Hadith #5251
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ، ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ ".
Urdu Translation
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ انہوں نے اپنی بیوی ( آمنہ بنت غفار ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( حالت حیض میں ) طلاق دے دی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لیں اور پھر اپنے نکاح میں باقی رکھیں۔ جب ماہواری ( حیض ) بند ہو جائے، پھر ماہواری آئے اور پھر بند ہو، تب اگر چاہیں تو اپنی بیوی کو اپنی نکاح میں باقی رکھیں اور اگر چاہیں تو طلاق دے دیں ( لیکن طلاق اس طہر میں ) ان کے ساتھ ہمبستری سے پہلے ہونا چاہئے۔ یہی ( طہر کی ) وہ مدت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔
English Translation
Narrated `Abdullah bin `Umar:that he had divorced his wife while she was menstruating during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) . `Umar bin Al-Khattab asked Allah's Messenger (ﷺ) about that. Allah's Messenger (ﷺ) said, "Order him (your son) to take her back and keep her till she is clean and then to wait till she gets her next period and becomes clean again, whereupon, if he wishes to keep her, he can do so, and if he wishes to divorce her he can divorce her before having sexual intercourse with her; and that is the prescribed period which Allah has fixed for the women meant to be divorced
Reference: Sahih al-Bukhari 68:1
Hadith #5252
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لِيُرَاجِعْهَا ". قُلْتُ تُحْتَسَبُ قَالَ " فَمَهْ ". وَعَنْ قَتَادَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ". قُلْتُ تُحْتَسَبُ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ.
Urdu Translation
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے انس بن سیرین نے، کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ چاہیے کہ رجوع کر لیں۔ ( انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ) میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا یہ طلاق، طلاق سمجھی جائے گی؟ انہوں نے کہا کہ چپ رہ۔ پھر کیا سمجھی جائے گی؟ اور قتادہ نے بیان کیا، ان سے یونس بن جبیر نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ( کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ) فرمایا کہ اسے حکم دو کہ رجوع کر لے ( یونس بن جبیر نے بیان کیا کہ ) میں نے پوچھا، کیا یہ طلاق طلاق سمجھی جائے گی؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا تو کیا سمجھتا ہے اگر کوئی کسی فرض کے ادا کرنے سے عاجز بن جائے یا احمق ہو جائے۔ تو وہ فرض اس کے ذمہ سے ساقط ہو جائے گا؟ ہرگز نہیں۔
English Translation
Narrated Anas bin Seereen:Ibn `Umar said: "I divorced my wife while she was menstruating. `Umar mentioned that to the Prophet . The Prophet (ﷺ) said, (to my father), "Let your son take her back." I asked (Ibn `Umar), "Is such a divorce counted (i.e. as one legal divorce)?" Ibn `Umar said, "Of course." Narrated Yunus bin Jubair: Ibn `Umar said, "The Prophet (ﷺ) said to `Umar, 'Order him (Ibn `Umar) to take her back.' " I asked, "Is such a divorce counted (as one legal divorce)?" Ibn `Umar said, "What do you think if someone becomes helpless and foolish?
Reference: Sahih al-Bukhari 68:2
Hadith #5253
وَقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ حُسِبَتْ عَلَىَّ بِتَطْلِيقَةٍ.
Urdu Translation
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ابومعمر عبداللہ بن عمرو منقری نے کہا (یا ہم سے بیان کیا) کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا یہ طلاق جو میں نے حیض میں دی تھی مجھ پر شمار کی گئی۔
English Translation
Narrated Ibn `Umar:(Divorcing my wife during her menses) was counted as one legal divorce
Reference: Sahih al-Bukhari 68:3
Hadith #5254
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ أَىُّ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ ابْنَةَ الْجَوْنِ لَمَّا أُدْخِلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَدَنَا مِنْهَا قَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ. فَقَالَ لَهَا " لَقَدْ عُذْتِ بِعَظِيمٍ، الْحَقِي بِأَهْلِكِ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ رَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ عَنْ جَدِّهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ.
Urdu Translation
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کن بیوی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پناہ مانگی تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ جون کی بیٹی ( امیمہ یا اسماء ) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ( نکاح کے بعد ) لائی گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو اس نے یہ کہہ دیا کہ میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تم نے بہت بڑی چیز سے پناہ مانگی ہے، اپنے میکے چلی جاؤ۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حجاج بن یوسف بن ابی منیع سے، اس نے بھی اپنے دادا ابومنیع ( عبیداللہ بن ابی زیاد ) سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔
English Translation
Narrated Al-Awza:I asked Az-Zuhri, "Which of the wives of the Prophet (ﷺ) sought refuge with Allah from him?" He said "I was told by 'Urwa that `Aisha said, 'When the daughter of Al-Jaun was brought to Allah's Messenger (ﷺ) (as his bride) and he went near her, she said, "I seek refuge with Allah from you." He said, "You have sought refuge with The Great; return to your family
Reference: Sahih al-Bukhari 68:4
Hadith #5255
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَسِيلٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى انْطَلَقْنَا إِلَى حَائِطٍ يُقَالُ لَهُ الشَّوْطُ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى حَائِطَيْنِ فَجَلَسْنَا بَيْنَهُمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اجْلِسُوا هَا هُنَا ". وَدَخَلَ وَقَدْ أُتِيَ بِالْجَوْنِيَّةِ، فَأُنْزِلَتْ فِي بَيْتٍ فِي نَخْلٍ فِي بَيْتٍ أُمَيْمَةُ بِنْتُ النُّعْمَانِ بْنِ شَرَاحِيلَ وَمَعَهَا دَايَتُهَا حَاضِنَةٌ لَهَا، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " هَبِي نَفْسَكِ لِي ". قَالَتْ وَهَلْ تَهَبُ الْمَلِكَةُ نَفْسَهَا لِلسُّوقَةِ. قَالَ فَأَهْوَى بِيَدِهِ يَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهَا لِتَسْكُنَ فَقَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ. فَقَالَ " قَدْ عُذْتِ بِمَعَاذٍ ". ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ " يَا أَبَا أُسَيْدٍ اكْسُهَا رَازِقِيَّتَيْنِ وَأَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا".
Urdu Translation
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن غسیل نے بیان کیا، ان سے حمزہ بن ابی اسید نے اور ان سے ابواسید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر نکلے اور ایک باغ میں پہنچے جس کا نام ”شوط“ تھا۔ جب وہاں جا کر اور باغوں کے درمیان پہنچے تو بیٹھ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ یہیں بیٹھو، پھر باغ میں گئے، جونیہ لائی جا چکی تھیں اور انہیں کھجور کے ایک گھر میں اتارا۔ اس کا نام امیمہ بنت نعمان بن شراحیل تھا۔ ان کے ساتھ ایک دایہ بھی ان کی دیکھ بھال کے لیے تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو فرمایا کہ اپنے آپ کو میرے حوالے کر دے۔ اس نے کہا کیا کوئی شہزادی کسی عام آدمی کے لیے اپنے آپ کو حوالہ کر سکتی ہے؟ بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا شفقت کا ہاتھ ان کی طرف بڑھا کر اس کے سر پر رکھا تو اس نے کہا کہ میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اسی سے پناہ مانگی جس سے پناہ مانگی جاتی ہے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ ابواسید! اسے دو رازقیہ کپڑے پہنا کر اسے اس کے گھر پہنچا آؤ۔
English Translation
Narrated Abu Usaid:We went out with the Prophet (ﷺ) to a garden called Ash-Shaut till we reached two walls between which we sat down. The Prophet (ﷺ) said, "Sit here," and went in (the garden). The Jauniyya (a lady from Bani Jaun) had been brought and lodged in a house in a date-palm garden in the home of Umaima bint An- Nu`man bin Sharahil, and her wet nurse was with her. When the Prophet (ﷺ) entered upon her, he said to her, "Give me yourself (in marriage) as a gift." She said, "Can a princess give herself in marriage to an ordinary man?" The Prophet (ﷺ) raised his hand to pat her so that she might become tranquil. She said, "I seek refuge with Allah from you." He said, "You have sought refuge with One Who gives refuge. Then the Prophet (ﷺ) came out to us and said, "O Abu Usaid! Give her two white linen dresses to wear and let her go back to her family
Reference: Sahih al-Bukhari 68:5
Hadith #5256
وَقَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّيْسَابُورِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَأَبِي، أُسَيْدٍ قَالاَ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أُمَيْمَةَ بِنْتَ شَرَاحِيلَ، فَلَمَّا أُدْخِلَتْ عَلَيْهِ بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا فَكَأَنَّهَا كَرِهَتْ ذَلِكَ فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ أَنْ يُجَهِّزَهَا وَيَكْسُوَهَا ثَوْبَيْنِ رَازِقِيَّيْنِ.
English Translation
Narrated Sahl and Abu Usaid:The Prophet (ﷺ) married Umaima bint Sharahil, and when she was brought to him, he stretched his hand towards her. It seemed that she disliked that, whereupon the Prophet (ﷺ) ordered Abu Usaid to prepare her and to provide her with two white linen dresses
Reference: Sahih al-Bukhari 68:6
Hadith #5257
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، بِهَذَا.
English Translation
Narrated Sahl bin Sa`d:similarly as above
Reference: Sahih al-Bukhari 68:7
Hadith #5258
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي غَلاَّبٍ، يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ. فَقَالَ تَعْرِفُ ابْنَ عُمَرَ إِنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا فَإِذَا طَهُرَتْ فَأَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا، قُلْتُ فَهَلْ عَدَّ ذَلِكَ طَلاَقًا قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ.
Urdu Translation
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوغالب یونس بن جبیر نے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: ایک شخص نے اپنی بیوی کو اس وقت طلاق دی جب وہ حائضہ تھی ( اس کا کیا حکم؟ ) اس پر انہوں نے کہا تم ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جانتے ہو؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو اس وقت طلاق دی تھی جب وہ حائضہ تھیں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس کے متعلق آپ سے پوچھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ( ابن عمر اس وقت اپنی بیوی سے ) رجعت کر لیں، پھر جب وہ حیض سے پاک ہو جائیں تو اس وقت اگر ابن عمر چاہیں، انہیں طلاق دیں۔ میں نے عرض کیا: کیا اسے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق شمار کیا تھا؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا اگر کوئی عاجز ہے اور حماقت کا ثبوت دے تو اس کا علاج ہے۔
English Translation
Narrated Abi Ghallab Yunus bin Jubair:I asked Ibn `Umar,"(What is said regarding) a man divorces his wife during her period?" He said, "Do you know Ibn `Umar? Ibn `Umar divorced his wife while she was menstruating. `Umar then went to the Prophet (ﷺ) and mentioned that to him. The Prophet (ﷺ) ordered him to take her back and when she became clean, he could divorce her if he wanted." I asked (Ibn `Umar), "Was that divorce counted as one legal divorce?" He said, "If one becomes helpless and foolish (will he be excused? Of course not)
Reference: Sahih al-Bukhari 68:8
Hadith #5259
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلاَنِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ لَهُ يَا عَاصِمُ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ عَاصِمٌ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عَاصِمٌ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا. قَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لاَ أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَطَ النَّاسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا ". قَالَ سَهْلٌ فَتَلاَعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَيْمِرٌ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَكَانَتْ تِلْكَ سُنَّةُ الْمُتَلاَعِنَيْنِ.
Urdu Translation
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے اور انہیں سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ عویمر العجانی رضی اللہ عنہ عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ اے عاصم! تمہارا کیا خیال ہے، اگر کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر کو دیکھے تو کیا اسے وہ قتل کر سکتا ہے؟ لیکن پھر تم قصاص میں اسے ( شوہر کو ) بھی قتل کر دو گے یا پھر وہ کیا کرے گا؟ عاصم میرے لیے یہ مسئلہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ دیجئیے۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوالات کو ناپسند فرمایا اور اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات عاصم رضی اللہ عنہ پر گراں گزرے اور جب وہ واپس اپنے گھر آ گئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے آ کر ان سے پوچھا کہ بتائیے آپ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ عاصم نے اس پر کہا تم نے مجھ کو آفت میں ڈالا۔ جو سوال تم نے پوچھا تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار گزرا۔ عویمر نے کہا کہ اللہ کی قسم! یہ مسئلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے بغیر میں باز نہیں آؤں گا۔ چنانچہ وہ روانہ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان میں تشریف رکھتے تھے۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر کو پا لیتا ہے تو آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا وہ اسے قتل کر دے؟ لیکن اس صورت میں آپ اسے قتل کر دیں گے یا پھر اسے کیا کرنا چاہیے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیوی کے بارے میں وحی نازل کی ہے، اس لیے تم جاؤ اور اپنی بیوی کو بھی ساتھ لاؤ۔ سہل نے بیان کیا کہ پھر دونوں ( میاں بیوی ) نے لعان کیا۔ لوگوں کے ساتھ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت موجود تھا۔ لعان سے جب دونوں فارغ ہوئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر اس کے بعد بھی میں اسے اپنے پاس رکھوں تو ( اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ) میں جھوٹا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اپنی بیوی کو تین طلاق دی۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر لعان کرنے والے کے لیے یہی طریقہ جاری ہو گیا۔
English Translation
Narrated Sahl bin Sa`d As-Sa`idi:Uwaimir Al-`Ajlani came to `Asim bin Adi Al-Ansari and asked, "O `Asim! Tell me, if a man sees his wife with another man, should he kill him, whereupon you would kill him in Qisas, or what should he do? O `Asim! Please ask Allah's Messenger (ﷺ) about that." `Asim asked Allah's Messenger (ﷺ) about that. Allah's Apostle disliked that question and considered it disgraceful. What `Asim heard from Allah's Messenger (ﷺ) was hard on him. When he returned to his family, 'Uwaimir came to him and said "O `Asim! What did Allah's Messenger (ﷺ) say to you?" `Asim said, "You never bring me any good. Allah's Messenger (ﷺ) disliked to hear the problem which I asked him about." 'Uwaimir said, "By Allah, I will not leave the matter till I ask him about it." So 'Uwaimir proceeded till he came to Allah's Messenger (ﷺ) who was in the midst of the people and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! If a man finds with his wife another man, should he kill him, whereupon you would kill him (in Qisas): or otherwise, what should he do?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah has revealed something concerning the question of you and your wife. Go and bring her here." So they both carried out the judgment of Lian, while I was present among the people (as a witness). When both of them had finished, 'Uwaimir said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! If I should now keep my wife with me, then I have told a lie". Then he pronounced his decision to divorce her thrice before Allah's Apostle ordered him to do so. (Ibn Shihab said, "That was the tradition for all those who are involved in a case of Lian)
Reference: Sahih al-Bukhari 68:9
Hadith #5260
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ امْرَأَةَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلاَقِي، وَإِنِّي نَكَحْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ الْقُرَظِيَّ، وَإِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ الْهُدْبَةِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ، لاَ، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ ".
Urdu Translation
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! رفاعہ نے مجھے طلاق دے دی تھی اور طلاق بھی بائن، پھر میں نے اس کے بعد عبدالرحمٰن بن زبیر قرظی رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیا لیکن ان کے پاس تو کپڑے کے پلو جیسا ہے ( یعنی وہ نامرد ہیں ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غالباً تم رفاعہ کے پاس دوبارہ جانا چاہتی ہو لیکن ایسا اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک تم اپنے موجودہ شوہر کا مزا نہ چکھ لو اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھ لے۔
English Translation
Narrated `Aisha:The wife of Rifa`a Al-Qurazi came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Rifa`a divorced me irrevocably. After him I married `Abdur-Rahman bin Az-Zubair Al-Qurazi who proved to be impotent." Allah's Messenger (ﷺ) said to her, "Perhaps you want to return to Rifa`a? Nay (you cannot return to Rifa`a) until you and `Abdur-Rahman consummate your marriage
Reference: Sahih al-Bukhari 68:10
Hadith #5261
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلاً، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا، فَتَزَوَّجَتْ فَطَلَّقَ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَتَحِلُّ لِلأَوَّلِ قَالَ " لاَ، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا كَمَا ذَاقَ الأَوَّلُ ".
Urdu Translation
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عمر عمری نے، کہا کہ مجھ سے قاسم بن محمد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ایک صاحب نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی تھی۔ ان کی بیوی نے دوسری شادی کر لی، پھر دوسرے شوہر نے بھی ( ہمبستری سے پہلے ) انہیں طلاق دے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کیا پہلا شوہر اب ان کے لیے حلال ہے ( کہ ان سے دوبارہ شادی کر لیں ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، یہاں تک کہ وہ یعنی شوہر ثانی اس کا مزہ چکھے جیسا کہ پہلے نے مزہ چکھا تھا۔
English Translation
Narrated `Aisha:A man divorced his wife thrice (by expressing his decision to divorce her thrice), then she married another man who also divorced her. The Prophet (ﷺ) was asked if she could legally marry the first husband (or not). The Prophet (ﷺ) replied, "No, she cannot marry the first husband unless the second husband consummates his marriage with her, just as the first husband had done
Reference: Sahih al-Bukhari 68:11
Hadith #5262
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاخْتَرْنَا اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَلَمْ يَعُدَّ ذَلِكَ عَلَيْنَا شَيْئًا.
Urdu Translation
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے مسلم بن صبیح نے بیان کیا، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تھا اور ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو ہی پسند کیا تھا لیکن اس کا ہمارے حق میں کوئی شمار ( طلاق ) میں نہیں ہوا تھا۔
English Translation
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) gave us the option (to remain with him or to be divorced) and we selected Allah and His Apostle . So, giving us that option was not regarded as divorce
Reference: Sahih al-Bukhari 68:12
Hadith #5263
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْخِيَرَةِ،، فَقَالَتْ خَيَّرَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَفَكَانَ طَلاَقًا قَالَ مَسْرُوقٌ لاَ أُبَالِي أَخَيَّرْتُهَا وَاحِدَةً أَوْ مِائَةً بَعْدَ أَنْ تَخْتَارَنِي.
Urdu Translation
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، کہا ہم سے عامر نے بیان کیا، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ”اختیار“ کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تھا تو کیا محض یہ اختیار طلاق بن جاتا۔ مسروق نے کہا کہ اختیار دینے کے بعد اگر تم مجھے پسند کر لیتی ہو تو اس کی کوئی حیثیت نہیں، چاہے میں ایک مرتبہ اختیار دوں یا سو مرتبہ ( طلاق نہیں ہو گی ) ۔
English Translation
Narrated Masruq:I asked `Aisha about the option: She said, "The Prophet (ﷺ) gave us the option. Do you think that option was considered as a divorce?" I said, "It matters little to me if I give my wife the option once or a hundred times after she has chosen me
Reference: Sahih al-Bukhari 68:13
Hadith #5264
وَقَالَ اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ، كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَمَّنْ طَلَّقَ ثَلاَثًا قَالَ لَوْ طَلَّقْتَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَنِي بِهَذَا، فَإِنْ طَلَّقْتَهَا ثَلاَثًا حَرُمَتْ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ.
Urdu Translation
اور لیث بن سعد نے نافع سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اگر ایسے شخص کا مسئلہ پوچھا جاتا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی ہوتی، تو وہ کہتے اگر تو ایک بار یا دو بار طلاق دیتا تو رجوع کر سکتا تھا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو ایسا ہی حکم دیا تھا لیکن جب تو نے تین طلاق دے دی تو وہ عورت اب تجھ پر حرام ہو گئی یہاں تک کہ وہ تیرے سوا اور کسی شخص سے نکاح کرے۔
English Translation
Nafi' said:When Ibn 'Umar was asked about person who had given three divorces, he said, "Would that you gave one or two divorces, for the Prophet (ﷺ) ordered me to do so. If you give three divorces then she cannot be lawful for you until she has married another husband (and is divorced by him)
Reference: Sahih al-Bukhari 68:14
Hadith #5265
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ فَطَلَّقَهَا، وَكَانَتْ مَعَهُ مِثْلُ الْهُدْبَةِ فَلَمْ تَصِلْ مِنْهُ إِلَى شَىْءٍ تُرِيدُهُ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ طَلَّقَهَا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ زَوْجِي طَلَّقَنِي، وَإِنِّي تَزَوَّجْتُ زَوْجًا غَيْرَهُ فَدَخَلَ بِي، وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُ إِلاَّ مِثْلُ الْهُدْبَةِ فَلَمْ يَقْرَبْنِي إِلاَّ هَنَةً وَاحِدَةً، لَمْ يَصِلْ مِنِّي إِلَى شَىْءٍ، فَأَحِلُّ لِزَوْجِي الأَوَّلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَحِلِّينَ لِزَوْجِكِ الأَوَّلِ حَتَّى يَذُوقَ الآخَرُ عُسَيْلَتَكِ، وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ ".
Urdu Translation
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک شخص رفاعی نے اپنی بیوی ( تمیمہ بنت وہب ) کو طلاق دے دی، پھر ایک دوسرے شخص سے ان کی بیوی نے نکاح کیا لیکن انہوں نے بھی ان کو طلاق دے دی۔ ان دوسرے شوہر کے پاس کپڑے کے پلو کی طرح تھا۔ عورت کو اس سے پورا مزہ جیسا وہ چاہتی تھی نہیں ملا۔ آخر عبدالرحمٰن نے تھوڑے ہی دنوں رکھ کر اس کو طلاق دے دی۔ اب وہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی تھی، پھر میں نے ایک دوسرے مرد سے نکاح کیا۔ وہ میرے پاس تنہائی میں آئے لیکن ان کے ساتھ تو کپڑے کے پلو کی طرح کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ کل ایک ہی بار اس نے مجھ سے صحبت کی وہ بھی بیکار ( دخول ہی نہیں ہوا اوپر ہی اوپر چھو کر رہ گیا ) کیا اب میں اپنے پہلے خاوند کے لیے حلال ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اپنے پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہو سکتی جب تک دوسرا خاوند تیری شیرینی نہ چکھے۔
English Translation
Narrated `Aisha:A man divorced his wife and she married another man who proved to be impotent and divorced her. She could not get her satisfaction from him, and after a while he divorced her. Then she came to the Prophet and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! My first husband divorced me and then I married another man who entered upon me to consummate his marriage but he proved to be impotent and did not approach me except once during which he benefited nothing from me. Can I remarry my first husband in this case?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "It is unlawful to marry your first husband till the other husband consummates his marriage with you
Reference: Sahih al-Bukhari 68:15
Hadith #5266
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ، سَمِعَ الرَّبِيعَ بْنَ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ إِذَا حَرَّمَ امْرَأَتَهُ لَيْسَ بِشَىْءٍ. وَقَالَ {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ}
Urdu Translation
مجھ سے حسن بن الصباح نے بیان کیا، انہوں نے ربیع بن نافع سے سنا کہ ہم سے معاویہ بن سلام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے یعلیٰ بن حکیم نے، ان سے سعید بن جبیر نے، انہوں نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کہا تو یہ کوئی چیز نہیں اور فرمایا کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی عمدہ پیروی ہے۔
English Translation
Narrated Sa`id bin Jubair:that he heard Ibn `Abbas saying, "If a man makes his wife unlawful for him, it does not mean that she is divorced." He added, "Indeed in the Messenger of Allah , you have a good example to follow
Reference: Sahih al-Bukhari 68:16
Hadith #5267
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ زَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ، وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلاً، فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ " لاَ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ ". فَنَزَلَتْ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ} إِلَى {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ} لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ {وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ} لِقَوْلِهِ " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً ".
Urdu Translation
مجھ سے حسن بن محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن محمد اعور نے، ان سے ابن جریج نے کہ عطاء بن ابی رباح نے یقین کے ساتھ کہا کہ انہوں نے عبید بن عمیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں ٹھہرتے تھے اور ان کے یہاں شہد پیا کرتے تھے۔ چنانچہ میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے مل کر صلاح کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے جس کے یہاں بھی تشریف لائیں تو آپ سے یہ کہا جائے کہ آپ کے منہ سے مغافیر ( ایک خاص قسم کے بدبودار گوند ) کی مہک آتی ہے، کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد ہم میں سے ایک کے یہاں تشریف لائے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بات کہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں نے زینب بنت جحش کے ہاں شہد پیا ہے، اب دوبارہ نہیں پیوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل الله لك» کہ ”اے نبی! آپ وہ چیز کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے۔“ سے «إن تتوبا إلى الله» تک۔ یہ عائشہ رضی اللہ عنہما اور حفصہ رضی اللہ عنہما کی طرف خطاب ہے «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه» ۔ حدیث سے آپ کا یہی فرمانا مراد ہے کہ میں نے مغافیر نہیں کھایا بلکہ شہد پیا ہے۔
English Translation
Narrated `Ubaid bin `Umar:I heard `Aisha saying, "The Prophet (ﷺ) used to stay for a long while with Zanab bint Jahsh and drink honey at her house. So Hafsa and I decided that if the Prophet (ﷺ) came to anyone of us, she should say him, "I detect the smell of Maghafir (a nasty smelling gum) in you. Have you eaten Maghafir?' " So the Prophet (ﷺ) visited one of them and she said to him similarly. The Prophet (ﷺ) said, "Never mind, I have taken some honey at the house of Zainab bint Jahsh, but I shall never drink of it anymore." So there was revealed: 'O Prophet ! Why do you ban (for you) that which Allah has made lawful for you . . . If you two (wives of Prophet) turn in repentance to Allah,' (66.1-4) addressing Aisha and Hafsa. 'When the Prophet (ﷺ) disclosed a matter in confidence to some of his wives.' (66.3) namely his saying: But I have taken some honey
Reference: Sahih al-Bukhari 68:17
Hadith #5268
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحِبُّ الْعَسَلَ وَالْحَلْوَاءَ، وَكَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الْعَصْرِ دَخَلَ عَلَى نِسَائِهِ، فَيَدْنُو مِنْ إِحْدَاهُنَّ، فَدَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ، فَاحْتَبَسَ أَكْثَرَ مَا كَانَ يَحْتَبِسُ، فَغِرْتُ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ فَقِيلَ لِي أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ مِنْ قَوْمِهَا عُكَّةً مِنْ عَسَلٍ، فَسَقَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُ شَرْبَةً، فَقُلْتُ أَمَا وَاللَّهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ. فَقُلْتُ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ إِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْكِ، فَإِذَا دَنَا مِنْكِ فَقُولِي أَكَلْتَ مَغَافِيرَ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ لاَ. فَقُولِي لَهُ مَا هَذِهِ الرِّيحُ الَّتِي أَجِدُ مِنْكَ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ فَقُولِي لَهُ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ. وَسَأَقُولُ ذَلِكَ، وَقُولِي أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ ذَاكِ. قَالَتْ تَقُولُ سَوْدَةُ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ قَامَ عَلَى الْبَابِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُبَادِيَهُ بِمَا أَمَرْتِنِي بِهِ فَرَقًا مِنْكِ، فَلَمَّا دَنَا مِنْهَا قَالَتْ لَهُ سَوْدَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ قَالَ " لاَ ". قَالَتْ فَمَا هَذِهِ الرِّيحُ الَّتِي أَجِدُ مِنْكَ. قَالَ " سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ ". فَقَالَتْ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ فَلَمَّا دَارَ إِلَىَّ قُلْتُ لَهُ نَحْوَ ذَلِكَ، فَلَمَّا دَارَ إِلَى صَفِيَّةَ قَالَتْ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ فَلَمَّا دَارَ إِلَى حَفْصَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ أَسْقِيكَ مِنْهُ. قَالَ " لاَ حَاجَةَ لِي فِيهِ ". قَالَتْ تَقُولُ سَوْدَةُ وَاللَّهِ لَقَدْ حَرَمْنَاهُ. قُلْتُ لَهَا اسْكُتِي.
Urdu Translation
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہد اور میٹھی چیزیں پسند کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز سے فارغ ہو کر جب واپس آتے تو اپنی ازواج کے پاس واپس تشریف لے جاتے اور بعض سے قریب بھی ہوتے تھے۔ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور معمول سے زیادہ دیر ان کے گھر ٹھہرے۔ مجھے اس پر غیرت آئی اور میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو ان کی قوم کی کسی خاتون نے انہیں شہد کا ایک ڈبہ دیا ہے اور انہوں نے اسی کا شربت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیش کیا ہے۔ میں نے اپنے جی میں کہا: اللہ کی قسم! میں تو ایک حیلہ کروں گی، پھر میں نے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس آئیں گے اور جب آئیں تو کہنا کہ معلوم ہوتا ہے آپ نے مغافیر کھا رکھا ہے؟ ظاہر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جواب میں انکار کریں گے۔ اس وقت کہنا کہ پھر یہ بو کیسی ہے جو آپ کے منہ سے معلوم کر رہی ہوں؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں گے کہ حفصہ نے شہد کا شربت مجھے پلایا ہے۔ تم کہنا کہ غالباً اس شہد کی مکھی نے مغافیر کے درخت کا عرق چوسا ہو گا۔ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی کہوں گی اور صفیہ تم بھی یہی کہنا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سودہ رضی اللہ عنہ کہتی تھیں کہ اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جونہی دروازے پر آ کر کھڑے ہوئے تو تمہارے خوف سے میں نے ارادہ کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ بات کہوں جو تم نے مجھ سے کہی تھی۔ چنانچہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سودہ رضی اللہ عنہا کے قریب تشریف لے گئے تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ انہوں نے کہا، پھر یہ بو کیسی ہے جو آپ کے منہ سے محسوس کرتی ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا ہے۔ اس پر سودہ رضی اللہ عنہ بولیں اس شہد کی مکھی نے مغافیر کے درخت کا عرق چوسا ہو گا۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میں نے بھی یہی بات کہی اس کے بعد جب صفیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے بھی اسی کو دہرایا۔ اس کے بعد جب پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ شہد پھر نوش فرمائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اس پر سودہ بولیں، واللہ! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو روکنے میں کامیاب ہو گئے، میں نے ان سے کہا کہ ابھی چپ رہو۔
English Translation
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) was fond of honey and sweet edible things and (it was his habit) that after finishing the `Asr prayer he would visit his wives and stay with one of them at that time. Once he went to Hafsa, the daughter of `Umar and stayed with her more than usual. I got jealous and asked the reason for that. I was told that a lady of her folk had given her a skin filled with honey as a present, and that she made a syrup from it and gave it to the Prophet (ﷺ) to drink (and that was the reason for the delay). I said, "By Allah we will play a trick on him (to prevent him from doing so)." So I said to Sa`da bint Zam`a "The Prophet (ﷺ) will approach you, and when he comes near you, say: 'Have you taken Maghafir (a bad-smelling gum)?' He will say, 'No.' Then say to him: 'Then what is this bad smell which i smell from you?' He will say to you, 'Hafsa made me drink honey syrup.' Then say: Perhaps the bees of that honey had sucked the juice of the tree of Al-`Urfut.' I shall also say the same. O you, Safiyya, say the same." Later Sa`da said, "By Allah, as soon as he (the Prophet (ﷺ) ) stood at the door, I was about to say to him what you had ordered me to say because I was afraid of you." So when the Prophet (ﷺ) came near Sa`da, she said to him, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Have you taken Maghafir?" He said, "No." She said. "Then what is this bad smell which I detect on you?" He said, "Hafsa made me drink honey syrup." She said, "Perhaps its bees had sucked the juice of Al-`Urfut tree." When he came to me, I also said the same, and when he went to Safiyya, she also said the same. And when the Prophet (ﷺ) again went to Hafsa, she said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall I give you more of that drink?" He said, "I am not in need of it." Sa`da said, "By Allah, we deprived him (of it)." I said to her, "Keep quiet
Reference: Sahih al-Bukhari 68:18
Hadith #5269
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَتَكَلَّمْ ". قَالَ قَتَادَةُ إِذَا طَلَّقَ فِي نَفْسِهِ فَلَيْسَ بِشَىْءٍ.
Urdu Translation
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے زرارہ بن اوفی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کو خیالات فاسدہ کی حد تک معاف کیا ہے، جب تک کہ اس پر عمل نہ کرے یا اسے زبان سے ادا نہ کرے۔ قتادہ رحمہ اللہ نے کہا کہ اگر کسی نے اپنے دل میں طلاق دے دی تو اس کا اعتبار نہیں ہو گا جب تک زبان سے نہ کہے۔
English Translation
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Allah has forgiven my followers the evil thoughts that occur to their minds, as long as such thoughts are not put into action or uttered." And Qatada said, "If someone divorces his wife just in his mind, such an unuttered divorce has no effect.:
Reference: Sahih al-Bukhari 68:19
Hadith #5270
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَسْلَمَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ زَنَى. فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَتَنَحَّى لِشِقِّهِ الَّذِي أَعْرَضَ فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، فَدَعَاهُ فَقَالَ " هَلْ بِكَ جُنُونٌ هَلْ أُحْصِنْتَ ". قَالَ نَعَمْ. فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ جَمَزَ حَتَّى أُدْرِكَ بِالْحَرَّةِ فَقُتِلَ.
Urdu Translation
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں ابن شہاب نے، کہا کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ اسلم کے ایک صاحب ماعز نامی مسجد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ انہوں نے زنا کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ موڑ لیا لیکن پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گئے ( اور زنا کا اقرار کیا ) پھر انہوں نے اپنے اوپر چار مرتبہ شہادت دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم پاگل تو نہیں ہو، کیا واقعی تم نے زنا کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں، پھر آپ نے پوچھا کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا کہ جی ہاں ہو چکی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عیدگاہ پر رجم کرنے کا حکم دیا۔ جب انہیں پتھر لگا تو وہ بھاگنے لگے لیکن انہیں حرہ کے پاس پکڑا گیا اور جان سے مار دیا گیا۔
English Translation
Narrated Jabir:A man from the tribe of Bani Aslam came to the Prophet (ﷺ) while he was in the mosque and said, "I have committed illegal sexual intercourse." The Prophet (ﷺ) turned his face to the other side. The man turned towards the side towards which the Prophet (ﷺ) had turned his face, and gave four witnesses against himself. On that the Prophet (ﷺ) called him and said, "Are you insane?" (He added), "Are you married?" The man said, 'Yes." On that the Prophet (ﷺ) ordered him to be stoned to the death in the Musalla (a praying place). When the stones hit him with their sharp edges and he fled, but he was caught at Al- Harra and then killed
Reference: Sahih al-Bukhari 68:20
Hadith #5272
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ أَتَى رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي الْمَسْجِدِ فَنَادَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الأَخِرَ قَدْ زَنَى ـ يَعْنِي نَفْسَهُ ـ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَتَنَحَّى لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الأَخِرَ قَدْ زَنَى فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَتَنَحَّى لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ فَقَالَ لَهُ ذَلِكَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَتَنَحَّى لَهُ الرَّابِعَةَ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ دَعَاهُ فَقَالَ " هَلْ بِكَ جُنُونٌ ". قَالَ لاَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ ". وَكَانَ قَدْ أُحْصِنَ. وَعَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيَّ، قَالَ كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ فَرَجَمْنَاهُ بِالْمُصَلَّى بِالْمَدِينَةِ، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ جَمَزَ حَتَّى أَدْرَكْنَاهُ بِالْحَرَّةِ، فَرَجَمْنَاهُ حَتَّى مَاتَ.
English Translation
Narrated Abu Huraira:A man from Bani Aslam came to Allah's Messenger (ﷺ) while he was in the mosque and called (the Prophet (ﷺ) ) saying, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have committed illegal sexual intercourse." On that the Prophet (ﷺ) turned his face from him to the other side, whereupon the man moved to the side towards which the Prophet (ﷺ) had turned his face, and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have committed illegal sexual intercourse." The Prophet turned his face (from him) to the other side whereupon the man moved to the side towards which the Prophet (ﷺ) had turned his face, and repeated his statement. The Prophet (ﷺ) turned his face (from him) to the other side again. The man moved again (and repeated his statement) for the fourth time. So when the man had given witness four times against himself, the Prophet (ﷺ) called him and said, "Are you insane?" He replied, "No." The Prophet (ﷺ) then said (to his companions), "Go and stone him to death." The man was a married one. Jabir bin `Abdullah Al-Ansari said: I was one of those who stoned him. We stoned him at the Musalla (`Id praying place) in Medina. When the stones hit him with their sharp edges, he fled, but we caught him at Al-Harra and stoned him till he died
Reference: Sahih al-Bukhari 68:21
Hadith #5273
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،. أَنَّ امْرَأَةَ، ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعْتُبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلاَ دِينٍ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الإِسْلاَمِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ". قَالَتْ نَعَمْ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً ". قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ لَا يُتَابَعُ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ
Urdu Translation
ہم سے ازہر بن جمیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے ان کے اخلاق اور دین کی وجہ سے ان سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ البتہ میں اسلام میں کفر کو پسند نہیں کرتی۔ ( کیونکہ ان کے ساتھ رہ کر ان کے حقوق زوجیت کو نہیں ادا کر سکتی ) ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کیا تم ان کا باغ ( جو انہوں نے مہر میں دیا تھا ) واپس کر سکتی ہو؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ثابت رضی اللہ عنہ سے ) فرمایا کہ باغ قبول کر لو اور انہیں طلاق دے دو۔
English Translation
Narrated Ibn `Abbas:The wife of Thabit bin Qais came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I do not blame Thabit for defects in his character or his religion, but I, being a Muslim, dislike to behave in un-Islamic manner (if I remain with him)." On that Allah's Messenger (ﷺ) said (to her), "Will you give back the garden which your husband has given you (as Mahr)?" She said, "Yes." Then the Prophet (ﷺ) said to Thabit, "O Thabit! Accept your garden, and divorce her once
Reference: Sahih al-Bukhari 68:22
Hadith #5274
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ أُخْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ، بِهَذَا، وَقَالَ " تَرُدِّينَ حَدِيقَتَهُ ". قَالَتْ نَعَمْ. فَرَدَّتْهَا وَأَمَرَهُ يُطَلِّقْهَا. وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَطَلِّقْهَا.
Urdu Translation
ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد طحان نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے کہ عبداللہ بن ابی (منافق) کی بہن جمیلہ رضی اللہ عنہا (جو ابی کی بیٹی تھی) نے یہ بیان کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا تھا کہ کیا تم ان ( ثابت رضی اللہ عنہ ) کا باغ واپس کر دو گی؟ انہوں نے عرض کیا ہاں کر دوں گی۔ چنانچہ انہوں نے باغ واپس کر دیا اور انہوں نے ان کے شوہر کو حکم دیا کہ انہیں طلاق دے دیں۔ اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا کہ ان سے خالد نے، ان سے عکرمہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ( اس روایت میں بیان کیا کہ ) ان کے شوہر ( ثابت رضی اللہ عنہ ) نے انہیں طلاق دے دی۔
English Translation
Narrated `Ikrima:The sister of `Abdullah bin Ubai narrated (the above narration, 197) with the addition that the Prophet (ﷺ) said to Thabit's wife, "Will you return his garden?" She said, "Yes," and returned it, and (then) the Prophet ordered Thabit to divorce her
Reference: Sahih al-Bukhari 68:23
Hadith #5275
وَعَنِ ابْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لاَ أَعْتُبُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلاَ خُلُقٍ، وَلَكِنِّي لاَ أُطِيقُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ". قَالَتْ نَعَمْ.
Urdu Translation
اور ابن ابی تمیمہ سے روایت ہے، ان سے عکرمہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے بیان کیا کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ثابت کے دین اور ان کے اخلاق کی وجہ سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن میں ان کے ساتھ گزارہ نہیں کر سکتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر کیا تم ان کا باغ واپس کر سکتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔
English Translation
Narrated Ibn `Abbas:The wife of Thabit bin Qais came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I do not blame Thabit for any defects in his character or his religion, but I cannot endure to live with him." On that Allah's Messenger (ﷺ) said, "Will you return his garden to him?" She said, "Yes
Reference: Sahih al-Bukhari 68:24
Hadith #5276
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَنْقِمُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلاَ خُلُقٍ، إِلاَّ أَنِّي أَخَافُ الْكُفْرَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ". فَقَالَتْ نَعَمْ. فَرَدَّتْ عَلَيْهِ، وَأَمَرَهُ فَفَارَقَهَا.
Urdu Translation
ہم سے محمد بن عبداللہ بن مبارک مخری نے کہا، کہا ہم سے قراد ابونوح نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ثابت کے دین اور ان کے اخلاق سے مجھے کوئی شکایت نہیں لیکن مجھے خطرہ ہے ( کہ میں ثابت رضی اللہ عنہ کی ناشکری میں نہ پھنس جاؤں ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تم ان کا باغ ( جو انہوں نے مہر میں دیا تھا ) واپس کر سکتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ چنانچہ انہوں نے وہ باغ واپس کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے سے جدا کر دیا۔
English Translation
Narrated Ibn `Abbas:The wife of Thabit bin Qais bin Shammas came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I do not blame Thabit for any defects in his character or his religion, but I am afraid that I (being a Muslim) may become unthankful for Allah's Blessings." On that, Allah's Messenger (ﷺ) said (to her), 'Will you return his garden to him?" She said, "Yes." So she returned his garden to him and the Prophet (ﷺ) told him to divorce her
Reference: Sahih al-Bukhari 68:25
Hadith #5277
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ جَمِيلَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
Urdu Translation
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے حماد بن یزید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے ان سے عکرمہ نے یہی قصہ ( مرسلاً ) نقل کیا اور اس میں خاتون کا نام جمیلہ آیا ہے۔
English Translation
Narrated `Ikrima:that Jamila... Then he related the whole ,Hadith, (i.e)
Reference: Sahih al-Bukhari 68:26
Hadith #5278
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ بَنِي الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُوا فِي أَنْ يَنْكِحَ عَلِيٌّ ابْنَتَهُمْ، فَلاَ آذَنُ ".
Urdu Translation
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ بنی مغیرہ نے اس کی اجازت مانگی ہے کہ علی رضی اللہ عنہ سے وہ اپنی بیٹی کا نکاح کر لیں لیکن میں انہیں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔
English Translation
Narrated Al-Miswar bin Makhrama Az-Zuhri:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Banu Al-Mughira have asked my leave to let `Ali marry their daughter, but I give no leave to this effect
Reference: Sahih al-Bukhari 68:27
Hadith #5279
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلاَثُ سُنَنٍ، إِحْدَى السُّنَنِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ، فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا. وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ". وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ فَقَالَ " أَلَمْ أَرَ الْبُرْمَةَ فِيهَا لَحْمٌ ". قَالُوا بَلَى، وَلَكِنْ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، وَأَنْتَ لاَ تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ. قَالَ " عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ ".
Urdu Translation
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے، ان سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے دین کے تین مسئلے معلوم ہو گئے۔ اول یہ کہ انہیں آزاد کیا گیا اور پھر ان کے شوہر کے بارے میں اختیار دیا گیا ( کہ چاہیں ان کے نکاح میں رہیں ورنہ الگ ہو جائیں ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انہیں کے بارے میں ) فرمایا کہ ولاء اسی سے قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے اور ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو ایک ہانڈی میں گوشت پکایا جا رہا تھا، پھر کھانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے روٹی اور گھر کا سالن پیش کیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو دیکھا کہ ہانڈی میں گوشت بھی پک رہا ہے؟ عرض کیا گیا کہ جی ہاں لیکن وہ گوشت بریرہ کو صدقہ میں ملا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے بریرہ کی طرف سے تحفہ ہے۔
English Translation
Narrated `Aisha:(the wife of the Prophet) Three traditions were established concerning situations in which Barra was involved: When she was manumitted, she was given the option to keep her husband or leave him; Allah's Messenger (ﷺ) said, "The wala is for the one who manumits, Once Allah's Messenger (ﷺ) entered the house while some meat was being cooked in a pot, but only bread and some soup of the house were placed before, him. He said, "Don't I see the pot containing meat?" They said, "Yes, but that meat was given to Barira in charity (by someone), and you do not eat what it given in charity."The Prophet (ﷺ) said "That meat is alms for her, but for us it is a present
Reference: Sahih al-Bukhari 68:28
Hadith #5280
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَهَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رَأَيْتُهُ عَبْدًا يَعْنِي زَوْجَ بَرِيرَةَ.
Urdu Translation
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ اور ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے انہیں غلام دیکھا تھا۔ آپ کی مراد بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ( مغیث ) سے تھی۔
English Translation
Narrated Ibn `Abbas:I saw him as a slave, (namely, Barira's husband)
Reference: Sahih al-Bukhari 68:29
Hadith #5281
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ذَاكَ مُغِيثٌ عَبْدُ بَنِي فُلاَنٍ ـ يَعْنِي زَوْجَ بَرِيرَةَ ـ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ، يَبْكِي عَلَيْهَا.
Urdu Translation
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ یہ مغیث بنی فلاں کے غلام تھے۔ آپ کا اشارہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کی طرف تھا۔ گویا اس وقت بھی میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ مدینہ کی گلیوں میں وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے روتے پھر رہے ہیں۔
English Translation
Narrated Ibn `Abbas:That was Mughith, the slave of Bani so-and-so, i.e., Barira's husband as if I am now looking at him following her (Barira) along the streets of Medina
Reference: Sahih al-Bukhari 68:30
Hadith #5282
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ، عَبْدًا لِبَنِي فُلاَنٍ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ وَرَاءَهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ.
Urdu Translation
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ایک حبشی غلام تھے۔ ان کا مغیث نام تھا، وہ بنی فلاں کے غلام تھے۔ جیسے وہ منظر اب بھی میری آنکھوں میں ہے کہ وہ مدینہ کی گلیوں میں بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے پھر رہے ہیں۔
English Translation
Narrated Ibn `Abbas:Barira's husband was a black slave called Mughith, the slave of Bani so-and-so-- as if I am seeing him now, walking behind her along the streets of Medina
Reference: Sahih al-Bukhari 68:31
Hadith #5283
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ زَوْجَ، بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي، وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِعَبَّاسٍ " يَا عَبَّاسُ أَلاَ تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ، وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا ". فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَوْ رَاجَعْتِهِ ". قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْمُرُنِي قَالَ " إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ ". قَالَتْ لاَ حَاجَةَ لِي فِيهِ.
Urdu Translation
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، کہا ہم سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر غلام تھے اور ان کا نام مغیث تھا۔ گویا میں اس وقت اس کو دیکھ رہا ہوں جب وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے روتے ہوئے پھر رہے تھے اور آنسوؤں سے ان کی ڈاڑھی تر ہو رہی تھی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: عباس! کیا تمہیں مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے نفرت پر حیرت نہیں ہوئی؟ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ کاش! تم اس کے بارے میں اپنا فیصلہ بدل دیتیں۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے اس کا حکم فرما رہے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔ انہوں نے اس پر کہا کہ مجھے مغیث کے پاس رہنے کی خواہش نہیں ہے۔
English Translation
Narrated Ibn `Abbas:Barira's husband was a slave called Mughith, as if I am seeing him now, going behind Barira and weeping with his tears flowing down his beard. The Prophet (ﷺ) said to `Abbas, "O `Abbas ! are you not astonished at the love of Mughith for Barira and the hatred of Barira for Mughith?" The Prophet (ﷺ) then said to Barira, "Why don't you return to him?" She said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Do you order me to do so?" He said, "No, I only intercede for him." She said, "I am not in need of him
Reference: Sahih al-Bukhari 68:32
Hadith #5284
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ، بَرِيرَةَ، فَأَبَى مَوَالِيهَا إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطُوا الْوَلاَءَ، فَذَكَرَتْ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ". وَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِلَحْمٍ فَقِيلَ إِنَّ هَذَا مَا تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ ". حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَزَادَ فَخُيِّرَتْ مِنْ زَوْجِهَا.
Urdu Translation
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں حکم نے، انہیں ابراہیم نخعی سے اور وہ اسود سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنے کا ارادہ کیا لیکن ان کے مالکوں نے کہا کہ وہ اسی شرط پر انہیں بیچ سکتے ہیں کہ بریرہ کا ترکہ ہم لیں اور ان کے ساتھ ولاء ( آزادی کے بعد ) انہیں سے قائم ہو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ انہیں خرید کر آزاد کر دو۔ ترکہ تو اسی کو ملے گا جو لونڈی غلام کو آزاد کرے اور ولاء بھی اسی کے ساتھ قائم ہو سکتی ہے جو آزاد کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گوشت لایا گیا پھر کہا کہ یہ گوشت بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ کیا گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ان کا تحفہ ہے۔ ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا اور اس روایت میں یہ اضافہ کیا کہ پھر ( آزادی کے بعد ) انہیں ان کے شوہر کے متعلق اختیار دیا گیا ( کہ چاہیں ان کے پاس رہیں اور اگر چاہیں ان سے اپنا نکاح توڑ لیں ) ۔
English Translation
Narrated Al-Aswad:Aisha intended to buy Barira, but her masters stipulated that her wala wound be for them. Aisha mentioned that to the Prophet (ﷺ) who said (to `Aisha), "Buy and manumit her, for the wala is for the one who manumits." Once some meat was brought to the Prophet (ﷺ) and was said, "This meat was given in charity to Barira. " The Prophet (ﷺ) said, "It is an object of charity for Barira and a gift for us." Narrated Adam: Shu`ba related the same Hadith and added: Barira was given the option regarding her husband
Reference: Sahih al-Bukhari 68:33
Hadith #5285
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ نِكَاحِ النَّصْرَانِيَّةِ، وَالْيَهُودِيَّةِ، قَالَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ الْمُشْرِكَاتِ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَلاَ أَعْلَمُ مِنَ الإِشْرَاكِ شَيْئًا أَكْبَرَ مِنْ أَنْ تَقُولَ الْمَرْأَةُ رَبُّهَا عِيسَى، وَهْوَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ.
Urdu Translation
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اگر یہودی یا انصاری عورتوں سے نکاح کے متعلق سوال کیا جاتا تو وہ کہتے کہ اللہ تعالیٰ نے مشرک عورتوں سے نکاح مومنوں کے لیے حرام قرار دیا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ اس سے بڑھ کر اور کیا شرک ہو گا کہ ایک عورت یہ کہے کہ اس کے رب عیسیٰ علیہ السلام ہیں حالانکہ وہ اللہ کے مقبول بندوں میں سے ایک مقبول بندے ہیں۔
English Translation
Narrated Nafi`:Whenever Ibn `Umar was asked about marrying a Christian lady or a Jewess, he would say: "Allah has made it unlawful for the believers to marry ladies who ascribe partners in worship to Allah, and I do not know of a greater thing, as regards to ascribing partners in worship, etc. to Allah, than that a lady should say that Jesus is her Lord although he is just one of Allah's slaves
Reference: Sahih al-Bukhari 68:34
Hadith #5286
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَقَالَ، عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، كَانَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى مَنْزِلَتَيْنِ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالْمُؤْمِنِينَ، كَانُوا مُشْرِكِي أَهْلِ حَرْبٍ يُقَاتِلُهُمْ وَيُقَاتِلُونَهُ، وَمُشْرِكِي أَهْلِ عَهْدٍ لاَ يُقَاتِلُهُمْ وَلاَ يُقَاتِلُونَهُ، وَكَانَ إِذَا هَاجَرَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ لَمْ تُخْطَبْ حَتَّى تَحِيضَ وَتَطْهُرَ، فَإِذَا طَهُرَتْ حَلَّ لَهَا النِّكَاحُ، فَإِنْ هَاجَرَ زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تَنْكِحَ رُدَّتْ إِلَيْهِ، وَإِنْ هَاجَرَ عَبْدٌ مِنْهُمْ أَوْ أَمَةٌ فَهُمَا حُرَّانِ وَلَهُمَا مَا لِلْمُهَاجِرِينَ. ثُمَّ ذَكَرَ مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ مِثْلَ حَدِيثِ مُجَاهِدٍ وَإِنْ هَاجَرَ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ لِلْمُشْرِكِينَ أَهْلِ الْعَهْدِ لَمْ يُرَدُّوا، وَرُدَّتْ أَثْمَانُهُمْ.
Urdu Translation
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے کہ عطاء راسانی نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کے لیے مشرکین دو طرح کے تھے۔ ایک تو مشرکین لڑائی کرنے والوں سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے جنگ کرتے تھے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرتے تھے۔ دوسرے عہد و پیمان کرنے والے مشرکین کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے جنگ نہیں کرتے تھے اور نہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرتے تھے اور جب اہل کتاب حرب کی کوئی عورت ( اسلام قبول کرنے کے بعد ) ہجرت کر کے ( مدینہ منورہ ) آتی تو انہیں اس وقت تک پیغام نکاح نہ دیا جاتا یہاں تک کہ انہیں حیض آتا اور پھر وہ اس سے پاک ہوتیں، پھر جب وہ پاک ہو جاتیں تو ان سے نکاح جائز ہو جاتا، پھر اگر ان کے شوہر بھی، ان کے کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لینے سے پہلے ہجرت کر کے آ جاتے تو یہ انہیں کو ملتیں اور اگر مشرکین میں سے کوئی غلام یا لونڈی مسلمان ہو کر ہجرت کرتی تو وہ آزاد سمجھے جاتے اور ان کے وہی حقوق ہوتے جو تمام مہاجرین کے تھے۔ پھر عطاء نے معاہد مشرکین کے سلسلے میں مجاہد کی حدیث کی طرح سے صورت حال بیان کی کہ اگر معاہد مشرکین کی کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آ جاتی تو انہیں ان کے مالک مشرکین کو واپس نہیں کیا جاتا تھا۔ البتہ جو ان کی قیمت ہوتی وہ واپس کر دی جاتی تھی۔
English Translation
Narrated Ibn 'Abbas: The pagans were of two kinds as regards their relationship to the Prophet and the Believers. Some of them were those with whom the Prophet was at war and used to fight against, and they used to fight him; the others were those with whom the Prophet (ﷺ) made a treaty, and neither did the Prophet (ﷺ) fight them, nor did they fight him. If a lady from the first group of pagans emigrated towards the Muslims, her hand would not be asked in marriage unless she got the menses and then became clean. When she became clean, it would be lawful for her to get married, and if her husband emigrated too before she got married, then she would be returned to him. If any slave or female slave emigrated from them to the Muslims, then they would be considered free persons (not slaves) and they would have the same rights as given to other emigrants. The narrator then mentioned about the pagans involved with the Muslims in a treaty, the same as occurs in Mujahid's narration. If a male slave or a female slave emigrated from such pagans as had made a treaty with the Muslims, they would not be returned, but their prices would be paid (to the pagans)
Reference: Sahih al-Bukhari 68:35
Hadith #5287
وَقَالَ عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، كَانَتْ قَرِيبَةُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَطَلَّقَهَا، فَتَزَوَّجَهَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَكَانَتْ أُمُّ الْحَكَمِ ابْنَةُ أَبِي سُفْيَانَ تَحْتَ عِيَاضِ بْنِ غَنْمٍ الْفِهْرِيِّ فَطَلَّقَهَا، فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ الثَّقَفِيُّ.
Urdu Translation
اور عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ قریبہ بنت ابی امیہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ( مشرکین سے نکاح کی مخالفت کی آیت کے بعد ) انہیں طلاق دے دی تو معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے ان سے نکاح کر لیا اور ام الحکم بنت ابی سفیان عیاض بن غنم فہری کے نکاح میں تھیں، اس وقت اس نے انہیں طلاق دے دی ( اور وہ مدینہ ہجرت کر کے آ گئیں ) اور عبداللہ بن عثمان ثقفی نے ان سے نکاح کیا۔
English Translation
Narrated Ibn 'Abbas:Qariba, The daughter of Abi Umaiyya, was the wife of 'Umar bin Al-Khattab. 'Umar divorced her and then Mu'awiyya bin Abi Sufyan married her. Similarly, Um Al-Hakam, the daughter of Abi Sufyan was the wife of 'Iyad bin Ghanm Al-Fihri. He divorced her and then 'Abdullah bin 'Uthman Al-Thaqafi married her
Reference: Sahih al-Bukhari 68:36
Hadith #5288
حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ،. وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَتِ الْمُؤْمِنَاتُ إِذَا هَاجَرْنَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَمْتَحِنُهُنَّ بِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا الشَّرْطِ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ فَقَدْ أَقَرَّ بِالْمِحْنَةِ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَقْرَرْنَ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِنَّ قَالَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " انْطَلِقْنَ فَقَدْ بَايَعْتُكُنَّ "، لاَ وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ، غَيْرَ أَنَّهُ بَايَعَهُنَّ بِالْكَلاَمِ، وَاللَّهِ مَا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى النِّسَاءِ إِلاَّ بِمَا أَمَرَهُ اللَّهُ يَقُولُ لَهُنَّ إِذَا أَخَذَ عَلَيْهِنَّ " قَدْ بَايَعْتُكُنَّ ". كَلاَمًا.
Urdu Translation
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے اور ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا کہ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مومن عورتیں جب ہجرت کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتی تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آزماتے تھے بوجہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے «يا أيها الذين آمنوا إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن» کہ ”اے وہ لوگو! جو ایمان لے آئے ہو، جب مومن عورتیں تمہارے پاس ہجرت کر کے آئیں تو انہیں آزماؤ“۔ آخر آیت تک۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ان ( ہجرت کرنے والی ) مومن عورتوں میں سے جو اس شرط کا اقرار کر لیتی ( جس کا ذکر اسی سورۃ الممتحنہ میں ہے کہ ”اللہ کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گی“ ) تو وہ آزمائش میں پوری سمجھی جاتی تھی۔ چنانچہ جب وہ اس کا اپنی زبان سے اقرار کر لیتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے کہ اب جاؤ میں نے تم سے عہد لے لیا ہے۔ ہرگز نہیں! واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے ( بیعت لیتے وقت ) کسی عورت کا ہاتھ کبھی نہیں چھوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے صرف زبان سے ( بیعت لیتے تھے ) ۔ واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے صرف انہیں چیزوں کا عہد لیا جن کا اللہ نے آپ کو حکم دیا تھا۔ بیعت لینے کے بعد آپ ان سے فرماتے کہ میں نے تم سے عہد لے لیا ہے۔ یہ آپ صرف زبان سے کہتے کہ میں نے تم سے بیعت لے لی۔
English Translation
Narrated `Aisha:(the wife of the Prophet) When believing women came to the Prophet (ﷺ) as emigrants, he used to test them in accordance with the order of Allah. 'O you who believe! When believing women come to you as emigrants, examine them . . .' (60.10) So if anyone of those believing women accepted the above mentioned conditions, she accepted the conditions of faith. When they agreed on those conditions and confessed that with their tongues, Allah's Messenger (ﷺ) would say to them, "Go, I have accepted your oath of allegiance (for Islam). By Allah, and hand of Allah's Messenger (ﷺ) never touched the hand of any woman, but he only used to take their pledge of allegiance orally. By Allah, Allah's Messenger (ﷺ) did not take the pledge of allegiance of the women except in accordance with what Allah had ordered him. When he accepted their pledge of allegiance he would say to them, "I have accepted your oath of allegiance
Reference: Sahih al-Bukhari 68:37
Hadith #5289
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ آلَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ نِسَائِهِ، وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، ثُمَّ نَزَلَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ آلَيْتَ شَهْرًا. فَقَالَ " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ".
Urdu Translation
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، ان سے ان کے بھائی عبدالحمید نے، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے حمید طویل نے کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے ایلاء کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام فرمایا، پھر آپ وہاں سے اترے۔ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ نے ایک مہینہ کا ایلاء کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
English Translation
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) took an oath that he would abstain from his wives, and at that time his leg had been sprained (dislocated). So he stayed in the Mashruba (an attic room) of his for 29 days. Then he came down, and they (the people) said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You took an oath to abstain from your wives for one month." He said, "The month is of twenty nine days
Reference: Sahih al-Bukhari 68:38
Hadith #5290
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، رضى الله عنهما كَانَ يَقُولُ فِي الإِيلاَءِ الَّذِي سَمَّى اللَّهُ لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدَ الأَجَلِ إِلاَّ أَنْ يُمْسِكَ بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يَعْزِمَ بِالطَّلاَقِ، كَمَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
English Translation
Narrated Nafi`:Ibn `Umar used to say about the Ila (which Allah defined (in the Holy Book), "If the period of Ila expires, then the husband has either to retain his wife in a handsome manner or to divorce her as Allah has ordered
Reference: Sahih al-Bukhari 68:39
Hadith #5291
وَقَالَ لِي إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ يُوقَفُ حَتَّى يُطَلِّقَ، وَلاَ يَقَعُ عَلَيْهِ الطَّلاَقُ حَتَّى يُطَلِّقَ. وَيُذْكَرُ ذَلِكَ عَنْ عُثْمَانَ وَعَلِيٍّ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَعَائِشَةَ وَاثْنَىْ عَشَرَ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
English Translation
Ibn `Umar added:"When the period of four months has expired, the husband should be put in prison so that he should divorce his wife, but the divorce does not occur unless the husband himself declares it. This has been mentioned by `Uthman, `Ali, Abu Ad-Darda, `Aisha and twelve other companions of the Prophet (ﷺ)
Reference: Sahih al-Bukhari 68:40
Hadith #5292
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ فَقَالَ " خُذْهَا، فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ". وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ، فَغَضِبَ وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، وَقَالَ " مَا لَكَ وَلَهَا، مَعَهَا الْحِذَاءُ وَالسِّقَاءُ، تَشْرَبُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا ". وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ " اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا، وَعَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ مَنْ يَعْرِفُهَا، وَإِلاَّ فَاخْلِطْهَا بِمَالِكَ ". قَالَ سُفْيَانُ فَلَقِيتُ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ـ قَالَ سُفْيَانُ وَلَمْ أَحْفَظْ عَنْهُ شَيْئًا غَيْرَ هَذَا ـ فَقُلْتُ أَرَأَيْتَ حَدِيثَ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ فِي أَمْرِ الضَّالَّةِ، هُوَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ نَعَمْ. قَالَ يَحْيَى وَيَقُولُ رَبِيعَةُ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ. قَالَ سُفْيَانُ فَلَقِيتُ رَبِيعَةَ فَقُلْتُ لَهُ.
Urdu Translation
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے کہا، ان سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے منبعث کے مولیٰ یزید نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کھوئی ہوئی بکری کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پکڑ لو، کیونکہ یا وہ تمہاری ہو گی ( اگر ایک سال تک اعلان کے بعد اس کا مالک نہ ملا ) ۔ تمہارے کسی بھائی کی ہو گی یا پھر بھیڑیے کی ہو گی ( اگر انہی جنگلوں میں پھرتی رہی ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کھوئے ہوئے اونٹ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ غصہ ہو گئے اور غصہ کی وجہ سے آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اس سے کیا غرض! اس کے پاس ( مضبوط ) کھر ہیں ( جس کی وجہ سے چلنے میں اسے کوئی دشواری نہیں ہو گی ) اس کے پاس مشکیزہ ہے جس سے وہ پانی پیتا رہے گا اور درخت کے پتے کھاتا رہے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پالے گا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی رسی کا ( جس سے وہ بندھا ہو ) اور اس کے ظرف کا ( جس میں وہ رکھا ہو ) اعلان کرو اور اس کا ایک سال تک اعلان کرو، پھر اگر کوئی ایسا شخص آ جائے جو اسے پہچانتا ہو ( اور اس کا مالک ہو تو اسے دے دو ) ورنہ اسے اپنے مال کے ساتھ ملا لو۔ سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ پھر میں ربیعہ بن عبدالرحمٰن سے ملا اور مجھے ان سے اس کے سوا اور کوئی چیز محفوظ نہیں ہے۔ میں نے ان سے پوچھا تھا کہ گم شدہ چیزوں کے بارے میں منبعث کے مولیٰ یزید کی حدیث کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا وہ زید بن خالد سے منقول ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں ( سفیان نے بیان کیا کہ ہاں ) یحییٰ نے بیان کیا کہ ربیعہ نے منبعث کے مولیٰ یزید سے بیان کیا، ان سے زید بن خالد نے۔ سفیان نے بیان کیا کہ پھر میں نے ربیعہ سے ملاقات کی اور ان سے اس کے متعلق پوچھا۔
English Translation
Narrated Yazid:(the Maula of Munba'ith) The Prophet (ﷺ) was asked regarding the case of a lost sheep. He said, "You should take it, because it is for you, or for your brother, or for the wolf." Then he was asked about a lost camel. He got angry and his face became red and he said (to the questioner), "You have nothing to do with it; it has its feet and its water container with it; it can go on drinking water and eating trees till its owner meets it." And then the Prophet (ﷺ) was asked about a Luqata (money found by somebody). He said, "Remember and recognize its tying material and its container, and make public announcement about it for one year. If somebody comes and identifies it (then give it to him), otherwise add it to your property
Reference: Sahih al-Bukhari 68:41
Hadith #5293
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَعِيرِهِ، وَكَانَ كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ، وَكَبَّرَ. وَقَالَتْ زَيْنَبُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " فُتِحَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ ". وَعَقَدَ تِسْعِينَ.
Urdu Translation
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر عبدالملک بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اپنے اونٹ پر سوار ہو کر کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی رکن کے پاس آتے تو اس کی طرف اشارہ کر کے تکبیر کہتے اور زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یاجوج ماجوج کے دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا ہے اور آپ نے اپنی انگلیوں سے نوے کا عدد بنایا۔
English Translation
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) performed the Tawaf (around the Ka`ba while riding his camel, and every time he reached the corner (of the Black Stone) he pointed at it with his hand and said, "Allahu Akbar." (Zainab said: The Prophet (ﷺ) said, "An opening has been made in the wall of Gog and Magog like this and this," forming the number 90 (with his thumb and index finger)
Reference: Sahih al-Bukhari 68:42
Hadith #5294
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم " فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لاَ يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَسَأَلَ اللَّهَ خَيْرًا، إِلاَّ أَعْطَاهُ ". وَقَالَ بِيَدِهِ، وَوَضَعَ أَنْمَلَتَهُ عَلَى بَطْنِ الْوُسْطَى وَالْخِنْصَرِ. قُلْنَا يُزَهِّدُهَا.
Urdu Translation
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن علقمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے جو مسلمان بھی اس وقت کھڑا نماز پڑھے اور اللہ سے کوئی خیر مانگے تو اللہ اسے ضرور دے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس ساعت کی وضاحت کرتے ہوئے ) اپنے دست مبارک سے اشارہ کیا اور اپنی انگلیوں کو درمیانی انگلی اور چھوٹی انگلی کے بیچ میں رکھا جس سے ہم نے سمجھا کہ آپ اس ساعت کو بہت مختصر ہونے کو بتا رہے ہیں۔
English Translation
Narrated Abu Huraira: Abul Qasim (the Prophet (ﷺ) ) said, "There is an hour (or a moment) of particular significance on Friday. If it happens that a Muslim is offering a prayer and invoking Allah for some good at that very moment, Allah will grant him his request." (The sub-narrator placed the top of his finger on the palm of the other hand between the middle finger and the little one)
Reference: Sahih al-Bukhari 68:43
Hadith #5295
وَقَالَ الأُوَيْسِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ عَدَا يَهُودِيٌّ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى جَارِيَةٍ، فَأَخَذَ أَوْضَاحًا كَانَتْ عَلَيْهَا وَرَضَخَ رَأْسَهَا، فَأَتَى بِهَا أَهْلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْىَ فِي آخِرِ رَمَقٍ، وَقَدْ أُصْمِتَتْ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَتَلَكِ فُلاَنٌ ". لِغَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لاَ، قَالَ فَقَالَ لِرَجُلٍ آخَرَ غَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا، فَأَشَارَتْ أَنْ لاَ، فَقَالَ " فَفُلاَنٌ ". لِقَاتِلِهَا فَأَشَارَتْ أَنْ نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ.
Urdu Translation
اور اویسی نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے ہشام بن یزید نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک یہودی نے ایک لڑکی پر ظلم کیا، اس کے چاندی کے زیورات جو وہ پہنے ہوئے تھی چھین لیے اور اس کا سر کچل دیا۔ لڑکی کے گھر والے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو اس کی زندگی کی بس آخری گھڑی باقی تھی اور وہ بول نہیں سکتی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کس نے مارا ہے؟ فلاں نے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ سے غیر متعلق آدمی کا نام لیا۔ اس لیے اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا کہ نہیں۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے شخص کا نام لیا اور وہ بھی اس واقعہ سے غیر متعلق تھا تو لڑکی نے سر کے اشارہ سے کہا کہ نہیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ فلاں نے تمہیں مارا ہے؟ تو اس لڑکی نے سر کے اشارہ سے ہاں کہا۔
English Translation
Narrated Anas bin Malik: During the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) a Jew attacked a girl and took some silver ornaments she was wearing and crushed her head. Her relative brought her to the Prophet (ﷺ) while she was in her last breaths, and she was unable to speak. Allah's Messenger (ﷺ) asked her, "Who has hit you? so-and-so?", mentioning somebody other than her murderer. She moved her head, indicating denial. The Prophet (ﷺ) mentioned another person other than the murderer, and she again moved her head indicating denial. Then he asked, "Was it so-and-so?", mentioning the name of her killer. She nodded, agreeing. Then Allah's Messenger (ﷺ); ordered that the head of that Jew be crushed between two stones
Reference: Sahih al-Bukhari 68:44
Hadith #5296
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْفِتْنَةُ مِنْ هَا هُنَا ". وَأَشَارَ إِلَى الْمَشْرِقِ.
Urdu Translation
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ فتنہ ادھر سے اٹھے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔
English Translation
Narrated Ibn `Umar:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Afflictions will emerge from here," pointing towards the East
Reference: Sahih al-Bukhari 68:45
Hadith #5297
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ لِرَجُلٍ " انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي ". قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمْسَيْتَ. ثُمَّ قَالَ " انْزِلْ فَاجْدَحْ ". قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمْسَيْتَ إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا. ثُمَّ قَالَ " انْزِلْ فَاجْدَحْ ". فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَشْرِقِ فَقَالَ " إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ".
Urdu Translation
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق شیبانی نے اور ان سے عبداللہ بن ابی اوفی نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ جب سورج ڈوب گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی ( بلال رضی اللہ عنہ ) سے فرمایا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول ( کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے تھے ) انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر اندھیرا ہونے دیں تو بہتر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اتر کر ستو گھول۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ اور اندھیرا ہو لینے دیں تو بہتر ہے، ابھی دن باقی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اترو اور ستو گھول لو۔ آخر تیسری مرتبہ کہنے پر انہوں نے اتر کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ستو گھولا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا، پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات ادھر سے آ رہی ہے تو روزہ دار کو افطار کر لینا چاہیئے۔
English Translation
Narrated `Abdullah bin Abi A'ufa:We were with Allah's Messenger (ﷺ) on a journey, and when the sun set, he said to a man, "Get down and prepare a drink of Sawiq for me." The man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Will you wait till it is evening?" Allah's Messenger (ﷺ) again said, "Get down and prepare a drink of Sawiq." The man said, "O Allah's Apostle! Will you wait till it is evening, for it is still daytime. " The Prophet (ﷺ) again said, "Get down and prepare a drink of Sawiq." So the third time the man got down and prepared a drink of sawiq for him. Allah's Messenger (ﷺ) drank thereof and pointed with his hand towards the East, saying, "When you see the night falling from this side, then a fasting person should break his fast
Reference: Sahih al-Bukhari 68:46
Hadith #5298
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ نِدَاءُ بِلاَلٍ ـ أَوْ قَالَ أَذَانُهُ ـ مِنْ سَحُورِهِ، فَإِنَّمَا يُنَادِي أَوْ قَالَ يُؤَذِّنُ لِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ ". وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ كَأَنَّهُ يَعْنِي الصُّبْحَ أَوِ الْفَجْرَ، وَأَظْهَرَ يَزِيدُ يَدَيْهِ ثُمَّ مَدَّ إِحْدَاهُمَا مِنَ الأُخْرَى.
Urdu Translation
ہم سے عبداللہ بن سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سلیمان تیمی نے، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کو ( سحری کھانے سے ) بلال کی پکار نہ روکے یا آپ نے فرمایا کہ ”ان کی اذان“ کیونکہ وہ پکارتے ہیں، یا فرمایا، اذان دیتے ہیں تاکہ اس وقت نماز پڑھنے والا رک جائے۔ اس کا اعلان سے یہ مقصود نہیں ہوتا کہ صبح صادق ہو گئی۔ اس وقت یزید بن زریع نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے ( صبح کاذب کی صورت بتانے کے لیے ) پھر ایک ہاتھ کو دوسرے پر پھیلایا ( صبح صادق کی صورت کے اظہار کے لیے ) ۔
English Translation
Narrated 'Abdullah bin Mas'ud: The Prophet (ﷺ) said, "The call (or the Adhan) of Bilal should not stop you from taking the Suhur-meals for Bilal calls (or pronounces the Adhan) so that the one who is offering the night prayer should take a rest, and he does not indicate the daybreak or dawn." The narrator, Yazid, described (how dawn breaks) by stretching out his hands and then separating them wide apart
Reference: Sahih al-Bukhari 68:47
Hadith #5299
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، مِنْ لَدُنْ ثَدْيَيْهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَأَمَّا الْمُنْفِقُ فَلاَ يُنْفِقُ شَيْئًا إِلاَّ مَادَّتْ عَلَى جِلْدِهِ حَتَّى تُجِنَّ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ، وَأَمَّا الْبَخِيلُ فَلاَ يُرِيدُ يُنْفِقُ إِلاَّ لَزِمَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَوْضِعَهَا، فَهْوَ يُوسِعُهَا فَلاَ تَتَّسِعُ ". وَيُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ إِلَى حَلْقِهِ.
Urdu Translation
اور لیث نے بیان کیا کہ ان سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخیل اور سخی کی مثال دو آدمیوں جیسی ہے جن پر لوہے کی دو زرہیں سینے سے گردن تک ہیں۔ سخی جب بھی کوئی چیز خرچ کرتا ہے تو زرہ اس کے چمڑے پر ڈھیلی ہو جاتی ہے اور اس کے پاؤں کی انگلیوں تک پہنچ جاتی ہے ( اور پھیل کر اتنی بڑھ جاتی ہے کہ ) اس کے نشان قدم کو مٹاتی چلتی ہے لیکن بخیل جب بھی خرچ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے، وہ اسے ڈھیلا کرنا چاہتا ہے لیکن وہ ڈھیلا نہیں ہوتا۔ اس وقت آپ نے اپنی انگلی سے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا۔
English Translation
Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger (ﷺ) said, The example of a miser and a generous person is like that of two persons wearing iron cloaks from the breast upto the neck When the generous person spends, the iron cloak enlarges and spread over his skin so much so that it covers his fingertips and obliterates his tracks. As for the miser, as soon as he thinks of spending every ring of the iron cloak sticks to its place (against his body) and he tries to expand it, but it does not expand. The Prophet (ﷺ) pointed with his hand towards his throat
Reference: Sahih al-Bukhari 68:48
Hadith #5300
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الأَنْصَارِ ". قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو عَبْدِ الأَشْهَلِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو سَاعِدَةَ ". ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ، فَقَبَضَ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ بَسَطَهُنَّ كَالرَّامِي بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ " وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ ".
Urdu Translation
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے اور انہوں نے انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں بتاؤں کہ قبیلہ انصار کا سب سے بہتر گھرانہ کون سا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ضرور بتائیے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنو نجار کا۔ اس کے بعد ان کا مرتبہ ہے جو ان سے قریب ہیں یعنی بنو عبدالاشہل کا، ان کے بعد وہ ہیں جو ان سے قریب ہیں، بنی الحارث بن خزرج کا۔ اس کے بعد وہ ہیں جو ان سے قریب ہیں، بنو ساعدہ کا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور اپنی مٹھی بند کی، پھر اسے اس طرح کھولا جیسے کوئی اپنے ہاتھ کی چیز کو پھینکتا ہے پھر فرمایا کہ انصار کے ہر گھرانہ میں خیر ہے۔
English Translation
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Shall I tell you of the best families among the Ansar?" They (the people) said, "Yes, O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet (ﷺ) said, "The best are Banu- An-Najjar, and after them are Banu `Abdil Ash-hal, and after them are Banu Al-Harith bin Al-Khazraj, and after them are Banu Sa`ida." The Prophet (ﷺ) then moved his hand by closing his fingers and then opening them like one throwing something, and then said, "Anyhow, there is good in all the families of the Ansar
Reference: Sahih al-Bukhari 68:49
Hadith #5301
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ سَمِعْتُهُ مِنْ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ أَوْ كَهَاتَيْنِ ". وَقَرَنَ بَيْنَ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى.
Urdu Translation
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ ابوحازم نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری بعثت قیامت سے اتنی قریب ہے جیسے اس کی اس سے ( یعنی شہادت کی انگلی بیچ کی انگلی سے ) یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( راوی کو شک تھا ) کہ جیسے یہ دونوں انگلیاں ہیں اور آپ نے شہادت کی اور بیچ کی انگلیوں کو ملا کر بتایا۔
English Translation
Narrated Sahl bin Sa`d As-Sa`idi:(a companion of Allah's Messenger (ﷺ)) Allah's Messenger (ﷺ), holding out his middle and index fingers, said, "My advent and the Hour's are like this (or like these)," namely, the period between his era and the Hour is like the distance between those two fingers, i.e., very short
Reference: Sahih al-Bukhari 68:50
Hadith #5302
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ". يَعْنِي ثَلاَثِينَ، ثُمَّ قَالَ " وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ". يَعْنِي تِسْعًا وَعِشْرِينَ يَقُولُ، مَرَّةً ثَلاَثِينَ وَمَرَّةً تِسْعًا وَعِشْرِينَ.
Urdu Translation
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جبلہ بن سحیم نے بیان کیا، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ اتنے، اتنے اور اتنے دنوں کا ہوتا ہے۔ آپ کی مراد تیس دن سے تھی۔ پھر فرمایا اور اتنے، اتنے اور اتنے دنوں کا بھی ہوتا ہے۔ آپ کا اشارہ انتیس دنوں کی طرف تھا۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس کی طرف اشارہ کیا اور دوسری مرتبہ انتیس کی طرف۔
English Translation
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (holding out his ten fingers thrice), said, "The month is thus and thus and thus," namely thirty days. Then (holding out his ten fingers twice and then nine fingers), he said, "It may be thus and thus and thus," namely twenty nine days. He meant once thirty days and once twenty nine days
Reference: Sahih al-Bukhari 68:51
Hadith #5303
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ وَأَشَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ " الإِيمَانُ هَا هُنَا ـ مَرَّتَيْنِ ـ أَلاَ وَإِنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ ".
Urdu Translation
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ برکتیں ادھر ہیں۔ دو مرتبہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ) ہاں اور سختی اور قساوت قلب ان کی کرخت آواز والوں میں ہے جہاں سے شیطان کی دونوں سینگیں طلوع ہوتی ہیں یعنی ربیعہ اور مضر میں۔
English Translation
Narrated Abu Masud:The Prophet (ﷺ) pointed with his hand towards Yemen and said twice, "Faith is there," and then pointed towards the East, and said, "Verily, sternness and mercilessness are the qualities of those who are busy with their camels and pay no attention to their religion, where the two sides of the head of Satan will appear," namely, the tribes of Rabl'a and Muqar
Reference: Sahih al-Bukhari 68:52
Hadith #5304
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا ". وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى، وَفَرَّجَ بَيْنَهُمَا شَيْئًا.
Urdu Translation
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبدالعزیز بن ابی حازم نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کیا اور ان دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑی سی جگہ کھلی رکھی۔
English Translation
Narrated Sahl:Allah's Messenger (ﷺ) said, "I and the one who looks after an orphan will be like this in Paradise," showing his middle and index fingers and separating them
Reference: Sahih al-Bukhari 68:53
Hadith #5305
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وُلِدَ لِي غُلاَمٌ أَسْوَدُ. فَقَالَ " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ". قَالَ نَعَمْ. قَالَ " مَا أَلْوَانُهَا ". قَالَ حُمْرٌ. قَالَ " هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ". قَالَ نَعَمْ. قَالَ " فَأَنَّى ذَلِكَ ". قَالَ لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ. قَالَ " فَلَعَلَّ ابْنَكَ هَذَا نَزَعَهُ ".
Urdu Translation
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے یہاں تو کالا کلوٹا بچہ پیدا ہوا ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ اونٹ بھی ہیں؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ان کے رنگ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ سرخ رنگ کے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ان میں کوئی سیاہی مائل سفید اونٹ بھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر یہ کہاں سے آ گیا؟ انہوں نے کہا کہ اپنی نسل کے کسی بہت پہلے کے اونٹ پر یہ پڑا ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح تمہارا یہ لڑکا بھی اپنی نسل کے کسی دور کے رشتہ دار پر پڑا ہو گا۔
English Translation
Narrated Abu Huraira:A man came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! A black child has been born for me." The Prophet asked him, "Have you got camels?" The man said, "Yes." The Prophet (ﷺ) asked him, "What color are they?" The man replied, "Red." The Prophet (ﷺ) said, "Is there a grey one among them?' The man replied, "Yes." The Prophet (ﷺ) said, "Whence comes that?" He said, "May be it is because of heredity." The Prophet (ﷺ) said, "May be your latest son has this color because of heredity
Reference: Sahih al-Bukhari 68:54
Hadith #5306
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ قَذَفَ امْرَأَتَهُ فَأَحْلَفَهُمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا.
Urdu Translation
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ نے کہ قبیلہ انصار کے ایک صحابی نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میاں بیوی سے قسم کھلوائی اور پھر دونوں میں جدائی کرا دی۔
English Translation
Narrated `Abdullah:An Ansari man accused his wife (of committing illegal sexual intercourse). The Prophet (ﷺ) made both of them takes the oath of Lian, and separated them from each other (by divorce)
Reference: Sahih al-Bukhari 68:55
Hadith #5307
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ، فَجَاءَ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ". ثُمَّ قَامَتْ فَشَهِدَتْ.
Urdu Translation
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے، کہا کہ ہم سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ہلال بن امیہ نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی، پھر وہ آئے اور گواہی دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا تم میں سے کوئی ( جو واقعی گناہ کا مرتکب ہوا ہو ) رجوع کرے گا؟ اس کے بعد ان کی بیوی کھڑی ہوئیں اور انہوں نے گواہی دی اپنے بَری ہونے کی۔
English Translation
Narrated Ibn `Abbas:Hilal bin Umaiyya accused his wife of illegal sexual intercourse and came to the Prophet (ﷺ) to bear witness (against her), (taking the oath of Lian). The Prophet (ﷺ) was saying, "Allah knows that either of you is a liar. Will anyone of you repent (to Allah)?" Then the lady got up and gave her witness
Reference: Sahih al-Bukhari 68:56
Hadith #5308
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلاَنِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الأَنْصَارِيِّ فَقَالَ لَهُ يَا عَاصِمُ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِكَ. فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا. فَقَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لاَ أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا. فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَطَ النَّاسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ أُنْزِلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا ". قَالَ سَهْلٌ فَتَلاَعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلاَعُنِهِمَا قَالَ عُوَيْمِرٌ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا. فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَكَانَتْ سُنَّةَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ.
Urdu Translation
ہم سے اسماعیل بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور انہیں سہل بن سعد ساعدی نے خبر دی کہ عویمر عجلانی، عاصم بن عدی انصاری کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ عاصم آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک شخص اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے تو کیا اسے قتل کر دے گا لیکن پھر آپ لوگ اسے بھی قتل کر دیں گے۔ آخر اسے کیا کرنا چاہیئے؟ عاصم! میرے لیے یہ مسئلہ پوچھ دو۔ چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا۔ نبی کریم نے اس طرح کے سوالات کو ناپسند فرمایا اور اظہار ناگواری کیا۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا اس کا بہت اثر لیا۔ پھر جب گھر واپس آئے تو عویمر ان کے پاس آئے اور پوچھا۔ عاصم! آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جواب دیا۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا، عویمر! تم نے میرے ساتھ اچھا معاملہ نہیں کیا، جو مسئلہ تم نے پوچھا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند فرمایا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! جب تک میں یہ مسئلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم نہ کر لوں، باز نہیں آؤں گا۔ چنانچہ عویمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صحابہ کے درمیان میں موجود تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا اس شخص کے متعلق کیا ارشاد ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے، کیا اسے قتل کر دے؟ لیکن پھر آپ لوگ اسے ( قصاص ) میں قتل کر دیں گے، تو پھر اسے کیا کرنا چاہیئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں ابھی وحی نازل ہوئی ہے۔ جاؤ اور اپنی بیوی کو لے کر آؤ۔ سہل نے بیان کیا کہ پھر ان دونوں نے لعان کیا۔ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت موجود تھا۔ جب لعان سے فارغ ہوئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! اگر اب بھی میں اسے ( اپنی بیوی کو ) اپنے ساتھ رکھتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں جھوٹا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے انہیں تین طلاقیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی دے دیں۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر لعان کرنے والوں کے لیے سنت طریقہ مقرر ہو گیا۔
English Translation
Narrated Sahl bin Sa`d As-Sa`idi:'Uwaimir Al-Ajlani came to `Asim bin Ad Al-Ansari and said to him, "O `Asim! Suppose a man saw another man with his wife, would he kill him whereupon you would kill him; or what should he do? Please, O `Asim, ask about this on my behalf." `Asim asked Allah's Messenger (ﷺ) about it. Allah's Messenger (ﷺ), disliked that question and considered it disgraceful. What `Asim heard from Allah's Messenger (ﷺ) was hard on him. When `Asim returned to his family, 'Uwaimir came to him and said, "O `Asim! What did Allah's Messenger (ﷺ). say to you?" `Asim said to 'Uwaimir, "You never bring me any good. Allah's Messenger (ﷺ) disliked the problem which I asked him about." 'Uwaimir said, "By Allah, I will not give up this matter until I ask the Prophet (ﷺ) about it." So 'Uwaimir proceeded till he came to Allah's Messenger (ﷺ) in the midst of people, and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! If a man sees another man with his wife, would he kill him, whereupon you would kill him, or what should he do?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah has revealed some decree as regards you and your wives case. Go and bring her." So they carried out the process of Lian while I was present among the people with Allah's Messenger (ﷺ). When they had finished their Lian, 'Uwaimir said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! If I should now keep her with me as a wife, then I have told a lie." So he divorced her thrice before Allah's Messenger (ﷺ) ordered him. (Ibn Shihab said: So divorce was the tradition for all those who were involved in a case of Lian)
Reference: Sahih al-Bukhari 68:57
Hadith #5309
حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنِ الْمُلاَعَنَةِ، وَعَنِ السُّنَّةِ، فِيهَا عَنْ حَدِيثِ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً، أَيَقْتُلُهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي شَأْنِهِ مَا ذَكَرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ أَمْرِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " قَدْ قَضَى اللَّهُ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ ". قَالَ فَتَلاَعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ، فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا. فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ فَرَغَا مِنَ التَّلاَعُنِ، فَفَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " ذَاكَ تَفْرِيقٌ بَيْنَ كُلِّ مُتَلاَعِنَيْنِ ". قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَكَانَتِ السُّنَّةُ بَعْدَهُمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ، وَكَانَتْ حَامِلاً، وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى لأُمِّهِ، قَالَ ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي مِيرَاثِهَا أَنَّهَا تَرِثُهُ وَيَرِثُ مِنْهَا مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنْ جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ قَصِيرًا كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ، فَلاَ أُرَاهَا إِلاَّ قَدْ صَدَقَتْ وَكَذَبَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ أَعْيَنَ ذَا أَلْيَتَيْنِ، فَلاَ أُرَاهُ إِلاَّ قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا ". فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى الْمَكْرُوهِ مِنْ ذَلِكَ.
Urdu Translation
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق بن ہمام نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے ابن شہاب نے لعان کے بارے میں اور یہ کہ شریعت کی طرف سے اس کا سنت طریقہ کیا ہے، خبر دی بنی ساعدہ کے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے بیان کیا کہ قبیلہ انصار کے ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس شخص کے متعلق آپ کا کیا ارشاد ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے، کیا وہ اسے قتل کر دے یا اسے کیا کرنا چاہیئے؟ انہیں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی وہ آیت نازل کی جس میں لعان کرنے والوں کے لیے تفصیلات بیان ہوئی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیوی کے بارے میں فیصلہ کر دیا ہے۔ بیان کیا کہ پھر دونوں نے مسجد میں لعان کیا، میں اس وقت وہاں موجود تھا۔ جب دونوں لعان سے فارغ ہوئے تو انصاری صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر اب بھی میں اسے اپنے نکاح میں رکھوں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میں نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی تھی۔ چنانچہ لعان سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی انہیں تین طلاقیں دے دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ہی انہیں جدا کر دیا۔ ( سہل نے یا ابن شہاب نے ) کہا کہ ہر لعان کرنے والے میاں بیوی کے درمیان یہی جدائی کا سنت طریقہ مقرر ہوا۔ ابن جریج نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ ان کے بعد شریعت کی طرف سے طریقہ یہ متعین ہوا کہ دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرا دی جایا کرے۔ اور وہ عورت حاملہ تھی۔ اور ان کا بیٹا اپنی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ بیان کیا کہ پھر ایسی عورت کے میراث کے بارے میں بھی یہ طریقہ شریعت کی طرف سے مقرر ہو گیا کہ بچہ اس کا وارث ہو گا اور وہ بچہ کی وارث ہو گی۔ اس کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے وراثت کے سلسلہ میں فرض کیا ہے۔ ابن جریج نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے، اسی حدیث میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر ( لعان کرنے والی خاتون ) اس نے سرخ اور پستہ قد بچہ جنا جیسے وحرہ تو میں سمجھوں گا کہ عورت ہی سچی ہے اور اس کے شوہر نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے لیکن اگر کالا، بڑی آنکھوں والا اور بڑے سرینوں والا بچہ جنا تو میں سمجھوں گا کہ شوہر نے اس کے متعلق سچ کہا تھا۔ ( عورت جھوٹی ہے ) جب بچہ پیدا ہو تو وہ بری شکل کا تھا ( یعنی اس مرد کی صورت پر جس سے وہ بدنام ہوئی تھی ) ۔
English Translation
Narrated Ibn Juraij:Ibn Shihab informed me of Lian and the tradition related to it, referring to the narration of Sahl bin Sa`d, the brother of Bani Sa`idi He said, "An Ansari man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, 'O Allah's Apostle! If a man saw another man with his wife, should he kill him, or what should he do?' So Allah revealed concerning his affair what is mentioned in the Holy Qur'an about the affair of those involved in a case of Lian. The Prophet (ﷺ) said, 'Allah has given His verdict regarding you and your wife.' So they carried out Lian in the mosque while I was present there. When they had finished, the man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! If I should now keep her with me as a wife then I have told a lie about her. Then he divorced her thrice before Allah's Messenger (ﷺ) ordered him, when they had finished the Lian process. So he divorced her in front of the Prophet (ﷺ) ." Ibn Shihab added, "After their case, it became a tradition that a couple involved in a case of Lian should be separated by divorce. That lady was pregnant then, and later on her son was called by his mother's name. The tradition concerning their inheritance was that she would be his heir and he would inherit of her property the share Allah had prescribed for him." Ibn Shihab said that Sahl bin Sa`d As'Saidi said that the Prophet (ﷺ) said (in the above narration), "If that lady delivers a small red child like a lizard, then the lady has spoken the truth and the man was a liar, but if she delivers a child with black eyes and huge lips, then her husband has spoken the truth." Then she delivered it in the shape one would dislike (as it proved her guilty)
Reference: Sahih al-Bukhari 68:58
Hadith #5310
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ذُكِرَ التَّلاَعُنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلاً، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ يَشْكُو إِلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً، فَقَالَ عَاصِمٌ مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا إِلاَّ لِقَوْلِي، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبْطَ الشَّعَرِ، وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَ أَهْلِهِ خَدْلاً آدَمَ كَثِيرَ اللَّحْمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ بَيِّنْ ". فَجَاءَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ، فَلاَعَنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا. قَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ هِيَ الَّتِي قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ ". فَقَالَ لاَ تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ فِي الإِسْلاَمِ السُّوءَ قَالَ أَبُو صَالِحٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ خَدِلاً.
Urdu Translation
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں لعان کا ذکر ہوا اور عاصم رضی اللہ عنہ نے اس سلسلہ میں کوئی بات کہی ( کہ میں اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھ لوں تو وہیں قتل کر دوں ) اور چلے گئے، پھر ان کی قوم کے ایک صحابی ( عویمر رضی اللہ عنہ ) ان کے پاس آئے یہ شکایت لے کر کہ انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر مرد کو پایا ہے۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے آج یہ ابتلاء میری اسی بات کی وجہ سے ہوا ہے ( جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہی تھی ) پھر وہ انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ واقعہ بتایا جس میں ملوث اس صحابی نے اپنی کو پایا تھا۔ یہ صاحب زرد رنگ، کم گوشت والے ( پتلے دبلے ) اور سیدھے بال والے تھے اور جس کے متعلق انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ ( تنہائی میں ) پایا، وہ گھٹے ہوئے جسم کا، گندمی اور بھرے گوشت والا تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ! اس معاملہ کو صاف کر دے۔ چنانچہ اس عورت نے بچہ اسی مرد کی شکل کا جنا جس کے متعلق شوہر نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ پایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میاں بیوی کے درمیان لعان کرایا۔ ایک شاگرد نے مجلس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کیا یہی وہ عورت ہے جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی کو بلا شہادت کے سنگسار کر سکتا تو اس عورت کو سنگسار کرتا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں ( یہ جملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) اس عورت کے متعلق فرمایا تھا جس کی بدکاری اسلام کے زمانہ میں کھل گئی تھی۔ ابوصالح اور عبداللہ بن یوسف نے اس حدیث میں بجائے «خدلا.» کے کسرہ کے ساتھ دال «خدلا.» روایت کیا ہے لیکن معنی وہی ہے۔
English Translation
Narrated Al-Qasim bin Muhammad:Ibn `Abbas; said, "Once Lian was mentioned before the Prophet (ﷺ) whereupon `Asim bin Adi said something and went away. Then a man from his tribe came to him, complaining that he had found a man with his wife. `Asim said, 'I have not been put to task except for my statement (about Lian).' `Asim took the man to the Prophet (ﷺ) and the man told him of the state in which he had found his wife. The man was pale, thin, and of lank hair, while the other man whom he claimed he had seen with his wife, was brown, fat and had much flesh on his calves. The Prophet (ﷺ) invoked, saying, 'O Allah! Reveal the truth.' So that lady delivered a child resembling the man whom her husband had mentioned he had found her with. The Prophet (ﷺ) then made them carry out Lian." Then a man from that gathering asked Ibn `Abbas, "Was she the same lady regarding which the Prophet (ﷺ) had said, 'If I were to stone to death someone without witness, I would have stoned this lady'?" Ibn `Abbas said, "No, that was another lady who, though being a Muslim, used to arouse suspicion by her outright misbehavior
Reference: Sahih al-Bukhari 68:59
Hadith #5311
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَهُ فَقَالَ فَرَّقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَخَوَىْ بَنِي الْعَجْلاَنِ، وَقَالَ " اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ". فَأَبَيَا. وَقَالَ " اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبُ ". فَأَبَيَا. فَقَالَ " اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ " فَأَبَيَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا. قَالَ أَيُّوبُ فَقَالَ لِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ إِنَّ فِي الْحَدِيثِ شَيْئًا لاَ أَرَاكَ تُحَدِّثُهُ قَالَ قَالَ الرَّجُلُ مَالِي قَالَ قِيلَ لاَ مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَقَدْ دَخَلْتَ بِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَهْوَ أَبْعَدُ مِنْكَ.
Urdu Translation
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل نے خبر دی، انہیں ایوب نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کا حکم پوچھا جس نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی ہو تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عجلان کے میاں بیوی کے درمیان ایسی صورت میں جدائی کرا دی تھی اور فرمایا تھا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ تو کیا تم میں سے ایک ( جو واقعی گناہ میں مبتلا ہو ) رجوع کرے گا لیکن ان دونوں نے انکار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں جدائی کر دی۔ اور بیان کیا کہ مجھ سے عمرو بن دینار نے فرمایا کہ حدیث کے بعض اجزاء میرا خیال ہے کہ میں نے ابھی تم سے بیان نہیں کئے ہیں۔ فرمایا کہ ان صاحب نے ( جنہوں نے لعان کیا تھا ) کہا کہ میرے مال کا کیا ہو گا ( جو میں نے مہر میں دیا تھا ) بیان کیا کہ اس پر ان سے کہا گیا کہ وہ مال ( جو عورت کو مہر میں دیا تھا ) اب تمہارا نہیں رہا۔ اگر تم سچے ہو ( اس تہمت لگانے میں تب بھی کیونکہ ) تم اس عورت کے پاس تنہائی میں جا چکے ہو اور اگر تم جھوٹے ہو تب تو تم کو اور بھی مہر نہ ملنا چاہیئے۔
English Translation
Narrated Sa`id bin Jubair:I asked Ibn `Umar, "(What is the verdict if) a man accuses his wife of illegal sexual intercourse?" Ibn `Umar said, "The Prophet (ﷺ) separated (by divorce) the couple of Bani Al-Ajlan, and said, (to them), 'Allah knows that one of you two is a liar; so will one of you repent?' But both of them refused. He again said, 'Allah knows that one of you two is a liar; so will one of you repent?' But both of them refused. So he separated them by divorce." (Aiyub, a sub-narrator said: `Amr bin Dinar said to me, "There is something else in this Hadith which you have not mentioned. It goes thus: The man said, 'What about my money (i.e. the Mahr that I have given to my wife)?' It was said, 'You have no right to restore any money, for if you have spoken the truth (as regards the accusation), you have also consummated your marriage with her; and if you have told a lie, you are less rightful to have your money back
Reference: Sahih al-Bukhari 68:60
Hadith #5312
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ،، فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلْمُتَلاَعِنَيْنِ " حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ، لاَ سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا ". قَالَ مَالِي قَالَ " لاَ مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا، فَهْوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا، فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ ". قَالَ سُفْيَانُ حَفِظْتُهُ مِنْ عَمْرٍو. وَقَالَ أَيُّوبُ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ رَجُلٌ لاَعَنَ امْرَأَتَهُ فَقَالَ بِإِصْبَعَيْهِ ـ وَفَرَّقَ سُفْيَانُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ـ فَرَّقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَخَوَىْ بَنِي الْعَجْلاَنِ، وَقَالَ " اللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ". ثَلاَثَ مَرَّاتٍ. قَالَ سُفْيَانُ حَفِظْتُهُ مِنْ عَمْرٍو وَأَيُّوبَ كَمَا أَخْبَرْتُكَ.
Urdu Translation
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ عمرو نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لعان کرنے والوں کا حکم پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تمہارا حساب تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ اب تمہیں تمہاری بیوی پر کوئی اختیار نہیں۔ ان صحابی نے عرض کیا کہ میرا مال واپس کرا دیجئیے ( جو مہر میں دیا گیا تھا ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب وہ تمہارا مال نہیں ہے۔ اگر تم اس کے معاملہ میں سچے ہو تو تمہارا یہ مال اس کے بدلہ میں ختم ہو چکا کہ تم نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا تھا اور اگر تم نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی تھی پھر تو وہ تم سے بعید تر ہے۔ سفیان نے بیان کیا کہ یہ حدیث میں نے عمرو سے یاد کی اور ایوب نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا، کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا جس نے اپنی بیوی سے لعان کیا ہو تو آپ نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کیا۔ سفیان نے اس اشارہ کو اپنی دو شہادت اور بیچ کی انگلیوں کو جدا کر کے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنی عجلان کے میاں بیوی کے درمیان جدائی کرائی تھی اور فرمایا تھا کہ اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا وہ رجوع کر لے گا؟ آپ نے تین مرتبہ یہ فرمایا۔ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا کہ سفیان بن عیینہ نے مجھ سے کہا، میں نے یہ حدیث جیسے عمرو بن دینار اور ایوب سے سن کر یاد رکھی تھی ویسی ہی تجھ سے بیان کر دی۔
English Translation
Narrated Sa`id bin Jubair:I asked Ibn `Umar about those who were involved in a case of Lien. He said, "The Prophet (ﷺ) said to those who were involved in a case of Lien, 'Your accounts are with Allah. One of you two is a liar, and you (the husband) have no right over her (she is divorced)." The man said, 'What about my property (Mahr) ?' The Prophet (ﷺ) said, 'You have no right to get back your property. If you have told the truth about her then your property was for the consummation of your marriage with her; and if you told a lie about her, then you are less rightful to get your property back.' " Sufyan, a sub-narrator said: I learned the Hadith from `Amr. Narrated Aiyub: I heard Sa`id bin Jubair saying, "I asked Ibn `Umar, 'If a man (accuses his wife for an illegal sexual intercourse and) carries out the process of Lian (what will happen)?' Ibn `Umar set two of his fingers apart. (Sufyan set his index finger and middle finger apart.) Ibn `Umar said, 'The Prophet (ﷺ) separated the couple of Bani Al-Ajlan by divorce and said thrice, "Allah knows that one of you two is a liar; so will one of you repent (to Allah)?
Reference: Sahih al-Bukhari 68:61
Hadith #5313
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَّقَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ قَذَفَهَا، وَأَحْلَفَهُمَا.
Urdu Translation
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کرا دی تھی جنہوں نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی تھی اور دونوں سے قسم لی تھی۔
English Translation
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) separated (divorced) the wife from her husband who accused her for an illegal sexual intercourse, and made them take the oath of Lian
Reference: Sahih al-Bukhari 68:62
Hadith #5314
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ لاَعَنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا.
Urdu Translation
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، کہا مجھے نافع نے خبر دی اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ قبیلہ انصار کے ایک صاحب اور ان کی بیوی کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرایا تھا اور دونوں کے درمیان جدائی کرا دی تھی۔
English Translation
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) made an Ansari man and his wife carry out Lian, and then separated them by divorce
Reference: Sahih al-Bukhari 68:63
Hadith #5315
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لاَعَنَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ، فَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ.
Urdu Translation
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہ ہم سے مالک نے، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب اور ان کی بیوی کے درمیان لعان کرایا تھا۔ پھر ان صاحب نے اپنی بیوی کے لڑکے کا انکار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی اور لڑکا عورت کو دے دیا۔
English Translation
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) made a man and his wife carry out Lian, and the husband repudiated her child. So the Prophet got them separated (by divorce) and decided that the child belonged to the mother only
Reference: Sahih al-Bukhari 68:64
Hadith #5316
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ ذُكِرَ الْمُتَلاَعِنَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلاً، ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً، فَقَالَ عَاصِمٌ مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا الأَمْرِ إِلاَّ لِقَوْلِي. فَذَهَبَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ، وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبْطَ الشَّعَرِ، وَكَانَ الَّذِي وَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ آدَمَ خَدْلاً كَثِيرَ اللَّحْمِ جَعْدًا قَطَطًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ بَيِّنْ ". فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَ عِنْدَهَا، فَلاَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا، فَقَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ هِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُ هَذِهِ ". فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لاَ تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ السُّوءَ فِي الإِسْلاَمِ.
Urdu Translation
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، کہا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن قاسم نے خبر دی، انہیں قاسم بن محمد نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے بیان کیا کہ لعان کرنے والوں کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ہوا تو عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس پر ایک بات کہی ( کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پاؤں تو وہیں قتل کر ڈالوں ) پھر واپس آئے تو ان کی قوم کے ایک صاحب ان کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر مرد کو پایا ہے۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس معاملہ میں میرا یہ ابتلاء میری اس بات کی وجہ سے ہوا ہے ( جس کے کہنے کی جرات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی تھی ) پھر وہ ان صاحب کو ساتھ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس صورت سے مطلع کیا جس میں انہوں نے اپنی بیوی کو پایا تھا۔ یہ صاحب زرد رنگ، کم گوشت والے اور سیدھے بالوں والے تھے اور وہ جسے انہوں نے اپنی بیوی کے پاس پایا تھا گندمی رنگ، گھٹے جسم کا زرد، بھرے گوشت والا تھا اس کے بال بہت زیادہ گھونگھریالے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! معاملہ صاف کر دے چنانچہ ان کی بیوی نے جو بچہ جنا وہ اسی شخص سے مشابہ تھا جس کے متعلق شوہر نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنی بیوی کے پاس اسے پایا تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان لعان کرایا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شاگرد نے مجلس میں پوچھا، کیا یہ وہی عورت ہے جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی کو بلا شہادت سنگسار کرتا تو اسے کرتا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں۔ یہ دوسری عورت تھی جو اسلام کے زمانہ میں اعلانیہ بدکاری کیا کرتی تھی۔
English Translation
Narrated Ibn `Abbas:Those involved in a case of Lian were mentioned before Allah's Messenger (ﷺ) `Asim bin Adi said something about that and then left. Later on a man from his tribe came to him and told him that he had found another man with his wife. On that `Asim said, "I have not been put to task except for what I have said (about Lian)." `Asim took the man to Allah's Messenger (ﷺ) and he told him of the state in which he found his wife. The man was pale, thin and lank-haired, while the other man whom he had found with his wife was brown, fat with thick calves and curly hair. Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Allah! Reveal the truth." Then the lady delivered a child resembling the man whom her husband had mentioned he had found with her. So Allah's Messenger (ﷺ) ordered them to carry out Lien. A man from that gathering said to Ibn `Abbas, "Was she the same lady regarding whom Allah's Messenger (ﷺ) said, 'If I were to stone to death someone without witnesses, I would have stoned this lady'?" Ibn `Abbas said, "No, that was another lady who, though being a Muslim, used to arouse suspicion because of her outright misbehavior
Reference: Sahih al-Bukhari 68:65
Hadith #5317
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رِفَاعَةَ، الْقُرَظِيَّ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، ثُمَّ طَلَّقَهَا فَتَزَوَّجَتْ آخَرَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّهُ لاَ يَأْتِيهَا، وَإِنَّهُ لَيْسَ مَعَهُ إِلاَّ مِثْلُ هُدْبَةٍ فَقَالَ " لاَ حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ، وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ ".
Urdu Translation
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسری سند اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ) ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون سے نکاح کیا، پھر انہیں طلاق دے دی، اس کے بعد ایک دوسرے صاحب نے ان خاتون سے نکاح کر لیا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے دوسرے شوہر کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ تو ان کے پاس آتے ہی نہیں اور یہ کہ ان کے پاس کپڑے کے پلو جیسا ہے ( انہوں نے پہلے شوہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کی خواہش ظاہر کی لیکن ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، جب تک تم اس ( دوسرے شوہر ) کا مزا نہ چکھ لو اور یہ تمہارا مزا نہ چکھ لیں۔
English Translation
Narrated `Aisha:Rifa`a Al-Qurazi married a lady and then divorced her whereupon she married another man. She came to the Prophet (ﷺ) and said that her new husband did not approach her, and that he was completely impotent. The Prophet (ﷺ) said (to her), "No (you cannot remarry your first husband) till you taste the second husband and he tastes you (i.e. till he consummates his marriage with you)
Reference: Sahih al-Bukhari 68:66
Hadith #5318
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الأَعْرَجِ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهَا سُبَيْعَةُ كَانَتْ تَحْتَ زَوْجِهَا، تُوُفِّيَ عَنْهَا وَهْىَ حُبْلَى، فَخَطَبَهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ، فَأَبَتْ أَنْ تَنْكِحَهُ، فَقَالَ وَاللَّهِ مَا يَصْلُحُ أَنْ تَنْكِحِيهِ حَتَّى تَعْتَدِّي آخِرَ الأَجَلَيْنِ. فَمَكُثَتْ قَرِيبًا مِنْ عَشْرِ لَيَالٍ ثُمَّ جَاءَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " انْكِحِي ".
Urdu Translation
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے، کہا کہ مجھے خبر دی ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہ زینب ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی والدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ ایک خاتون جو اسلام لائی تھیں اور جن کا نام سبیعہ تھا، اپنے شوہر کے ساتھ رہتی تھیں، شوہر کا جب انتقال ہوا تو وہ حاملہ تھیں۔ ابوسنان بن بعکک رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا لیکن انہوں نے نکاح کرنے سے انکار کیا۔ ابوالسنابل نے کہا کہ اللہ کی قسم! جب تک عدت کی دو مدتوں میں سے لمبی نہ گزار لوں گی، تمہارے لیے اس سے ( جس سے نکاح وہ کرنا چاہتی تھیں ) نکاح کرنا صحیح نہیں ہو گا۔ پھر وہ ( وضع حمل کے بعد ) تقریباً دس دن تک رکی رہیں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب نکاح کر لو۔
English Translation
Narrated Um Salama:(the wife of the Prophet) A lady from Bani Aslam, called Subai'a, become a widow while she was pregnant. Abu As-Sanabil bin Ba'kak demanded her hand in marriage, but she refused to marry him and said, "By Allah, I cannot marry him unless I have completed one of the two prescribed periods." About ten days later (after having delivered her child), she went to the Prophet (ﷺ) and he said (to her), "You can marry now
Reference: Sahih al-Bukhari 68:67
Hadith #5319
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، كَتَبَ إِلَيْهِ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِ الأَرْقَمِ أَنْ يَسْأَلَ، سُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةَ كَيْفَ أَفْتَاهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ أَفْتَانِي إِذَا وَضَعْتُ أَنْ أَنْكِحَ.
Urdu Translation
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے لیث نے، ان سے یزید نے کہ ابن شہاب نے انہیں لکھا کہ عبیداللہ بن عبداللہ نے اپنے والد (عبداللہ بن عتبہ بن مسعود) سے انہیں خبر دی کہ انہوں نے ابن الارقم کو لکھا کہ سبیعہ اسلمیہ سے پوچھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق کیا فتویٰ دیا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ جب میرے یہاں بچہ پیدا ہو گیا تو نبی کریم نے مجھے فتویٰ دیا کہ اب میں نکاح کر لوں۔
English Translation
Narrated `Abdullah bin `Abdullah:that his father had written to Ibn Al-Arqam a letter asking him to ask Subai'a Al-Aslamiya how the Prophet had given her the verdict. She said, "The Prophet, gave me his verdict that after I gave birth, I could marry
Reference: Sahih al-Bukhari 68:68
Hadith #5320
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ سُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةَ، نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا، بِلَيَالٍ فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَأْذَنَتْهُ أَنْ تَنْكِحَ، فَأَذِنَ لَهَا، فَنَكَحَتْ.
Urdu Translation
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے مسور بن مخرمہ نے کہ سبیعہ اسلمیہ اپنے شوہر کی وفات کے بعد چند دنوں تک حالت نفاس میں رہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر انہوں نے نکاح کی اجازت مانگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور انہوں نے نکاح کیا۔
English Translation
Narrated Al-Miswer bin Makhrama:Subai'a Al-Aslamiya gave birth to a child a few days after the death of her husband. She came to the Prophet and asked permission to remarry, and the Prophet (ﷺ) gave her permission, and she got married
Reference: Sahih al-Bukhari 68:69
Hadith #5322
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَذْكُرُ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، طَلَّقَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ، فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى مَرْوَانَ وَهْوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ اتَّقِ اللَّهَ وَارْدُدْهَا إِلَى بَيْتِهَا. قَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَكَمِ غَلَبَنِي. وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَوَمَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ لاَ يَضُرُّكَ أَنْ لاَ تَذْكُرَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ. فَقَالَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ إِنْ كَانَ بِكِ شَرٌّ فَحَسْبُكِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ.
English Translation
(Narrated Qasim bin Muhammad and Sulaiman bin Yasar:that Yahya bin Sa`id bin Al-`As divorced the daughter of `Abdur-Rahman bin Al-Hakarn. `Abdur- Rahman took her to his house. On that `Aisha sent a message to Marwan bin Al-Hakam who was the ruler of Medina, saying, "Fear Allah, and urge your brother) to return her to her house." Marwan (in Sulaiman's version) said, "Abdur-Rahman bin Al-Hakam did not obey me (or had a convincing argument)." (In Al-Qasim's versions Marwan said, "Have you not heard of the case of Fatima bint Qais?" Aisha said, "The case of Fatima bint Qais is not in your favor.' Marwan bin Al-Hakam said to `Aisha, "The reason that made Fatima bint Qais go to her father's house is just applicable to the daughter of `Abdur-Rahman)
Reference: Sahih al-Bukhari 68:70
Hadith #5324
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ مَا لِفَاطِمَةَ أَلاَ تَتَّقِي اللَّهَ، يَعْنِي فِي قَوْلِهَا لاَ سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةَ
English Translation
Narrated Al-Qasim:Aisha said, "What is wrong with Fatima? Why doesn't she fear Allah?" by saying that a divorced lady is not entitled to be provided with residence and sustenance (by her husband)
Reference: Sahih al-Bukhari 68:71
Hadith #5326
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ لِعَائِشَةَ أَلَمْ تَرَيْنَ إِلَى فُلاَنَةَ بِنْتِ الْحَكَمِ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ فَخَرَجَتْ. فَقَالَتْ بِئْسَ مَا صَنَعَتْ. قَالَ أَلَمْ تَسْمَعِي فِي قَوْلِ فَاطِمَةَ قَالَتْ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ لَهَا خَيْرٌ فِي ذِكْرِ هَذَا الْحَدِيثِ. وَزَادَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَابَتْ عَائِشَةُ أَشَدَّ الْعَيْبِ وَقَالَتْ إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحِشٍ فَخِيفَ عَلَى نَاحِيَتِهَا، فَلِذَلِكَ أَرْخَصَ لَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم.
English Translation
Narrated Qasim:Urwa said to Aisha, "Do you know so-and-so, the daughter of Al-Hakam? Her husband divorced her irrevocably and she left (her husband's house)." `Aisha said, "What a bad thing she has done!" 'Urwa said (to `Aisha), "Haven't you heard the statement of Fatima?" `Aisha replied, "It is not in her favor to mention." 'Urwa added, `Aisha reproached (Fatima) severely and said, "Fatima was in a lonely place, and she was prone to danger, so the Prophet (ﷺ) allowed her (to go out of her husband's house)
Reference: Sahih al-Bukhari 68:72
Hadith #5328
وَحَدَّثَنِي حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ.
English Translation
Narrated 'Urwa:Aisha disapproved of what Fatima used to say
Reference: Sahih al-Bukhari 68:73
Hadith #5329
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَنْفِرَ إِذَا صَفِيَّةُ عَلَى باب خِبَائِهَا كَئِيبَةً، فَقَالَ لَهَا " عَقْرَى ـ أَوْ حَلْقَى ـ إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ". قَالَتْ نَعَمْ. قَالَ " فَانْفِرِي إِذًا ".
Urdu Translation
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حجۃ الوداع میں ) کوچ کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمہ کے دروازے پر غمگین کھڑی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ «عقرى» یا ( فرمایا راوی کو شک تھا ) «حلقى» معلوم ہوتا ہے کہ تم ہمیں روک دو گی، کیا تم نے قربانی کے دن طواف کر لیا ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چلو۔
English Translation
Narrated `Aisha:When Allah's Messenger (ﷺ) decided to leave Mecca after the Hajj, he saw Safiyya, sad and standing at the entrance of her tent. He said to her, "Aqr (or) Halq! You will detain us. Did you perform Tawaf-al- Ifada on the day of Nahr? She said, "Yes." He said, "Then you can depart
Reference: Sahih al-Bukhari 68:74
Hadith #5330
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ زَوَّجَ مَعْقِلٌ أُخْتَهُ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً.
Urdu Translation
مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، ان سے یونس بن عبید نے بیان کیا، ان سے امام حسن بصری نے بیان کیا کہ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن جمیلہ کا نکاح کیا، پھر ( ان کے شوہر نے ) انہیں ایک طلاق دی۔
English Translation
Narrated Al-Hasan:Ma'qil gave his sister in marriage and later her husband divorced her once
Reference: Sahih al-Bukhari 68:75
Hadith #5331
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ، كَانَتْ أُخْتُهُ تَحْتَ رَجُلٍ فَطَلَّقَهَا، ثُمَّ خَلَّى عَنْهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، ثُمَّ خَطَبَهَا فَحَمِيَ مَعْقِلٌ مِنَ ذَلِكَ أَنَفًا فَقَالَ خَلَّى عَنْهَا وَهْوَ يَقْدِرُ عَلَيْهَا، ثُمَّ يَخْطُبُهَا فَحَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَرَأَ عَلَيْهِ، فَتَرَكَ الْحَمِيَّةَ وَاسْتَقَادَ لأَمْرِ اللَّهِ.
Urdu Translation
مجھ سے محمد بن مثنٰی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے، ان سے قتادہ نے، کہا ہم سے امام حسن بصری نے بیان کیا کہ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن ایک آدمی کے نکاح میں تھیں، پھر انہوں نے انہیں طلاق دے دی، اس کے بعد انہوں نے تنہائی میں عدت گزاری۔ عدت کے دن جب ختم ہو گئے تو ان کے پہلے شوہر نے ہی پھر معقل رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا۔ معقل کو اس پر بڑی غیرت آئی۔ انہوں نے کہا جب وہ عدت گزار رہی تھی تو اسے اس پر قدرت تھی ( کہ دوران عدت میں رجعت کر لیں لیکن ایسا نہیں کیا ) اور اب میرے پاس نکاح کا پیغام بھیجتا ہے۔ چنانچہ وہ ان کے اور اپنی بہن کے درمیان میں حائل ہو گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن فلا تعضلوهن» ”اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی مدت کو پہنچ چکیں تو تم انہیں مت روکو۔“ آخر آیت تک پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر یہ آیت سنائی تو انہوں نے ضد چھوڑ دی اور اللہ کے حکم کے سامنے جھک گئے۔
English Translation
Narrated Al-Hasan:The sister of Ma'qil bin Yasar was married to a man and then that man divorced her and remained away from her till her period of the 'Iddah expired. Then he demanded for her hand in marriage, but Ma'qil got angry out of pride and haughtiness and said, "He kept away from her when he could still retain her, and now he demands her hand again?" So Ma'qil disagreed to remarry her to him. Then Allah revealed: 'When you have divorced women and they have fulfilled the term of their prescribed period, do not prevent them from marrying their (former) husbands.' (2.232) So the Prophet (ﷺ) sent for Ma'qil and recited to him (Allah's order) and consequently Ma'qil gave up his pride and haughtiness and yielded to Allah's order
Reference: Sahih al-Bukhari 68:76
Hadith #5332
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنهما ـ طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ وَهْىَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُرَاجِعَهَا، ثُمَّ يُمْسِكَهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَى، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضِهَا، فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا حِينَ تَطْهُرُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُجَامِعَهَا، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ. وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ لأَحَدِهِمْ إِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلاَثًا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْكَ، حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ. وَزَادَ فِيهِ غَيْرُهُ عَنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ قَالَ ابْنُ عُمَرَ لَوْ طَلَّقْتَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَنِي بِهَذَا.
Urdu Translation
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما نے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی تو اس وقت وہ حائضہ تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ رجعت کر لیں اور انہیں اس وقت تک اپنے ساتھ رکھیں جب تک وہ اس حیض سے پاک ہونے کے بعد پھر دوبارہ حائضہ نہ ہوں۔ اس وقت بھی ان سے کوئی تعرض نہ کریں اور جب وہ اس حیض سے بھی پاک ہو جائیں تو اگر اس وقت انہیں طلاق دینے کا ارادہ ہو تو طہر میں اس سے پہلے کہ ان سے ہمبستری کریں، طلاق دیں۔ پس یہی وہ وقت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس میں عورتوں کو طلاق دی جائے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اگر اس کے ( مطلقہ ثلاثہ کے ) بارے میں سوال کیا جاتا تو سوال کرنے والے سے وہ کہتے کہ اگر تم نے تین طلاقیں دے دی ہیں تو پھر تمہاری بیوی تم پر حرام ہے۔ یہاں تک کہ وہ تمہارے سوا دوسرے شوہر سے نکاح کرے۔ «غير قتيبة» ( ابوالجہم ) کے اس حدیث میں لیث سے یہ اضافہ کیا ہے کہ ( انہوں نے بیان کیا کہ ) مجھ سے نافع نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اگر تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاق دے دی ہو۔ ( تو تم اسے دوبارہ اپنے نکاح میں لا سکتے ہو ) کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا حکم دیا تھا۔
English Translation
Narrated Nafi`:Ibn `Umar bin Al-Khattab divorced his wife during her menses. Allah's Messenger (ﷺ) ordered him to take her back till she became clean, and when she got another period while she was with him, she should wait till she became clean again and only then, if he wanted to divorce her, he could do so before having sexual relations with her. And that is the period Allah has fixed for divorcing women. Whenever `Abdullah (bin `Umar) was asked about that, he would say to the questioner, "If you divorced her thrice, she is no longer lawful for you unless she marries another man (and the other man divorces her in his turn).' Ibn `Umar further said, 'Would that you (people) only give one or two divorces, because the Prophet (ﷺ) has ordered me so
Reference: Sahih al-Bukhari 68:77
Hadith #5333
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ، سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ، فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، ثُمَّ يُطَلِّقَ مِنْ قُبُلِ عِدَّتِهَا، قُلْتُ فَتَعْتَدُّ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ.
Urdu Translation
ہم سے حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سیرین نے بیان کیا، کہا مجھ سے یونس بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اس وقت وہ حائضہ تھیں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ابن عمر اپنی بیوی سے رجوع کر لیں۔ پھر جب طلاق کا صحیح وقت آئے تو طلاق دیں ( یونس بن جبیر نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ) میں نے پوچھا کہ کیا اس طلاق کا بھی شمار ہوا تھا؟ انہوں نے بتلایا کہ اگر کوئی طلاق دینے والا شرع کے احکام بجا لانے سے عاجز ہو یا احمق بیوقوف ہو ( تو کیا طلاق نہیں پڑے گی؟ ) ۔
English Translation
Narrated Yunus Ibn Jubair:Ibn `Umar divorced his wife while she was having her menses. `Umar asked the Prophet (ﷺ) who said, "Order him (your son) to take her back, and then divorced her before her period of the 'Iddah has elapsed." I asked Ibn `Umar, "Will that divorce (during the menses) be counted?" He replied, "If somebody behaves foolishly (will his foolishness be an excuse for his misbehavior)?
Reference: Sahih al-Bukhari 68:78
Hadith #5334
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ هَذِهِ الأَحَادِيثَ الثَّلاَثَةَ، قَالَتْ زَيْنَبُ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةٌ خَلُوقٌ أَوْ غَيْرُهُ فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً، ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ، إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ".
English Translation
Narrated Humaid bin Nafi`:Zainab bint Abu Salama told me these three narrations: Zainab said: I went to Um Habiba, the wife of the Prophet (ﷺ) when her father, Abu- Sufyan bin Herb had died. Um ,Habiba asked for a perfume which contained yellow scent (Khaluq) or some other scent, and she first perfumed one of the girls with it and then rubbed her cheeks with it and said, "By Allah, I am not in need of perfume, but I have heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'It is not lawful for a lady who believes in Allah and the Last Day to mourn for a dead person for more than three days unless he is her husband for whom she should mourn for four months and ten days
Reference: Sahih al-Bukhari 68:79
Hadith #5335
قَالَتْ زَيْنَبُ فَدَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا، فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَتْ أَمَا وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ " لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ".
Urdu Translation
زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس وقت گئی جب ان کے والد ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا۔ ام حبیبہ نے خوشبو منگوائی جس میں خلوق خوشبو کی زردی یا کسی اور چیز کی ملاوٹ تھی، پھر وہ خوشبو ایک لونڈی نے ان کو لگائی اور ام المؤمنین نے خود اپنے رخساروں پر اسے لگایا۔ اس کے بعد کہا کہ واللہ! مجھے خوشبو کے استعمال کی کوئی خواہش نہیں تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ کسی کا سوگ منائے سوا شوہر کے ( کہ اس کا سوگ ) چار مہینے دس دن کا ہے۔
English Translation
Zainab further said:I want to Zainab bint Jahsh when her brother died. She asked for perfume and used some of it and said, "By Allah, I am not in need of perfume, but I have heard Allah's Messenger (ﷺ) saying on the pulpit, 'It is not lawful for a lady who believes in Allah and the last day to mourn for more than three days except for her husband for whom she should mourn for four months and ten days
Reference: Sahih al-Bukhari 68:80
Hadith #5336
قَالَتْ زَيْنَبُ وَسَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَهَا أَفَتَكْحُلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ ". مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ لاَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعَرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ ".
English Translation
Zainab further said:"I heard my mother, Um Salama saying that a woman came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The husband of my daughter has died and she is suffering from an eye disease, can she apply kohl to her eye?" Allah's Messenger (ﷺ) replied, "No," twice or thrice. (Every time she repeated her question) he said, "No." Then Allah's Messenger (ﷺ) added, "It is just a matter of four months and ten days. In the Pre-Islamic Period of ignorance a widow among you should throw a globe of dung when one year has elapsed
Reference: Sahih al-Bukhari 68:81
Hadith #5337
قَالَ حُمَيْدٌ فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ وَمَا تَرْمِي بِالْبَعَرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ فَقَالَتْ زَيْنَبُ كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا، وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا، وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ، ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَائِرٍ فَتَفْتَضُّ بِهِ، فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَىْءٍ إِلاَّ مَاتَ، ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَى بَعَرَةً فَتَرْمِي، ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَاءَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ. سُئِلَ مَالِكٌ مَا تَفْتَضُّ بِهِ قَالَ تَمْسَحُ بِهِ جِلْدَهَا.
Urdu Translation
حمید نے بیان کیا کہ میں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے کہ ”سال بھر تک مینگنی پھینکنی پڑتی تھی؟“ انہوں نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ایک نہایت تنگ و تاریک کوٹھڑی میں داخل ہو جاتی۔ سب سے برے کپڑے پہنتی اور خوشبو کا استعمال ترک کر دیتی۔ یہاں تک کہ اسی حالت میں ایک سال گزر جاتا پھر کسی چوپائے گدھے یا بکری یا پرندہ کو اس کے پاس لایا جاتا اور وہ عدت سے باہر آنے کے لیے اس پر ہاتھ پھیرتی۔ ایسا کم ہوتا تھا کہ وہ کسی جانور پر ہاتھ پھیر دے اور وہ مر نہ جائے۔ اس کے بعد وہ نکالی جاتی اور اسے مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینکتی۔ اب وہ خوشبو وغیرہ کوئی بھی چیز استعمال کر سکتی تھی۔ امام مالک سے پوچھا گیا کہ «تفتض به» کا کیا مطلب ہے تو آپ نے فرمایا وہ اس کا جسم چھوتی تھی۔
English Translation
I (Humaid) said to Zainab, "What does 'throwing a globe of dung when one year had elapsed' mean?" Zainab said, "When a lady was bereaved of her husband, she would live in a wretched small room and put on the worst clothes she had and would not touch any scent till one year had elapsed. Then she would bring an animal, e.g. a donkey, a sheep or a bird and rub her body against it. The animal against which she would rub her body would scarcely survive. Only then she would come out of her room, whereupon she would be given a globe of dung which she would throw away and then she would use the scent she liked or the like
Reference: Sahih al-Bukhari 68:82
Hadith #5338
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ امْرَأَةً، تُوُفِّيَ زَوْجُهَا فَخَشُوا عَلَى عَيْنَيْهَا فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَأْذَنُوهُ فِي الْكُحْلِ فَقَالَ " لاَ تَكَحَّلْ قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي شَرِّ أَحْلاَسِهَا أَوْ شَرِّ بَيْتِهَا، فَإِذَا كَانَ حَوْلٌ فَمَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعَرَةٍ، فَلاَ حَتَّى تَمْضِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ ".
Urdu Translation
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے حمید بن نافع نے، ان سے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی والدہ سے کہ ایک عورت کے شوہر کا انتقال ہو گیا، اس کے بعد اس کی آنکھ میں تکلیف ہوئی تو اس کے گھر والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے سرمہ لگانے کی اجازت مانگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سرمہ ( زمانہ عدت میں ) نہ لگاؤ۔ ( زمانہ جاہلیت میں ) تمہیں بدترین کپڑے میں وقت گزارنا پڑتا تھا، یا ( راوی کو شک تھا کہ یہ فرمایا کہ ) بدترین گھر میں وقت ( عدت ) گزارنا پڑتا تھا۔ جب اس طرح ایک سال پورا ہو جاتا تو اس کے پاس سے کتا گزرتا اور وہ اس پر مینگنی پھینکتی ( جب عدت سے باہر آتی ) پس سرمہ نہ لگاؤ۔ یہاں تک کہ چار مہینے دس دن گزر جائیں۔
English Translation
Narrated Um Salama: A woman was bereaved of her husband and her relatives worried about her eyes (which were diseased). They came to Allah's Messenger (ﷺ), and asked him to allow them to treat her eyes with kohl, but he said, "She should not apply kohl to her eyes. (In the Pre-Islamic period of Ignorance) a widowed woman among you would stay in the worst of her clothes (or the worst part of her house) and when a year had elapsed, if a dog passed by her, she would throw a globe of dung, Nay, (she cannot use kohl) till four months and ten days have elapsed
Reference: Sahih al-Bukhari 68:83
Hadith #5339
وَسَمِعْتُ زَيْنَبَ ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ، تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ، إِلاَّ عَلَى زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ".
Urdu Translation
اور میں نے زینب بنت ام سلمہ سے سنا، وہ ام حبیبہ سے بیان کرتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو۔ اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی ( کی وفات ) کا سوگ تین دن سے زیادہ منائے سوا شوہر کے کہ اس کے لیے چار مہینے دس دن ہیں۔
English Translation
Narrated Um Habiba:The Prophet (ﷺ) said, "It is not lawful for a Muslim woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for more than three days, except for her husband, for whom she should mourn for four months and ten days
Reference: Sahih al-Bukhari 68:84
Hadith #5340
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ نُهِينَا أَنْ نُحِدَّ أَكْثَرَ مِنْ ثَلاَثٍ إِلاَّ بِزَوْجٍ.
Urdu Translation
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر نے بیان کیا، کہا ہم سے سلمہ بنت علقمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہمیں منع کیا گیا ہے کہ شوہر کے سوا کسی کا سوگ تین دن سے زیادہ منائیں۔
English Translation
Narrated Um 'Atiyya:We were forbidden to mourn for more than three days except for a husband
Reference: Sahih al-Bukhari 68:85
Hadith #5341
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلاَ نَكْتَحِلَ، وَلاَ نَطَّيَّبَ، وَلاَ نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا، إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ، وَقَدْ رُخِّصَ لَنَا عِنْدَ الطُّهْرِ إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ كُسْتِ أَظْفَارٍ، وَكُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ.
Urdu Translation
مجھ سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے حفصہ نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہمیں اس سے منع کیا گیا کہ کسی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ منائیں سوا شوہر کے کہ اس کے لیے چار مہینے دس دن کی عدت تھی۔ اس عرصہ میں ہم نہ سرمہ لگاتے نہ خوشبو استعمال کرتے اور نہ رنگا کپڑا پہنتے تھے۔ البتہ وہ کپڑا اس سے الگ تھا جس کا ( دھاگا ) بننے سے پہلے ہی رنگ دیا گیا ہو۔ ہمیں اس کی اجازت تھی کہ اگر کوئی حیض کے بعد غسل کرے تو اس وقت اظفار کا تھوڑا سا عود استعمال کر لے اور ہمیں جنازہ کے پیچھے چلنے کی بھی ممانعت تھی۔
English Translation
Narrated Um 'Atiyya:We were forbidden to mourn for more than three days for a dead person, except for a husband, for whom a wife should mourn for four months and ten days (while in the mourning period) we were not allowed to put kohl in our eyes, nor perfume our-selves, nor wear dyed clothes, except a garment of 'Asb (special clothes made in Yemen). But it was permissible for us that when one of us became clean from her menses and took a bath, she could use a piece of a certain kind of incense. And it was forbidden for us to follow funeral processions
Reference: Sahih al-Bukhari 68:86
Hadith #5342
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا لاَ تَكْتَحِلُ وَلاَ تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ ".
Urdu Translation
ہم سے فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالسلام بن حرب نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے، ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے جائز نہیں کہ تین دن سے زیادہ کسی کا سوگ منائے سوا شوہر کے وہ اس کے سوگ میں نہ سرمہ لگائے نہ رنگا ہوا کپڑا پہنے مگر یمن کا دھاری دار کپڑا ( جو بننے سے پہلے ہی رنگا گیا ہو ) ۔
English Translation
Narrated Um 'Atiyya:The Prophet (ﷺ) said, "It is not lawful for a lady who believes in Allah and the Last Day, to mourn for more than three days for a dead person, except for her husband, in which case she should neither put kohl in her eyes, nor perfume herself, nor wear dyed clothes, except a garment of 'Asb
Reference: Sahih al-Bukhari 68:87
Hadith #5343
وَقَالَ الأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَتْنَا حَفْصَةُ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَطِيَّةَ، نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَلاَ تَمَسَّ طِيبًا إِلاَّ أَدْنَى طُهْرِهَا إِذَا طَهُرَتْ، نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ ". قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ الْقُسْطُ وَالْكُسْتُ مِثْلُ الْكَافُورِ وَالْقَافُورِ
Urdu Translation
امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ انصاری نے بیان کیا کہ ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا، کہا ہم سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ( کسی میت پر ) خاوند کے سوا تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے اور ( فرمایا کہ ) خوشبو کا استعمال نہ کرے، سوا طہر کے وقت جب حیض سے پاک ہو تو تھوڑا سا عود ( قسط ) اور ( مقام ) اظفار ( کی خوشبو استعمال کر سکتی ہے ) ، ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ «قسط» اور «الكست» ایک ہی چیز ہیں، جیسے ”کافور“ اور ”قافور“ دونوں ایک ہیں۔
English Translation
Um 'Atiyya added:The Prophet (ﷺ) said, "She should not use perfume except when she becomes clean from her menses whereupon she can use Qust, and Azfar (two kinds of incense)
Reference: Sahih al-Bukhari 68:88
Hadith #5344
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شِبْلٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا} قَالَ كَانَتْ هَذِهِ الْعِدَّةُ تَعْتَدُّ عِنْدَ أَهْلِ زَوْجِهَا وَاجِبًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ} قَالَ جَعَلَ اللَّهُ لَهَا تَمَامَ السَّنَةِ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَصِيَّةً إِنْ شَاءَتْ سَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ، وَهْوَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى {غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ} فَالْعِدَّةُ كَمَا هِيَ، وَاجِبٌ عَلَيْهَا، زَعَمَ ذَلِكَ عَنْ مُجَاهِدٍ. وَقَالَ عَطَاءٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَسَخَتْ هَذِهِ الآيَةُ عِدَّتَهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى {غَيْرَ إِخْرَاجٍ}. وَقَالَ عَطَاءٌ إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ عِنْدَ أَهْلِهَا، وَسَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ لِقَوْلِ اللَّهِ {فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ}. قَالَ عَطَاءٌ ثُمَّ جَاءَ الْمِيرَاثُ فَنَسَخَ السُّكْنَى، فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، وَلاَ سُكْنَى لَهَا.
Urdu Translation
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی، کہا ہم سے شبل بن عباد نے، ان سے ابن ابی نجیح نے اور ان سے مجاہد نے آیت کریمہ «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا» الخ، یعنی ”اور جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں۔“ کے متعلق کہا کہ یہ عدت جو شوہر کے گھر والوں کے پاس گزاری جاتی تھی، پہلے واجب تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج فإن خرجن فلا جناح عليكم فيما فعلن في أنفسهن من معروف» الخ، یعنی ”اور جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں ( ان پر لازم ہے کہ ) اپنی بیویوں کے حق میں نفع اٹھانے کی وصیت کر جائیں کہ وہ ایک سال تک ( گھر سے ) نہ نکالی جائیں لیکن اگر وہ ( خود ) نکل جائیں تو کوئی گناہ تم پر نہیں۔“ اس باب میں جسے وہ ( بیویاں ) اپنے بارے میں دستور کے مطابق کریں۔ مجاہد نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی بیوہ کے لیے سات مہینے بیس دن سال بھر میں سے وصیت قرار دی۔ اگر وہ چاہے تو شوہر کی وصیت کے مطابق وہیں ٹھہری رہے اور اگر چاہے ( چار مہینے دس دن کی عدت ) پوری کر کے وہاں سے چلی جائے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «غير إخراج فإن خرجن فلا جناح عليكم» تک یعنی ”انہیں نکالا نہ جائے۔ البتہ اگر وہ خود چلی جائیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔“ کا یہی منشا ہے۔ پس عدت تو جیسی کہ پہلے تھی، اب بھی اس پر واجب ہے۔ ابن ابی نجیح نے اسے مجاہد سے بیان کیا اور عطاء نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اس پہلی آیت نے بیوہ کو خاوند کے گھر میں عدت گزارنے کے حکم کو منسوخ کر دیا، اس لیے اب وہ جہاں چاہے عدت گزارے اور ( اسی طرح اس آیت نے ) اللہ تعالیٰ کے ارشاد «غير إخراج» یعنی ”انہیں نکالا نہ جائے۔“ ( کو بھی منسوخ کر دیا ہے ) ۔ عطاء نے کہا کہ اگر وہ چاہے تو اپنے ( شوہر کے ) گھر والوں کے یہاں ہی عدت گزارے اور وصیت کے مطابق قیام کرے اور اگر چاہے وہاں سے چلی آئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «فلا جناح عليكم فيما فعلن» الخ، یعنی ”پس تم پر اس کا کوئی گناہ نہیں، جو وہ اپنی مرضی کے مطابق کریں۔“ عطاء نے کہا کہ اس کے بعد میراث کا حکم نازل ہوا اور اس نے مکان کے حکم کو منسوخ کر دیا۔ پس وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے اور اس کے لیے ( شوہر کی طرف سے ) مکان کا انتظام نہیں ہو گا۔
English Translation
Narrated Mujahid:(regarding the Verse): 'If any of you dies and leaves wives behind,' That was the period of the 'Iddah which the widow was obliged to spend in the house of the late husband. Then Allah revealed: And those of you who die and leave wives should bequeath for their wives a year's maintenance and residence without turning them out, but if they leave, there is no blame on you for what they do of themselves, provided it is honorable (i.e. lawful marriage) (2.240) Mujahid said: Allah has ordered that a widow has the right to stay for seven months and twenty days with her husband's relatives through her husband's will and testament so that she will complete the period of one year (of 'Iddah). But the widow has the right to stay that extra period or go out of her husband's house as is indicated by the statement of Allah: 'But if they leave there is no blame on you,... ' (2.240) Ibn `Abbas said: The above Verse has cancelled the order of spending the period of the 'Iddah at her late husband's house, and so she could spend her period of the 'Iddah wherever she likes. And Allah says: 'Without turning them out.' 'Ata said: If she would, she could spend her period of the 'Iddah at her husband's house, and live there according to her (husband's) will and testament, and if she would, she could go out (of her husband's house) as Allah says: 'There is no blame on you for what they do of themselves.' (2.240) 'Ata added: Then the Verses of inheritance were revealed and the order of residence (for the widow) was cancelled, and she could spend her period of the 'Iddah wherever she would like, and she was no longer entitled to be accommodated by her husband's family
Reference: Sahih al-Bukhari 68:89
Hadith #5345
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ابْنَةِ أَبِي سُفْيَانَ، لَمَّا جَاءَهَا نَعِيُّ أَبِيهَا دَعَتْ بِطِيبٍ، فَمَسَحَتْ ذِرَاعَيْهَا وَقَالَتْ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ. لَوْلاَ أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ".
Urdu Translation
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم نے بیان کیا، ان سے حمید بن نافع نے بیان، ان سے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا اور ان سے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ان کے والد کی وفات کی خبر پہنچی تو انہوں نے خوشبو منگوائی اور اپنے دونوں بازؤں پر لگائی پھر کہا کہ مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہ تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو عورت اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو وہ کسی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے سوا شوہر کے کہ اس کے لیے چار مہینے دس دن ہیں۔
English Translation
Narrated Zainab bint Um Salama:When Um Habiba bint Abi Sufyan was informed of her father's death, she asked for perfume and rubbed it over her arms and said, "I am not in need of perfume, but I have heard the Prophet (ﷺ) saying, "It is not lawful for a lady who believes in Allah and the Last Day to mourn for more than three days except for her husband for whom the (mourning) period is four months and ten days
Reference: Sahih al-Bukhari 68:90
Hadith #5346
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ.
Urdu Translation
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، کاہن کی کمائی اور زانیہ عورت کے زنا کی کمائی کھانے سے منع فرمایا۔
English Translation
Narrated Abu Mas`ud:The Prophet (ﷺ) prohibited taking the price of a dog, the earnings of a soothsayer and the money earned by prostitution
Reference: Sahih al-Bukhari 68:91
Hadith #5347
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَعَنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْوَاشِمَةَ، وَالْمُسْتَوْشِمَةَ، وَآكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَنَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَكَسْبِ الْبَغِيِّ، وَلَعَنَ الْمُصَوِّرِينَ.
Urdu Translation
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے عون بن ابی جحیفہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے والی اور گدوانے والی، سود کھانے والے اور کھلانے والے پر لعنت بھیجی اور آپ نے کتے کی قیمت اور زانیہ کی کمائی کھانے سے منع فرمایا اور تصویر بنانے والوں پر لعنت کی۔
English Translation
Narrated Abu Juhaifa:The Prophet (ﷺ) cursed the lady who practices tattooing and the one who gets herself tattooed, and one who eats (takes) Riba' (usury) and the one who gives it. And he prohibited taking the price of a dog, and the money earned by prostitution, and cursed the makers of pictures
Reference: Sahih al-Bukhari 68:92
Hadith #5348
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ كَسْبِ الإِمَاءِ.
Urdu Translation
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں محمد بن جحادہ نے، انہیں ابوحازم نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کے زنا کی کمائی سے منع فرمایا۔
English Translation
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) forbade taking the earnings of a slave girl by prostitution
Reference: Sahih al-Bukhari 68:93
Hadith #5349
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَهُ فَقَالَ فَرَّقَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَخَوَىْ بَنِي الْعَجْلاَنِ وَقَالَ " اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ". فَأَبَيَا، فَقَالَ " اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ". فَأَبَيَا، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا. قَالَ أَيُّوبُ فَقَالَ لِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ فِي الْحَدِيثِ شَىْءٌ لاَ أَرَاكَ تُحَدِّثُهُ قَالَ قَالَ الرَّجُلُ مَالِي. قَالَ " لاَ مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَقَدْ دَخَلْتَ بِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَهْوَ أَبْعَدُ مِنْكَ ".
Urdu Translation
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل بن علیہ نے خبر دی، انہیں ایوب سختیانی نے اور ان سے سعید بن کبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی ہو تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنی عجلان کے میاں بیوی میں جدائی کرا دی تھی اور فرمایا تھا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا وہ رجوع کرے گا؟ لیکن دونوں نے انکار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے اسے جو تم میں سے ایک جھوٹا ہے وہ توبہ کرتا ہے یا نہیں؟ لیکن دونوں نے پھر توبہ سے انکار کیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں جدائی کرا دی۔ ایوب نے بیان کیا کہ مجھ سے عمرو بن دینار نے کہا کہ یہاں حدیث میں ایک چیز اور ہے میں نے تمہیں اسے بیان کرتے نہیں دیکھا۔ وہ یہ ہے کہ ( تہمت لگانے والے ) شوہر نے کہا تھا کہ میرا مال ( مہر ) دلوا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ تمہارا مال ہی نہیں رہا، اگر تم سچے بھی ہو تو تم اس سے خلوت کر چکے ہوا اور اگر جھوٹے ہو تب تو تم کو بطریق اولیٰ کچھ نہ ملنا چاہیئے۔
English Translation
Narrated Sa`id bin Jubair:I said to Ibn `Umar, "If a man accuses his wife of illegal sexual intercourse (what is the judgment)?" He said, "Allah's Prophet separated the couple of Bani 'Ajlan (when the husband accused his wife for an illegal sexual intercourse). The Prophet (ﷺ) said, 'Allah knows that one of you two IS a liar; so will one of you repent?' But they refused. He then again said, 'Allah knows that one of you two is a liar; so will one of you repent?' But they refused, whereupon he separated them by divorce." Aiyub (a subnarrator) said: `Amr bin Dinar said to me, "In the narration there is something which I do not see you mentioning, i.e. the husband said, "What about my money (Mahr)?' The Prophet (ﷺ) said, "You are not entitled to take back money, for if you told the truth you have already entered upon her (and consummated your marriage with her) and if you are a liar then you are less entitled to take it back
Reference: Sahih al-Bukhari 68:94
Hadith #5350
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِلْمُتَلاَعِنَيْنِ " حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ، لاَ سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا ". قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي. قَالَ " لاَ مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا، فَهْوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا، فَذَاكَ أَبْعَدُ وَأَبْعَدُ لَكَ مِنْهَا ".
Urdu Translation
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی سے فرمایا کہ تمہارا حساب اللہ کے یہاں ہو گا۔ تم میں سے ایک تو یقیناً جھوٹا ہے۔ تمہارے یعنی ( شوہر کے ) لیے اسے ( بیوی کو ) حاصل کرنے کا اب کوئی راستہ نہیں ہے۔ شوہر نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا مال؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب وہ تمہارا مال نہیں رہا۔ اگر تم نے اس کے متعلق سچ کہا تھا تو وہ اس کے بدلہ میں ہے کہ تم نے اس کی شرمگاہ اپنے لیے حلال کی تھی اور اگر تم نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی تھی تب تو اور زیادہ تجھ کو کچھ نہ ملنا چاہیئے۔
English Translation
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said to those who were involved in a case of Lian, "Your accounts are with Allah. One of you two is a liar. You (husband) have right on her (wife)." The husband said, "My money, O Allah's Apostle!" The Prophet (ﷺ) said, "You are not entitled to take back any money. If you have told the truth, the Mahr that you paid, was for having sexual relations with her lawfully; and if you are a liar, then you are less entitled to get it back
Reference: Sahih al-Bukhari 68:95