ابواسامہ اور کئی اور لوگوں نے اس حدیث کو بسند «ہشام بن عروہ عن أبیہ عن مروان بسرة عن النبی صلی الله علیہ وسلم» روایت کیا ہے۔

English Translation

Busrah narrated :a similar report (as no. 82) from the Prophet

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:83

Hadith #84
SahihSahihSahihIsnaad Hasan

وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ بُسْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ، عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ بُسْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَبِهِ يَقُولُ الأَوْزَاعِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ بُسْرَةَ ‏.‏ وَقَالَ أَبُو زُرْعَةَ حَدِيثُ أُمِّ حَبِيبَةَ فِي هَذَا الْبَابِ صَحِيحٌ وَهُوَ حَدِيثُ الْعَلاَءِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ‏.‏ وَقَالَ مُحَمَّدٌ لَمْ يَسْمَعْ مَكْحُولٌ مِنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَرَوَى مَكْحُولٌ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَنْبَسَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏ وَكَأَنَّهُ لَمْ يَرَ هَذَا الْحَدِيثَ صَحِيحًا ‏.‏

Urdu Translation

نیز اسے ابوالزناد نے «بسند عروہ عن النبی صلی الله علیہ وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے۔ ۱- یہی صحابہ اور تابعین میں سے کئی لوگوں کا قول ہے اور اسی کے قائل اوزاعی، شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ ہیں، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ بسرہ کی حدیث اس باب میں سب سے صحیح ہے، ۳- ابوزرعہ کہتے ہیں کہ ام حبیبہ رضی الله عنہا کی حدیث ۱؎ ( بھی ) اس باب میں صحیح ہے، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ مکحول کا سماع عنبسہ بن ابی سفیان سے نہیں ہے ۲؎، اور مکحول نے ایک آدمی سے اور اس آدمی نے عنبسہ سے ان کی حدیث کے علاوہ ایک دوسری حدیث روایت کی ہے، گویا امام بخاری اس حدیث کو صحیح نہیں مانتے۔

English Translation

Busrah narrated that :the Prophet said a similar Hadith

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:84

Hadith #85
SahihSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، هُوَ الْحَنَفِيُّ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ وَهَلْ هُوَ إِلاَّ مُضْغَةٌ مِنْهُ أَوْ بَضْعَةٌ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَبَعْضِ التَّابِعِينَ أَنَّهُمْ لَمْ يَرَوُا الْوُضُوءَ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَابْنِ الْمُبَارَكِ ‏.‏ وَهَذَا الْحَدِيثُ أَحْسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيهِ ‏.‏ وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ وَأَيُّوبَ بْنِ عُتْبَةَ ‏.‏ وَحَدِيثُ مُلاَزِمِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ أَصَحُّ وَأَحْسَنُ ‏.‏

Urdu Translation

طلق بن علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ( عضو تناسل کے سلسلے میں ) فرمایا: ”یہ تو جسم ہی کا ایک لوتھڑا یا ٹکڑا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوامامہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں سے نیز بعض تابعین سے بھی مروی ہے کہ عضو تناسل کے چھونے سے وضو واجب نہیں، اور یہی اہل کوفہ اور ابن مبارک کا قول ہے، ۳- اس باب میں مروی احادیث میں سے یہ سب سے اچھی حدیث ہے، ۴- ایوب بن عتبہ اور محمد بن جابر نے بھی اس حدیث کو قیس بن طلق نے «عن أبیہ» سے روایت کیا ہے۔ بعض محدثین نے محمد بن جابر اور ایوب بن عتبہ کے سلسلے میں کلام کیا ہے، ۵- ملازم بن عمرو کی حدیث جسے انہوں نے عبداللہ بن بدر سے روایت کیا ہے، سب سے صحیح اور اچھی ہے ۲؎۔

English Translation

Qais bin Talq bin Ali - [and he is] Al-Hanafi narrated from his father, that:the Prophet said: 'Is it other than a piece of his flesh?" Or: "part of him?

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:85

Hadith #86
SahihSahihDaifDaif

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَهَنَّادٌ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ وَأَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ مَنْ هِيَ إِلاَّ أَنْتِ قَالَ فَضَحِكَتْ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ قَالُوا لَيْسَ فِي الْقُبْلَةِ وُضُوءٌ ‏.‏ وَقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَالأَوْزَاعِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ فِي الْقُبْلَةِ وُضُوءٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ ‏.‏ وَإِنَّمَا تَرَكَ أَصْحَابُنَا حَدِيثَ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا لأَنَّهُ لاَ يَصِحُّ عِنْدَهُمْ لِحَالِ الإِسْنَادِ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ الْعَطَّارَ الْبَصْرِيَّ يَذْكُرُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ قَالَ ضَعَّفَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ هَذَا الْحَدِيثَ جِدًّا ‏.‏ وَقَالَ هُوَ شِبْهُ لاَ شَىْءَ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يُضَعِّفُ هَذَا الْحَدِيثَ وَقَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَبَّلَهَا وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ‏.‏ وَهَذَا لاَ يَصِحُّ أَيْضًا ‏.‏ وَلاَ نَعْرِفُ لإِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ سَمَاعًا مِنْ عَائِشَةَ ‏.‏ وَلَيْسَ يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْبَابِ شَيْءٌ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنی بیویوں میں سے کسی ایک کا بوسہ لیا، پھر آپ نماز کے لیے نکلے اور وضو نہیں کیا، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ( اپنی خالہ ام المؤمنین عائشہ سے ) کہا: وہ آپ ہی رہی ہوں گی؟ تو وہ ہنس پڑیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم سے اسی طرح مروی ہے اور یہی قول سفیان ثوری، اور اہل کوفہ کا ہے کہ بوسہ لینے سے وضو ( واجب ) نہیں ہے، مالک بن انس، اوزاعی، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ بوسہ لینے سے وضو ( واجب ) ہے، یہی قول صحابہ اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا ہے، ۲- ہمارے اصحاب نے عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث پر جو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے محض اس وجہ سے عمل نہیں کیا کہ یہ سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ۲؎، ۳- یحییٰ بن قطان نے اس حدیث کی بہت زیادہ تضعیف کی ہے اور کہا ہے کہ یہ «لاشیٔ» کے مشابہ ہے ۳؎، ۴- نیز میں نے محمد بن اسماعیل ( بخاری ) کو بھی اس حدیث کی تضعیف کرتے سنا، انہوں نے کہا کہ حبیب بن ثابت کا سماع عروۃ سے نہیں ہے، ۵- نیز ابراہیم تیمی نے بھی عائشہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ان کا بوسہ لیا اور وضو نہیں کیا۔ لیکن یہ روایت بھی صحیح نہیں کیونکہ عائشہ سے ابراہیم تیمی کے سماع کا ہمیں علم نہیں۔ اس باب میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے کوئی بھی حدیث صحیح نہیں ہے۔

English Translation

Urwah narrated from Aishah that:"The Prophet kissed one of his wives, then he went to the prayer and did not perform Wudu." He (Urwah) said: "I said 'Who was it except you?'" [He said:] "So she laughed

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:86

Hadith #87
SahihSahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، - وَهُوَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ حَدَّثَنَا وَقَالَ، إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاءَ فَأَفْطَرَ فَتَوَضَّأَ ‏.‏ فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ صَدَقَ أَنَا صَبَبْتُ لَهُ وَضُوءَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَابْنُ أَبِي طَلْحَةَ أَصَحُّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَأَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ مِنَ التَّابِعِينَ الْوُضُوءَ مِنَ الْقَىْءِ وَالرُّعَافِ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَيْسَ فِي الْقَىْءِ وَالرُّعَافِ وُضُوءٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ ‏.‏ وَقَدْ جَوَّدَ حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ هَذَا الْحَدِيثَ ‏.‏ وَحَدِيثُ حُسَيْنٍ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ ‏.‏ وَرَوَى مَعْمَرٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ فَأَخْطَأَ فِيهِ فَقَالَ عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الأَوْزَاعِيَّ وَقَالَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ وَإِنَّمَا هُوَ مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ‏.‏

Urdu Translation

ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے قے کی تو روزہ توڑ دیا اور وضو کیا ( معدان کہتے ہیں کہ ) پھر میں نے ثوبان رضی الله عنہ سے دمشق کی مسجد میں ملاقات کی اور میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ ابو الدرداء نے سچ کہا، میں نے ہی آپ صلی الله علیہ وسلم پر پانی ڈالا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- صحابہ اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کی رائے ہے کہ قے اور نکسیر سے وضو ( ٹوٹ جاتا ) ہے۔ اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد، اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ۱؎ اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ قے اور نکسیر سے وضو نہیں ٹوٹتا یہ مالک اور شافعی کا قول ہے ۲؎، ۲- حدیث کے طرق کو ذکر کرنے کے بعد امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حسین المعلم کی حدیث اس باب میں سب سے صحیح ہے۔

English Translation

Madan bin Abi Talhah narrated from Abu Ad-Darda that :"Allah's Messenger vomited [so he broke fast] so he performed Wudu." So I met Thawban in a Masjid in Damascus, and I mentioned that to him. He said: 'He told the truth, I poured the water for his Wudu

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:87

Hadith #88
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ سَأَلَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا فِي إِدَاوَتِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ نَبِيذٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَإِنَّمَا رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَأَبُو زَيْدٍ رَجُلٌ مَجْهُولٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ لاَ يُعْرَفُ لَهُ رِوَايَةٌ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏ وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْوُضُوءَ بِالنَّبِيذِ مِنْهُمْ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ يُتَوَضَّأُ بِالنَّبِيذِ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏ وَقَالَ إِسْحَاقُ إِنِ ابْتُلِيَ رَجُلٌ بِهَذَا فَتَوَضَّأَ بِالنَّبِيذِ وَتَيَمَّمَ أَحَبُّ إِلَىَّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَوْلُ مَنْ يَقُولُ لاَ يُتَوَضَّأُ بِالنَّبِيذِ أَقْرَبُ إِلَى الْكِتَابِ وَأَشْبَهُ لأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ‏:‏ ‏"‏فإِن لَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا ‏"‏‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہارے مشکیزے میں کیا ہے؟“ تو میں نے عرض کیا: نبیذ ہے ۱؎، آپ نے فرمایا: ”کھجور بھی پاک ہے اور پانی بھی پاک ہے“ تو آپ نے اسی سے وضو کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوزید محدثین کے نزدیک مجہول آدمی ہیں اس حدیث کے علاوہ کوئی اور روایت ان سے جانی نہیں جاتی، ۲- بعض اہل علم کی رائے ہے نبیذ سے وضو جائز ہے انہیں میں سے سفیان ثوری وغیرہ ہیں، بعض اہل علم نے کہا ہے کہ نبیذ سے وضو جائز نہیں ۲؎ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر کسی آدمی کو یہی کرنا پڑ جائے تو وہ نبیذ سے وضو کر کے تیمم کر لے، یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، ۳- جو لوگ نبیذ سے وضو کو جائز نہیں مانتے ان کا قول قرآن سے زیادہ قریب اور زیادہ قرین قیاس ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «فإن لم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا» ”جب تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو“ ( النساء: 43 ) پوری آیت یوں ہے: «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون ولا جنبا إلا عابري سبيل حتى تغتسلوا وإن كنتم مرضى أو على سفر أو جاء أحد منكم من الغآئط أو لامستم النساء فلم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا فامسحواء بوجوهكم وأيديكم إن الله كان عفوا غفورا»

English Translation

Abdullah bin Mas'ud narrated:"The Prophet asked me: "What is in your Idawah (water skin)?" I said: "Nabidh." He said: "Dates are wholesome and water is pure." He said: "So he performed Wudu with it

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:88

Hadith #89
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم شَرِبَ لَبَنًا فَدَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ وَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ لَهُ دَسَمًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ وَأُمِّ سَلَمَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْمَضْمَضَةَ مِنَ اللَّبَنِ وَهَذَا عِنْدَنَا عَلَى الاِسْتِحْبَابِ وَلَمْ يَرَ بَعْضُهُمُ الْمَضْمَضَةَ مِنَ اللَّبَنِ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے دودھ پیا تو پانی منگوا کر کلی کی اور فرمایا: ”اس میں چکنائی ہوتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سہل بن سعد ساعدی، اور ام سلمہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کی رائے ہے کہ کلی دودھ پینے سے ہے، اور یہ حکم ہمارے نزدیک مستحب ۱؎ ہے۔

English Translation

Ibn Abbas narrated :the Prophet drank milk. Then he called for water to rinse out his mouth. Then he said: "Indeed it has fat." [He said:] There are narrations on this topic from Sahl bin Sa'd As-Sa'idi and Umm Salamah. Abu Eisa said: [And] this Hadith is Hasan Sahih. Some of the people of knowledge held the view that one is to wash the mouth after drinking milk and this is recommended according us. Some others did not hold the view that one is to wash out the mouth after drinking milk

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:89

Hadith #90
Hasan SahihHasan SahihHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَبُولُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَإِنَّمَا يُكْرَهُ هَذَا عِنْدَنَا إِذَا كَانَ عَلَى الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ ‏.‏ وَقَدْ فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ ذَلِكَ ‏.‏ وَهَذَا أَحْسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ وَعَلْقَمَةَ بْنِ الْفَغْوَاءِ وَجَابِرٍ وَالْبَرَاءِ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ پیشاب کر رہے تھے، تو آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور ہمارے نزدیک سلام کا جواب دینا اس صورت میں مکروہ قرار دیا جاتا ہے جب آدمی پاخانہ یا پیشاب کر رہا ہو، بعض اہل علم نے اس کی یہی تفسیر کی ہے ۱؎، ۲- یہ سب سے عمدہ حدیث ہے جو اس باب میں روایت کی گئی ہے، ۳- اور اس باب میں مہاجر بن قنفذ، عبداللہ بن حنظلہ، علقمہ بن شفواء، جابر اور براء بن عازب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Ibn Umar narrated:"A man greeted the Prophet (with Salam), and he was urinating, so he did not respond to him

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:90

Hadith #91
SahihSahihHasan SahihDaif

حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ يُغْسَلُ الإِنَاءُ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولاَهُنَّ أَوْ أُخْرَاهُنَّ بِالتُّرَابِ وَإِذَا وَلَغَتْ فِيهِ الْهِرَّةُ غُسِلَ مَرَّةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا وَلَمْ يُذْكَرْ فِيهِ ‏"‏ إِذَا وَلَغَتْ فِيهِ الْهِرَّةُ غُسِلَ مَرَّةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن میں جب کتا منہ ڈال دے تو اسے سات بار دھویا جائے، پہلی بار یا آخری بار اسے مٹی سے دھویا جائے ۱؎، اور جب بلی منہ ڈالے تو اسے ایک بار دھویا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ ۳- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے کئی سندوں سے اسی طرح مروی ہے جن میں بلی کے منہ ڈالنے پر ایک بار دھونے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، ۳- اس باب میں عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔

English Translation

Abu Hurairah narrated that :the Prophet said: "Wash the vessel the dog has drunk from seven times: the first or the last of them with dirt. And when the cat drinks out of it, wash it once

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:91

Hadith #92
SahihSahihHasan SahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَتْ، عِنْدَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، دَخَلَ عَلَيْهَا ‏.‏ قَالَتْ فَسَكَبْتُ لَهُ وَضُوءًا قَالَتْ فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ فَأَصْغَى لَهَا الإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ قَالَتْ كَبْشَةُ فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ أَتَعْجَبِينَ يَا بِنْتَ أَخِي فَقُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ أَوِ الطَّوَّافَاتِ ‏"‏ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِثْلِ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ لَمْ يَرَوْا بِسُؤْرِ الْهِرَّةِ بَأْسًا ‏.‏ وَهَذَا أَحَسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ ‏.‏ وَقَدْ جَوَّدَ مَالِكٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ وَلَمْ يَأْتِ بِهِ أَحَدٌ أَتَمَّ مِنْ مَالِكٍ ‏.‏

Urdu Translation

کبشہ بنت کعب (جو ابن ابوقتادہ کے نکاح میں تھیں) کہتی ہیں کہ ابوقتادہ میرے پاس آئے تو میں نے ان کے لیے ( ایک برتن ) وضو کا پانی میں ڈالا، اتنے میں ایک بلی آ کر پینے لگی تو انہوں نے برتن کو اس کے لیے جھکا دیا تاکہ وہ ( آسانی سے ) پی لے، کبشہ کہتی ہیں: ابوقتادہ نے مجھے دیکھا کہ میں ان کی طرف تعجب سے دیکھ رہی ہوں تو انہوں نے کہا: بھتیجی! کیا تم کو تعجب ہو رہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”یہ ( بلی ) نجس نہیں، یہ تو تمہارے پاس برابر آنے جانے والوں یا آنے جانے والیوں میں سے ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث مروی ہیں، ۲- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۳- صحابہ کرام اور تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم مثلاً شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ بلی کے جھوٹے میں کوئی حرج نہیں، اور یہ سب سے اچھی حدیث ہے جو اس باب میں روایت کی گئی ہے۔

English Translation

Humaidah bint Ubaid bin Rifa'ah narrated:"Kabshah bint Ka'b bin Malik - she was (married) with Ibn Abi Qatadah - narrated "That Abu Qatadah visited her, [so she said:] 'So I poured water for him to use for Wudu.' She said: 'A cat came to drink, so he lowered he container until it drank.' Kabshah said: 'So he saw me looking at it and said, "O my niece! Are you surprised at that?" So I said yes. He said: "Indeed Allah's Messenger said 'It is not impure, it is only one of those roam around among you

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:92

Hadith #93
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ بَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ فَقِيلَ لَهُ أَتَفْعَلُ هَذَا قَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُهُ ‏.‏ قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَكَانَ يُعْجِبُهُمْ حَدِيثُ جَرِيرٍ لأَنَّ إِسْلاَمَهُ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ ‏.‏ هَذَا قَوْلُ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي كَانَ يُعْجِبُهُمْ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ وَحُذَيْفَةَ وَالْمُغِيرَةِ وَبِلاَلٍ وَسَعْدٍ وَأَبِي أَيُّوبَ وَسَلْمَانَ وَبُرَيْدَةَ وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ وَأَنَسٍ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَيَعْلَى بْنِ مُرَّةَ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَأُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ وَأَبِي أُمَامَةَ وَجَابِرٍ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَابْنِ عُبَادَةَ وَيُقَالُ ابْنُ عِمَارَةَ وَأُبَىُّ بْنُ عِمَارَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ جَرِيرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

Urdu Translation

ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما نے پیشاب کیا پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، ان سے کہا گیا: کیا آپ ایسا کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ مجھے اس کام سے کون سی چیز روک سکتی ہے جبکہ میں نے خود رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ صحابہ کرام کو جریر رضی الله عنہ کی یہ حدیث اچھی لگتی تھی کیونکہ ان کا اسلام سورۃ المائدہ کے نزول کے بعد کا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جریر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، علی، حذیفہ، مغیرہ، بلال، ابوایوب، سلمان، بریدۃ، عمرو بن امیہ، انس، سہل بن سعد، یعلیٰ بن مرہ، عبادہ بن صامت، اسامہ بن شریک، ابوامامہ، جابر، اسامہ بن زید، ابن عبادۃ جنہیں ابن عمارہ اور ابی بن عمارہ بھی کہا جاتا ہے رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Hammam bin AI-Harith narrated:"Jarir bin Abdullah urinated, then he performed Wudu, wiping over his Khuff. So he was asked, 'You do this?' He replied, 'What prevents me, when I have seen Allah's Messenger doing it?" He [Ibrahim] said "And they were impressed by the narration of Jarir since he accepted Islam after the revelation Sural Al-Ma'idah." [This is the saying of lbrahim, that is, "They were impressed."] [He said:] There are narrations on this topic from Umar, Ali, Hudhaifah, AI-Mughirah, Bilil, Sa'd, Abu Ayyub, Salman, Buraidah, Amr bin Umayyah, Anas, Sahl bin Sa'd, Ya'la bin Murrah, Ubadah bin As-Samit, Usamah bin Shank, Abu Umamah, Jabir, Usamah bin Zaid, and Ibn Ubadah. They call him Ibn Imarah and Ubayy bin Imarah

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:93

Hadith #94
SahihSahihIsnaad Hasan

وَيُرْوَى عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ رَأَيْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ فَقُلْتُ لَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ‏.‏ فَقُلْتُ لَهُ أَقَبْلَ الْمَائِدَةِ أَمْ بَعْدَ الْمَائِدَةِ فَقَالَ مَا أَسْلَمْتُ إِلاَّ بَعْدَ الْمَائِدَةِ ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ زِيَادٍ التِّرْمِذِيُّ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ جَرِيرٍ ‏.‏ قَالَ وَرَوَى بَقِيَّةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَدْهَمَ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ جَرِيرٍ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ مُفَسِّرٌ لأَنَّ بَعْضَ مَنْ أَنْكَرَ الْمَسْحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ تَأَوَّلَ أَنَّ مَسْحَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْخُفَّيْنِ كَانَ قَبْلَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ وَذَكَرَ جَرِيرٌ فِي حَدِيثِهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ ‏.‏

Urdu Translation

شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، میں نے جب ان سے اس سلسلے میں بات کی تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، میں نے ان سے پوچھا: آپ کا یہ عمل سورۃ المائدہ کے نزول سے پہلے کا ہے، یا بعد کا؟ تو کہا: میں تو سورۃ المائدہ اترنے کے بعد ہی اسلام لایا ہوں، یہ حدیث آیت وضو کی تفسیر کر رہی ہے اس لیے کہ جن لوگوں نے موزوں پر مسح کا انکار کیا ہے ان میں سے بعض نے یہ تاویل کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے موزوں پر جو مسح کیا تھا وہ آیت مائدہ کے نزول سے پہلے کا تھا، جبکہ جریر رضی الله عنہ نے اپنی روایت میں ذکر کیا ہے کہ انہوں نے نزول مائدہ کے بعد نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

English Translation

It has been related from Sahr bin Hawshah that he said:"I saw Jarir bin 'Abdullah performing Wudu and he wiped over his Khuff. I asked him about that. He replied, 'I saw 'I saw Allah's Messenger performing Wudu and he wiped over his Khuff.' So I said to him, before Surah AI-Ma'idah (was revealed) or after AI-Ma'idah?' So he replied, 'I did not acceot Islam until after Al-Ma'idah.'" Qutaibah narrated this to us; (saying) Khalid bin Ziyad At-Tirmidhi narrated it to us, from Muqatil bin Hayyan, from Shahr bin Hawshah, from Jarir. He said: Baqiyyah related it from Ibrahim bin Adham from Muqatil bin Hayyan, from Shahr bin Hawshah, from Jarir. This Hadith is explanatory, because some who dislike wiping over the Khuff give the interpretation that the Prophet's wiping over the two Khuff was before the revelation of Sural Al-Ma'idah. But in his Hadlth, Jarir mentions that he saw the Prophet wiping over his Khuff after the revelation of Surat Al-Ma'idah

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:94

Hadith #95
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ ‏ "‏ لِلْمُسَافِرِ ثَلاَثَةٌ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ ‏"‏ ‏.‏ وَذُكِرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ أَنَّهُ صَحَّحَ حَدِيثَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ فِي الْمَسْحِ ‏.‏ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ بْنُ عَبْدٍ وَيُقَالُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي بَكْرَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَصَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ وَعَوْفِ بْنِ مَالِكٍ وَابْنِ عُمَرَ وَجَرِيرٍ ‏.‏

Urdu Translation

خزیمہ بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”مسافر کے لیے تین دن ہے اور مقیم کے لیے ایک دن“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یحییٰ بن معین سے منقول ہے کہ انہوں نے مسح کے سلسلہ میں خزیمہ بن ثابت کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، ۳- اس باب میں علی، ابوبکرۃ، ابوہریرہ، صفوان بن عسال، عوف بن مالک، ابن عمر اور جریر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Khuzaimah bin Thabit narrated:"The Prophet was asked about wiping over the Khuff. So he said: "Three (days) for the traveler, and one day for the resident

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:95

Hadith #96
HasanHasanHasan SahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفْرًا أَنْ لاَ نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ إِلاَّ مِنْ جَنَابَةٍ وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ وَحَمَّادٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ وَلاَ يَصِحُّ ‏.‏ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ شُعْبَةُ لَمْ يَسْمَعْ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ مِنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ حَدِيثَ الْمَسْحِ ‏.‏ وَقَالَ زَائِدَةُ عَنْ مَنْصُورٍ كُنَّا فِي حُجْرَةِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ وَمَعَنَا إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ فَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ الْفُقَهَاءِ مِثْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ قَالُوا يَمْسَحُ الْمُقِيمُ يَوْمًا وَلَيْلَةً وَالْمُسَافِرُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُمْ لَمْ يُوَقِّتُوا فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَالتَّوْقِيتُ أَصَحُّ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ أَيْضًا مِنْ غَيْرِ حَدِيثِ عَاصِمٍ ‏.‏

Urdu Translation

صفوان بن عسال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم مسافر ہوتے تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے کہ ہم اپنے موزے تین دن اور تین رات تک، پیشاب، پاخانہ یا نیند کی وجہ سے نہ اتاریں، الا یہ کہ جنابت لاحق ہو جائے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن اسماعیل ( بخاری ) کہتے ہیں کہ اس باب میں صفوان بن عسال مرادی کی حدیث سب سے عمدہ ہے، ۳- اکثر صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے اکثر اہل علم مثلاً: سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ مقیم ایک دن اور ایک رات موزوں پر مسح کرے، اور مسافر تین دن اور تین رات، بعض علماء سے مروی ہے کہ موزوں پر مسح کے لیے وقت کی تحدید نہیں کہ ( جب تک دل چاہے کر سکتا ہے ) یہ مالک بن انس رحمہ اللہ کا قول ہے، لیکن تحدید والا قول زیادہ صحیح ہے۔

English Translation

Safwan bin Assal narrated:'When we were traveling, Allah's Messenger would order us not to remove our Khuff for three days and nights, except for Janabah, but not for defecating, urinating, and sleep

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:96

Hadith #97
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَسَحَ أَعْلَى الْخُفِّ وَأَسْفَلَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ الْفُقَهَاءِ وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ وَالشَّافِعِيُّ وَإِسْحَاقُ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ مَعْلُولٌ لَمْ يُسْنِدْهُ عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ غَيْرُ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ وَمُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالاَ لَيْسَ بِصَحِيحٍ لأَنَّ ابْنَ الْمُبَارَكِ رَوَى هَذَا عَنْ ثَوْرٍ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ قَالَ حُدِّثْتُ عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ مُرْسَلٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْمُغِيرَةَ ‏.‏

Urdu Translation

مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اکرم صلی الله علیہ وسلم نے موزے کے اوپر اور نیچے دونوں جانب مسح کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے بہت سے لوگوں کا یہی قول ہے اور مالک، شافعی اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، ۲- یہ حدیث معلول ہے۔ میں نے ابوزرعہ اور محمد بن اسماعیل ( بخاری ) سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے کہا کہ یہ صحیح نہیں ہے ۲؎۔

English Translation

AI-Mughirah bin Shu'bah narrated:"The Prophet wiped over the Khuff and its bottom

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:97

Hadith #98
Hasan SahihHasan SahihHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ عَلَى ظَاهِرِهِمَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهُوَ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ وَلاَ نَعْلَمُ أَحَدًا يَذْكُرُ عَنْ عُرْوَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ ‏ "‏ عَلَى ظَاهِرِهِمَا ‏"‏ ‏.‏ غَيْرَهُ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَأَحْمَدُ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ وَكَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يُشِيرُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ ‏.‏

Urdu Translation

مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے دیکھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مغیرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- عبدالرحمٰن بن ابی الزناد کے علاوہ میں کسی اور کو نہیں جانتا جس نے بسند «عروہ عن مغیرہ» دونوں موزوں کے ”اوپری حصہ“ پر مسح کا ذکر کرتا ہو ۲؎ اور یہی کئی اہل علم کا قول ہے اور یہی سفیان ثوری اور احمد بھی کہتے ہیں۔

English Translation

AI-Mughirah bin Shu'bah narrated:"I saw the Prophet wiping over the Khuff: on the tops of them

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:98

Hadith #99
SahihSahihHasan SahihDaif

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ قَالُوا يَمْسَحُ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ نَعْلَيْنِ إِذَا كَانَا ثَخِينَيْنِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي مُوسَى ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى سَمِعْتُ صَالِحَ بْنَ مُحَمَّدٍ التِّرْمِذِيَّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُقَاتِلٍ السَّمَرْقَنْدِيَّ يَقُولُ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي حَنِيفَةَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَعَلَيْهِ جَوْرَبَانِ فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا ثُمَّ قَالَ فَعَلْتُ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ أَكُنْ أَفْعَلُهُ مَسَحْتُ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَهُمَا غَيْرُ مُنَعَّلَيْنِ ‏.‏

Urdu Translation

مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا اور موزوں اور جوتوں پر مسح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- کئی اہل علم کا یہی قول ہے اور سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ پاتابوں پر مسح کرے گرچہ جوتے نہ ہوں جب کہ پاتا بے موٹے ہوں، ۳- اس باب میں ابوموسیٰ رضی الله عنہ سے بھی روایت آئی ہے، ۴- ابومقاتل سمرقندی کہتے ہیں کہ میں ابوحنیفہ کے پاس ان کی اس بیماری میں گیا جس میں ان کی وفات ہوئی تو انہوں نے پانی منگایا، اور وضو کیا، وہ پاتا بے پہنے ہوئے تھے، تو انہوں نے ان پر مسح کیا، پھر کہا: آج میں نے ایسا کام کیا ہے جو میں نہیں کرتا تھا۔ میں نے پاتابوں پر مسح کیا ہے حالانکہ میں نے جوتیاں نہیں پہن رکھیں۔

English Translation

Al-Mughirah bin Shu`bah narrated:"The Prophet performed Wudu' and wiped over his socks and sandals

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:99

Hadith #100
SahihSahihHasan SahihSahih - Bukhari And Muslim

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْعِمَامَةِ ‏.‏ قَالَ بَكْرٌ وَقَدْ سَمِعْتُ مِنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ ‏.‏ قَالَ وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ أَنَّهُ مَسَحَ عَلَى نَاصِيَتِهِ وَعِمَامَتِهِ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ذَكَرَ بَعْضُهُمُ الْمَسْحَ عَلَى النَّاصِيَةِ وَالْعِمَامَةِ وَلَمْ يَذْكُرْ بَعْضُهُمُ النَّاصِيَةَ ‏.‏ وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ مَا رَأَيْتُ بِعَيْنِي مِثْلَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ وَسَلْمَانَ وَثَوْبَانَ وَأَبِي أُمَامَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَنَسٌ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ الأَوْزَاعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ قَالُوا يَمْسَحُ عَلَى الْعِمَامَةِ ‏.‏ وَقَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ لاَ يَمْسَحُ عَلَى الْعِمَامَةِ إِلاَّ أَنْ يَمْسَحَ بِرَأْسِهِ مَعَ الْعِمَامَةِ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَسَمِعْتُ الْجَارُودَ بْنَ مُعَاذٍ يَقُولُ سَمِعْتُ وَكِيعَ بْنَ الْجَرَّاحِ يَقُولُ إِنْ مَسَحَ عَلَى الْعِمَامَةِ يُجْزِئُهُ لِلأَثَرِ ‏.‏

Urdu Translation

مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا اور دونوں موزوں اور عمامے پر مسح کیا۔ محمد بن بشار نے ایک دوسری جگہ اس حدیث میں یہ ذکر کیا ہے کہ ”آپ نے اپنی پیشانی اور اپنے عمامے پر مسح کیا“، یہ حدیث اور بھی کئی سندوں سے مغیرہ بن شعبہ سے روایت کی گئی ہے، ان میں سے بعض نے پیشانی اور عمامے پر مسح کا ذکر کیا ہے اور بعض نے پیشانی کا ذکر نہیں کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمرو بن امیہ، سلمان، ثوبان اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام میں سے کئی اہل علم کا بھی یہی قول ہے۔ ان میں سے ابوبکر، عمر اور انس رضی الله عنہم ہیں اور اوزاعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ عمامہ پر مسح کرے، صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا کہنا ہے کہ عمامہ پر مسح نہیں سوائے اس صورت کے کہ عمامہ کے ساتھ ( کچھ ) سر کا بھی مسح کرے۔ سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن مبارک اور شافعی اسی کے قائل ہیں، ۴- وکیع بن جراح کہتے ہیں کہ اگر کوئی عمامے پر مسح کر لے تو حدیث کی رو سے یہ اسے کافی ہو گا۔

English Translation

Ibn Al-Mughirah bin Shu'bah narrated from his father:"The Prophet performed Wudu and wiped over the Khuff and 'Imamah." Abu Bakr (one of the narrators) said: "And indeed I heard it from Ibn Al Mughirah

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:100

Hadith #101
SahihSahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ بِلاَلٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ ‏.‏

Urdu Translation

بلال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے دونوں موزوں پر اور عمامے پر مسح کیا۔

English Translation

BilaI narrated:"The Prophet wiped over the Khuff and the Khimar

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:101

Hadith #102
Sahih IsnaadSahih IsnaadIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، هُوَ الْقُرَشِيُّ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الْمَسْحِ، عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ السُّنَّةُ يَا ابْنَ أَخِي ‏.‏ قَالَ وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَسْحِ، عَلَى الْعِمَامَةِ فَقَالَ أَمِسَّ الشَّعَرَ الْمَاءَ ‏.‏

Urdu Translation

ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے دونوں موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! ( یہ ) سنت ہے۔ وہ کہتے ہیں اور میں نے عمامہ پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: بالوں کو چھوؤ۔

English Translation

Abu Ubaidah bin Muttammad bin Ammar bin Yasir said:"I asked Jabir bin Abdullah about wiping over the Khuff. He said, 'O my nephew! It is the Sunnah.'" [He said:] "And I asked him about wiping over the lmamah. He said, '[Wipe1 the hair [with water]

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:102

Hadith #103
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالَتِهِ، مَيْمُونَةَ قَالَتْ وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غُسْلاً فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ فَأَكْفَأَ الإِنَاءَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَأَفَاضَ عَلَى فَرْجِهِ ثُمَّ دَلَكَ بِيَدِهِ الْحَائِطَ أَوِ الأَرْضَ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثًا ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَجَابِرٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے لیے نہانے کا پانی رکھا، آپ نے غسل جنابت کیا، تو برتن کو اپنے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ پر جھکایا اور اپنے پہونچے دھوئے، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور شرمگاہ پر پانی بہایا، پھر اپنا ہاتھ دیوار یا زمین پر رگڑا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنا چہرہ دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر تین مرتبہ سر پر پانی بہایا، پھر پورے جسم پر پانی بہایا، پھر وہاں سے پرے ہٹ کر اپنے پاؤں دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام سلمہ، جابر، ابوسعید جبیر بن مطعم اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Ibn 'Abbas narrated that his maternal aunt Maimunah said:"I prepared some water for the Prophet to perform Ghusl for Janabah with. So he turned the vessel with his left hand, (pouring some water) over his right. Then he washed his hands. Then he entered his hand into the vessel to pour water over his private area, then he rubbed his hands on the wall, or the ground. Then he rinsed out his mouth and washed his nose by putting water in and blowing it out, and washed his face and forearms. Then he poured water over his head three times, then he poured water over the remainder of his body, then he moved from where he was and washed his feet

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:103

Hadith #104
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الإِنَاءَ ثُمَّ غَسَلَ فَرْجَهُ وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ يُشَرِّبُ شَعْرَهُ الْمَاءَ ثُمَّ يَحْثِي عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثَ حَثَيَاتٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ أَنَّهُ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَقَالُوا إِنِ انْغَمَسَ الْجُنُبُ فِي الْمَاءِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ أَجْزَأَهُ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ کرتے تو ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے دھوتے، پھر شرمگاہ دھوتے، اور اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر بال پانی سے بھگوتے، پھر اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی کو اہل علم نے غسل جنابت میں اختیار کیا ہے کہ وہ نماز کے وضو کی طرح وضو کرے، پھر اپنے سر پر تین بار پانی ڈالے، پھر اپنے پورے بدن پر پانی بہائے، پھر اپنے پاؤں دھوئے، اہل علم کا اسی پر عمل ہے، نیز ان لوگوں نے کہا کہ اگر جنبی پانی میں غوطہٰ مارے اور وضو نہ کرے تو یہ اسے کافی ہو گا۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔

English Translation

Aishah narrated:"When AlIah's Messenger wanted to perform Ghusl for Janabah, he would begin by washing his hands before putting them into the vessel. Then he would wash his private area, and perform the Wudu (as one does) for Salat. Then he would wet his hair with the water, then he would pour water over his head with his hands three times

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:104

Hadith #105
SahihSahihHasan SahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي أَفَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ قَالَ ‏"‏ لاَ إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِينَ عَلَى رَأْسِكِ ثَلاَثَ حَثَيَاتٍ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِينَ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ فَإِذَا أَنْتِ قَدْ تَطَهَّرْتِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا اغْتَسَلَتْ مِنَ الْجَنَابَةِ فَلَمْ تَنْقُضْ شَعْرَهَا أَنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُهَا بَعْدَ أَنْ تُفِيضَ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهَا ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! میں اپنے سر کی چوٹی مضبوطی سے باندھنے والی عورت ہوں۔ کیا غسل جنابت کے لیے اسے کھولا کروں؟ آپ نے فرمایا: ”تمہاری سر پر تین لپ پانی ڈال لینا ہی کافی ہے۔ پھر پورے بدن پر پانی بہا دو تو پاک ہو گئی، یا فرمایا: جب تم ایسا کر لے تو پاک ہو گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اہل علم کا اسی پر عمل پر ہے کہ عورت جب جنابت کا غسل کرے، اور اپنے بال نہ کھولے تو یہ اس کے لیے اس کے بعد کہ وہ اپنے سر پر پانی بہا لے کافی ہو جائے گا ۱؎۔

English Translation

Umm Salamah narrated :"I said: 'O Messenger of Allah! I am woman with tight braids on my head, should I undo it to perform Ghusl for Janabah? He said: 'No. It is sufficient that you only pour three scoops of water (with hands held together) over your head, then pour water over the rest of your body, to be purified.'" Or he said: "Then you will be purified

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:105

Hadith #106
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تَحْتَ كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةٌ فَاغْسِلُوا الشَّعَرَ وَأَنْقُوا الْبَشَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَأَنَسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ الْحَارِثِ بْنِ وَجِيهٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِهِ وَهُوَ شَيْخٌ لَيْسَ بِذَاكَ وَقَدْ رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الأَئِمَّةِ ‏.‏ وَقَدْ تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ وَيُقَالُ الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ وَيُقَالُ ابْنُ وَجْبَةَ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بال کے نیچے جنابت کا اثر ہوتا ہے، اس لیے بالوں کو اچھی طرح دھویا کرو اور کھال کو اچھی طرح مل کر صاف کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- حارث بن وجیہ کی حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف انہیں کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں ۱؎، وہ اس حدیث کو مالک بن دینار سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔

English Translation

Abu Hurairah narrated that :the Prophet said: "Under every hair is sexual impurity so wash (all of) the hair and cleanse the skin

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:106

Hadith #107
SahihSahihHasan SahihDaif

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ لاَ يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ أَنْ لاَ يَتَوَضَّأَ بَعْدَ الْغُسْلِ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم کا قول ہے کہ غسل کے بعد وضو نہ کرے۔

English Translation

Aishah narrated:"The Prophet would not perform Wudu after the Ghusl

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:107

Hadith #108
SahihSahihSahih

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاغْتَسَلْنَا ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب مرد کے ختنہ کا مقام ( عضو تناسل ) عورت کے ختنے کے مقام ( شرمگاہ ) سے مل جائے تو غسل واجب ہو گیا ۱؎، میں نے اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ایسا کیا تو ہم نے غسل کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور رافع بن خدیج رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Aishah narrated:"When the circumcised meets the circumcised, then indeed Ghusl is required. Myself and Allah's Messenger did that, so we performed Ghusl

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:108

Hadith #109
Sahih LighairihiSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ قَالَ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ‏"‏ إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ ‏"‏ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَعَائِشَةُ وَالْفُقَهَاءِ مِنَ التَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِثْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ قَالُوا إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ وَجَبَ الْغُسْلُ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مرد کے ختنے کا مقام عورت کے ختنے کے مقام ( شرمگاہ ) سے مل جائے تو غسل واجب ہو گیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- کئی سندوں سے عائشہ رضی الله عنہا کی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم مرفوع حدیث مروی ہے کہ ”جب ختنے کا مقام ختنے کے مقام سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے“ صحابہ کرام میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، ان میں ابوبکر، عمر، عثمان، علی اور عائشہ رضی الله عنہم بھی شامل ہیں، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے بھی اکثر اہل علم مثلاً سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ جب دونوں ختنوں کے مقام آپس میں چھو جائیں تو غسل واجب ہو گیا۔

English Translation

Aishah narrated that :the Prophet said: "When the circumcised meets the circumcised then Ghusl is required

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:109

Hadith #110
SahihSahihSahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ إِنَّمَا كَانَ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الإِسْلاَمِ ثُمَّ نُهِيَ عَنْهَا ‏.‏

Urdu Translation

ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صرف منی ( نکلنے ) پر غسل واجب ہوتا ہے، یہ رخصت ابتدائے اسلام میں تھی، پھر اس سے روک دیا گیا۔

English Translation

Ubayy bin Ka'b narrated:"Water is for water,' was only permitted in the beginning of Islam. Then it was prohibited

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:110

Hadith #111
Hasan SahihSahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَإِنَّمَا كَانَ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ فِي أَوَّلِ الإِسْلاَمِ ثُمَّ نُسِخَ بَعْدَ ذَلِكَ ‏.‏ وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَرَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى أَنَّهُ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فِي الْفَرْجِ وَجَبَ عَلَيْهِمَا الْغُسْلُ وَإِنْ لَمْ يُنْزِلاَ ‏.‏

Urdu Translation

اس سند سے بھی زہری سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صرف منی نکلنے ہی کی صورت میں غسل واجب ہوتا ہے، یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا، بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا، ۳- اسی طرح صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں سے جن میں ابی بن کعب اور رافع بن خدیج رضی الله عنہما بھی شامل ہیں، مروی ہے، ۴- اور اسی پر اکثر اہل علم کا عمل ہے، کہ جب آدمی اپنی بیوی کی ( شرمگاہ ) میں جماع کرے تو دونوں ( میاں بیوی ) پر غسل واجب ہو جائے گا گرچہ ان دونوں کو انزال نہ ہوا ہو۔

English Translation

Ma'mar narrated :a similar narration (as Hadith no. 110) from, Az-Zuhri, with this chain

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:111

Hadith #112
SahihDaif IsnaadDaif

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ فِي الاِحْتِلاَمِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى سَمِعْتُ الْجَارُودَ يَقُولُ سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ لَمْ نَجِدْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلاَّ عِنْدَ شَرِيكٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَأَبُو الْجَحَّافِ اسْمُهُ دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ ‏.‏ وَيُرْوَى عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَحَّافِ وَكَانَ مَرْضِيًّا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَالزُّبَيْرِ وَطَلْحَةَ وَأَبِي أَيُّوبَ وَأَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ منی نکلنے سے ہی غسل واجب ہوتا ہے“ کا تعلق احتلام سے ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، زبیر، طلحہ، ابوایوب اور ابوسعید رضی الله عنہم نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا منی نکلنے ہی پر غسل واجب ہوتا ہے۔

English Translation

Ibn 'Abbas said:"Water is for water' is only about the wet dream

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:112

Hadith #113
SahihSahihDaifDaif

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، هُوَ الْعُمَرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلاَ يَذْكُرُ احْتِلاَمًا قَالَ ‏"‏ يَغْتَسِلُ ‏"‏ ‏.‏ وَعَنِ الرَّجُلِ يَرَى أَنَّهُ قَدِ احْتَلَمَ وَلَمْ يَجِدْ بَلَلاً قَالَ ‏"‏ لاَ غُسْلَ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ تَرَى ذَلِكَ غُسْلٌ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ إِنَّ النِّسَاءَ شَقَائِقُ الرِّجَالِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَإِنَّمَا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدِيثَ عَائِشَةَ فِي الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلاَ يَذْكُرُ احْتِلاَمًا ‏.‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ فِي الْحَدِيثِ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ إِذَا اسْتَيْقَظَ الرَّجُلُ فَرَأَى بِلَّةً أَنَّهُ يَغْتَسِلُ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَحْمَدَ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ إِنَّمَا يَجِبُ عَلَيْهِ الْغُسْلُ إِذَا كَانَتِ الْبِلَّةُ بِلَّةَ نُطْفَةٍ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَإِسْحَاقَ ‏.‏ وَإِذَا رَأَى احْتِلاَمًا وَلَمْ يَرَ بِلَّةً فَلاَ غُسْلَ عَلَيْهِ عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو تری دیکھے لیکن اسے احتلام یاد نہ آئے، آپ نے فرمایا: ”وہ غسل کرے“ اور اس شخص کے بارے میں ( پوچھا گیا ) جسے یہ یاد ہو کہ اسے احتلام ہوا ہے لیکن وہ تری نہ پائے تو آپ نے فرمایا: ”اس پر غسل نہیں“ ام سلمہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا عورت پر بھی جو ایسا دیکھے غسل ہے؟ آپ نے فرمایا: عورتیں بھی ( شرعی احکام میں ) مردوں ہی کی طرح ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ کی حدیث کو جس میں ہے کہ آدمی تری دیکھے اور اسے احتلام یاد نہ آئے صرف عبداللہ ابن عمر عمری ہی نے عبیداللہ سے روایت کیا ہے اور عبداللہ بن عمر عمری کی یحییٰ بن سعید نے حدیث کے سلسلے میں ان کے حفظ کے تعلق سے تضعیف کی ہے ۱؎، ۲- صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم کا یہی قول ہے کہ جب آدمی جاگے اور تری دیکھے تو غسل کرے، یہی سفیان ثوری اور احمد کا بھی قول ہے۔ تابعین میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس پر غسل اس وقت واجب ہو گا جب وہ تری نطفے کی تری ہو، یہ شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ اور جب وہ احتلام دیکھے اور تری نہ پائے تو اکثر اہل علم کے نزدیک اس پر غسل نہیں۔

English Translation

Aishah narrated:"The Prophet was asked about a man who finds wetness and he does not remember having a wet dream. So he said: 'He is to perform Ghusl. And (he was asked) about a man who had a wet dream but does not find any wetness, so he said: 'No Ghusl is required of him.' Umm Salamah said: 'O Messenger of Allah! Is the woman required to perform Ghusl if she sees that?' He replied: 'Yes. Indeed women are the partners of men

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:113

Hadith #114
SahihSahihHasan SahihDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمَذْىِ فَقَالَ ‏"‏ مِنَ الْمَذْىِ الْوُضُوءُ وَمِنَ الْمَنِيِّ الْغُسْلُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ وَأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ‏"‏ مِنَ الْمَذْىِ الْوُضُوءُ وَمِنَ الْمَنِيِّ الْغُسْلُ ‏"‏ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏

Urdu Translation

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مذی ۱؎ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”مذی سے وضو ہے اور منی سے غسل“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں مقداد بن اسود اور ابی بن کعب رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے کئی سندوں سے مرفوعاً مروی ہے کہ ”مذی سے وضو ہے، اور منی سے غسل“، ۴- صحابہ کرام اور تابعین میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، اور سفیان، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔

English Translation

Ali narrated:"I asked the Prophet about Al-Madhi. He said: "For Al-Madhi is Wudu, and for AI-Mani is Ghusl

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:114

Hadith #115
HasanHasanHasan SahihHasan

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ، هُوَ ابْنُ السَّبَّاقِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْىِ شِدَّةً وَعَنَاءً فَكُنْتُ أُكْثِرُ مِنْهُ الْغُسْلَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَأَلْتُهُ عَنْهُ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّمَا يُجْزِئُكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْهُ قَالَ ‏"‏ يَكْفِيكَ أَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَتَنْضَحَ بِهِ ثَوْبَكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَلاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي الْمَذْىِ مِثْلَ هَذَا ‏.‏ وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْمَذْىِ يُصِيبُ الثَّوْبَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ يُجْزِئُ إِلاَّ الْغَسْلُ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَإِسْحَاقَ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ يُجْزِئُهُ النَّضْحُ ‏.‏ وَقَالَ أَحْمَدُ أَرْجُو أَنْ يُجْزِئَهُ النَّضْحُ بِالْمَاءِ ‏.‏

Urdu Translation

سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے مذی کی وجہ سے پریشانی اور تکلیف سے دوچار ہونا پڑتا تھا، میں اس کی وجہ سے کثرت سے غسل کیا کرتا تھا، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے کیا اور اس سلسلے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اس کے لیے تمہیں وضو کافی ہے“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر وہ کپڑے میں لگ جائے تو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: تو ایک چلو پانی لے اور اسے کپڑے پر جہاں جہاں دیکھے کہ وہ لگی ہے چھڑک لے یہ تمہارے لیے کافی ہو گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم مذی کے سلسلہ میں اس طرح کی روایت محمد بن اسحاق کے طریق سے ہی جانتے ہیں، ۳- کپڑے میں مذی لگ جانے کے سلسلہ میں اہل علم میں اختلاف ہے، بعض کا قول ہے کہ دھونا ضروری ہے، یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، اور بعض اس بات کے قائل ہیں کہ پانی چھڑک لینا کافی ہو گا۔ امام احمد کہتے ہیں: مجھے امید ہے کہ پانی چھڑک لینا کافی ہو گا ۱؎۔

English Translation

Sahl bin Hunaif said:"I suffered from a severe and troubling case of Al-Madhi. I was performing Ghusl often because of it. So I mentioned that to Allah's Messenger and asked him about it. He said: "You only need to perform Wudu for that." I said: "O Messenger of Allah! How about when it gets on my clothes?" He said: "It is sufficient for you to take a handful of water and sprinkle it n your garment wherever you see that it has touched it

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:115

Hadith #116
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ ضَافَ عَائِشَةَ ضَيْفٌ فَأَمَرَتْ لَهُ بِمِلْحَفَةٍ صَفْرَاءَ فَنَامَ فِيهَا فَاحْتَلَمَ فَاسْتَحْيَا أَنْ يُرْسِلَ بِهَا وَبِهَا أَثَرُ الاِحْتِلاَمِ فَغَمَسَهَا فِي الْمَاءِ ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِمَ أَفْسَدَ عَلَيْنَا ثَوْبَنَا إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَفْرُكَهُ بِأَصَابِعِهِ وَرُبَّمَا فَرَكْتُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأَصَابِعِي ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ الْفُقَهَاءِ مِثْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ قَالُوا فِي الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ يُجْزِئُهُ الْفَرْكُ وَإِنْ لَمْ يُغْسَلْ ‏.‏ وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَ رِوَايَةِ الأَعْمَشِ ‏.‏ وَرَوَى أَبُو مَعْشَرٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ وَحَدِيثُ الأَعْمَشِ أَصَحُّ ‏.‏

Urdu Translation

ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے یہاں ایک مہمان آیا تو انہوں نے اسے ( اوڑھنے کے لیے ) اسے ایک زرد چادر دینے کا حکم دیا۔ وہ اس میں سویا تو اسے احتلام ہو گیا، ایسے ہی بھیجنے میں کہ اس میں احتلام کا اثر ہے اسے شرم محسوس ہوئی، چنانچہ اس نے اسے پانی سے دھو کر بھیجا، تو عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کر دیا؟ اسے اپنی انگلیوں سے کھرچ دیتا، بس اتنا کافی تھا، بسا اوقات میں اپنی انگلیوں سے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے کپڑے سے اسے کھرچ دیتی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ کپڑے پر منی ۱؎ لگ جائے تو اسے کھرچ دینا کافی ہے، گرچہ دھویا نہ جائے۔

English Translation

Hammam bin AI-Harith narrated:"Aishah had a guest to whom she lent a yellow wrap for him to sleep in. He had a wet dream, and was too embarrassed to send it to her while the traces of the wet dream were present on it. So he submerged it (washing it) in water, then he sent it to her. Aishah said, "Why did he ruin our garment? It would have been sufficient for him to scrape it off with his fingers. Sometimes I would scrape it off of the garment of Allah's Messenger with my fingers

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:116

Hadith #117
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا غَسَلَتْ مَنِيًّا مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ وَحَدِيثُ عَائِشَةَ أَنَّهَا غَسَلَتْ مَنِيًّا مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - لَيْسَ بِمُخَالِفٍ لِحَدِيثِ الْفَرْكِ لأَنَّهُ وَإِنْ كَانَ الْفَرْكُ يُجْزِئُ فَقَدْ يُسْتَحَبُّ لِلرَّجُلِ أَنْ لاَ يُرَى عَلَى ثَوْبِهِ أَثَرُهُ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْمَنِيُّ بِمَنْزِلَةِ الْمُخَاطِ فَأَمِطْهُ عَنْكَ وَلَوْ بِإِذْخِرَةٍ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے کپڑے سے منی دھوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- اور عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث ”کہ انہوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے کپڑے سے منی دھوئی“ ان کی کھرچنے والی حدیث کے معارض نہیں ہے ۱؎۔ اس لیے کہ کھرچنا کافی ہے، لیکن مرد کے لیے یہی پسند کیا جاتا ہے کہ اس کے کپڑے پر اس کا کوئی اثر دکھائی نہ دے۔ ( کیونکہ مرد کو آدمیوں کی مجلسوں میں بیٹھنا ہوتا ہے ) ابن عباس کہتے ہیں: منی رینٹ ناک کے گاڑھے پانی کی طرح ہے، لہٰذا تم اسے اپنے سے صاف کر لو چاہے اذخر ( گھاس ) ہی سے ہو۔

English Translation

Sulaiman bin Yasar narrated from Aishah, that :she washed Mani from the garment of Allah's Messenger

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:117

Hadith #118
SahihSahihDaif

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ وَلاَ يَمَسُّ مَاءً ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سوتے اور پانی کو ہاتھ نہ لگاتے اور آپ جنبی ہوتے ۱؎۔

English Translation

Aishah narrated:"Allah's Messenger would sleep while he was Junub, and without touching water (performing Ghusl)

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:118

Hadith #119
Daif

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا قَوْلُ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَغَيْرِهِ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى غَيْرُ، وَاحِدٍ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَتَوَضَّأُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ ‏.‏ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الأَسْوَدِ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ ‏.‏ وَيَرَوْنَ أَنَّ هَذَا غَلَطٌ مِنْ أَبِي إِسْحَاقَ ‏.‏

Urdu Translation

اس سند سے بھی ابواسحاق سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہی سعید بن مسیب وغیرہ کا قول ہے، ۲- کئی سندوں سے عائشہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سونے سے پہلے وضو کرتے تھے، ۳- یہ ابواسحاق سبیعی کی حدیث ( رقم ۱۱۸ ) سے جسے انہوں نے اسود سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے، اور ابواسحاق سبیعی سے یہ حدیث شعبہ، ثوری اور دیگر کئی لوگوں نے بھی روایت کی ہے اور ان کے خیال میں اس میں غلطی ابواسحاق سبیعی سے ہوئی ہے ۱؎۔

English Translation

Abu Ishaq:There is a similar report (as no. 1I8) narrated via Abu Ishaq

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:119

Hadith #120
SahihSahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَمَّارٍ وَعَائِشَةَ وَجَابِرٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأُمِّ سَلَمَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عُمَرَ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ قَالُوا إِذَا أَرَادَ الْجُنُبُ أَنْ يَنَامَ تَوَضَّأَ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ ‏.‏

Urdu Translation

عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے سوال کیا: کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، جب وہ وضو کر لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عمار، عائشہ، جابر، ابوسعید اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- عمر رضی الله عنہ والی حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور صحیح ہے، ۳- یہی قول نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اصحاب اور تابعین میں سے بہت سے لوگوں کا ہے اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ جب جنبی سونے کا ارادہ کرے تو وہ سونے سے پہلے وضو کر لے ۲؎۔

English Translation

Umar narrated that :he asked the Prophet: "Can one of us sleep while he is Junub?" So he replied: "Yes, when he performs Wudu

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:120

Hadith #121
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَقِيَهُ وَهُوَ جُنُبٌ قَالَ فَانْبَجَسْتُ أَىْ فَانْخَنَسْتُ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ كُنْتَ أَوْ أَيْنَ ذَهَبْتَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الْمُسْلِمَ لاَ يَنْجُسُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ حُذَيْفَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ لَقِيَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ جُنُبٌ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَخَّصَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي مُصَافَحَةِ الْجُنُبِ وَلَمْ يَرَوْا بِعَرَقِ الْجُنُبِ وَالْحَائِضِ بَأْسًا ‏.‏ وَمَعْنَى قَوْلِهِ فَانْخَنَسْتُ يَعْنِي تَنَحَّيْتُ عَنْهُ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ان سے ملے اور وہ جنبی تھے، وہ کہتے ہیں: تو میں آنکھ بچا کر نکل گیا اور جا کر میں نے غسل کیا پھر خدمت میں آیا تو آپ نے پوچھا: تم کہاں تھے؟ یا: کہاں چلے گئے تھے ( راوی کو شک ہے ) ۔ میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا۔ آپ نے فرمایا: مسلمان کبھی نجس نہیں ہوتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حذیفہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور ان کے قول «فانخنست» کے معنی «تنحیت عنہ» کے ہیں ”یعنی میں نظر بچا کر نکل گیا“، ۴- بہت سے اہل علم نے جنبی سے مصافحہ کی اجازت دی ہے اور کہا ہے کہ جنبی اور حائضہ کے پسینے میں کوئی حرج نہیں ۱؎۔

English Translation

Abu Hurairah narrated that :the Prophet met him while he was Junub. He said: "[So I slipped away from him - meaning:] I withdrew - to perform Ghusl. Then he returned, so he said: 'Where have you been?' Or: 'Where did you go?' I replied: 'I was Junub.' So he said: 'Indeed the believer is not defiled

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:121

Hadith #122
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ بِنْتُ مِلْحَانَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ تَعْنِي غُسْلاً إِذَا هِيَ رَأَتْ فِي الْمَنَامِ مِثْلَ مَا يَرَى الرَّجُلُ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ إِذَا هِيَ رَأَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ قُلْتُ لَهَا فَضَحْتِ النِّسَاءَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ الْفُقَهَاءِ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا رَأَتْ فِي الْمَنَامِ مِثْلَ مَا يَرَى الرَّجُلُ فَأَنْزَلَتْ أَنَّ عَلَيْهَا الْغُسْلَ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَالشَّافِعِيُّ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ وَخَوْلَةَ وَعَائِشَةَ وَأَنَسٍ ‏.‏

Urdu Translation

ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ام سلیم بنت ملحان نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اللہ کے رسول! اللہ حق سے نہیں شرماتا ۱؎ کیا عورت پر بھی غسل ہے، جب وہ خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے ۲؎ آپ نے فرمایا: ”ہاں، جب وہ منی دیکھے تو غسل کرے“ ۳؎ ام سلمہ کہتی ہیں: میں نے ام سلیم سے کہا: ام سلیم! آپ نے تو عورتوں کو رسوا کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بیشتر فقہاء کا قول ہے کہ عورت جب خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے پھر اسے انزال ہو جائے ( یعنی منی نکل جائے ) تو اس پر غسل واجب ہے، یہی سفیان ثوری اور شافعی بھی کہتے ہیں، ۳- اس باب میں ام سلیم، خولہ، عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Umm Salamah narrated:Umm Sulaim bint Milhan came to the Prophet and she said: 'O Messenger of Allah! Indeed Allah is not embarrassed of the truth. So is it required of a woman - meaning Ghusl - when she sees in her sleep similar to what a man sees?' He replied: 'Yes. When she finds water (wetness), then she is perform Ghusl.'" Umm Salamah said: "I said to her: 'O Umm SuIaim! You have disgraced the women

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:122

Hadith #123
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حُرَيْثٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ رُبَّمَا اغْتَسَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ جَاءَ فَاسْتَدْفَأَ بِي فَضَمَمْتُهُ إِلَىَّ وَلَمْ أَغْتَسِلْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ بِإِسْنَادِهِ بَأْسٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا اغْتَسَلَ فَلاَ بَأْسَ بِأَنْ يَسْتَدْفِئَ بِامْرَأَتِهِ وَيَنَامَ مَعَهَا قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بسا اوقات نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جنابت کا غسل فرماتے پھر آ کر مجھ سے گرمی حاصل کرتے تو میں آپ کو چمٹا لیتی، اور میں بغیر غسل کے ہوتی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند میں کوئی اشکال نہیں ۱؎، ۲- صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا یہی قول ہے کہ مرد جب غسل کر لے تو اپنی بیوی سے چمٹ کر گرمی حاصل کرنے میں اسے کوئی مضائقہ نہیں، وہ عورت کے غسل کرنے سے پہلے اس کے ساتھ ( چمٹ کر ) سو سکتا ہے، سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔

English Translation

Aishah narrated:"Sometimes the Prophet would perform Ghusl from Janabah then come to seek warmth from me, he would hold me and not perform Ghusl

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:123

Hadith #124
SahihSahihHasan SahihHasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورُ الْمُسْلِمِ وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ فَإِذَا وَجَدَ الْمَاءَ فَلْيُمِسَّهُ بَشَرَتَهُ فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ مَحْمُودٌ فِي حَدِيثِهِ ‏"‏ إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَلَمْ يُسَمِّهِ ‏.‏ قَالَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ الْفُقَهَاءِ أَنَّ الْجُنُبَ وَالْحَائِضَ إِذَا لَمْ يَجِدَا الْمَاءَ تَيَمَّمَا وَصَلَّيَا ‏.‏ وَيُرْوَى عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ لاَ يَرَى التَّيَمُّمَ لِلْجُنُبِ وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ ‏.‏ وَيُرْوَى عَنْهُ أَنَّهُ رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ فَقَالَ يَتَيَمَّمُ إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَمَالِكٌ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏

Urdu Translation

ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”پاک مٹی مسلمان کو پاک کرنے والی ہے گرچہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے، پھر جب وہ پانی پا لے تو اسے اپنی کھال ( یعنی جسم ) پر بہائے، یہی اس کے لیے بہتر ہے“۔ محمود ( محمود بن غیلان ) نے اپنی روایت میں یوں کہا ہے: پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر فقہاء کا قول یہی ہے کہ جنبی یا حائضہ جب پانی نہ پائیں تو تیمم کر کے نماز پڑھیں، ۴- ابن مسعود رضی الله عنہ جنبی کے لیے تیمم درست نہیں سمجھتے تھے اگرچہ وہ پانی نہ پائے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے اپنے قول سے رجوع کر لیا تھا اور یہ کہا تھا کہ وہ جب پانی نہیں پائے گا، تیمم کرے گا، یہی سفیان ثوری، مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔

English Translation

Abu Dharr narrated that :AlIah's Messenger said: "Pure clean earth is a purifier for the Muslim; even if he did not find water for ten years. Then if he finds water, then let him use it (for purification) on his skin. For, that is better

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:124

Hadith #125
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَعَبْدَةُ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلاَ أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ قَالَ ‏"‏ لاَ إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلاَةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ فِي حَدِيثِهِ وَقَالَ ‏"‏ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلاَةٍ حَتَّى يَجِيءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ جَاءَتْ فَاطِمَةُ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَمَالِكٌ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ إِذَا جَاوَزَتْ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا اغْتَسَلَتْ وَتَوَضَّأَتْ لِكُلِّ صَلاَةٍ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی الله عنہا نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں ایسی عورت ہوں کہ مجھے استحاضہ کا خون ۱؎ آتا ہے تو میں پاک ہی نہیں رہ پاتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، یہ تو ایک رگ ہے حیض نہیں ہے، جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو۔ اور جب وہ چلا جائے ( یعنی حیض کے دن پورے ہو جائیں ) تو خون دھو کر ( غسل کر کے ) نماز پڑھو“، ابومعاویہ کی روایت میں ہے ؛ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نماز کے لیے وضو کرو یہاں تک کہ وہ وقت ( حیض کا وقت ) آ جائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام سلمہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔ ۳- صحابہ کرام اور تابعین میں بہت سے اہل علم کا یہی قول ہے، اور یہی سفیان ثوری، مالک، ابن مبارک اور شافعی بھی یہی کہتے ہیں کہ جب مستحاضہ عورت کے حیض کے دن گزر جائیں تو وہ غسل کرے اور ہر نماز کے لیے ( تازہ ) وضو کرے۔

English Translation

Aishah narrated:"Fatimah bint Abi-Hubaish came to the Prophet and said: 'O Messenger of Allah! I am a woman who suffers from persistent bleeding and I do not become clean. Shall I give up Salat?' He said: 'No. That is only a bIood vessel, it is not menstruation. When your menstruation begins then leave the Salat. And when it ends, then wash the blood from you and perform Salat

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:125

Hadith #126
SahihSahihDaif

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ ‏ "‏ تَدَعُ الصَّلاَةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ فِيهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ وَتَصُومُ وَتُصَلِّي ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

عدی کے دادا عبید بن عازب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے مستحاضہ کے سلسلہ میں فرمایا: ”وہ ان دنوں میں جن میں اسے حیض آتا ہو نماز چھوڑے رہے، پھر وہ غسل کرے، اور ( استحاضہ کا خون آنے پر ) ہر نماز کے لیے وضو کرے، روزہ رکھے اور نماز پڑھے“۔

English Translation

Adiyy bin Thabit narrated from his father, that :the Prophet said about the Mustahadah that she should: "Leave the Salat for the days of her period which she menstruates in, then perform Ghusl, and perform Wudu for every Salat, and observe Saum and perform Salat

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:126

Hadith #127
Daif

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ قَدْ تَفَرَّدَ بِهِ شَرِيكٌ عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ ‏.‏ قَالَ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقُلْتُ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ جَدُّ عَدِيٍّ مَا اسْمُهُ فَلَمْ يَعْرِفْ مُحَمَّدٌ اسْمَهُ وَذَكَرْتُ لِمُحَمَّدٍ قَوْلَ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ أَنَّ اسْمَهُ دِينَارٌ فَلَمْ يَعْبَأْ بِهِ ‏.‏ وَقَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِنِ اغْتَسَلَتْ لِكُلِّ صَلاَةٍ هُوَ أَحْوَطُ لَهَا وَإِنْ تَوَضَّأَتْ لِكُلِّ صَلاَةٍ أَجْزَأَهَا وَإِنْ جَمَعَتْ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ أَجْزَأَهَا ‏.‏

Urdu Translation

اس سند سے بھی شریک نے اسی مفہوم کے ساتھ اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث میں شریک ابوالیقظان سے روایت کرنے میں منفرد ہیں، ۲- احمد اور اسحاق بن راہویہ مستحاضہ عورت کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر وہ ہر نماز کے وقت غسل کرے تو یہ اس کے لیے زیادہ احتیاط کی بات ہے اور اگر وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے تو یہ اس کے لیے کافی ہے اور اگر وہ ایک غسل سے دو نمازیں جمع کرے تو بھی کافی ہے۔

English Translation

A similar narration as no. 120. :Abu Eisa said: Sharik is alone in narrating this Hadith from Abu Al Yaqzan.[He said:] I asked Muhammad (ibn Isma'il AI-Bukhari) about this Hadlth. I said: "Adiyy bin Thabit from his father, from his grandfather; what is the name of Adiyy's grandfather?" But Muhammad did not know his name. And I mentioned to Muhammad that Yahya bin Ma'in said his name is Dinar, and he did not contradict him. Ahmad and 1shaq said ahout the Mustahadah: If she performs Ghusl for every prayer that is more prudent for her, and if she performs Wudu for each prayer, then that is acceptable from her, and if she combines between two prayers with (one) Ghusl then that is acceptable

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:127

Hadith #128
HasanHasanHasan SahihDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أُمِّهِ، حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَتْ كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَسْتَفْتِيهِ وَأُخْبِرُهُ فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِ أُخْتِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً فَمَا تَأْمُرُنِي فِيهَا قَدْ مَنَعَتْنِي الصِّيَامَ وَالصَّلاَةَ قَالَ ‏"‏ أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ ‏"‏ فَتَلَجَّمِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ ‏"‏ فَاتَّخِذِي ثَوْبًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ إِنَّمَا أَثُجُّ ثَجًّا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ سَآمُرُكِ بِأَمْرَيْنِ أَيَّهُمَا صَنَعْتِ أَجْزَأَ عَنْكِ فَإِنْ قَوِيتِ عَلَيْهِمَا فَأَنْتِ أَعْلَمُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّمَا هِيَ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَيَّامٍ أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ فِي عِلْمِ اللَّهِ ثُمَّ اغْتَسِلِي فَإِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَنْقَأْتِ فَصَلِّي أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ ثَلاَثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا وَصُومِي وَصَلِّي فَإِنَّ ذَلِكِ يُجْزِئُكِ وَكَذَلِكِ فَافْعَلِي كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ وَكَمَا يَطْهُرْنَ لِمِيقَاتِ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ فَإِنْ قَوِيتِ عَلَى أَنْ تُؤَخِّرِي الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِي الْعَصْرَ ثُمَّ تَغْتَسِلِينَ حِينَ تَطْهُرِينَ وَتُصَلِّينَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ تُؤَخِّرِينَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِينَ الْعِشَاءَ ثُمَّ تَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ فَافْعَلِي وَتَغْتَسِلِينَ مَعَ الصُّبْحِ وَتُصَلِّينَ وَكَذَلِكِ فَافْعَلِي وَصُومِي إِنْ قَوِيتِ عَلَى ذَلِكِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَهُوَ أَعْجَبُ الأَمْرَيْنِ إِلَىَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَرَوَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ وَابْنُ جُرَيْجٍ وَشَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ إِلاَّ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ يَقُولُ عُمَرُ بْنُ طَلْحَةَ وَالصَّحِيحُ عِمْرَانُ بْنُ طَلْحَةَ ‏.‏ قَالَ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهَكَذَا قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا كَانَتْ تَعْرِفُ حَيْضَهَا بِإِقْبَالِ الدَّمِ وَإِدْبَارِهِ وَإِقْبَالُهُ أَنْ يَكُونَ أَسْوَدَ ‏.‏ وَإِدْبَارُهُ أَنْ يَتَغَيَّرَ إِلَى الصُّفْرَةِ فَالْحُكْمُ لَهَا عَلَى حَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ وَإِنْ كَانَتِ الْمُسْتَحَاضَةُ لَهَا أَيَّامٌ مَعْرُوفَةٌ قَبْلَ أَنْ تُسْتَحَاضَ فَإِنَّهَا تَدَعُ الصَّلاَةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاَةٍ وَتُصَلِّي وَإِذَا اسْتَمَرَّ بِهَا الدَّمُ وَلَمْ يَكُنْ لَهَا أَيَّامٌ مَعْرُوفَةٌ وَلَمْ تَعْرِفِ الْحَيْضَ بِإِقْبَالِ الدَّمِ وَإِدْبَارِهِ فَالْحُكْمُ لَهَا عَلَى حَدِيثِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ ‏.‏ وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ ‏.‏ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ الْمُسْتَحَاضَةُ إِذَا اسْتَمَرَّ بِهَا الدَّمُ فِي أَوَّلِ مَا رَأَتْ فَدَامَتْ عَلَى ذَلِكَ فَإِنَّهَا تَدَعُ الصَّلاَةَ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا فَإِذَا طَهُرَتْ فِي خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا أَوْ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّهَا أَيَّامُ حَيْضٍ فَإِذَا رَأَتِ الدَّمَ أَكْثَرَ مِنْ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا فَإِنَّهَا تَقْضِي صَلاَةَ أَرْبَعَةَ عَشَرَ يَوْمًا ثُمَّ تَدَعُ الصَّلاَةَ بَعْدَ ذَلِكَ أَقَلَّ مَا تَحِيضُ النِّسَاءُ وَهُوَ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي أَقَلِّ الْحَيْضِ وَأَكْثَرِهِ فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَقَلُّ الْحَيْضِ ثَلاَثَةٌ وَأَكْثَرُهُ عَشَرَةٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ وَبِهِ يَأْخُذُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَرُوِيَ عَنْهُ خِلاَفُ هَذَا ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ أَقَلُّ الْحَيْضِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَأَكْثَرُهُ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ وَالأَوْزَاعِيِّ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ وَأَبِي عُبَيْدٍ ‏.‏

Urdu Translation

حمنہ بنت جحش رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں سخت قسم کے استحاضہ میں مبتلا رہتی تھی، میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں مسئلہ پوچھنے اور آپ کو اس کی خبر دینے کے لیے حاضر ہوئی، میں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو اپنی بہن زینب بنت حجش کے گھر پایا تو عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سخت قسم کے استحاضہ میں مبتلا رہتی ہوں، اس سلسلہ میں آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں، اس نے تو مجھے صوم و صلاۃ دونوں سے روک دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میں تجھے روئی رکھنے کا حکم دے رہا ہوں اس سے خون بند ہو جائے گا“، انہوں نے عرض کیا: وہ اس سے زیادہ ہے ( روئی رکھنے سے نہیں رکے گا ) آپ نے فرمایا: ”تو لنگوٹ باندھ لیا کرو“، کہا: خون اس سے بھی زیادہ آ رہا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”تم لنگوٹ کے نیچے ایک کپڑا رکھ لیا کرو“، کہا: یہ اس سے بھی زیادہ ہے، مجھے بہت تیزی سے خون بہتا ہے، تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میں تجھے دو باتوں کا حکم دیتا ہوں ان دونوں میں سے تم جو بھی کر لو تمہارے لیے کافی ہو گا اور اگر تم دونوں پر قدرت رکھ سکو تو تم زیادہ بہتر جانتی ہو“، آپ نے فرمایا: ”یہ تو صرف شیطان کی چوٹ ( مار ) ہے تو چھ یا سات دن جو اللہ کے علم میں ہیں انہیں تو حیض کے شمار کر پھر غسل کر لے اور جب تو سمجھ لے کہ تو پاک و صاف ہو گئی ہو تو چوبیس یا تئیس دن نماز پڑھ اور روزے رکھ، یہ تمہارے لیے کافی ہے، اور اسی طرح کرتی رہو جیسا کہ حیض والی عورتیں کرتی ہیں: حیض کے اوقات میں حائضہ اور پاکی کے وقتوں میں پاک رہتی ہیں، اور اگر تم اس بات پر قادر ہو کہ ظہر کو کچھ دیر سے پڑھو اور عصر کو قدرے جلدی پڑھ لو تو غسل کر کے پاک صاف ہو جا اور ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھ لیا کرو، پھر مغرب کو ذرا دیر کر کے اور عشاء کو کچھ پہلے کر کے پھر غسل کر کے یہ دونوں نمازیں ایک ساتھ پڑھ لے تو ایسا کر لیا کرو، اور صبح کے لیے الگ غسل کر کے فجر پڑھو، اگر تم قادر ہو تو اس طرح کرو اور روزے رکھو“، پھر رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں باتوں ۱؎ میں سے یہ دوسری صورت ۲؎ مجھے زیادہ پسند ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے اور اسی طرح احمد بن حنبل نے بھی کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۳- احمد اور اسحاق بن راہویہ مستحاضہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ عورت جب اپنے حیض کے آنے اور جانے کو جانتی ہو، اور آنا یہ ہے کہ خون کالا ہو اور جانا یہ ہے کہ وہ زردی میں بدل جائے تو اس کا حکم فاطمہ بن ابی حبیش رضی الله عنہا کی حدیث کے مطابق ہو گا ۳؎ اور اگر مستحاضہ کے لیے استحاضہ سے پہلے ( حیض کے ) ایام معروف ہیں تو وہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی پھر غسل کرے گی اور ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔ اور جب خون جاری رہے اور ( حیض کے ) ایام معلوم نہ ہوں اور نہ ہی وہ حیض کے آنے جانے کو جانتی ہو تو اس کا حکم حمنہ بنت جحش رضی الله عنہا کی حدیث کے مطابق ہو گا ۴؎ اسی طرح ابو عبید نے کہا ہے۔ شافعی کہتے ہیں: جب مستحاضہ کو پہلی بار جب اس نے خون دیکھا تبھی سے برابر خون جاری رہے تو وہ خون شروع ہونے سے لے کر پندرہ دن تک نماز چھوڑے رہے گی، پھر اگر وہ پندرہ دن میں یا اس سے پہلے پاک ہو جاتی ہے تو گویا یہی اس کے حیض کے دن ہیں اور اگر وہ پندرہ دن سے زیادہ خون دیکھے، تو وہ چودہ دن کی نماز قضاء کرے گی اور اس کے بعد عورتوں کے حیض کی اقل مدت جو ایک دن اور ایک رات ہے، کی نماز چھوڑ دے گی، ۴- حیض کی کم سے کم مدت اور سب سے زیادہ مدت میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں: حیض کی سب سے کم مدت تین دن اور سب سے زیادہ مدت دس دن ہے، یہی سفیان ثوری، اور اہل کوفہ کا قول ہے اور اسی کو ابن مبارک بھی اختیار کرتے ہیں۔ ان سے اس کے خلاف بھی مروی ہے، بعض اہل علم جن میں عطا بن ابی رباح بھی ہیں، کہتے ہیں کہ حیض کی کم سے کم مدت ایک دن اور ایک رات ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ مدت پندرہ دن ہے، اور یہی مالک، اوزاعی، شافعی، احمد، اسحاق بن راہویہ اور ابو عبید کا قول ہے۔

English Translation

Hamnah bint Jahsh narrated:"I had a case of blood flow that was severe and excessive. So I went to the Prophet to inform him and ask him about it. I found him in the house of my sister Zainab bint Jahsh. I said, 'O Messenger of Allah! I suffer from a case of severe and excessive blood flow. So what do you order me to do for it, and does this prevent me from fasting and performing Salat?' He said: 'Tie a cotton rag around yourself and the bIood will go away.' I said, 'It is more than that.' He said: 'Make it tight.' I said, 'It is more than that.' He said: 'Then use a cloth (to bind it).' I said, it is more than that. It flows too much.' So the Prophet said: 'I will order you to do one of two things, which ever of them you do, it will be acceptable for you. You should know which of them you are able to do.' Then he said: 'This is only a blow from Shaitan. Menstruate for six or seven days, which Allah knows, then perform Ghusl. When you see that you have become pure and clean, then perform Salat for twenty-three or twenty-four nights and their days. Perform Salat and fast, and that will be acceptable for you. So do this (if you can) just as (other) women who menstruate and become pure during their periods of menstruation and purity. If (not, and) you are able to delay Zuhr and hasten Asr then perform Ghusl when you have become pure, and pray Zuhr and Asr together. Then delay Maghrib and hasten Isha, then perform Ghusl and combine the two prayers. So do this (if you are able). Then perform Ghusl with the dawn and pray. Do this, and fast if you are able to do so.' Then Allah's Messenger said: 'That is what is preferable to me of the two

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:128

Hadith #129
SahihSahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتِ اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ ابْنَةُ جَحْشٍ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلاَ أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي ‏"‏ ‏.‏ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلاَةٍ ‏.‏ قَالَ قُتَيْبَةُ قَالَ اللَّيْثُ لَمْ يَذْكُرِ ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ أُمَّ حَبِيبَةَ أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ فَعَلَتْهُ هِيَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَيُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْمُسْتَحَاضَةُ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ ‏.‏ وَرَوَى الأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت حجش نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا اور کہا کہ مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے اور میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں۔ تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، یہ تو محض ایک رگ ہے، لہٰذا تم غسل کرو پھر نماز پڑھو“، تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ ابن شہاب زہری نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ام حبیبہ رضی الله عنہا کو ہر نماز کے وقت غسل کرنے کا حکم دیا، بلکہ یہ ایسا عمل تھا جسے وہ اپنے طور پر کیا کرتی تھیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- نیز یہ حدیث زہری سے «عن عمرة عن عائشہ» کے طریق سے بھی روایت کی جاتی ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، ۲- بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مستحاضہ ہر نماز کے وقت غسل کرے گی۔

English Translation

Aishah narrated:"Umm Habibah hint Jahsh sought a verdict from Allah's Messenger. She said 'I suffer from persistent bleeding such that I do not become pere. Shall I give up the Salat?' He said: 'No, that is only a blood vessel. So perform Ghusl then pray.' So she would perform Ghusl for each prayer

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:129

Hadith #130
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، سَأَلَتْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَتَقْضِي إِحْدَانَا صَلاَتَهَا أَيَّامَ مَحِيضِهَا فَقَالَتْ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ قَدْ كَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ فَلاَ تُؤْمَرُ بِقَضَاءٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ أَنَّ الْحَائِضَ لاَ تَقْضِي الصَّلاَةَ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ الْفُقَهَاءِ لاَ اخْتِلاَفَ بَيْنَهُمْ فِي أَنَّ الْحَائِضَ تَقْضِي الصَّوْمَ وَلاَ تَقْضِي الصَّلاَةَ ‏.‏

Urdu Translation

معاذہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: کیا ہم حیض کے دنوں والی نماز کی قضاء کیا کریں؟ تو انہوں نے کہا: کیا تو حروریہ ۱؎ ہے؟ ہم میں سے ایک کو حیض آتا تھا تو اسے قضاء کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور عائشہ سے اور کئی سندوں سے بھی مروی ہے کہ حائضہ نماز قضاء نہیں کرے گی، ۳- اکثر فقہاء کا یہی قول ہے۔ ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں کہ حائضہ روزہ قضاء کرے گی اور نماز قضاء نہیں کرے گی۔

English Translation

Mu'adhah narrated that :a woman asked Aishah: "Shouldn't one of us make up her prayers the days of her menstruation?" So she said, "Are you one of the Haruriyyah? Indeed we would menstruate, and we were not ordered to make up

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:130

Hadith #131
MunkarDaifDaifDaif

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ تَقْرَإِ الْحَائِضُ وَلاَ الْجُنُبُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ يَقْرَإِ الْجُنُبُ وَلاَ الْحَائِضُ ‏"‏ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِثْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ قَالُوا لاَ تَقْرَأُ الْحَائِضُ وَلاَ الْجُنُبُ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا إِلاَّ طَرَفَ الآيَةِ وَالْحَرْفَ وَنَحْوَ ذَلِكَ وَرَخَّصُوا لِلْجُنُبِ وَالْحَائِضِ فِي التَّسْبِيحِ وَالتَّهْلِيلِ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ إِنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ عَيَّاشٍ يَرْوِي عَنْ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلِ الْعِرَاقِ أَحَادِيثَ مَنَاكِيرَ ‏.‏ كَأَنَّهُ ضَعَّفَ رِوَايَتَهُ عَنْهُمْ فِيمَا يَنْفَرِدُ بِهِ ‏.‏ وَقَالَ إِنَّمَا حَدِيثُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ أَهْلِ الشَّأْمِ ‏.‏ وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ أَصْلَحُ مِنْ بَقِيَّةَ وَلِبَقِيَّةَ أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ عَنِ الثِّقَاتِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ ذَلِكَ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”حائضہ اور جنبی قرآن سے کچھ نہ پڑھیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کو ہم صرف اسماعیل بن عیاش ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔ جس میں ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنبی اور حائضہ ( قرآن ) نہ پڑھیں“، ۳- صحابہ کرام اور تابعین میں سے اکثر اہل علم اور ان کے بعد کے لوگ مثلاً سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ حائضہ اور جنبی آیت کے کسی ٹکڑے یا ایک آدھ حرف کے سوا قرآن سے کچھ نہ پڑھیں، ہاں ان لوگوں نے جنبی اور حائضہ کو تسبیح و تہلیل کی اجازت دی ہے۔

English Translation

Ibn Umar narrated that :the Prophet said: "The menstruating woman does not recite - nor the Junub - anything from the Qur'an." [He said:] There is narration on this topic from Ali

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:131

Hadith #132
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا حِضْتُ يَأْمُرُنِي أَنْ أَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُنِي ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَمَيْمُونَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھے جب حیض آتا تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم مجھے تہ بند باندھنے کا حکم دیتے پھر مجھ سے چمٹتے اور بوس و کنار کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے۔ صحابہ کرام و تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا یہی قول ہے اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۲- اس باب میں ام سلمہ اور میمونہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔

English Translation

Aishah narrated that:"When I would menstruate, Allah's Messenger ordered me to wear a waist wrap, then he would fondle me

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:132

Hadith #133
SahihSahihSahih

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ مُوَاكَلَةِ الْحَائِضِ فَقَالَ ‏ "‏ وَاكِلْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَأَنَسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَمْ يَرَوْا بِمُوَاكَلَةِ الْحَائِضِ بَأْسًا ‏.‏ وَاخْتَلَفُوا فِي فَضْلِ وَضُوئِهَا فَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ بَعْضُهُمْ وَكَرِهَ بَعْضُهُمْ فَضْلَ طَهُورِهَا ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اس کے ساتھ کھاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن سعد رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں عائشہ اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا یہی قول ہے: یہ لوگ حائضہ کے ساتھ کھانے میں کوئی حرج نہیں جانتے۔ البتہ اس کے وضو کے بچے ہوئے پانی کے سلسلہ میں ان میں اختلاف ہے۔ بعض لوگوں نے اس کی اجازت دی ہے اور بعض نے اس کی طہارت سے بچے ہوئے پانی کو مکروہ کہا ہے۔

English Translation

Abdullah bin Sa'd narrated:I asked the Prophet about eating with a menstruating woman. He said: "Eat with her

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:133

Hadith #134
SahihSahihSahih Muslim

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ قُلْتُ إِنِّي حَائِضٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ نَعْلَمُ بَيْنَهُمُ اخْتِلاَفًا فِي ذَلِكَ بِأَنْ لاَ بَأْسَ أَنْ تَتَنَاوَلَ الْحَائِضُ شَيْئًا مِنَ الْمَسْجِدِ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مسجد سے مجھے بوریا اٹھا کر دو“، تو میں نے عرض کیا: میں حائضہ ہوں، آپ نے فرمایا: ”تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا یہی قول ہے۔ ہم اس مسئلہ میں کہ ”حائضہ کے مسجد سے کوئی چیز اٹھانے میں کوئی حرج نہیں“ ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں جانتے۔

English Translation

Aishah narrated:"Allah's Messenger said to me: 'Bring me the Khumrah from the Masjid.' She said: "I said: 'I am menstruating.' He said: 'Indeed your menstruation is not in your hand

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:134

Hadith #135
SahihSahihHasan

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَبَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَكِيمٍ الأَثْرَمِ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَتَى حَائِضًا أَوِ امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا أَوْ كَاهِنًا فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى لاَ نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ حَكِيمٍ الأَثْرَمِ عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ وَإِنَّمَا مَعْنَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى التَّغْلِيظِ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَتَى حَائِضًا فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ ‏"‏ ‏.‏ فَلَوْ كَانَ إِتْيَانُ الْحَائِضِ كُفْرًا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِالْكَفَّارَةِ ‏.‏ وَضَعَّفَ مُحَمَّدٌ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ ‏.‏ وَأَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيُّ اسْمُهُ طَرِيفُ بْنُ مُجَالِدٍ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی حائضہ کے پاس آیا یعنی اس سے جماع کیا یا کسی عورت کے پاس پیچھے کے راستے سے آیا، یا کسی کاہن نجومی کے پاس ( غیب کا حال جاننے کے لیے ) آیا تو اس نے ان چیزوں کا انکار کیا جو محمد ( صلی الله علیہ وسلم ) پر نازل کی گئی ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اہل علم کے نزدیک نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اس فرمان کا مطلب تغلیظ ہے، نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے کسی حائضہ سے صحبت کی تو وہ ایک دینار صدقہ کرے، اگر حائضہ سے صحبت کا ارتکاب کفر ہوتا تو اس میں کفارے کا حکم نہ دیا جاتا“، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔

English Translation

Abu Hurairah narrated that :the Prophet said: "Whoever engages in sexual intercourse with a menstruating woman, or a woman in her anus, consults a soothsayer, then he has disbelieved in what was revealed to Muhammad

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:135

Hadith #136
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الرَّجُلِ يَقَعُ عَلَى امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ ‏ "‏ يَتَصَدَّقُ بِنِصْفِ دِينَارٍ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس آدمی کے بارے میں جو اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں جماع کرتا ہے فرمایا: ”وہ آدھا دینار صدقہ کرے“۔

English Translation

Ibn Abbas narrated that :the Prophet said about a man who had sexual intercourse with his wife while she is menstruating: "He should give half a Dinar in charity

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:136

Hadith #137
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ السُّكَّرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا كَانَ دَمًا أَحْمَرَ فَدِينَارٌ وَإِذَا كَانَ دَمًا أَصْفَرَ فَنِصْفُ دِينَارٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ الْكَفَّارَةِ فِي إِتْيَانِ الْحَائِضِ قَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا وَمَرْفُوعًا ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ يَسْتَغْفِرُ رَبَّهُ وَلاَ كَفَّارَةَ عَلَيْهِ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ قَوْلِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ بَعْضِ التَّابِعِينَ مِنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ عُلَمَاءِ الأَمْصَارِ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب خون سرخ ہو ( اور جماع کر لے تو ) ایک دینار اور جب زرد ہو تو آدھا دینار ( صدقہ کرے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حائضہ سے جماع کے کفارے کی حدیث ابن عباس سے موقوفاً اور مرفوعاً دونوں طرح سے مروی ہے، ۲- اور بعض اہل علم کا یہی قول ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔ ابن مبارک کہتے ہیں: یہ اپنے رب سے استغفار کرے گا، اس پر کوئی کفارہ نہیں، ابن مبارک کے قول کی طرح بعض تابعین سے بھی مروی ہے جن میں سعید بن جبیر، ابراہیم نخعی بھی شامل ہیں۔ اور اکثر علماء امصار کا یہی قول ہے۔

English Translation

Ibn Abbas narrated that :the Prophet said: "When the blood is red then (give) a Dinar. And when the blood is yellow then half Dinar

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:137

Hadith #138
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ امْرَأَةً، سَأَلَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الثَّوْبِ يُصِيبُهُ الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ حُتِّيهِ ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ ثُمَّ رُشِّيهِ وَصَلِّي فِيهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَسْمَاءَ فِي غَسْلِ الدَّمِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الدَّمِ يَكُونُ عَلَى الثَّوْبِ فَيُصَلِّي فِيهِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهُ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ إِذَا كَانَ الدَّمُ مِقْدَارَ الدِّرْهَمِ فَلَمْ يَغْسِلْهُ وَصَلَّى فِيهِ أَعَادَ الصَّلاَةَ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا كَانَ الدَّمُ أَكْثَرَ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ أَعَادَ الصَّلاَةَ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ ‏.‏ وَلَمْ يُوجِبْ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ عَلَيْهِ الإِعَادَةَ وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ يَجِبُ عَلَيْهِ الْغَسْلُ وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ وَشَدَّدَ فِي ذَلِكَ ‏.‏

Urdu Translation

اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے اس کپڑے کے بارے میں پوچھا جس میں حیض کا خون لگ جائے، تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کھرچ دو، پھر اسے پانی سے مل دو، پھر اس پر پانی بہا دو اور اس میں نماز پڑھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- خون کے دھونے کے سلسلے میں اسماء رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور ام قیس بنت محصن رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- کپڑے میں جو خون لگ جائے اور اسے دھونے سے پہلے اس میں نماز پڑھ لے … اس کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے ؛ تابعین میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب خون درہم کی مقدار میں ہو اور دھوے بغیر نماز پڑھ لے تو نماز دہرائے ۱؎، اور بعض کہتے ہیں کہ جب خون درہم کی مقدار سے زیادہ ہو تو نماز دہرائے ورنہ نہیں، یہی سفیان ثوری اور ابن مبارک کا قول ہے ۲؎ اور تابعین وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے نماز کے دہرانے کو واجب نہیں کہا ہے گرچہ خون درہم کی مقدار سے زیادہ ہو، احمد اور اسحاق بن راہویہ یہی کہتے ہیں ۳؎، جب کہ شافعی کہتے ہیں کہ اس پر دھونا واجب ہے گو درہم کی مقدار سے کم ہو، اس سلسلے میں انہوں نے سختی برتی ہے ۴؎۔

English Translation

Asma' bint Abu Bakr narrated that :a woman asked the Prophet about a garment that was touched by some menstrual blood. So Allah's Messenger said: "Remove it, and scrub it, then rinse it and pray in it

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:138

Hadith #139
Hasan SahihHasan SahihHasanHasan

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ أَبُو بَدْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ أَبِي سَهْلٍ، عَنْ مُسَّةَ الأَزْدِيَّةِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ كَانَتِ النُّفَسَاءُ تَجْلِسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعِينَ يَوْمًا فَكُنَّا نَطْلِي وُجُوهَنَا بِالْوَرْسِ مِنَ الْكَلَفِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَهْلٍ عَنْ مُسَّةَ الأَزْدِيَّةِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ‏.‏ وَاسْمُ أَبِي سَهْلٍ كَثِيرُ بْنُ زِيَادٍ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ثِقَةٌ وَأَبُو سَهْلٍ ثِقَةٌ ‏.‏ وَلَمْ يَعْرِفْ مُحَمَّدٌ هَذَا الْحَدِيثَ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَهْلٍ ‏.‏ وَقَدْ أَجْمَعَ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ عَلَى أَنَّ النُّفَسَاءَ تَدَعُ الصَّلاَةَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا إِلاَّ أَنْ تَرَى الطُّهْرَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّهَا تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي ‏.‏ فَإِذَا رَأَتِ الدَّمَ بَعْدَ الأَرْبَعِينَ فَإِنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا لاَ تَدَعُ الصَّلاَةَ بَعْدَ الأَرْبَعِينَ وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْفُقَهَاءِ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏ وَيُرْوَى عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ إِنَّهَا تَدَعُ الصَّلاَةَ خَمْسِينَ يَوْمًا إِذَا لَمْ تَرَ الطُّهْرَ ‏.‏ وَيُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ وَالشَّعْبِيِّ سِتِّينَ يَوْمًا ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں نفاس والی عورتیں چالیس دن تک بیٹھی رہتی تھیں، اور جھائیوں کے سبب ہم اپنے چہروں پر ورس ( نامی گھاس ہے ) ملتی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف ابوسہل ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے تمام اہل علم کا اس امر پر اجماع ہے کہ نفاس والی عورتیں چالیس دن تک نماز نہیں پڑھیں گی۔ البتہ اگر وہ اس سے پہلے پاک ہو لیں تو غسل کر کے نماز پڑھنے لگ جائیں، اگر چالیس دن کے بعد بھی وہ خون دیکھیں تو اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ چالیس دن کے بعد وہ نماز نہ چھوڑیں، یہی اکثر فقہاء کا قول ہے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔ حسن بصری کہتے ہیں کہ پچاس دن تک نماز چھوڑے رہے جب وہ پاکی نہ دیکھے، عطاء بن ابی رباح اور شعبی سے ساٹھ دن تک مروی ہے۔

English Translation

Umm Salamah narrated:"The time of waiting for Nifas during the time of AIlah's Messenger was forty days. We used to cover our faces with reddish-brown Wars

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:139

Hadith #140
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمُ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ أَنْ لاَ بَأْسَ أَنْ يَعُودَ قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّأَ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ هَذَا عَنْ سُفْيَانَ فَقَالَ عَنْ أَبِي عُرْوَةَ عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ عَنْ أَنَسٍ ‏.‏ وَأَبُو عُرْوَةَ هُوَ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ‏.‏ وَأَبُو الْخَطَّابِ قَتَادَةُ بْنُ دِعَامَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ ابْنِ أَبِي عُرْوَةَ عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ ‏.‏ وَهُوَ خَطَأٌ وَالصَّحِيحُ عَنْ أَبِي عُرْوَةَ ‏.‏

Urdu Translation

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ایک ہی غسل میں سبھی بیویوں کا چکر لگا لیتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابورافع رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ ۳- بہت سے اہل علم کا جن میں حسن بصری بھی شامل ہیں یہی قول ہے کہ وضو کرنے سے پہلے دوبارہ جماع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

English Translation

Anas narrated:"Allah's Messenger would go around to his women with one Ghusl

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:140

Hadith #141
SahihSahihHasan SahihSahih - Bukhari And Muslim

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ بَيْنَهُمَا وُضُوءًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَقَالَ بِهِ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ قَبْلَ أَنْ يَعُودَ ‏.‏ وَأَبُو الْمُتَوَكِّلِ اسْمُهُ عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ ‏.‏ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ اسْمُهُ سَعْدُ بْنُ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ ‏.‏

Urdu Translation

ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے صحبت کرے پھر وہ دوبارہ صحبت کرنا چاہے تو ان دونوں کے درمیان وضو کر لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عمر رضی الله عنہ سے بھی روایت آئی ہے، ۲- ابوسعید کی حدیث حسن صحیح ہے، ۳- عمر بن خطاب رضی الله عنہ کا قول ہے، اہل علم میں سے بہت سے لوگوں نے یہی کہا ہے کہ جب آدمی اپنی بیوی سے جماع کرے پھر دوبارہ جماع کرنا چاہے تو جماع سے پہلے دوبارہ وضو کرے۔

English Translation

Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that :the Prophet said: When one of you comes to his wife, then he wants to repeat (it), let him perform Wudu between them

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:141

Hadith #142
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَرْقَمِ، قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَأَخَذَ بِيَدِ رَجُلٍ فَقَدَّمَهُ وَكَانَ إِمَامَ قَوْمِهِ وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ وَوَجَدَ أَحَدُكُمُ الْخَلاَءَ فَلْيَبْدَأْ بِالْخَلاَءِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَثَوْبَانَ وَأَبِي أُمَامَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَرْقَمِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ هَكَذَا رَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَرْقَمِ ‏.‏ وَرَوَى وُهَيْبٌ وَغَيْرُهُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَرْقَمِ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ قَالاَ لاَ يَقُومُ إِلَى الصَّلاَةِ وَهُوَ يَجِدُ شَيْئًا مِنَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ ‏.‏ وَقَالاَ إِنْ دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ فَوَجَدَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَلاَ يَنْصَرِفْ مَا لَمْ يَشْغَلْهُ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ بَأْسَ أَنْ يُصَلِّيَ وَبِهِ غَائِطٌ أَوْ بَوْلٌ مَا لَمْ يَشْغَلْهُ ذَلِكَ عَنِ الصَّلاَةِ ‏.‏

Urdu Translation

عروہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ارقم رضی الله عنہ اپنی قوم کے امام تھے، نماز کھڑی ہوئی تو انہوں نے ایک شخص کا ہاتھ پکڑ کر اسے ( امامت کے لیے ) آگے بڑھا دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جب نماز کے لیے اقامت ہو چکی ہو اور تم میں سے کوئی قضائے حاجت کی ضرورت محسوس کرے تو وہ پہلے قضائے حاجت کے لیے جائے“۔

English Translation

Hisham bin Urwah narrated from his father, (Urwah) from Abdullah bin AI-Arqam. :He (Urwah) said: "While standing for the prayer he (Abdullah bin Al-Arqam) took a man by the hand leading him forward, he (Abdullah) was in front of the people, and he said: 'I heard Allah's Messenger say: "When standing for the prayer and one of you finds that he has to relieve himself then let him relieve himself first

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:142

Hadith #143
SahihSahihSahihHasan

حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ، لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَتْ قُلْتُ لأُمِّ سَلَمَةَ إِنِّي امْرَأَةٌ أُطِيلُ ذَيْلِي وَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ نَتَوَضَّأُ مِنَ الْمَوْطَإِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا إِذَا وَطِئَ الرَّجُلُ عَلَى الْمَكَانِ الْقَذِرِ أَنَّهُ لاَ يَجِبُ عَلَيْهِ غَسْلُ الْقَدَمِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ رَطْبًا فَيَغْسِلَ مَا أَصَابَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِهُودِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ‏.‏ وَهُوَ وَهَمٌ وَلَيْسَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ابْنٌ يُقَالُ لَهُ هُودٌ وَإِنَّمَا هُوَ عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ‏.‏ وَهَذَا الصَّحِيحُ ‏.‏

Urdu Translation

عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کی ایک ام ولد سے روایت ہے کہ میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے کہا: میں لمبا دامن رکھنے والی عورت ہوں اور میرا گندی جگہوں پر بھی چلنا ہوتا ہے، ( تو میں کیا کروں؟ ) انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اس کے بعد کی ( پاک ) زمین اسے پاک کر دیتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ گندی جگہوں پر سے گزرنے کے بعد پاؤں نہیں دھوتے تھے، ۲- اہل علم میں سے بہت سے لوگوں کا یہی قول ہے کہ جب آدمی کسی گندے راستے سے ہو کر آئے تو اسے پاؤں دھونے ضروری نہیں سوائے اس کے کہ گندگی گیلی ہو تو ایسی صورت میں جو کچھ لگا ہے اسے دھو لے۔

English Translation

Abdur-Rahman bin Awf's Umm Walad said, :"I said to Umm Salamah: 'Indeed I am a woman with lengthy hems, and I walk in places of filth.' So she said: 'Allah's Messenger said: "It is purified by what comes after it

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:143

Hadith #144
SahihSahihHasan SahihHasan

حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ، عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلاَّسُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهُ بِالتَّيَمُّمِ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَمَّارٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَمَّارٍ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ عَلِيٌّ وَعَمَّارٌ وَابْنُ عَبَّاسٍ وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنَ التَّابِعِينَ مِنْهُمُ الشَّعْبِيُّ وَعَطَاءٌ وَمَكْحُولٌ قَالُوا التَّيَمُّمُ ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمُ ابْنُ عُمَرَ وَجَابِرٌ وَإِبْرَاهِيمُ وَالْحَسَنُ قَالُوا التَّيَمُّمُ ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَضَرْبَةٌ لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَمَالِكٌ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَمَّارٍ فِي التَّيَمُّمِ أَنَّهُ قَالَ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَمَّارٍ أَنَّهُ قَالَ تَيَمَّمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالآبَاطِ ‏.‏ فَضَعَّفَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ حَدِيثَ عَمَّارٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي التَّيَمُّمِ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ لَمَّا رُوِيَ عَنْهُ حَدِيثُ الْمَنَاكِبِ وَالآبَاطِ ‏.‏ قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَخْلَدٍ الْحَنْظَلِيُّ حَدِيثُ عَمَّارٍ فِي التَّيَمُّمِ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَحَدِيثُ عَمَّارٍ تَيَمَّمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالآبَاطِ لَيْسَ هُوَ بِمُخَالِفٍ لِحَدِيثِ الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ لأَنَّ عَمَّارًا لَمْ يَذْكُرْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهُمْ بِذَلِكَ وَإِنَّمَا قَالَ فَعَلْنَا كَذَا وَكَذَا فَلَمَّا سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهُ بِالْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ فَانْتَهَى إِلَى مَا عَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ وَالدَّلِيلُ عَلَى ذَلِكَ مَا أَفْتَى بِهِ عَمَّارٌ بَعْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي التَّيَمُّمِ أَنَّهُ قَالَ الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ فَفِي هَذَا دَلاَلَةٌ أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى مَا عَلَّمَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَعَلَّمَهُ إِلَى الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الْكَرِيمِ يَقُولُ لَمْ أَرَ بِالْبَصْرَةِ أَحْفَظَ مِنْ هَؤُلاَءِ الثَّلاَثَةِ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ وَابْنِ الشَّاذَكُونِيِّ وَعَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ الْفَلاَّسِ ‏.‏ قَالَ أَبُو زُرْعَةَ وَرَوَى عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ حَدِيثًا ‏.‏

Urdu Translation

عمار بن یاسر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے انہیں چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے تیمم کا حکم دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمار رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یہی صحابہ کرام میں سے کئی اہل علم کا قول ہے جن میں علی، عمار، ابن عباس رضی الله عنہم شامل ہیں اور تابعین میں سے بھی کئی لوگوں کا ہے جن میں شعبی، عطاء اور مکحول بھی ہیں، ان سب کا کہنا ہے کہ تیمم چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے لیے ایک ہی بار مارنا ہے، اسی کے قائل احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی ہیں، ۴- بعض اہل علم جن میں ابن عمر، جابر رضی الله عنہم، ابراہیم نخعی اور حسن بصری شامل ہیں کہتے ہیں کہ تیمم چہرہ کے لیے ایک ضربہ اور دونوں ہاتھوں کے لیے کہنیوں تک ایک ضربہ ہے، اس کے قائل سفیان ثوری، مالک، ابن مبارک اور شافعی ہیں، ۵- تیمم کے سلسلہ میں عمار سے یہ حدیث جس میں چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے لیے ایک ضربہ کا ذکر ہے اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے، ۶- عمار رضی الله عنہ سے تیمم کی حدیث میں نقل کیا گیا ہے کہ ہم نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ شانوں اور بغلوں تک تیمم کیا۔ ۷- بعض اہل علم نے تیمم کے سلسلہ میں عمار کے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں والی حدیث کی تضعیف کی ہے کیونکہ ان سے شانوں اور بغلوں والی حدیث بھی مروی ہے، ۸- اسحاق بن ابراہم مخلد حنظلی ( ابن راہویہ ) کہتے ہیں کہ چہرہ اور دونوں کہنیوں کے لیے ایک ہی ضربہ والی تیمم کے سلسلہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۹- عمار رضی الله عنہ کی حدیث جس میں ہے کہ ہم نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ شانوں اور بغلوں تک تیمم کیا چہرے اور دونوں ہتھیلیوں والی حدیث کے مخالف نہیں کیونکہ عمار رضی الله عنہ نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ہمیں اس کا حکم دیا تھا بلکہ انہوں نے صرف اتنا کہا ہے کہ ہم نے ایسا ایسا کیا، پھر جب انہوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے انہیں صرف چہرے اور دونوں کا حکم دیا، تو وہ چہرے اور دونوں ہتھیلیوں ہی پر رک گئے۔ جس کی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے انہیں تعلیم دی، اس کی دلیل تیمم کے سلسلہ کا عمار رضی الله عنہ کا وہ فتویٰ ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے بعد دیا ہے کہ تیمم صرف چہرے اور دونوں ہتھیلیوں ہی کا ہے، اس میں اس بات پر دلالت ہے کہ وہ اسی جگہ رک گئے جس کی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے انہیں تعلیم دی ۱؎ اور آپ نے انہیں جو تعلیم دی تھی وہ چہرے اور دونوں ہتھیلیوں تک ہی محدود تھی۔

English Translation

Ammar bin Yasir narrated that :the Prophet ordered him to perform Tayammum by rubbing his face and two palms

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:144

Hadith #145
Daif IsnaadDaif IsnaadDaif

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ التَّيَمُّمِ، فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قَالَ فِي كِتَابِهِ حِينَ ذَكَرَ الْوُضُوءَ‏:‏ ‏(‏فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إلى المَرَافِقِ‏)‏، وَقَالَ في التَّيَمُّمِ‏:‏ ‏(‏فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ‏)‏ وَقَالَ‏:‏ ‏(‏وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيِهْمَا‏)‏ فَكَانَتِ السُّنَّةُ في القَطْعِ الكَفَّينِ، إِنَّمَا هُوَ الوَجْهُ وَالكَفَّانِ، يَعْنِي التَّيَمُّمَ‏"‏‏.‏

Urdu Translation

عکرمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے تیمم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جس وقت وضو کا ذکر کیا تو فرمایا ”اپنے چہرے کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوؤ“، اور تیمم کے بارے میں فرمایا: ”اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرو“، اور فرمایا: ”چوری کرنے والے مرد و عورت کی سزا یہ ہے کہ ان کے ہاتھ کاٹ دو“ تو ہاتھ کاٹنے کے سلسلے میں سنت یہ تھی کہ ( پہنچے تک ) ہتھیلی کاٹی جاتی، لہٰذا تیمم صرف چہرے اور ہتھیلیوں ہی تک ہو گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔

English Translation

Ikrimah narrated that :Ibn Abbas was asked ahout Tayammum. He said: "When Allah mentioned Wudu in His Book, He said: "So wash your faces and your hands (forearms) up to the elbows." And He said about Tayammum: "And rub therewith your faces and hands" And He said: "And the male thief and the female thief; cut off their hands." So the Sunnah for cutting is the two hands. So it is only the face and the hands, meaning, Tayammum

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:145

Hadith #146
DaifDaifHasan SahihHasan

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَعُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ عَلَى كُلِّ حَالٍ مَا لَمْ يَكُنْ جُنُبًا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَلِيٍّ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَبِهِ قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ ‏.‏ قَالُوا يَقْرَأُ الرَّجُلُ الْقُرْآنَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ وَلاَ يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ إِلاَّ وَهُوَ طَاهِرٌ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏

Urdu Translation

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ہمیں قرآن پڑھاتے تھے۔ خواہ کوئی بھی حالت ہو جب تک کہ آپ جنبی نہ ہوتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے ۱؎، ۲- صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم کا یہی قول ہے کہ آدمی وضو کے بغیر قرآن پڑھ سکتا ہے، لیکن مصحف میں دیکھ کر اسی وقت پڑھے جب وہ باوضو ہو۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔

English Translation

Ali narrated:"Allah's Messenger would recite the Qur'an in all conditions, as long as he was not Junub

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:146

Hadith #147
SahihSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ فَصَلَّى فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلاَ تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا ‏.‏ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَسْرَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَهْرِيقُوا عَلَيْ��ِ سَجْلاً مِنْ مَاءٍ أَوْ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی مسجد میں داخل ہوا، نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، اس نے نماز پڑھی، جب نماز پڑھ چکا تو کہا: اے اللہ تو مجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم مت فرما۔ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”تم نے ایک کشادہ چیز ( یعنی رحمت الٰہی ) کو تنگ کر دیا“، پھر ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ وہ مسجد میں جا کر پیشاب کرنے لگا، لوگ تیزی سے اس کی طرف بڑھے، تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر ایک ڈول پانی بہا دو، پھر آپ نے فرمایا: ”تم تو آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہونا کہ سختی کرنے والے“ ۱؎۔

English Translation

Abu Hurairah narrated:"A Bedouin entered the Masjid while the Prophet was sitting. He prayed, then when he was finished, he said: 'O Allah! Have mercy upon me and Muhammad, and do not have mercy on anyone along with us.' The Prophet turned, towards him and said: 'You have restricted something that is unrestricted.' It was not long before he was urinating in the Masjid. So the people rushed to him. But Prophet said: 'Pour a bucket of water over it - or - a tumbler of water over it.' Then he said: 'You have been sent to make things easy (for the people); you have not been sent to make things difficult for them

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:147

Hadith #148
SahihSahihHasan SahihSahih - Agreed Upon

قَالَ سَعِيدٌ قَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، نَحْوَ هَذَا ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ، عَبَّاسٍ وَوَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى يُونُسُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏

Urdu Translation

اس سند سے انس بن مالک سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابن عباس اور واثلہ بن اسقع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔

English Translation

Anas bin Malik narrated similar to this (no. 147).:[He said:] There are narrations on this topic from 'Abdullah bin Mas'ud, Ibn Abbas, and Wathilah bin AI-Asqa

Reference: Jami at-Tirmidhi 1:148