Taleemi DuniyaTaleemi Duniya
Sunan Abi Dawud

Chapter 23 of 43

Commercial Transactions (Kitab Al-Buyu)

خرید و فروخت کا بیان

90 hadiths in this chapter

Hadith #3326
SahihSahihHasan SahihHasan

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ كُنَّا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ فَقَالَ ‏ "‏ يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْحَلِفُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سماسرہ ۱؎ کہا جاتا تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے تو ہمیں ایک اچھے نام سے نوازا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سوداگروں کی جماعت! بیع میں لایعنی باتیں اور ( جھوٹی ) قسمیں ہو جاتی ہیں تو تم اسے صدقہ سے ملا دیا کرو ۲؎ ۔

English Translation

Narrated Qays ibn AbuGharazah: In the time of the Messenger of Allah (ﷺ) we used to be called brokers, but the Prophet (ﷺ) came upon us one day, and called us by a better name than that, saying: O company of merchants, unprofitable speech and swearing takes place in business dealings, so mix it with sadaqah (alms)

Reference: Sunan Abi Dawud 23:1

Hadith #3327
SahihSahihSahih

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبُسْطَامِيُّ، وَحَامِدُ بْنُ يَحْيَى، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَعْيَنَ، وَعَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، بِمَعْنَاهُ قَالَ ‏"‏ يَحْضُرُهُ الْكَذِبُ وَالْحَلِفُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ الزُّهْرِيُّ ‏"‏ اللَّغْوُ وَالْكَذِبُ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

اس سند سے بھی قیس بن ابی غرزہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں «يحضره اللغو والحلف» کے بجائے: «يحضره الكذب والحلف» ہے عبداللہ الزہری کی روایت میں: «اللغو والكذب» ہے۔

English Translation

The tradition mentioned above has also been transmitted by Qais b. Abi Gharazah through a different chain of narrators to the same effect. This version has:"Lying and swearing have a place on i." 'Abd Allah al-Zuhri said: "Unprofitable speech and lying

Reference: Sunan Abi Dawud 23:2

Hadith #3328
SahihSahihHasan

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ عَمْرٍو، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو - عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، لَزِمَ غَرِيمًا لَهُ بِعَشْرَةِ دَنَانِيرَ فَقَالَ وَاللَّهِ لاَ أُفَارِقُكَ حَتَّى تَقْضِيَنِي أَوْ تَأْتِيَنِي بِحَمِيلٍ فَتَحَمَّلَ بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهُ بِقَدْرِ مَا وَعَدَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مِنْ أَيْنَ أَصَبْتَ هَذَا الذَّهَبَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مِنْ مَعْدِنٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ حَاجَةَ لَنَا فِيهَا وَلَيْسَ فِيهَا خَيْرٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقَضَاهَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنے قرض دار کے ساتھ لگا رہا جس کے ذمہ اس کے دس دینار تھے اس نے کہا: میں تجھ سے جدا نہ ہوں گا جب تک کہ تو قرض نہ ادا کر دے، یا ضامن نہ لے آ، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض دار کی ضمانت لے لی، پھر وہ اپنے وعدے کے مطابق لے کر آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: یہ سونا تجھے کہاں سے ملا؟ اس نے کہا: میں نے کان سے نکالا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے ( لے جاؤ ) اس میں بھلائی نہیں ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے ( قرض کو ) خود ادا کر دیا۔

English Translation

Narrated Abdullah ibn Abbas: A man seized his debtor who owed ten dinars to him. He said to him: I swear by Allah, I shall not leave you until you pay off (my debt) to me or bring a surety. The Prophet (ﷺ) stood as a surety for him. He then brought as much (money) as he promised. The Prophet (ﷺ) asked: From where did you acquire this gold? He replied: From a mine. He said: We have no need of it; there is no good in it. Then the Messenger of Allah (ﷺ) paid (the debt) on his behalf

Reference: Sunan Abi Dawud 23:3

Hadith #3329
SahihSahihSahihSahih Bukhari (2051) Sahih Muslim (1599)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، - وَلاَ أَسْمَعُ أَحَدًا بَعْدَهُ يَقُولُ - سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ الْحَلاَلَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا أُمُورٌ مُشْتَبِهَاتٌ ‏"‏ ‏.‏ وَأَحْيَانًا يَقُولُ ‏"‏ مُشْتَبِهَةٌ ‏"‏ ‏.‏ ‏"‏ وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ فِي ذَلِكَ مَثَلاً إِنَّ اللَّهَ حَمَى حِمًى وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَا حَرَّمَ وَإِنَّهُ مَنْ يَرْعَ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يُخَالِطَهُ وَإِنَّهُ مَنْ يُخَالِطِ الرِّيبَةَ يُوشِكْ أَنْ يَجْسُرَ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: حلال واضح ہے، اور حرام واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں ( جن کی حلت و حرمت میں شک ہے ) اور کبھی یہ کہا کہ ان کے درمیان مشتبہ چیز ہے اور میں تمہیں یہ بات ایک مثال سے سمجھاتا ہوں، اللہ نے ( اپنے لیے ) محفوظ جگہ ( چراگاہ ) بنائی ہے، اور اللہ کی محفوظ جگہ اس کے محارم ہیں ( یعنی ایسے امور جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے ) اور جو شخص محفوظ چراگاہ کے گرد اپنے جانور چرائے گا، تو عین ممکن ہے کہ اس کے اندر داخل ہو جائے اور جو شخص مشتبہ چیزوں کے قریب جائے گا تو عین ممکن ہے کہ اسے حلال کر بیٹھنے کی جسارت کر ڈالے ۔

English Translation

Narrated Al-Nu'man b. Bashir:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: What is lawful is clear and what is unlawful is clear, but between them are certain doubtful things. I give you an example for this. Allah has a preserve, and Allah's preserve is the things He has declared unlawful. He who pastures (his animals) round the preserve will soon fall into it. He who falls into doubtful things will soon be courageous

Reference: Sunan Abi Dawud 23:4

Hadith #3330
SahihSahihSahihSahih Bukhari (52) Sahih Muslim (1599)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ ‏ "‏ وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ لا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ عِرْضَهُ وَدِينَهُ وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ یہی حدیث بیان فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے: ان دونوں کے درمیان کچھ شبہے کی چیزیں ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے، جو شبہوں سے بچا وہ اپنے دین اور اپنی عزت و آبرو کو بچا لے گیا، اور جو شبہوں میں پڑا وہ حرام میں پھنس گیا ۔

English Translation

Narrated Al-Nu'man b. Bashir:I heard Messenger of Allah (ﷺ) say: But between them are certain doubtful things which many people do not recognize. He who guards against doubtful things keeps his religion and his honor blameless, but he who falls into doubtful things falls into what is unlawful

Reference: Sunan Abi Dawud 23:5

Hadith #3331
DaifDaifDaifDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي خَيْرَةَ، يَقُولُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ دَاوُدَ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ - وَهَذَا لَفْظُهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لاَ يَبْقَى أَحَدٌ إِلاَّ أَكَلَ الرِّبَا فَإِنْ لَمْ يَأْكُلْهُ أَصَابَهُ مِنْ بُخَارِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عِيسَى ‏"‏ أَصَابَهُ مِنْ غُبَارِهِ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں سود کھانے سے کوئی بچ نہ سکے گا اور اگر نہ کھائے گا تو اس کی بھاپ کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی ۱؎ ۔ ابن عیسیٰ کی روایت میں «أصابه من بخاره» کی جگہ«أصابه من غباره» ہے، یعنی اس کی گرد کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی۔

English Translation

Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: A time is certainly coming to mankind when only the receiver of usury will remain, and if he does not receive it, some of its vapour will reach him. Ibn Isa said: Some of its dust will reach him

Reference: Sunan Abi Dawud 23:6

Hadith #3332
SahihSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي جَنَازَةٍ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْقَبْرِ يُوصِي الْحَافِرَ ‏"‏ أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا رَجَعَ اسْتَقْبَلَهُ دَاعِيَ امْرَأَةٍ فَجَاءَ وَجِيءَ بِالطَّعَامِ فَوَضَعَ يَدَهُ ثُمَّ وَضَعَ الْقَوْمُ فَأَكَلُوا فَنَظَرَ آبَاؤُنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلُوكُ لُقْمَةً فِي فَمِهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَجِدُ لَحْمَ شَاةٍ أُخِذَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا ‏"‏ ‏.‏ فَأَرْسَلَتِ الْمَرْأَةُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَرْسَلْتُ إِلَى الْبَقِيعِ يَشْتَرِي لِي شَاةً فَلَمْ أَجِدْ فَأَرْسَلْتُ إِلَى جَارٍ لِي قَدِ اشْتَرَى شَاةً أَنْ أَرْسِلْ إِلَىَّ بِهَا بِثَمَنِهَا فَلَمْ يُوجَدْ فَأَرْسَلْتُ إِلَى امْرَأَتِهِ فَأَرْسَلَتْ إِلَىَّ بِهَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَطْعِمِيهِ الأَسَارَى ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

ایک انصاری کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں گئے تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر تھے قبر کھودنے والے کو بتا رہے تھے: پیروں کی جانب سے ( قبر ) کشادہ کرو اور سر کی جانب سے چوڑی کرو پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( وہاں سے فراغت پا کر ) لوٹے تو ایک عورت کی جانب سے کھانے کی دعوت دینے والا آپ کے سامنے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس کے یہاں ) آئے اور کھانا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ رکھا ( کھانا شروع کیا ) پھر دوسرے لوگوں نے رکھا اور سب نے کھانا شروع کر دیا تو ہمارے بزرگوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک ہی لقمہ منہ میں لیے گھما پھرا رہے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے لگتا ہے یہ ایسی بکری کا گوشت ہے جسے اس کے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کر کے پکا لیا گیا ہے پھر عورت نے کہلا بھیجا: اللہ کے رسول! میں نے اپنا ایک آدمی بقیع کی طرف بکری خرید کر لانے کے لیے بھیجا تو اسے بکری نہیں ملی پھر میں نے اپنے ہمسایہ کو، جس نے ایک بکری خرید رکھی تھی کہلا بھیجا کہ تم نے جس قیمت میں بکری خرید رکھی ہے اسی قیمت میں مجھے دے دو ( اتفاق سے ) وہ ہمسایہ ( گھر پر ) نہ ملا تو میں نے اس کی بیوی سے کہلا بھیجا تو اس نے بکری میرے پاس بھیج دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ گوشت قیدیوں کو کھلا دو ۱؎ ۔

English Translation

Asim ibn Kulayb quoted his father's authority for the following statement by one of the Ansar:We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) to a funeral, and I saw the Messenger of Allah (ﷺ) at the grave giving this instruction to the grave-digger: Make it wide on the side of his feet, and make it wide on the side of his head. When he came back, he was received by a man who conveyed an invitation from a woman. So he came (to her), to it food was brought, and he put his hand (i.e. took a morsel in his hand); the people did the same and they ate. Our fathers noticed that the Messenger of Allah (ﷺ) was moving a morsel around his mouth. He then said: I find the flesh of a sheep which has been taken without its owner's permission. The woman sent a message to say: Messenger of Allah, I sent (someone) to an-Naqi' to have a sheep bought for me, but there was none; so I sent (a message) to my neighbour who had bought a sheep, asking him to send it to me for the price (he had paid), but he could not be found. I, therefore, sent (a message) to his wife and she sent it to me. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Give this food to the prisoners

Reference: Sunan Abi Dawud 23:7

Hadith #3333
SahihSahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَهُ وَكَاتِبَهُ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے، سود کے لیے گواہ بننے والے اور اس کے کاتب ( لکھنے والے ) پر لعنت فرمائی ہے۔

English Translation

Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Messenger of Allah (ﷺ) cursed the one who accepted usury, the one who paid it, the witness to it, and the one who recorded it

Reference: Sunan Abi Dawud 23:8

Hadith #3334
SahihSahihSahih LighairihiHasan

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَقُولُ ‏"‏ أَلاَ إِنَّ كُلَّ رِبًا مِنْ رِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ لَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لاَ تَظْلِمُونَ وَلاَ تُظْلَمُونَ ‏.‏ أَلاَ وَإِنَّ كُلَّ دَمٍ مِنْ دَمِ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُ مِنْهَا دَمُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ‏"‏ ‏.‏ كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي لَيْثٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ اشْهَدْ ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ‏.‏

Urdu Translation

عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجۃ الوداع میں سنا: آپ فرما رہے تھے: سنو! زمانہ جاہلیت کے سارے سود کالعدم قرار دے دیئے گئے ہیں تمہارے لیے بس تمہارا اصل مال ہے نہ تم کسی پر ظلم کرو نہ کوئی تم پر ظلم کرے ( نہ تم کسی سے سود لو نہ تم سے کوئی سود لے ) سن لو! زمانہ جاہلیت کے خون کالعدم کر دئیے گئے ہیں، اور زمانہ جاہلیت کے سارے خونوں میں سے میں سب سے پہلے جسے معاف کرتا ہوں وہ حارث بن عبدالمطلب ۱؎ کا خون ہے وہ ایک شیر خوار بچہ تھے جو بنی لیث میں پرورش پا رہے تھے کہ ان کو ہذیل کے لوگوں نے مار ڈالا تھا۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ لوگوں نے تین بار کہا: ہاں ( آپ نے پہنچا دیا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہ ۔

English Translation

Narrated Sulaiman b. 'Amr: On the authority of his father: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say in the Farewell Pilgrimage: "Lo, all claims to usury of the pre-Islamic period have been abolished. You shall have your capital sums, deal not unjustly and you shall not be dealt with unjustly. Lo, all claims for blood-vengeance belonging to the pre-Islamic period have been abolished. The first of those murdered among us whose blood-vengeance I remit is al-Harith ibn AbdulMuttalib, who suckled among Banu Layth and killed by Hudhayl." He then said: O Allah, have I conveyed the message? They said: Yes, saying it three times. He then said: O Allah, be witness, saying it three times

Reference: Sunan Abi Dawud 23:9

Hadith #3335
SahihSahihSahih Bukhari (2087) Sahih Muslim (1606)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ الْحَلِفُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مَمْحَقَةٌ لِلْبَرَكَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ السَّرْحِ ‏"‏ لِلْكَسْبِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ( جھوٹی ) قسم ( قسم کھانے والے کے خیال میں ) سامان کو رائج کر دیتی ہے، لیکن برکت کو ختم کر دیتی ہے ۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:I heard Messenger of Allah (ﷺ) say: Swearing produces a ready sale for a commodity but blots out the blessing. The narrator Ibn al-Sarh said: "for earning". He also narrated this tradition from Sa'id b. al-Musayyab on the authority of Abu Hurairah from the Prophet (ﷺ)

Reference: Sunan Abi Dawud 23:10

Hadith #3336
SahihSahihHasan SahihSahih

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَمَةُ الْعَبْدِيُّ، بَزًّا مِنْ هَجَرَ فَأَتَيْنَا بِهِ مَكَّةَ فَجَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْشِي فَسَاوَمَنَا بِسَرَاوِيلَ فَبِعْنَاهُ وَثَمَّ رَجُلٌ يَزِنُ بِالأَجْرِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ زِنْ وَأَرْجِحْ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

سوید بن قیس کہتے ہیں میں نے اور مخرمہ عبدی نے ہجر ۱؎ سے کپڑا لیا اور اسے ( بیچنے کے لیے ) مکہ لے کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس پیدل آئے، اور ہم سے پائجامہ کے کپڑے کے لیے بھاؤ تاؤ کیا تو ہم نے اسے بیچ دیا اور وہاں ایک شخص تھا جو معاوضہ لے کر وزن کیا کرتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تولو اور جھکا ہوا تولو ۔

English Translation

Narrated Suwayd ibn Qays: I and Makhrafah al-Abdi imported some garments from Hajar, and brought them to Mecca. The Messenger of Allah (ﷺ) came to us walking, and after he had bargained with us for some trousers, we sold them to him. There was a man who was weighing for payment. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: Weigh out and give overweight

Reference: Sunan Abi Dawud 23:11

Hadith #3337
SahihSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - الْمَعْنَى قَرِيبٌ - قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي صَفْوَانَ بْنِ عُمَيْرَةَ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يَذْكُرْ يَزِنُ بِالأَجْرِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ قَيْسٌ كَمَا قَالَ سُفْيَانُ وَالْقَوْلُ قَوْلُ سُفْيَانَ ‏.‏

Urdu Translation

ابوصفوان بن عمیرۃ (یعنی سوید) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی ہجرت سے پہلے مکہ آیا، پھر انہوں نے یہی حدیث بیان کی لیکن اجرت لے کر وزن کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے قیس نے بھی سفیان کی طرح بیان کیا ہے اور لائق اعتماد بات تو سفیان کی بات ہے۔

English Translation

The tradition mentioned above (No. 3330) has also been transmitted by AbuSafwan ibn Umayrah through a different chain of narrators. This version has:Abu Safwan said: I came to the Messenger of Allah (ﷺ) at Mecca before his immigration. He then narrated the rest of the tradition, but he did not mention the words "who was weighing for payment". Abu Dawud sad: Qais also transmitted it as Sufyan said: The version of Sufyan is authoritative

Reference: Sunan Abi Dawud 23:12

Hadith #3338
SahihSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رِزْمَةَ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، قَالَ رَجُلٌ لِشُعْبَةَ خَالَفَكَ سُفْيَانُ ‏.‏ قَالَ دَمَغْتَنِي ‏.‏ وَبَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ قَالَ كُلُّ مَنْ خَالَفَ سُفْيَانَ فَالْقَوْلُ قَوْلُ سُفْيَانَ ‏.‏

Urdu Translation

ابورزمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے شعبہ سے کہا: سفیان نے روایت میں آپ کی مخالفت کی ہے، آپ نے کہا: تم نے تو میرا دماغ چاٹ لیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن معین کی یہ بات پہنچی ہے کہ جس شخص نے بھی سفیان کی مخالفت کی تو لائق اعتماد بات سفیان کی بات ہو گی ۱؎۔

English Translation

Narrated Ibn Abi Rizmah:I heard my father say: A man said to Shu'bah: Sufyan opposed you (i.e. narrated a tradition which differs from your version). He replied: You racked my mind. I have been told that Yahya b. Ma'in said: If anyone opposes Sufyan, the version of Sufyan will be acceptable

Reference: Sunan Abi Dawud 23:13

Hadith #3339
Sahih MaqtuSahih MaqtuIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ كَانَ سُفْيَانُ أَحْفَظَ مِنِّي ‏.‏

Urdu Translation

شعبہ کہتے ہیں سفیان کا حافظہ مجھ سے زیادہ قوی تھا۔

English Translation

Shu'bah said:The memory of Sufyan was stronger than mine

Reference: Sunan Abi Dawud 23:14

Hadith #3340
SahihSahihSahihDaif

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْوَزْنُ وَزْنُ أَهْلِ مَكَّةَ وَالْمِكْيَالُ مِكْيَالُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَا رَوَاهُ الْفِرْيَابِيُّ وَأَبُو أَحْمَدَ عَنْ سُفْيَانَ وَافَقَهُمَا فِي الْمَتْنِ وَقَالَ أَبُو أَحْمَدَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَكَانَ ابْنِ عُمَرَ وَرَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ حَنْظَلَةَ قَالَ ‏"‏ وَزْنُ الْمَدِينَةِ وَمِكْيَالُ مَكَّةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَاخْتُلِفَ فِي الْمَتْنِ فِي حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تول میں مکے والوں کی تول معتبر ہے اور ناپ میں مدینہ والوں کی ناپ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: فریابی اور ابواحمد نے سفیان سے اسی طرح روایت کی ہے اور انہوں نے متن میں ان دونوں کی موافقت کی ہے اور ابواحمد نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی جگہ «عن ابن عباس» کہا ہے اور اسے ولید بن مسلم نے حنظلہ سے روایت کیا ہے کہ وزن ( باٹ ) مدینہ کا اور پیمانہ مکہ کا معتبر ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک بن دینار کی حدیث جسے انہوں نے عطاء سے عطاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ متن میں اختلاف واقع ہے۔

English Translation

Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) said: (The standard) weight is the weight of the people of Mecca, and the (standard) measure is the measure of the people of Medina. Abu Dawud said: Al-Firyabi and Abu Ahmad have also transmitted from Sufyan in a similar way, and he (Ibn Dukain) agreed with them on the text. The version of Abu Ahmad has: "from Ibn 'Abbas" instead of Ibn 'Umar. It has also been transmitted by al-Walid b. Muslim from Hanzalah. This version has: "the weight of Medina and the measure of Mecca." Abu Dawud said: There is a variation in the text of the version of this tradition narrated by Malik b. Dinar from 'Ata' from the Prophet (ﷺ)

Reference: Sunan Abi Dawud 23:15

Hadith #3341
HasanHasanDaif

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سَمْعَانَ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ هَا هُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلاَنٍ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ هَا هُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلاَنٍ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ هَا هُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلاَنٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُجِيبَنِي فِي الْمَرَّتَيْنِ الأُولَيَيْنِ أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّهْ بِكُمْ إِلاَّ خَيْرًا إِنَّ صَاحِبَكُمْ مَأْسُورٌ بِدَيْنِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَدَّى عَنْهُ حَتَّى مَا بَقِيَ أَحَدٌ يَطْلُبُهُ بِشَىْءٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمْعَانُ بْنُ مُشَنَّجٍ ‏.‏

Urdu Translation

سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبے میں فرمایا: کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ تو کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر پوچھا: کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ تو پھر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ تو ایک شخص کھڑے ہو کر کہا: میں ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے دوبار پوچھنے پر تم کو میرا جواب دینے سے کس چیز نے روکا تھا؟ میں تو تمہیں بھلائی ہی کی خاطر پکار رہا تھا تمہارا ساتھی اپنے قرض کے سبب قید ہے ۱؎ ۔ سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اسے دیکھا کہ اس شخص نے اس کا قرض ادا کر دیا یہاں تک کہ کوئی اس سے اپنا قرضہ مانگنے والا نہ بچا۔

English Translation

Narrated Samurah: The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us and said: Is here any one of such and such tribe present? But no one replied. He again asked: Is here any one of such and such tribe present? But no one replied. He again asked: Is here any one of such and such tribe? Then a man stood and said: I am (here), Messenger of Allah. He said: What prevented you from replying the first two times? I wish to tell you something good. Your companion has been detained (from entering Paradise) on account of his debt. Then I saw him that he paid off all his debt on his behalf and there remained no one to demand from him anything. Abu Dawud said: The name of the narrator Sam'an is Sam'an b. Mushannaj

Reference: Sunan Abi Dawud 23:16

Hadith #3342
DaifDaifDaifDaif

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيَّ، يَقُولُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ أَعْظَمَ الذُّنُوبِ عِنْدَ اللَّهِ أَنْ يَلْقَاهُ بِهَا عَبْدٌ - بَعْدَ الْكَبَائِرِ الَّتِي نَهَى اللَّهُ عَنْهَا - أَنْ يَمُوتَ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ لاَ يَدَعُ لَهُ قَضَاءً ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک ان کبائر کے بعد جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی مرے اور اس پر قرض ہو اور وہ کوئی ایسی چیز نہ چھوڑے جس سے اس کا قرض ادا ہو ۔

English Translation

Narrated AbuMusa al-Ash'ari: The Prophet (ﷺ) said: After the grave sins which Allah has prohibited the greatest sin is that a man dies while he has debt due from him and does not leave anything to pay it off, and meets Him with it

Reference: Sunan Abi Dawud 23:17

Hadith #3343
SahihSahihSahihSahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَأُتِيَ بِمَيِّتٍ فَقَالَ ‏"‏ أَعَلَيْهِ دَيْنٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ دِينَارَانِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ الأَنْصَارِيُّ هُمَا عَلَىَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَىَّ قَضَاؤُهُ وَمَنْ تَرَكَ مَالاً فَلِوَرَثَتِهِ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے جو اس حال میں مرتا کہ اس پر قرض ہوتا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ ( میت ) لایا گیا، آپ نے پوچھا: کیا اس پر قرض ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں، اس کے ذمہ دو دینار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے ساتھی کی نماز پڑھ لو ۱؎ ، تو ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کی ادائیگی کی ذمہ داری لیتا ہوں اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر جب اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فتوحات اور اموال غنیمت سے نوازا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ہر مومن سے اس کی جان سے زیادہ قریب تر ہوں پس جو کوئی قرض دار مر جائے تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہو گی اور جو کوئی مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے ورثاء کا ہو گا ۔

English Translation

Narrated Jabir ibn Abdullah: The Messenger of Allah (ﷺ) would not say funeral prayer over a person who died while the debt was due from him. A dead Muslim was brought to him and he asked: Is there any debt due from him? They (the people) said: Yes, two dirhams. He said: Pray yourselves over your companion. Then AbuQatadah al-Ansari said: I shall pay them, Messenger of Allah. The Messenger of Allah (ﷺ) then prayed over him. When Allah granted conquests to the Messenger of Allah (ﷺ), he said: I am nearer to every believer than himself, so if anyone (dies and) leaves a debt, I shall be responsible for paying it; and if anyone leaves property, it goes to his heirs

Reference: Sunan Abi Dawud 23:18

Hadith #3344
DaifDaifDaifDaif

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، رَفَعَهُ - قَالَ عُثْمَانُ وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ قَالَ اشْتَرَى مِنْ عِيرٍ تَبِيعًا وَلَيْسَ عِنْدَهُ ثَمَنُهُ فَأُرْبِحَ فِيهِ فَبَاعَهُ فَتَصَدَّقَ بِالرِّبْحِ عَلَى أَرَامِلِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَقَالَ لاَ أَشْتَرِي بَعْدَهَا شَيْئًا إِلاَّ وَعِنْدِي ثَمَنُهُ ‏.‏

Urdu Translation

عکرمہ سے روایت ہے انہوں نے اسے مرفوع کیا ہے اور عثمان کی سند یوں ہے: «حدثنا وكيع، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن شريك، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن سماك، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عكرمة، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ – عن ابن عباس، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن النبي صلى الله عليه وسلم» اور متن اسی کے ہم مثل ہے اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قافلہ سے ایک تبیع ۱؎ خریدا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کی قیمت نہیں تھی، تو آپ کو اس میں نفع دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیچ دیا اور جو نفع ہوا اسے بنو عبدالمطلب کی بیواؤں کو صدقہ کر دیا اور فرمایا: آئندہ جب تک چیز کی قیمت اپنے پاس نہ ہو گی کوئی چیز نہ خریدوں گا ۔

English Translation

A similar tradition has also been transmitted by Ibn 'Abbas though a different chain of narrators. This version says:"He (the Prophet) purchased a calf from a caravan, but he had no money with him. He then sold it with some profit and gave the profit in charity to the poor and widows of Banu 'Abd al-Muttalib. He then said: I shall not buy anything after this but only when I have money with me

Reference: Sunan Abi Dawud 23:19

Hadith #3345
SahihSahihSahihSahih Bukhari (2287) Sahih Muslim (1564)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ( چاہے وہ قرض ہو یا کسی کا کوئی حق ) اور اگر تم میں سے کوئی مالدار شخص کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی قبول کرے ۱؎ ۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Delay in payment (of debt) by a rich man is injunctive, but when one of you is referred to a wealthy man, he should accept the reference

Reference: Sunan Abi Dawud 23:20

Hadith #3346
SahihSahihSahih Muslim (1600)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَكْرًا فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ فَقُلْتُ لَمْ أَجِدْ فِي الإِبِلِ إِلاَّ جَمَلاً خِيَارًا رَبَاعِيًّا ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَعْطِهِ إِيَّاهُ فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا اونٹ بطور قرض لیا پھر آپ کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ ویسا ہی اونٹ آدمی کو لوٹا دوں، میں نے ( آ کر ) عرض کیا: مجھے کوئی ایسا اونٹ نہیں ملا سبھی اچھے، بڑے اور چھ برس کے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اسی کو دے دو، لوگوں میں اچھے وہ ہیں جو قرض کی ادائیگی اچھی کریں ۔

English Translation

Narrated Abu Rafi':The Messenger of Allah (ﷺ) borrowed a young camel, and when the camels of the sadaqah (alms) came to him, he ordered me to pay the man his young camel. I said: I find only an excellent camel in its seventh year. So the Prophet (ﷺ) said: Give it to him, for the best person is he who discharges his debt in the best manner

Reference: Sunan Abi Dawud 23:21

Hadith #3347
SahihSahihSahih Bukhari (443) Sahih Muslim (715 After 1599)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم دَيْنٌ فَقَضَانِي وَزَادَنِي ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرا کچھ قرض نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا، تو آپ نے مجھے ادا کیا اور زیادہ کر کے دیا ۱؎۔

English Translation

Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) owed me a debt and gave me something extra when he paid it

Reference: Sunan Abi Dawud 23:22

Hadith #3348
SahihSahihSahihSahih Bukhari (2174) Sahih Muslim (1586)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عُمَرَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا چاندی کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، گیہوں گیہوں کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، اور کھجور کھجور کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، اور جو جو کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو ( نقدا نقد ہونے کی صورت میں ان چیزوں میں سود نہیں ہے لیکن شرط یہ بھی ہے کہ برابر بھی ہوں ) ۱؎۔

English Translation

Narrated 'Umar:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Gold for gold is interest unless both hand over on the spot ; wheat for wheat is interest unless both hand over on the spot ; dates for dates is interest unless both hand over on the spot ; barley for barley is interest unless both hand over on the spot

Reference: Sunan Abi Dawud 23:23

Hadith #3349
SahihSahihSahih

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ مُدْىٌ بِمُدْىٍ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مُدْىٌ بِمُدْىٍ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ مُدْىٌ بِمُدْىٍ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مُدْىٌ بِمُدْىٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى وَلاَ بَأْسَ بِبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْفِضَّةِ - وَالْفِضَّةُ أَكْثَرُهُمَا - يَدًا بِيَدٍ وَأَمَّا نَسِيئَةً فَلاَ وَلاَ بَأْسَ بِبَيْعِ الْبُرِّ بِالشَّعِيرِ وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ وَأَمَّا نَسِيئَةً فَلاَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ وَهِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ بِإِسْنَادِهِ ‏.‏

Urdu Translation

عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے برابر برابر بیچو، ڈلی ہو یا سکہ، اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر برابر بیچو ڈلی ہو یا سکہ، اور گیہوں گیہوں کے بدلے برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، جو جو کے بدلے میں برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، اسی طرح کھجور کھجور کے بدلے میں برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، نمک نمک کے بدلے میں برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود دیا، سود لیا، سونے کو چاندی سے کمی و بیشی کے ساتھ نقدا نقد بیچنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن ادھار درست نہیں، اور گیہوں کو جو سے کمی و بیشی کے ساتھ نقدا نقد بیچنے میں کوئی حرج نہیں لیکن ادھار بیچنا صحیح نہیں ۲؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو سعید بن ابی عروبہ اور ہشام دستوائی نے قتادہ سے انہوں نے مسلم بن یسار سے اسی سند سے روایت کیا ہے۔

English Translation

Narrated Ubadah ibn as-Samit: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Gold is to be paid for with gold, raw and coined, silver with silver, raw and coined (in equal weight), wheat with wheat in equal measure, barley with barley in equal measure, dates with dates in equal measure, salt by salt with equal measure; if anyone gives more or asks more, he has dealt in usury. But there is no harm in selling gold for silver and silver (for gold), in unequal weight, payment being made on the spot. Do not sell them if they are to be paid for later. There is no harm in selling wheat for barley and barley (for wheat) in unequal measure, payment being made on the spot. If the payment is to be made later, then do not sell them. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Sa'id b. Abi 'Arubah, Hisham al-Dastawa'i and Qatadah from Muslim b. Yasar through his chain

Reference: Sunan Abi Dawud 23:24

Hadith #3350
SahihSahihSahihSahih Muslim (1587)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْخَبَرِ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ وَزَادَ قَالَ فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ ‏.‏

Urdu Translation

عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث کچھ کمی و بیشی کے ساتھ روایت کی ہے، اس حدیث میں اتنا اضافہ ہے کہ جب صنف بدل جائے ( قسم مختلف ہو جائے ) تو جس طرح چاہو بیچو ( مثلا سونا چاندی کے بدلہ میں گیہوں جو کے بدلہ میں ) جب کہ وہ نقدا نقد ہو۔

English Translation

The tradition mentioned above has also been transmitted by 'Ubadah b. al-Samit through a different chain of transmitters with some alternation. This version adds:"He said: If these classes differ, sell as you wish if payment is made on the spot

Reference: Sunan Abi Dawud 23:25

Hadith #3351
SahihSahihSahihSahih Muslim (1591)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلاَءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَامَ خَيْبَرَ بِقِلاَدَةٍ فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَابْنُ مَنِيعٍ فِيهَا خَرَزٌ مُعَلَّقَةٌ بِذَهَبٍ - ابْتَاعَهَا رَجُلٌ بِتِسْعَةِ دَنَانِيرَ أَوْ بِسَبْعَةِ دَنَانِيرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ حَتَّى تُمَيِّزَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ إِنَّمَا أَرَدْتُ الْحِجَارَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ حَتَّى تُمَيِّزَ بَيْنَهُمَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَرَدَّهُ حَتَّى مُيِّزَ بَيْنَهُمَا ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عِيسَى أَرَدْتُ التِّجَارَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَانَ فِي كِتَابِهِ الْحِجَارَةُ فَغَيَّرَهُ فَقَالَ التِّجَارَةَ ‏.‏

Urdu Translation

فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں خیبر کے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہار لایا گیا جس میں سونے اور پتھر کے نگ ( جڑے ہوئے ) تھے ابوبکر اور ابن منیع کہتے ہیں: اس میں پتھر کے دانے سونے سے آویزاں کئے گئے تھے، ایک شخص نے اسے نو یا سات دینار دے کر خریدا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ( یہ خریداری درست نہیں ) یہاں تک کہ تم ان دونوں کو الگ الگ کر دو اس شخص نے کہا: میرا ارادہ پتھر کے دانے ( نگ ) لینے کا تھا ( یعنی میں نے پتھر کے دانے کے دام دئیے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ خریداری درست نہیں جب تک کہ تم دونوں کو علیحدہ نہ کر دو یہ سن کر اس نے ہار واپس کر دیا، یہاں تک کہ سونا نگوں سے جدا کر دیا گیا ۱؎۔ ابن عیسیٰ نے «أردت التجارة» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ان کی کتاب میں «الحجارة» ہی تھا مگر انہوں نے اسے بدل کر «التجارة» کر دیا۔

English Translation

Narrated Fudalah ibn Ubayd: The Prophet (ﷺ) was brought a necklace in which there were gold and pearls. (The narrators AbuBakr and (Ahmad) Ibn Mani' said: The pearls were set with gold in it, and a man bought it for nine or seven dinars.) The Prophet (ﷺ) said: (It must not be sold) till the contents are considered separately. The narrator said: He returned it till the contents were considered separately. The narrator Ibn Asa said: By this I intended trade. Abu Dawud said: The word hijarah (stone) was recorded in his note-book before, but he changed it and narrated tijarah (trade)

Reference: Sunan Abi Dawud 23:26

Hadith #3352
SahihSahihSahihSahih Muslim (1591)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي شُجَاعٍ، سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلاَدَةً بِاثْنَىْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ فَفَصَّلْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنَ اثْنَىْ عَشَرَ دِينَارًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لاَ تُبَاعُ حَتَّى تُفَصَّلَ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے خیبر کی لڑائی کے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا جو سونے اور نگینے کا تھا میں نے سونا اور نگ الگ کئے تو اس میں مجھے سونا ( ۱۲ ) دینار سے زیادہ کا ملا، پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں کو الگ الگ کئے بغیر بیچنا درست نہیں ۔

English Translation

Narrated Fudalah bin 'Ubaid:At the battle of Khaibar I bought a necklace in which there were gold and pearls for twelve dinars. I separated them and found that its worth was more than twelve dinars. So I mentioned that to the Prophet (ﷺ) who said: It must not be sold till the contents are considered separately

Reference: Sunan Abi Dawud 23:27

Hadith #3353
SahihSahihSahih Muslim (1591)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنِ الْجُلاَحِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي حَنَشٌ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ خَيْبَرَ نُبَايِعُ الْيَهُودَ الأُوقِيَّةَ مِنَ الذَّهَبِ بِالدِّينَارِ ‏.‏ قَالَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ بِالدِّينَارَيْنِ وَالثَّلاَثَةِ ‏.‏ ثُمَّ اتَّفَقَا فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلاَّ وَزْنًا بِوَزْنٍ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم خیبر کی لڑائی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم یہود سے سونے کا اوقیہ دینار کے بدلے بیچتے خریدتے تھے ( قتیبہ کے علاوہ دوسرے راویوں نے دو دینار اور تین دینار بھی کہے ہیں، پھر آگے کی بات میں دونوں راوی ایک ہو گئے ہیں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونے کو سونے سے نہ بیچو جب تک کہ دونوں طرف وزن برابر نہ ہوں ۔

English Translation

Narrated Fudalah bin 'Ubaid:We were with the Messenger of Allah (ﷺ) at the battle of Khaibar. We were selling to the Jews one uqiyah of gold for one dinar. The narrators other than Qutaibah said: "for two or three dinars." Then both the versions agreed. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Do not sell gold except with equal weight

Reference: Sunan Abi Dawud 23:28

Hadith #3354
DaifIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، - الْمَعْنَى وَاحِدٌ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنْتُ أَبِيعُ الإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ آخُذُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ وَأُعْطِي هَذِهِ مِنْ هَذِهِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ إِنِّي أَبِيعُ الإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ آخُذُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ وَأُعْطِي هَذِهِ مِنْ هَذِهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسَعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں بقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا، تو میں ( اسے ) دینار سے بیچتا تھا اور اس کے بدلے درہم لیتا تھا اور درہم سے بیچتا تھا اور اس کے بدلے دینار لیتا تھا، میں اسے اس کے بدلے میں اور اسے اس کے بدلے میں الٹ پلٹ کر لیتا دیتا تھا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تھے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! ذرا سا میری عرض سن لیجئے: میں آپ سے پوچھتا ہوں: میں بقیع میں اونٹ بیچتا ہوں تو دینار سے بیچتا ہوں اور اس کے بدلے درہم لیتا ہوں اور درہم سے بیچتا ہوں اور دینار لیتا ہوں، یہ اس کے بدلے لے لیتا ہوں اور یہ اس کے بدلے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس دن کے بھاؤ سے ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے جب تک تم دونوں جدا نہ ہو جاؤ اور حال یہ ہو کہ تم دونوں کے درمیان کوئی معاملہ باقی رہ گیا ہو ۱؎ ۔

English Translation

Narrated Abdullah ibn Umar: I used to sell camels at al-Baqi for dinars and take dirhams for them, and sell for dirhams and take dinars for them. I would take these for these and give these for these. I went to the Messenger of Allah (ﷺ) who was in the house of Hafsah. I said: Messenger of Allah , take it easy, I shall ask you (a question): I sell camels at al-Baqi'. I sell (them) for dinars and take dirhams and I sell for dirhams and take dinars. I take these for these, and give these for these. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: There is no harm in taking them at the current rate so long as you do not separate leaving something to be settled

Reference: Sunan Abi Dawud 23:29

Hadith #3355
DaifDaifDaifHasan

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَالأَوَّلُ أَتَمُّ لَمْ يَذْكُرْ ‏ "‏ بِسِعْرِ يَوْمِهَا ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

اس سند سے بھی سماک سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے لیکن پہلی روایت زیادہ مکمل ہے اس میں اس دن کے بھاؤ کا ذکر نہیں ہے۔

English Translation

The tradition mentioned above has also been transmitted by Simak (b. Harb) with a different chain of narrators and to the same effect. The first version is more perfect. It does not mention the words "at the current rate

Reference: Sunan Abi Dawud 23:30

Hadith #3356
SahihSahihSahih LighairihiSahih

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً ‏.‏

Urdu Translation

سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے بدلے جانور ادھار بیچنے سے منع فرمایا ہے۔

English Translation

Narrated Samurah (ibn Jundub): The Prophet (ﷺ) forbade selling animals for animals when payment was to be made at a later date

Reference: Sunan Abi Dawud 23:31

Hadith #3357
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حَرِيشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهُ أَنْ يُجَهِّزَ جَيْشًا فَنَفِدَتِ الإِبِلُ فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ فِي قِلاَصِ الصَّدَقَةِ فَكَانَ يَأْخُذُ الْبَعِيرَ بِالْبَعِيرَيْنِ إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک لشکر تیار کرنے کا حکم دیا، تو اونٹ کم پڑ گئے تو آپ نے صدقہ کے جوان اونٹ کے بدلے اونٹ ( ادھار ) لینے کا حکم دیا تو وہ صدقہ کے اونٹ آنے تک کی شرط پر دو اونٹ کے بدلے ایک اونٹ لیتے تھے۔

English Translation

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Messenger of Allah (ﷺ) commanded him to equip an army, but the camels were insufficient. So he commanded him to keep back the young camels of sadaqah, and he was taking a camel to be replaced by two when the camels of sadaqah came

Reference: Sunan Abi Dawud 23:32

Hadith #3358
SahihSahihSahihSahih Muslim (1602)

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْهَمْدَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، أَنَّ اللَّيْثَ، حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اشْتَرَى عَبْدًا بِعَبْدَيْنِ ‏.‏

Urdu Translation

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غلام دو غلام کے بدلے خریدا۔

English Translation

Narrated Jabir:The Prophet (ﷺ) bought a slave for two slaves

Reference: Sunan Abi Dawud 23:33

Hadith #3359
SahihSahihHasan SahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ الْبَيْضَاءِ، بِالسُّلْتِ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ أَيُّهُمَا أَفْضَلُ قَالَ الْبَيْضَاءُ ‏.‏ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسْأَلُ عَنْ شِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ نَحْوَ مَالِكٍ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن یزید سے روایت ہے کہ زید ابوعیاش نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ گیہوں کو«سلت» ( بغیر چھلکے کے جو ) سے بیچنا کیسا ہے؟ سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ان دونوں میں سے کون زیادہ اچھا ہوتا ہے؟ زید نے کہا: گیہوں، تو انہوں نے اس سے منع کیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ( جب ) سوکھی کھجور کچی کھجور کے بدلے خریدنے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تر کھجور جب سوکھ جائے تو کم ہو جاتی ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع فرما دیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسماعیل بن امیہ نے اسے مالک کی طرح روایت کیا ہے۔

English Translation

Zayd Abu 'Ayyash asked Sa'd ibn Abi Waqqas about the sale of the soft and white kind of wheat for barley. Sa'd said:Which of them is better? He replied: Soft and white kind of wheat. So he forbade him from it and said: I heard the Messenger of Allah (sawa) say, when he was asked about buying dry dates for fresh. The Messenger of Allah (sawa) said: Are fresh dates diminished when they become dry? The (the people) replied: Yes. So the Messenger of Allah (ﷺ) forbade that. Abu Dawud said: A similar tradition has also been transmitted by Isma'il b. Umayyah

Reference: Sunan Abi Dawud 23:34

Hadith #3360
ShadhSahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سَلاَّمٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَنَّ أَبَا عَيَّاشٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ نَسِيئَةً ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ عَنْ مَوْلًى لِبَنِي مَخْزُومٍ عَنْ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏

Urdu Translation

ابوعیاش نے خبر دی کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تر کھجور سوکھی کھجور کے عوض ادھار بیچنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عمران بن انس نے مولی بنی مخزوم سے انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔

English Translation

Narrated Sa'd ibn Abi Waqqas: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade to sell fresh dates for dry dates when payment is made at a later date. Abu Dawud said: The tradition mentioned above has also been transmitted by Sa'd (b. Abi Waqqas) from the Prophet (ﷺ) through a different chain of narrators in a similar way

Reference: Sunan Abi Dawud 23:35

Hadith #3361
SahihSahihSahih Bukhari (2171، 2205) Sahih Muslim (1542)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلاً وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ بِالزَّبِيبِ كَيْلاً وَعَنْ بَيْعِ الزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ كَيْلاً ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگی ہوئی کھجور کا اندازہ کر کے سوکھی کھجور کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے، اسی طرح انگور کا ( جو بیلوں پر ہو ) اندازہ کر کے اسے سوکھے انگور کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے اور غیر پکی ہوئی فصل کا اندازہ کر کے اسے گیہوں کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے ( کیونکہ اس میں کمی و بیشی کا احتمال ہے ) ۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:The Prophet (ﷺ) forbade the sale of fruits on the tree for fruits by measure, and sale of grapes for raisins by measure, and sale of harvest for wheat by measure

Reference: Sunan Abi Dawud 23:36

Hadith #3362
SahihSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِالتَّمْرِ وَالرُّطَبِ ‏.‏

Urdu Translation

زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خشک سے تر کھجور کی بیع کو عرایا میں اجازت دی ہے ۱؎۔

English Translation

Narrated Zaid b. Thabit:The Prophet (ﷺ) gave license for the sale of 'araya for dried dates and fresh dates

Reference: Sunan Abi Dawud 23:37

Hadith #3363
SahihSahihSahih Bukhari (2191) Sahih Muslim (1540)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا ‏.‏

Urdu Translation

سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( درخت پر پھلے ) کھجور کو ( سوکھے ) کھجور کے عوض بیچنے سے منع فرمایا ہے لیکن عرایا میں اس کو «تمر» ( سوکھی کھجور ) کے بدلے میں اندازہ کر کے بیچنے کی اجازت دی ہے تاکہ لینے والا تازہ پھل کھا سکے ۱؎۔

English Translation

Narrated Sahl b. Abi Khathmah:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade the sale of fruits for dried dates, but gave license regarding the 'araya for its sale on the basis of a calculation of their amount. But those who buy them can eat them when fresh

Reference: Sunan Abi Dawud 23:38

Hadith #3364
SahihSahihSahih Bukhari (2382) Sahih Muslim (1541)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَقَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ لَنَا الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَاسْمُهُ قُزْمَانُ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ شَكَّ دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدِيثُ جَابِرٍ إِلَى أَرْبَعَةِ أَوْسُقٍ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق تک عرایا کے بیچنے کی رخصت دی ہے ( یہ شک داود بن حصین کو ہوا ہے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جابر کی حدیث میں چار وسق تک ہے۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah (ﷺ) gave license regarding the sale of 'araya when the amount was less then five wasqs or five wasqs. Dawud b. al-Husain was doubtful. Abu Dawud said: The tradition by Jabir indicates up to four wasqs

Reference: Sunan Abi Dawud 23:39

Hadith #3365
Sahih Isnaad MaqtuSahih Isnaad MaqtuIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ الْعَرِيَّةُ الرَّجُلُ يُعْرِي الرَّجُلَ النَّخْلَةَ أَوِ الرَّجُلُ يَسْتَثْنِي مِنْ مَالِهِ النَّخْلَةَ أَوْ الاِثْنَتَيْنِ يَأْكُلُهَا فَيَبِيعُهَا بِتَمْرٍ ‏.‏

Urdu Translation

عبدربہ بن سعید انصاری کہتے ہیں عرایا یہ ہے کہ ایک آدمی ایک شخص کو کھجور کا ایک درخت دیدے یا اپنے باغ میں سے دو ایک درخت اپنے کھانے کے لیے الگ کر لے پھر اسے سوکھی کھجور سے بیچ دے۔

English Translation

Abd Rabbihi b. Sa'id al-Ansari said:'Ariyyah means that a man gives another man a palm-tree on loan, or it means that reserves one or two palm-trees from his property for his personal use, then he sells for dried dates

Reference: Sunan Abi Dawud 23:40

Hadith #3366
Sahih Isnaad MaqtuSahih Isnaad MaqtuIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ الْعَرَايَا أَنْ يَهَبَ الرَّجُلُ، لِلرَّجُلِ النَّخَلاَتِ فَيَشُقَّ عَلَيْهِ أَنْ يَقُومَ عَلَيْهَا فَيَبِيعَهَا بِمِثْلِ خَرْصِهَا ‏.‏

Urdu Translation

ابن اسحاق کہتے ہیں کہ عرایا یہ ہے کہ آدمی کسی شخص کو چند درختوں کے پھل ( کھانے کے لیے ) ہبہ کر دے پھر اسے اس کا وہاں رہنا سہنا ناگوار گزرے تو اس کا تخمینہ لگا کر مالک کے ہاتھ تر یا سوکھے کھجور کے عوض بیچ دے ۱؎۔

English Translation

Ibn Ishaq said:'Araya means that a man lends another man some palm-trees, but he (the owner) feels inconvenient that the man looks after the trees (by frequent visits). He (the borrower) sells them (to the owner) by calculation

Reference: Sunan Abi Dawud 23:41

Hadith #3367
SahihSahihSahih Bukhari (2194) Sahih Muslim (1534)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو ان کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے، خریدنے والے اور بیچنے والے دونوں کو منع کیا ہے۔

English Translation

Narrated 'Abdullah bin 'Umar:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade the sale of fruits till they were clearly in good condition, forbidding it both to the seller and to the buyer

Reference: Sunan Abi Dawud 23:42

Hadith #3368
SahihSahihSahih Muslim (1535)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ وَيَأْمَنَ الْعَاهَةَ نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو پکنے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے اور بالی کو بھی یہاں تک کہ وہ سوکھ جائے اور آفت سے مامون ہو جائے بیچنے والے، اور خریدنے والے دونوں کو منع کیا ہے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade selling palm-trees till the dates began to ripen, and ears of corn till they were white and were safe from blight, forbidding it both to the buyer and to the seller

Reference: Sunan Abi Dawud 23:43

Hadith #3369
Daif IsnaadDaif IsnaadDaif

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ مَوْلًى، لِقُرَيْشٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الْغَنَائِمِ حَتَّى تُقْسَمَ وَعَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى تُحْرَزَ مِنْ كُلِّ عَارِضٍ وَأَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ بِغَيْرِ حِزَامٍ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ تقسیم نہ کر دیا جائے اور کھجور کے بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ ہر آفت سے مامون نہ ہو جائے، اور بغیر کمر بند کے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ( کہ کہیں ستر کھل نہ جائے ) ۔

English Translation

Narrated AbuHurayrah: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade to sell spoils of war till they are appointed, and to sell palm trees till they are safe from every blight, and a man praying without tying belt

Reference: Sunan Abi Dawud 23:44

Hadith #3370
Sahih HadithSahihSahihSahih Bukhari (2196) Sahih Muslim (1536 After 1543)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَلِيمِ بْنِ حَيَّانَ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى تُشَقِّحَ ‏.‏ قِيلَ وَمَا تُشَقِّحُ قَالَ تَحْمَارُّ وَتَصْفَارُّ وَيُؤْكَلُ مِنْهَا ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشقاح سے پہلے پھل بیچنے سے منع فرمایا ہے، پوچھا گیا: اشقاح کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اشقاح یہ ہے کہ پھل سرخی مائل یا زردی مائل ہو جائیں اور انہیں کھایا جانے لگے ۔

English Translation

Narrated Jabir bin ‘Abdullah :The Messenger of Allah (ﷺ) forbade the sale of fruits until they are ripened (tushqihah). He was asked: What do you mean by their ripening (ishqah)? He replied: They become red or yellow, and they are eaten

Reference: Sunan Abi Dawud 23:45

Hadith #3371
SahihSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ ‏.‏

Urdu Translation

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کو جب تک کہ وہ پختہ نہ ہو جائے اور غلہ کو جب تک کہ وہ سخت نہ ہو جائے بیچنے سے منع فرمایا ہے ( ان کا کچے پن میں بیچنا درست نہیں ) ۔

English Translation

Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) forbade the sale of grapes till they became black and the sale of grain till it had become hard

Reference: Sunan Abi Dawud 23:46

Hadith #3372
Sahih HadithSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، قَالَ سَأَلْتُ أَبَا الزِّنَادِ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ، قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ، صَلاَحُهُ وَمَا ذُكِرَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ كَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ كَانَ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ الثِّمَارَ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا فَإِذَا جَدَّ النَّاسُ وَحَضَرَ تَقَاضِيهِمْ قَالَ الْمُبْتَاعُ قَدْ أَصَابَ الثَّمَرَ الدُّمَانُ وَأَصَابَهُ قُشَامٌ وَأَصَابَهُ مُرَاضٌ عَاهَاتٌ يَحْتَجُّونَ بِهَا فَلَمَّا كَثُرَتْ خُصُومَتُهُمْ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَالْمَشُورَةِ يُشِيرُ بِهَا ‏ "‏ فَإِمَّا لاَ فَلاَ تَتَبَايَعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا ‏"‏ ‏.‏ لِكَثْرَةِ خُصُومَتِهِمْ وَاخْتِلاَفِهِمْ ‏.‏

Urdu Translation

یونس کہتے ہیں کہ میں نے ابوالزناد سے پھل کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے اسے بیچنے اور جو اس بارے میں ذکر کیا گیا ہے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر سہل بن ابو حثمہ کے واسطہ سے بیان کرتے ہیں اور وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: لوگ پھلوں کو ان کی پختگی و بہتری معلوم ہونے سے پہلے بیچا اور خریدا کرتے تھے، پھر جب لوگ پھل پا لیتے اور تقاضے یعنی پیسہ کی وصولی کا وقت آتا تو خریدار کہتا: پھل کو دمان ہو گیا، قشام ہو گیا، مراض ۱؎ ہو گیا، یہ بیماریاں ہیں جن کے ذریعہ ( وہ قیمت کم کرانے یا قیمت نہ دینے کے لیے ) حجت بازی کرتے جب اس قسم کے جھگڑے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بڑھ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے باہمی جھگڑوں اور اختلاف کی کثرت کی وجہ سے بطور مشورہ فرمایا: پھر تم ایسا نہ کرو، جب تک پھلوں کی درستگی ظاہر نہ ہو جائے ان کی خرید و فروخت نہ کرو ۔

English Translation

Yunus said:I asked Abu Zinad about the sale of fruits before they were clearly in good condition, and what was said about it. He replied: Urwah ibn az-Zubayr reports a tradition from Sahl ibn Abi Hathmah on the authority of Zayd ibn Thabit who said: The people used to sell fruits before they were clearly in good condition. When the people cut off the fruits, and were demanded to pay the price, the buyer said: The fruits have been smitten by duman, qusham and murad fruit diseases on which they used to dispute. When their disputes which were brought to the Prophet (ﷺ) increased, the Messenger of Allah (ﷺ) said to them as an advice: No, do not sell fruits till they are in good condition, due to a large number of their disputes and differences

Reference: Sunan Abi Dawud 23:47

Hadith #3373
SahihSahihSahihSahih Bukhari (2381) Sahih Muslim (1536 After 1543)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ وَلاَ يُبَاعُ إِلاَّ بِالدِّينَارِ أَوْ بِالدِّرْهَمِ إِلاَّ الْعَرَايَا ‏.‏

Urdu Translation

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میوہ کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے اسے بیچنے سے روکا ہے اور فرمایا ہے: پھل ( میوہ ) درہم و دینار ( روپیہ پیسہ ) ہی سے بیچا جائے سوائے عرایا کے ( عرایا میں پکا پھل کچے پھل سے بیچا جا سکتا ہے ) ۔

English Translation

Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) forbade the sale of fruits till they were clearly in good condition , and (ordered that) they should not be sold but for dinar or dirham except Araya

Reference: Sunan Abi Dawud 23:48

Hadith #3374
SahihSahihSahihSahih Muslim (1554 After 1555)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ وَوَضَعَ الْجَوَائِحَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ يَصِحَّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الثُّلُثِ شَىْءٌ وَهُوَ رَأْىُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سالوں کے لیے پھل بیچنے سے روکا ہے، اور آفات سے پہنچنے والے نقصانات کا خاتمہ کر دیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثلث کے سلسلے میں کوئی صحیح چیز ثابت نہیں ہے اور یہ اہل مدینہ کی رائے ہے ۲؎۔

English Translation

Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) forbade selling fruits years ahead, and commanded that unforeseen loss be remitted in respect of what is affected by blight. Abu Dawud said: The attribution of the tradition regarding the effect of blight is one-third of the produce to the Prophet (ﷺ) is not correct. This is the opinion of the people of Medina

Reference: Sunan Abi Dawud 23:49

Hadith #3375
SahihSahihSahihSahih Muslim (1554)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُعَاوَمَةِ وَقَالَ أَحَدُهُمَا بَيْعِ السِّنِينَ ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاومہ ( کئی سالوں کے لیے درخت کا پھل بیچنے ) سے روکا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ان میں سے ایک ( یعنی ابو الزبیر ) نے ( معاومہ کی جگہ ) «بيع السنين» کہا ہے۔

English Translation

Narrated Jabir bin ‘Abdullah :The Prophet (ﷺ) forbade sale of fruits for a number of years. One of the two narrators (Abu al-Zubair and Sa'id b. Mina') mentioned the words "sale for years" (bai' al-sinin instead of al-mu'awamah)

Reference: Sunan Abi Dawud 23:50

Hadith #3376
SahihSahihSahihSahih Muslim (1513)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ، ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ - زَادَ عُثْمَانُ - وَالْحَصَاةِ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکہ کی بیع سے روکا ہے۔ عثمان راوی نے اس حدیث میں«والحصاة» کا لفظ بڑھایا ہے یعنی کنکری پھینک کر بھی بیع کرنے سے روکا ہے ۱؎۔

English Translation

Narrated Abu Hurairah:The Prophet (ﷺ) forbade the type of sale which involves risk (or uncertainty) and a transaction determined by throwing stones

Reference: Sunan Abi Dawud 23:51

Hadith #3377
SahihSahihSahih Bukhari (6284) Sahih Muslim (1512)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، - وَهَذَا لَفْظُهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ أَمَّا الْبَيْعَتَانِ فَالْمُلاَمَسَةُ وَالْمُنَابَذَةُ وَأَمَّا اللِّبْسَتَانِ فَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ كَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ أَوْ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَىْءٌ ‏.‏

Urdu Translation

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی بیع سے اور دو قسم کے پہناؤں سے روکا ہے، رہے دو بیع تو وہ ملامسہ ۱؎ اور منابذہ ۲؎ ہیں، اور رہے دونوں پہناوے تو ایک اشتمال صماء ۳؎ ہے اور دوسرا احتباء ہے، اور احتباء یہ ہے کہ ایک کپڑا اوڑھ کے گوٹ مار کر اس طرح سے بیٹھے کہ شرمگاہ کھلی رہے، یا شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ رہے۔

English Translation

Narrated Abu Sa’id Al Khudri :The Prophet (ﷺ) forbade two types of business transactions and two ways of dressing. The two types of business transactions are mulamasah and munabadhah. As regards the two ways of dressing, they are the wrapping of the samma', and that when a man wraps himself up in a single garment while sitting in such a way that he does not cover his private parts or there is no garment on his private parts

Reference: Sunan Abi Dawud 23:52

Hadith #3378
SahihSahihSahih

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ زَادَ وَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ أَنْ يَشْتَمِلَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ يَضَعُ طَرَفَىِ الثَّوْبِ عَلَى عَاتِقِهِ الأَيْسَرِ وَيُبْرِزُ شِقَّهُ الأَيْمَنَ وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَقُولَ إِذَا نَبَذْتُ إِلَيْكَ هَذَا الثَّوْبَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ وَالْمُلاَمَسَةُ أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ وَلاَ يَنْشُرُهُ وَلاَ يُقَلِّبُهُ فَإِذَا مَسَّهُ وَجَبَ الْبَيْعُ ‏.‏

Urdu Translation

اس سند سے بھی بواسطہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ اشتمال صماء یہ ہے کہ ایک کپڑا سارے بدن پر لپیٹ لے، اور کپڑے کے دونوں کنارے اپنے بائیں کندھے پر ڈال لے، اور اس کا داہنا پہلو کھلا رہے، اور منابذہ یہ ہے کہ بائع یہ کہے کہ جب میں یہ کپڑا تیری طرف پھینک دوں تو بیع لازم ہو جائے گی، اور ملامسہ یہ ہے کہ ہاتھ سے چھو لے نہ اسے کھولے اور نہ الٹ پلٹ کر دیکھے تو جب اس نے چھو لیا تو بیع لازم ہو گئی۔

English Translation

The tradition mentioned above has also been reported by Abu Sa'id al-Khudri from the Prophet (ﷺ) through a different chain of narrators. This version adds:"Wearing the samma' means that a man puts his garment over his left shoulder and keeps his right side uncovered. Munabadhah means that a man says (to another): If I throw this garment to you, the sale will be certain. Mulamasah means that a man touches it (another's garment) with his hand and neither he unfolds it nor turns it over. When he touched it, the sale becomes binding

Reference: Sunan Abi Dawud 23:53

Hadith #3379
SahihSahihSahih Bukhari (5820) Sahih Muslim (1512)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ وَعَبْدِ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا ‏.‏

Urdu Translation

ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے خبر دی ہے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، آگے سفیان و عبدالرزاق کی حدیث کے ہم معنی حدیث مذکور ہے۔

English Translation

The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Said al-Khudri through a different chain of narrators from the Messenger of Allah (ﷺ) to the same effect as narrated by both Sufyan and 'Abd al-Razzaq

Reference: Sunan Abi Dawud 23:54

Hadith #3380
SahihSahihSahihSahih Bukhari (2143) Sahih Muslim (1514)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «حبل الحبلة» ( بچے کے بچہ ) کی بیع سے منع فرمایا ہے ۱؎۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade the transaction called habal al-habalah

Reference: Sunan Abi Dawud 23:55

Hadith #3381
SahihSahihSahih Bukhari (3843) Sahih Muslim (1514)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَقَالَ حَبَلُ الْحَبَلَةِ أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ بَطْنَهَا ثُمَّ تَحْمِلُ الَّتِي نُتِجَتْ ‏.‏

Urdu Translation

اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے «حبل الحبلة» یہ ہے کہ اونٹنی اپنے پیٹ کا بچہ جنے پھر بچہ جو پیدا ہوا تھا حاملہ ہو جائے۔

English Translation

A similar tradition has also been narrated by Ibn 'Umar from the Prophet (ﷺ) through a different chain of transmitters. He said:Habal al-habalah means that a she-camel delivers an offspring and then the offspring which it delivers becomes pregnant

Reference: Sunan Abi Dawud 23:56

Hadith #3382
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا صَالِحُ أَبُو عَامِرٍ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَذَا قَالَ مُحَمَّدٌ - حَدَّثَنَا شَيْخٌ، مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - أَوْ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ قَالَ ابْنُ عِيسَى هَكَذَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، - قَالَ سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ عَضُوضٌ يَعَضُّ الْمُوسِرُ عَلَى مَا فِي يَدَيْهِ وَلَمْ يُؤْمَرْ بِذَلِكَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏ وَلاَ تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ ‏}‏ وَيُبَايَعُ الْمُضْطَرُّونَ وَقَدْ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الْمُضْطَرِّ وَبَيْعِ الْغَرَرِ وَبَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ أَنْ تُدْرِكَ ‏.‏

Urdu Translation

بنو تمیم کے ایک شیخ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں کہ علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا، یا فرمایا: عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا، جو کاٹ کھانے والا ہو گا، مالدار اپنے مال کو دانتوں سے پکڑے رہے گا ( کسی کو نہ دے گا ) حالانکہ اسے ایسا حکم نہیں دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «ولا تنسوا الفضل بينكم» اللہ کے فضل بخشش و انعام کو نہ بھولو یعنی مال کو خرچ کرو ( سورۃ البقرہ: ۲۳۸ ) مجبور و پریشاں حال اپنا مال بیچیں گے حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لاچار و مجبور کا مال خریدنے سے اور دھوکے کی بیع سے روکا ہے، اور پھل کے پکنے سے پہلے اسے بیچنے سے روکا ہے ۱؎۔

English Translation

Narrated Ali ibn AbuTalib: A time is certainly coming to mankind when people will bite each other and a rich man will hold fast, what he has in his possession (i.e. his property), though he was not commanded for that. Allah, Most High, said: "And do not forget liberality between yourselves." The men who are forced will contract sale while the Prophet (ﷺ) forbade forced contract, one which involves some uncertainty, and the sale of fruit before it is ripe

Reference: Sunan Abi Dawud 23:57

Hadith #3383
DaifDaifDaifIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ أَنَا ثَالِثُ الشَّرِيكَيْنِ، مَا لَمْ يَخُنْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَإِذَا خَانَهُ خَرَجْتُ مِنْ بَيْنِهِمَا ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں دو شریکوں کا تیسرا ہوں جب تک کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے ساتھ خیانت نہ کرے، اور جب کوئی اپنے ساتھی کے ساتھ خیانت کرتا ہے تو میں ان کے درمیان سے ہٹ جاتا ہوں ۔

English Translation

Narrated AbuHurayrah: The Messenger of Allah (ﷺ) having said: Allah, Most High, says: "I make a third with two partners as long as one of them does not cheat the other, but when he cheats him, I depart from them

Reference: Sunan Abi Dawud 23:58

Hadith #3384
SahihSahih Bukhari (3642)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، حَدَّثَنِي الْحَىُّ، عَنْ عُرْوَةَ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيِّ - قَالَ أَعْطَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم دِينَارًا يَشْتَرِي بِهِ أُضْحِيَةً أَوْ شَاةً فَاشْتَرَى شَاتَيْنِ فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ فَأَتَاهُ بِشَاةٍ وَدِينَارٍ فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ فَكَانَ لَوِ اشْتَرَى تُرَابًا لَرَبِحَ فِيهِ ‏.‏

Urdu Translation

عروہ بن ابی الجعد بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قربانی کا جانور یا بکری خریدنے کے لیے ایک دینار دیا تو انہوں نے دو بکریاں خریدیں، پھر ایک بکری ایک دینار میں بیچ دی، اور ایک دینار اور ایک بکری لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان کی خرید و فروخت میں برکت کی دعا فرمائی ( اس دعا کے بعد ) ان کا حال یہ ہو گیا تھا کہ اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں بھی نفع کما لیتے۔

English Translation

Narrated Urwah ibn AbulJa'd al-Bariqi: The Prophet (ﷺ) gave him a dinar to buy a sacrificial animal or a sheep. He bought two sheep, sold one of them for a dinar, and brought him a sheep and dinar. So he invoked a blessing on him in his business dealing, and he was such that if had he bought dust he would have made a profit from it

Reference: Sunan Abi Dawud 23:59

Hadith #3385
DaifSahihHasanIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، - هُوَ أَخُو حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ الْبَارِقِيُّ، بِهَذَا الْخَبَرِ وَلَفْظُهُ مُخْتَلِفٌ ‏.‏

Urdu Translation

اس سند سے بھی عروہ بارقی سے یہی حدیث مروی ہے اور اس کے الفاظ مختلف ہیں۔

English Translation

The tradition mentioned above has also been transmitted by 'Urwat al-Bariqi through a different chain of narrators. The wordings of this version are different from those of the previous one

Reference: Sunan Abi Dawud 23:60

Hadith #3386
DaifDaifDaifDaif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو حُصَيْنٍ، عَنْ شَيْخٍ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ مَعَهُ بِدِينَارٍ يَشْتَرِي لَهُ أُضْحِيَةً فَاشْتَرَاهَا بِدِينَارٍ وَبَاعَهَا بِدِينَارَيْنِ فَرَجَعَ فَاشْتَرَى لَهُ أُضْحِيَةً بِدِينَارٍ وَجَاءَ بِدِينَارٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَتَصَدَّقَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَدَعَا لَهُ أَنْ يُبَارَكَ لَهُ فِي تِجَارَتِهِ ‏.‏

Urdu Translation

حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دینار دے کر بھیجا کہ وہ آپ کے لیے ایک قربانی کا جانور خرید لیں، انہوں نے قربانی کا جانور ایک دینار میں خریدا اور اسے دو دینار میں بیچ دیا پھر لوٹ کر قربانی کا ایک جانور ایک دینار میں خریدا اور ایک دینار بچا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ کر دیا اور ان کے لیے ان کی تجارت میں برکت کی دعا کی۔

English Translation

Narrated Hakim ibn Hizam: The Messenger of Allah (ﷺ) sent with him a dinar to buy a sacrificial animal for him. He bought a sheep for a dinar, sold it for two and then returned and bought a sacrificial animal for a dinar for him and brought the (extra) dinar to the Prophet (ﷺ). The Prophet (ﷺ) gave it as alms (sadaqah) and invoked blessing on him in his trading

Reference: Sunan Abi Dawud 23:61

Hadith #3387
MunkarMunkarIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ، أَخْبَرَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ صَاحِبِ فَرْقِ الأَرُزِّ فَلْيَكُنْ مِثْلَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَمَنْ صَاحِبُ فَرْقِ الأَرُزِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَكَرَ حَدِيثَ الْغَارِ حِينَ سَقَطَ عَلَيْهِمُ الْجَبَلُ فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمُ اذْكُرُوا أَحْسَنَ عَمَلِكُمْ قَالَ ‏"‏ وَقَالَ الثَّالِثُ اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرْقِ أَرُزٍّ فَلَمَّا أَمْسَيْتُ عَرَضْتُ عَلَيْهِ حَقَّهُ فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهُ وَذَهَبَ فَثَمَّرْتُهُ لَهُ حَتَّى جَمَعْتُ لَهُ بَقَرًا وَرِعَاءَهَا فَلَقِيَنِي فَقَالَ أَعْطِنِي حَقِّي ‏.‏ فَقُلْتُ اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْبَقَرِ وَرِعَائِهَا فَخُذْهَا فَذَهَبَ فَاسْتَاقَهَا ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص ایک فرق ۱؎ چاول والے کے مثل ہو سکے تو ہو جائے لوگوں نے پوچھا: ایک فرق چاول والا کون ہے؟ اللہ کے رسول! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار کی حدیث بیان کی جب ان پر چٹان گر پڑی تھی تو ان میں سے ہر ایک شخص نے اپنے اپنے اچھے کاموں کا ذکر کر کے اللہ سے چٹان ہٹنے کی دعا کرنے کی بات کہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیسرے شخص نے کہا: اے اللہ! تو جانتا ہے میں نے ایک مزدور کو ایک فرق چاول کے بدلے مزدوری پر رکھا، شام ہوئی میں نے اسے اس کی مزدوری پیش کی تو اس نے نہ لی، اور چلا گیا، تو میں نے اسے اس کے لیے پھل دار بنایا، ( بویا اور بڑھایا ) یہاں تک کہ اس سے میں نے گائیں اور ان کے چرواہے بڑھا لیے، پھر وہ مجھے ملا اور کہا: مجھے میرا حق ( مزدوری ) دے دو، میں نے اس سے کہا: ان گایوں بیلوں اور ان کے چرواہوں کو لے جاؤ تو وہ گیا اور انہیں ہانک لے گیا ۔

English Translation

Narrated 'Abd Allah b. 'Umar: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If any of you can become like the man who had a faraq of rice, he should become like him. They (the people) asked: Who is the man who had a faraq of rice with him, Messenger of Allah ? Thereupon he narrated the story of the cave when a hillock fell on them (three persons), each of them said: Mention any best work of yours. The narrator said: The third of them said: O Allah, you know that I took a hireling for a faraq of rice. When the evening came, I presented to him his due (i.e. his wages). But he refused to take it and went away. I then cultivated it until I amassed cows and their herdsmen for him. He then met me and said: Give me my dues. I said (to him): Go to those cows and their herdsmen and take them all. He went and drove them away

Reference: Sunan Abi Dawud 23:62

Hadith #3388
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ اشْتَرَكْتُ أَنَا وَعَمَّارٌ، وَسَعْدٌ، فِيمَا نُصِيبُ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ فَجَاءَ سَعْدٌ بِأَسِيرَيْنِ وَلَمْ أَجِئْ أَنَا وَعَمَّارٌ بِشَىْءٍ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں، عمار اور سعد تینوں نے بدر کے دن حاصل ہونے والے مال غنیمت میں حصے کا معاملہ کیا تو سعد دو قیدی لے کر آئے اور میں اور عمار کچھ نہ لائے۔

English Translation

Narrated Abdullah ibn Mas'ud: I Ammar, and Sa'd became partners in what we would receive on the day of Badr. Sa'd then brought two prisoners, but I and Ammar did not bring anything

Reference: Sunan Abi Dawud 23:63

Hadith #3389
SahihSahihSahihSahih Muslim (1547)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ مَا كُنَّا نَرَى بِالْمُزَارَعَةِ بَأْسًا حَتَّى سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْهَا ‏.‏ فَذَكَرْتُهُ لِطَاوُسٍ فَقَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَنْهَ عَنْهَا وَلَكِنْ قَالَ ‏ "‏ لأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَرْضَهُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرَاجًا مَعْلُومًا ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

عمرو بن دینار کہتے ہیں میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ ہم مزارعت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، میں نے طاؤس سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نہیں روکا ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی کسی کو اپنی زمین یونہی بغیر کسی معاوضہ کے دیدے تو یہ کوئی متعین محصول ( لگان ) لگا کر دینے سے بہتر ہے۔

English Translation

Amr ibn Dinar said:I heard Ibn Umar say: We did not see any harm in sharecropping till I heard Rafi' ibn Khadij say: The Messenger of Allah (ﷺ) has forbidden it. So I mentioned it to Tawus. He said: Ibn Abbas told me that the Messenger of Allah (ﷺ) had not forbidden it, but said: It is better for one of you to lend to his brother than to take a prescribed sum from him

Reference: Sunan Abi Dawud 23:64

Hadith #3390
DaifDaifDaifIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - الْمَعْنَى - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَا وَاللَّهِ، أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ إِنَّمَا أَتَاهُ رَجُلاَنِ - قَالَ مُسَدَّدٌ مِنَ الأَنْصَارِ ثُمَّ اتَّفَقَا - قَدِ اقْتَتَلاَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنْ كَانَ هَذَا شَأْنَكُمْ فَلاَ تُكْرُوا الْمَزَارِعَ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ مُسَدَّدٌ فَسَمِعَ قَوْلَهُ ‏"‏ لاَ تُكْرُوا الْمَزَارِعَ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو معاف فرمائے قسم اللہ کی میں اس حدیث کو ان سے زیادہ جانتا ہوں ( واقعہ یہ ہے کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کے دو آدمی آئے، پھر وہ دونوں جھگڑ بیٹھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں ایسے ہی ( یعنی لڑتے جھگڑتے ) رہنا ہے تو کھیتوں کو بٹائی پر نہ دیا کرو ۔ مسدد کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے آپ کی اتنی ہی بات سنی کہ زمین بٹائی پر نہ دیا کرو ( موقع و محل اور انداز گفتگو پر دھیان نہیں دیا ) ۔

English Translation

Narrated 'Urwah b. al-Zubair: That Zayd ibn Thabit said: May Allah forgive Rafi' ibn Khadij. I swear by Allah, I have more knowledge of Hadith than him. Two persons of the Ansar (according to the version of Musaddad) came to him who were disputing with each other. The Messenger of Allah (ﷺ) said: If this is your position, then do not lease the agricultural land. The version of Musaddad has: So he (Rafi' ibn Khadij) heard his statement: Do not lease agricultural lands

Reference: Sunan Abi Dawud 23:65

Hadith #3391
HasanHasanHasan LighairihiDaif

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ كُنَّا نُكْرِي الأَرْضَ بِمَا عَلَى السَّوَاقِي مِنَ الزَّرْعِ وَمَا سَعِدَ بِالْمَاءِ مِنْهَا فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ وَأَمَرَنَا أَنْ نُكْرِيَهَا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ ‏.‏

Urdu Translation

سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم زمین کو کرایہ پر کھیتی کی نالیوں اور سہولت سے پانی پہنچنے والی جگہوں کی پیداوار کے بدلے دیا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا اور سونے چاندی ( سکوں ) کے بدلے میں دینے کا حکم دیا۔

English Translation

Narrated Sa'd: We used to lease land for what grew by the streamlets and for what was watered from them. The Messenger of Allah (ﷺ) forbade us to do that, and commanded us to lease if for gold or silver

Reference: Sunan Abi Dawud 23:66

Hadith #3392
SahihSahihSahih Bukhari (2346، 2347) Sahih Muslim (1547 After 1548)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، كِلاَهُمَا عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، - وَاللَّفْظُ لِلأَوْزَاعِيِّ - حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ، بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ لاَ بَأْسَ بِهَا إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَا عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ وَأَشْيَاءَ مِنَ الزَّرْعِ فَيَهْلِكُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا وَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلاَّ هَذَا فَلِذَلِكَ زَجَرَ عَنْهُ فَأَمَّا شَىْءٌ مَضْمُونٌ مَعْلُومٌ فَلاَ بَأْسَ بِهِ ‏.‏ وَحَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ أَتَمُّ وَقَالَ قُتَيْبَةُ عَنْ حَنْظَلَةَ عَنْ رَافِعٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رِوَايَةُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حَنْظَلَةَ نَحْوَهُ ‏.‏

Urdu Translation

حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اجرت پر لینے دینے کا معاملہ کرتے تھے پانی کی نالیوں، نالوں کے سروں اور کھیتی کی جگہوں کے بدلے ( یعنی ان جگہوں کی پیداوار میں لوں گا ) تو کبھی یہ برباد ہو جاتا اور وہ محفوظ رہتا اور کبھی یہ محفوظ رہتا اور وہ برباد ہو جاتا، اس کے سوا کرایہ کا اور کوئی طریقہ رائج نہ تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا، اور رہی محفوظ اور مامون صورت تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ابراہیم کی حدیث مکمل ہے اور قتیبہ نے «عن حنظلة عن رافع» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید کی روایت جسے انہوں نے حنظلہ سے روایت کیا ہے اسی طرح ہے۔

English Translation

Narrated Hanzlah b. Qais al-Ansari: I asked Rafi' b. Khadij about the lease of land for gold and silver (i.e. for dinars and dirhams). There is no harm in it, for the people used to let out land in the time of the Messenger of Allah (ﷺ) for what grew by the current of water and at the banks of streamlets and at the places of cultivation. So sometimes this (portion) perished and that (portion) was saved, and sometimes this remained intact and that perished. There was no (form of) lease among the people except this. Therefore, he forbade it. But if there is something which is secure and known, then there is no harm in it. The tradition of Ibrahim is more perfect. Qutaibah said: "from Hanzalah on the authority of Rafi' ". Abu Dawud said: A similar tradition has been transmitted by Yahya b. Sa'id from Hanzalah

Reference: Sunan Abi Dawud 23:67

Hadith #3393
SahihSahihSahihSahih Muslim (1547)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ، فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ فَقُلْتُ أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَلاَ بَأْسَ بِهِ ‏.‏

Urdu Translation

حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرایہ پر ( کھیتی کے لیے ) دینے سے منع فرمایا ہے، تو میں نے پوچھا: سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ کی بات ہو تو؟ تو انہوں نے کہا: رہی بات سونے اور چاندی سے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔

English Translation

Hanzalah ibn Qays said that he asked Rafi' ibn Khadij about the lease of land. He replied:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade the leasing of land. I asked: (Did he forbid) for gold and silver (i.e. dinars and dirhams)? He replied: If it is against gold and silver, then there is no harm in it

Reference: Sunan Abi Dawud 23:68

Hadith #3394
SahihSahihSahihSahih Bukhari (2345) Sahih Muslim (1547)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يُكْرِي أَرْضَهُ حَتَّى بَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ الأَنْصَارِيَّ حَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ يَا ابْنَ خَدِيجٍ مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي كِرَاءِ الأَرْضِ قَالَ رَافِعٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ سَمِعْتُ عَمَّىَّ وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا يُحَدِّثَانِ أَهْلَ الدَّارِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ الأَرْضَ تُكْرَى ‏.‏ ثُمَّ خَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ عَلِمَهُ فَتَرَكَ كِرَاءَ الأَرْضِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ أَيُّوبُ وَعُبَيْدُ اللَّهِ وَكَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ وَمَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ رَافِعٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَرَوَاهُ الأَوْزَاعِيُّ عَنْ حَفْصِ بْنِ عِنَانٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ رَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَتَى رَافِعًا فَقَالَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ نَعَمْ ‏.‏ وَكَذَا قَالَ عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏.‏ وَرَوَاهُ الأَوْزَاعِيُّ عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو النَّجَاشِيِّ عَطَاءُ بْنُ صُهَيْبٍ ‏.‏

Urdu Translation

سالم بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے، پھر جب انہیں یہ خبر پہنچی کہ رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو بٹائی پر دینے سے روکتے تھے، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان سے ملے، اور کہنے لگے: ابن خدیج! زمین کو بٹائی پر دینے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کیا حدیث بیان کرتے ہیں؟ رافع رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر سے کہا: میں نے اپنے دونوں چچاؤں سے سنا ہے اور وہ دونوں جنگ بدر میں شریک تھے، وہ گھر والوں سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو بٹائی پر دینے سے منع فرمایا ہے، عبداللہ بن عمر نے کہا: قسم اللہ کی! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہی جانتا تھا کہ زمین بٹائی پر دی جاتی تھی، پھر عبداللہ کو خدشہ ہوا کہ اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باب میں کوئی نیا حکم نہ صادر فرما دیا ہو اور ان کو پتہ نہ چل پایا ہو، تو انہوں نے زمین کو بٹائی پر دینا چھوڑ دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ اسے ایوب، عبیداللہ، کثیر بن فرقد اور مالک نے نافع سے انہوں نے رافع رضی اللہ عنہ سے اور رافع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ اور اسے اوزاعی نے حفص بن عنان حنفی سے اور انہوں نے نافع سے اور نافع نے رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، رافع کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ اور اسی طرح اسے زید بن ابی انیسہ نے حکم سے انہوں نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ وہ رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ ایسے ہی عکرمہ بن عمار نے ابونجاشی سے اور انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ اور اسے اوزاعی نے ابونجاشی سے، انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے، رافع نے اپنے چچا ظہیر بن رافع سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابونجاشی سے مراد عطاء بن صہیب ہیں۔

English Translation

Narrated Salim bin 'Abdullah b. 'Umar: Ibn 'Umar used to let out his land till it reached him that Rafi' b. Khadij al-Ansari narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade let out land. So 'Abd Allah (b. 'Umar) said: Ibn Khadij, what do you narrate from the Messenger of Allah (ﷺ) about leasing the land? Rafi' replied to 'Abd Allah b. 'Umar: I heard both of my uncles were present in the battle of Badr say, and they narrated it to the members of the family, that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade leasing land. 'Abd Allah said: I swear by Allah, I knew that land was leased in the time of the Messenger of Allah (ﷺ). 'Abd Allah then feared that the Messenger of Allah (ﷺ) might have created something new in that matter, so he gave up leasing land. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Ayyub, 'Ubaid Allah, Kathir b. Farqad, Malik from Nafi' on the authority of Rafi' from the Prophet (ﷺ). It has also been transmitted by al-Auzai' from Hafs b. 'Inan al-Hanafi from Nafi' from Rafi' who said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Similarly, it has been transmitted by Zaid b. Abi Unaisah from al-Hakkam from Nafi' from Ibn 'Umar that he went to Rafi' and asked: Have you heard the Messenger of Allah (ﷺ) say? He replied: Yes. Similarly, it has also been transmitted by 'Ikrimah b. 'Ammar from Abu al-Najashi, from Rafi' b. Khadij who said: I heard the Prophet (ﷺ) say. It has also been transmitted by al-Auza'i from Abu al-Najashi from Rafi' b. Khadij from his uncle Zuhair b. Rafi' from the Prophet (ﷺ). Abu Dawud said: The name of Abu al-Najashi is 'Ata b. Suhaib

Reference: Sunan Abi Dawud 23:69

Hadith #3395
SahihSahihSahih Muslim (1548)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، قَالَ كُنَّا نُخَابِرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَنَّ بَعْضَ عُمُومَتِهِ أَتَاهُ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَوَاعِيَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا وَأَنْفَعُ ‏.‏ قَالَ قُلْنَا وَمَا ذَاكَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَلاَ يُكَارِيهَا بِثُلُثٍ وَلاَ بِرُبُعٍ وَلاَ بِطَعَامٍ مُسَمًّى ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( بٹائی پر ) کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے تو ( ایک بار ) میرے ایک چچا آئے اور کہنے لگے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام سے منع فرما دیا ہے جس میں ہمارا فائدہ تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے مناسب اور زیادہ نفع بخش ہے، ہم نے کہا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس کے پاس زمین ہو تو چاہیئے کہ وہ خود کاشت کرے، یا ( اگر خود کاشت نہ کر سکتا ہو تو ) اپنے کسی بھائی کو کاشت کروا دے اور اسے تہائی یا چوتھائی یا کسی معین مقدار کے غلہ پر بٹائی نہ دے ۔

English Translation

Narrated Rafi' b. Khadij:We used to employ people to till land for a share of it produce. He then maintained that, one of his uncles came to him and said: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade us from a work which beneficial to us. But obedience to Allah and His Apostle (ﷺ) is more beneficial to us. We asked : What is that ? He said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: If anyone has land, he should cultivate it, or lend it to his brother for cultivation. He should not rent it for a third or a quarter (of the produce) or for specified among of produce

Reference: Sunan Abi Dawud 23:70

Hadith #3396
DaifSahihSahihSahih Muslim (1548)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ كَتَبَ إِلَىَّ يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ أَنِّي سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، بِمَعْنَى إِسْنَادِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَحَدِيثِهِ ‏.‏

Urdu Translation

ایوب کہتے ہیں: یعلیٰ بن حکیم نے مجھے لکھا کہ میں نے سلیمان بن یسار سے عبیداللہ کی سند اور ان کی حدیث کے ہم معنی حدیث سنی ہے۔

English Translation

Ayyub said:Ya'la b. Hakim wrote to me: I heard Sulaiman b. Yasar narrating the tradition to the same effect as narrated by 'Ubaid Allah and through the same chain

Reference: Sunan Abi Dawud 23:71

Hadith #3397
HasanHasan LighairihiSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَنَا أَبُو رَافِعٍ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَمْرٍ كَانَ يَرْفَقُ بِنَا وَطَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ أَرْفَقُ بِنَا نَهَانَا أَنْ يَزْرَعَ أَحَدُنَا إِلاَّ أَرْضًا يَمْلِكُ رَقَبَتَهَا أَوْ مَنِيحَةً يَمْنَحُهَا رَجُلٌ ‏.‏

Urdu Translation

رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہمارے پاس ابورافع رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کام سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے سود مند تھا، لیکن اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہمارے لیے اس سے بھی زیادہ سود مند ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زراعت کرنے سے روک دیا ہے مگر ایسی زمین میں جس کے رقبہ و حدود کے ہم خود مالک ہوں یا جسے کوئی ہمیں ( بلامعاوضہ و شرط ) دیدے۔

English Translation

Narrated Rafi' ibn Khadij: AbuRafi' came to us from the Messenger of Allah (ﷺ) said: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade us from a work which benefited us; but obedience to Allah and His Apostle (ﷺ) is more beneficial to us. He forbade that one of us cultivates land except the one which he owns or the land which a man lends him (to cultivate)

Reference: Sunan Abi Dawud 23:72

Hadith #3398
SahihSahihSahihSahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ ظُهَيْرٍ، قَالَ جَاءَنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ يَنْهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ، كَانَ لَكُمْ نَافِعًا وَطَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْفَعُ لَكُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَاكُمْ عَنِ الْحَقْلِ وَقَالَ ‏ "‏ مَنِ اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَدَعْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَكَذَا رَوَاهُ شُعْبَةُ وَمُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ عَنْ مَنْصُورٍ ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ أُسَيْدُ ابْنُ أَخِي رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ‏.‏

Urdu Translation

اسید بن ظہیر کہتے ہیں ہمارے پاس رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو ایک ایسے کام سے منع فرما رہے ہیں جس میں تمہارا فائدہ تھا، لیکن اللہ کی اطاعت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ سود مند ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو «حقل» سے یعنی مزارعت سے روکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی زمین سے بے نیاز ہو یعنی جوتنے بونے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنی زمین اپنے کسی بھائی کو ( مفت ) دیدے یا اسے یوں ہی چھوڑے رکھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح سے شعبہ اور مفضل بن مہلہل نے منصور سے روایت کیا ہے شعبہ کہتے ہیں: اسید رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں۔

English Translation

Narrated Usaid b. Zuhair: Rafi' b. Khadij came to us and said: The Messenger of Allah (ﷺ) forbids you from a work which is beneficial to you ; and obedience to Allah and His Prophet (ﷺ) is more beneficial to you. The Messenger of Allah (ﷺ) forbids you from renting land for share of its produce and he said: If anyone if not in need of his land he should lend it to his brother or leave it. Abu Dawud said: Shu'bah and Mufaddal b. Muhalhal have narrated it from Mansur in similar way. Shu'bah said (in his version): Usaid, nephew of Rafi' b, Khadij

Reference: Sunan Abi Dawud 23:73

Hadith #3399
Sahih IsnaadSahih IsnaadSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، قَالَ بَعَثَنِي عَمِّي أَنَا وَغُلاَمًا، لَهُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ فَقُلْنَا لَهُ شَىْءٌ بَلَغَنَا عَنْكَ فِي الْمُزَارَعَةِ ‏.‏ قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ لاَ يَرَى بِهَا بَأْسًا حَتَّى بَلَغَهُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَدِيثٌ فَأَتَاهُ فَأَخْبَرَهُ رَافِعٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى بَنِي حَارِثَةَ فَرَأَى زَرْعًا فِي أَرْضِ ظُهَيْرٍ فَقَالَ ‏"‏ مَا أَحْسَنَ زَرْعَ ظُهَيْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لَيْسَ لِظُهَيْرٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ أَرْضُ ظُهَيْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا بَلَى وَلَكِنَّهُ زَرْعُ فُلاَنٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَخُذُوا زَرْعَكُمْ وَرُدُّوا عَلَيْهِ النَّفَقَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ رَافِعٌ فَأَخَذْنَا زَرْعَنَا وَرَدَدْنَا إِلَيْهِ النَّفَقَةَ ‏.‏ قَالَ سَعِيدٌ أَفْقِرْ أَخَاكَ أَوْ أَكْرِهِ بِالدَّرَاهِمِ ‏.‏

Urdu Translation

ابوجعفر خطمی کہتے ہیں میرے چچا نے مجھے اور اپنے ایک غلام کو سعید بن مسیب کے پاس بھیجا، تو ہم نے ان سے کہا: مزارعت کے سلسلے میں آپ کے واسطہ سے ہمیں ایک خبر ملی ہے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مزارعت میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما کی حدیث پہنچی تو وہ ( براہ راست ) ان کے پاس معلوم کرنے پہنچ گئے، رافع رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو حارثہ کے پاس آئے تو وہاں ظہیر کی زمین میں کھیتی دیکھی، تو فرمایا: ( ماشاء اللہ ) ظہیر کی کھیتی کتنی اچھی ہے لوگوں نے کہا: یہ ظہیر کی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا یہ زمین ظہیر کی نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں زمین تو ظہیر کی ہے لیکن کھیتی فلاں کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کھیت لے لو اور کھیتی کرنے والے کو اس کے اخراجات اور مزدوری دے دو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ( یہ سن کر ) ہم نے اپنا کھیت لے لیا اور جس نے جوتا بویا تھا اس کا نفقہ ( اخراجات و محنتانہ ) اسے دے دیا۔ سعید بن مسیب نے کہا: ( اب دو صورتیں ہیں ) یا تو اپنے بھائی کو زمین زراعت کے لیے عاریۃً دے دو ( اس سے پیداوار کا کوئی حصہ وغیرہ نہ مانگو ) یا پھر درہم کے عوض زمین کو کرایہ پر دو ( یعنی نقد روپیہ اس سے طے کر لو ) ۔

English Translation

AbuJa'far al-Khatmi said:My uncle sent me and his slave to Sa'id ibn al-Musayyab. We said to him, there is something which has reached us about sharecropping. He replied: Ibn Umar did not see any harm in it until a tradition reached him from Rafi' ibn Khadij. He then came to him and Rafi' told him that the Messenger of Allah (ﷺ) came to Banu Harithah and saw crop in the land of Zuhayr. He said: What an excellent crop of Zuhayr is! They said: It does not belong to Zuhayr. He asked: Is this not the land of Zuhayr? They said: Yes, but the crop belongs to so-and-so. He said: Take your crop and give him the wages. Rafi' said: We took our crop and gave him the wages. Sa'id (ibn al-Musayyab) said: Lend your brother or employ him for dirhams

Reference: Sunan Abi Dawud 23:74

Hadith #3400
SahihSahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَقَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا يَزْرَعُ ثَلاَثَةٌ رَجُلٌ لَهُ أَرْضٌ فَهُوَ يَزْرَعُهَا وَرَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُ مَا مُنِحَ وَرَجُلٌ اسْتَكْرَى أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے ۱؎ اور فرمایا: زراعت تین طرح کے لوگ کرتے ہیں ( ۱ ) ایک وہ شخص جس کی اپنی ذاتی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرتا ہے، ( ۲ ) دوسرا وہ شخص جسے عاریۃً ( بلامعاوضہ ) زمین دے دی گئی ہو تو وہ دی ہوئی زمین میں کھیتی کرتا ہے، ( ۳ ) تیسرا وہ شخص جس نے سونا چاندی ( نقد ) دے کر زمین کرایہ پر لی ہو ۔

English Translation

Narrated Rafi' ibn Khadij: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade muhaqalah and muzabanah. Those who cultivate land are three: a man who has (his own) land and he tills it: a man who has been lent land and he tills the one lent to him; a man who employs another man to till land against gold (dinars) or silver (dirhams)

Reference: Sunan Abi Dawud 23:75

Hadith #3401
ShadhShadhDaifDaif

قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَرَأْتُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيِّ قُلْتُ لَهُ حَدَّثَكُمُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدٍ أَبِي شُجَاعٍ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ سَهْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ إِنِّي لَيَتِيمٌ فِي حِجْرِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَجَاءَهُ أَخِي عِمْرَانُ بْنُ سَهْلٍ فَقَالَ أَكْرَيْنَا أَرْضَنَا فُلاَنَةَ بِمِائَتَىْ دِرْهَمٍ فَقَالَ دَعْهُ فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ ‏.‏

Urdu Translation

عثمان بن سہل بن رافع بن خدیج کہتے ہیں میں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش ایک یتیم تھا، میں نے ان کے ساتھ حج کیا تو میرے بھائی عمران بن سہل ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہم نے اپنی زمین دو سو درہم کے بدلے فلاں شخص کو کرایہ پر دی ہے، تو انہوں نے ( رافع نے ) کہا: اسے چھوڑ دو ( یعنی یہ معاملہ ختم کر لو ) کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے۔

English Translation

Abu Dawud said:I read out (this tradition) to Sa'id b. Ya'qub al-Taliqini, and I said to him: Ibn al-Mubarak transmitted (this tradition) to you from Sa'id Abi Shuja' who said: 'Uthman b. Sahl b. Rafi' b. Khadij narrated it to me saying: I was an orphan being nourished under the guardianship of Rafi' b. Khadij and I performed Hajj with him. My brother 'Imran b. Sahl then came to me and said: We rented out land to so-and-so for two hundred dirhams. He said: Leave it, for the Prophet (ﷺ) forbade renting land

Reference: Sunan Abi Dawud 23:76

Hadith #3402
Daif IsnaadDaif IsnaadDaifDaif

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا بُكَيْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ - عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، أَنَّهُ زَرَعَ أَرْضًا فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَسْقِيهَا فَسَأَلَهُ ‏"‏ لِمَنِ الزَّرْعُ وَلِمَنِ الأَرْضُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ زَرْعِي بِبَذْرِي وَعَمَلِي لِيَ الشَّطْرُ وَلِبَنِي فُلاَنٍ الشَّطْرُ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَرْبَيْتُمَا فَرُدَّ الأَرْضَ عَلَى أَهْلِهَا وَخُذْ نَفَقَتَكَ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

ابن ابی نعم سے روایت ہے کہ مجھ سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے ایک زمین میں کھیتی کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا اور وہ اس میں پانی دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: کھیتی کس کی ہے اور زمین کس کی؟ تو انہوں کہا: میری کھیتی میرے بیج سے ہے اور محنت بھی میری ہے نصف پیداوار مجھے ملے گی اور نصف پیداوار فلاں شخص کو ( جو زمین کا مالک ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں نے ربا کیا ( یعنی یہ عقد ناجائز ہے ) زمین اس کے مالک کو لوٹا دو، اور تم اپنے خرچ اور اپنی محنت کی اجرت لے لو ۔

English Translation

Narrated Rafi' ibn Khadij: Rafi' had cultivated a land. The Prophet (ﷺ) passed him when he was watering it. So he asked him: To whom does the crop belong, and to whom does the land belong? He replied: The crop is mine for my seed and labour. The half (of the crop) is mine and the half for so-and-so. He said: You conducted usurious transaction. Return the land to its owner and take your wages and cost

Reference: Sunan Abi Dawud 23:77

Hadith #3403
SahihSahihDaif

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَىْءٌ وَلَهُ نَفَقَتُهُ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دوسرے لوگوں کی زمین میں بغیر ان کی اجازت کے کاشت کی تو اسے کاشت میں سے کچھ نہیں ملے گا صرف اس کا خرچ ملے گا ۔

English Translation

Narrated Rafi' ibn Khadij: The Prophet (ﷺ) said: If anyone sows in other people's land without their permission, he has no right to any of the crop, but he may have what it cost him

Reference: Sunan Abi Dawud 23:78

Hadith #3404
SahihSahihSahihSahih Muslim (1536 After 1543)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ حَمَّادًا، وَعَبْدَ الْوَارِثِ، حَدَّثَاهُمْ كُلُّهُمْ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، - قَالَ عَنْ حَمَّادٍ، وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ، ثُمَّ اتَّفَقُوا - عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَالْمُعَاوَمَةِ - قَالَ عَنْ حَمَّادٍ وَقَالَ أَحَدُهُمَا وَالْمُعَاوَمَةِ وَقَالَ الآخَرُ بَيْعِ السِّنِينَ ثُمَّ اتَّفَقُوا - وَعَنِ الثُّنْيَا وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ ۱؎ مزابنہ ۲؎ مخابرہ اور معاومہ ۳؎ سے منع فرمایا ہے۔ مسدد کی روایت میں «عن حماد» ہے اور ابوزبیر اور سعید بن میناء دونوں میں سے ایک نے معاومہ کہا اور دوسرے نے «بيع السنين»کہا ہے پھر دونوں راوی متفق ہیں اور استثناء کرنے ۴؎ سے منع فرمایا ہے، اور عرایا ۵؎ کی اجازت دی ہے۔

English Translation

Narrated Jabir b. 'Abd Allah :The Messenger of Allah (ﷺ) forbade muhaqalah, muzabanah, mukhabarah, and mu'awanah. One of the two narrators from Hammad said the word mu'awamah, and other said: "selling many years ahead". The agreed version then goes: and thunya, but gave license for 'araya

Reference: Sunan Abi Dawud 23:79

Hadith #3405
SahihSahihSahih

حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ، عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَعَنِ الثُّنْيَا إِلاَّ أَنْ يُعْلَمَ ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ ( درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک پھل سے بیچنے ) سے اور محاقلہ ( کھیت میں لگی ہوئی فصل کو غلہ سے اندازہ کر کے بیچنے ) سے اور غیر متعین اور غیر معلوم مقدار کے استثناء سے روکا ہے۔

English Translation

Narrated Jabir b. 'Abd Allah :The Messenger of Allah (ﷺ) forbade muzabanah, muhaqalah and thunya except it is known

Reference: Sunan Abi Dawud 23:80

Hadith #3406
DaifDaifDaif

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ رَجَاءٍ، - يَعْنِي الْمَكِّيَّ - قَالَ ابْنُ خُثَيْمٍ حَدَّثَنِي عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ لَمْ يَذَرِ الْمُخَابَرَةَ فَلْيَأْذَنْ بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ‏"‏ ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو مخابرہ نہ چھوڑے تو اسے چاہیئے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان کر دے۔

English Translation

Narrated Jabir b. 'Abd Allah :I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If any of you does not leave mukhabarah, he should take notice of war from Allah and His Apostle (ﷺ)

Reference: Sunan Abi Dawud 23:81

Hadith #3407
SahihSahihSahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُخَابَرَةِ ‏.‏ قُلْتُ وَمَا الْمُخَابَرَةُ قَالَ أَنْ تَأْخُذَ الأَرْضَ بِنِصْفٍ أَوْ ثُلُثٍ أَوْ رُبُعٍ ‏.‏

Urdu Translation

زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے روکا ہے، میں نے پوچھا: مخابرہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: مخابرہ یہ ہے کہ تم زمین کو آدھی یا تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی پر لو ۱؎۔

English Translation

Narrated Zaid b. Thabit:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade mukhabarah. I asked: What is mukhabarah ? He replied: That you have the land (for cultivation) for half, a third, or a quarter (of the produce)

Reference: Sunan Abi Dawud 23:82

Hadith #3408
SahihSahihSahihSahih Bukhari (2329) Sahih Muslim (1551)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کو زمین کے کام پر اس شرط پہ لگایا کہ کھجور یا غلہ کی جو بھی پیداوار ہو گی اس کا آدھا ہم لیں گے اور آدھا تمہیں دیں گے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:The Messenger of Allah (ﷺ) made an agreement with the people of Khaibar to work and cultivate in return for half of the fruits or produce

Reference: Sunan Abi Dawud 23:83

Hadith #3409
SahihSahihSahih Muslim (1551)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ غَنَجٍ - عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَفَعَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ وَأَرْضَهَا عَلَى أَنْ يَعْتَمِلُوهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَأَنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَطْرَ ثَمَرَتِهَا ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں کو خیبر کے کھجور کے درخت اور اس کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ ان میں اپنی پونجی لگا کر کام کریں گے اور جو پیداوار ہو گی، اس کا نصف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہو گا۔

English Translation

Narrated Ibn 'Umar:The Prophet (ﷺ) handed over the Jews of Khaibar the palm trees and the land of Khaibar on condition that they should employ what belonged to them in working on them, and that he should have half of the fruits

Reference: Sunan Abi Dawud 23:84

Hadith #3410
Hasan SahihHasan SahihSahihIsnaad Hasan

حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ وَاشْتَرَطَ أَنَّ لَهُ الأَرْضَ وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ ‏.‏ قَالَ أَهْلُ خَيْبَرَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِالأَرْضِ مِنْكُمْ فَأَعْطِنَاهَا عَلَى أَنَّ لَكُمْ نِصْفَ الثَّمَرَةِ وَلَنَا نِصْفٌ ‏.‏ فَزَعَمَ أَنَّهُ أَعْطَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ فَلَمَّا كَانَ حِينَ يُصْرَمُ النَّخْلُ بَعَثَ إِلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَحَزَرَ عَلَيْهِمُ النَّخْلَ وَهُوَ الَّذِي يُسَمِّيهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْخَرْصَ فَقَالَ فِي ذِهْ كَذَا وَكَذَا قَالُوا أَكْثَرْتَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ رَوَاحَةَ ‏.‏ فَقَالَ فَأَنَا أَلِي حَزْرَ النَّخْلِ وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ ‏.‏ قَالُوا هَذَا الْحَقُّ وَبِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ قَدْ رَضِينَا أَنْ نَأْخُذَهُ بِالَّذِي قُلْتَ ‏.‏

Urdu Translation

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا، اور یہ شرط لگا دی ( واضح کر دیا ) کہ اب زمین ان کی ہے اور جو بھی سونا چاندی نکلے وہ بھی ان کا ہے، تب خیبر والے کہنے لگے: ہم زمین کے کام کاج کو آپ لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں تو آپ ہمیں زمین اس شرط پہ دے دیجئیے کہ نصف پیداوار آپ کو دیں گے اور نصف ہم لیں گے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی شرط پر انہیں زمین دے دی، پھر جب کھجور کے توڑنے کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس بھیجا، انہوں نے جا کر کھجور کا اندازہ لگایا ( اسی کو اہل مدینہ «خرص» ( آنکنا ) کہتے ہیں ) تو انہوں نے کہا: اس باغ میں اتنی کھجوریں نکلیں گی اور اس باغ میں اتنی ( ان کا نصف ہمیں دے دو ) وہ کہنے لگے: اے ابن رواحہ! تم نے تو ہم پر ( بوجھ ڈالنے کے لیے ) زیادہ تخمینہ لگا دیا ہے، تو ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا ( اگر یہ زیادہ ہے ) تو ہم اسے توڑ لیں گے اور جو میں نے کہا ہے اس کا آدھا تمہیں دے دیں گے، یہ سن کر انہوں نے کہا یہی صحیح بات ہے، اور اسی انصاف اور سچائی کی بنا پر ہی زمین و آسمان اپنی جگہ پر قائم اور ٹھہرے ہوئے ہیں، ہم راضی ہیں تمہارے آنکنے کے مطابق ہی ہم لے لیں گے۔

English Translation

Narrated Ibn 'Abbas:The Messenger of Allah (ﷺ) conquered Khaibar, and stipulated that all the land, gold and silver would belong to him. The people of Khaibar said: we know the land more than you ; so give it to us on condition that you should have half of the produce and we would have the half. He then gave it to them on that condition. When the time of picking the fruits of the palm-trees came, he sent 'Abd Allah b. Rawahah to them, and he assessed the among of the fruits of the palm-trees. This is what the people of Medina call khars (assessment). He used to say: In these palm-trees there is such-and-such amount (of produce). They would say: You assessed more to us, Ibn Rawahah (than the real amount). He would say: I first take the responsibility of assessing the fruits of the palm-trees and give you half of (the amount) I said. They would say: This is true, and on this (equity) stand the heavens and the earth. We agreed that we should take (the amount which) you said

Reference: Sunan Abi Dawud 23:85

Hadith #3411
Sahih IsnaadSahih IsnaadHasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ فَحَزَرَ وَقَالَ عِنْدَ قَوْلِهِ وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ يَعْنِي الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ لَهُ ‏.‏

Urdu Translation

جعفر بن برقان سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے اس میں لفظ «فحزر» ہے اور «وكل صفراء وبيضاء» کی تفسیر سونے چاندی سے کی ہے۔

English Translation

The tradition mentioned above has also been narrated by Ja'far b. Burqan through his chain and to the same effect. This version has:He said: He assessed, and after the words of kull safara' wa baida', he said: that is, gold and silver will belong to him

Reference: Sunan Abi Dawud 23:86

Hadith #3412
Sahih IsnaadSahih IsnaadHasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا كَثِيرٌ، - يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ - عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ، عَنْ مِقْسَمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ زَيْدٍ قَالَ فَحَزَرَ النَّخْلَ وَقَالَ فَأَنَا أَلِي جُذَاذَ النَّخْلِ وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ ‏.‏

Urdu Translation

مقسم سے (مرسلاً) روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت خیبر فتح کیا، پھر آگے انہوں نے زید کی حدیث ( پچھلی حدیث ) کی طرح حدیث ذکر کی اس میں ہے پھر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کھجور کا اندازہ لگایا، ( اور جب یہودیوں نے اعتراض کیا ) تو آپ نے کہا: اچھا کھجوروں کے پھل میں خود توڑ لوں گا، اور جو اندازہ میں نے لگایا ہے، اس کا نصف تمہیں دے دوں گا۔

English Translation

Narrated Miqsam:When the Prophet (ﷺ) conquered Khaibar. He then narrated it like the tradition of Zaid (b. Abu al-Zarqa'). This version has: He then assessed the produce of the palm-trees and said: I take the job of picking the fruit myself, and I shall give you half of (the amount) I said

Reference: Sunan Abi Dawud 23:87

Hadith #3413
Daif IsnaadDaif IsnaadDaifDaif

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَبْعَثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَيَخْرُصُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ ثُمَّ يُخَيِّرُ يَهُودَ يَأْخُذُونَهُ بِذَلِكَ الْخَرْصِ أَوْ يَدْفَعُونَهُ إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ الْخَرْصِ لِكَىْ تُحْصَى الزَّكَاةُ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثِّمَارُ وَتُفَرَّقَ ‏.‏

Urdu Translation

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ( خیبر ) بھیجتے تھے، تو وہ کھجوروں کا اٹکل اندازہ لگاتے تھے جس وقت وہ پکنے کے قریب ہو جاتا کھائے جانے کے قابل ہونے سے پہلے پھر یہود کو اختیار دیتے کہ یا تو وہ اس اندازے کے مطابق نصف لے لیں یا آپ کو دے دیں تاکہ وہ زکوٰۃ کے حساب و کتاب میں آ جائیں، اس سے پہلے کہ پھل کھائے جائیں اور ادھر ادھر بٹ جائیں۔

English Translation

Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Prophet (ﷺ) used to send Abdullah ibn Rawahah (to Khaybar), and he would assess the amount of dates when they began to ripen before they were eaten (by the Jews). He would then give choice to the Jews that they have them (on their possession) by that assessment or could assign to them (Muslims) by that assignment, so that the (amount of) zakat could be calculated before the fruit became eatable and distributed (among the people)

Reference: Sunan Abi Dawud 23:88

Hadith #3414
SahihSahih LighairihiDaif

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ خَيْبَرَ فَأَقَرَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا كَانُوا وَجَعَلَهَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَبَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَخَرَصَهَا عَلَيْهِمْ ‏.‏

Urdu Translation

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ نے اپنے رسول کو خیبر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں کو ان کی جگہوں پر رہنے دیا جیسے وہ پہلے تھے اور خیبر کی زمین کو ( آدھے آدھے کے اصول پر ) انہیں بٹائی پر دے دیا اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ( تخمینہ لگا کر تقسیم کے لیے ) بھیجا تو انہوں نے جا کر اندازہ کیا ( اور اسی اندازے کا نصف ان سے لے لیا ) ۔

English Translation

Narrated Jabir ibn Abdullah: When Allah bestowed Khaybar on His Prophet (ﷺ) as fay' (as a result of conquest without fighting), the Messenger of Allah (ﷺ) allowed (them) to remain there as they were before, and apportioned it between him and them. He then sent Abdullah ibn Rawahah who assessed (the amount of dates) upon them

Reference: Sunan Abi Dawud 23:89

Hadith #3415
Sahih IsnaadSahih IsnaadSahihIsnaad Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ خَرَصَهَا ابْنُ رَوَاحَةَ أَرْبَعِينَ أَلْفَ وَسْقٍ وَزَعَمَ أَنَّ الْيَهُودَ لَمَّا خَيَّرَهُمُ ابْنُ رَوَاحَةَ أَخَذُوا الثَّمَرَ وَعَلَيْهِمْ عِشْرُونَ أَلْفَ وَسْقٍ ‏.‏

Urdu Translation

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے چالیس ہزار وسق ( کھجور ) کا اندازہ لگایا ( ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ) اور ان کا خیال ہے کہ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جب یہود کو اختیار دیا ( کہ وہ ہمیں اس کا نصف دے دیں، یا ہم سے اس کا نصف لے لیں ) تو انہوں نے پھل اپنے پاس رکھا اور انہیں بیس ہزار وسق ( کٹائی کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دینا پڑا۔

English Translation

Narrated Jabir ibn Abdullah: Ibn Rawahah assessed them (the amount of dates) at forty thousand wasqs, and when Ibn Rawahah gave them option, the Jews took the fruits in their possession and twenty thousand wasqs of dates were due from them

Reference: Sunan Abi Dawud 23:90