Taleemi DuniyaTaleemi Duniya
Sahih Muslim

Chapter 50 of 56

The Book of Repentance

توبہ کا بیان

63 hadiths in this chapter

Hadith #6952

حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي، صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي وَاللَّهِ لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ يَجِدُ ضَالَّتَهُ بِالْفَلاَةِ وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَىَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَىَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا وَإِذَا أَقْبَلَ إِلَىَّ يَمْشِي أَقْبَلْتُ إِلَيْهِ أُهَرْوِلُ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ عزوجل نے فرمایا : میرے بارے میں میرے بندے کا جو گمان ہو میں اس کے ساتھ ( مطابق ہوتا ) ہوں اور وہ مجھے جہاں ( بھی ) یاد کرے میں اس کے پاس ہوتا ہوں ۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر تم میں سے ایسے آدمی کی نسبت بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے چٹیل بیابان میں اپنی گم شدہ سواری ( سامان سمیت واپس ) مل جاتی ہے ۔ ( میرا ) جو بندہ ایک بالشت میرے قریب آتا ہے ، میں ایک ہاتھ اس کے قریب آ جاتا ہوں اور جو ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے ، میں دونوں ہاتھوں کی پوری لمبائی کے برابر اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور جو چلتا ہوا میری طرف آتا ہے ، میں دوڑتا ہوا اس کے پاس آتا ہوں ۔

English Translation

Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Allah, the Exalted and Glorious, said: I live in the thought of My servant and I am with him as he remembers Me. (The Holy Prophet) further said: By Allah, Allah is more pleased wth the repentance of His servant than what one of you would do on finding the lost camel in the waterless desert. When he draws near Me by the span of his hand. I draw near him by the length of a cubit and when he draws near Me by the length of a cubit. I draw near him by the length of a fathom and when he draws near Me walking I draw close to him hurriedly

Reference: Sahih Muslim 50:1

Hadith #6953

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ مِنْ أَحَدِكُمْ بِضَالَّتِهِ إِذَا وَجَدَهَا ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ یقینا تم میں سے کسی کے توبہ کرنے پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا تم میں سے کوئی شخص اپنی گم شدہ سواری ( واپس ) پا کر خوش ہوتا ہے ۔

English Translation

Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Allah is more pleased with the repentance of His servant when he turns penitently towards Him than one of you would be on finding the lost camel

Reference: Sahih Muslim 50:2

Hadith #6954

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ ‏.‏

Urdu Translation

ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم معنی روایت کی ۔

English Translation

This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira through another chain of transmitters

Reference: Sahih Muslim 50:3

Hadith #6955

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ، سُوَيْدٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ أَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ فَحَدَّثَنَا بِحَدِيثَيْنِ حَدِيثًا عَنْ نَفْسِهِ وَحَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ مِنْ رَجُلٍ فِي أَرْضٍ دَوِيَّةٍ مَهْلَكَةٍ مَعَهُ رَاحِلَتُهُ عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَنَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَتْ فَطَلَبَهَا حَتَّى أَدْرَكَهُ الْعَطَشُ ثُمَّ قَالَ أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِي الَّذِي كُنْتُ فِيهِ فَأَنَامُ حَتَّى أَمُوتَ ‏.‏ فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى سَاعِدِهِ لِيَمُوتَ فَاسْتَيْقَظَ وَعِنْدَهُ رَاحِلَتُهُ وَعَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَاللَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ مِنْ هَذَا بِرَاحِلَتِهِ وَزَادِهِ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

جریر نے اعمش سے ، انہوں نے عمارہ بن عمیر سے اور انہوں نے حارث بن سُوید سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) کے ہاں حاضر ہوا ، اس وقت وہ بیمار تھے ، انہوں نے ہمیں وہ حدیثیں بیان کیں ، ایک حدیث اپنی طرف سے اور ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرماتے تھے : " اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا وہ آدمی ( خوش ہوتا ہے ) جو ہلاکت خیز سنسان اور بے آب و گیاہ میدان میں ہو ، اس کے ساتھ اس کی سواری ہو ، اس ( سواری ) پر اس کا کھانا اور پانی لدا ہوا ہو ، وہ ( تھکا ہارا کچھ دیر کے لئے ) سو جائے اور جب جاگے تو سواری جا چکی ہو ۔ وہ ڈھونڈتا رہے یہاں تک کہ اسے شدید پیاس لگ جائے ، پھر وہ کہے : میں جہاں پر تھا ، اسی جگہ واپس جاتا ہوں اور سو جاتا ہوں ، یہاں تک کہ ( اس نیند کے عالم میں ) مجھے موت آ جائے ۔ وہ اپنی کلائی پر سر رکھ کر مرنے کے لیے لیٹ جائے اور ( اچانک ) اس کی آنکھ کھلے تو اس کی وہ سواری جس پر اس کا زادراہ کھانا اور پانی تھا اس کے پاس کھڑی ہو ۔ تو اللہ اپنے مومن بندے کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا یہ آدمی اپنی سواری اور زادراہ سے خوش ہوتا ہے ۔

English Translation

Harith b. Suwaid said:I went to see 'Abdullah to inquire about his health as he was sick and he narrated to us a hadith of Allahs Messenger (ﷺ). He heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: Allah is more pleased with the repentance of His believing servant than a person who loses his riding beast carrying food and drink. He sleeps (being disappointed of its recovery) and then gets up and goes in search for that, until he is stricken with thirst. then comes back to the place where he had been before and goes to sleep completely exhausted placing his head upon his hands waiting for death. And when he gets up, lot there is before him his riding beast and his provisions of food and drink. Allah is more pleased with the repentance of His servant than the recovery of this riding beast along with the provisions (of food and drink)

Reference: Sahih Muslim 50:4

Hadith #6956

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ ‏ "‏ مِنْ رَجُلٍ بِدَاوِيَّةٍ مِنَ الأَرْضِ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

قطبہ بن عبدالعزیز نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا : " اس آدمی کی نسبت ( زیادہ خوش ہوتا ہے ) جو زمین کے سنسان بے آب و گیاہ صحرا میں ہو ۔ " دوية کے بجائے داوية کا لفظ بولا ، معنی ایک ہی ہے ۔

English Translation

This hadith has been narrated on the authority of A'mash through another chain of transmitters

Reference: Sahih Muslim 50:5

Hadith #6957

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ، بْنُ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ سُوَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ، حَدِيثَيْنِ أَحَدُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالآخَرُ عَنْ نَفْسِهِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ ‏"‏ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ ‏.‏

Urdu Translation

ابواسامہ نے کہا : ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں عمارہ بن عمیر نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے حارث بن سوید سے سنا ، کہا : مجھے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے وہ حدیثیں بیان کیں ، ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( نقل کرتے ہوئے ) اور دوسری اپنی طرف سے ، چنانچہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلاشبہ اللہ اپنے مومن بندے کی توبہ سے ( اس آدمی کی نسبت ) زیادہ خوش ہوتا ہے " ( آگے ) جریر کی حدیث کے مانند ۔

English Translation

Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Allah is more pleased with the repentance of a believing man. The rest of the hadith is the same

Reference: Sahih Muslim 50:6

Hadith #6958

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ خَطَبَ النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ فَقَالَ ‏ "‏ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ رَجُلٍ حَمَلَ زَادَهُ وَمَزَادَهُ عَلَى بَعِيرٍ ثُمَّ سَارَ حَتَّى كَانَ بِفَلاَةٍ مِنَ الأَرْضِ فَأَدْرَكَتْهُ الْقَائِلَةُ فَنَزَلَ فَقَالَ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ وَانْسَلَّ بَعِيرُهُ فَاسْتَيْقَظَ فَسَعَى شَرَفًا فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ سَعَى شَرَفًا ثَانِيًا فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ سَعَى شَرَفًا ثَالِثًا فَلَمْ يَرَ شَيْئًا فَأَقْبَلَ حَتَّى أَتَى مَكَانَهُ الَّذِي قَالَ فِيهِ فَبَيْنَمَا هُوَ قَاعِدٌ إِذْ جَاءَهُ بَعِيرُهُ يَمْشِي حَتَّى وَضَعَ خِطَامَهُ فِي يَدِهِ فَلَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ الْعَبْدِ مِنْ هَذَا حِينَ وَجَدَ بَعِيرَهُ عَلَى حَالِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سِمَاكٌ فَزَعَمَ الشَّعْبِيُّ أَنَّ النُّعْمَانَ رَفَعَ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَمَّا أَنَا فَلَمْ أَسْمَعْهُ ‏.‏

Urdu Translation

ابو یونس نے سماک سے روایت کی ، کہا : حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ) بیان کیا : "" اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص کی نسبت زیادہ خوشی ہوتی ہے جس نے اپنا زادراہ اور اپنی پانی کی بڑی مشک کو اونٹ پر لادا ، پھر ( سفر پر ) چل پڑا ، یہاں تک کہ جب وہ ایک چٹیل زمین پر تھا تو اسے دوپہر کی نیند نے بے بس کر دیا ، وہ اترا اور ایک درخت کے نیچے دوپہر کے آرام کے لیے لیٹ گیا ، اس کی آنکھ لگ گئی اور اس کا اونٹ کسی طرف کو نکل گیا ، پھر وہ جاگا تو کوشش کر کے ایک ٹیلے پر چڑھا ( ہر طرف دیکھا ) لیکن اسے کچھ نظر نہ آیا ، پھر وہ مشقت اٹھا کر دوسرے ٹیلے پر چڑھا ، اسے کچھ نظر نہ آیا ، پھر ( مزید ) مشقت سے تیسرے ٹیلے پر چڑھا تو اسے کچھ نظر نہ آیا ، پھر وہ آیا ، اسی جگہ پہنچا جہاں دوپہر کا آرام کیا تھا ، وہ ( اس جگہ ) بیٹھا ہوا تھا کہ اس کا اونٹ چلتا ہوا ( واپس ) آ گیا اور اپنی مہار ( نکیل سے بندھی ہوئی رسی ) اس آدمی کے ہاتھ پر گرا دی ۔ ( اسے اٹھ کر مہار پکڑنے کی زحمت بھی نہ کرنی پڑی ) تو اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص کی نسبت زیادہ خوش ہوتا ہے جب یہ آدمی اپنی سواری کو اس کی اصل حالت میں ( زادراہ اور پانی سمیت صحیح سالم ) پا لیتا ہے ۔ "" سماک نے کہا : تو شعبی نے سمجھا کہ حضرت نعمان ( بن بشیر رضی اللہ عنہ ) نے یہ بات مرفوع ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) بیان کی ہے ، لیکن میں نے ان کو ( مرفوع بیان کرتے ) نہیں سنا ۔

English Translation

Nu'man b. Bashir reported:Allah is more pleased with the repentance of a believing servant than of a person who set out on a journey with a provision of food and drink on the back of his camel. He went on until he came to a waterless desert and he felt like sleeping. So he got down under the shade of a tree and was overcome by sleep and his camel ran away. As he got up he tried to see (the camel) standing upon a mound. but did not find it. He then got upon the other mound, but could not see anything. He then climbed upon the third mound but did not see anything until he came back to the place where he had been previously. And as he was sitting (in utter disappointment) there came to him the camel, till that (camel) placed its nosestring in his hand. Allah is more pleased with the repentance of His servant than the person who found (his lost camel) in this very state. Simak reported that Sha'bi was of the opinion that Nu'min traced it to Allah's Apostle (ﷺ). Simak, however, did not hear that himself

Reference: Sahih Muslim 50:7

Hadith #6959

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَجَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ جَعْفَرٌ حَدَّثَنَا وَقَالَ، يَحْيَى أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ إِيَادٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَيْفَ تَقُولُونَ بِفَرَحِ رَجُلٍ انْفَلَتَتْ مِنْهُ رَاحِلَتُهُ تَجُرُّ زِمَامَهَا بِأَرْضٍ قَفْرٍ لَيْسَ بِهَا طَعَامٌ وَلاَ شَرَابٌ وَعَلَيْهَا لَهُ طَعَامٌ وَشَرَابٌ فَطَلَبَهَا حَتَّى شَقَّ عَلَيْهِ ثُمَّ مَرَّتْ بِجِذْلِ شَجَرَةٍ فَتَعَلَّقَ زِمَامُهَا فَوَجَدَهَا مُتَعَلِّقَةً بِهِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا شَدِيدًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَا وَاللَّهِ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنَ الرَّجُلِ بِرَاحِلَتِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ جَعْفَرٌ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ عَنْ أَبِيهِ ‏.‏

Urdu Translation

یحییٰ بن یحییٰ اور جعفر بن حمید نے ہمیں عبیداللہ بن ایاد بن لقیط سے ، انہوں نے ایاد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم اس شخص کی خوشی کے متعلق کیا کہتے ہو جس کی اونٹنی ایسی بے آب و گیاہ زمین میں ، جہاں کھانے کی کوئی چیز ہو نہ پینے کی ، اپنی نکیل کی رسی کھینچتی ہوئی ( کسی طرف ) نکل گئی ۔ اس کا کھانا اور پانی بھی اسی پر تھا ۔ اس شخص نے اسے ( بہت ) ڈھونڈا حتی کہ تھک کر ہار گیا ، پھر وہ ( اونٹنی چلتے چلتے ) ایک درخت کے ٹنڈ منڈ تنے کے پاس سے گزری تو اس کی نکیل کی رسی اس کے ساتھ اٹک گئی اور اس شخص نے اس ( اونٹنی ) کو اس ( تنے ) کے ساتھ لگی کھڑی پا لیا؟ "" ہم نے عرض کی : اللہ کے رسول! ( اس شخص کی خوشی ) بے پناہ ہو گی ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اس سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا یہ شخص اپنی سواری کو پا کر ہوتا ہے ۔ "" جعفر نے کہا : ہمیں عبیداللہ بن یاد نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ۔

English Translation

Al-Bara' b. 'Azib reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying that Allah's Messenger (ﷺ) said:What is your opinion about the delight of a person whose camel loaded with the provisions of food and drink is lost and that moves about with its nosestring trailing upon the waterless desert in which there is neither food nor drink, and lie wanders about in search of that until he is completely exhausted and then accidentally it happens to pass by the trunk of a tree and its nosestring gets entangled in that and he finds it entangled therein? He (in response to the question of the Holy Prophet) said: Allah's Messenger, he would feel highly delighted. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said. By Allah, Allah is more delighted at the repentance of His servant than that person (as he finds his lost) camel

Reference: Sahih Muslim 50:8

Hadith #6960

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، - وَهُوَ عَمُّهُ - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِأَرْضِ فَلاَةٍ فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَأَيِسَ مِنْهَا فَأَتَى شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا قَائِمَةً عِنْدَهُ فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ اللَّهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ ‏.‏ أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی اور وہ ( حضرت انس رضی اللہ عنہ ) ان کے چچا ہیں ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر ، جب وہ ( بندہ ) اس کی طرف توبہ کرتا ہے ، تم میں سے کسی ایسے شخص کی نسبت کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جو ایک بے آب و گیاہ صحرا میں اپنی سواری پر ( سفر کر رہا ) تھا تو وہ اس کے ہاتھ سے نکل ( کر گم ہو ) گئی ، اس کا کھانا اور پانی اسی ( سواری ) پر ہے ۔ وہ اس ( کے ملنے ) سے مایوس ہو گیا تو ایک درخت کے پاس آیا اور اس کے سائے میں لیٹ گیا ۔ وہ اپنی سواری ( ملنے ) سے ناامید ہو چکا تھا ۔ وہ اسی عالم میں ہے کہ اچانک وہ ( آدمی ) اس کے پاس ہے ، وہ ( اونٹنی ) اس کے پاس کھڑی ہے ، اس نے اس کو نکیل کی رسی سے پکڑ لیا ، پھر بے پناہ خوشی کی شدت میں کہہ بیٹھا ، اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں ۔ خوشی کی شدت کی وجہ سے غلطی کر گیا ۔

English Translation

Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Allah is more pleased with the repentance of a servant as he turns towards Him for repentance than this that one amongst you is upon the camel in a waterless desert and there is upon (that camel) his provision of food and drink also and it is lost by him, and he having lost all hope (to get tbat) lies down in the shadow and is disappointed about his camel and there he finds that camel standing before him. He takes hold of his nosestring and then out of boundless joy says: 0 Lord, Thou art my servant and I am Thine Lord. He commits this mistake out of extreme delight

Reference: Sahih Muslim 50:9

Hadith #6963

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، - قَاصِّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ - عَنْ أَبِي صِرْمَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّهُ قَالَ حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ كُنْتُ كَتَمْتُ عَنْكُمْ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لَوْلاَ أَنَّكُمْ تُذْنِبُونَ لَخَلَقَ اللَّهُ خَلْقًا يُذْنِبُونَ يَغْفِرُ لَهُمْ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

عمر بن عبدالعزیز کے قصہ گو محمد بن قیس نے ابوصرمہ سے ، انہوں نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب ان کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث تم سے چھپا رکھی تھی ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا : " اگر تم ( لوگ ) گناہ نہ کرو تو ( تمہاری جگہ ) اللہ تعالیٰ ایسی مخلوق کو پیدا فرما دے جو گناہ کریں ( پھر اللہ سے توبہ کریں اور ) وہ ان کی مغفرت فرما دے ۔

English Translation

Abu Sirma reported that when the time of the death of Abu Ayyub Ansari drew near, he said:I used to conceal from you a thing which I heard from Allah's Messenger (ﷺ) and I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: Had you not committed sins, Allah would have brought into existence a creation that would have committed sin (and Allah) would have forgiven them

Reference: Sahih Muslim 50:11

Hadith #6964

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عِيَاضٌ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيُّ - حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ لَوْ أَنَّكُمْ لَمْ تَكُنْ لَكُمْ ذُنُوبٌ يَغْفِرُهَا اللَّهُ لَكُمْ لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ لَهُمْ ذُنُوبٌ يَغْفِرُهَا لَهُمْ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

محمد بن کعب قرظی نے ابوصرمہ سے ، انہوں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم ایسے ہوتے کہ تمہارے ( نامہ اعمال میں کچھ بھی ) گناہ نہ ہوتے جن کی اللہ تعالیٰ تمہارے لیے بخشش فرماتا تو وہ ایسی قوم کو ( اس دنیا میں ) لے آتا جن کے گناہ ہوتے اور وہ ان کے لیے ان ( گناہوں ) کی مغفرت فرماتا ۔

English Translation

Abu Ayyub Ansari reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:If you were not to commit sins, Allah would have swept you out of existence and would have replaced you by another people who have committed sin, and then asked forgiveness from Allah, and He would have granted them pardon

Reference: Sahih Muslim 50:12

Hadith #6965

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ جَعْفَرٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَذَهَبَ اللَّهُ بِكُمْ وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ فَيَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم ( لوگ ) گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ تم کو ( اس دنیا سے ) لے جائے اور ( تمہارے بدلے میں ) ایسی قوم کو لے آئے جو گناہ کریں اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگیں تو وہ ان کی مغفرت فرمائے ۔

English Translation

Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) having said:By Him in Whose Hand is my life, if you were not to commit sin, Allah would sweep you out of existence and He would replace (you by) those people who would commit sin and seek forgiveness from Allah, and He would have pardoned them

Reference: Sahih Muslim 50:13

Hadith #6966

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَقَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ، بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ حَنْظَلَةَ الأُسَيِّدِيِّ، قَالَ - وَكَانَ مِنْ كُتَّابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ - لَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ كَيْفَ أَنْتَ يَا حَنْظَلَةُ قَالَ قُلْتُ نَافَقَ حَنْظَلَةُ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا تَقُولُ قَالَ قُلْتُ نَكُونُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ حَتَّى كَأَنَّا رَأْىَ عَيْنٍ فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَافَسْنَا الأَزْوَاجَ وَالأَوْلاَدَ وَالضَّيْعَاتِ فَنَسِينَا كَثِيرًا قَالَ أَبُو بَكْرٍ فَوَاللَّهِ إِنَّا لَنَلْقَى مِثْلَ هَذَا ‏.‏ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ نَافَقَ حَنْظَلَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَمَا ذَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَكُونُ عِنْدَكَ تُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ حَتَّى كَأَنَّا رَأْىَ عَيْنٍ فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ عَافَسْنَا الأَزْوَاجَ وَالأَوْلاَدَ وَالضَّيْعَاتِ نَسِينَا كَثِيرًا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنْ لَوْ تَدُومُونَ عَلَى مَا تَكُونُونَ عِنْدِي وَفِي الذِّكْرِ لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلاَئِكَةُ عَلَى فُرُشِكُمْ وَفِي طُرُقِكُمْ وَلَكِنْ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ‏.‏

Urdu Translation

جعفر بن سلیمان نے سعید بن ایاس جریری سے ، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے اور انہوں نے حضرت حنظلہ ( بن ربیع ) اُسیدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا ۔ ۔ اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبوں میں سے تھے ۔ ۔ کہا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور دریافت کیا : حنظلہ! آپ کیسے ہیں؟ میں نے کہا : حنظلہ منافق ہو گیا ہے ، ( حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ) کہا : سبحان اللہ! تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں ، آپ ہمیں جنت اور دوزخ کی یاد دلاتے ہیں حتی کہ ایسے لگتے ہیں گویا ہم ( انہیں ) آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ، پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سے نکلتے ہیں تو بیویوں ، بچوں اور کھیتی باڑی ( اور دوسرے کام کاج ) کو سنبھالنے میں لگ جاتے ہیں اور بہت سی چیزیں بھول بھلا جاتے ہیں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم! یہی کچھ ہمیں بھی پیش آتا ہے ، پھر میں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ چل پڑے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! حنظلہ منافق ہو گیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ کیا معاملہ ہے؟ " میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! ہم آپ کے پاس حاضر ہوتے ہیں ، آپ ہمیں جنت اور دوزخ کی یاد دلاتے ہیں ، تو حالت یہ ہوتی ہے گویا ہم ( جنت اور دوزخ کو ) اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور جب ہم آپ کے ہاں سے باہر نکلتے ہیں تو بیویوں ، بچوں اور کام کاج کی دیکھ بھال میں لگ جاتے ہیں ۔ ۔ ہم بہت کچھ بھول جاتے ہیں ۔ ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار ارشاد فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت میں رہو جس طرح میرے پاس ہوتے اور ذکر میں لگے رہو تو تمہارے بچھونوں پر اور تمہارے راستوں میں فرشتے ( آ کر ) تمہارے ساتھ مصافحے کریں ، لیکن اے حنظلہ! کوئی گھڑی کسی طرح ہوتی ہے اور کوئی گھڑی کسی ( اور ) طرح ۔

English Translation

Hanzala Usayyidi, who was amongst the scribes of Allah's Messenger (ﷺ). reported:I met Abu Bakr. He said: Who are you? He (Hanzala) said: Hanzala has turned to be a hypocrite. He (Abu Bakr) said: Hallowed be Allah, what are you saying? Thereupon he said: I say that when we are in the company of Allah's Messenger (ﷺ) we ponder over Hell-Fire and Paradise as if we are seeing them with our very eyes and when we are away from Allah's Messenger (ﷺ) we attend to our wives, our children, our business; most of these things (pertaining to After-life) slip out of our minds. Abu Bakr said: By Allah, I also experience the same. So I and Abu Bakr went to Allah's Messenger (ﷺ) and said to him: Allah's Messenger, Hanzala has turned to be a hypocrite. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: What has happened to you? I said: Allah's Messenger, when we are in your company, we are reminded of Hell-Fire and Paradise as if we are seeing them with our own eyes, but whenever we go away from you and attend to our wives, children and business, much of these things go out of our minds. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: By Him in Whose Hand is my life, if your state of mind remains the same as it is in my presence and you are always busy in remembrance (of Allah), the Angels will shake hands with you in your beds and in your paths but, Hanzala, time should be devoted (to the worldly affairs) and time (should be devoted to prayer and meditation). He (the Holy Prophet) said this thrice

Reference: Sahih Muslim 50:14

Hadith #6967

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ حَنْظَلَةَ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَعَظَنَا فَذَكَّرَ النَّارَ - قَالَ - ثُمَّ جِئْتُ إِلَى الْبَيْتِ فَضَاحَكْتُ الصِّبْيَانَ وَلاَعَبْتُ الْمَرْأَةَ - قَالَ - فَخَرَجْتُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ وَأَنَا قَدْ فَعَلْتُ مِثْلَ مَا تَذْكُرُ ‏.‏ فَلَقِينَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَافَقَ حَنْظَلَةُ فَقَالَ ‏"‏ مَهْ ‏"‏ ‏.‏ فَحَدَّثْتُهُ بِالْحَدِيثِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَأَنَا قَدْ فَعَلْتُ مِثْلَ مَا فَعَلَ فَقَالَ ‏"‏ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً وَلَوْ كَانَتْ تَكُونُ قُلُوبُكُمْ كَمَا تَكُونُ عِنْدَ الذِّكْرِ لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلاَئِكَةُ حَتَّى تُسَلِّمَ عَلَيْكُمْ فِي الطُّرُقِ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

عبدالصمد کے والد ( عبدالوارث بن سعید ) نے کہا : ہمیں سعید جریری نے ابوعثمان نہدی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ نے ہمیں وعظ فرمایا اور دوزخ کی یاد دلائی ۔ کہا : پھر میں گھر آیا تو بچوں کے ساتھ ہنسی مذاق کیا اور بیوی سے خوش طبعی کی ، پھر میں باہر نکلا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی ، ، میں نے یہی بات ان کو بتائی ۔ انہوں نے کہا : میں نے بھی یہی کیا ہے جس طرح تم نے ذکر کیا ہے ، پھر ہم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! حنظلہ منافق ہو گیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ کیا بات ہے؟ " تو میں نے پوری بات آپ سے عرض کر دی ، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : جس طرح انہوں نے کیا ہے ، میں بھی بالکل یہی کیا ہے ( گھر جا کر بیوی بچوں کے ساتھ مشغول ہو گیا ۔ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " حنظلہ ( یہ ) گھڑی گھڑی کا معاملہ ہے ( ایک گھڑی کسی طرح ہوتی ہے اور دوسری کسی اور طرح ۔ ) اگر تمہارے دل ہر وقت اسی طرح رہیں جیسے تذکیر و تلقین کے وقت ہوتے ہیں تو تمہارے ساتھ فرشتے مصافحے کریں حتی کہ راستوں میں تم کو سلام کہیں ۔

English Translation

Hanzala reported:We were in the company of Allah's Messenger (ﷺ) and he delivered to us a sermon and made a mention of Hell-Fire. Then I came to my house and began to laugh with my children and sport with my wife. (Hanzala) further reported: I went out and met Abu Bakr and made a mention of that to him. Thereupon he said: I have done the same as you have mentioned. So we went to see Allah's Messenger (ﷺ) and said to him: Allah's Messenger, Hanzala has turned to he a hypocrite. And he (the Holy Prophet) said Show respite. And then I narrated to him the story, and Abu Bakr said: I have done the same as he has done. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Hanzala, there is a time for worldly affairs and a time for (worship and devotion), and if your state of mind is always the same as it is at the time of remembrance of Allah, the Angels would shake hands with you and would greet you on the path by saying: As-Salamu-Alaikum

Reference: Sahih Muslim 50:15

Hadith #6968

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ حَنْظَلَةَ التَّمِيمِيِّ الأُسَيِّدِيِّ الْكَاتِبِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَّرَنَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا ‏.‏

Urdu Translation

سفیان نے سعید جریری سے ، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے اور انہوں نے حضرت حنظلہ تمیمی اُسیدی کاتب ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور آپ ہمیں جنت اور دوزخ کی یاد دلاتے ۔ ۔ ۔ پھر ان دونوں ( جعفر بن سلیمان اور عبدالوارث بن سعید ) کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔

English Translation

Hanzala Taimi Ufayyidi, the scribe of Allah's Messenger (ﷺ), reported:We were in the presence of Allah's Messenger (ﷺ) and he brought to our minds the problems pertaining to Paradise and Hell-Fire. The rest of the hadith is the same

Reference: Sahih Muslim 50:16

Hadith #6969

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِي الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابِهِ فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

مغیرہ حزامی نے ابوزناد سے ، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کو پیدا فرمایا تو اپنی کتاب میں لکھ دیا اور وہ ( کتاب ) عرش کے اوپر اس کے پاس ہے : یقینا میری رحمت میرے غضب پر غالب ہو گی ۔

English Translation

Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:When Allah created the creation as He was upon the Throne, He put down in His Book: Verily, My mercy predominates My wrath

Reference: Sahih Muslim 50:17

Hadith #6970

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِي ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

سفیان بن عیینہ نے ابوزناد سے ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ عزوجل نے فرمایا : میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے ۔

English Translation

Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Allah, the Exalted and Glorious, said: My mercy excels My wrath

Reference: Sahih Muslim 50:18

Hadith #6971

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَطَاءِ، بْنِ مِينَاءَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابِهِ عَلَى نَفْسِهِ فَهُوَ مَوْضُوعٌ عِنْدَهُ إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

عطاء بن مینا نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کے بارے میں فیصلہ فرما لیا تو اس نے اپنی کتاب میں اپنے اوپر لازم کرتے ہوئے لکھ دیا ، وہ اس کے پاس رکھی ہوئی ہے : یقینا میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے گی ۔

English Translation

Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When Allah created the creation, He ordained for Himself and this document is with Him: Verily, My mercy predominates Mv wrath

Reference: Sahih Muslim 50:19

Hadith #6972

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ جَعَلَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْءٍ فَأَمْسَكَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ وَأَنْزَلَ فِي الأَرْضِ جُزْءًا وَاحِدًا فَمِنْ ذَلِكَ الْجُزْءِ تَتَرَاحَمُ الْخَلاَئِقُ حَتَّى تَرْفَعَ الدَّابَّةُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَهُ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

سعید بن مسیب نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " اللہ تعالیٰ نے رحمت کے ایک سو حصے کیے ، ننانوے حصے اپنے پاس روک کر رکھ لیے اور ایک حصہ زمین پر اتارا ، اسی ایک حصے میں سے مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے حتی کہ ایک چوپایہ اس ڈر سے اپنا سم اپنے بچے اوپر اٹھا لیتا ہے کہ کہیں اس کو لگ نہ جائے ۔

English Translation

Abu Huraira reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: Allah created mercy in one hundred parts and He retained with Him ninety-nine parts, and He has sent down upon the earth one part, and it is because of this one part that there is mutual love among the creation so much so that the animal lifts up its hoof from its young one, fearing that it might harm it

Reference: Sahih Muslim 50:20

Hadith #6973

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ خَلَقَ اللَّهُ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَوَضَعَ وَاحِدَةً بَيْنَ خَلْقِهِ وَخَبَأَ عِنْدَهُ مِائَةً إِلاَّ وَاحِدَةً ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

علاء کے والد ( عبدالرحمٰن ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کیں ، اس نے ایک رحمت اپنی مخلوق میں رکھی اور ایک کم سو رحمتیں ( آئندہ کے لیے ) اپنے پاس چھپا کر رکھ لیں ۔

English Translation

Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Allah created one hundred (parts of mercy) and He distributed one amongst His creation and kept this one hundred excepting one with Himself (for the Day of Resurrection)

Reference: Sahih Muslim 50:21

Hadith #6974

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ أَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ وَالْبَهَائِمِ وَالْهَوَامِّ فَبِهَا يَتَعَاطَفُونَ وَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَى وَلَدِهَا وَأَخَّرَ اللَّهُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ رَحْمَةً يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

عطاء نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں ، ان میں سے ایک رحمت اس نے جن و انس ، حیوانات اور حشرات الارض کے درمیان نازل فرما دی ، اسی ( ایک حصے کے ذریعے ) سے وہ ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں ، آپس میں رحمت کا برتاؤ کرتے ہیں ، اسی سے وحشی جانور اپنے بچوں پر شفقت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتیں مؤخر کر کے رکھ لی ہیں ، ان سے قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا ۔

English Translation

Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There are one hundred (parts of) mercy for Allah and He has sent down out of these one part of mercy upon the jinn and human beings and animals and the insects, and it is because of this (one part) that they love one another, show kindness to one another and even the beast treats its young one with affection, and Allah has reserved ninety nine parts of mercy with which He would treat His servants on the Day of Resurrection

Reference: Sahih Muslim 50:22

Hadith #6975

حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَمِنْهَا رَحْمَةٌ بِهَا يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ بَيْنَهُمْ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

معاذ نے کہا : ہمیں سلیمان تیمی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ابوعثمان نہدی نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں ، ان میں سے ایک رحمت ہے جس کے ذریعے سے مخلوق آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے اور ننانوے ( رحمتیں ) قیامت کے دن کے لیے ( محفوظ ) ہیں ۔

English Translation

Salman Farisi reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Verily, there are one hundred (parts of) mercy for Allah, and it is one part of this mercy by virtue of which there is mutual love between the people and ninety-nine reserved for the Day of Resurrection

Reference: Sahih Muslim 50:23

Hadith #6976

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏

Urdu Translation

معتمر نے اپنے والد ( سلیمان تیمی ) سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔

English Translation

This hadith has been transmitted on the authority of Mu'tamir, reported on the authority of his father

Reference: Sahih Muslim 50:24

Hadith #6977

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ مِائَةَ رَحْمَةٍ كُلُّ رَحْمَةٍ طِبَاقَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ فَجَعَلَ مِنْهَا فِي الأَرْضِ رَحْمَةً فَبِهَا تَعْطِفُ الْوَالِدَةُ عَلَى وَلَدِهَا وَالْوَحْشُ وَالطَّيْرُ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَكْمَلَهَا بِهَذِهِ الرَّحْمَةِ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

داود بن ابی ہند نے ابو عثمان سے اور انہوں نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بےشک اللہ تعالیٰ نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس دن اس نے سو رحمتیں پیدا کیں ، ہر رحمت آسمانوں اور زمین کےدرمیان کی وسعت کے برابر ہے ، اس نے ان میں سے ایک رحمت زمین میں رکھی ، اسی رحمت کی وجہ سے والدہ اپنی اولاد پر رحمت کرتی ہے اور وحشی جانور اور پرندے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت کا سلوک کرتے ہیں ، جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں کو اس رحمت کے ساتھ ملا کر پوری ( سو ) کرے گا ( اور بندوں کے ساتھ سو فیصد رحمت کا سلوک فرمائے گا ۔)

English Translation

Salman reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Verily, Allah created, on the same very day when He created the heavens and the earth, one hundred parts of mercy. Every part of mercy is coextensive with the space between the heavens. and the earth and He out of this mercy endowed one part to the earth and it is because of this that the mother shows affection to her child and even the beasts and birds show kindness to one another and when there would be the Day of Resurrection, Allah would make full (use of Mercy)

Reference: Sahih Muslim 50:25

Hadith #6978

حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ، - وَاللَّفْظُ لِحَسَنٍ - حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ قَالَ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسَبْىٍ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ السَّبْىِ تَبْتَغِي إِذَا وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْىِ أَخَذَتْهُ فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا وَأَرْضَعَتْهُ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتَرَوْنَ هَذِهِ الْمَرْأَةَ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا لاَ وَاللَّهِ وَهِيَ تَقْدِرُ عَلَى أَنْ لاَ تَطْرَحَهُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے ، ان قیدیوں میں سے ایک عورت کسی کو تلاش کر رہی تھی ، اچانک قیدیوں میں سے اس ایک کو بچہ مل گیا ، اس نے بچے کو اٹھا کر پیٹ سے چمتا لیا اور اس کو دودھ پلانے لگی ، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : " کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ " ہم نے کہا : اللہ کی قسم! اگر اس کے بس میں ہو کہ اسے نہ پھینکے ( تو ہرگز نہیں پھینکے گی ۔ ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جتنا اس عورت کو اپنے بچے کے ساتھ ہے ۔

English Translation

Umar b. Khattab reported that there were brought some prisoners to Allah's Messenger (ﷺ) amongst whom there was also a woman, who was searching (for someone) and when she found a child amongst the prisoners, she took hold of it, pressed it against her chest and provided it suck. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said:Do you think this woman would ever afford to throw her child in the Fire? We said: By Allah, so far as it lies in her power, she would never throw the child in Fire. ' Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Allah is more kind to His servants than this woman is to her child

Reference: Sahih Muslim 50:26

Hadith #6979

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ مَا قَنِطَ مِنْ جَنَّتِهِ أَحَدٌ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر مومن کو یہ علم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سزا کیا ہے تو کوئی شخص اس کی جنت کی امید ہی نہ رکھے ، اور اگر کافر کو یہ پتہ چل جائے کہ اللہ کے پاس رحمت کس قدر ہے تو کوئی ایک بھی اس کی جنت سے مایوس نہ ہو ۔

English Translation

Ala' reported on the authority of his father who reported on the authority of Abu Huraira that Allah's Messenger (ﷺ) said:If a believer were to know the punishment (in Hell) none would have the audacity to aspire for Paradise (but he would earnestly desire to be rescued from Hell), and if a non-believer were to know what is there with Allah as a mercy. none would have been disappointed in regard to Paradise

Reference: Sahih Muslim 50:27

Hadith #6980

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقِ ابْنِ بِنْتِ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ قَالَ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ حَسَنَةً قَطُّ لأَهْلِهِ إِذَا مَاتَ فَحَرِّقُوهُ ثُمَّ اذْرُوا نِصْفَهُ فِي الْبَرِّ وَنِصْفَهُ فِي الْبَحْرِ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَيُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا لاَ يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ فَلَمَّا مَاتَ الرَّجُلُ فَعَلُوا مَا أَمَرَهُمْ فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَرَّ فَجَمَعَ مَا فِيهِ وَأَمَرَ الْبَحْرَ فَجَمَعَ مَا فِيهِ ثُمَّ قَالَ لِمَ فَعَلْتَ هَذَا قَالَ مِنْ خَشْيَتِكَ يَا رَبِّ وَأَنْتَ أَعْلَمُ ‏.‏ فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک آڈمی جس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی ، اپنے گھر والوں سے کہا : جب وہ مرے تو اسے جلا دیں ، پھر اس کا آدھا حصہ ( ۃواؤں میں اڑا کر ) خشکی پر بکھیر دیں اور آدھا حصہ سمندر میں بہا دیں ، کیونکہ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اسے قابو کر لیا تو اس کو ضرور بالضرور ایسا عذاب دے گا جو تمام جہانوں میں سے کسی کو نہیں دے گا ، چنانچہ جب وہ آدمی مر گیا تو انہوں نے وہی کیا جس کا اس نے حکم دیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے خشکی کو حکم دیا ، اس شخص کا جو بھی حسہ اس ( خشکی ) میں تھا اس نے اس کو اکٹھا کر دیا اور سمندر کو حکم تو جو کچھ اس میں تھا اس نے اکٹھا کر دیا ، پھر ( اللہ نے ) اس سے پوچھا : تم نے ایسا کیوں کیا تھا؟ اس نے کہا : میرے رب! تیرے ڈر سے ( ایسا کیا تھا ) اور تو سب سے زیادہ جاننے والا ہے ( کہ میری بات سچ ہے ) تو اللہ نے ( اس سچی خشیت کی بنا پر ) اسے بخش دیا ۔

English Translation

Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying that a person who had never done any good deed asked the members of his family to burn his dead body when he would die and to scatter half of its ashes over the land and half in the ocean. By Allah, if Allah finds him in His grip, He would torment him with a torment with which He did not afflict anyone amongst the people of the world; and when the person died, it was done to him as he had commanded (his family) to do. Allah commanded the land to collect (the ashes scattered on it) and He commanded the ocean and that collected (ashes) contained in it. Allah questioned him why he had done. that He said:My Lord, it is out of Thine fear that I have done it and Thou art well aware of it, and Allah granted him pardon:

Reference: Sahih Muslim 50:28

Hadith #6982

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ قَالَ لِيَ الزُّهْرِيُّ أَلاَ أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثَيْنِ عَجِيبَيْنِ قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَسْرَفَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْصَى بَنِيهِ فَقَالَ إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اسْحَقُونِي ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَىَّ رَبِّي لَيُعَذِّبُنِي عَذَابًا مَا عَذَّبَهُ بِهِ أَحَدًا ‏.‏ قَالَ فَفَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ فَقَالَ لِلأَرْضِ أَدِّي مَا أَخَذْتِ ‏.‏ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ فَقَالَ لَهُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ فَقَالَ خَشْيَتُكَ يَا رَبِّ - أَوْ قَالَ - مَخَافَتُكَ ‏.‏ فَغَفَرَ لَهُ بِذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَحَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ دَخَلَتِ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا فَلاَ هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلاَ هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ هَزْلاً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ ذَلِكَ لِئَلاَّ يَتَّكِلَ رَجُلٌ وَلاَ يَيْأَسَ رَجُلٌ ‏.‏

Urdu Translation

معمر نے کہا : زہری نے مجھ سے کہا : کیا میں تمہیں دو عجیب حدیثیں نہ سناؤں؟ ( پھر ) زہری نے کہا : مجھے حمید بن عبدالرحمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک شخص نے اپنے آپ پر ہر قسم کی زیادتی کی ( ہر گناہ کا ارتکاب کر کے خود کو مجرم بنایا ۔ ) تو جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی اور کہا : جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا ، پھر مجھے ریزہ ریزہ کر دینا ، پھر مجھے ہوا میں ، سمندر میں اڑا دینا ۔ اللہ کی قسم! اگر میرے رب نے مجھے قابو کر لیا تو مجھے یقینا ایسا عذاب دے گا جو کسی اور کو نہ دیا ہو گا ۔ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " انہوں نے اس کے ساتھ یہی کیا ۔ تو اللہ نے زمین سے کہا : جو تو نے لیا پورا واپس کر ، تو وہ ( پورے کا پورا سامنے ) کھڑا تھا ۔ اللہ نے اس سے فرمایا : تو نے جو کیا اس پر تمہیں کس چیز نے اکسایا؟ اس نے کہا : میرے پروردگار! تیری خشیت نے ۔ ۔ یا کہا ۔ ۔ : تیرے خوف نے تو اسی ( بات ) کی بنا پر اس ( اللہ ) نے اسے بخش دیا ۔

English Translation

Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying that a person committed sin beyond measure and when he was going to die, he left this will:(When I die), bum my dead body and then cast them (the ashes) to the wind and in the ocean. By Allah, if my Lord takes hold of me, He would torment me as He has not tormented anyone else. They did as he had asked them to do. He (the Lord) said to the earth: Return what you have taken. And he was thus restored to his (original form). He (Allah) said to him: What prompted you to do this? He said: My Lord, it was Thine fear or Thine awe, and Allah pardoned him because of this. Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying that a woman was thrown into Hell-Fire because of a cat whom she had tied and did not provide it with food. nor did she set it free to eat vermin of the earth until it died emaciated. Az-Zuhri said: (These two ahadith) show that a person should neither feel confident (of getting into Paradise) because of his deeds, nor should he lose (all hopes) of getting into Paradise

Reference: Sahih Muslim 50:29

Hadith #6983

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ، سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، قَالَ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ أَسْرَفَ عَبْدٌ عَلَى نَفْسِهِ ‏"‏ ‏.‏ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ إِلَى قَوْلِهِ ‏"‏ فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ حَدِيثَ الْمَرْأَةِ فِي قِصَّةِ الْهِرَّةِ وَفِي حَدِيثِ الزُّبَيْدِيِّ قَالَ ‏"‏ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِكُلِّ شَىْءٍ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا أَدِّ مَا أَخَذْتَ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

زبیدی نے مجھے حدیث سنائی کہ زہری نے کہا : مجھے حُمید بن عبدالرحمان بن عوف نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : "" ایک بندے نے اپنے آپ پر ہر طرح کی زیادتی کی ۔ "" ( آگے ) معمر کی حدیث کی طرح ہے ، اس قول تک : "" پس اللہ نے اسے بخش دیا ۔ "" اور انہوں نے بلی کے واقعے ( کے بارے ) میں عورت والی حدیث کا ذکر نہیں کیا ۔ اور زُبیدی کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ عزوجل نے ہر شے سے ، جس نے اس ( جلائے جانے والے شخص ) کی کوئی بھی چیز لی تھی ، فرمایا : اس کا جو حصہ تیرے پاس ہے پورا واپس کر ۔

English Translation

Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying that a servant transgressed the litnit in committing sins. The rest of the hadith is the same but there is no mention of the story of the cat in it and in the hadith transmitted on the authority of Ziibaidl (the words are):" Allah, the Exalted and Glorious, said to everything which had taken a part of lies ashes to return what it had taken

Reference: Sahih Muslim 50:30

Hadith #6984

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنَّ رَجُلاً فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَاشَهُ اللَّهُ مَالاً وَوَلَدًا فَقَالَ لِوَلَدِهِ لَتَفْعَلُنَّ مَا آمُرُكُمْ بِهِ أَوْ لأُوَلِّيَنَّ مِيرَاثِي غَيْرَكُمْ إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي - وَأَكْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ - ثُمَّ اسْحَقُونِي وَاذْرُونِي فِي الرِّيحِ فَإِنِّي لَمْ أَبْتَهِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا وَإِنَّ اللَّهَ يَقْدِرُ عَلَىَّ أَنْ يُعَذِّبَنِي - قَالَ - فَأَخَذَ مِنْهُمْ مِيثَاقًا فَفَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ وَرَبِّي فَقَالَ اللَّهُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ فَقَالَ مَخَافَتُكَ ‏.‏ قَالَ فَمَا تَلاَفَاهُ غَيْرُهَا ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عقبہ بن عبدالغافر کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہے تھے : " تم سے پہلے کے لوگوں میں سے ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال اور اولاد سے نوازا تھا ۔ اس نے اپنے بچوں سے کہا : ہر صورت وہی کچھ کرو گے جس کا میں تمہیں حکم دے رہا ہوں ، یا میں اپنا ورثہ دوسروں کے سپرد کر دوں گا ، جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دو ۔ ۔ اور مجھے زیادہ یہ لگتا ہے کہ قتادہ نے کہا ۔ ۔ پھر مجھے کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دو ، پھر مجھے ہوا میں اڑا دو کیونکہ میں نے اللہ کے ہاں کوئی اچھائی ذخیرہ نہیں کی ۔ اللہ مجھ پر پوری قدرت رکھتا ہے کہ مجھے عذاب دے ۔ کہا : اس نے ان ( اپنی اولاد ) سے پختہ عہد و پیمان لیا ، تو میرے رب کی قسم! انہوں نے اس کے ساتھ وہی کیا ( جو اس نے کہا تھا ۔ ) اللہ تعالیٰ نے پوچھا : تم نے جو کچھ کیا اس پر تمہیں کس نے اکسایا؟ اس نے کہا : تیرے خوف نے ۔ فرمایا : پھر اسے اس کے سوا ( جو وہ بھگت چکا تھا ، یعنی لاش کا جلنا اور اللہ کے سامنے پیشی وغیرہ ) اور کوئی عذاب نہ ہوا ۔

English Translation

Abu Sa'id Khudri reported that Allah's Messenger (ﷺ) said that a person amongst the earlier nations before you was conferred property and children by Allah, He said to his children:'You must do as I command you to do, otherwise I will make others besides you as my inheritors. As I die, burn my body and blow my ashes in the wind as I do not find any merit of mine which would please Allah, and if Allah were to take hold of me, He would punish me. He took a pledge from them and they did as he commanded thein to do. Allah said: What prompted you to do this? He said: My Lord. Thine fear, and Allah did not punish him at all

Reference: Sahih Muslim 50:31

Hadith #6985

وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ قَالَ لِي أَبِي حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، كِلاَهُمَا عَنْ قَتَادَةَ، ذَكَرُوا جَمِيعًا بِإِسْنَادِ شُعْبَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِ وَفِي حَدِيثِ شَيْبَانَ وَأَبِي عَوَانَةَ ‏"‏ أَنَّ رَجُلاً مِنَ النَّاسِ رَغَسَهُ اللَّهُ مَالاً وَوَلَدًا ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ التَّيْمِيِّ ‏"‏ فَإِنَّهُ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَسَّرَهَا قَتَادَةُ لَمْ يَدَّخِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ شَيْبَانَ ‏"‏ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا ابْتَأَرَ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ ‏"‏ مَا امْتَأَرَ ‏"‏ ‏.‏ بِالْمِيمِ ‏.‏

Urdu Translation

سلیمان ، شیبان بن عبدالرحمٰن اور ابوعوانہ سب نے قتادہ سے شعبہ کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔ شیبان اور ابوعوانہ کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں : "" لوگوں میں سے ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ نے بہت مال اور اولاد سے نوازا ۔ "" اور تمیمی کی حدیث میں ہے : "" اس نے اللہ کے پاس کوئی اچھائی جمع نہ کرائی "" کہا کہ قتادہ نے اس کی یہ تشریح کی : اس نے اللہ کے پاس کوئی اچھائی ذخیرہ نہ کی ۔ اور شیبان کی حدیث میں ہے : "" بےشک اس نے ، اللہ کی قسم! اللہ کے ہاں کوئی نیکی محفوظ نہ کرائی ۔ "" اور ابوعوانہ کی حدیث میں ہے : "" اس نے کچھ جمع نہ کیا "" امتار میم کے ساتھ ( یہ سب بولنے میں بھی ملتے جلتے الفاظ ہیں اور معنی میں بھی ۔)

English Translation

This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the chain of transmitters but with a slight variation of wording and Qatada explained the word" lam yasiru" as:" I find no good in store for rxie in the eye of Allah

Reference: Sahih Muslim 50:32

Hadith #6986

حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِيمَا يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ ‏"‏ أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا فَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ‏.‏ فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ‏.‏ ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ فَقَالَ أَىْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ‏.‏ فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَبْدِي أَذْنَبَ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ‏.‏ ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ فَقَالَ أَىْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ‏.‏ فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ الأَعْلَى لاَ أَدْرِي أَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ ‏"‏ اعْمَلْ مَا شِئْتَ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

عبدالاعلیٰ بن حماد نے مجھے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں حماد بن سلمہ نے اسحٰق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب عزوجل سے نقل کرتے ہوئے فرمایا : "" ایک بندے نے گناہ کیا ، اس نے کہا : اے اللہ! میرا گناہ بخش دے ، تو ( اللہ ) تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : میرے بندے نے گناہ کیا ہے ، اس کو پتہ ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ معاف بھی کرتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے ، اس بندے نے پھر گناہ کیا تو کہا : میرے رب! میرا گناہ بخش دے ، تو ( اللہ ) تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : میرا بندہ ہے ، اس نے گناہ کیا ہے تو اسے معلوم ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ بخش دیتا ہے اور ( چاہے تو ) گناہ پر پکڑتا ہے ۔ اس بندے نے پھر سے وہی کیا ، گناہ کیا اور کہا : میرے رب! میرے لیے میرا گناہ بخش دے ، تو ( اللہ ) تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : میرے بندے نے گناہ کیا تو اسے معلوم ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور ( چاہے تو ) گناہ پر پکڑ لیتا ہے ، ( میرے بندے! اب تو ) جو چاہے کر ، میں نے تجھے بخش دیا ہے ۔ "" عبدالاعلیٰ نے کہا : مجھے ( پوری طرح ) معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار فرمایا یا چوتھی بار : "" جو چاہے کر ۔

English Translation

Abu Huraira reported from Allah's Messenger (ﷺ) that his Lord, the Exalted and Glorious, thus said. A servant committed a sin and he said:O Allah, forgive me my sins, and Allah (the Exalted and Glorious) said: My servant commited a sin and then he came to realise that he has a Lord Who forgives the sins and takes to account (the sinner) for the sin. He then again committed a sin and said: My Lord, forgive me my sin, and Allah, the Exalted and High, said: My servant committed a sin and then came to realise that he has a Lord Who would forgive his sin or would take (him) to account for the sin. He again committed a sin and said: My Lord, forgive me for my sin, and Allah (the Exalted and High) said: My servant sas committed a sin and then came to realise that he has a Lord Who forgives the sins or takes (him) to account for sin. O servant, do what you like. I have granted you forgiveness. 'Abd al-A'la said: I do not know whether he said thrice or four times to do" what you desire

Reference: Sahih Muslim 50:33

Hadith #6987

قَالَ أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجُويَهْ الْقُرَشِيُّ الْقُشَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏

Urdu Translation

محمد بن زنجویہ قشیری نے کہا : ہمیں عبدالاعلیٰ بن حماد نرسی نے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔

English Translation

The hadlth has been narrated on the authority of 'Abd al-A'la b. Hammad with the same chain of transmitters

Reference: Sahih Muslim 50:34

Hadith #6988

حَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ قَاصٌّ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ - قَالَ - فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ عَبْدًا أَذْنَبَ ذَنْبًا ‏"‏ ‏.‏ بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ‏.‏ وَذَكَرَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ‏"‏ أَذْنَبَ ذَنْبًا ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الثَّالِثَةِ ‏"‏ قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي فَلْيَعْمَلْ مَا شَاءَ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

ہمام نے کہا : ہمیں اسحٰق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مدینہ میں ایک واعظ تھا جسے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کہا جاتا تھا ، میں نے اسے کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " یقینا ایک بندے نے گناہ کیا " ( آگے ) حماد بن سلمہ کی حدیث کے مطابق بیان کیا اور اس نے " گناہ کیا " ( کے الفاظ ) تین بار کہے اور تیسری دفعہ کے بعد کہا : " میں نے اپنے بندے کو بخش دیا ، لہذا جو چاہے کرے ۔

English Translation

Abu Huraira reported lie heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying that a servant committed a sin. The rest of the hadith is the same, but there is a slight variation of wording

Reference: Sahih Muslim 50:35

Hadith #6991

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ وَلَيْسَ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابووائل ( شقیق ) سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی نہیں جسے مدح ( اس کی رحمت و عنایت کا اقرار اور اس پر اس کی تعریف ) پسند ہو ، اسی لیے اس نے خود اپنی مدح فرمائی ہے اور کوئی نہیں جو اللہ سے بڑھ کر غیرت مند ہو ، اسی لیے اس نے بے حیائی کے تمام کام ، ان میں سے جو ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں ، حرام کر دیے ہیں ۔

English Translation

Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Nothing is more loveable to Allah than His praise as He has praised Himself and no one is more self-respecting than Allah Himself and it As because of this that He has prohibited abominable acts

Reference: Sahih Muslim 50:37

Hadith #6992

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلاَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن نمیر اور ابومعاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے شقیق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ سے بڑھ کر کوئی غیور نہیں ہے ، اسی لیے اس نے بے حیائی کے تمام کام ، ان میں سے جو ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں حرام کر دیے ہیں ، اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے جسے مدح زیادہ پسند ہو ۔

English Translation

Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None is more self-respectidg than Allah and it is because of this that He has prohibited abominable acts-both visible and invisible-and none loves His praise more than Allah Himself

Reference: Sahih Muslim 50:38

Hadith #6993

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ قُلْتُ لَهُ آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ نَعَمْ وَرَفَعَهُ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ لاَ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلاَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ وَلِذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

عمرو بن مرہ نے کہا : میں نے ابووائل کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ، وہ کہتے تھے ۔ ۔ ( عمرو بن مرہ نے ) کہا : میں نے ان ( ابووائل ) سے کہا : کیا آپ نے خود عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا تھا؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ اور انہوں نے اسے مرفوعا بیان کیا : ۔ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں ، اسی لیے اس نے تمام کھلی اور پوشیدہ فواحش ( بے حیائی کی باتیں ) حرام کر دیں اور اللہ سے بڑھ کر کسی کو مدح پسند نہیں ( کیونکہ حقیقت میں وہی مدح کا حقدار ہے ) ، اسی لیے اس نے اپنی مدح فرمائی ہے ۔

English Translation

Abdullah b. Mas'ud reported it directly from Allah's Messenger (ﷺ) that he said:None is more self-respecting than Allah and it is because of this that He has prohibited abominable acts-both visible and invisible and nothing is loved by Allah more than the praise of His Ownself and it is because of this that He has praised Himself

Reference: Sahih Muslim 50:39

Hadith #6994

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ وَلَيْسَ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ وَلَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنَ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ أَنْزَلَ الْكِتَابَ وَأَرْسَلَ الرُّسُلَ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

عبدالرحمٰن بن یزید نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی نہیں جسے اللہ سے بڑھ کر مدح پسند ہو ، اسی بنا پر اس نے اپنی مدح فرمائی اور کوئی نہیں جو اللہ سے بڑھ کر غیرت مند ہو ، اسی بنا پر اس نے تمام فواحش حرام کر دیں اور کوئی نہیں جسے اللہ سے بڑھ کر ( بندوں کا اس سے ) معذرت کرنا پسند ہو ، اسی بنا پر اس نے کتاب نازل فرمائی اور پیغمبروں کو بھیجا ۔

English Translation

Abdullah b. Mas'ud reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:None loves one's own praise more than Allah, the Exalted and Glurious, does. It is because of this that He has praised Himself, and none is more self-respecting than Allah and it is because of this that He has prohibited abominable acts and there is none who is more anxious to accept the apologies of the people than Allah Himself and it is because of this that He has revealed the Book and sent the Messengers

Reference: Sahih Muslim 50:40

Hadith #6995

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي، عُثْمَانَ قَالَ قَالَ يَحْيَى وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ يَغَارُ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَغَارُ وَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

حجاج بن ابی عثمان نے کہا : یحییٰ ( بن ابی کثیر ) نے کہا : مجھے ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ غیرت فرماتا ہے اور بےشک مومن بھی غیرت کرتا ہے ۔ اللہ کی غیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ مومن ایسے کام کا ارتکاب کرے جو اس نے اس پر حرام کیا ہے ۔

English Translation

Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Allah is self-respecting and a believer is also self-respecting and the respect of Allah is injured if a believer does what He has forbidden him to do

Reference: Sahih Muslim 50:41

Hadith #6996

قَالَ يَحْيَى وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا، سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لَيْسَ شَىْءٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

یحییٰ نے کہا : مجھے ابوسلمہ نے حدیث بیان کی ، انہٰن عروہ بن زبیر نے بیان کیا ، انہیں حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے حدیث سنائی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : " کوئی نہیں جو اللہ عزوجل سے زیادہ غیرت مند ہو ۔

English Translation

This hadith has been narrated on the authority of Asma' daughter of Abu Bakr, through another chain of transmitters

Reference: Sahih Muslim 50:42

Hadith #6997

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، وَحَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِ رِوَايَةِ حَجَّاجٍ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ خَاصَّةً وَلَمْ يَذْكُرْ حَدِيثَ أَسْمَاءَ ‏.‏

Urdu Translation

ابان بن یزید اور حرب بن شداد نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے ابوسلمہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حجاج کی روایت کے مانند صرف حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی حدیث کا ذکر نہیں کیا ۔

English Translation

Abu Salama reported from Abu Huraira that he narrated that Allah's Messenger (may peace be upon hin) said:There is none more self-respecting than Allah, the Exalted and Glorious There is no mention of the narration of Asma

Reference: Sahih Muslim 50:43

Hadith #6998

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى، بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ لاَ شَىْءَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

ہشام نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے ابوسلمہ سے ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ عزوجل سے بڑھ کر کوئی غیور نہیں ہے ۔

English Translation

Asma' reported that Allah's Apostle (ﷺ) said:There is none more self-respecting than Allah, the Exalted and Glorious

Reference: Sahih Muslim 50:44

Hadith #6999

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْمُؤْمِنُ يَغَارُ وَاللَّهُ أَشَدُّ غَيْرًا ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

عبدالعزیز بن محمد نے علاء سے ، انہوں نے اپنے والد ( عبدالرحمٰن ) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن ( دوسرے ) مومن کے لیے غیرت کرتا ہے ( کہ اس کی حرمت پامال نہ کی جائے ) اور اللہ تعالیٰ تو غیرت میں اس سے بڑھ کر ہے ۔

English Translation

Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him ) as saying:A believer is self-respecting and Allah is extremely self-respecting

Reference: Sahih Muslim 50:45

Hadith #7000

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ الْعَلاَءَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏

Urdu Translation

شعبہ نے کہا : میں نے علاء کو اسی سند کے ساتھ ( یہی حدیث بیان کرتے ہوئے ) سنا ۔

English Translation

This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba through another chain of transmitters

Reference: Sahih Muslim 50:46

Hadith #7001

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ كِلاَهُمَا عَنْ يَزِيدَ، بْنِ زُرَيْعٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كَامِلٍ - حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلاً، أَصَابَ مِنِ امْرَأَةٍ قُبْلَةً فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ - قَالَ - فَنَزَلَتْ ‏{‏ أَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَىِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ‏}‏ قَالَ فَقَالَ الرَّجُلُ أَلِيَ هَذِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏ "‏ لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

یزید نے کہا؛ ہمیں تیمی نے ابوعثمان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے ایک عورت کو بوسہ دیا ، ( پھر ) وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس واقعے کا ذکر کیا ، تب ( یہ آیت ) نازل ہوئی : " دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم رکھو ، بےشک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں ، یہ یاد دہانی ہے یاد رکھنے والوں کے لیے ۔ " اس شخص نے کہا : اللہ کے رسول! کیا یہ ( بشارت ) صرف میرے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میری امت میں سے جو بھی ( گناہوں سے پاک ہونے کے لیے ) اس پر عمل کرے ۔

English Translation

Abdullah b. Mas'ud reported that a person kissed a woman and he came to Allah's Apostle (ﷺ) and made a mention of that to him. It was (on this occasion) that this verse was revealed:" And observe prayer at the (two) ends of the day and in the first hours of the night. Surely, good deeds take away evil deeds. That is a reminder for the mindful" (xi. 115). That person said: Allah's Messenger, does it concern me only? He (the Holy Prophet) said: It concerns every one of my Unimah, who acts according to it

Reference: Sahih Muslim 50:47

Hadith #7002

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَالَجْتُ امْرَأَةً فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَإِنِّي أَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ أَنْ أَمَسَّهَا فَأَنَا هَذَا فَاقْضِ فِيَّ مَا شِئْتَ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ لَقَدْ سَتَرَكَ اللَّهُ لَوْ سَتَرْتَ نَفْسَكَ - قَالَ - فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا فَقَامَ الرَّجُلُ فَانْطَلَقَ فَأَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً دَعَاهُ وَتَلاَ عَلَيْهِ هَذِهِ الآيَةَ ‏{‏ أَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَىِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ‏}‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا لَهُ خَاصَّةً قَالَ ‏"‏ بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

معتمر نے اپنے والد ( سلیمان تیمی ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ابوعثمان نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے ذکر کیا کہ اس نے ایک عورت کو بوسہ دیا ہے یا اس کو ہاتھ سے مس کیا ہے ( یا ایسا ) کوئی اور کام کیا ہے ، گویا کہ وہ اس کے کفار کے متعلق سوال کر رہا ہے ، کہا : تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی ، پھر یزید کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔

English Translation

Abdullah reported that a person came to Allah's Apostle (ﷺ) and said:Allah's Messenger, I sported with a woman in the outskirts of Medina, and I have committed an offence short of fornication. Here I am (before you), kindly deliver verdict about me which you deem fit. Unar said: Allah concealed your fault. You had better conceal it yourself also. Allah's Apostle (ﷺ), however, gave no reply to him. The man stood up and went away and Allah's Apostle (ﷺ) sent a person after him to call him and be recited this verse:" And observe prayer at the ends of the day and in the first hours of the night. Surely, good deeds take away evil deeds. That is a reminder for the mindful" (xi. 115). A person amongst the people said: Allah's Apostle, does it concern this marn only? Thereupon he (the Holy Prophet) said: No, but the people at large

Reference: Sahih Muslim 50:50

Hadith #7003

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، يُحَدِّثُ عَنْ خَالِهِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي الأَحْوَصِ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ مُعَاذٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لِهَذَا خَاصَّةً أَوْ لَنَا عَامَّةً قَالَ ‏ "‏ بَلْ لَكُمْ عَامَّةً ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

جریر نے سلیمان تیمی سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، کہا : ایک شخص نے ایک عورت کے ساتھ زنا سے کم درجے کا کوئی کام کیا ۔ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ، انہوں نے اس کے سامنے اس کو بہت بڑا گناہ قرار دیا ، پھر وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، انہوں نے بھی اس کے لیے اس کو بہت بڑی بات قرار دیا ، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، ( آگے ) یزید اور معتمر کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔

English Translation

This hadith has been transmitted by Abu al-Ahwas and in this (these words are) also found:Mu'adh said: Allah's Messenger, does it concern this particular case or to all of us? And he (the Holy Prophet) said: Of course, to all of you

Reference: Sahih Muslim 50:51

Hadith #7004

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ، مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَنَّهُ أَصَابَ مِنِ امْرَأَةٍ إِمَّا قُبْلَةً أَوْ مَسًّا بِيَدٍ أَوْ شَيْئًا كَأَنَّهُ يَسْأَلُ عَنْ كَفَّارَتِهَا - قَالَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ ‏.‏

Urdu Translation

ابو احوص نے سماک سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے علقمہ اور اسود سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے کہا : اللہ کے رسول! میں نے مدینہ کے آخری حصے میں ایک عورت کو قابو کر لیا اور اس کے علاوہ کہ میں اس سے جماع کروں میں نے اس سے اور سب کچھ حاصل کر لیا ۔ تو ( اب ) میں آپ کے سامنے حاضر ہوں ، آپ میرے بارے میں جو چاہیں فیصلہ کر لیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : اللہ نے تمہارا پردہ رکھا ، کاش! تم خود بھی اپنا پردہ رکھتے ۔ ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا ۔ تو ( کچھ دیر بعد ) وہ شخص اٹھا اور چل دیا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیچھے ایک آدمی بھیج کر اسے بلایا اور اس کے سامنے یہ آیت پڑھی : " دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کرو ، بےشک نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں ۔ یہ ان کے لیے یاددہانی ہے جو اچھی بات کو یاد رکھنے والے ہیں ۔ " اس پر لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : اللہ کے نبی! کیا یہ خاص اسی کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " بلکہ تمام لوگوں کے لیے ہے ۔

English Translation

Ibn Mas'ud reported that a person came to Allah's Messenger (ﷺ) and told him that he had kissed a woman or touched her with his hand or did something like this. He inquired of him about its expiation. It was (on this occasion) that Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse (as mentioned above)

Reference: Sahih Muslim 50:48

Hadith #7005

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ أَصَابَ رَجُلٌ مِنِ امْرَأَةٍ شَيْئًا دُونَ الْفَاحِشَةِ فَأَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَعَظَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَتَى أَبَا بَكْرٍ فَعَظَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ وَالْمُعْتَمِرِ ‏.‏

Urdu Translation

شعبہ نے سماک بن حرب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابراہیم کو اپنے ماموں اسود سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ابو احوص کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ، انہوں نے اپنی حدیث میں کہا : تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ کے رسول! کیا یہ خاص اسی کے لیے ہے یا عمومی طور پر ہم سب کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلکہ تم سب کے لیے عام ہے ۔

English Translation

This hadith has been narrated on the authority of Sulaiman Taimi with the same chain of transmitters that a person had taken liberty with a woman less than fomication. He came to 'Umar b. Khattab and he took it to be a serious offence. Then he came to Abu Bakr and he also took it to be a serious offence. Then he came the Allahs Apostle (ﷺ) and he made a mention of this to him. The rest of the hadith is the same

Reference: Sahih Muslim 50:49

Hadith #7006

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ إِسْحَاقَ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَىَّ - قَالَ - وَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْ فِيَّ كِتَابَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ حَضَرْتَ الصَّلاَةَ مَعَنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قَدْ غُفِرَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی : اللہ کے رسول! میں نے حد ( لگنے والے کام ) کا ارتکاب کر لیا ہے ، مجھ پر حد قائم کیجئے ۔ ( حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : ( تب ) نماز کا وقت آ گیا ، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ۔ جب نماز پڑھ لی تو کہنے لگا : اللہ کے رسول! میں نے حد ( کے قابل گناہ ) کا ارتکاب کیا ہے ، میرے بارے میں اللہ کی کتاب کا ( جو ) فیصلہ ( ہے اسے ) نافذ فرمائیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوا؟ " اس نے عرض کی : ہاں ، فرمایا : " تیرا گناہ بخش دیا گیا ہے ۔

English Translation

Anas reported that a person came to Allah's Apostle (ﷺ) said:Allah's Messenger, I have committed an offence which deserves imposition of haad, so impose it upon me according to the Book of Allah. Thereupon he said: Were you not present with us at the time of prayer? He said: Yes. Thereupon he said: You have been granted pardon

Reference: Sahih Muslim 50:52

Hadith #7007

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ، قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ وَنَحْنُ قُعُودٌ مَعَهُ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَىَّ ‏.‏ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ أَعَادَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَىَّ ‏.‏ فَسَكَتَ عَنْهُ وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلَمَّا انْصَرَفَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَبُو أُمَامَةَ فَاتَّبَعَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ انْصَرَفَ وَاتَّبَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْظُرُ مَا يَرُدُّ عَلَى الرَّجُلِ فَلَحِقَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَىَّ - قَالَ أَبُو أُمَامَةَ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرَأَيْتَ حِينَ خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ أَلَيْسَ قَدْ تَوَضَّأْتَ فَأَحْسَنْتَ الْوُضُوءَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ شَهِدْتَ الصَّلاَةَ مَعَنَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ حَدَّكَ - أَوْ قَالَ - ذَنْبَكَ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

شداد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور ہم بھی آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا تو کہنے لگا : اللہ کے رسول! میں نے حد ( کے قابل گناہ ) کا ارتکاب کر دیا ہے ، لہذا آپ مجھ پر حد قائم کیجئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، اس نے دوبارہ کہا : اللہ کے رسول! میں حد کا مستحق ہو گیا ہوں ، آپ مجھ پر حد قائم کیجئے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، اس نے تیسری بار ( یہی ) کہا تو ( اس وقت ) نماز کی اقامت کہہ دی گئی ۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے ( فارغ ہو کر ) واپس ہوئے تو وہ شخص آپ کے پیچھے چل پڑا ، میں ( بھی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا کہ دیکھوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو کیا جواب دیتے ہیں ۔ وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملا اور کہا : اللہ کے رسول! میں نے حد ( کے قابل گناہ ) کا ارتکاب کیا ہے ، آپ مجھ پر حد قائم فرمائیں ۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا : " ذرا دیکھو : جب تم اپنے گھر سے نکلے تھے تو تم نے وضو کیا تھا اور اچھی طرح وضو کیا تھا؟ " اس نے عرض کی : ہاں ، اللہ کے رسول! ( اچھی طرح وضو کیا تھا ۔ ) فرمایا : " اس کے بعد تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی؟ " اس نے عرض کی : جی ہاں ، اللہ کے رسول! ( حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے فرمایا : " تو یقینا اللہ تعالیٰ نے تمہاری حد ۔ ۔ یا فرمایا ۔ ۔ تمہارے گناہ کو معاف کر دیا ہے ۔

English Translation

Abu Umama reported:We were sitting in the mosque in the company of Allah's Messenger (ﷺ). A person came there and said: Allah's Messenger, I have committed an offence which deserves the imposition of hadd upon me, so impose it upon me. Allah's Messenger (ﷺ) kept silent. He repeated it and said: Allah's Messenger, I have committed an offence which deserves the imposition of hadd upon me, so impose it upon me. He (the Holy Prophet) kept silent, and it was at this time that Iqama was pronounced for prayer (and the prayer was observed). And when Allah's Apostle (ﷺ) had concluded the payer that person followed Allah's Messenger (ﷺ). Abu Umama said: I too followed Allah's Messenger (ﷺ) after he had concluded the prayer, so that I should know what answer he would give to that person. That person remained attached to Allah's Messenger (ﷺ) and said: Allah's Messenger, I have committed an offence which deserves imposition of hadd upon me, so impose it upon me. Abu Umama reported that Allah's Messenger (ﷺ) said to him: Didn't you see that as you got out of the house, you performed ablution perfectly well. He said: Allah's Messenger, of course. I did it. He again said to him: Then you observed prayer along with us. He said: Allah's Messenger, yes, it is so. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said to him: Verily, Allah has exempted you from the imposition of hadd, or he said. From your sin

Reference: Sahih Muslim 50:53

Hadith #7008

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَاهِبٍ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنَّهُ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ لَهُ مِنَ تَوْبَةٍ فَقَالَ لاَ ‏.‏ فَقَتَلَهُ فَكَمَّلَ بِهِ مِائَةً ثُمَّ سَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ عَالِمٍ فَقَالَ إِنَّهُ قَتَلَ مِائَةَ نَفْسٍ فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ فَقَالَ نَعَمْ وَمَنْ يَحُولُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ انْطَلِقْ إِلَى أَرْضِ كَذَا وَكَذَا فَإِنَّ بِهَا أُنَاسًا يَعْبُدُونَ اللَّهَ فَاعْبُدِ اللَّهَ مَعَهُمْ وَلاَ تَرْجِعْ إِلَى أَرْضِكَ فَإِنَّهَا أَرْضُ سَوْءٍ ‏.‏ فَانْطَلَقَ حَتَّى إِذَا نَصَفَ الطَّرِيقَ أَتَاهُ الْمَوْتُ فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلاَئِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلاَئِكَةُ الْعَذَابِ فَقَالَتْ مَلاَئِكَةُ الرَّحْمَةِ جَاءَ تَائِبًا مُقْبِلاً بِقَلْبِهِ إِلَى اللَّهِ ‏.‏ وَقَالَتْ مَلاَئِكَةُ الْعَذَابِ إِنَّهُ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ ‏.‏ فَأَتَاهُمْ مَلَكٌ فِي صُورَةِ آدَمِيٍّ فَجَعَلُوهُ بَيْنَهُمْ فَقَالَ قِيسُوا مَا بَيْنَ الأَرْضَيْنِ فَإِلَى أَيَّتِهِمَا كَانَ أَدْنَى فَهُوَ لَهُ ‏.‏ فَقَاسُوهُ فَوَجَدُوهُ أَدْنَى إِلَى الأَرْضِ الَّتِي أَرَادَ فَقَبَضَتْهُ مَلاَئِكَةُ الرَّحْمَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَتَادَةُ فَقَالَ الْحَسَنُ ذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ لَمَّا أَتَاهُ الْمَوْتُ نَأَى بِصَدْرِهِ ‏.‏

Urdu Translation

ہشام نے قتادہ سے ، انہوں نے ابوصدیق سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص تھا اس نے ننانوے قتل کیے ، پھر اس نے زمین پر بسنے والوں میں سے سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا ( کہ وہ کون ہے ۔ ) اسے ایک راہب کا پتہ بتایا گیا ۔ وہ اس کے پاس آیا اور پوچھا کہ اس نے ننانوے قتل کیے ہیں ، کیا اس کے لیے توبہ ( کی کوئی سبیل ) ہے؟ اس نے کہا : نہیں ۔ تو اس نے اسے بھی قتل کر دیا اور اس ( کے قتل ) سے سو قتل پورے کر لیے ۔ اس نے پھر اہل زمین میں سے سب سے بڑے عالم کے بارے میں دریافت کیا ۔ اسے ایک عالم کا پتہ بتایا گیا ۔ تو اس نے ( جا کر ) کہا : اس نے سو قتل کیے ہیں ، کیا اس کے لیے توبہ ( کا امکان ) ہے؟ اس ( عالم ) نے کہا : ہاں ، اس کے اور توبہ کے درمیان کون حائل ہو سکتا ہے؟ تم فلاں فلاں سرزمین پر چلے جاؤ ، وہاں ( ایسے ) لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں ، تم بھی ان کے ساتھ اللہ کی عبادت میں مشغول ہو جاؤ اور اپنی سرزمین پر واپس نہ آو ، یہ بُری ( باتوں سے بھری ہوئی ) سرزمین ہے ۔ وہ چل پڑا ، یہاں تک کہ جب آدھا راستہ طے کر لیا تو اسے موت آ لیا ۔ اس کے بارے میں رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے جھگڑنے لگے ۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا : یہ شخص توبہ کرتا ہوا اپنے دل کو اللہ کی طرف متوجہ کر کے آیا تھا اور عذاب کے فرشتوں نے کہا : اس نے کبھی نیکی کا کوئی کام نہیں کیا ۔ تو ایک فرشتہ آدمی کے روپ میں ان کے پاس آیا ، انہوں نے اسے اپنے درمیان ( ثالث ) مقرر کر لیا ۔ اس نے کہا : دونوں زمینوں کے درمیان فاصلہ ماپ لو ، وہ دونوں میں سے جس زمین کے زیادہ قریب ہو تو وہ اسی ( زمین کے لوگوں ) میں سے ہو گا ۔ انہوں نے مسافت کو ماپا تو اسے اس زمین کے قریب تر پایا جس کی طرف وہ جا رہا تھا ، چنانچہ رحمت کے فرشتوں نے اسے اپنے ہاتھوں میں لے لیا ۔ "" قتادہ نے کہا : حسن ( بصری ) نے کہا : ( اس حدیث میں ) ہمیں بتایا گیا کہ جب اسے موت نے آ لیا تھا تو اس نے اپنے سینے سے ( گھسیٹ کر ) خود کو ( گناہوں بھری زمین سے ) دور کر لیا تھا ۔

English Translation

Abu Sa'id al-Khudri reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There was a person before you who had killed ninety-nine persons and then made an inquiry about the learned persons of the world (who could show him the way to salvation). He was directed to a monk. He came to him and told him that he had killed ninety-nine persons and asked him whether there was any scope for his repentance to be accepted. He said: No. He killed him also and thus completed one hundred. He then asked about the learned persons of the earth and he was directed to a scholar, and he told him that he had killed one hundred persons and asked him whether there was any scope for his repentance to be accepted. He said: Yes; what stands between you and the repentance? You better go to such and such land; there are people devoted to prayer and worship and you also worship along with them and do not come to the land of yours since it was an evil land (for you). So he went away and he had hardly covered half the distance when death came to him and there was a dispute between the angels of mercy and the angels of punishment. The angels of mercy said: This man has come as a penitant and remorseful to Allah and the angels of punishment said: He has done no good at all. Then there came another angel in the form of a human being in order to decide between them. He said: You measure the land to which he has drawn near. They measured it and found him nearer to the land where he intended to go (the land of piety), and so the angels of mercy took possession of it. Qatada said that Hasan told him that it was said to them that as death approached him, he crawled upon his chest (and managed) to slip in the land of mercy

Reference: Sahih Muslim 50:54

Hadith #7009

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الصِّدِّيقِ النَّاجِيَّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنَّ رَجُلاً قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَجَعَلَ يَسْأَلُ هَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ فَأَتَى رَاهِبًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَيْسَتْ لَكَ تَوْبَةٌ ‏.‏ فَقَتَلَ الرَّاهِبَ ثُمَّ جَعَلَ يَسْأَلُ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَى قَرْيَةٍ فِيهَا قَوْمٌ صَالِحُونَ فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَنَأَى بِصَدْرِهِ ثُمَّ مَاتَ فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلاَئِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلاَئِكَةُ الْعَذَابِ فَكَانَ إِلَى الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ أَقْرَبَ مِنْهَا بِشِبْرٍ فَجُعِلَ مِنْ أَهْلِهَا ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

معاذ بن عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو صدیق ناجی سے سنا ، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی : " ایک شخص نے ننانوے انسان قتل کیے ، پھر اس نے یہ پوچھنا شروع کر دیا : کیا اس کی توبہ ( کی کوئی سبیل ) ہو سکتی ہے؟ وہ ایک راہب کے پاس آیا ، اس سے پوچھا تو اس نے جواب دیا : تیرے لیے کوئی توبہ نہیں ۔ اس نے اس راہب کو ( بھی ) قتل کر دیا ۔ اس کے بعد اس نے پھر سے ( توبہ کے متعلق ) پوچھنا شروع کر دیا ، پھر ایک بستی سے ( دوسری ) بستی کی طرف نکل پڑا جس میں نیک لوگ رہتے تھے ۔ وہ راستے کے کسی حصے میں تھا کہ اسے موت نے آن لیا ، وہ ( اس وقت ) اپنے سینے کے ذریعے سے ( پچھلی گناہوں بھری بستی سے ) دور ہوا ، پھر مر گیا ۔ تو اس کے بارے میں رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں نے آپس میں جھگڑا کیا ۔ تو وہ شخص ایک بالشت برابر نیک بستی کی طرف قریب تھا ، اسے اس بستی کے لوگوں میں سے ( شمار ) کر لیا گیا ۔

English Translation

Abu Sa'id al-Khudri reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying that a man killed ninety-nine persons and then he began to make an inquiry whether there was any way left for him for repentance. He came to a monk and asked him about that, and he said:There is no chance for repentance for you. He killed the monk also and then began to make an inquiry and moved from one village to another village where there lived pious persons, and as he had covered some distance, he was overtaken by death, but he managed to crawl upon his chest (to the side nearer to the place where the pious men lived). He died and then there was a dispute between the angels of mercy and the angels of punishment and (when it was measured) he was found to be nearer to the village where pious persons were living equal to the Space of a span and he was thus included among them

Reference: Sahih Muslim 50:55

Hadith #7010

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ وَزَادَ فِيهِ ‏ "‏ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى هَذِهِ أَنْ تَبَاعَدِي وَإِلَى هَذِهِ أَنْ تَقَرَّبِي ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

شعبہ نے ہمیں قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح معاذ بن معاذ کی حدیث ہے اور اس میں مزید یہ کہا : " تو اللہ نے اس ( گناہگاروں کی بستی ) کو وحی کر دی کہ تو دور ہو جا اور اس ( نیک لوگوں کی بستی ) کو وحی کر دی کہ تو قریب ہو جا ۔

English Translation

This hadith has been narrated on the authority of Qatida with the same chain of transmitters but (with this variation of wording):" Allah commanded the earth (from where) he wanted to come out to move itself away and to the other earth (where he wanted to go) to draw nearer

Reference: Sahih Muslim 50:56

Hadith #7011

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي، بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دَفَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى كُلِّ مُسْلِمٍ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا فَيَقُولُ هَذَا فَكَاكُكَ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

طلحہ بن یحییٰ نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ ( ایک مرحلے پر ) ہر مسلمان کو ایک یہودی یا نصرانی عطا کر دے گا ، پھر فرمائے گا : یہ جہنم سے تمہارے لیے چھٹکارے کا ذریعہ بنے گا ۔

English Translation

Abu Musa' reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:When it will be the Day of Resurrection Allah would deliver to every Muslim a Jew or a Christian and say: That is your rescue from Hell-Fire

Reference: Sahih Muslim 50:57

Hadith #7012

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ عَوْنًا، وَسَعِيدَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ، حَدَّثَاهُ أَنَّهُمَا، شَهِدَا أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَمُوتُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلاَّ أَدْخَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ النَّارَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَاسْتَحْلَفَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَحَلَفَ لَهُ - قَالَ - فَلَمْ يُحَدِّثْنِي سَعِيدٌ أَنَّهُ اسْتَحْلَفَهُ وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَى عَوْنٍ قَوْلَهُ ‏.‏

Urdu Translation

عفان بن مسلم نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ہمام نے قتادہ سے حدیث بیان کی کہ عون ( بن عبداللہ ) اور سعید بن ابی بردہ نے انہیں حدیث بیان کی ، وہ دونوں ابو بردہ کے سامنے موجود تھے جب وہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو اپنے والد سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جو مسلمان بھی فوت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ پر ایک یہودی یا ایک نصرانی کو دوزخ میں داخل کر دیتا ہے ۔ " کہا : عمر بن عبدالعزیز نے حضرت ابوبُردہ کو تین بار اس اللہ کی قسم دی جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں کہواقعی ان کے والد نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی تھی ۔ انہوں نے ان ( عمر بن عبدالعزیز ) کے سامنے قسم کھائی ۔ ( قتادہ نے ) کہا : سعید نے مجھ سے یہ بیان نہیں کیا کہ انہوں نے ان سے قسم لی اور نہ انہوں نے عون کی ( بتائی ہوئی ) بات پر کوئی اعتراض کیا ۔

English Translation

Abu Burda reported on the authority of his father that Allah's Apostle (ﷺ) said:No Muslim would die but Allah would admit in his stead a Jew or a Christian in Hell-Fire. 'Umar b. Abd al-'Aziz took an oath: By One besides Whom there is no god but He, thrice that his father had narrated that to him from Allah's Messenger (ﷺ)

Reference: Sahih Muslim 50:58

Hadith #7013

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ، الْوَارِثِ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ عَفَّانَ وَقَالَ عَوْنُ بْنُ عُتْبَةَ ‏.‏

Urdu Translation

عبدالصمد بن عبدالوارث سے روایت ہے ، کہا : ہمیں ہمام نے خبر دی ، انہوں نے کہا : ہمیں قتادہ نے اسی سند کے ساتھ عفان کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی اور ( عون بن عبداللہ کی نسبت اس کے دادا کی طرف کرتے ہوئے ) کہا : عون بن عتبہ ۔

English Translation

This hadith has been transmitted on the authority of 'Aun b. Utba

Reference: Sahih Muslim 50:59

Hadith #7014

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ الرَّاسِبِيُّ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِذُنُوبٍ أَمْثَالِ الْجِبَالِ فَيَغْفِرُهَا اللَّهُ لَهُمْ وَيَضَعُهَا عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى ‏"‏ ‏.‏ فِيمَا أَحْسِبُ أَنَا ‏.‏ قَالَ أَبُو رَوْحٍ لاَ أَدْرِي مِمَّنِ الشَّكُّ ‏.‏ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَحَدَّثْتُ بِهِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ أَبُوكَ حَدَّثَكَ هَذَا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏

Urdu Translation

(ابوروح ) حرمی بن عمارہ نے کہا : ہمیں شداد ابو طلحہ راسبی نے غیلان بن جریر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابو بردہ سے ، انہوں نے اپنے والد ( حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" قیامت کے دن مسلمانوں میں سے کچھ لوگ پہاڑوں جیسے ( بڑے بڑے ) گناہ لے کر آئیں گے ، اللہ تعالیٰ ان کے لیے وہ گناہ بخش دے گا ، اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں ، وہ ان ( گناہوں ) کو یہود اور نصاری پر ڈال دے گا ۔ "" ابو روح نے کہا : مجھے معلوم نہیں کہ یہ شک کس ( راوی ) کی طرف سے ہے ۔ حضرت ابو بردہ نے کہا : میں نے یہ حدیث عمر بن عبدالعزیز کو بیان کی ، انہوں نے کہا : کیا تمہارے والد نے تمہیں یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی تھی؟ میں نے کہا : ہاں ۔

English Translation

Abu Burda reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There would come people amongst the Muslims on the Day of Resurrection with as heavy sins as a mountain, and Allah would forgive them and He would place in their stead the Jews and the Christians. (As far as I think), Abu Raub said: I do not know as to who is in doubt. Abu Burda said: I narrated it to 'Umar b. 'Abd al-'Aziz, whereupon he said: Was it your father who narrated it to you from Allah's Apostle (ﷺ)? I said: Yes

Reference: Sahih Muslim 50:60

Hadith #7015

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عُمَرَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي النَّجْوَى قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏ "‏ يُدْنَى الْمُؤْمِنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَضَعَ عَلَيْهِ كَنَفَهُ فَيُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ فَيَقُولُ هَلْ تَعْرِفُ فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ أَعْرِفُ ‏.‏ قَالَ فَإِنِّي قَدْ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا وَإِنِّي أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ ‏.‏ فَيُعْطَى صَحِيفَةَ حَسَنَاتِهِ وَأَمَّا الْكُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ فَيُنَادَى بِهِمْ عَلَى رُءُوسِ الْخَلاَئِقِ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

قتادہ نے صفوان بن محرز سے روایت کی کہ ایک شخص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نجویٰ ( مومن سے اللہ کی سرگوشی ) کے متعلق کس طرح سنا تھا؟ انہوں نے کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " مومن کو قیامت کے دن اس کے رب عزوجل کے قریب کیا جائے گا ، حتی کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنا پردہ ڈال دے گا ( تاکہ کوئی اور اس کے راز پر مطلع نہ ہو ) ، پھر اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا اور فرمائے گا : کیا تو ( ان سب گناہوں کو ) پہچانتا ہے؟ وہ کہے گا : میرے رب! میں ( ان سب گناہوں کو ) پہچانتا ہوں ۔ ( اللہ تعالیٰ ) فرمائے گا : میں نے دنیا میں تم پر ( رحم کرتے ہوئے ) ان گناہوں کو چھپا لیا تھا اور آج ( تم پر رحم کرتے ہوئے ) تمہارے لیے ان سب کو معاف کرتا ہوں ، پھر اسے ( محض ) اس کی نیکیوں کا صحیفہ پکڑا دیا جائے گا اور رہے کفار اور منافقین تو ساری مخلوقات کے سامنے بلند آواز سے انہیں کہا جائے گا : یہی ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ۔

English Translation

Safwan b. Muhriz reported that a person said to Ibn 'Umar:How did you hear Allah's Messenger (ﷺ) as saying something about intimate conversation? He said: I heard him say: A believer will be brought to his Lord, the Exalted and Glorious, on the Day of Resurrection and He would place upon him His veil (of Light) and make him confess his faults and say: Do you recognise (your faults)? He would say: My Lord, I do recognise (them). He (the Lord) would say: I concealed them for you in the world. And today I forgive them. And he would then be given the Book containing (the account of his) good deeds. And so far as the non-believers and hypocrites are concerned, there would be general announcement about them before all creation telling them that these (people, i. e. non-believers and hypocrites) told a lie about Allah

Reference: Sahih Muslim 50:61

Hadith #7019

وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، - وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ حِينَ أُصِيبَ بَصَرُهُ وَكَانَ أَعْلَمَ قَوْمِهِ وَأَوْعَاهُمْ لأَحَادِيثِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَمِعْتُ أَبِي كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ يُحَدِّثُ أَنَّهُ لَمْ يَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا قَطُّ غَيْرَ غَزْوَتَيْنِ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ وَغَزَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِنَاسٍ كَثِيرٍ يَزِيدُونَ عَلَى عَشْرَةِ آلاَفٍ وَلاَ يَجْمَعُهُمْ دِيوَانُ حَافِظٍ ‏.‏

Urdu Translation

معقل بن عبیداللہ نے زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے اپنے چچا عبیداللہ بن کعب سے روایت کی اور جب حضرت کعب رضی اللہ عنہ کی آنکھیں جاتی رہیں تو وہی ان کا ہاتھ پکڑ کر ان کی رہنما کرتے تھے ۔ وہ اپنی قوم میں سب سے بڑے عالم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی احادیث کے سب سے بڑے حافظ تھے ، انہوں نے کہا : میں نے اپنے والد حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ ان تین لوگوں میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول کی گئی ، وہ حدیث بیان کرتے تھے کہ وہ دو غزووں کو چھوڑ کر کبھی کسی غزوے میں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑا ، آپ سے پیچھے نہیں رہے ۔ انہوں نے ( سابقہ حدیث کی طرح ) حدیث بیان کی اور اس میں کہا : " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی بہت بڑی تعداد کے ساتھ ، جو دس ہزار سے زیادہ تھے اور کسی محفوظ رکھنے والے کے دیوان ( رجسٹر ) میں ان سب کے نام درج نہ تھے ، اس جنگ کے لیے نکلے ۔

English Translation

It is reported on the authority of Abdullah b. K'ab and he was the guide of Ka'b as he lost his eyesight and he was the greatest scholar amongst his people and he retained in his mind many ahadith of the Companions of Allah's Messenger (ﷺ). He said:I heard my father Ka'b b. Malik, and he fas one of those three whose repentance was accepted (by Allah). He transmitted that He never lagged behind Allah's Messenger (ﷺ) from any expedition that he undertook except two expeditions; the rest of the hadith is the same, and in the tradition narrated through another chain of transmitters the words are:" That Allah's Messenger (ﷺ) set out on an expedition with a large number of persons more than ten thousand and this could not be recorded in the census register

Reference: Sahih Muslim 50:64

Hadith #7021

حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، الأَيْلِيُّ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَالسِّيَاقُ، حَدِيثُ مَعْمَرٍ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدٍ وَابْنِ رَافِعٍ قَالَ يُونُسُ وَمَعْمَرٌ جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَعَلْقَمَةُ بْنِ وَقَّاصٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكُلُّهُمْ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنْ حَدِيثِهَا وَبَعْضُهُمْ كَانَ أَوْعَى لِحَدِيثِهَا مِنْ بَعْضٍ وَأَثْبَتَ اقْتِصَاصًا وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمُ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثَنِي وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا ذَكَرُوا أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَهُ - قَالَتْ عَائِشَةُ - فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَخَرَجَ فِيهَا سَهْمِي فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ فَأَنَا أُحْمَلُ فِي هَوْدَجِي وَأُنْزَلُ فِيهِ مَسِيرَنَا حَتَّى إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَزْوِهِ وَقَفَلَ وَدَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ آذَنَ لَيْلَةً بِالرَّحِيلِ فَقُمْتُ حِينَ آذَنُوا بِالرَّحِيلِ فَمَشَيْتُ حَتَّى جَاوَزْتُ الْجَيْشَ فَلَمَّا قَضَيْتُ مِنْ شَأْنِي أَقْبَلْتُ إِلَى الرَّحْلِ فَلَمَسْتُ صَدْرِي فَإِذَا عِقْدِي مِنْ جَزْعِ ظَفَارِ قَدِ انْقَطَعَ فَرَجَعْتُ فَالْتَمَسْتُ عِقْدِي فَحَبَسَنِي ابْتِغَاؤُهُ وَأَقْبَلَ الرَّهْطُ الَّذِينَ كَانُوا يَرْحَلُونَ لِي فَحَمَلُوا هَوْدَجِي فَرَحَلُوهُ عَلَى بَعِيرِيَ الَّذِي كُنْتُ أَرْكَبُ وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنِّي فِيهِ - قَالَتْ - وَكَانَتِ النِّسَاءُ إِذْ ذَاكَ خِفَافًا لَمْ يُهَبَّلْنَ وَلَمْ يَغْشَهُنَّ اللَّحْمُ إِنَّمَا يَأْكُلْنَ الْعُلْقَةَ مِنَ الطَّعَامِ فَلَمْ يَسْتَنْكِرِ الْقَوْمُ ثِقَلَ الْهَوْدَجِ حِينَ رَحَلُوهُ وَرَفَعُوهُ وَكُنْتُ جَارِيَةً حَدِيثَةَ السِّنِّ فَبَعَثُوا الْجَمَلَ وَسَارُوا وَوَجَدْتُ عِقْدِي بَعْدَ مَا اسْتَمَرَّ الْجَيْشُ فَجِئْتُ مَنَازِلَهُمْ وَلَيْسَ بِهَا دَاعٍ وَلاَ مُجِيبٌ فَتَيَمَّمْتُ مَنْزِلِي الَّذِي كُنْتُ فِيهِ وَظَنَنْتُ أَنَّ الْقَوْمَ سَيَفْقِدُونِي فَيَرْجِعُونَ إِلَىَّ فَبَيْنَا أَنَا جَالِسَةٌ فِي مَنْزِلِي غَلَبَتْنِي عَيْنِي فَنِمْتُ وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيُّ ثُمَّ الذَّكْوَانِيُّ قَدْ عَرَّسَ مِنْ وَرَاءِ الْجَيْشِ فَادَّلَجَ فَأَصْبَحَ عِنْدَ مَنْزِلِي فَرَأَى سَوَادَ إِنْسَانٍ نَائِمٍ فَأَتَانِي فَعَرَفَنِي حِينَ رَآنِي وَقَدْ كَانَ يَرَانِي قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ الْحِجَابُ عَلَىَّ فَاسْتَيْقَظْتُ بِاسْتِرْجَاعِهِ حِينَ عَرَفَنِي فَخَمَّرْتُ وَجْهِي بِجِلْبَابِي وَوَاللَّهِ مَا يُكَلِّمُنِي كَلِمَةً وَلاَ سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً غَيْرَ اسْتِرْجَاعِهِ حَتَّى أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ فَوَطِئَ عَلَى يَدِهَا فَرَكِبْتُهَا فَانْطَلَقَ يَقُودُ بِي الرَّاحِلَةَ حَتَّى أَتَيْنَا الْجَيْشَ بَعْدَ مَا نَزَلُوا مُوغِرِينَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ فَهَلَكَ مَنْ هَلَكَ فِي شَأْنِي وَكَانَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ ابْنُ سَلُولَ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَاشْتَكَيْتُ حِينَ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ شَهْرًا وَالنَّاسُ يُفِيضُونَ فِي قَوْلِ أَهْلِ الإِفْكِ وَلاَ أَشْعُرُ بِشَىْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَهُوَ يَرِيبُنِي فِي وَجَعِي أَنِّي لاَ أَعْرِفُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اللُّطْفَ الَّذِي كُنْتُ أَرَى مِنْهُ حِينَ أَشْتَكِي إِنَّمَا يَدْخُلُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيُسَلِّمُ ثُمَّ يَقُولُ ‏"‏ كَيْفَ تِيكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَذَاكَ يَرِيبُنِي وَلاَ أَشْعُرُ بِالشَّرِّ حَتَّى خَرَجْتُ بَعْدَ مَا نَقِهْتُ وَخَرَجَتْ مَعِي أُمُّ مِسْطَحٍ قِبَلَ الْمَنَاصِعِ وَهُوَ مُتَبَرَّزُنَا وَلاَ نَخْرُجُ إِلاَّ لَيْلاً إِلَى لَيْلٍ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنَّ نَتَّخِذَ الْكُنُفَ قَرِيبًا مِنْ بُيُوتِنَا وَأَمْرُنَا أَمْرُ الْعَرَبِ الأُوَلِ فِي التَّنَزُّهِ وَكُنَّا نَتَأَذَّى بِالْكُنُفِ أَنْ نَتَّخِذَهَا عِنْدَ بُيُوتِنَا فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ وَهِيَ بِنْتُ أَبِي رُهْمِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ وَأُمُّهَا ابْنَةُ صَخْرِ بْنِ عَامِرٍ خَالَةُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَابْنُهَا مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْمُطَّلِبِ فَأَقْبَلْتُ أَنَا وَبِنْتُ أَبِي رُهْمٍ قِبَلَ بَيْتِي حِينَ فَرَغْنَا مِنْ شَأْنِنَا فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ فِي مِرْطِهَا فَقَالَتْ تَعِسَ مِسْطَحٌ ‏.‏ فَقُلْتُ لَهَا بِئْسَ مَا قُلْتِ أَتَسُبِّينَ رَجُلاً قَدْ شَهِدَ بَدْرًا ‏.‏ قَالَتْ أَىْ هَنْتَاهُ أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ قُلْتُ وَمَاذَا قَالَ قَالَتْ فَأَخْبَرَتْنِي بِقَوْلِ أَهْلِ الإِفْكِ فَازْدَدْتُ مَرَضًا إِلَى مَرَضِي فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ كَيْفَ تِيكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ آتِيَ أَبَوَىَّ قَالَتْ وَأَنَا حِينَئِذٍ أُرِيدُ أَنْ أَتَيَقَّنَ الْخَبَرَ مِنْ قِبَلِهِمَا ‏.‏ فَأَذِنَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجِئْتُ أَبَوَىَّ فَقُلْتُ لأُمِّي يَا أُمَّتَاهْ مَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ فَقَالَتْ يَا بُنَيَّةُ هَوِّنِي عَلَيْكِ فَوَاللَّهِ لَقَلَّمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ قَطُّ وَضِيئَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا وَلَهَا ضَرَائِرُ إِلاَّ كَثَّرْنَ عَلَيْهَا - قَالَتْ - قُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَقَدْ تَحَدَّثَ النَّاسُ بِهَذَا قَالَتْ فَبَكَيْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَصْبَحْتُ لاَ يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلاَ أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ ثُمَّ أَصَبَحْتُ أَبْكِي وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْىُ يَسْتَشِيرُهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ - قَالَتْ - فَأَمَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَأَشَارَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَاءَةِ أَهْلِهِ وَبِالَّذِي يَعْلَمُ فِي نَفْسِهِ لَهُمْ مِنَ الْوُدِّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُمْ أَهْلُكَ وَلاَ نَعْلَمُ إِلاَّ خَيْرًا ‏.‏ وَأَمَّا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لَمْ يُضَيِّقِ اللَّهُ عَلَيْكَ وَالنِّسَاءُ سِوَاهَا كَثِيرٌ وَإِنْ تَسْأَلِ الْجَارِيَةَ تَصْدُقْكَ - قَالَتْ - فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَرِيرَةَ فَقَالَ ‏"‏ أَىْ بَرِيرَةُ هَلْ رَأَيْتِ مِنْ شَىْءٍ يَرِيبُكِ مِنْ عَائِشَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ لَهُ بَرِيرَةُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنْ رَأَيْتُ عَلَيْهَا أَمْرًا قَطُّ أَغْمِصُهُ عَلَيْهَا أَكْثَرَ مِنْ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ - قَالَتْ - فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ ابْنِ سَلُولَ - قَالَتْ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ‏"‏ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَ أَذَاهُ فِي أَهْلِ بَيْتِي فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي إِلاَّ خَيْرًا وَلَقَدْ ذَكَرُوا رَجُلاً مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلاَّ خَيْرًا وَمَا كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَهْلِي إِلاَّ مَعِي ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ أَنَا أَعْذِرُكَ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَ مِنَ الأَوْسِ ضَرَبْنَا عُنُقَهُ وَإِنْ كَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا فَفَعَلْنَا أَمْرَكَ - قَالَتْ - فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْخَزْرَجِ وَكَانَ رَجُلاً صَالِحًا وَلَكِنِ اجْتَهَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لاَ تَقْتُلُهُ وَلاَ تَقْدِرُ عَلَى قَتْلِهِ ‏.‏ فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ تُجَادِلُ عَنِ الْمُنَافِقِينَ فَثَارَ الْحَيَّانِ الأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَقْتَتِلُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا وَسَكَتَ - قَالَتْ - وَبَكَيْتُ يَوْمِي ذَلِكَ لاَ يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلاَ أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ ثُمَّ بَكَيْتُ لَيْلَتِي الْمُقْبِلَةَ لاَ يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلاَ أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ وَأَبَوَاىَ يَظُنَّانِ أَنَّ الْبُكَاءَ فَالِقٌ كَبِدِي فَبَيْنَمَا هُمَا جَالِسَانِ عِنْدِي وَأَنَا أَبْكِي اسْتَأْذَنَتْ عَلَىَّ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَأَذِنْتُ لَهَا فَجَلَسَتْ تَبْكِي - قَالَتْ - فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ - قَالَتْ - وَلَمْ يَجْلِسْ عِنْدِي مُنْذُ قِيلَ لِي مَا قِيلَ وَقَدْ لَبِثَ شَهْرًا لاَ يُوحَى إِلَيْهِ فِي شَأْنِي بِشَىْءٍ - قَالَتْ - فَتَشَهَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ جَلَسَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ يَا عَائِشَةُ فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي عَنْكِ كَذَا وَكَذَا فَإِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً فَسَيُبَرِّئُكِ اللَّهُ وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ بِذَنْبٍ ثُمَّ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَقَالَتَهُ قَلَصَ دَمْعِي حَتَّى مَا أُحِسُّ مِنْهُ قَطْرَةً فَقُلْتُ لأَبِي أَجِبْ عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيمَا قَالَ ‏.‏ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ لأُمِيِّ أَجِيبِي عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ لاَ أَقْرَأُ كَثِيرًا مِنَ الْقُرْآنِ إِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّكُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ بِهَذَا حَتَّى اسْتَقَرَّ فِي نُفُوسِكُمْ وَصَدَّقْتُمْ بِهِ فَإِنْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي بَرِيئَةٌ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ لاَ تُصَدِّقُونِي بِذَلِكَ وَلَئِنِ اعْتَرَفْتُ لَكُمْ بِأَمْرٍ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ لَتُصَدِّقُونَنِي وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلاً إِلاَّ كَمَا قَالَ أَبُو يُوسُفَ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ ‏.‏ قَالَتْ ثُمَّ تَحَوَّلْتُ فَاضْطَجَعْتُ عَلَى فِرَاشِي - قَالَتْ - وَأَنَا وَاللَّهِ حِينَئِذٍ أَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ مُبَرِّئِي بِبَرَاءَتِي وَلَكِنْ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنْ يُنْزَلَ فِي شَأْنِي وَحْىٌ يُتْلَى وَلَشَأْنِي كَانَ أَحْقَرَ فِي نَفْسِي مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيَّ بِأَمْرٍ يُتْلَى وَلَكِنِّي كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَرَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النَّوْمِ رُؤْيَا يُبَرِّئُنِي اللَّهُ بِهَا قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا رَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَجْلِسَهُ وَلاَ خَرَجَ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ أَحَدٌ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذَهُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ مِنَ الْبُرَحَاءِ عِنْدَ الْوَحْىِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَتَحَدَّرُ مِنْهُ مِثْلُ الْجُمَانِ مِنَ الْعَرَقِ فِي الْيَوْمِ الشَّاتِ مِنْ ثِقَلِ الْقَوْلِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْهِ - قَالَتْ - فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَضْحَكُ فَكَانَ أَوَّلَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا أَنْ قَالَ ‏"‏ أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ أَمَّا اللَّهُ فَقَدْ بَرَّأَكِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ لِي أُمِّي قُومِي إِلَيْهِ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لاَ أَقُومُ إِلَيْهِ وَلاَ أَحْمَدُ إِلاَّ اللَّهَ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ بَرَاءَتِي - قَالَتْ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ‏}‏ عَشْرَ آيَاتٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلاَءِ الآيَاتِ بَرَاءَتِي - قَالَتْ - فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ وَفَقْرِهِ وَاللَّهِ لاَ أُنْفِقُ عَلَيْهِ شَيْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ ‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَلاَ يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ أَلاَ تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ‏}‏ قَالَ حِبَّانُ بْنُ مُوسَى قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ هَذِهِ أَرْجَى آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي ‏.‏ فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ النَّفَقَةَ الَّتِي كَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ وَقَالَ لاَ أَنْزِعُهَا مِنْهُ أَبَدًا ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَمْرِي ‏"‏ مَا عَلِمْتِ أَوْ مَا رَأَيْتِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْمِي سَمْعِي وَبَصَرِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِلاَّ خَيْرًا ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَعَصَمَهَا اللَّهُ بِالْوَرَعِ وَطَفِقَتْ أُخْتُهَا حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ تُحَارِبُ لَهَا فَهَلَكَتْ فِيمَنْ هَلَكَ ‏.‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَهَذَا مَا انْتَهَى إِلَيْنَا مِنْ أَمْرِ هَؤُلاَءِ الرَّهْطِ ‏.‏ وَقَالَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ ‏.‏

Urdu Translation

ابو ربیع عتکی نے مجھے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں فلیح بن سلیمان نے حدیث سنائی ، نیز ہمیں حسن بن علی حلوانی اور عبد بن حمید نے حدیث سنائی ، دونوں نے کہا : ہمیں یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے صالح بن کیسان سے حدیث سنائی ، ان دونوں ( فلیح بن سلیمان اور صالح بن کیسان ) نے زہری سے یونس اور معمر کی روایت کے مطابق انہی کی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔ فلیح کی حدیث میں اسی طرح ہے جیسے معمر نے بیان کیا : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے جاہلیت ( کے دور ) میں گھسیٹ لیا ۔ اور صالح کی حدیث میں یونس کے قول کی طرح ہے : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے اکسا دیا ۔ اور صالح کی حدیث میں مزید یہ ہے : عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو ناپسند کرتی تھیں کہ حسان ( بن ثابت رضی اللہ عنہ ) کو ان کے سامنے برا بھلا کہا جائے ۔ وہ فرماتی تھیں : انہوں نے یہ ( عظیم شعر ) کہا ہے : "" بےشک میرا باپ اور اس کا باپ اور میری عزت ، تم لوگوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو کی حفاظت کے لیے ڈھال ہیں ۔ "" اور انہوں نے مزید بھی کہا : عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اللہ کی قسم! جس شخص کے بارے میں وہ ساری باتیں ، جو گھڑی گئی تھیں ، وہ کہتا تھا : سبحان اللہ! ( یہ کیسی باتیں ہیں ) اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے کبھی کسی عورت کے حجلہ عروسی 0تک کا ) پردہ بھی نہیں اٹھایا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : پھر بعد میں وہ اللہ کی راہ میں قتل ہو کر شہید ہو گیا ۔ اور یعقوب بن ابراہیم کی حدیث میں موغرين في نحر الظهيرة ( لوگ دوپہر کے وقت بے سایہ بنجر راستے میں سفر سے بے حال ہو گئے تھے ۔ ) عبدالرزاق نے موغرين ( گرمی کی شدت سے بے حال ہوئے ) کہا ہے ۔ عبد بن حمید نے کہا : میں نے عبدالرزاق سے پوچھا : "" موغرين "" کا مطلب کیا ہے؟ کہا : الوغرة گرمی کی شدت ہوتی ہے ۔

English Translation

Sa'id b. Musayyib, 'Urwa b. Zubair, 'Alqama b. Waqqas and 'Ubaidullah b. Abdullah b. 'Utba b. Mas'ud--all of them reported the story of the false allegation against 'A'isha, the wife of Allah's Apostle (ﷺ). And they (the slanderers) said what they had to say, but Allah exonerated her of this charge and all of them reported a part of the hadith and some of them who had better memories reported more and with better retention, and I tried to retain this hadith (listening) from every one of them that they reported to me and some of them attested the other. (The sumaried substance of the false allegation is this):'A'isha said: Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to set out on a journey he cast lots amongst his wives and he took one with him in whose favour the lot was cast. It so happened that he cast lots amongst us while setting out on a battle and it was cast in my favour, so I set out along with Allah's Messenger (ﷺ). This relates to the period when the revelation concerning the commands of veil had been made. I was carried in a haudaj and I was brought down where we had to stay. In short, when we set out for return journey from the expedition and our caravan was near Medina, Allah's Messenger (ﷺ) commanded one night to march forward. I also got up when the command for the march was given and moved on until I went out of the encampments of the army and after relieving myself I came to my place. I touched my chest and found that my necklace which had been made of the stones of zafar had been broken. I retraced my steps and tried to search my necklace and this detained me there. The group of people who saddled my ride and placed my haudaj carrying me upon the camels marched on. They were under the impression that I was in it. The women in those days were light of weight and they did not wear much flesh, as they ate less food; so they did not perceive the weight of my haudaj as they placed it upon the camel as I was a young girl at that time. So they drove the camel and Eet out and I found my necklace after the army had marched. I came to my place and there was none to call and none to respond (the call). I waited at my place under the impression that when the people would riot find me they would come back. So I kept sitting at my place. I was overpowered by sleep and slept. Safwan b. Mu'attal Sulami Dhakwini, who had lagged behind the army because of taking rest came to my place walking in the latter part of the night and he saw the body of a person who was asleep. He came to me and recognised me as he had seen rue before it was enjoined to observe purda. I got ap by his voice as he recited Inna lillahi wa inna ilaihi raji'un [we are for Allah and to Him we have to return. ] and I covered my head with my headdress. By Allah, he did not speak to me a word and I did not hear a word from him except Inna lillahi. He made his camel kneel down and I amounted the camel as he pressed tLe camel's foreleg and he moved on leaning the camel by the nose string on which I was riding until we came to the army where it had encamped for rest because of extreme heat. Woe be upon those who harboured doubts about me and the most notorious among them was 'Abdullah b. Ubayy, the great hypocrite. We came to Medina and I fell sick for a month. The people had been deliberating over the statements of those who had brought these calumnies against me. I was absolutely unaware of anything concerning that. This, however, caused doubt in my mind that I did not see Allah's Messenger (may peace be upon him.) treating me with such kindness with which he treated me as I fell ill before this. The Prophet (ﷺ) would coome and greet me with Assalam-o-'Alaikum and only ask me how I was. This caused doubt in my mind, but I was unaware of the evil. I wept outside despite my failing health and there went along with me Umm Mistah and she said the daughter of Abu Rhm b. Muttalib b. 'Abd Manaf and his mother was the daughter of Sakhr b. 'Amir, the sister of the mother of Abu Bakr Sidiq and his son was Mistah b. Uthatha b. 'Abbad b. Muttalib. I and the daughter of Abu Rahm set towards the direction of my house. Something got into the head dress of Umm Mistah and she said: Woe be upon Mistah. And I said. Woe be upon what you say. Do you curse people who had participated in Badr? She said: Innocent woman, have you not heard what he said? I said: What did he say? She conveyed to me the statement of those who had brought false allegations against me. So my illness was aggravated. I went to my house and Allah's Messenger (ﷺ) came to me and he greeted me and then said: How is that woman? I said: Do you permit me to go to the (house) of my parents? She (further) said: I had at that time made up my mind to confirm this news from them. Allah's Messenger (ﷺ) permitted me. So I came to (the house of) my parents and said to my mother: Mother, do you know what the people are talking about? She said: My daughter, you should not worry. By Allah, if there is a handsome woman who is loved by her husband and he has co-wives also they talk many a thing about her. I said: Hallowed be Allah, what are the people talking about? I wept during the whole night until it was morning and I did not have a wink of sleep and I wept even in the morning. As the revelation was delayed (in regard to this matter), so Allah's Messenger (ﷺ) called 'Ali ibn Abi 'Talib and Usama b. Zaid in order to seek their advice in regard to the separation of his wife. Usama b. Zaid told Allah's Messenger (may peace be apen him) about the innocence of his wives and what he knew about his love for them. He said: Allah's Messenger, they are your wives and we know nothing else about them but goodness. And as for 'Ali b. Abu Talib, he said: Allah has not put any unnecessary burden upon you (in regard to your wives). There are a number of women besides her and if you ask that maidservant (Barira) she will tell you the truth. So, Allah's Messenger (ﷺ) called Bailra and said: Barira, did you see anything in 'A'isha which can cause doubt about her? Barira said: By Him Who sent thee with the truth, I have seen nothing objectionable in her but only this much that she is a young girl and she goes to sleep while kneading the flour and the lamb eats that. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) mounted the pulpit and sought vindication against 'Abdullah b. Ubayy b. Salul, and he further said: Who would exonerate me from imputations of that person who has troubled (me) in regard to my family? By Allah, I find nothing in my wife but goodness and the person whom the people have mentioned in this connection is, according to my knowledge, a thoroughly pious person, and he did never get into my house but along with me. Sa'd b. Mu'adh stood up and said: Allah's Messenger, I defend your honour against him. If he belong to the tribe of Aus we would strike his neck and if he belongs to the tribe of our brother Khazraj and you order us we would comply with your order. Then Sa'd b. 'Ubada stood up. He was chief of the Khazraj tribe. He was otherwise a pioas man but he had some what tribal partisanship in him and he said to Sa'd b. Mu'adh: By the everlasting existence of Allah. you are not stating the fact, you will not be able to kill him and you will not have the power to do so. Thereupon, Usaid b. Hudair stood up, and he was the first cousin of Sa'd b. Mu'adh and said to Sa'd b. 'Ubada: By the everlasting existence of Allah, you are not stating the fact. We would kill him. You are a hypocrite and so you argue in defence of the hypocrites, and thus both the tribes Aus and Khazraj were flared up, until they were about to fall upon one another and Allah's Messenger (ﷺ) kept standing upon the pulpit and Allah's Messenger (ﷺ) tried to subside their anger until they became silent and thus there was silence. 'A'isha further reported: I spent the whole day in weeping and even the night and could not have a wink of sleep even next night. My parents thought that this constant weeping of mine would break my heart. I wept and they sat beside me. In the meanwhile a woman of the Ansar came to see me. I permitted her to see me and she also began to weep. And we were in this very state that Allah's Messenger (ﷺ) came and he greeted me and then sat down. He had never sat with me since a month when this rumour was afloat, and there was no revelation (to clarity) my case. Allah's Messenger (ﷺ) recited Tashahhud (there is no god but Allah and Muhammad is His Apostle) and then said: Coming to the point, 'A'isha, this is what has reached me about you and if you are innocent, Allah would Himself vindicate your honour, and if accidentally there has been a lapse on your part seek forgiveness of Allah; He will pardon thee for when a servant makes a confession of his fault and turns (to Him) penitently, Allah also turns to him (mercifully) accepting his repentance. When Allah's Messenger (ﷺ) talked, my tears dried up and not even a single drop of tear was perceived by me (rolling out of my eyes). I said to my father: You give a reply to Allah's Messenger (ﷺ) on my behalf. He said: By Allah, I do not know what I should say to Allah's Messenger (ﷺ). I then said to my mother: Give a reply to Allah's Messenger (ﷺ) on my behalf, but she said: By Allah, I do not know what I should say to Allah's Messenger (ﷺ). I was a small girl at that time and I had not read much of the Qur'an (but I said): By Allah, I perceive that you have heard about this and it has settled down in your mind and you have taken it to be true, so if I say to you that I am quite innocent, and Allah knows that I am innocent, you would never believe me to be true, and if I confess to (the alleged) lapse before you, whereas Allah knows that I am completely innocent (and I have not committed this sin at all), in that case You will take me to be true and, by Allah, I, therefore, find no other alternative for me and for you except that what the father of Yousuf said:, (My course is) comely patience. And Allah it is Whose help is to be sought for in that (predicament) which ye describe" (xii 18). After this I turned my face to the other side and lay down on my bed. By Allah, I was fully aware of this fact that I was innocent but I did not expect that Allah would descend Wahy Matlu (Qur'anic Wahy) in my case as I did not think myself so much important that Allah, the Exalted and Glorious, would speak in this matter in words to be recited. I only hoped that Allah would in vision give an indication of my innocence to Allah's Messenger (ﷺ) during his sleep. And, by Allah, Allah's Messenger (ﷺ) had not moved an inch from where he had been sitting and none from the members of my family had gone that Allah, the Exalted and Glorious, descended revelation upon Allah's Messenger (ﷺ) there and then and he felt the burden which he used to feel at the time of receiving revelation. He began to perspire because of the burden of words of Allah as they descended upon him even during the winter season and there fell the drops of his sweat like silvery beads. When this state of receiving revelation was over, the Messenger of Allah (ﷺ) smiled and the first words which he spoke to me were that he said: 'A'isha, there is glad tidings for you. Verily, Allah has vindicated your honour, and my mother who had been standing by me said: Get up (and thank him, i. e. the Holy Prophet). I said: By Allah, I shall not thank him and laud him but Allah Who has descended revelation vindicating my honour. She ('A'isha) said: Allah, the Exalted and Glorious, revealed:" 'Verily, those who spread the slander are a gang among you" (and) ten (subsequent) verses in regard to my innocence. She further said: Abu Bakr used to give to Mistah (some stipend) as a token of kinship with him and for his poverty and he (Abu Bakr) said: By Allah, now I would not spend anything for him. 'A'isha said: It was upon this that Allah the Exalted and Glorious revealed this verse:" And let not those who possess dignity and ease among you swear to give to the near of the kin" up to" Yearn ye not that Allah may forgive you?" Hibban b. Musa' said that 'Abdullah b. Mubarak used to say: It is a verse contained in the Book which most (eminently) brightens the hope. Abu Bakr said: By Allah, I wish that Allah should pardon me. I shall never stop this stipend. So he continued to give him the stipend which he had withdrawn. 'A'isha said that Allah's Messenger (ﷺ) asked Zainab, daughter of Jahsh, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), about me what she knew or what she had seen in me, and she said: Allah's Messenger, I shall not say anything without hearing (with my ears) and seeing with my eyes. By Allah, I find nothing in her but goodness. (And she stated this in spite of the fact) that she was the only lady who amongst the wives of Allah's Apostle (ﷺ) used to vie with me but Allah saved her in bringing false allegation against me because of her God-consciousness. Her sister Hamna bint Jahsh, however, opposed her and she was undone along with others

Reference: Sahih Muslim 50:65

Hadith #7022

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ، بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا ذُكِرَ مِنْ شَأْنِي الَّذِي ذُكِرَ وَمَا عَلِمْتُ بِهِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطِيبًا فَتَشَهَّدَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ أَمَّا بَعْدُ أَشِيرُوا عَلَىَّ فِي أُنَاسٍ أَبَنُوا أَهْلِي وَايْمُ اللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي مِنْ سُوءٍ قَطُّ وَأَبَنُوهُمْ بِمَنْ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ قَطُّ وَلاَ دَخَلَ بَيْتِي قَطُّ إِلاَّ وَأَنَا حَاضِرٌ وَلاَ غِبْتُ فِي سَفَرٍ إِلاَّ غَابَ مَعِي ‏"‏ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَفِيهِ وَلَقَدْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْتِي فَسَأَلَ جَارِيَتِي فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهَا عَيْبًا إِلاَّ أَنَّهَا كَانَتْ تَرْقُدُ حَتَّى تَدْخُلَ الشَّاةُ فَتَأْكُلَ عَجِينَهَا أَوْ قَالَتْ خَمِيرَهَا - شَكَّ هِشَامٌ - فَانْتَهَرَهَا بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَقَالَ اصْدُقِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَسْقَطُوا لَهَا بِهِ فَقَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهَا إِلاَّ مَا يَعْلَمُ الصَّائِغُ عَلَى تِبْرِ الذَّهَبِ الأَحْمَرِ ‏.‏ وَقَدْ بَلَغَ الأَمْرُ ذَلِكَ الرَّجُلَ الَّذِي قِيلَ لَهُ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كَشَفْتُ عَنْ كَنَفِ أُنْثَى قَطُّ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ وَقُتِلَ شَهِيدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏.‏ وَفِيهِ أَيْضًا مِنَ الزِّيَادَةَ وَكَانَ الَّذِينَ تَكَلَّمُوا بِهِ مِسْطَحٌ وَحَمْنَةُ وَحَسَّانُ وَأَمَّا الْمُنَافِقُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ فَهُوَ الَّذِي كَانَ يَسْتَوْشِيهِ وَيَجْمَعُهُ وَهُوَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ وَحِمْنَةُ ‏.‏

Urdu Translation

ابو اسامہ نے ہشام بن عروہ سے روایت کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب میرے معاملے میں وہ باتیں کہی گئیں جو کہی گئیں اور مجھے اس معاملے کا علم نہ تھا ، ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ۔ شہادتین پڑھیں ، اللہ کی حمد و ژنا کی جو اس کے شایان شان ہے ، پھر فرمایا : "" اس ( حمد و ثنا ) کے بعد! مجھے ان لوگوں کے بارے میں مشورہ دو جنہوں نے میری اہلیہ پر بہتان لگایا اور میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ میری اہلیہ کے خلاف کبھی کوئی برائی میرے علم میں نہیں آئی ۔ وہ ( صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ ) جس کے بارے میں انہوں نے تہمت لگائی ہے ، اللہ کی قسم! مجھے اس کے بارے میں کسی برائی کا علم نہیں ، وہ کبھی میرے گھر نہیں آیا مگر اس وقت جب میں موجود تھا اور میں کبھی سفر کی وجہ سے ( مدینہ سے ) غیر حاضر نہیں رہا مگر وہ بھی ( اس سفر میں ) میرے ساتھ ( مدینہ س ) غیر حاضر تھا ۔ "" اور پورے واقعے سمیت حدیث بیان کی اور اس میں یہ ( بھی ) ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں داخل ہوئے اور میری خادمہ سے پوچھا ۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم! میں ان میں کوئی ایک عیب بھی نہیں جانتی ، اس کے سوا کہ وہ سو جایا کرتی تھیں اور بکری اندر آتی اور ان کا آٹا یا کہا : ان کا خمیر ( جو آٹے میں ملایا جاتا ہے ) کھا جاتی ۔ ہشام کو شک ہوا ہے ۔ ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ساتھی نے جھڑکیاں دیں اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بالکل سچ بتاؤ ، حتی کہ اس معاملے میں ان لوگوں نے اسے تحقیر آمیز باتیں کہیں تو اس نے جواب میں کہا : سبحان اللہ! اللہ کی قسم! میں ان کے بارے میں بالکل اسی طرح جانتی ہوں جس طرح سنار خالص سونے کو جانتا ہے ۔ ( ان میں ذرہ برابر کھوٹ نہیں ، وہ خالص سونا ہیں ۔ ) اور یہ معاملہ اس شخص تک پہنچا جس کے بارے میں یہ بات کہی گئی تو اس نے کہا : سبحان اللہ! اللہ کی قسم! میں نے آج تک کسی عورت کی خلوت گاہ کا پردہ بھی نہیں اٹھایا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : وہ اللہ عزوجل کی راہ میں قتل ہو کر شہید ہو گیا ۔ اور اس حدیث میں مزید یہ بات بھی ہے کہ جن لوگوں نے ( بہتان پر مبنی ) باتیں کی تھیں ان میں مسطح ، حمنہ اور حسان ( بن ثابت ) رضی اللہ عنہم تھے ۔ اور منافق عبداللہ بن ابی وہ شخص تھا جو ( سیدھے سادھے واقعے کے اندر سے ) جھوٹے الزام نکالتا تھا اور ( بہتان کی جھوٹی کہانی کی صورت میں ) انہیں یکجا کرتا تھا ۔ اسی نے اس بہتان تراشی میں سب سے بڑا کردار سنبھالا اور ( اس کے بعد ) حمنہ رضی اللہ عنہا تھی ۔

English Translation

A'Isha reported:When I came under discussion what the people had to say about me, Allah's Messenger (ﷺ) stood up for delivering an address and he recited tashahhud (I bear witness to the fact that iheie is no god but Allah) and praised Allah, lauded Him what He rightly deserves and then said: Coming to the point. Give me an advice about them who have brought false charge about my family. By Allah, I know no evil in the members of my family and the person in connection with whom the false charge is being levelled, I know no evil in him too. And he never entered my house but in my presence and when I was away on a journey, he remained with me even in that. The rest of the hadith is the same but with this change that Allah's Messenger (ﷺ) came to my house and asked my maidservant and she said: By Allah, I know no fault in her but this that she sleeps, and goat comes and eats the kneaded flour. Some of the Companions (of the Holy Prophet) scolded her and said: State the fact before Allah's Messenger (ﷺ) and they even made a pointed reference (to this incident). She said: gallowed be Allah. By Allah, I know about her as does the jeweller know about the pure piece of gold. And when this news reached the person in connection with whom the allegation was made he said: Hallowed be Allah. By Allah, I have never unveiled any woman. 'A'isha said: He fell as a martyr in the cause of Allah, and there is this addition in this hadith that the people who had brought false allegation amongst them were Mistah and Hamna and Hassan. And so far as the hypocrite 'Abdullah b. Ubayy is concerned, he was one who tried his best to gather the false news and then gave them the wind. And he was in fact a fabricator and there was Hamna, daughter of Jahsh with him

Reference: Sahih Muslim 50:67

Hadith #7023

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلاً، كَانَ يُتَّهَمُ بِأُمِّ وَلَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعَلِيٍّ ‏ "‏ اذْهَبْ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَاهُ عَلِيٌّ فَإِذَا هُوَ فِي رَكِيٍّ يَتَبَرَّدُ فِيهَا فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ اخْرُجْ ‏.‏ فَنَاوَلَهُ يَدَهُ فَأَخْرَجَهُ فَإِذَا هُوَ مَجْبُوبٌ لَيْسَ لَهُ ذَكَرٌ فَكَفَّ عَلِيٌّ عَنْهُ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَمَجْبُوبٌ مَا لَهُ ذَكَرٌ

Urdu Translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ام ولد ( آپ کے فرزند کی والدہ ) کے ساتھ مہتم کیا جاتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا : جاؤ اور اس کی گردن اڑا دو ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے تو وہ ایک اتھلے ( کم گہرے ) کنویں میں ٹھنڈک کے لیے غسل کر رہا تھا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : نکلو ، اور ( سہارا دینے کے لیے ) اسے اپنا ہاتھ پکڑایا اور اسے باہر نکالا تو دیکھا کہ وہ ہیجڑا ہے ، اس کا عضو مخصوص تھا ہی نہیں ۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ ( اس کو قتل کرنے سے ) رُک گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اللہ کے رسول! وہ تو ہیجڑا ہے ، اس کا عضو مخصوص ہے ہی نہیں ۔

English Translation

Anas reported that a person was charged with fornication with the slavegirl of Allah's Messenger (ﷺ). Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said to 'Ali:Go and strike his neck. 'Ali came to him and he found him in a well making his body cool. 'Ali said to him: Come out, and as he took hold of his hand and brought him out, he found that his sexual organ had been cut. Hadrat 'Ali refrained from striking his neck. He came to Allah's Apostle (ﷺ) and said: Allah's Messenger, he has not even the sexual organ with him

Reference: Sahih Muslim 50:68