Taleemi DuniyaTaleemi Duniya
Muwatta Malik

Chapter 32 of 61

Qirad

قِراض (مضاربت) کا بیان

2 hadiths in this chapter

Hadith #1386
Mauquf Sahih

حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ وَعُبَيْدُ اللَّهِ ابْنَا عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي جَيْشٍ إِلَى الْعِرَاقِ فَلَمَّا قَفَلاَ مَرَّا عَلَى أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ وَهُوَ أَمِيرُ الْبَصْرَةِ فَرَحَّبَ بِهِمَا وَسَهَّلَ ثُمَّ قَالَ لَوْ أَقْدِرُ لَكُمَا عَلَى أَمْرٍ أَنْفَعُكُمَا بِهِ لَفَعَلْتُ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ بَلَى هَا هُنَا مَالٌ مِنْ مَالِ اللَّهِ أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَ بِهِ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَأُسْلِفُكُمَاهُ فَتَبْتَاعَانِ بِهِ مَتَاعًا مِنْ مَتَاعِ الْعِرَاقِ ثُمَّ تَبِيعَانِهِ بِالْمَدِينَةِ فَتُؤَدِّيَانِ رَأْسَ الْمَالِ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَيَكُونُ الرِّبْحُ لَكُمَا فَقَالاَ وَدِدْنَا ذَلِكَ ‏.‏ فَفَعَلَ وَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهُمَا الْمَالَ فَلَمَّا قَدِمَا بَاعَا فَأُرْبِحَا فَلَمَّا دَفَعَا ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ قَالَ أَكُلُّ الْجَيْشِ أَسْلَفَهُ مِثْلَ مَا أَسْلَفَكُمَا قَالاَ لاَ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ابْنَا أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَأَسْلَفَكُمَا أَدِّيَا الْمَالَ وَرِبْحَهُ ‏.‏ فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ فَسَكَتَ وَأَمَّا عُبَيْدُ اللَّهِ فَقَالَ مَا يَنْبَغِي لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا لَوْ نَقَصَ هَذَا الْمَالُ أَوْ هَلَكَ لَضَمِنَّاهُ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ أَدِّيَاهُ ‏.‏ فَسَكَتَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَاجَعَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَاءِ عُمَرَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَوْ جَعَلْتَهُ قِرَاضًا ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ قَدْ جَعَلْتُهُ قِرَاضًا ‏.‏ فَأَخَذَ عُمَرُ رَأْسَ الْمَالِ وَنِصْفَ رِبْحِهِ وَأَخَذَ عَبْدُ اللَّهِ وَعُبَيْدُ اللَّهِ ابْنَا عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ نِصْفَ رِبْحِ الْمَالِ ‏.‏

Urdu Translation

زید بن اسلم نے اپنے باپ سے روایت ہے کہ کہ عبداللہ بن عبیداللہ بیٹے حضرت عمر بن خطا کے ایک لشکر کے ساتھ نکلے جہاد کے واسطے عراق کی طرف جب لوٹے تو ابومویس اشعری کے پاس گئے جو حاکم تھے بصرے کے انہوں نے کہا مرحبا اور سہلا پھر کہا کاش میں تم کو کچھ نفع پہنچا سکتا تو پہنچاتا میرے پاس کچھ روپیہ ہے اللہ کا جس کو میں بھیجنا چاہتا ہوں حضرت عمر کے پاس تو میں وہ روپے تم کو قرض دے دیتا ہوں اس کا اسباب خرید لو عراق سے پھر مدینہ میں اس مال کو بیچ کر اصل روپیہ حضرت عمر کو دیدینا اور نفع تم لے لینا انہوں نے کہا ہم بھی یہ چاہتے ہیں ابوموسیٰ نے ایسا ہی کیا اور حضرت عمر کو لکھ بھیجا کہ ان دونوں سے اصل روپیہ وصول کر لیجئے گا جب دونوں مدینہ کو آئے انہوں نے مال بیچا اور نفع حاصل کیا پھر اصل مال لے کر حضرت عمر کے پاس گئے حضرت عمر نے پوچھا کی ابومویس نے لشکر کے سب لوگوں کو اتنا اتنا روپیہ قرض دیا تھا انہوں نے کہا نہیں حضرت عمر نے کہا پھر تم کو امیرالمومنین کا بیٹا سمجھ کر یہ روپیہ دیا ہوگا اصل روپیہ اور نفع دونوں دے دو عبداللہ تو چپ ہو رہے اور عبیداللہ نے کہا اے امیر المومنین تم کو ایسا نہیں کرنا چاہئے اگر مال تلف ہوتا یا نقصان ہوتا تو ہم ضمان دیتے حضرت عمرنے کہا نہیں دے دو عبداللہ چپ ہو رہے عبیداللہ نے پھر جواب دیا اتنے میں ایک شخص حضرت عمر کے مصاحبوں میں سے بولا اے امیر المومنین تم اس کو مضاربت کر دو تو بہتر ہے حضرت عمر نے کہا میں نے کیا پھر حضرت نے اصل مال اور نصف نفع لیا اور عبداللہ اور عبیداللہ نے آدھا نفع لیا ۔

English Translation

Malik related to me from Zayd ibn Aslam that his father said, "Abdullah and Ubaydullah, the sons of Umar ibn al-Khattab went out with the army to Iraq. On the way home, they passed by Abu Musa al- Ashari who was the amir of Basra. He greeted them and made them welcome, and told them that if there was anything he could do to help them, he would do it. Then he said, 'There is some of the property of Allah which I want to send to the amir al-muminin, so I will lend it to you, and you can buy wares from Iraq and sell them in Madina. Then give the principal to the amir al-muminin, and you keep the profit.' They said that they would like to do it, and so he gave them the money and wrote to Umar ibn al-Khattab to take the money from them. When they came to sell they made a profit, and when they paid the principal to Umar he asked, 'Did he lend everyone in the army the like of what he lent you?' They said, 'No.' Umar ibn al-Khattab said, 'He made you the loan, because you are the sons of the amir al-muminin, so pay the principal and the profit.' Abdullah was silent. Ubaydullah said, 'You do not need to do this, amir al-muminin. Had the principal decreased or been destroyed, we would have guaranteed it.' Umar said, 'Pay it.' Abdullah was silent, and Ubaydullah repeated it. A man who was sitting with Umar said, 'Amir al-muminin, better that you make it a qirad. 'Umar said, 'I have made it qirad.' Umar then took the principal and half of the profit, and Abdullah and Ubaydullah, the sons of Umar ibn al-Khattab took half of the profit

Reference: Muwatta Malik 32:1

Hadith #1387
Mauquf Hasan

وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، أَعْطَاهُ مَالاً قِرَاضًا يَعْمَلُ فِيهِ عَلَى أَنَّ الرِّبْحَ بَيْنَهُمَا ‏.‏

Urdu Translation

حضرت عثمان بن عفان کو مال دیا مضاربت کے طور پر تاکہ یعقوب محنت کریں اور نفع میں شریک ہوں۔

English Translation

Malik related to me from al-Ala ibn Abd ar-Rahman from his father from his father that Uthman ibn Affan gave him some money as qirad to use provided the profit was shared between them

Reference: Muwatta Malik 32:2